Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 14

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 14

–**–**–

اشک نے انسٹیٹیوٹ جوائن کر لیا تھا۔۔ وہ صبح گھر ک کام نپٹا کر حلیمہ باجی کی طرف چلی جاتی۔۔ کلاس ختم ہونے کے بعد بھی وہ انکے پاس بیٹھی رہتی۔۔ انکے چھوٹے موٹے کام کر دیتی۔۔ دن بدن وہ انکے بہت قریب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔پھر وہیں سے پڑھنے چلی جاتی ۔ وہ خود کو مصروف رکھتی تھی۔۔ لیکن رات کو جب وہ سونے کے لیے لیٹتی تو پھر اپنی یادوں کے سامنے بے بس ہوجاتی۔۔
اسے لگتا وہ آکاس بیل کی طرح اسکو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔۔۔ اسے داؤد کی یاد دلانے والی ہر چیز سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ اپنے جذبات اور احساسا ت کو مسلسل نظرانداز کر رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے خوابوں سے بھی ڈرنے لگی تھی ۔۔اسے لگتا تھا ہر چیز اسکے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔۔ داؤد کی آواز مع جو بےچینی تھی وہ اسکی روح میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔۔۔ زہر کی طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد بہت خوش تھا۔۔ اسے حنان کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی تھی۔۔ وہ آتے ہوئے جین اور کارلس سے مل کر آیا تھا۔۔ وہ ان کے سامنے دو ٹوک بات کر آیا تھا لیکن آتے ہوئے جین کے آنسوؤں نے اسے ڈگمگا دیا تھا۔۔اس میں شک نہیں تھا کہ وہ ان سے بہت محبت کرتا تھا لیکن وہ اپنا راستہ چن چکا تھا۔۔ اور اب وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔۔
حنان نے کہا تھا محبت قربانی مانگتی ہے۔۔وہ اب اللہ کی محبت میں قربانی دے رہا تھا۔۔
حنان کہتا تھا کہ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کبھی دے کر کبھی لے کر۔۔وہ اپنی محبت حاصل نہیں کر سکا تھا۔۔ اب اپنے ماں باپ کو بھی چھوڑ کر جارہا تھا۔۔ اسے آزمائش پر پورا اترنا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی بر تن دھو رہی تھی ذیشان صاحب ٹی وی لگا کر بیٹھے تھے۔۔ کاؤنٹر کچن ہونے کی وجہ سے ٹی وی کچن سے صاف نظر آرہا تھا۔۔۔ وہ اپنے دھیان کام میں لگی تھی۔۔کیسپئن سی کی آواز سن کر وہ پلٹی۔۔
سامنے آزر بائیجان کی صنعت سے متعلق کوئی ڈاکو مینٹری چل رہی تھی۔۔
تمہا رے حلیے سے لگتا نہیں ہے کہ تم اتنی چلینگ ہو سکتی ہو۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تم میرے ساتھ چلو گی۔۔
وعدہ کرو۔۔
ٹھیک ہے تم چلی جاؤ ہو ٹل میں نہیں جا رہا۔۔
کوئی کیسپئن کے ساحل پر ناراض ہوا تھا۔۔اسکی ناراضگی اسے کتنا پریشان کر گئی تھی۔۔۔ وہ کتنے شوق سے اسے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی وہ آہستہ کیوں چلتا ہے ۔۔ تاکہ وہ اسکے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے۔۔ اسے پچھتاوا ہونے لگا۔۔
کاش وہ بھی ایسا ہی کر لیتی ۔۔۔ وہ بھی وقت کو روکنے کی اسکے ساتھ کوشش کرتی تو شاید اس کے دامن میں کچھ اور یادیں بھی ہوتیں۔۔
بیٹا پانی بند کر دیں۔۔
ذیشان صاحب نے اسے کہا تو وہ چونکی۔۔ وہ کتنی دیر سے وہاں ساکت کھڑی تھی۔۔ ذیشان صاحب سونے کے لئے اٹھے تھے تو انہوں نے اسے توجہ دلائی۔۔
وہ باقی برتن چھوڑ کر کمرے میں آگئی۔۔ اس نے الماری سے پرس نکالا فش رول کا ریپر اسکے ہاتھ میں آگیا۔۔وہ کچھ دیر اسے غائب دماغی سے دیکھتی رہی پھر اچانک دانت پیستے ہوئے اٹھی اور ایک جھٹکے سے اس نے اسے ٹیرس سے نیچے پھینک دیا۔۔اب وہ اطمینان سے اسے جنگلے پر جھک کر دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ڈیوڈ کی نشانی کو پھینک دیا تھا۔۔
ریپر ہوا کے دوش پر الٹتا ہوا نیچے گر رہا تھا۔۔یکا یک وہ جیسے ہوش میں آئی۔۔
وہ یہ کیا کر بیٹھی تھی۔۔ اسے لگا وہ نیچے گرتا ہوا کاغذ ریپر نہیں اسکا وجود ہے۔۔ اس کے پورے جسم میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔۔۔
وہ الٹے قدموں پیچھے ہوئی۔۔۔کمرے سے با ہر نکل کر اس نے دیکھا۔۔ذیشان صاحب کے کمرے کی لائٹ بند تھی ۔۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔۔ اسے ہر حالت میں وہ ریپر واپس لانا تھا۔۔ اس نے گھر میں لینے والا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔۔ وہ ننگے پاؤں بھاگتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے اتری۔۔ رات کافی بیت چکی تھی کالونی خالی تھی۔۔ وہ بھاگتے ہوئے فلیٹ کی ٹیرس والی سائڈ پر آگئی۔۔۔ صاف گھاس پر اسے وہ ریپر چمکتا ہوا نظر آگیا۔۔۔
وہ ریپر نہیں تھا۔۔ داؤد کی طرف سے دیا ہوا تحفہ تھا۔۔ اسکے لیئے اس وقت سب سے قیمتی چیز۔۔
اس نے جھک کر اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔۔۔ آنسو پلکوں کی حد پار کر گئے تھے۔۔
اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔۔۔ اس نے نیچے دیکھا وہ گھاس پر ننگے پاؤں کھڑی تھی۔۔ ارد گرد اونچے اونچے بلاک تھے۔۔ وہ کیا کر بیٹھی تھی۔۔ وہ شیفون کا دوپٹہ اوڑھے ننگے پاؤں آدھی رات کو گھر سے باہر نکل آئی تھی صرف ایک ریپر کی خاطر۔۔ خوف کی لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔۔
وہ ریپر مٹھی میں دبائے واپس بھاگ اٹھی۔۔ جلد بازی میں وہ دروازہ کھلا چھوڑ گئی تھی۔۔۔وہ آہستگی سے دروازہ بند کر کے اندر آگئی۔۔۔ اسکا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔۔۔رات کی خاموشی میں اسکے سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔ کمرے میں آکر وہ بے دم ہو کر کار پٹ پر بیٹھ گئی۔۔ اس نے کیا کیا تھا۔۔ صرف ایک کاغذ کی خاطر۔۔۔
اگر ذیشان صاحب جاگ جاتے تو۔۔۔ اگر دروازہ بند ہو جاتا تو۔۔۔۔
لیکن سے سے زیادہ خوفزدہ کرنے والی بات یہ تھی کہ اگر وہ داؤد کی واحد نشانی کھو دیتی تو۔۔۔
اسکا جسم پسینے میں بھیگ گیا تھا ۔۔۔ اسنے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ لیے۔۔ وہ اپنے وجود اختیار کھو چکی تھی۔۔عشق اس پر غالب آگیا تھا۔۔۔وہ بے بس تھی۔۔ اتنی بے بس کہ اسے کسی بات کا احساس نہیں رہا تھا۔۔۔وہ ہر بات سے عاری ہوتی جا رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان کا سال مکمل ہوچکا تھا ۔۔ داؤد نے بھی چلہ مکمل کر لیا تھا۔۔ نو مسلم ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ رعایت برتی گئی تھی۔۔ اسے پہلی دفعہ میں ہی حنان کے ساتھ چلہ لگانے کی اجازت مل گئی تھی۔۔وہ اسلام کی تمام باتوں کے علاوہ ابتدائی بیس صورتیں بھی حفظ کر چکا تھا۔۔
حنان پیکنگ کر رہا تھا۔۔ اور وہ خالی نظروں سے اسے تک رہا تھا۔۔۔
کیا سوچ رہے ہو؟
کچھ نہیں بس تمہارے جانے کا سوچ رہا تھا۔۔
کیوں ؟
حنان اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
تمہارا سال مکمل ہو چکا ہے۔۔۔ تمہیں گھر جانا ہے۔۔ میں بھی واپس برلن چلا جاؤں گا۔۔ ہمارا ساتھ ختم ہونے والا ہے۔۔
اسکے لہجے میں افسردگی در آئی۔۔
میرے ساتھ چلوگے؟
حنان نے پیار سے پوچھا۔۔
کہاں۔۔؟
اس نے حیرت سے اسے دیکھا
میرے گھر۔۔۔۔ استنبول۔۔۔ ترکی۔۔
حنان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔
ترکی ۔۔؟؟
داؤد نے زیر لب دہرایا۔۔ بہت کچھ یاد آیا تھا۔۔ دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔
وہ بھی ترکی میں رہتی ہے۔۔
اس نے خود کلامی کی۔۔
چلوگے؟ میں اپنے امی ابو سے ملواؤں گا۔۔
حنان کا لہجہ محبت سے چور تھا۔۔
ہاں چلوں گا۔۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بول اٹھا۔۔۔اسکی اگلی منزل اب اس نقب پوش لڑکی کا شہر تھا۔۔
وہ اسکے ساتھ ترکی چلا آیا تھا۔۔حنان کے گھر والوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔حنان کی والدہ حنان سے ملتے ہوئے رو پڑی تھیں۔۔اسکے والد کی آنکھیں بھی نم تھیں۔۔ داؤد کو بے اختیار جین یاد آگئی جسے وہ برلن چھوڑ آیا تھا۔۔اس نے سر جھٹک کر اپنے آپ کو حال میں لانے کی کوشش کی۔۔ حنان کی والدہ اس سے بہت محبت سے ملیں۔۔ اسکے والد بھی شفقت سے پیش آئے تھے۔۔
کچھ دیر بیٹھ کر حلیمہ بیگم نے کھانا لگا دیا۔۔ عربی ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا داؤد کا پہلا تجربہ تھا ۔۔
امی یہ گھر کی سیٹنگ کس نے کی ہے؟
حنان پوچھ رہا تھا۔۔
میری ایک بیٹی نے
انہوں نے کھانا کھاتے ہوئے کہا۔۔داؤد انے کے ساتھ بیٹھا تیز مرچوں والی بیریانی سے انصاف کر رہا تھا۔۔
کس بیٹی نے ؟
حنان حیران ہوا۔۔
قمر ذیشان نے۔۔
بڑا اچھا ٹیسٹ ہے اسکا۔
حنان نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے داد دی
خود بھی بہت اچھی ہے۔۔ چاہو تو اسی ٹیسٹ کی عادت ڈال لو۔۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ حنان کو اچھو لگ گیا۔۔
امی۔۔
حنان نے انہیں حیرت سے دیکھا۔۔
واؤ حنان تم بلش کر رہے ہو ۔۔ آنٹی نے کیا کہا ہے تم سے۔۔
داؤد نے انگلش میں پوچھا ۔۔ اسے انکی زبان نہیں آتی تھی۔۔ حنان گڑ بڑا گیا۔۔
اسکی شادی کرنے والی ہیں۔۔
حنان کے والد نے داؤد سے کہا۔۔ حنان سرخ پڑ گیا تھا
واؤ۔۔ کب ہے؟
داؤد نے بے تابی سے پوچھا۔۔
ابی تو بات کی ہے تو یہ حال ہو رہا پتہ نہیں کرنے لگیں گے تو کیا بنے گا۔۔
افضال صاحب کی بات پر وہ سب کھلکلا کر ہنس پڑے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے رم پاشا میں کھڑا تھا۔۔ آنٹی اسکا کمرہ اسے دیکھا کر چلی گئی تھیں۔۔ وہ بالکونی میں آکر ماحول دیکھنے لگا۔۔رہائشی علاقہ ہونے کی وجہ سے زیادہ چہل پہل نہیں تھی۔۔ ارد گرد اپارٹمنٹ ہی تھے۔۔۔ بالکونی سے سمندر نظر آرہا تھا اور اسکے دوسرے کنارے پر سبزے کے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کا سلسلہ۔۔
اس نے ریلنگ پر ہاتھ ٹکا دیے۔۔ رات کے اندھیرے میں اسکی کلائی میں پڑی بریسلیٹ چمکنے لگی تھی۔۔اس نے بریسلیٹ ہاتھ میں پکڑ لی۔۔
وہ ترکی میں کھڑا تھا۔۔۔ استنبول میں۔۔ اشک کے شہر میں۔۔ وہ وہیں تھی۔۔۔ وہیں کہیں۔۔ اس سے دور یا پاس۔۔
کیا اسکو کبی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کبی ترکی آیا تھا؟
کیا وہ جان سکے گی وہ واقعی داؤد بن چکا ہے؟
اس نے گہری سانس لے کر سو چا۔۔
تم سوئے نہیں؟
حنان نے اسکے پیچھے آکر پوچھا تو وہ چونکا۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا وہ قہوے کی پیالیاں لیے کھڑا تھا۔۔
نہیں تمہارا شہر دیکھ رہا تھا۔۔ بہت خوبصورت ہے۔۔
وہ تو ہے میرا استنبول۔۔
حنان نے فخر سے کہا۔۔داؤد اسکے ہاتھ سے پیالی لیکر زمین پر ہی بیٹھ گیا۔۔بریسلیٹ اسکے ہاتھ میں ہی تھی۔۔
یہ بریسلیٹ لڑکیوں والی نہیں ؟ تمہاری ہے کیا؟
حنان نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
نہیں یہ میری نہیں ہے۔۔ ایک لڑکی کی ہے۔۔ مسلم لڑکی کی۔۔
داؤد بریسلیٹ دوبارہ پہن رہا تھا۔۔
مسلم لڑکی کی؟ تمہارے پاس کہاں سے آگئ۔۔۔؟
حنان نے چونک کر سوال کیا
اسکی رہ گئی تھی میرے پاس۔۔
تو تم نے واپس نہیں کی۔۔
مو قع ہی نہیں ملا۔۔ وہ چلی گئی ۔۔ اور میں تمہارے پاس آگیا
وہ انگلی سے اپنی کلائی میں بریسلیٹ گھماتے ہوئے بولا۔۔ اس میں اسکا لمس تھا ۔۔ اسکے پاس ہونے کا احساس
تو تم اسکی وجہ سے مسلمان ہوئے ہو؟
داؤد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ حنا ن نے رشک سے اس لڑکی کے بارے میں سوچا۔۔
کیا نام تھا اسکا؟
اشک۔۔
داؤد کے لبوں سے پھسلا۔۔اسنے بریلیٹ گھمانا بند کر دی
کہاں ہے وہ؟
حنان نے قہوے کی پیالی ختم کردی تھی۔۔
یہیں ہے۔۔
یہاں کہاں
حنان نے ایسے دیکھا جیسے وہ کمرے میں ہو۔۔ داؤد کہ اسکے انداز پر ھنسی آگئی۔۔
میرا مطلب ہے ترکی میں۔
اوہ اچھا ۔۔ اسکا کوئی کانٹیکٹ وغیرہ۔۔
داؤد نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔
تو تم اسے سے ملے کیسے اور اسلام کی طرف کیسے آئے۔۔؟
حنان نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
پچھلے سال وہ فلائٹ میں میرے ساتھ تھی۔۔ ہماری فلائٹ کو حادثہ پیش آگیا۔۔ جسکی وجہ سے ہمیں باکو اترنا پڑا۔۔
وہ بولتا جا رہا تھا۔۔ حنان خاموشی سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔۔بریسلیٹ چمکرہی تھی۔۔ قہوے کی پیالی سے بھاپ آرنی بند ہوگئی تھی۔۔
اسکی قربت میں سکون تھا۔۔۔۔ وہ سکون مجھے تم تک لے آیا۔۔ پھر اسلا م سے وہ حاصل ہوگیا۔۔ لیکن وہ مجھے نہیں بھولتی۔۔کسی بھی وقت ۔ کسی بھی لمحے۔۔۔۔
اسکے لہجے میں تھکن تھی۔۔ بے پناہ تھکن۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: