Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 2

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 2

–**–**–

۔۔اسنے ادھر ادھر دیکھا اسے وہ جہاز والا لڑکا نظر آیا وہ فون پر بات کر رہا تھا۔۔وہ اسکی طرف بڑھی کہ اسے ایک عورت نظر آئی۔۔حلیے سے وہ پاکستانی لگتی تھی۔۔اسکے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا۔۔
السلام علیکم
اس نے سلام کیا۔جوابا سر ہلا دیا گیا۔۔
آنٹی کیا آپ ایک منٹ کے لیے اپنا موبائل دے سکتی ہیں؟؟
کیوں؟
۔۔بے رخی سے جواب ملا
وہ میں اپنے گھر اطلاع کرنا چاہتی تھی۔۔
اسنے جھجکتے ہوئے کہا۔۔
میری سم نہیں چل رہی۔۔
پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب ملا۔۔ وہ کڑھتی ہوئی واپس اپنی جگہ پر آگئی۔۔اسے پریشانی ہو رہی تھی۔۔ اسکے پاس باکو کی کرنسی بھی نہیں تھی ورنہ فون بوتھ سے کال کر لیتی۔۔
کیا آپ اپنے گھر کال کرنا چاہیں گی۔؟
ڈیوڈ نے اسکے پاس آکر کہا۔۔وہ اسکو اس عورت سے موبائل مانگتا دیکھ چکا تھا۔۔عام حالات میں وہ کبھی نہ لیتی لیکن اس وقت اسے واقعی ضرورت تھی۔۔
یہ لیں کال کر لیں۔۔
اسکو شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر ڈیوڈ نے فون آگے بڑھایا۔۔
تھینک یو۔۔
اسنے تشکر سے اسے دیکھتے ہوئے موبائل پکڑ لیا۔۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں ہمیں کتنی دیر رکنا ہے یہاں۔۔؟؟
ڈیوڈ خوشی سے جھوم اٹھا وہ کب سے اس انتظارمیں تھا کہ وہ لڑکی اس سے کوئی بات کر لے۔۔
جی۔ہمارا جہاز کافی ڈیمج ہوا ہے۔۔ اسلئے کمپنی کسی دوسری فلائٹ کا انتظام کرےگی۔۔
اس میں کتنا ٹائم لگے گا۔۔؟؟
شاید اڑتالیس گھنٹے۔۔۔
کیا۔؟؟
وہ مارے گھبراہٹ کے کھڑی ہوگئی۔۔اسکی پریشانی میں اضافہ ہوگیا تھا۔۔
مطلب کہ 2 دن۔۔
جی میں نے پتہ کیا ہے تھوڑی دیر میں ہمیں ہوٹل بھیج دیا جائے گا۔۔
ڈیوڈ نے تفصیل بتائی۔۔
تو خرچ وغیرہ۔۔
وہ کمپنی برداشت کرےگی۔۔
وہ دھم سے بیٹھ گئی۔۔ دو دن انجان ملک میں تنہا رہنے کا خیال ہی سوہان روح تھا۔۔ وہ اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔
آپ فون کرلیں۔
۔ ڈیوڈ نے کہا تو وہ خالی نظروں سے اسے تکے گئی۔۔
میڈم۔۔
یہ۔۔یس۔۔
۔وہ چونکی۔۔
فون نہیں کرینگی آپ۔؟
ڈیوڈ نے نے کہا تو وہ نمبر ملانے لگی۔۔ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔ڈیوڈ کو وہ بلکل معصوم سی لگی۔۔ کسی بچی کی طرح ڈری ہوئی۔۔ وہ اب فون پر بات کر رہی تھی۔۔ اردو بولنے کی وجہ سے ڈیوڈ کو کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔ لیکن پتہ لگ رہا تھا کہ وہ اپنی صورتحال بیان کر رہی تھی۔۔ وہ اسکی طرف دیکھتا رہا۔۔ نقاب کے باوجود اس میں عجیب سی کشش تھی۔۔
دادو کو کال کر کے اسنے ساری بات بتائی تو اسے سکون ہوا۔۔ دادو نے کافی حوصلہ دیا تھا۔۔اسنے فوں بند کر کے اس لڑکے کی طرف بڑھا یا۔۔ ڈیوڈ نے مسکرا کر لے لیا۔۔
میں ڈیوڈ ہوں۔۔
ڈیوڈ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔ وہ ویسے ہی بیٹھی رہی۔۔ ڈیوڈ نے پریشانی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔اسے اس لڑکی کی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔
میں اشک۔۔۔۔ اشک قمر
وہ جواب دے کر رخ موڑ گئی۔۔
اشک۔۔ سننے میں اچھا لگتا ہے۔۔
ڈیوڈ نے کہا تو وہ رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
اور داؤد بھی۔۔
وہ آہستگی سے بولی۔۔
داؤد نہیں ڈیوڈ۔۔ میرا نام ڈیوڈ ہے۔۔
ڈیوڈ نے تصیح کرنی چاہی۔۔ اسے لگا وہ مسکرائی ہے۔
۔ڈیوڈ اصل میں داؤد سے ہی بنا ہے۔۔ اور میں پیغمبروں کے نام نہیں بگاڑتی۔۔
اشک نے رسان سے کہا۔۔
داؤد ۔۔ پیغمبر۔۔
وہ نا سمجھی سے بولا۔
فلائٹ کےپسنجرز کو ہوٹل لے جانے والی بسیں آچکی ہیں۔۔
انہوں نے کسی کو کہتے سنا۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ ac9038#
وہ دونوں آگے پیچھے بس میں داخل ہوئے۔۔ہوٹل پہنچ کر کچھ ضروری کاروائی کے بعد انہیں کمروں میں بھیج دیا گیا۔۔انہیں ایک ہی منزل پر کمرے دیے گئے تھے۔۔کمرے میں آکر اس نے دروازہ اچھی طرح لاک کیا اور نہانے چلی گئی۔۔۔ وہ نہا کر آئی تو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔ اسکی کئی نمازیں رہ گئیں تھی ۔۔ جائےنماز نہ ہونے کی وجہ سے اسے چادر بچھاکر نماز پڑھنی پڑی۔۔
نماز پڑھ کر اسے سکون ہوا۔۔ اسکے حواس بحال ہوئے ورنہ موت کے اتنے قریب سے گزرنے کے بعد اس پر مسلسل کپکپی طاری تھی۔۔نماز پڑھ کر اسنے کھڑکیاں کھول کر دیکھا ۔۔ وہ حیات ریجنسی میں کھڑی تھی۔۔ سامنے کیسپئن سی(بحیرۃ قزین) ہلکورے لے رہا تھا۔۔باکو کے باشندے اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے۔۔اسنے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے کبھی اسطرح اکیلے کسی شہر میں رہنا پڑے گا۔۔ وہ تھوڑا خوش ہوگئی۔۔ اسے ایڈونچرپسند تھے۔۔
وہ کافی دیر کھڑکی کھول کر کھڑی رہی۔۔پھر تھک کر بیڈ پر آلیٹی ۔۔آج کا دن خوف اور تھکاوٹ سے بھر پور تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاوڈ۔۔داؤڈ۔۔اشک۔۔
ڈیوڈ نے اشک کے لہجے میں اپنا نام بولنے کی کوشش کی۔۔اسے وہ نام اچھا لگا تھا۔۔اور وہ بے چہرہ لڑکی بھی۔۔ڈری ڈری سی۔۔ وہ مسلم تھی لیکن اتنی بھی ڈراؤنی نہیں تھی۔۔اس میں کشش تھی۔۔اس سے وحشت نہیں ہوتی تھی۔۔
اور اسکی آنکھیں۔۔ سیاہ رات جیسی۔۔پانیوں سے بھری ہوئی۔۔میک اپ اور مصنوعی پلکوں سے پاک۔۔ بہت خوبصورت تھیں۔عجیب بات تھی کہ اتنے ہنگامے میں بھی اسکا چہرہ نظر نہیں آیا تھا۔۔وہ اسکے بارے میں سوچتا سوچتا نہجانے کب سوگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشک کی آنکھ صبح انٹرکام کی بیل سے کھلی۔۔ ہوٹل والے ناشتے کے لیے بلا رہے تھے۔۔اس نے اٹھ کر دیکھا تو باکو کا دن چڑھ چکا تھا۔۔ اسے افسوس ہوا اسکی فجر کی نماز رہ گئی تھی۔۔ وہ نماز قضا کر کے نیچے اتری تو نروس ہوگئی۔۔عبائے والی وہ وہاں اکیلی تھی۔۔ خود کو مضبوط کرتے ہوئے وہ کاؤنٹر پر آگئی۔۔وہ ٹرے لیکر مڑی تو تقریبا ساری میزیں بھر چکی تھیں۔اسکو سمجھ نہیں آرہی تھی کہاں بیٹھے۔۔وہ آگے بڑھی تو اسے ڈیوڈ نظر آیا۔۔ اسکے ساتھ کوئی بیٹھا تھا جو اٹھ کر جا ہی رہا تھا۔۔ اسکے سامنے والی ٹیبل پر لڑکیوں کا گروپ بیٹھا تھا ان کے ساتھ ایک کرسی خالی تھی۔۔
آئیں اشک۔۔
وہ اسے دیکھ کے کھل اٹھا۔۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی طرف بڑھ گئی۔۔
میں سمجھا آپ نہیں آئیںگی۔۔
وہ خوشی سے بولا۔۔اشک نے حیرت سے دیکھا۔۔ وہ کیوں اس سے اتنا فری ہورہا تھا۔۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ۔۔؟؟
وہ چاہتا تھا وہ اس سے بات کرے۔۔ وہ اسکے پاس خاموش نہیں بیٹھنا چاہتا تھا۔۔
اچھا۔۔
وہ مختصر جواب دیکر کھانے میں مگن ہوگئی۔۔وہ اسے دیکھنے لگا۔۔ وہ آرام سے ناشتہ کر رہی تھی۔۔ وہ حیرانی سے اسے تکتا رہا۔۔ اشک نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔ اسے الجھن ہو رہی تھی۔۔
۔ اوہ سوری۔
وہ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر گڑبڑا گیا۔۔
وہ میں دیکھ رہا تھا کہ آپ کھا کیسے رہی ہیں۔۔؟؟
کیوں؟؟
اشک نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
وہ مجھے سمجھ نہیں آرہا آپکا منہ کہاں ہے اور نوالہ جا کہاں رہا ہے۔۔
ڈیوڈ نے پریشانی سے کہا۔۔اشک کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
ہاہاہاہا۔۔ آپ واقعی یہ سوچ رہے۔۔؟؟
ڈیوڈ نے ہونقوں کی طرح سر ہلا دیا۔۔
میرا منہ اس نقا ب کے پیچھے ہے اور نوالہ بھی اسی میں جا رہا۔۔
وہ ھنستے ہوئے بولی۔۔
آپ یہ کیوں پہنتی ہیں۔۔؟؟
کیونکہ یہ میرے اللہ کا حکم ہے۔۔
کس کا حکم۔۔؟؟
اللہ کا۔۔۔
اللہ۔۔!!
ڈیوڈ نے دہرایا۔۔ اسے وہ مختلف سا لگا۔۔
کیوں حکم ہے۔۔؟؟
محبت کرنے والے کیوں نہیں پوچھتے بس اطاعت کرتے ہیں۔۔
لیکن اسکی کوئی لاجک ہونی چاہئیے۔۔
وہ مطمئن نہیں ہواتھا۔
وہ آپ دیکھ رہے۔۔
اشک نے لاؤنج سے باھر نظر آنے والی ریت کی طرف اشارہ کیا۔۔ڈیوڈ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
اگر یہ بریڈ اسمیں گر جائے اور ساتھ میں یہ بھی۔۔
اشک نے پلاسٹک ریپ کی ہوئی بریڈ کی طرف اشارہ کیا۔۔
توآپ کونسی اٹھا کر کھایئنگے۔۔؟؟؎
آف کورس ریپ والی۔۔
ڈیوڈ نے قطعیت سے کہا۔۔
تو بس یہ بھی ریپر ہے دنیا کی گندگی سے بچنے ک لیے۔۔
وہ آخری لقمہ کھا چکی تھی۔۔ ڈیوڈ گہری نظروں سے ریپ والی بریڈ کو دیکھ رہا تھا۔
اوکے میں چلتی ہوں
وہ ٹشو سے ہاتھ صآف کرتے ہوئے بولی۔۔
آپ کافی نہیں پیتی؟؟
وہ چونک کر بولا
نہیں میں چائے پیتی ہوں۔۔
تو وہ پی کر جائیےگا میں لاتا ہوں۔۔
وہ اٹھتا ہوا بولا۔۔وہ اسے کچھ دیر اور روکنا چاہتا تھا۔۔
نہیں میں خود۔۔
اشک نے کہنا چاہا۔۔لیکن وہ اٹھ کر چلا گیاتھا۔۔ آخر یہ لڑکا اتنی مہربانیاں کیوں کر رہا مجھ پر
کاش یہ مسلمان ہوجائے۔۔ اتنا اچھا بندہ جھنم میں جائے گا بغیر ہدایت کی وجہ سے۔۔ اسنے کاؤنٹر پر کھڑے ڈیوڈ کی پشت کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: