Main Muqtadi e Mohabbat Hon Novel by Lubaba Hafeez – Episode 6

0
میں مقتدی محبت ہوں از لبابہ حفیظ – قسط نمبر 6

–**–**–

اسنے دونوں پاسپورٹ کاؤنٹر پر دے دیے۔۔اسے پانچ منٹ انتظار کا کہا گیا۔۔وہ ہوٹل لاؤنج میں بیٹھ گیا۔۔
آپ یہ لے سکتے ہیں۔۔ فلائٹ ٹائم پر آپکہ کال کرلی جائے گی۔۔
لڑکی نے کہا تو وہ دونوں پاسپورٹ لے کر آگیا۔۔ اسے تھکاوٹ ہورہی تھی۔۔ وہ سونا چاہ رہا تھا۔۔
اسنے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔۔ اسکے ہاتھ میں پاسپورٹ تھے۔۔اسکا دل چاہا وہ اشک کی تصویر دیکھ لے۔۔
آخر وہ دکھتی کیسی تھی۔۔ اسنے اسکا پاسپورٹ سامنے کر لیا۔۔
وہ شش و پنج میں تھا کہ کھولے یا نہ کھولے۔۔ لفٹ کا دروازہ کھل گیا۔۔ وہ باہر نکل آیا۔۔ اشک کے کمرے کی طرف بڑھتے ہر قدم کے ساتھ اسکی خواہش بڑھتی جا رہی تھی۔
نہیں یہ غلط ہے۔۔
اسنے خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔۔ وہ اب اسکے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔۔ اسنے دروازا کھٹکھٹایا۔۔پاسپورٹ اسکے ہاتھ میں تھا۔۔اسکی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔وہ کھولنا چاہ رہا تھا لیکن کھول نہیں رہا تھا۔۔اشک بھی نجانے کیوں دیر لگا رہی تھی۔۔
اشک ۔۔
اسنے مٹھیاں بھینچ کر دروازہ دھڑ دھڑا دیا۔۔ تھوڑی دیر میں دروازہ کھل گیا۔۔
سوری میں شاور لینے چلی گئی تھی۔۔
وہ گھبرائی ہوئی تھی۔۔ اسنے برقعے کا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔۔داؤد بات کرنا بھول کر اسے دیکھنے لگا۔۔وہ ننگے پاؤں کھڑی تھی۔۔اسنے ؤائٹ چوڑی دار پاجامے کے ساتھ ریڈ فراک پہنا ہوا تھا جو گھٹنوں تک آرہا تھا۔۔
لاؤ دو۔۔
اشک نے ہاتھ بڑھایا۔۔اس نے ایک ہاتھ سے دوپٹہ پکڑ کر کر نقاب کیا ہوا تھا۔اسکے بال پیشانی سے چپکے ہوئے تھے۔ہاتھ آگے بڑھانے کی وجہ سے اسکا دوپٹہ تھوڑا سا ہٹ گیا تھا۔۔ وہ اسکے بالوں سے ٹپکتے پانی مٰن کھو گیا۔۔اسنے اسے اسکا سراپا پہلی دفعہ دیکھا تھا۔۔
داؤد۔۔
اشک نے پکارا تو وہ چونکا۔۔
یہ تمہارا پاسپورٹ۔۔
اسنے پکڑآ دیا
تھینک۔۔
وہ اسکی بات سنے بغیر ہی مڑ کر تیزی سے چلاگیا۔۔
اسے کیا ہوا۔۔؎
اشک نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
اوہ گاڈ مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔؟ مٰن کیا چاہتا ہوں آخر۔۔
اسنے کمرے میں آکر سر پکڑ لیا۔۔ اسے اپنی حالت سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔وہ اسکی پیشانی پر پڑے بال ہٹانا چاہتا تھا۔۔اسکا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا۔۔ اسکے سات رہنا چاہتا تھا لیکن کیوں؟؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔
اشک مغرب پڑھ کر سو گئی۔۔ اسکی آنکھ دوبارہ انٹر کام کی بیل سے کھلی۔۔وہ کسلمندی سے اٹھی اسکی تھکاوٹ دور نہیں ہوئی تھی۔۔
میم آپکی فلائٹ ایک گھنٹے بعد کی ہے۔۔ ائر پورٹ کی گاڑیاں آچکی ہیں آپ نیچے آجائیں۔۔
اوکے۔۔
اسنے ریسیور رکھ دیا۔۔تو وقت روانگی آچکا تھا۔۔ اسنے گھڑی دیکھی نو بج رہے تھے۔۔ اسنے نماز پڑھنی شروع کردی۔۔نماز پڑھ کر وہ نیچے آئی تو اسے لو گ کم لگے۔۔
کیا سب نہیں جا رہے۔۔؟
اسنے ریسپشن پر کھڑی لڑکی سے پوچھا۔۔
نہین صرف ترکی والے پسینجرز ہیں۔۔
اور برلن والے۔۔
انکی فلائٹ 3 گھنٹے بعد ڈائریکٹ ہے۔۔
لڑکی نے بتیا۔۔ وہ ریسپشن سے ہٹ گئ۔۔ اسے ایسے جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ وہ داؤد کو بتانا چاہتی تھی۔۔اسنے اچک کا بہت ساتھ دیا تھا۔۔
کیا پتہ وہ جانتا ہو ہم جا رہے ہیں ۔۔
اسنے سوچا۔۔
اگر ایسا ہوتا تو وہ نیچے ضرور آتا۔۔
اسنے خود ہی تردید کردی۔۔پھیر کسی خیا ل کےتحت وہ لفٹ کی طرف بڑھ گئ۔۔لفٹ پتہ نہیں کسنے روکی ہوئی تھی۔۔وہ بھاگتے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر چڑھی۔۔ اسکے پاس وقت کم تھا۔۔انکے کمرے سیٹوں کے حساب سے تھے۔۔ داؤد کا کمرہ اس سے اگلا یا پہلا ہونا چاہیے تھا۔۔ اسنے اندازے سے ایک کمرے کا دروازہ کھٹکٹھایا۔۔ جواب نا پاکر اسنے ہینڈل گھما دیا۔۔ دروازہ لاک نہیں تھا۔۔ اندر کوئی اوندھے منہ سو رہا تھا۔۔جیکٹ سے اسے اندازہ ہوا سونے والا داؤد ہی تھا۔۔
وہ اندر آگئی۔۔
میری فلائٹ کا ٹائم ہو چکا ہے۔۔ میں جا رہی ہوں ۔۔ ہر چیز کے لیے شکریہ۔۔ اللہ حافظ۔
اسنے ٹشو پر کاجل سے لیکھ دیا۔۔ سائڈ ٹیبپل پر داؤد کا والٹ اور موبائیل پڑا تھا۔۔اسنے والٹ کے اندر ڈال دیا۔۔والت رکھتےہوئے اسکی بریسلٹ ٹیبل سے ٹکرائی۔۔ اسکا ہک کھل گیا۔۔ ڈیوڈ کسمکسیا۔۔ وہ گھبرا کر الٹے قدموں واپس ہوئی۔۔اسکی بریسلیٹ وہیں گر گئی تھی۔۔اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔وہ نیچے آگئی۔۔ بس میں بیٹھنے والی وہ آخری پسنجر تھی۔۔
حیات ریجنسی سے نکلتے ہوئے اسنے مڑ کر دیکھا۔۔ لاشعوری طور پر وہ داؤد کے کمرے کی کھڑکی ڈھونڈ رہی تھی۔بس باکو کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔۔ وہ حیات ریجنسی کے ساتھ داؤد کو بھی پیچھے چھوڑگئی تھی۔
تقریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد اسکا جہاز فلائی کر چکا تھا۔۔اسنے کھڑکی سے نیچے باکو کی مدھم ہوتی ہوئی روشنیوں کو دیکھا۔۔ ایک غیر متوقع طور پر جو باب قسمت نے کھولا تھا وہ بند ہو چکا تھا۔۔ وہ بہت کچھ ساتھ لے کر اور بہت کچھ چھوڑ کر جا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اٹھا تو بارہ بج رہے تھے۔۔ اسکی تھکاوٹ دور ہوچکی تھی۔۔ وہ اٹھ کر شاور لینے چلا گیا۔واپس آیا تو انٹر کام کی بیل بج رہی تھی۔۔ اسنے ریسیور اٹھایا تو اسے فلائٹ کی اطلاع دی گئی۔۔ وہ اپنا سامان پیک کرنے میں مصروف ہوگیا۔۔ نکلنے سے پہلے وہ سایئڈ ٹیبل سے اپنا والٹ اور موبائل اٹھانے آیا تو اسے دراز کے ہینڈل میں بریسلیٹ لٹکی ہوئی نظر آئی۔۔
”یہ بریسلیٹ۔۔”
اسنے ہاتھ میں لیکر سوچا۔۔وہ گولڈ بریسلیٹ تھی جس پروائٹ کرسٹل سٹونز لگے ہوئے تھے۔۔بحیرہ کیسپئن پر وضو کرتے ہوئے جب اسنے بازو اوپر کیے تھے تو یہ دور سے چمک رہی تھی۔اسکے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔۔
“اشک۔۔ یہاں آئی تھی۔میرے کمرے میں۔۔”
وہ الجھا۔۔
“چلو ابھی جا کر وجہ پوچھ لیتا ہوں۔۔
اسنے بریسلیٹ جیب میں ڈال لی۔۔ وہ نیچے آیا تو ایک بس حیات ریجنسی سے نکل رہی تھی۔۔وہ دوسری بس میں بیٹھ گیا۔۔اسے اندازہ تھا کہ اشک پہلی بس میں چلی گئی ھوگی۔ائیرپورٹ پر پہنچ کر اسنے اشک کو ڈھونڈنا چاہاوہ اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔
آخر کہاں غائب ہے یہ لڑکی۔۔
اسکا موڈ خراب ہونے لگ گیا۔۔ٹکٹ لیکر وہ ویٹنگ لاؤنج میں آگیا۔۔ اسنے پورا لاؤنج دیکھ لیا وہ اسے کہیں نہیں ملی۔۔
شاید نماز پڑھ رہی ہوگی کہیں۔۔
اسنے خود کو تسلی دی۔۔ وہ آرامم سے بیٹھ کر جین کو کال کرنے لگ گیا۔۔ اسے اپنی فلائٹ کے بارے میں بتانا تھا۔۔تھوڑی دیر میں انہیں جہاز میں جانے کا اعلان سنا دیا گیا۔۔ وہ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا تو اسکے ساتھ والی سیٹ پر اسی طرح کا نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔۔اسے اب سہی معنوں میں پریشانی ہونے لگ گئی۔۔اسے اب تک اشک کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آیا تھا۔۔
وہ باکو میں ہی نہ رہ گئی ہو۔۔ اسے فلائیٹ کا پتہ ہی نہ چلا ہو۔۔
خدشے اسے ستانے لگے تھے۔جہاز اب رن وے پر دوڑ رہا تھا۔۔ اسکی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔
معزز مسافرین۔فلائٹ 23907۔میں آپکو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ہمارا سفر باکو سے ڈائریکٹ برلن ہے۔برائے مہربانی اپنی سیٹ بیلٹس باندھ لیجئے۔۔
ائرہوسٹس اعلان کر رہی تھی۔۔ڈیوڈ کا دماغ گھوم گیا۔۔ وہ اس فلائٹ میں تھی ہی نہیں۔۔ اسکی فلائٹ ہی الگ تھی۔۔ وہ اسے آخری دفعہ مل بھی نہیں سکا تھا۔۔اسکا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔ جہاز سے نیچے چھلانگ مار دے یا کچھ اور کرلے۔۔اسنے بمشکل اپنے آپ پر قابو کیا۔۔ غصے اور پچھتاوے سے اسکا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔وہ رہنے والا ہوچکا تھا۔۔ وہ کب اسکی زندگی سے نکل گئی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔۔ اسنے بے بسی سے آنکھیں بند کرلیں۔۔
انسان جو مرضی کر لے قسمت جب چاہے اسے لوگوں سے ملاتی ہے اور جب چاہے جدا کر دیتی ہے۔۔بشر ہواؤں کو تسخیر کر چکا ہے سمندروں کو کھنگال چکا ہے لیکن قسمت سے جیتنے کی کوئی ٹیکنالوجی ایجاد نہین کر سکا۔۔
وہ کب برلن پہنچا۔۔ کب گھر گیا۔۔ جین اور کارلس نے اس سے کیا باتیں کیں۔۔ اسے کچھ پتہ نہیں چلا۔۔ وہ بس اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر گر گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ترکی پہنچ چکی تھی۔۔زیشان صاحب نے اسے ائرپورٹ سے لیا تھا۔۔گھر پہھنچنے تک وہ اسکی خیر خیریت پوچھتے رہے تھے۔۔ وہ بھی رسمی جواب دیکر خاموش ہو گئی۔۔
“یہ آپکا کمرہ ہے۔۔۔ آپ آرام کریں۔۔”
وہ اسے ایک کمرے میں چھوڑ کر چلے گئے۔۔اسنے اپنا سامان رکھا اور کپڑے بدل کر لیٹ گئی۔۔ اسے تھکاوٹ ہورہی تھی۔۔
“پتہ نہیں اسنے چٹ دیکھی ہوگی یا نہیں”
اسنے داؤد کے بارے میں سوچا۔۔پھر سائڈ ٹیبل سے اپنا پرس اٹھا لیا۔۔فش رول کا ریپر ابھی تک اس کے بیگ میں تھا۔۔ اسنے ریپر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔باکو کی یہ واحد نشانی تھی اسکے پاس۔۔اور داؤد کی بھی۔۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔وہ اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے ہی سو گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شام کو اٹھا ۔۔ اسکا سر بوجھل ہو رہا تھا۔۔ وہ کمرے سے باھر نکلا تو جین اور کارلس بیٹھے تھے۔۔
آؤ ڈیئر۔۔
جین اسے دیکھتے ہی بولی۔۔وہ خاموشی سے آکر صوفے پر بیٹھ گیا۔
کافی پیئوگے؟؟
جین نے پوچھا ۔۔وہ اثبات میں سر ھلا گیا۔۔ اسکا سر درد کر رہا تھا۔۔
لگتا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ جیٹ لیگ ہو گیا کیا؟
کارلس نے اسکی شکل دیکھ کر فکرمندی سے کہا۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔
وہ بشکل بولا۔۔
کیا واقعی؟
کارلس نے پھر پوچھا۔۔
بس سر میں کچھ درد محسوس کر رہا ہوں۔۔
داؤد نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔۔
ایسا کرہ کل آفس نہ جاؤ ۔۔ آیک دو دن ہمارے پاس رک جاؤ۔۔
جین نے اسکے سامنے کافی رکھی۔۔
نہیں میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں۔۔میں اپنے گھر جاؤنگا۔۔
اسنے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
جیسے تمہاری مرضی۔۔ اپنے کپڑے دیتے جانا میں لانڈری بھجوا دونگی۔۔
جین بولی تو وہ خاموشی سے کافی کی بھاپ کو تکتا رہا۔۔وہ رات کو ہی واپس اپنے اپارٹمنٹ میں آگیا۔۔کپڑے بدلنے کے لیے اسنے اپنا والٹ نکالا تو اشک کی بریسلیٹ بھی نکل آئی۔۔اسکا موڈ مزید خراب ہوگیا۔۔
کیا تھا اگر وہ مجھے بتا کر چلی جاتی۔۔
بریسلیٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اس سے پہلے چلی گئی تھی۔۔
میں نے کتنی کوشش کی اسے خوش رکھنے کی۔۔ اس سے دوستی کرنے کی۔۔کتنی اچھی لگتی تھی اور کتنی بےمروت نکلی۔۔
اسنے بدگمانی سے سوچا۔۔بریسلیٹ ڈریسنگ پر رکھ کر وہ لاؤنج میں آگیا۔۔اسنے ٹی وی لگا لیا۔۔ اسکا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔۔ تنگ آکر وہ ٹیرس میں آگیا۔۔سردی کی وجہ اسے جلد ہی واپس آنا پڑا۔۔وہ بیزای سے بیڈ پر گر گیا۔۔ اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوا پڑا تھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: