Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 4

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 4

–**–**–

گزشتہ قسطوں کا خلاصہ۔۔
ڈیوڈ ایک میٹینگ کے سلسلے میں ٹوکیو گیا ہوتا ہے جہاں سے واپسی پر وہ ایک مسلم لڑکی سے ملتا ہے۔۔ اس لڑکی کا برتاؤ اسے اسمیں اور اسلام میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔ انکے جہاز کو حادثہ پیش آجاتا ہے اور انہیں باکو اترنا پڑتا ہے جھان وہ اسکے ساتھ وقت گزارنے کے لیے اسے ساحل سمندر پر لے جاتا ہے۔۔۔
اب آگے پڑھیے۔۔
ڈیوڈ محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔وہ صحیح نظر نہیں آرہی تھی وہ آڑ میں تھی لیکن پھر بھی وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ سلام پھیر کر اسنے دعا مانگنی شروع کردی۔۔اسکے وجود کا سکون ڈیوڈ کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس ہوا تھا۔۔۔
دعا مانگ کر اسنے آنکھیں کھولیں تو ڈیوڈ نے تیزی سے اپنا رخ سمندر کی طرف موڑا۔۔اسکی نظر پڑی اشک والی جگہ پر کارڈ گرا ہوا تھا۔۔
ذیشان اشتیاق۔۔
اس پر استنبول کی کسی جگہ کا اڈریس اور نمبر لکھا ہوا تھا۔۔وہ شاید اسکے پرس سے گرا تھا۔۔
چلو آتی ہے تو دے دیتا ہوں۔۔ ڈیوڈ نے کارڈ اٹھا کر جیب میں ڈال لیا۔۔
داؤد۔
اسنے پیچھے سے آکر پکارا ۔۔
ہاں ۔۔
چلو واپس چلتے ہیں۔
ڈیوڈ نے غور کیا وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرتی تھی۔۔ بلکہ اسکی آنکھیں جھکی رہتی تھیں
۔۔واپس۔۔ نہیں میں تو ابھی میڈن ٹاور جانا چاہتا ہوں۔۔
وہ اتنی جلدی اسکا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔
میڈن ٹاور ۔۔؟؟
اشک نے ڈھلتے سورج کو پریشانی سے دیکھا۔۔ کیسپئن اپنا رنگ بدل رہا تھا۔۔
ہاں تم بھی چلو نا بہت مزا آئے گا۔۔
نہیں ۔۔ تم چلے جانا مجھے ہوٹل واپس جانا ہے۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ ہوٹل۔۔ میں نہیں جا رہا۔۔
وہ ناراض سا ایک طرف چلنے لگا۔وہ مزید پریشان ہوگئ۔۔ اسنے کرنسی ایکسشینج نہ کروا کر کتنی بڑی غلطی کی تھی اسے اب احساس ہو رہا تھا۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی ڈیوڈ کو کس طرح بتائے کہ اسکے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔
داؤد۔۔
وہ اسکے پاس جا کر بولی۔۔۔وہ رک گیا اسنے منہ دوسری طرف ہی کر رکھا تھا۔۔
آج واپس چلے جاتے ہیں کل چلے جانا میڈن ٹاور۔۔
تم میرے ساتھ چلوگی۔۔
اسنے ہوا میں تیر چلایا۔۔
مم۔۔میں نہیں تو۔۔ تم اکیلے چلے جانا ۔
وہ ہچکچائی۔۔
پھر میں آج ہی جاؤنگا۔۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اسے منا لے گا۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں چلونگی۔۔ لیکن ابھی واپس چلو پلیز۔۔
وہ ہار مانتے ہوئے بولی۔۔
وعدہ۔
ہاں وعدہ ابھی چلو۔۔
ٹھیک ہے۔۔
ڈیوڈ نے بمشکل اپنی خوشی پر قابو پایا۔۔اشک خاموش رہی ۔وہ غروب ہوتے سورج کو دیکھ کر پریشان تھی۔۔ ڈیوڈ مڑ کر اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ شام اپنے سائے پھیلا چکی تھی۔۔کیسپئن کا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکا سفر جلد ختم ہو۔۔ اشک چپ تھی
۔ ہوٹل واپس آنے تک بھی اسنے کوئی بات نہیں کی۔۔ وہ میڈن ٹاور نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔
روم میں آکر بھی وہ اسی بات سے پریشان رہی۔۔آج کا دن بہت اچھا اور بھرپور گزرا تھا۔۔ لیکن اسے افسوس بھی تھا۔۔ اسلام اسے کسی ایسے غیر مرد کے ساتھ سیر ہ تفریح کی اجازت نہیں دیتا تھا۔۔
وہ بہت خوش تھا۔۔۔ اسے میڈن ٹاور جانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔وہ صرف اشک کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔۔
وہ بے چہرہ لڑکی۔۔اسلام اور اسکے اصولوں پر بہت آسانی سے عمل پیرا تھی۔۔اسکے کسی انداز سے نہیں لگتا تھا کہ اس سے کچھ زبردستی کروایا جاتا ہے۔۔اسے اشک کے ساتھ ساتھ اسلام بھی دلچسپ لگنے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اشک نے ناشتہ کمرے میں ہی منگوا لیا۔۔ اسکا نیچے جانے کا یا ڈیوڈ کا سامنا کرنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔
داؤد اسے بلانے نہیں آیا تھا۔۔ وہ اطمینان سے کھڑکیاں کھول کر دھوپ سینکنے لگی۔۔تقریبا دو گھنٹے بعد اسکے دروازے پر دستک ہوئی۔۔ اسکا موڈ خراب ہوا۔۔ توقع کے عین مطابق دروازے پر ڈیوڈ ہی تھا۔۔
جی بولیں۔۔
وہ دروازہ کھول کر رکھائی سے بولی۔۔
آپ کے گھر سے کال ہے۔۔
ڈیوڈ نے موبائل آگے بڑھایا۔۔وہ اپنے انداز پر شرمندہ ہوگئی۔۔ فون لیکر وہ دروازہ بند کر گئی۔۔دوسری طرف دادو تھیں جو اسکی خیر خیریت اور فلائٹ کا وقت معلو م کرنا چاہ رہی تھیں۔۔ دس منٹ بعد اسکی کال ختم ہوئی تو اسے ڈیوڈ کا خیال آیا۔۔
داؤد تو چلا گیا ہوگا۔۔
اسنے سوچتے ہوئے دروازہ کھولا تو وہ باھر ہی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔اسے شرمندگی نے آن گھیرا۔۔
یہ لیں تھینک یو۔سوری آپکو کھڑا کرنے ک لیے۔۔
اسنے موبائل اسکی طرف بڑھایا۔
کوئی بات نہیں۔
وہ مسکرایا۔۔ اشک نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا وہ نظریں جھکا گئی۔۔
its time to fulfil muslim’s promise..
ڈیوڈ کو لگا وہ نہیں جانا چاہتی پھر بھی اسنے کہہ دیا۔۔ وہ شاید شرمندہ ہونے کا گھنٹہ تھا وہ کتنے آرام سے نہ جانے کا سوچ رہی تھی اور وہ ئسکی بات کو ایک مسلمان کے وعدے کے طور پر لے رہا تھا۔۔
میں دس منٹ میں آتی ہوں۔۔
اسنے مرے ہوئے انداز میں کہا۔۔
ٹیک یور ٹائم۔۔ میں بھی چینج کرلوں۔۔
وہ مڑتے ہوئے بولا۔۔اشک نے کمرے میں آکر عبایا پہنا اور نقاب لگا کر نیچے آگئی۔۔ڈیوڈ کچھ دیر بعد آیا۔۔
وہ خاص تیار ہو کر آیا تھا۔۔ اسنے بلیک تھری پیس پہنا ہوا تھا۔۔
میڈن ٹاور نوشیرواں شاہ نے بنایا تھا۔۔اسے آذربائجان کے قومی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔۔
واقعی زبردست جگہ ہے۔۔
وہ دونوں اسکی چھت پر کھڑے تھے۔۔ وہاں سے باکو کی اولڈ سٹی کا نظارا بہت خوبصورت تھا۔۔
مسلم آرکیٹیکچر۔۔
اشک نے فخر سے کہا۔۔وہ بھی مبہوت تھی
میں یہ دیکھے بغیر چلا جاتا تو افسوس کا مقام تھا۔۔
وہ کیمرہ نکالتے ہوئے بولا۔۔ اشک نے دل ہی دل میں اسکی تائید کی۔۔وہ اب تصویریں لے رہا تھا۔۔؎
اشک ٹاور کو دیکھنے لگی۔۔ وہ گولائی لیے ہوئے تھا۔۔آذربائیجان کے قومی دن اس پر روشنیوں سے جھنڈا بنایا جاتا تھا۔۔اسکے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا میوزیم تھا۔۔وہ دونوں گھومتے رہے۔۔
میں نماز پڑھ لوں۔۔
اشک نے سورج کو ڈھلتے دیکھ کر کہا۔۔
ہاں وضو کرنا ہے تمنے۔۔
نہیں میرا وضو ہے۔۔
کہاں پڑھوگی نماز۔؟؟
اوپر ایک کمرہ خالی ہے میں وہاں پڑھ لونگی۔۔
ٹھیک ہے مٰن انتظار کر لیتا ہوں۔۔
وہ سیڑھیوں میں بیٹھتے ہوئے بولا۔۔اشک نماز پڑھنے چلی گئی وہ چادر ساتھ لائی ہوئی تھی۔۔وہ واپس آئی تو داؤد کچھ گا رہا تھا۔۔ وہ خاموشی سے کھڑی سننے لگی۔۔ اسکی آواز بہت خوبصورت تھی۔۔وہ جرمن میں گا رہا تھا اشک کو سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن سننے میں اچھا لگ رہا تھا۔۔
ڈیوڈ کو اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا تو اسنے مڑ کر دیکھا۔۔وہ کافی اوپر کھڑی تھی۔وہ اسے دیکھ کر سکرایا تو وہ نیچے آنے لگی۔۔ ڈیوڈ نے اسکے سراپے کو بغور دیکھا۔۔وہ کسی شہزادی کی طرح سہج سہج کر اتر رہی تھی اسکا عبایا سیڑھیوں پر اسکے پیچھے پھسلتا آرہا تھا۔۔اسکے انداز میں ایسی شان اور تمکنت تھی کہ ڈیوڈ کی نظریں بےاختیار جھک گئیں۔۔ وہ اس سے اوپر والی سیڑھی پر آکر بیٹھ گئی۔۔ڈیوڈ نے دیکھا وہ اس سے کچھ فاصلے پر تھی
لیکن انکے درمیان ایسے غیر مرئی دیوار تھی جسے وہ پار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
کیا گا رہے تھے تم۔؟
وہ بولی۔۔اسنے جرمن سانگ پہلی دفعہ سنا تھا۔۔
یہ میرا فیورٹ ہے مام سنایا کرتی تھیں مجھے۔۔
تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے۔
ہاں میرے دوست کہتے ہیں میری آواز میسمرائزنگ ہے۔۔
وہ مسکرا کر بولا۔
نام کا اثر ہے۔۔
وہ آہستگی سے بولی۔۔
وہ کیسے۔۔؟؟
وہ چونکا۔۔
حضرت داؤدؑ کی آواز دنیا کی سب سے خوبصورت آواز تھی۔۔وہ جب زبور پڑھتے تھے تو دنیا کی ہر چیز میسمرائز ہو جاتی تھی۔۔ اڑتے ہوئے پرندے بھی ۔۔
ایک منٹ ،یہ نام تم نے ائرپورٹ پر بھی لیا تھا نا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
کون ہیں یہ۔۔ اور زبور کیا ہے؟
ڈیوڈ نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
داؤدؑ اللہ کے پیغمبر تھے ۔۔اسرائیل کے بادشاہ اور زبور ان پر نازل ہونے والی کتاب۔انجیل مقدس کا ایک حصہ۔۔
اسی لیے تم مجھے داؤد کہتی ہو۔؟؟
وہ سمجھتے ھوئے بولا۔۔
ہاں ۔
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔۔
کہاں جا رہی ہو؟؟
وہ حیرت سے بولا۔۔
واپس چلتے ہیں۔۔
کچھ دیر تو رک جاؤ۔۔ یاد رکھو۔۔ یہ وقت شاید زندگی میں پھر کبی نا آئے۔۔
ڈیوڈ بھی کھڑا ہوگیا
واپس چلتے ہیں پلیز۔۔
وہ سیڑھیاں اترنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: