Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 15

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 15

–**–**–

تم نے کل رات والی بات کے بارے میں سوچا؟
حلیمہ بیگم نے حنان سے پوچھا ۔۔ وہ سب ناشتہ کر رہے تھے۔۔
امی میں کیا سوچوں گا۔۔ آپ کو جو ٹھیک لگتا کر دیں۔۔
حنان نے مسکراہٹ دبائی ۔۔ داؤد کو اس کے انداز سے با ت سمجھ آگئی تھی۔۔
آنٹی جلدی کر دیں۔۔ میں واپس جانے سے پہلے شریک ہوجاؤں گا۔
داؤد نے کہا۔۔
ضرور بیٹا ۔۔آج کل قمر کے پیپرز ہو رہے ہیں۔۔
اسلیئے وہ نہیں آرہیں۔۔ دو تین دن تک آئیں گی تو دیکھ لینا۔۔ پھر جواب دے دینا۔۔
وہ داؤد کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ حنان کو بھی سمجھا رہی تھیں۔۔
امی اسکے لئے ڈھونڈیں کوئی لڑکی۔۔ اسے بہت شوق ہے شادی میں شرکت کا۔۔
حنان نے داؤد کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔
کیوں نہیں ۔۔ اپنے بیٹے کے لیئے بھی میں لڑکی ڈھونڈوں گی۔۔
حنان کی والدہ نے شستہ انگریزی میں کہا۔۔ داؤد کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔۔ وہ بمشکل مسکرا کر سر جھکا گیا۔۔ اسکے لیے کسی اور لڑکی کا اپنے ساتھ تصور بھی اذیت ناک تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج کافی دنوں بعد حلیمہ آنٹی کی طرف آئی تھی۔۔
مجھے لگا آپ تو ہمیں بھول ہی گئی ہیں۔۔
حلیمہ باجی نے پیار سے شکوہ کیا۔۔
ایسا کبھی نہیں ہو سکتا آنٹی۔۔بس جیسے ہی فارغ ہوئی آپکی طرف چلی آئی ۔۔
وہ انکے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔ وہ اب ترکش سٹائل میں اسے پیار کر رہی تھیں۔۔
آپ کو پتہ ہے آنٹی میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔
وہ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
اچھا اور پیپرس کیسے ہوئے؟
وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔ جواب میں وہ انہیں اپنی بارہ دنوں کی کارگزاری سنانا شروع ہوچکی تھی۔۔قرآن کلاسز کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے وہ انکے پاس اکیلی تھی۔۔ اسلیئے جی بھر کر باتیں کر رہی تھی۔۔
تقریبا ڈیرھ گھنٹے بعد وہ جانے کے لیئے اٹھی۔۔حلیمہ باجی اسے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔۔
وہ دروازے پر جوتی پہن رہی تھی کہ قرآن پاک کی آواز سن کر ٹھٹک گئی۔۔ کوئی بہت خوبصورت آواز میں قرآن پڑ رھا تھا۔۔
آنٹی یہ تلاوت کون کر رہا ہے؟
اس نے بے اختیار ہی پوچھ لیا۔۔
میرا بیٹا۔۔
انہوں نے جواب دیا۔۔ اسنے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔۔وہ سلام کر کے باہر نکل آئی۔۔
وہ آواز کتنی جانی پہچانی تھی۔۔ دل میں اترتی ہوئی۔۔ جیسے وہ اسے ہمیشہ سے سئننے کی عادی ہو
ہوا تیز چل رہی تھی۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا تی اپنے بلاک کی طرف چل دی ۔۔
تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے۔۔
ہاں میرے دوست کہتے ہیں میری آواز میسمرائزنگ ہے۔۔
اسکے کانوں میں اسی آواز کا جملہ گونجا تھا۔۔وہ حلیمہ باجی کے پاس گئی تھی تو بہت خوش اور فریش تھی۔۔ اب اچانک وہ بجھ گئی تھی۔۔گھر پہنچنے تک بوندا باندی شروع ہوگئی تھی۔۔ اسکو بارش بہت پسند تھی۔۔ لیکن اس وقت اسکے وجود کو یاسیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔۔ اسکا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔۔ ہر شئے جیسے اپنی کشش کھو چکی تھی۔۔ وہ گھر آکر کمرے میں بند ہوگئی۔۔اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے دیکھ لڑکی؟
کونسی لڑکی؟
حنان نے اچھنبے سے کہا۔۔
وہ پرپل عبائے والی۔
حلیمہ بیگم بولیں۔۔
جی دیکھی تھی۔
حنان نے اعتراف کیا۔۔
کیسی لگی؟
اب کی بار داؤد نے پوچھا۔۔
اچھی ہے۔۔
حنان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے سر جھکایا۔۔وہ تینوں اسکے تاثرات دیکھتے ہوئے ہنس پڑے۔۔
اب تو ذیشان صاحب سے کل ہی بات کرنی پڑے گی۔۔
افضال صاحب اسے چھیڑ رہے تھے۔۔حنان سرخ پڑ رہا تھا۔۔
تم کب تک رک سکتے ہو داؤد؟
جی میں تو جانا چاہ رہا تھا۔۔ حنان کا اصرار تھا رمضان آپ لوگوں کے ساتھ گزار کر جاؤں۔۔
داؤد کچھ جھجکتے ہوئے بولا۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔ اپنے بھائی کی منگنی میں شرکت کر کے جانا۔۔
انہوں نے خوشی سے کہا۔۔
جی ضرور۔۔
وہ حنان کی دیکھ کر بولا تو وہ دونوں مسکرا دیے۔۔وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر تین ٹائم کھانا کھا رہا تھا۔۔ اسے یاد نہیں تھا کہ اس نے جین اور کارلس کے ساتھ کب ایک وقت سے زیادہ کا کھانا کھایا ہو۔۔ وہ لوگ عموما ڈنر کسی ہوٹل میں کرتے تھے۔۔ اس نے دیکھا حلیمہ آنٹی حنان کی پلیٹ میں کباب رکھ رہی تھیں۔۔ اسے دینے کے بعد انہوں نے داؤد کی پلیٹ میں بھی رکھ دیا۔۔وہ ان کی محبت پر جھوم اٹھا۔۔ ان کے چہرے پر ممتا کے رنگ پھیلے دیکھ کر اسے جین یاد آئی تھی۔۔ افضال صاحب اور حنان باتوں میں لگے ہوئے تھے۔۔وہ اٹھ کر کمرے میں چلا آیا۔۔
اس نے اپنا موبائل آن کیا۔۔ اس پر جین اور کارلس کے کئی میسجز آئے ہوئے تھے۔۔کال لوگ بھی بھرا ہوا تھا۔۔ اسکا دل کیا وہ ایک بات ان سے بات کرلے ۔۔ ان کی آواز سن لے ۔۔۔
اس نے بغیر پڑھے سارے میسجز ڈیلیٹ کر دیے۔۔اس نے موبائل دوبارہ آف کر دیا۔۔ وہ اپنی پچھلی زندگی سے جڑی ہر چیز چھوڑنے کا عہد کر چکا تھا۔۔ وہ بھول رہا تھا خون کے رشتے کبھی نہیں چھوڑے جا سکتے۔۔
اسکی آنکھوں کے سامنے حلیمہ بیگم کا چہرہ آگیا۔۔ انکے چہرے پر بلکل ویسے رنگ تھے جیسے جین کے چہرے پر ہوتا تھا۔۔مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔ انداز الگ ہوتا بس۔۔ورنہ ممتا سب میں ایک رنگ کی ہوتی۔۔
اسے اپنے گالوں پر نمی کا احساس ہوا ۔۔ وہ رہ رہا تھا۔۔ اس نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں۔۔اسے پچھتانا نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمضان شروع ہو چکا تھا۔۔ یہ اسکا پہلا رمضان تھا۔۔ یہاں کی رونقیں نرالی تھیں۔۔ یہاں کی رونقیں نرالی تھیں۔۔ یہاں ایک ہی وقت میں پورے ترکی میں اذان ہوتی تھی ۔۔فرقہ واریت نہیں تھی۔۔ سب لوگ ایک مسجد میں نماز پرھتے تھے۔۔ دیوبندی بریلوی کا جھگڑا نہیں تھا۔۔۔ وہ بہت شوق سے روزے رکھ رہا تھا۔۔
اشک بھی کافی مسروف ہوچکی تھی۔۔ دن میں قرآن پاک پڑھتے ٹائم گزرنے کا پتہ نہیں چلتا تھا۔۔ افطاری کے بعد وہ حلیمہ باجی کی طرف چلی آتی۔۔کچھ اور خواتین اور لڑکیاں بھی آجاتیں۔۔ وہ سب مل کر تراویح پڑھتیں۔۔ اس کے بعد مختصر درس ہوتا تھا۔۔اس ٹئم چونکہ سب مرد مسجد گئے ہوتے تھے اسلیئے وہ اطمینان سے نماز ادا کر لیتی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا آپ سے افضال صاحب کی اہلیہ نے کوئی بات کی۔۔
تقربا آخری عشرہ شروع ہو رہا تھا جب افطاری میں ذیشان صاحب نے سوال کیا۔۔
نہیں بابا۔۔ کس بارے میں؟
وہ پکوڑوں پر ہاتھ صاف کر رہی تھی۔۔
انہوں نے اپنے بیٹے کا رشتہ دیا ہے آپ کے لئے۔۔ آپ ان لوگوں سے اٹیچ بھی ہو اور وہ بھی قدر کرنے والے لوگ ہیں۔۔
وہ وضاحت دے رہے تھے۔۔ اسکو سمجھ نہیں آئی وہ اسے بتا رہے ہیں یا پوچھ رہے ہیں
جی بابا۔۔
اسے اور کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا بولے تو جی کہہ کر خاموش ہوگئی۔۔بھوک ایک دم مر گئی تھی۔۔ وہ اب ذیشان صاحب کے انتظار میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ مغرب پڑھنے چلے گئے۔۔ وہ خالی الذہن سے اٹھ کر سارے برتن کچن میں رکھنے چلی آئی۔۔
مجھے انکار کر دینا چایئے تھا۔۔
لیکن کیوں؟
وہ وجہ پوچھتے ۔۔۔ کیا وجہ تھی میرے پاس۔۔؟
وہ خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔
وجہ تو کوئی بھی نہیں تھی۔۔
پھر انکار کرنا کیوں چاہتی ہوں۔۔
وہ کمرے میں آکر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔
پتہ نہیں۔۔
آنٹی حلیمہ کا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔۔پھر بابا کا اور پھر داؤد کا۔۔۔
اس نے اپنے خیالات سے نظریں چرانے کی کوشش کی۔۔ وہ بابا کو منع کرنا چاہتی تھی۔۔ اسے حلیمہ آنٹی کے بیٹے سے شادی نہیں کرنی تھی۔۔
اسے بابا کو بتانا تھا کہ مشرقی لڑکی کی ہر خاموشی اقرار نہیں ہوتی۔۔۔ بعض دفعہ اسکی خاموشی میں ٹوٹے ہوئے ارمانوں کی کی چیخیں ہوتی ہیں۔۔
وہ اٹھ کر شاور لینے چلی گئی ۔۔۔ اسکے ذہن میں اتنے خیا لات شور مچا رہے تھے کہ اسے لگ رہا تھا اسکا سر پھٹ جائے گا۔۔وہ شاور چلا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔ اسکی پلکوں پر آنسو مچلنے لگے تھے۔۔وہ کتنی ہی دیر شاور کے نیچے کھڑی رہی۔۔ وہ کپڑوں سمیت ہی پانی کے نیچے کھڑی تھی۔۔۔وہ حلیمہ باجی کے گھر بھی نہیں جا سکی۔۔۔
رات کو وہ تھجد کی نماز پرھنے بیٹھی تو بہت بے چین تھی۔۔ اسے رب سے مانگنے کا سلیقہ آتا تھا لیکن وہ کیا منگے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔اسے ہمیشہ سے ایسے ہمسفر کی خواہش تھی جہ ہتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جائے۔۔۔۔اب وہ مل گیا تھا لیکن وہ خوش نہیں تھی
اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لیے۔۔وہ کچھ نہیں مانگ رہی تھی بس اپنے ہاتھوں کو تکے جا رہی تھی۔۔۔دینے والا دلوں کے حال جانتا ہے۔۔ اسے لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔لفظ تو بس ہماری عاجزی ظاہر کرتے ہیں۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اسکی زندگی کا پہلا رمضان تھا۔۔ وہ بہت خوش تھا۔ صبح سب کے ساتھ سحری کرنا۔۔ قرآن پاک پڑھنا۔۔شام کو مل کر افطاری کرنا اور تراویح پڑھنا۔۔ اسکو رمضان کی فضائیں ہی بدلی بدلی لگ رہی تھیں۔۔حنان کا حلقہ احبا بہت وسیع تھا وہ اسے نو مسلم ہونے کی وجہ سے بہت عزت دیتے تھے۔۔ وہاں کے لوگ مجموعی طور پر محبت کرنے والے تھے۔۔زیادہ تر لوگ اس سے قبول اسلام کا واقعہ سننا چاہتے تھے۔۔ یہاں آکر وہ لا جواب ہوجاتا تھا اسے کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی۔۔ آخری عشرے میں وہ ضد کر کے اعتکاف بیٹھا ۔۔ حنان کا خیال تھا کہ وہ پریشان ہوگا لیکن اس کے برعکس اس نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔وہ اسلام کو پورا پورا اپنے عمل میں لانا چاہتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی ۔۔۔ اس بات کو ذیشان صاحب کے علاوہ حلیمہ باجی وہاں موجود لڑکیوں اور خواتین نے بھی نوٹ کیا تھا۔۔۔ اسے ایک افسردہ سی چپ لگ گئی تھی۔۔ عید قریب تھی۔۔ ذیشان صاحب نے اسے ساتھ لے جا کر ساری شاپنگ کروا دی تھی۔۔اسکا کچھ لینے کا موڈ نہیں تھا لیکن ان کے اصرار پر وہ انکے ساتھ چلی آئی ۔۔کانچ کی چوڑیاں واحد چیز تھی جو اس نے اپنی پسند سے لی تھیں۔۔ ذیشان صاحب چاہتے تھے وہ اچھی طرح ساری خریداری کر لے تاکہ عید کے بعد نکاح میں اسے کہی مسلہ نہ ہو۔۔اس نے بد دلی سے کپڑے خریدے۔۔ چوڑیوں کے علاوہ اس نے اپنے شوق سے دہوسری چیز عبایا لیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند رات کو خاص اہتمام تھا ۔۔ اسے محسوس ہوا جیسے ہوائیں ہی بد ل گئی ہوں۔۔ فضا میں کچھ تھا جو رمضان کے ساتھ ہی چلا گیا تھا۔۔ سب لوگ ایک دوسرے کو مل رہے تھے ۔۔ مبارکباد دے رہے تھے۔۔ آج ان کے انعام کی رات تھی۔۔ انہیں اپنے پورے مہینے کی عبادات کا صلہ ملنا تھا۔۔ خوشی ان کے چہروں سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔۔
اگلی صبح اس نے زندگی میں پہلی دفعہ پینٹ شرٹ کے علاوہ لباس پہنا تھا۔۔سفید کرتا شلوار اس پر بہت جچ رہا تھا۔۔
ماشاٰءاللہ میرے بچے کو نظر نہ لگے۔۔
حلیمہ آنٹی نے اسے دیکھ کر بے اختیار کہا۔۔حنان بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔ ان دونوں کے ایک جیسے کپڑے تھے۔۔افضال صاحب ان دونوں کو ساتھ لیکر مسجد چلے گئے۔۔
کاش وہ بھی اسے دیکھ سکتی۔۔
اس کے دل میں ہوک اٹھی۔۔وہ مسجد پہنچا تو مسجد بھری ہوئی تھی۔۔ ایک عجیب سی خوشی ان کے چہروں پر تھی انہوں نے پورا مہینہ اپنے رب کی بندگی میں گزارا تھا۔۔ نہ کوئی ڈھول تھا۔ نہ میوزک نا ڈانس ۔۔ نہ کچھ اور پھر بھی وہ سب خوش تھے۔۔ انجوائے کر رہے تھے۔۔ اتنا باوقار تہوار اس نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔۔
آؤ داؤد میں تمہیں حنان کے سسر سے ملاتا ہوں۔۔
افضال صاحب نے اسے کہا تو وہ انکے ساتھ چل پڑا ۔۔
عید مبارک۔۔
افضال صاحب سیدھا جا کر ان کے گلے لگے۔۔ وہ گرمجوشی سے مل رہے تھے انکی دوستی ان کے انداز سے ظاہر تھی۔۔۔وہ اب حنان سے مل رہے تھے۔۔
ان سے ملیں ۔ یہ میرے بیٹے داؤد ہیں۔۔
افضآل صاحب نے اسکا تعارف کروایا۔۔
عید مبارک بیٹا۔۔
وہ اسے گلے ملتے ہوئے بولے۔۔ وہ مسکرا دیا اسے خیر مبارک کہنا نہیں آیا تھا۔۔
یہ جر من ہیں اور نو مسلم ہیں۔۔
ماشاءاللہ۔۔ ویلکم ان اسلام۔۔
ان کے لہجے میں ستائش تھی۔۔ وہ اونچے قد کا اخروٹی بالوں والا نوجوان تھا۔۔
تھینک یو انکل۔۔
آپ سب میرے گھر آئیں۔۔ عید کی شام اکٹھے منائیں گے۔۔
انہوں نے دعوت دی۔۔
ارے ہم کہاں اتنے سارے لوگ آئیں گے۔۔ آپ تشریف لائیں۔۔
حنان نے فورا کہا۔۔
میری بیٹی تو روز ہی آپکی طرف ہوتی ہے۔۔ اب آپ کے لیے دعوت ہے ۔۔
ذیشان صاحب نے اصرار کیا۔۔
چلیں انشاءللہ چکر لگائیں گے۔۔
افضال صاحب نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔۔
داؤد نے حنان کو کہنی ماری۔۔ جواب میں وہ اسے آنکھیں دکھا کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حلیمہ آنٹی کو عید مل کر اور کھیر دے کر واپس آرہی تھی۔۔ اس نے لفٹ کا بٹن دبایا۔۔ تھوڑی دیر میں لفٹ اوپر آنے کی لائٹ جلنے لگی۔۔
دروازہ کھلا تو اندر سے افضال صاحب نکلے۔۔ ان کے پیچھے دو نوجوان تھے۔۔
السلام علیکم انکل۔۔۔۔
اس نے خوشدلی سے کہا۔۔
وعلیکم السلام۔۔عید مبارک بیٹا۔۔
انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔
ایاک۔۔
اس نے جواب دیا۔۔
گھر جا رہے ہو بیٹا۔۔
جی انکل کھیر دینے آئی تھی۔۔
خیریت سے جاؤ۔۔
وہ انہیں سلام کر کے آگے بڑھ آئی۔۔ انکے پیچھے کھڑے دو لڑکوں میں سے ایک سے اسکی شادی ہونے والی تھی۔۔وہ ان پر نظر ڈالے بغیر لفٹ میں چلی گئی۔۔اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
افضال صاحب نے مڑ کر دیکھا۔ وہ دونوں سے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔۔
چلو بوائز ۔۔ چلی گئی ہے وہ۔۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔۔وہ دونوں چونکے۔۔
حنان نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔ وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوگئے۔۔ حنان نے داؤد کی طرف دیکھا۔۔وہ سکتے کی کیفیت میں تھا۔۔ اسکا چہرا ایسا تھا جیسے کسی نے اسکا خون نچوڑ لیا ہو۔۔
داؤد۔۔
حنان نے اسے پکارا۔۔
ہہ۔۔ہاں
وہ جیسے خواب سے جاگا ۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں؟
حنان نے پریشانی سے پوچھا۔۔
مم۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔
وہ جیسے گھبرا گیا۔۔ وہ آنکھیں۔۔۔ وہ آواز۔۔۔ وہ کیسے بھول سکتا تھا۔۔وہ وہی تھی۔۔ اشک۔۔ اسکی اشک۔۔ بس وہ گاؤن وہ نہیں تھا۔۔وہ حنان کو جواب دیے بغیر پلٹ سیڑھیوں سے نیچے بھاگا۔۔حنان اسے آوازیں دیتا رہ گیا۔۔وہ اپنی زندگی کے پیچھے بھاگ اٹھا تھا۔۔ اسےآج نہیں رکنا تھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: