Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 5

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 5

–**–**–

آخر تمہیں مسلہ کیا ہے۔۔؟؟
وہ جھنجھلایا۔۔
وہ مجھے۔۔۔ مجھے واپس جانا ہے بس۔۔
لیکن کیوں؟؟
وہ مجھے۔۔بب۔۔بھوک لگی ہے۔۔
وہ سر جھکا کر ایسے بولی جیسے قتل کا اعتراف کر رہی ہو۔۔
اوہ۔۔ تو مجھے بتاؤ نا میں کھلاتا ہوں کچھ۔۔
ڈیوڈ کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔۔
نہیں میں ہوٹل سے کچھ۔۔
اشک نے کہنا چاہا۔۔
آؤ میرے ساتھ۔۔
ڈیوڈ نے اسکا ہاتھ پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے کیا۔۔ اگلے ہی لمحے اسے اپنی غلطی کا احسا س ہوا انکے ہاں ہاتھ پکڑنا عام بات تھی۔۔۔اشک نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ پلٹ کر تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ ۔۔
کیا کھاؤگی؟؟
وہ ریٹورینٹ کے باھیر کھڑا ہوکر پوچھ رہا تھاجیسے وہ اکثر اسے ایسی آفر کرتا رہتا ہو۔
پتہ نہیں یہاں کیا ملتا ہے میں حیات ریجنسی جا کر کھالونگی۔۔
اشک نے کہا عصر ہوچکی تھی۔۔
چکن چیز رول۔ فش رول۔۔ پاستہ۔۔ برگر ۔۔ یا کچھ اورر۔۔
وہ اسکی بات نظرانداز کرتے ہوئے بولی
فش چیز رول۔۔
اشک نے ہار مانتے ہوئے کہا۔۔وہ چکن مشکوک ہونے کی وجہ سے نہیں کھانا چاہتی تھی۔۔
ڈیوڈ ریسٹورینٹ میں چلاگیا۔۔ وہ باہر کھڑی رہی۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا تو اسکے ہاتھ میں دو رہل اور پانی کی بوتل تھی۔۔
یہ لہ تمہارا۔
وہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔ اس نے خاموشی سے لے لیا۔وہ اب بیٹھنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔۔
کیا ہوا کھاؤ نا۔۔
ڈیوڈ نے پوچھا۔۔ مجھے بیٹھنا ہے کہیں۔۔
وہ پریشانی سے بولی۔۔
آؤ آگے کوئی بنچ وغیرہ ہوگا اس پر بیٹھ جائنگے۔۔
ڈیوڈ بولا تو وہ دونو چلنے لگے۔۔
آؤ وہاں بیٹھتے۔۔
اشک نے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا۔
وہاں بنچ نہیں ہے تم کیسے بیٹھوگی۔۔ تمہارا یہ گندا ہوجائے گا۔۔
ڈیوڈ کو عبائے کا نام لینا نہیں آیا۔اشک ہنس پڑی۔
انگلیش میں اسے گاؤن کہتے ہیں۔۔
وہ درخت کی طرف جاتے ہوئے بولی۔
آؤ بیٹھو۔۔
اشک نے اپنے گرد لپیٹی ہوئی نماز والی چادر بچھا دی۔۔
میں اس پر کیسے بیٹھوں۔۔؟؟ یہ تمہاری عبادت والی چادر ہے۔۔
وہ جھجک رہا تھا۔۔
کیوں تمہیں منع ہے کیا؟
اشک نے حیرت سے کہا۔۔
مطلب تم مسلم۔۔ میں
اس نے بات ادھورہ چھوڑٰی۔۔
آؤ بیٹھو۔۔ تم ہماری مسجدوں میں بھی چلے جاؤ تو کوئی نہیں روکے گا۔۔
اسکی آنکھیں مسکرائیں۔۔ ڈیوڈ شوز اتار کر بیٹھ گیا۔۔ وہ خاموشی سے رول کھا رہی تھی۔۔ وہ اسے دیکھنے لگا۔۔
دو دن ساتھ ہونے کے باوجود ڈیوڈ کو نہیں پتہ تھا وہ کیسی ہے۔۔؟؟ کون ہے؟ اور وہ خود کیوں اسکے ساتھ ہے؟
وہ بلکل الگ تھی۔۔ بلکل مختلف۔۔ ڈیوڈ کی دنیا سے بلکل الگ۔۔ لیکن اسے اس میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا تھا جسے ناپسندیدہ کہا جا سکے۔۔اسکی عزت کرنے کا دل کرتا تھا۔۔اسکی بات مان کر خوشی ہوتی تھی۔۔وہ اسکی سوسائٹی کی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔۔وہ خاص تھی بہت خاص۔۔ اتنی کہ وہ اسکی سوسائٹی میں رہ ہی نہیں سکتی تھی۔۔
فکر نا کرو نوالہ میرے منہ میں ہی جا رہا ہے۔۔
وہ اسکی نظریں محسوس کرتے ہوئے بولی۔۔وہ گڑبڑا کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔۔
میں یہ سب کبھی نہیں بھولونگی۔۔
وہ خود کلامی کر رھی تھی۔۔
میں بھی۔۔
ڈیوڈ نے عجیب سے انداز سے کہا۔۔ انکے درمیان خاموشی چھا گئی۔۔انکے سامنے سے ایک جوڑا گزرا۔ وہ ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ دالے جا رہے تھے۔
تمہارا دل نہیں کرتا تم بھی ایسے تیار ہو؟؟ خوبصورت لگو۔۔
ڈیوڈ نے اس جوڑے کو دیکھ کر کہا۔۔
ہاں کرتا ہے۔۔ لیکن جب سوچتی ہوں کہ اللہ کو ایسے پسند ہوں تو میری پسند اللہ کی پسند پر حاوی ہوجاتی ہے۔۔
اشک کے ذہن میں جنت کے پتے کا ڈائلاگ گھوما۔۔وہ پھر خاموش ہوگیا۔۔ حالانکہ وہ اس سے ڈھیروں باتیں کرنا چاہتا تھا۔۔لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے۔۔
داؤد چلو واپس چلتے ہیں۔نماز کا وقت نکل رہا ہے۔۔؟
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
تئمھیں کیسے پتہ چلتا ہے نماز کا۔۔
سورج سے۔۔
وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ۔۔اسنے رول نہیں کھایا تھا۔۔
اچھا میں کیب روکتا ہوں۔۔
اشک نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ وہ چادر اٹھا کر اپنے گرد لپیٹ چکی تھی۔۔وہ ہوٹل سے کچھ فاصلے پر اترے۔۔ ڈیوڈ کچھ دیر پیدل چلنا چاہتا تھا ۔۔
رکو۔۔
وہ چلتے چلتے بولا۔۔ اشک نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔۔
ایک دفعہ جی بھر کر اپنے ارد گرد دیکھ لو۔۔ باکو کو۔۔ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔؎اشک نے اسکی بات پر سر اٹھا کر دیکھا۔۔ سامنے حیات ریجنسی نظر آرہا تھا۔اسنے مڑ کر دیکھا وہ جس راستے سے آئے تھے۔۔ باکو میں سورج سرخ ہوچکا تھا۔۔کیسپئین سی اسے اپنے اندر مدغم کرنے ک لیے تیار تھا۔۔
وہ کہاں کھڑی تھی؟؟آذربائجان کے صنعتی شہر میں اکیلی کھڑی تھی۔۔کوئی جاننے والا اسکے ساتھ نہیں تھا۔۔تقدیر کے آگے سب بےبس ہوتے ہیں ۔۔ اسے ادراک ہواتھا۔۔۔وہ کبھی اکیلے محلے میں کسی رشتے دار کے گھر نہیں گئی تھی۔۔ آج وہ کسی انجان ملک میں کھڑی تھی۔۔ اجنبی لوگ،اجنبی شہر،اجنبی زبان۔۔ سب کچھ اجنبی تھا۔۔
اسنے اپنے دائیں طرد دیکھا۔۔ داؤد کھڑا تھا۔۔اخروٹی رنگ کے بال جو ماتھے پر گرے رہتے تھے۔۔ گرے آنکھیں۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی۔۔ جب وہ مسکراتا تو اس میں سے ڈمپل نمایاں ہوتا تھا۔بلیک پینٹ کوٹ پہنے وہ غروب ہوتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔۔گرے آنکھوں کا رنگ شام کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔۔اشک نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا تھا۔۔اسے وہ اجنبی نہیں لگ رہا تھا۔۔
داؤد نے گھڑی دیکھی۔۔باکو کے وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔۔اسنے اشک کی طرف دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ان کی نظریں چار ہوئیں۔۔ سیاہ آنکھیں۔۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر تیزی سے جھکی تھیں۔۔اور پھروہ رخ موڑ گئی۔۔
وہ لڑکی۔۔۔وہ ایک مسلمان باپردہ لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔۔اسکا عبایا زمین کو چھو رہا تھا۔۔بلیک اور گولڈن چادر اسنے کمر کی طرف سے کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی۔۔ان کے درمیان بہت فاصلہ تھا بہت فرق تھا پھر بھی وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔اسکی زندگی میں بہت سی لڑکیاں آئی تھیں۔۔لیکن اس بےچہرہ لڑکی میں کیا تھا وہ سمجھ نہیں سکا۔۔
اسکا دل چاہا انکی فلائٹ اڑتالیس گھنٹوں کے بجائے اڑتالیس دن لیٹ ہوجائے۔۔انہیں واپس نا جانا پڑے۔۔وہ باکو میں ہی گھومتے رہیں فش رول کھائیں۔۔ اشک نماز پڑھے اور وہ اسکا انتظار کرتا رہے۔۔ اسکے ہاتھ میں رول ابھی تک تھا۔۔
داؤد ۔۔
وہ ہیشہ ایک لفظ سے مخاطب کرتی تھی۔۔
ہاں۔۔
چلو چلیں۔۔
رک جاؤ۔۔ سورج غروب ہوتا دیکھ کر جائیں گے۔۔
اشک نے اسکی بات پر سورج کو دیکھا۔۔ جو آہستہ آہستہ کیسپئن میں گم ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ یہ وقت کبھی نہیں بھولنے والی تھی۔۔سورج ڈوبا تو وہ دونوں مڑ گئے۔۔ ایک ساتھ چلتے ہوئے وہ دونوں ایک دوسرے کا حصہ معلوم ہو رہے تھے۔۔۔۔حیات ریجنسی یں وہ دونوں آگے پیچھے داخل ہوئے۔۔اسے وہ خود سے بہت بلند محسوس ہو رہی تھی۔۔اسکی دسترس سے بہت دور۔۔ جس تک پہنچنا اسکے بس میں نہیں تھا۔۔۔وہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم اندر آگئے۔۔
سر۔ میڈم۔۔ وی نیڈ ٹو چیک یور پاسپورٹس پلیز۔۔
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئے ریسپشن پر بیٹھی لڑکی نے انہیں روکا۔۔
کیوں؟؟
داؤد نے پوچھا
آپ کی فلائٹ قریب ہے تو ائرپورٹ سے کال آئی ہے ویری فکیشن کے لئے۔۔
اسنے پیشہورانہ مسکراہٹ سے بتایا۔۔
اوکے ہم لے کر آتے ہیں۔۔
۔۔وہ اپنا پاسپورٹ لیکر آیا تو اشک لفٹ کی طرف جا رہی تھی۔
لاؤ میں لے جاتا ہوں۔۔
ڈیوڈ نے کہا۔۔
شکریہ۔۔ میں نے ابھی تک عصر نہیں پڑھی۔۔
وہ ممنونیت سے بولی۔۔
مائی پلئیر۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا ۔۔ انکے درمیان کوئی فارمیلٹی نہیں رہی تھی۔۔اجنبیت کب ختم ہوئی تھی وہ نہیں جانتے تھے۔۔وہ کمرے میں آکر نماز پڑھنے لگ گئ۔۔
اسنے دونوں پاسپورٹ کاؤنٹر پر دے دیے۔۔اسے پانچ منٹ انتظار کا کہا گیا۔۔وہ ہوٹل لاؤنج میں بیٹھ گیا۔۔
آپ یہ لے سکتے ہیں۔۔ فلائٹ ٹائم پر آپکہ کال کرلی جائے گی۔۔
لڑکی نے کہا تو وہ دونوں پاسپورٹ لے کر آگیا۔۔ اسے تھکاوٹ ہورہی تھی۔۔ وہ سونا چاہ رہا تھا۔۔
اسنے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔۔ اسکے ہاتھ میں پاسپورٹ تھے۔۔اسکا دل چاہا وہ اشک کی تصویر دیکھ لے۔۔
آخر وہ دکھتی کیسی تھی۔۔ اسنے اسکا پاسپورٹ سامنے کر لیا۔۔
وہ شش و پنج میں تھا کہ کھولے یا نہ کھولے۔۔ لفٹ کا دروازہ کھل گیا۔۔ وہ باہر نکل آیا۔۔ اشک کے کمرے کی طرف بڑھتے ہر قدم کے ساتھ اسکی خواہش بڑھتی جا رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: