Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 8

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

اس نے جیسے ہی کلاس میں قدم رکھا سب سے پہلے ٹیسٹ کے لیے ہی کہا تھا پچھلے 10 دن سے اس نے جو چپٹر سب سٹوڈنٹس کو سمجھایا تھا آج اس کا ٹیسٹ تھا
سب کو الگ الگ سوال لکھا کر اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھا تھا
کچھ لوگ اپنے سوالات حل کر رہے تھے جبکہ کچھ لوگ اگلے پچھلے ٹیبل کی طرف دیکھ رہے تھے
اسے اپنے کالج کا دور یاد آ رہا تھا جب وہ اور شام بھی یہی سب کچھ کیا کرتے تھے
اس نے جان بوجھ کر سب کو الگ الگ سوال دیا تھا تاکہ کوئی بھی کسی کی مدد نہ کر سکے
سب پر نظر ڈالتے ہوئے اس نے ایک نظر سدرآ کو دیکھا جب اس کی آنکھیں غصے سے بھر آئی
سدرہ اس کلاس سے باہر نکل جائے وہ جو کب سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اس کی آواز پر چونکی۔
آپ کو شاید میری آواز نہیں آئی میں نے کہا میری کلاس سے باہر نکل جائے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا
یہ نیا ٹیچر جب سے آیا تھا اس کی بےعزتی کئے جا رہا تھا کہ کتنے اشارے چکی تھی وہ اسے ہر طرح سے اس پر اپنے حسن کا جادو چلانے کی کوشش کر چکے تھی
لیکن نہ جانے یہ کس مٹی سے بنا تھا جس پر نہ تو اس کے حسن کا کوئی اثر ہو رہا تھا اور نہ ہی وہ اس کے اشاروں کو سیریس لے رہا تھا
سدرہ اسے گھورتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھ گئی اور کمرے سے باہر نکل گئی
اس کے پیچھے سدرا کے چمچ یوں کا منہ بنا دیکھ کر زارا اپنی ہنسی پر کنٹرول نہ کر سکی
بیچاری ہر طرح سے سر حیدر پر لائن مارنے کی کوشش کرتی ہے لیکن مجال ہے جو سر حیدراسے نظر اٹھا کے دیکھیں
وہ اس کے کان میں پھر پھسپھسائی تو وہ بھی مسکرا دی
ی
زاراکوئی مسئلہ ہے آپ کو آپ کو بھی کلاس سے باہر جانا ہے وہ ان دونوں کی سرگوشی سن تو نہیں پایا تھا لیکن کلاس میں ان کا یہ انداز حیدر کو برا لگا تھا
نہیں سر میں تو پنسل مانگ رہی تھی اس نے فوراً ہی اس کی ڈسک سے پنسل اٹھائی
آپ کالج میں آ چکی ہیں زارا ایک ڈیڑھ سال میں آپ یونیورسٹی میں چلی جائیگی یہ سکول کے بہانے بنانا چھوڑ دے وہاں سے گھورتے ہوئے بولا
زارا شرمندگی سے سر جھکا کر اپنا پیپر حل کرنے لگی آج صبح ہی یہ سوال اسے احساس نے سمجھایا تھا اور اس کی قسمت میں وہی سوال آیا تھا ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد جب حیدر نے سب کے پیپر اٹھائے تھے اس کی مسکراتے نظروں نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا
یقین ٹیسٹ بہت اچھا ہوا تھا اسی لئے وہ اتنی خوش کی
جبکہ ان دونوں کی مسکراہٹ کلاس سے باہر کھڑی سدرا بہت غور سے دیکھ رہی تھی
مریم یہ احساس کا تو نکاح ہوا ہے نا اسنے مریم کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے پوچھا
ہاں سنا تو میں نے بھی یہی ہے کہ اس کا نکاح اس کے کزن کے ساتھ ہوا ہے مریم نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی
پھر بھی دیکھ نا سر حیدر پے کیسے لائن مار رہی ہے اور سر حیدر میں بھی اس میں انٹرسٹڈ لگتے ہیں
وہاخ اسے دیکھتے ہوئے بولی تو مریم نے نہ میں گردن ہلائی
وہ ایسی لڑکی نہیں ہے ۔غلط سوچ رہی ہوںخ ویسے بھی سر حیدر کچھ زیادہ ہی اسٹکٹ ہیں یاد نہیں سر نے پہلے ہی دن سے کتنی بری طرح سے ڈانٹا تھا مریم نے اس کے بات کی نفی کی تو سدرہ نے بھی سر ہاں میں ہلا دیا
لیکن ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں مرچی چھبی تھی
❤
سن مجھے تھوڑی سی انفارمیشن ملی ہے وہ ابھی ابھی آفیس روم میں داخل ہوا تھا کالج کی طرف سےانہیں ایک الگ روم ملا تھا جو اسکالج کے پرنسپل کی طرف سے شام اور اسے اسپیشل دیا گیا تھا
کالج میں پرنسپل کے علاوہ اور کوئی یہ وجہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دونوں یہاں کیا کر رہے ہیں
لاسٹ ایئر کا سٹوڈنٹ ہی واحد اس پر شک ہے مجھے
جب میں کلاس سے باہر نکلے وہ کالج سے پیچھے کی طرف اس کو بلا رہے تھے ۔
مجھے دیکھ کر بات بدل دی میں سو پرسنٹ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہاں پیچھے ہے کچھ گڑبڑ
لاسٹ ایئر کا واحد کون چشمش وہ جو لاسٹ ائیر فرسٹ آیا تھا
ہاں وہی مجھے ہنڈرڈ پرسنٹ یقین ہے اس کے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا ہونے والا ہے ۔یار وہ کافی زیادہ گھبرایا ہوا تھا میرے جانے سے پہلے کوئی بات ہو رہی تھی لیکن میرے جاتے ہی بات بدل دی
کسی کو شک نہ ہو اس لئے میں نے بھی اگنور کر دیا مجھے لگتا ہے نظر رکھنی پڑے گی اس پے یہ ہمیں کسی نہ کسی سوراخ تک ضرور پہنچا دے گا
مجھے پورا یقین ہے واحد کو فالو کرنے سے ہم یہ کیس جلدی حل کر سکینگے شام نے یقین سے کہا
ٹھیک ہے تو پھر انتظار کس بات کا واحد پر نظر رکھنے کے لئے زائم کو لگا دو ۔زاوق نے کہا
زائم وہ جو نیا اسٹوڈنٹ ہے وہ جو کہہ رہا تھا کہ پانچ سال پہلے اسے کسی مجبوری کی وجہ سے اپنی پڑضائی چھوڑ دی اب کمپلیٹ کریگا وہ اپنا آدمی ہے کیا ۔شام نے اسے گھورتے ہوئے پوچھ رہا تھا کیونکہ کل اس نےاس کو اچھا خاصا ڈانٹ دیا تھا
ہاں وہی ضروری نہیں کہ ٹیچر ہی ہو وہ ہمارے ساتھ اس کیس میں کام کر رہا ہے زاوق نے بتایا تو شام کو اب اس کے غصے کی وجہ سمجھ آئی
ایک بات کنفرم تھی اگر شام کو کہیں اکیلے میں مل گیا تو وہ اسے چھوڑے گا نہیں اس نے اسے کہا تھا کہ عمر میں تم مجھ سے بھی بڑے ہو اور ابھی تک کالج سٹوڈنٹ ہو۔
خیرجو بھی تھا اب کیس کو حل کرنا ہی تھا
❤
پچھلی گلی میں آؤں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں مسکراتے ہوئے ایموجی کے ساتھ اس نے میسج کرتے ہوئے نیچے سیڑھوں پر بیٹھی احساس کو دیکھا تھا
جس نے میسج پڑھتے ہی اپنے گال پہ ہاتھ رکھتی زرا سا مسکرائی اس کے انداز زاوق مسکرایا تھا صبح والی جسارت اسے اچھے سے یاد تھی
نہیں میں زارا کے ساتھ جانی والی ہوں اسے ریپلائی آیا
جلدی آؤ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔
سرخ چہرے والا غصے سے بھرپور ایموجی کے ساتھ میسج آیا ۔
کیا ہوا تو اٹھ کیوں گئی ۔۔۔؟میسج پڑھتے ہی وہ کھڑی ہوگئی جب زارا نے پوچھا
وہ بابا آ گئے باہر مجھے بلا رہے ہیں ٹھیک ہے میں جاتی ہوں اب کل ملیں گے
احساس بھاگنے والے انداز میں بولی
ارے آ نکل آئے ہیں یہ تواچھی بات ہے مجھے بھی چھوڑ دیں گے پتہ نہیں کتنی دیر تک انتظار کرنا ہوگا چلو چلتے ہیں ۔زارا اس کے ساتھ آنے لگی
تم ۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ نہیں آ سکتی وہ کیا ہے نا کے راستے میں مجھے بابا کے کسی دوست کے گھر جانا ہے ۔۔۔تو ہم تھوڑی دیر انہیں کے گھر روکیں گے بابا کے دوست بہت عرصے کے بعد یوکے سے آئے ہیں اسی لئے آج بابا خود مجھے لینے آئے ہیں ۔اسی لیے مجھے اکیلے جانا پڑے گا
ٹوٹا پھوٹا بہانہ بناتے ہوئے نہ جانے کتنی بار اس نے زارا سے نظریں چرائی تھی
اچھا ٹھیک ہے تو جا پھر میں ڈرائیور کا انتظار کرتی ہوں
محبت سے اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے بولی
❤
تم آج آخری بار اپنی سہیلی سے نہیں مل رہی تھی جانتی تھی میں باہر انتظار کر رہا ہوں تو یہ ایک گھنٹہ فضول میں برباد کر کے آنے کی وجہ بتاؤ بہت شوق ہے مجھے انتظار کرتا دیکھنے کا
وہ غصے سے گھورتے ہوئے اس کی کلاس لینے لگا وہ دھوپ میں پچھلے دس بارہ منٹ سے تو اس کا انتظار کر رہا تھا جو اس کے نزدیک ایک گھنٹے سے اوپر تھے
زارا کے سامنے بہانہ بنایا کہ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ ساتھ آئے گی ۔احساس نے وجہ بتائی
ہاں تو لے آتی سالی صاحبہ کو آئسکریم کھلا دیتا زاوق نے مسکراتے ہوئے آنکھ دبائی
ہاں اور پھر پورے کالج میں نشر ہوجاتا کہ سرحیدر احساس کے کیا لگتے ہیں ۔
ول منہ بناتے ہوئے بولی
کیا لگتے ہیں ۔۔۔۔؟وہ انجان بننا سیریز انداز میں پوچھنے لگا
آپ کو نہیں پتا کہ کیا لگتے ہیں وہ چڑنے والے انداز میں بولی
نہیں مجھے تو نہیں پتا تم مجھے بتا دو کیا لگتے ہیں ۔۔۔۔۔؟
وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیے پوچھ رہا تھا اس کے انداز سے اسے خطرے کی بو آنے لگی
وہ اس کے اتنے قریب تب ہی آتا تھا جب اس کا شکار اس کے ہونٹ یا پھر اس کے گال ہوتے تھے
ہم۔ابھی کالج کے باہر ہیں ۔وہ گھبرا کر بتانے لگی
کالج سے باہر ہیں نا اندر ہوتے تو تو غلط ہوتا
کہ سرر حیدر اپنی اسٹوڈنٹ کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا رہےہیں
لیکن کیا ہے نہ جانے من کالج کی حدود سے باہر تم زاوق حیدر شاہ کی بیوی ہو جو تم پر ہر قسم کا حق رکھتا ہے اپنا ہاتھ اس کے سر کے پیچھے سے لے جاتے ہوئے وہ اس کی گردن پر دباؤ ڈال کر اسے بالکل اپنے قریب کر چکا تھا
مزاحمت کا اثر نہ دیکھتے ہوئے احساس نے خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
جب کہ اس کے لبوں کو اپنی انگلی سے چھوتے ہوئے وہ بے اختیار اس کے لبوں کو اپنا نشانہ بنایا گیا
اس کی شور کرتی سانسوں میں اپنی بے تاب سانسوں کو بساِئے وہ مدہوش ہو چکا تھا ۔اپنے تشنہ لب اس کے لبوں پر جمائے وہ ساری دنیا کو بھلا چکا تھا
مجھے اس دن کا بے چینی سے انتظار ہے جب تمہارے پور پور سے میں اپنی دیوانگی کی تشنہ مٹاوں گا ۔وہ گہری سانس لیتا ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو چکا تھا
اور اس کے بعد گھر پہنچنے تک اس نے نظر اٹھا کر بھی اسے نہ دیکھا تھا وجہ بس اتنی تھی کہ اس کے صرف چہرے کو دیکھ کر اور مزید بے خود ہو جاتا تھا ۔
اور وہ جانتا تھا کہ وہ نازک سی لڑکی اس کی شدت برداشت نہیں کر پائے گی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: