Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Last Episode 23

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – آخری قسط نمبر 23

–**–**–

آخر میری بھی پہلی پہلی شادی ہے اتنا تو کر سکتی ہو نا احساس نے دوپٹے کا گھونگھٹ بناتے ہوئے اپنے آگے کیا تو زاوق اسے گھور کر رہ گیا
میڈم اور کتنی شادی کرنے کا ارادہ ہے آپ کا ۔۔۔؟ وہ صدمے سے بولا
ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی ۔۔۔اسی لیے بہتر ہو گا کہ آپ اپنا دھیان میری بک پر لگائیں وہ اپنی ہنسی دبانے ہوئے بولی تو زاوق بھی مسکرایا
بہت پٹو گی تم میرے ہاتھوں ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا تو احساس کھلکھلا کر مسکرائی
اچھا پیارا بےبی نہیں کرتی اور شادی بس آپ سے ہی کروں گی پہلی اور آخری وہ اسے شرارت سے پچکارتے ہوئے بولی
شکریہ احسان کا اپنی پڑھائی پر دھیان دیں زاوق اسبک ہلکے سے آس کے سر پر مارتا اس کا دھیان کتاب کی طرف لگانے لگا
احساس مسکراتے ہوئے اس سے اس کے سارے سوالات سمجھ رہی تھی جبکہ زاوق جو اتنے دنوں کے بعد اپنی نظروں کی پیاس بجھانے یہاں آیا تھا ۔اپنا دماغ کھپاکر رہ گیا
❤
نہیں بھائی میں آپ کو یہاں نہیں بیٹھانے دے سکتی ۔لیکن پھر بھی اگر آپ کا یہاں بیٹھنا ضروری ہے تولائی میرا نیگ دیجئے ۔
ورنہ ایسا کریں جہان دوسرا دلہا بیٹھا ہے اس کے پاس جا کر بیٹھ جائیں اسے تھوڑے سے فاصلےپر بیٹھے زاوق کی طرف اشارہ کیا
جہاں زاوق ہر ممکن طریقے سے زارا کو اٹھانے کے بعد جا کر بیٹھا تھا زارا کی بیٹی ڈیمانڈ پوری کرنے کے بعد جب زارا کی ڈیمانڈ مزید پر گئی تو وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا اور اب شام بھی منہ لٹکائے وہی آکر بیٹھا تھا یہ پہلی شادی تھی جس میں دلہے الگ اور دلہن الگ بیٹھی ہوئی تھی
ہائے کتنی بےچاری شکلیں ہیں دونوں کی احساس نے ان دونوں کے پھولے ہوئے منہ دیکھ کر زارا کے کان میں سرگوشی کی
کوئی بات نہیں اب ساری زندگی ان کے یہ بے چارے بنے ہی رہیں گے جانتے نہیں ہیں کہ کس سے پالا پڑا ہے زارا نے احساس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے قہقہ لگایا
یار مجھے یقین ہے یہ ہمیں دیکھ کر ہی ایسے ہنس رہی ہوگی ۔شام نے زاوق کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا
کوئی بات نہیں یار ہنسنے دے آج ان کا دن ہے آگے ہم قہقے لگائیں گے ۔
زاوق نے شام کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا بالکل احساس کے انداز میں جب کہ اسے اپنی نقل اتارتے دیکھ کر احساس نے اسے زبان چڑائی ۔
زاوق کو چند مہینوں پہلے والی وہ بولی سی احساس یاد آئی اس کے قریب آنے پر بھی سہم سے جاتی تھی ۔اسی کے کالج میں اپنا مشن مکمل کرنے اور احساس کو کچھ دن اپنے پاس رکھنے کا ہی اثر تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح اس سے ڈرتی اور گھبراتی نہیں تھی شاید اب اسے زاوق کی محبت کا احساس ہو چکا تھا
❤
ساری رسم ادا ہو چکی تھی بس ایک رسم کے علاوہ زارا کو شام کے گھر رخصت کردیا گیا جس کی وجہ سے اس کی آخری رسم رہ گئی اور اب دونوں ہی افسوس سے ہاتھ ملتی بیٹھی ہوئی تھی
شام کے کمرے میں قدم اکھنا چاہا تو دیکھا دروازے پہ زائم اور موسی کھرے ہیں
سوری ماموں آپ اندر نہیں جا سکتے تب تک نہیں جب تک جب تک آپ ماما اور احساس آنٹی کا نیگ نہیں دے دیتے
ماما یہاں پر نہیں ہیں وہ زاوق ماموں سے اپنا نیگ وصول کر رہی ہیں اسی لیے مجھے یہاں بھیجا ہے تاکہ آپ سے میں ان کا گفٹ لے سکوں چلیں اب جلدی کریں میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے مجھے سونا ہے الریڈی دو گھنٹے لیٹ ہو چکا ہوں اس کی ٹائم کی پابندی دیکھ کر شام نے گھور کر اسے دیکھا حجاب اسے ایک سیکنڈ بھی نہ تو زیادہ سونے دیتی تھی اور نہ ہی زیادہ جاگنے دیتی تھی یہ تو شام اور زاوق کی شادی کی وجہ سے اس کی عید ہو چکی تھی کہ یہ ابھی تک جاگ رہا تھا
کیا چاہیے شام نے گھور کر پوچھا ۔
کچھ بھی دیتے بچہ ہے کون سا اس کو پتہ چلے گا زائم نے حل پیش کیا
مجھے بچہ سمجھنے کی غلطی مت کیجئے گا ماما نے کہا ہے ایک لاکھ سے ایک روپیہ بھی کم ہوا تو شام ماموں کو اندر مت جانے دینا موسی منہ پھلا کر بولا
اکاؤنٹنگ آتی ہے شام نے مسکرا کر اسے گود میں اٹھایا
‏فاسٹ فاسٹ نہیں آتی آہستہ آہستہ کر لونگا ۔موسی نے جلدی سے کہا
ویری گڈ بیٹا ہے یہ لو تمہارے ایک لاکھ روپے اب تم یہاں بیٹھ کر کاؤنٹنگ کرو تب تک میں اندر جا رہا ہوں شام نے پیسوں کے گڈی اس کے ہاتھ میں پکڑا اور اندر چلا گیا
زائم اس کی ہوشیاری پر قہقہ لگا کر ہنسا
بیس بیس روپے کی گڈی میں مشکل سے بیس ہزار روپے ہونے تھے
جب کہ موسیٰ بہت ہوشیاری سے ایک ایک روپے کا حساب کر رہا تھا آخر اس نے اپنی ماں کو پورا ایک لاکھ روپیہ دینا تھا
❤
شام نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ سامنے بیڈ کر اپنا ہوش رُبا حسن لیے بیٹھی تھی
آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آ گیا تھا ۔
میں تم سے کوئی بہت بڑی بڑی باتیں نہیں کروں گازارا میں اپنی پہچان بنانا چاہتا تھا میں کیا ہوں کیسا ہوں کوئی مجھے جانتا ہی نہیں تھا سالوں سے اس یتیم خانے میں پڑے میں ہمیشہ اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتا رہا
لیکن پھر مجھے کسی نے بتایا کہ یتیوں کے تم ماں باپ ہوتے ہی نہیں اور یتیم خانے میں صرف یتیم ہی رہتے ہیں ۔میں جہاں بھی گیا جس موڑ پر بھی مجھے کسی نے اپنا کہہ کر اپنے سینے سے نہیں لگایا ۔
میرا دل چاہتا تھا کہ ہر کوئی مجھ سے پیار کرے سب کی نظروں میں میری بھی کوئی اہمیت ہو
پھر اب زاوق نے جب یہ پروفیشنل چنا تو میں نے بھی اس کا ساتھ دیا اور اس کے بعد ہر کوئی مجھ سے پیار کرنے لگا مجھے دیکھتے ہی مجھے سینے سے لگانے کے لئے میرے پاس آتے لوگ ۔مجھے احترام سے بلاتے عزت سے بات کرتے ہیں نہ کہ غصے سے گالی دیتے
تم نہیں جانتی ذارا ایک یتیم انسان کی زندگی کیا ہوتی ہے اس وطن میں اس وردی نے مجھے ایک پہچان دی ہے میں تمہیں اپنا پابند نہیں کر رہا بس یہ کہہ رہا ہوں کے اگر زندگی میں مجھے کبھی میرے وطن اور تم میں سے کسی ایک کو چننا پڑا تو میں اپنے وطن کو چنوں گا اور۔
اور میں اس میں آپ کا ساتھ دوں گی اس سے پہلے کے شام اپنی بات مکمل کرتا زارا نے اس کے بات کاٹتے ہوئے کہا
اسی لئے تو تمہیں چنا ہے ۔مجھے یقین ہے تم میرے اس فیصلے میں ہر قدم پر میرے ساتھ رہو گی
لیکن قدم سے قدم ملانے کے لیے اور بھی بہت سی چیزوں میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا ہوگا
وہ اس کے ہاتھوں کی کلائی پر خوبصورت نفس سا بریسلیٹ پہناتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا
آپ یہاں تک آ ہی گئی ہوں توآگے میں آپ کے ساتھ ہوں لیکن پلیز آپ مجھے آگے پڑھنے کے لیے نہیں کہیں گے بری ہی الجھن ہوتی ہے مجھے اس پڑھائی سے
ویسے بھی پڑھائی کا ٹائم کہاں رہے گا اب میں شادی شدہ لڑکی ہوں اپنی زندگی میں مصروف ہو جاؤں گی ایک ڈیڑھ سال میں بچے پیدا ہوجائیں گے کہہ رہے گا ان سب چیزوں کا اتنا بڑا گھر ہے جو مجھے سنبھالنا ہے اور پھر بچوں کی پڑھائی ان کا اسکول ان کے کپڑے ان کا کمرہ کتنی چیزوں کا خیال رکھنا پڑے گا اور پھر جب بچے بڑے ہوگئے ان کی شادی بھی تو کرنی پڑے گی میرے پاس بالکل پڑھائی کا ٹائم نہیں ہے زارا بولنے پر آئی تو پھر بولتی ہی چلی گئی جبکہ شام خاموشی سے آنکھیں پھیلائیں اس کی فیوچر پلاننگ سن رہا تھا
ذارا اس رات سے آگے بڑھیں گے ان شاءاللہ بچوں کے بارے میں بھی سوچیں گے لیکن پلیز ابھی تم مجھے کنفیوز مت کرو
وہ اس کا ہاتھ تھام تھا اسے اپنے نزدیک کرتے ہوئے کنفیوز سے انداز میں بولا
تو میں پڑھائی نہیں کروں گی نا ۔۔۔۔؟وہ اس کے سینے سے سر اٹھائے معصومیت سے بولی
نہیں میری جان اب ہمارے بچے ہوں گے پھر بڑے ہوں گے شادی ہوگی ان کے بچے ہوں گے تمہارے پاس وقت کہاں ہے پڑھائی کا وہ اس سے بازوں میں بھیجتا شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا
جبکہ بے دھیانی میں وہ کہاں سے کہاں آ گئی تھی اس بات کا احساس ہوتے ہی اس نے شام سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اب یہ ممکن نہ تھا
❤
یار میں کب سے زاوق سر کا انتظار کر رہی ہوں نہ جانے کہاں چلے گئے ۔حجاب نے اب زائم کو فون کرکے اسے بتایا
صبر کرو یار کہاں جانا ہے انہوں نے آنا تو نے اسی کمرے میں ہے زائم نے موسی کو اپنے سینے پر لٹاتے ہوئے کہا
لیکن اب تو ان کو آجانا چاہیے تھا اتنی دیر ہو چکی ہے لگتا ہے انہیں اپنی دلہن کا بالکل بھی دیدار نہیں کرنا حجاب منہ بنا کر بولی
ہاں جیسے تمھیں اپنے دلہے کا دیدار نہیں کرنا زائم شرارت سے بولا اس نے کتنی منتیں کی تھی گھر چلو لیکن مجال ہے جو وہ احساس کی بہن بننے کا موقع ہاتھ سے جانے دیتی احساس بیچاری کو تو آج ہی پتہ چلا تھا کہ جس حجاب کو اپنا دشمن بنائے ہوئے تھی وہ تو اسی کی ٹیم میں کام کرنے والی ایک ورکر تھی
زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہارا دیدار کئے چار سال ہو چکے ہیں اب فون رکھو اور مجھے سکون سے سر کا انتظار کرنے دو وہ بس آنے والے ہی ہوں گے حجاب نے فون بند کرتے ہوئے کہا
لگے رہو حجاب بیٹا آج کوئی نہیں آنے والا کیونکہ جس کو اس کی منزل تک پہنچنا تھا وہ تو کب کا پہنچ چکا ہے زائم نے آنکھیں بند کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
❤
وہ بہت نرمی سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم رہا تھا جب کہ اس کی باہوں میں سمٹتی احساس ہر تھوڑی دیر میں دروازے کو دیکھ رہی تھی ذاوق سب باہر کیا سوچ رہے ہوں گے کیا آپ کی کھڑکی سے اندر آئے ہیں ہر تھوڑی دیر میں دہرانے والی بات اس نے ایک بار پھر سے دہرائی
ہاں تو تم کیا چاہتی ہو آج کی اس حسین رات کا وقت میں حجاب کے ساتھ ویسٹ کروں کبھی نہیں آج کی رات کا ہر ایک پل میں اپنی جان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں وہ نرمی سے اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے بولا
ذاوق بچاری کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہے اس نے ایک بار پھر سے کہا
تم اس پر نہیں اپنے شوہر پر دھیان دو میں بھی تو تمہارا انتظار کرتا رہا ہوں بارہ سال نکاح کے بعد رخصتی کے لیے اور پندرہ دن رخصتی کے بعد دوبارہ رخصت کرنے کے لئے اس بار اس کا نشانہ اس کی دو حسین آنکھیں تھی وہ باری باری اس کی آنکھوں پر لب رکھتا اس کے ناک کو دھیرے سے چھو کر بولا
لیکن زاوق ۔۔۔
بس اب کوئی دوسری تیسری بات نہیں اگر تمہیں مجھ سے کوئی بات کرنی ہے تو آپنے اور میرے بارے میں کرو ورنہ خاموش رہو یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا
اسے اپنی باہوں میں سمیٹتے ہوئے وہ دھمکی دیتے انداز میں بولا
جب کے اس کی بڑھتی ہوئی جیسارتوں پر احساس گھبرا کر رہے گی
آئی لو یو سو مچ احساس تم میری پہلی اور آخری چاہت ہو اگر اس دن تمہیں کچھ ہوجاتا تو تمہارا زاوق ٹوٹ جاتا ختم ہو جاتا لیکن تم نے اسے ٹوٹنے نہیں دیا وہ اسے کسی نازک گڑیا کی طرح اپنی باہوں میں سمٹتا اپنے مزید قریب کرتے ہوئے بولا
جب کہ اپنے چہرے پر جا بجا اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں بند کر گئی
نہ میری جان آج تو ایسا نہیں چلے گا آج تو کہہ دو جو میں تمہارے لئے محسوس کرتا آیا ہوں وہی تمہارے دل میں بھی تھا آج تو اپنے دل میں چھپی اس محبت کا اظہار کر دو جو تمہارے دل میں پچھلے 12 سال سے دبی ہوئی ہے ہاں احساس میں جانتا ہوں جتنی محبت میں نے تم سے کی ہے اتنی ہی محبت تم بھی مجھ سے کرتی ہو
بس کہتی نہیں ہو لیکن آج کہو گی اور میں سنوں گا یہ تم میری خواہش سمجھ لو یا ضد لیکن آج تمہیں میری محبت کا جواب محبت سے دینا ہوگا
کہو تم مجھ سے محبت کرتی ہو یہ عاشق دیوانہ ایسے ہی تو نہیں تمہارے پیچھے بھاگتا رہا کوئی تو وجہ تھی کچھ تو تھا جو مجھے تمہاری طرف راغب کرتا تھا بتاؤ وہ تمہاری محبت تھی کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نہ میں کرتی ہو نہ تم بھی مجھ سے محبت تم بھی ہونا دیوانی میری ۔وہ اس کا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے ضدی لہجے میں بول رہا تھا
جب احساس نے شرما کر اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپانا چاہا
ایسے نہیں پہلے تمہیں میری محبت کا جواب محبت سے دینا ہوگا وہ اس کا چہرہ اپنے سینے سے نکالتے ایک بار پھر سے پوچھنے لگا
ہاں بابا آئی لو یو ٹو وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا چہرہ نکالتی اس بار اس کے سینے میں پناہ لے گئی تو زاوق قہقہ لگا کر ہنسا
صرف لفظوں سے کام نہیں چلے گا عملی نمونہ بھی تو دکھاؤ وہ شرارت سے بولا تو احساس نے رکھ کر ایک نازک سا مکا اس کے سینے پر مارا
اچھا بابا تم۔ مت دکھاو عملی نمونہ میں دکھا دیتا ہوں وہ اس کی ناراض نگاہیں دیکھ کر محبت سے اسے اپنے قریب کھنچتے ہوئے ایک بار پھر سے ایسے شرمانے پر مجبور کر دیا
❤
السلام علیکم دوستو
املا کی غلطیوں کے لیے معافی صاف کرنے کا وقت نہیں ملا الحمدللہ ایک اور ناول کمپلیٹ

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: