Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 3

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ چائے لیکر آیا تو وہ بحیرہ کیسپئن دیکھنے میں مگن تھی۔۔
سمنددر پسند ہے آپکو۔۔؟؟
وہ اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے بولا۔۔
ہاں بہت۔۔
اشک نے چائے کا گھونٹ بھرا
آپ چلیں گی وہاں میرے ساتھ۔۔؟؟
اسنے فورا آفر کی۔۔
نہیں میں نہیں جا سکتی۔۔
اشک نے قطعیت سے کہا۔۔
پلیز اشک۔۔
نہیں سوری۔۔
اوکے جیسے آپکی مرضی۔۔
وہ مایوس ہوا ۔۔اشک خاموشی سے چائے پینے لگی۔۔
ویسے آپ ترکی کیوں جا رہی ہیں۔۔؟؟
وہ اسکے پاس خاموش نہیں بیٹھنا چاہتا تھا۔۔
میں اپنے ڈیڈ کے پاس جا رہی ہوں۔۔
آپ ترکش ہیں؟
نہیں مام ترکش تھیں۔۔ڈیڈ پاکستانی۔۔
وہ چائے ختم کرچکی تھی۔۔
آپکا نام کس نے رکھا؟؟
وہ اٹھی تو وہ اسکے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
مام نے۔۔
کیا مطلب ہے اسکا۔؟؟۔
اسکے دو مطلب ہیں
وہ لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔ وہ بھی ساتھ ہی داخل ہو گیا۔۔
اور وہ کیا۔۔؟؟
پاکستانی مطلب ہے آنسو اور ترکش مطلب ہے روشنی۔۔
واؤ دونوں ہی بہت خوبصورت ہیں۔۔
لفٹ رک گئی تو وہ دونوں باہر نکل آئے۔۔اشک کا کمرہ پہلے آگیا تو اسنے سکون کا سانس لیا۔۔
اوکے میرا روم آگیا ہے۔۔
اسنے کارڈ لاک میں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
اوکے اپنا خیال رکھئے گ۔
اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کہ ہوٹل والوں نے اتنے قریب کمرے کیوں بنائے ہوئے تھے۔۔وہ اندر چلی گئی تووہ بھی اپنے کمرے میں آگیا۔۔اسکی باتیں بلکل نئی تھی اسکے لیے۔۔اسے اسکے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔
کاش تھوڑا وقت اور مل جاتا اسکے ساتھ۔۔
اسنے حسرت سے سوچا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آگئی۔۔ اسکو ڈیوڈ کے رویے کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔وہ پتہ نہیں کیوں اس سے اتنا فری ہو رہا تھا۔۔ویسے وہ اچھا تھا ڈیسنٹ سا۔۔
اسنے اپنا عبایا دھو کر پھیلا دیا۔۔ دوپہر تک وہ کمرے میں بند بند بوریت سے پاگل ہونے والی ہوگئی تھی۔۔
بھلا میں اسکی بات مان ہی لیتی۔۔دو دن میں تو میں پاگل ہوجاؤنگی یہاں۔۔
اس نے یا سیت سے سوچا۔
وہ ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔۔وہ خوفزدہ ہوگئی۔۔ اسنے ڈرتے ڈرتے ہول سے دیکھا ۔ ڈیوڈ کھڑا تھا۔۔اسنے دروازہ کھول دیا۔۔اسنے چادر سے خود کو ڈھکا ہوا تھا۔۔
وہ میں بیچ پر جا رہا تھا۔۔۔ ہوٹل سے اور لوگ بھی جا رہے ہیں۔۔ آپ چلنا چاہیں گی پلیزز۔۔
وہ ایک اور کوشش کرنے آیا تھا۔۔گاڈ یہ مان جائے۔۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگتا ہوا جواب کا انتظار کر رہا تھا۔۔اشک سوچ میں پڑگئی۔۔
دیکھیں آپ کو یہ موقع زندگی میں شاید دوبارہ نا لے۔۔ پلیز آجائیں۔۔
وہ اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر بولا۔۔
اچھا میں آتی ہوں۔۔ 2 منٹ۔۔
ڈیوڈ کا دل کیا خوشی سے اچھل پڑے۔۔
ٹیک یور ٹائم۔۔ میں نیچے لاؤنج میں انتظار کر لیتا ہوں۔۔
وہ مڑتے ہوئے بولا۔۔
کیا کروں جاؤں یا نہ جاؤں ۔۔
وہ ابھی بھی کشمکش میں مبتلا تھی۔۔۔
چلو چلی جاتی ہوں اور لوگ بھی تو جا رہے ہیں۔۔
اسنے سائڈ ٹیبل سے پھل کاٹنے والی چھری اٹھا کر پرس میں ڈال لی اور دعائیں پڑھ کر اپنے آپ پرپھونکتی ہوئی نیچے آگئی۔۔ڈیوڈ اسی کے انتظار میں تھا وہ کھل اٹھا۔ہوٹل سے بیچ تک کا سفر انہوں نے کیب میں کیا۔۔ باکو میں کیب عام تھی۔۔وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو ھوا میں خنکی ہونے کی وجہ سے ساحل سن باتھ لینے والوں سے پاک تھا۔۔
بحیرہ کیسپئن پر سکون تھا۔۔اسکا نیلگوں شفاف پانی دھوپ میں چمک رہا تھا۔۔ سطح پر کئ بڑے بڑے جہاز کھڑے نظر آرہے تھے۔۔ ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے ساحل پر کم ہی لوگ تھے۔۔
وااااؤ۔۔
اشک نے مبہوت ہوکر کہا۔۔ وہ بچوں کی طرح پانی کی طرف بھاگی۔۔ڈیوڈ اسکا انداز دیکھ کر ھنس پڑا۔۔ دادہ ہوتیں تو ضرور کہتیں کہ یہ لڑکی کبھی بڑی نہیں ہوگی۔۔اسنے جوتے اتار دیے وہ پانی میں پاؤں مار رہی تھی۔۔
تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ اتنی چلنگ ہو سکتی ہو۔
وہ گھٹنوں تک پانی میں کھڑا ہو کر بولا۔۔
کیوں؟؟
اشک نے جھک کر سیپ ڈھونڈتے ہوئے پوچھا۔۔
مطلب۔۔۔ جیسا تمہارا گیٹ اپ ہے۔۔
اسنے جھجکتے ہوئے کہا۔۔ اسے ڈر تھا وہ برا نہ مان جائے۔۔
یہ سب انسان کو انجوائے کرنے سے نہیں روکتا۔۔
اسنے اپنے نقاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
لیکن اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بول پڑا۔۔
تمہیں کس نے کہا۔۔؟؟
وہ سیپیاں جمع کر کے پتھروں کیطرف جاتے ہوئے بولی۔۔
سب کہتے ہیں
وہ بھی اسکے پیچھے چل دیا۔۔ بات سنجیدگی کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔
میڈیا کی دکھائی جانے والی ہر بات کو سچ نہیں ماننا چاہئے۔۔ ہر مذہب کے کچھ اصول ہوتے ہیں جنکو اسکے ماننے والے فالو کرتے ہیں اس سے اس مذہب کو شدت پسند نہیں کہا جا سکتا۔۔
وہ پتھر پر بیٹھ گئی۔۔ وہ موتیوں والی سیپیاں نہیں تھین۔۔ بلکہ گھونگھے کی طرح گول لپٹی ہوئی تھیں۔۔
لیکن آزادی ہر انسان کا حق ہے۔۔وہ جیسے مرضی زندگی گزارے ۔۔اسے اس بات کا حق ملنا چاہیے۔۔۔
وہ اسکے ساتھ پڑے پتھر پر بیٹھ گیا۔۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بحث کر رہا تھا۔۔
ہاں نا۔۔ ہر انسان کو حق ہے کہ وہ اپنی ممرضی کی زندگی گزارے۔۔ ہم نے یہ طریقہ چنا تو ہم پر تنقید کیوں؟؟
ہمیں بھی اختیا رملنا چاہئے کہ ہم جیسی مرضی زندگی گزاریں۔۔
وہ سیپ صاف کرتے ہوئے سنجید گی سے بولی۔۔ ڈیوڈ لاجواب ہوا تھا۔۔ اور متا ثر بھی۔۔وہ دونوں اب خاموشی سے سمندر دیکھ رہے تھے۔۔
مجھے نماز پڑھنی ہے۔۔
اشک نے ڈھلتے سورج کو دیکھ کر کہا۔۔
کیا پڑھنی ہے؟؟
نماز۔۔ مطلب پرے کرنی ہے گاڈ سے۔۔
اشک نے کھڑے ھوتے ہوئے کہا۔۔اسکا پرس اسکی گود سے نیچے گرگیا۔۔ وہ جھک کر اٹھا نے لگی۔۔
کہاں کروگی پرے۔۔؟
ڈیوڈ نے پوچھا۔۔
پتہ نہیں پہلے وضو تو کرلوں۔۔
وہ پانی کی طرف بڑھ گئی۔
اب وہ کیا ہے؟؟
اسے اشک کے ساتھ ہر بات نئی پتہ چل رہی تھی۔۔
دیکھ لینا۔۔
وہ چلومیں پانی بھر رہی تھی۔۔ وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔۔ اسنے منہ دھویا بازو دھوئے۔۔ ڈیوڈ کے بغور دیکھنے ک با وجود اسے سجھ نہیں آیا آخر اسنے منہ اور بازو ظاہر کیے بغیر کیسے دھو لیے تھے۔۔ ایسا لگتا تھا وہ اکثر ایسا کرتی رہتی ہے۔۔وہ اب پاؤں دھو رہی تھی۔۔
تم کیسے کرلیتی ہو یہ سب۔۔
بہت آسانی سے۔۔۔موبائل ملے گا تمہا را۔۔
ہاں یہ لو۔۔؟
ڈٰیوڈ نے موبائل نکال کر دے دیا۔۔
پاسورڈ؟؟؟
اشک۔۔
اشک جواب میں ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔
3098
وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔ اشک خاموشی سے قبلہ سرچ کرنے لگی۔
یہ لو تھینکس۔۔
وہ موبائل واپس کر کے چلدی۔۔ اسکا رخ درختوں کی طرف تھا۔۔
تم وہاں کروگی پرے۔۔؟؟
ہا ں وہ جگہ زرا سائڈ پر ہے۔۔
وہ جاتےہوئے بولی۔۔وہ اسے دیکھتا رہا۔۔ اسکی سنگت کتنی خوشگوار اور خوبصورت تھی۔۔وہ اپنے اندر ایک جہان لیے ہوئے تھی۔ڈیوڈ کا دل چاہا وہ اسے کھوجتا رہے اور زندگی بتا دے۔۔
یہ بات نہیں تھی کہ وہ کبھی لڑکیوں سے ملا نہیں تھا ۔۔اسکی پرسنیلٹی پر لڑکیاں فدا تھیں۔۔وہ کئی لڑکیوں سے مل چکا تھا وقت گزار چکا تھا۔اسکی گرل فرینڈ موجود تھی جس سے وہ شادی کرنے والا تھا۔ لیکن اشک کے ساتھ وہ الگ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ جیسے وہ اپنی مرضی سے کسی سحر میں مبتلا ہوگیا ہو اور اس سے نکلنا نہ چاہتا ہو۔
وہ نماز پڑھ رہی تھی۔خوش قسمتی سے اسے درختوں کے نیچے چادر بچھی ہوئی مل گئی تھی۔۔وہ پورا دھیا ں لگا کر نماز پڑھ رہی تھی۔۔ وہ کئی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔۔وہ جانتی تھی اسکی توجہ زرا سی بھی ادھر ادھر ہوئی تو نماز قائم نہیں رکھ سکے گی۔۔
ڈیوڈ محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔وہ صحیح نظر نہیں آرہی تھی وہ آڑ میں تھی لیکن پھر بھی وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ سلام پھیر کر اسنے دعا مانگنی شروع کردی۔۔اسکے وجود کا سکون ڈیوڈ کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس ہوا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: