Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 7

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

کھانا آرام دہ ماحول میں کھا گیا وہ کھانے کے دوران بھی ہر تھوڑی دیر کے بعد احساس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا لیکن وہ خاموشی سے اپنے کھانے پر دھیان دیتی اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی۔
جب کہ ماما تو بس اللہ سے دعائیں مانگتی تھی ان کی جوڑی سلامت رہے
وہ تو اپنی بیٹی کی قسمت پر بہت خوش تھی
کتنے دن رہنے کے لئے آئے ہو ۔۔۔۔۔۔؟ ما ما نے پوچھا
کل صبح واپسی ہوگی وہ مسکرا کر بولا
اب آ ہی گئے ہو تو دو چار دن رک زاوق کچھ دن اپنی ماں کے ساتھ بھی گزار لو ۔
عائشہ اداسی سے بولی پورے مہینے میں مشکل سے گھر ایک دن کے لیے آتا تھا ۔
اور وہ بھی جلدی چلا جاتا ہے اس کے جانے کا سن کر عائشہ اداس ہو گئی
کوشش کروں گا اگلی بار رکنے کی لیکن اس بار تو ایک دن کی چھٹی ملی ہے ۔اس نے سمجھاتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ عائشہ کا موڈ خراب ہو چکا ہے
اور عائشہ اس کی زندگی کے لیے بہت اہم تھی تیرہ سال کا تھا جب اس کی ماں باپ ایکسیڈنٹ میں گزر گئے ۔
ایک یہی تو مخلص رشتہ ملا تھا اسے ۔ورنہ کون تھا اس کا اپنا ہر کوئی تو اس کی جائیداد کی پیچھے پڑا تھا
حتیٰ کہ خالو بھی ۔
کھانا کھانے کے بعد احساس نے برتن سمبھالے جبکہ اس دوران وہ عائشہ کے پاس ہی بیٹھا ان سے باتیں کرتا رہا
لیکن جب خالو کے گھر آنے کا وقت ہوا وہ آرام کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور زیادہ دیر ان کے پاس نہیں بیٹھتا تھا اور نہ ہی ان کی کمپنی اسے پسند تھی
وہ چاہتے تھے یہ گھر جو اس کے ماں باپ کا ہے وہ ان کے نام کر دے لیکن وہ ایسا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی وہ ایسا کرنے والا تھا
کیوںکہ یہ اس کے ماں باپ کی آخری نشانی تھی جیسے خود سے دور کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اپنا بزنس اپنی جائیداد ہر چیز رحمان صاحب کے ہاتھ پر تھی وہ اسے کیسے چلاتے ہیں کیا کرتے ہیں زاوق نے کبھی سوال نہیں کیا تھا ۔
لیکن یہ بات بھی کلیئر کر دی تھی کہ اپنی ماں باپ کی جائیداد کا ایک پیسہ بھی وہ کسی کے نام نہیں کرے گا ۔
اور یہی وجہ تھی کہ رحمان صاحب اب اپنی بیٹی کی شادی زاوق کے ساتھ نہیں کروانا چاہتے تھے ۔
کیوں کہ اس شادی میں انہیں کوئی اپنا فائدہ نظر نہیں آرہا تھا
وہ محنت کش انسان کبھی بھی نہ تھے ہمیشہ دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والوں میں سے تھے ۔
اور زاوق کے روپ میں انہیں ایک جیتی جاگتی پیسے کی مشین مل گئی
اور اب وہ پچھلے بارہ سال سے مسلسل سے اس کی دولت پر عیش کیے جا رہے تھے انہوں نے خود ہی کمپنی پر قبضہ جمانا چاہا جس سے کمپنی کے حالات کافی بگڑ گئے وہ تو ورکرز کی محنت تھی کہ ہم ان کو زیادہ نقصان نہیں ہوا
اور ورکرز نے سارا کا کام سنبھال لیا ۔
ورنہ چند دن میں ہی زاوق کی کمپنی ڈوب سکتی تھی ۔
❤
تم نے بات کی زاوق سے جو میں نے کہا تھا اس کے بارے میں کھانے کے بعد وہ پوچھنے لگے
نہیں میں نے اس بارے میں اس سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں اس بارے میں اس سے کوئی بات کروں گی میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ وہ احساس سے محبت کرتا ہے اور وہ اسے اس طرح سے طلاق نہیں دے گا
اگر طلاق نہیں دیتا تو کہو اسے مکان نام کرے ورنہ میں اپنی بیٹی کسی قیمت پر اس کے حوالے نہیں کروں گا
خدا کا خوف کریں رحمان اپنی بیٹی کی قیمت لگا رہےہیں آپ عائشہ نے تڑپ کر کہا
بکواس بند کرو بد ذات عورت میرے بس دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ میری بیٹی سے کتنی محبت کرتا ہے اور آگے زندگی میری بیٹی کو خوش رکھ سکتا ہے یا نہیں
ایک مکان تو نام کر نہیں سکتا کیسے سمجھوں گی کہ وہ میری بیٹی کو خوش رکھے گا ساری زندگی
رحمان صاحب نے بات بنانے کی کوشش کی
ہاں تو پھر ایسا کہیں کہوہ مکان احساس کے نام کرے آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں کہ وہ مکان آپ کے نام کریں اور جہاں تک میری بات کرنے کا سوال ہے تو میں اس معاملے میں اس سے کوئی بات نہیں کروں گی
یہ مکان اس کے ماں باپ کی آخری نشانی ہے جو میں اس سے کبھی نہیں مانگوں گی ۔
ٹھیک ہے اگر تم نہیں کہو گی تو میں اس سے بات کروں گا اور میرا طریقہ اسے پسند نہیں آئے گا ۔
رحمان صاحب غصے سے کہتے ہوئے باہر نکل گئے ۔جبکہ ان کے جانے سے عائشہ پرسکون ہو چکی تھی اب ان کی واپسی لیٹ نائٹ ہی ہونے تھے
اور اس شخص کی وجہ سے وہ زاوق کے سامنے اور شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی
❤
بس لکھے جا رہی ہو یا کچھ پلے بھی پڑھ رہا ہے وہ اسے نوٹ بک پر جھکے تیزی سے لکھتے فیکھ کر کہ اس کے قریب آ بیٹھا
جب کہ اسے اچانک یہاں دیکھ کر وہ منہ بنا گئی
کچھ ہیلپ کردوں اس کے منہ کے ڈیزائن صاف بتا رہے تھے کہ وہ جو بھی لکھ رہی ہے غلط ہے
ویسے صبح مجھے زارا سمجھا دیتی لیکن آپ کہہ رہے ہیں تو آپ ہی سمجھا دیں
وہ کاپی اسے تھماتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں بولی
جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا
ویسے ایک بات کہوں زارا تم سے زیادہ نالائق ہے وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا
اور خود تو جناب بہت لائق ہیں وہ کم آواز میں منمنائی
جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا ۔
اگر میں سمجھا دوں تو کیا ملے گا وہ اس کے گال کو دیکھتے ہوئے بولا تو اس کی بات سننے کے بعد اس کے گال لال ہونے لگے تھے
ایک کپ چائے ۔احساس اپنا دوپٹہ سہی کرتے ہوئے بولی جو پہلے ہی اس کے سر پر ٹھیک سے سجا ہوا تھا
چائے کی جگہ کچھ اور مل سکتا ہے اس پر باقاعدہ اس کے لبوں انگوٹھے سے چھو کر بولا
نہ نہیں ۔۔۔۔۔میں خود کر لوں گی۔ وہ اس سے فاصلے پر گھسکتے کرتے ہوئے بولی
تم نے انکار کر دیا اور میں نے مان لیا۔ وہ مذاق اڑانے والے انداز میں مسکرایا ۔
اپنا معاوضہ میں خود لے لوں گا چلو پہلے تمہیں سمجھا دیتا ہوں
وہ بات کرتے ہوئے مسکرایا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے کھینچ کر بالکل اپنے قریب کر لیا ۔
اب میرے قریب بیٹھ کر صرف مجھے دیکھتی نہ رہنا سوال سمجھو مجھے دیکھنے کے لیے ساری زندگی پڑی ہے ۔
اور اس کے بعد میں اپنا معاوضہ لوں گا ۔اس نے صاف انداز میں کہا تھا کہ اسے رایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا اسی لیے سوال سمجھنے کے بعد وہاسح انعام دینے کے لیے تیار رہے
❤
وہ اسےسنجیدگی سے سوال سمجھا رہا تھا پہلے تو وہ اس کی قربت سے گھبرائی گھبرائی سی تھی لیکن اس کا سیریز انداز دیکھتے ہوئے احساس کو احساس ہوا کہ وہ بے کار میں گھبرا رہی ہے کیونکہ زاوق بہت دھیان سے سمجھا رہا تھا
اسی لیے اپنی سوچوں کو جھٹلاتے ہوئے وہ بھی سوال پر دھیان دینے لگی
اور دھیان سے سمجھنے پر اسے جلدی سمجھ بھی آنے لگے
کل اس چپٹر کا ٹیسٹ تھا اور وہ تقریبا اسے پورا چپٹر ہی سمجھا چکا تھا
پڑا کچھ پلے زاوق نے مسکرا کر کہا تو اس نے جوش میں کہا میں گردن ہلائی
زاوق نے فورا ہی ایک سوال نکال کر اس کے حوالے کر دیا کہ جو کچھ سمجھ میں آیا ہے کر کے دکھاو مجھے ۔زاوق نے کہا تو وہ خوشی سے جواب حل کرنے لگی
کل تک جو اسے بہت مشکل لگ رہا تھا آج وہی ا سے بہت آسان لگ رہے تھے
اور اب وہ سےخمھ آ بھی گئے تھے
اگلے پندرہ منٹ میں ہی وہ سارا سوال حل کرکے اس کے سامنے رکھ چکی تھی اور اب ایکسائٹ سی اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ اسے دیکھ کر بتائیے کہ وہ صحیح ہے یا غلط
زاوق نے سوال چیک کیا جو کہ بالکل صحیح طریقے سے حل کیا گیا تھا
فائنلی میں نے تمہیں سمجھا دیا زاوق نے مسکراتے ہوئے کہا تو احساس بھی مسکرا دی
چلو اب میرا معاوضل نکالو وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کر چکا تھا
جب کہ اسے آپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے گھبرانے لگی اپنی کمر پر زاوق کی انگلیاں چلتی ہوئی محسوس ہوتے اس کی ریڈ کی ہڈی سنسنا اٹھی
زاوق۔اسے خود پر جھکتے دیکھ کر وہ بے بسی سے آنکھیں بند کئے ہوئے سرگوشی آواز میں بولی
اس طرح تم مجھے مزید بے خود کر دو گی ۔وہ دھمکی دے رہا تھا یا اپنے جذبات بتا رہا تھا وہ سمجھنے کی کنڈیشن میں نہیں تھی
جب اسے اپنے لبوں پر سخت سی گرفت محسوس ہوئی اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا لیکن مقابل تو ظالم بنا ہوا تھا شاید آج وہ اس کی سانس روک دینا چاہتا تھا
جذبات کا طوفان شدت پکڑتا جا رہا تھا
اس کی گرفت میں اسے اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی جب اس نے زاوق کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کیا
اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکائے وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی
اتنی شدت سے پیاس لگی ہے
دل چاہتا ہے تیری سانس سانس پی جاوں
وہ اس کے لبوں پر انگوٹھا پھرتے گھمبیر انداز میں بولا
کل ٹیسٹ اچھے سے دینا وہ ہلکے سے مسکرا کر اس کے قریب سے اٹھ کر چلا گیا
جب کہ احساس اپنی دھڑکنوں کا طوفان سنبھالتے کتابیں ایک طرف رکھ کر فوراً اپنے کمرے میں بھاگ گئی
❤
آؤ چھوڑ دوں اسے کالج کے لیے نکلتے دیکھ کر دیکھ کر آفر کی
ہاں کیوں تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ سر حیدر عرف زاوق حیدر شاہ ۔میرے کیا لگتے ہیں لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو آپ نے پہلے دن خود ہی کہا تھا کہ اپنا اور میرا رشتہ میں کسی کے ساتھ شیئرنہ کروں
اس نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا
میں نے یہ نہیں کہا کہ میں تمہیں اپنے ساتھ کالج کے اندر لے کے جاؤں گا میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ میں تمہیں کالج تک ڈراپ کر دیتا ہوں پچھلی اگلی میں اتار دوں گا وہاں سے آگے خود چلی جانا
وہ مسکرا کر آئیڈیا دیتا باہر نکل گیا یقیناً آج کی صبح اس کے لئے حسین تھی اور اب شروع ہونے والا یہ سفر بھی
اس کے باہر نکلتے ہی احساس اپنا بیگ اٹھائے اور اپنے جذبات پر قابو کرتے ہوئے اس کی گاڑی میں آ گئی تھی
ہاں کیوں کے اس کے ساتھ بیٹھنے کی خوشی تو اس کے ساتھ بھی شئیر نہیں کرنا چاہتی تھی
سفر خاموشی سے گزر گیا وہ ہر تھوڑی دیر میں اسے دیکھتا تو مسکرا کر نظریں جھکا لیتی اسکا یہ شرمیلا زاوق کے لئے اس کی جان تھا
اسے کالج کے قریب چھوڑتے ہوئے زاوق نےاسے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور آپنے بے رحمانہ انداز سے اس کے گال کو نشانہ بنایا
تمہارے چہرے پر میری قربت کی سرخی بہت حسین لگتی ہے ۔اس کے اچانک اپنے قریب آنے پر پہلے تو وہ گھبرا کر اپنا دل تھام چکی تھی لیکن اس کی اگلی جسارت نے اس کے پورے جسم میں سنسنی پھیلا دی تھی
کانپتے ہاتھوں کو قابو کر کے وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی ۔
جب کہ اس کی حالت پر زاوق قہقہ لگا کر گاڑی سٹارٹ کرتا آگے بڑھ چکا تھا
💘
ٹیسٹ کی کیسی تیاری ہے زارا اداس بیٹھی تھی جب وہ اس کے پاس آ کر پوچھنے لگی
اتنی بری کی دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے کالج سے گھر بھاگ جاؤں زارا منہ بسور کر بولی تو اسے کل رات کا زاوق کا جملہ یاد آگیا تمہاری دوست زارا تم سے بھی زیادہ نالائق ہے
وہ ہلکی سی مسکرائی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
چلو میں سمجھا دیتی ہوں میری تیاری اچھی ہے وہ اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی تو زارا کھل کر مسکرائی
تم نے کیسے تیار کیا اتنا مشکل تھا یہ مجھ سے تو نہیں ہوا رات ساری بیٹھ کے لگی رہی اس وقت بھی نیند آ رہی ہے کیسے کیا تم نے وہ پرامید سی اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
مشکل نہیں تھا بس ٹھیک سے سمجھنے کی ضرورت ہی چلو آؤ میں تمہیں سمجھآتی ہوں دیکھنا ابھی سمجھ آ جائے گا وہ بک کھول کر اسے سمجھانے لگی
اور اس کے سمجھانے سے تھوڑی ہی دیر میں اسے سب سمجھ میں آنے لگا اسے
اسے امید تھی کہ اس کا زارا دونوں کا ٹیسٹ آج اچھا ہوگا
ویسے یار تمہیں تو متھس بالکل بھی پسند نہیں ہے پھر تم نے یہ سبجیکٹ کیوں لیا وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
ہاں یاد آیا تمہارا منگیتر آرمی ایجنٹ ہے نہ اور آرمی والے تو بہت بڑے لکھے ہوتے ہیں اسی سے مقابلہ کرنا چاہتی ہو کیا۔زارا چھڑتے ہوئے بولی
منگیتر نہیں شوہر کتنی بار بتا چکی ہوں کہ ہمارا نکاح ہوا ہے مجھے یہ منگیتر لفظ بالکل اچھا نہیں لگتا اس میں نہ کوئی پاکیزگی ہے نہ کوئی جذبات شوہر لفظ سے کتنی لگن ہوتی ہے نہ اسی لیتے ہی وہ شخص آپ کی سامنے آجاتا ہے جس سے آپ بے پناہ محبت کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کا ہر جذبات جوڑا ہوتا ہے
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
ہائے ظالم یہ محبت تم نے کبھی اسے بتایا کہ تم اس سے کتنی محبت کرتی ہو زاراآہ بر کر کہنے لگی
محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی یہ تو آنکھوں سے بیان ہو جاتی ہے ۔
اور اب تم یہ محبت نامہ بند کرو اور جلدی سے یہ آخری دو سوال حل کرو اس کا طریقہ تھوڑا الگ ہے وہ اس کا دیہان ٹیسٹ کی طرف لگاتی ہوئے بولی تو زارہ مسکرا کر اپنا کام کرنے لگے
وہ شخص بہت لکی ہو گا جو تم سے محبت کرتا ہے نہ جانے میں کب ملوں گی اس سے زارا سوال حل کرتے ہوئے بڑبڑائی تو احساس مسکرا دی وہ تو بیچاری جانتی بھی نہیں تھی کہ وہ نہ جانے اس سے پچھلے ایک مہینے میں کتنی بار مل چکی ہے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: