Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 12

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 12

–**–**–

وہ گاڑی سے دو قدم دور تھا۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اس کی روح پر وجود بوجھ میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔۔ مرے ہوئے ہاتھوں سے اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔یکایک وہ مڑا اور پوری رفتار سے مسجد کی طرف بھاگ اٹھا۔۔ وہ مزید اذیت نہیں سہہ سکتا تھا۔۔
hey listen.
وہ اندر داخل ہوتے ساتھ بولا۔۔ نوجوان نے اسکی طرف چونک کر دیکھا۔۔
مم۔۔۔۔۔ممجھے۔۔۔۔۔
وہ ہانپ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا الفاظ بولے۔۔
مجھے تم جیساہونا ہے۔۔
وہ اسکی طرف اشارہ کر کے بولا۔۔نوجواب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
آؤ یہاں بیٹھو۔۔
اس نے نرمی سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔ ڈیوڈ میکانکی انداز میں چلتا ہوا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔
اب بتاؤ۔۔
مجھے تم جیسا بننا ہے۔۔ بلکل تمہارے جیسا۔۔
وہ کیوں؟
بس بننا ہے۔۔
وہ ضدی بچوں کی طرح بولا۔۔
تم جانتے ہو میرے جیسا بننے کے لیئے تمہیں اپنی پچھلی زندگی بھولنی پڑےگی۔۔ سب کچھ چھوڑنا پڑےگا۔۔اسلام کے اصولوں کو ماننا پڑےگا۔۔
نوجوان نے متانت سے کہا۔۔
ہاں جانتا ہوں میں فیصلہ کر کے آیا۔۔۔
کیا تم اپنے ہوش و حواس میں ہو؟؟
ہاں بلکل ۔۔ اب ہی ہوش آیا ہے۔۔۔
وہ قطعیت سے بولا۔۔
ٹھیک ہے پھر وضو کر لو۔۔
وہ جوان اٹھتےہوئے بولا۔۔ڈیوڈ اسکے پیچھے چل پڑا ۔۔ وہ اسکی تقلید میں وضو کرنے لگا۔۔ اسے آج سمجھ آگیا تھا کہ کیسپئن پر اس نقاب پوش لڑکی نے منہ اور ہاتھ کیسے دھوئے تھے۔۔۔۔وضو کر کے وہ دونوں واپس وہیں آ بیٹھے۔۔
لا الہ الا اللہ۔۔
وہ آنکھیں بند کر کے پڑھنے لگا۔۔
محمدالر رسول اللہ۔۔
اسکا روم روم جھوم اٹھا۔۔ اسے لگا الفاظ سکون بن کر اسکی رگوں میں اتر رہے ہیں۔ ڈیپرشن جس کو وہ پچھلے کئ ہینوں سے جھیل رہا تھا ختم ہوگئی تھی۔۔جس آگ میں وہ جل رہا تھا وہ سرد پڑ رہی تھی۔۔ اسکا دل چاہا وقت رک جائے اور وہ یوںہی بیٹھا رہے۔۔۔ آنسو اسکے گالوں پر لڑھکنے لگے تھے۔۔ وہ بے آواز آنسوؤں سے روتا رہا۔۔۔ اس نوجوان نے اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔۔ وہ اسی طرح بیٹھا رہا۔۔ وہ الفاظ حرف حرف کر کے اسکے وجود میں اتر رہے تھے۔۔۔وہ اسے اتارتا رہا۔۔ روتا رہا۔اسے اس وقت دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔اسے وہ مل گیا تھا جو اشک کے پاس تھا۔کتنی ہی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔۔مسجد کے لوگ اسکے گرد جمع ہوگئے۔۔ ان سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔۔ وہ سب اسے مبارکباد دے رہے تھے۔۔
میرا نام حنان ہے۔۔تم اپنا اسلا می نام کیا رکھوگے؟؟
نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
داؤد۔۔
لمحے کے ساٹھویں حصے میں جواب آیا تھا۔۔
کیا تم داؤد لفظ کا پس منظر جانتے ہو؟؟
نہیں لیکن میں یہاں داؤد بننے ہی آیا ہوں۔۔
اس نے عزم سے کہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ استنبول پہنچی تو فجر کا وقت تھا۔۔ اس نے سارا سفر جیسے کانٹوں پر کیا تھا۔۔ گھر پہنچ کر ذیشان صاحب سوگئے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے لگ گئی۔۔ اسکا جسم تھکا ہوا تھا۔۔ نماز پڑھ کر وہ وہیں جائے نماز پر بیٹھ گئی۔۔
کیا ہوگیا ہے مجھے؟ اور کیوں؟؟
وہ ایک غیر مسلم ہے ۔۔ میں ایک غیر مسلم اور نا محرم کی وجہ سے کیسے بے چین ہو سکتی ہوں۔۔میں ایک مسلمان لڑکی ہوں۔۔ میں ایسا کچھ نہین کرونگی جو مجھے زیب نہیں دیتا۔۔
وہ خود کو یاد کروا رہی تھی۔۔۔
یا رب العالمین۔۔ تو جانتا ہے نا۔۔ میرے دل کے حال کو تو جانتا ہے نا۔۔یہ میرے بس میں نہیں رہا۔۔ میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔میں سچ میں ایسا نہین چاہتی تھی۔۔
وہ رو پڑی۔۔
میرے دل سے اسکا خیال نکال دے۔ میرے دل میں اسکے لیئے نفرت پیدا کر دے۔میرے دل کو اپنی محبت سے بھر دے۔
وہ اب ہچکیاں لینے لگ گئی تھی۔۔
میرے دل میں اسکی نفرت پیدا کر دے ۔۔ میرے دل میں اسکی نفرت پیدا کردے۔۔
وہ مسلسل یہی الفاظ دہرا رہی تھی۔۔اسکے الفاظ اور آنسوؤں میں مطابقت تھی۔۔ دونوں ایک تواتر سے نکل رہے تھے۔۔وہ وہیں روتی روتی لرھک کر سوگئی۔۔
اشک میری بات سنو۔۔اشک پلیز۔۔ میں مر جاؤں گا۔۔
وہ اسکے پیچھے آرہا تھا۔۔ اس نے گھبرا کر بھاگنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ جدھر جاتی اسے اسی آواز کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ یکایک اسکے قدموں کو بریک لگی۔۔ سامنے ذیشان صاحب کھڑے تھے۔۔ ان کی آنکھوں میں بے اعتباری، بے یقینی نفرت سارے جزبے موجود تھے۔۔
بب۔۔۔ بابا۔۔۔۔
اس نے کہنا چاہا۔۔
بابا میری بات سنیں۔۔۔۔
وہ چلا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔اس نے اپنے ارد گرد دیکھا۔۔ وہ اپنے کمرے مین تھی۔۔ اسکا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔۔
اگر یہ سچ ہوجائے تو؟؟؎
خوف سے اس پر کپکپی طاری ہوگئی۔۔ اس نے باقی رات اسی کیفیت میں گزار دی۔۔
اگلے دن ناشتے پر اسکی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ بابا سے نظریں ملا سکےاسے لگ رہا تھا وہ اسکا ذہن پڑھ لیں گے ۔۔اسکے اندر چلتی ہوئی جنگ کی وجہ جان لیں گے۔۔وہ آفس گئے تو اسکی گھبراہٹ کچھ کم ہوئی۔۔ کام نپٹا کر وہ بھی حلیمہ باجی کی طرف چلی آئی۔۔ اسکے وجود پر عجیب سی یاسیت چھا گئی تھی۔۔کلاس میں بھی وہ کسی چیز میں دھیان نہیں دے پا رہی تھی۔۔
بیٹا آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ کیا آپ اپنی دادی کی وجہ سے افسردہ ہیں ؟؟
حلیمہ باجی نے سبق کے بعد اسے مخاطب کیا
جج۔۔۔ جی آنٹی۔۔
وہ بوکھلا گئی۔۔
کیا سوچ رہی ہیں آپ؟؟
انہں نے پیار سے پوچھا۔۔
آنٹی کسی کے خیال سے کیسے چھٹکارا پایا جائے۔۔۔ جبکہ آپ ایسا چاہتے ہوں۔۔؟
یہ آپ کی اپنی مرضی پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔۔ کسی کا خیال دل میں آجانا آپ کے بس کی بات نہیں۔۔ لیکن اسے قائم رکھنا یا رد کرنا آپ کے بس میں ہوتا ہے۔۔
لیکن آنٹی اگر آپ چاھتے ہوں کہ نہ آئے اور رد بھی کر رہے ہوں پھر بھی۔۔۔۔
وہ بے چین ہوئی۔۔
محبت دینے والا بھی اللہ ہے اور لینے والا بھی۔۔ بعض دفعہ وہ خود آپ کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے تاکہ آپ دنیاوی محبتوں سے آشنا ہوکر اسکی طرف آؤ۔۔۔ ایسی محبت انعام بن جاتی ہے۔۔ اور بعض دفعہ آپ کے گناہوں کی وجہ سے آپکے دل میں محبت دال دی جاتی ہے تاکہ آپ اپنا آپ ختم کر کے دوسرے سے محبت کی بھیک مانگو،، ایسی محبت سزا بن جاتی ہے۔۔اب سزا یا جزا کا فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔
انہوں نے اطمینان سے اسکو جواب دیا۔۔
ہم محبت کو انعام کیسے بنائیں؟؟
وہ شش و پنج میں تھی۔۔
اپنے دل سے غیر اللہ کی محبت کو کھرچ کر نکال دو۔۔ استغفار کی کثرت کرو۔۔۔ بہت جلد آپکے دل سے یہ زنگ اتر جائے گا اور اللہ آپکو اس سے بے نیاز کر دےگا۔۔
انہوں نے پیار سے کہا۔۔۔ وہ تھوڑی پر سکون ہوگئی ۔۔ اسے غیر اللہ کی محبت سے نجات پانے کا راستہ ڈھونڈنا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باقاعدگی سے حنان کے پاس جا رہا تھا۔۔ اس نے تین دن میں مکمل نماز یاد کرلی تھی۔۔ وہ سارا وقت اسکے پاس گزارنا چاہتا تھا لیکن حنان نے یہ کہ کر منع کر دیا تاھ کہ اسلام رہبا نیت نہیں سیکھاتا۔۔۔
وہ ظہر کی نماز پڑھ کر اسکے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔ حنان نوافل ادا کر رہا تھا۔۔اسکی قربت میں بھی ویسا ہی سکون تھا جیسا اشک کے پاس تھا۔۔ اسکے ذہن میں سارے مناظر گھوم گئے۔۔ سارا اور محمد والے بھی۔۔
کہاں کھوئےہو؟؟
حنان نے دعا مانگ کر پوچھا۔۔
کچھ نہیں سوچ رہا تھا مسلمان کتنے خوش قسمت ہیں کہ انکو اتنا پر سکون دین ملا ہے پھر وہ قدر کیوں نہیں کرتے۔۔ شرمندہ کیوں ہوتے ہیں مسلمان ہونے پر۔۔
اس کی سوچ زبان پر آگئی۔۔
۔۔ صرف لا الہ الا اللہ کہہ دینے سے اسلام نہیں آتا۔۔ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جنکے اندر اسلا نہیں اترتا۔۔
اللہ تعلا کا ارشاد ہے کہ قران کچھ لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں اترتا اور کچھ لوگوں کے دل میں راسخ ہوجاتا ہے۔۔۔
حنان نے اپنی ہنسلی کی ہڈی پر ہاتھ رکھ کر بتایا۔۔
میرا شمار کن میں ہوتا ہے؟
داؤد نے سوال کیا۔۔
یہ تو تمہیں خود پتہ کرنا ہے۔۔ ہوسکتا ہے تمہارا نماز میں دل نہ لگے اور ہوسکتا ہے تمہں اسکے بغیر سکون نہ ملے۔۔
حنان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ خاموش ہوگیا۔۔ وہ اپنا موازنہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
تم یہاں رہتے ہو؟ تمہارا گھر کہاں ہے؟
اس نے بات بدلی۔۔
میں یہاں جماعت کے ساتھ آیا ہوا ہوں۔۔ میرا گھر اس ملک میں نہیں ہے۔۔
حنان دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔۔ وہ دونوں مسجد کےصحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
تو جماعت میں کیوں آئے ہو؟؟؟
دین پھیلانے کے لیئے۔۔
کتنے عرصے سے آئے ہوئے ہو؟
پورے سال کے لئے آیا تھا۔۔یہ گیارہواں مہینہ ہے۔۔
تم پورے سال سے گھر نہیں گئے۔۔۔
داؤد نے حیرانی سے پوچھا۔۔ حنان نے مسکرا کر نفی میں سر ہلادیا۔۔
گھر جب جاؤگے؟؟
بس دو ماہ بعد۔۔ یہ ماہ برلن کا ہے اگلی تشکیل پتہ نہیں کہا ں ہوگی۔
داؤد رشک سے اسے دیکھتا رہا۔۔ وہ رحمان کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا جو اسکے دین کے لیئے اسکے خلیفہ بن کر نکلے تھے۔۔
ایک منٹ۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ تم۔۔ تمہارا مطلب ہے کہ اگلے ماہ تم چلے جاؤگے؟
داؤد اچھل پڑا۔۔۔
ہاں کیوں کیا ہوا؟؟
میرا کیا ہوگا ۔۔۔ میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں دین۔۔۔۔
وہ سخت پریشان ہوگیا۔۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔میں کسی کی دیوٹی لگا جاؤں گا تمہارے لیے۔۔۔
حنان نے اسے تسلی دی۔۔
لیکن مجھے تم سے سیکھنا ہے۔۔
وہ بضد تھا۔۔
اچھا ابھی تو میں یہیں ہوں۔۔ تم اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔
داؤد کا نوڈ اچھا خاصا خراب ہوگیا تھا۔۔ حنان کی تسلیوں کے بوجود وہ ریلیکس نہ ہو سکا ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: