Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 1

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 1

–**–**–

 

کندھے پر بیگ پیک ،ہاتھ میں ہینڈ کیری لئے ،سر پر جیکٹ کا ہڈی گراۓ وہ دبے قدموں سے کچن کے عقبی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی،جو لان سے گھوم کر باہر کی طرف نکلتا تھا۰اس وقت گھر کا ہر ذی روح خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا،سواۓ اسکے جو رات کے گہرے ہونے کا انتظار کر رہی تھی۰اور اب موقع غنیمت جان کر خاموشی سے گھر سے نکل رہی تھی۰آہستہ سے دروازہ بند کرتے وقت مڑ کر نمناک آنکھوں سے ایک الوداعی نظر گھر کو دیکھا،اور آستینوں سے آنسو پونچھتے ہوئےکبھی نہ واپس آنے کا مصمم ارادہ لئے دہلیز پار گئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
فبایء آلاء ربکما تکذبن،قاری باسط کی خوبصورت آواز سے پورا لاؤنج گونج رہا تھا۰اور دادو ہاتھ میں تسبیح پکڑےاپنی آرام کرسی پر آنکھیں موندے نیم دراز تھیں۰متقین نے انکو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ اپنی کیپ اتاری اور خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا.آہٹ پر دادو نے آنکھیں کھولیں،اور متقین کو سامنے پاکر ایک آسودہ سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آگئی.انہوں نے قرآن پین ریڈر کو پاز کیا،یہ ڈیجیٹل قرآن پین ریڈر متقین نے انکو پچھلے سال انکی سالگرہ پر دیا تھا،اور اب تک کے دئے جانے والے تحفوں میں دادو کا سب کا پسندیدہ تحفہ تھا۰متقین نے آگے جھک کر انکو سلام کیا۰اسلام و علیکم دادو کیسی ہیں؟وعلیکم اسلام،جیتے رہو،خوش رہو،انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۰تو آج چھ مہینے بعد تم کو میری خیریت کا خیال آگیا۰؟؟دادو نے ہلکا سا شکوہ کیا۰دادو جاب ہی ایسی ہے میری،آپکو ہی شوق تھا مجھے آرمی میں بھیجنے کا،متقین نے بھی جوابی شکوہ کیا۰یہ شکوہ اور جوابی شکوہ اسکی گھر سے ہر لمبی غیر حاضری کے بعد دونوں دادو پوتے کے بیچ ہوتا تھا۰ہا ہ ہ ۰۰بس یہ تو تمھارے بابا کے شوق کو پورا کرنے کی کوشش تھی۰زندگی نے اسکو مہلت نہیں دی تومیں نے اسکا ایک ادھورا خواب پورا کیا بس۰دادو نے نمناک لہجے میں کہہ کر ایک لمبی سانس بھری۰متقین بس گردن ہلا کے چپ ہوگیا۰اچھا چلو تم شاور لے کر فریش ہو جاؤ،میں ناشتہ لگواتی ہوں۰دادو نے کرسی کا ہتہ پکڑ کر اٹھتے ہوۓ کہا۰نہیں دادو میں چھٹیوں پر نہیں آیا ہوں،بس کراچی میں کچھ کام تھا تو سوچا آپ سے ملتا چلوں،اگلے ہفتے چھٹی ہوگی تو آونگا۰دادو جو اٹھ کر ناشتہ کا کہنے جا رہی تھیں،افسردہ سی ہو کے بیٹھ گئیں۰دادو بس اگلے ہفتے آرہا ہوں،اور دو مہینے بعد میری پوسٹنگ کراچی ہی ہونے والی ہے،متقین نے انکو گلے لگاتے ہوۓ کہا۰دادو اسکی کراچی پوسٹنگ سن کے کافی خوش ہوگئی تھیں۰چلو فی امان اللہ،انہوں نے اسکے ماتھے سے بال ہٹا کے پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۰متقین لاؤنج سے نکل کر لان اور پھر داخلی دروازہ بھی عبور کرگیا جب تک دادو اس پر دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکتیں رہیں،اور نظروں نظروں میں اسکی بلائیں لیتی رہیں، اسکی چوڑی پشت ،دراز قد،اور کسرتی جسم،انکو وہ ہو بہو اپنے بچھڑے ہوۓ بیٹے کی یاد دلاتا تھا۰متقین کو بھی پتہ تھا دادو اب تک گلاس ڈور میں کھڑی اس پر دعائیں پھونک رہی ہونگی،اس نے مڑ کے انکو ہاتھ ہلا کے اللہ حافظ کہا،اور جیپ میں سوار ہوگیا۰
۰۰۰۰۰۰
زروا،زمل چلو اٹھو ،اسکول وین آنے والی ہے۰انعم نے دونوں کے بلینکٹ کھینچے۰کیا ہے مما،ابھی بہت ٹائم ہے،زروا نے دوبارہ منہ تک بلینکٹ لیااور کروٹ لے کر لیٹ گئی۰زمل بستر سے اتر کے منہ دھونے چلی گئی۰مما زروا آپی ابھی تک نہیں اٹھی،زمل نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓ کہا۰انعم نے جو دودھ گلاس میں نکال رہی تھی،زور سے زروا کو آواز دی،زروا اگر پانچ منٹ میں تم ٹیبل پر نہ ہوئیں تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۰آپ سے برا کوئ ہے بھی نہیں،زروا نے بڑ بڑاتے ہوۓ بلینکٹ پھینکا اور واش روم میں گھس گئی۰کیا ہے زروا روز ایک ہی بات،رات کو تم آئ پیڈ نہیں چھوڑتی ہو اور صبح آنکھ نہیں کھلتی ہے تمھاری،انعم نے غصے سے زروا کو دیکھ کر کہا۰mamma can you please stop shouting atleast in the morning..(مما کیا آپ کم ازکم صبح صبح چیخنا بند کر سکتی ہیں)۰زروا نے انتہائ نا گواریت سے کہا۰انعم حیرانگی سے اسکا منہ دیکھنے لگی۰زروا آجکل بہت بد تمیز ہوتی جارہی تھی،اور کیوں ؟وجہ وہ سمجھنے سے قاصر تھی۰اسکے برعکس زمل ایک سلجھی ہوئ،سیدھی اور فرمانبردار بچی تھی۰زمل اور زروا میں پانچ سال کا فرق تھا،مگر زمل چھوٹی ہونے کے باوجود زیادہ سمجھدار تھی۰وہ ماں کا خیال بھی کرتی تھی اور عزت بھی۰ جب کے گھر میں ہر فرمائش پہلےزروا کی پوری ہوتی تھی۰پھر اسکے رویہ کی یہ وجہ انعم کی سمجھ سے بالاتر تھی۰وہ 9thکلاس میں آگئی تھی۰پڑھائی میں اسکا انٹرسٹ زیادہ نہیں بچا تھا۰جب کہ پہلے وہ پوزشن ہولڈر تھی،مگر اب بس ایک ایوریج اسٹوڈنٹ رہ گئی تھی۰اسکی ساری توجہ اپنی ڈریسنگ،اور سوشل ویب سائٹس پر تھیں۰وہ خوبصورتی میں اپنی پاپا پر گئی تھی۰لمبا قد،گوری دمکتی رنگت،ریشمی کالے بال،اور غزالی آنکھیں۰اگرچہ انعم بھی جازب نظر تھی،مگر زروا کے سارے نین نقش اپنے پاپا کی کاپی تھے۰اور اپنی خوبصورتی کا اسکو اچھے سے اندازہ بھی تھا۰وہ اس بات پر بہت فخر محسوس کرتی تھی کہ وہ اپنے سرکل میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے۰زمل نے انعم کے نین نقش چراۓ تھے۰وہ بھی ایک پر کشش بچی تھی،مگر زروا کے آگے اسکی شخصیت دب جاتی تھی۰زروا فاران کی زیادہ لاڈلی بھی تھی،اور اس بات کا بھی اسکو خوب اندازہ تھا۰زمل کی پیدائش پر فاران باہر چلا گیا تھا،اسلئے نہ زمل فاران سے زیادہ اٹیچ ہوئی،اور فاران کی بھی زیادہ توجہ زروا کو ہی حاصل رہی۰
۰۰۰۰
انعم زروا کی صبح والی حرکت کے بعد سے بہت پریشان تھی،اور اسی لئے بچوں کے اسکول جاتے ہی اسنے فاران کوskype پر سعودیہ کال ملالی تھی،اس وقت فاران سو کر اٹھا تھا،اس نے گرے ٹریک ٹراؤزر پر وی گلے کی ہاف سلیوزبلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئ تھی۰بال بکھرے ہوۓ تھے،اور آنکھوں میں نیند کا خمار تھا،اس نے جمائ روکتے ہوۓ کچن کا رخ کیا۰اسکو “بیڈ ٹی” خود بیڈ سے اتر کر بنانی پڑتی تھی۰کال ریسیو کرکے موبائیل سامنےکچن کاؤنٹر پر سیٹ کیا،اور چاۓ بنانے کے لئے الیکٹر ک کیٹل میں پانی ڈال کر آن کیا۰اسلام و علیکم کیسی ہو انو؟فاران نے کپ دھوتے ہوۓ پوچھا۰وعلیکم اسلام،تم ابھی اٹھےہو؟ انعم نے اسکی نیند سے بھری آنکھوں سے اندازہ لگایا۰ہاں یار بس اٹھ ہی رہا تھا جب کال آئی تمھاری۰فاران نے جمائی روکتے ہوئے کہا۰اچھا طبعیت تو ٹھیک ہے،اس وقت تو تم تیار ہوچکے ہوتے ہو،انعم نے تشویش سے پوچھا۰ہاں سب سیٹ بس آج تھوڑا لیٹ جانا تھا،رات کافی دیر تک کام کیا ہے۰تم سناؤ،کچھ پریشان لگ رہی ہو؟فاران نے اسکا موڈ بھانپتے ہوۓ پوچھا۰ہاں فاران میں زروا کو لیکر بہت پریشان ہوں،میں نے لاسٹ ویک بھی بتایا تھا تم کو ،وہ بہت مس بی ہیو کرنے لگی ہے،مجھ سے نہیں ہوتا سب اکیلے یہاں،تم خود تو باہر جاکر بیٹھ گئے ہو،انعم نے نروٹھے پن سے کہا،انو تم جلدی سے پریشان ہوجاتی ہو،زروا بڑی ہورہی ہے،بچوں کے موڈ سوئنگز آتے ہیں اس عمر میں،تم پریشان نہ ہو،میں زروا سے ویک اینڈ پر بات کرتا ہوں۰اور ڈئیر میں تم لوگ کے لئے ہی تو یہاں اکیلا بیٹھا ہوں،بچوں کے لئے دونوں کو ہی قربانی دینی ہوگی۰فاران نے الیکٹرک کیٹل کا سوئچ آف کرکے پانی کپ میں انڈیلتے ہوۓ کہا۰ٹی بیگ اور ٹی واہیٹنر ڈال کر وہ کپ اٹھا کر کچن کاؤنٹر کے ساتھ رکھے اسٹول پر ہی بیٹھ گیا،موبائیل اس نے ہاتھ میں لے لیا تھا،اور اب چائے کے سپس کے ساتھ انعم سے ادھر ادھر کی ہلکی پھلکی باتیں کرکے اسکو بہلا رہا تھا،اسکو پتہ تھا،انعم جلدی پریشان ہوجاتی ہے،مگر اسکو بہلانا بھی زیادہ مشکل کام نہ تھا۰اچھا ایسا کرو آج تم زروا اور زمل کو لے کر شاپنگ پر چلی جاؤ،دونوں کافی دن سے آؤٹنگ پر بھی نہیں گئی ہیں اور تمھارا بھی مائنڈ تھوڑا فریش ہوگا۰فاران نے انعم کو بہلانے کی کوشش کی ،اور اس میں کامیاب بھی ہوگیا۰اچھا چلو میں اب شاور لینے جارہا ہوں،آفس سے لیٹ ہو جاؤنگا،فاران نے وال کلاک پر نظر دوڑاتے ہوۓ کہا۰چلیں ٹھیک ہے،پھر میں رات کو تھوڑا دیر سے کال کروں گی آپکو،پتہ نہیں کتنی دیر میں واپسی ہو،انعم نے فوراً شاپنگ کے پلان کو عملی جامہ پہناننے کا سوچا۰اوکے ڈئیر باۓ۰فاران نے مسکراتے ہوۓ کال ڈسکنکٹ کی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
شام کے اس پہر موسم کے تیورکچھ خطرناک لگتے تھے،گو کہ بارش تو ابھی ہلکی تھی،مگر کالے بادلوں سے آسمان ڈھکا ہوا تھا،سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں تھا،ہر کوئ بارش کے تیز ہونے اور اندھیرا ہونے سے پہلے گھر پہنچنا چاہتا تھا۰اور اس خطرناک موسم میں وہ اکیلی ہی مری کے مال روڈ پر چہل قدمی کرنے نکل گئی تھی۰وہ یونیورسٹی کے گروپ کے ساتھ پاکستان ٹور پر نکلی ہوئی تھی،مگر اس موسم میں کسی کی بھی ہمت باہر نکلنے نہیں ہو رہی تھی،اسلیئے اس نے اکیلے ہی نکلنے کی ٹھاں لی تھی،اور اب کیمرہ سنبھالے کشمیر پوائنٹ کے حسن کو دھڑا دھڑ کیمرے میں قید کر رہی تھی۰یہاں پر اس وقت اکا دکا لوگ ہی تھے،موسم کی وجہ سے لوگوں کا ہجوم نہیں تھا۰وہ تصاویر اتارتے اتنی مگن تھی کہ اسکو شام کےآہستہ آہستہ گہرے ہونے کا اندازہ نہیں ہوا،اور جب ادارک ہوا تو اس کے قدموں نے تیزی سے واپسی کا سفر شروع کیا۰بارش نے بھی تیزی پکڑ لی تھی،جس کے باعث پھسلن بڑھ گئی تھی،اسلئے وہ زیادہ تیز چل بھی نہیں پا رہی تھی، ویسے تو ہوٹل سے مال روڈ زیادہ دور نہیں تھا،مگر وہ چلتے چلتے کافی آگے نکل آئئ تھی۰آہستہ آہستہ اندھیرا بڑھنے لگا تھا،اور اب اسکو صحیع معنوں میں اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا۰اس نے موبائیل نکال کر اپنے دوستوں کو کال کرنے کی کوشش کی،مگر شاید موسم کی وجہ سے سگنل بھی نہیں آرہے تھے۰جیکٹ کی جیب میں ہاتھ گھساۓ وہ تیز تیز چل رہی تھی،جب اسکو اپنے پیچھے کسی کی آہٹ کا احساس ہوا۰اس نے مڑ کر دیکھا تو دو مقامی آدمی اس کے پیچھے چل رہے تھے،اس نے قدموں کی رفتار تیز کردی،تو انکی رفتار میں بھی تیزی آگئی۰مال روڈ جہاں نشیب میں جاتی تھی،وہاں اسکا پاؤں تھوڑا غیر متوازن ہوا وہ اپنے آپکو بیلنس نہ کر پائی،اور سڑک کے دوسری جانب گرتی گئی۰دونوں آدمیوں میں سے ایک نے تیزی سے اسکو پکڑ کر اٹھایا اور اپنے ساتھ گھسٹنے لگا۰دوسرے نے اسکا بیگ جلدی سے اپنے قبضے میں کیا۰آس پاس سب سنسان پڑا تھا،اس نے مزاحمت کی،مگر وہ دونوں مضبوط جثے کے تھے۰وہ انکی گرفت سے نہیں نکل سکتی تھی۰اس نے شور مچانے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے اسکی گردن پر دباؤ بڑھا اور وہ بے ہوش ہوگئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
بارش کی تڑتڑاہٹ اور بادلوں کی گھن گرج سے اسکی آنکھ کھلی۰تھوڑی دیر تو وہ چھت کو گھورتی رہی۰پھر اچانک اسکی حسیات بیدار ہوئیں،وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۰اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۰گزشتہ شام کا منظر ایک فلم کی طرح اسکے ذہن کے پردے پر چلنے لگا۰اس نے جلدی سے اپنا جائزہ لیا،وہ بلکل صحیع و سلامت تھی۰سامنے ہی ٹیبل پر پانی کا جگ تھا،اسکا حلق خشک ہورہا تھا،اسنے جگ سے گلاس میں پانی نکال کر تیز تیز حلق سے اتارا۰کچھ سکون آیا تو ارد گرد نظر دوڑائی۰وہ ایک چھوٹا مگر صاف ستھرا کمرا تھا۰ایک بیڈ،ایک رائٹنگ ٹیبل،اور ایک الماری تھی،سامنے دیوار پر ایک چھوٹا دیوار گیر آئینہ لگا تھا۰کھڑکی پر پردے ڈھکے تھے،جس سے باہر کا منظر نظر نہیں آتا تھا،مگر بارش کی آواز سے ظاہر تھا کہ وہ کھڑکی روڈ کی طرف کھلتی تھی۰کمرے کا دروازہ بند تھا،اس نے جاکے ناب گھمایا تو وہ ان لاک تھا،وہ جلدی سے باہر نکلی،وہ کمرہ ایک لاؤنج میں کھلتا تھا،سامنے ٹی وی پر نیوز چینل چل رہا تھا،اور کوئی صوفے پر نیم دراز تھا۰اس نے قریب سے ایک گلدان اٹھایا اور خاموشی سے دبے پاؤں آگے بڑھنے لگی،جب ہی صوفے میں جنبش ہوئی،اور بیٹھے ہوۓ شخص نے گردن گھما کر دیکھا۰اس کے قدم وہیں جکڑ گئے۰کون ہو تم؟؟سامنے بیٹھے ہوۓ شخص سے اس نے استفسار کیا۰گو کہ دل اسکا زور زور سے دھڑک رہا تھا،مگر لہجے کو اس نے مضبوط رکھا۰بی بی آپ کون ہیں؟؟یہی سوال مجھے آپ سے پوچھنا تھا۰سامنے بیٹھا شخص اب دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا ہوگیا تھا۰اس نے چیکرڈ ٹراؤزر اور پولو شرٹ پہنی ہوئی تھی۰چھ فٹ سے نکلتا قد،کسرتی بازو جو ٹی شرٹ کی ہاف سلیوز سے جھلک رہے تھے،ہلکی بڑھی شیو،گندمی رنگت اور اسکا تیکھا انداز۰وہ ایک لمحے کو خائف ہوگئی۰مگر اگلے ہی لمحے اس فسوں سے نکل کر پھر تیز لہجے میں گویا ہوئی،دیکھو،تم مجھے سیدھے سے بتادو کہ تم کون ہو؟اور مجھے یہاں کیوں قید کیا ہوا ہے؟؟تم شوق سے جا سکتی ہو،مجھے تم کو اپنے سر پر سوار کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے،ایک تو تمھاری جان بچائی الٹے میرے ہی گلے پڑ رہی ہو،اب کی بار متقین نے ذرا درشت لہجے میں کہا۰اوہ سوری،وہ۰۰میں۰۰دراصل میں اپنی دوستوں کے ساتھ ٹور پر نکلی ہوئی تھی،آج موسم کی وجہ سے کوئی نہیں نکلا تو میں اکیلے ہی نکل گئی،واپسی پر دیر ہوگئی اور بس وہ لوگ میرے پیچھے لگ گئے،تھنکس آپ نے مجھے بچایا،ورنہ،،اس نے سوچ کے ہی جھر جھری لی۰بولتے بولتے وہ صوفے پر آکر بیٹھ گئی،جہاں سے متقین اٹھا تھا،ہوں،،،متقین نے ہنکارا بھرا،اور اسکے ہاتھ سے گلدان لے کر ٹیبل پر رکھا۰وہ کچھ خجل سی ہوگئی۰تمھارا نام کیا ہے؟اور کس ہوٹل میں ٹہری ہو؟؟متقین نے اس سے تفتیش شروع کردی۰میں مائشہ ہوں،پیار سے سب مشی کہتے ہیں،اور ہم ہوٹل ون میں ٹہرے ہیں۰اس نے بہت ہی دوستانہ لہجے میں بتایا۰آئی ایم میجر متقین۰متقین اب سامنے کاؤچ پر بیٹھ چکا تھا۰میں اپنے دوست کے ساتھ کسی کام کے سلسلے میں نکلا تھا،موسم خراب تھا اسلئے ہم لوگ واپس آرہے تھے ،جب میں نے آپکو ان لوگوں سے مزاحمت کرتے دیکھا۰مجھے دیکھتے ہی وہ دونوں رفو چکر ہوگئے ۰آپ بے ہوش ہوگئی تھیں اور اس وقت مجھے اپنے گھر سے سیف کوئی جگہ نہیں لگی تو میں آپکو یہیں لے آیا۰متقین دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملاے اسکو غور سے دیکھتا ساری روداد سنا رہا تھا۰مائشہ خاموشی سے سن رہی تھی۰ونس اگین تھینکس ،اللہ تعالیٰ نے آپکو فرشتہ بنا کے بھیجا،اینڈ سوری فار مئی مس بی ہیوئیر۰مائشہ نے اپنے سلکی براؤن بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ کہا۰وہ بیس بائیس برس کی دبلی پتلی،صاف رنگت اور براؤن بادامی آنکھوں والی ایک خوبصورت لڑکی تھی۰اوکے میں واپس چلتی ہوں اپنے ہوٹل،اس نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوتے ہوۓ کہا، نہیں،ابھی بہت رات اور بارش ہورہی ہے،میں صبح آپکو آپ کے ہوٹل ڈراپ کردونگا آپ آرام سے سوجائیں۰ویسے بھی آپ اس وقت راولپنڈی میں ہیں۰متقین نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۰اوہ،میرے دوست پریشان ہورہے ہونگے،کیا میں آپکے موبائیل سے انکو کال کر سکتی ہوں؟جی آپکا موبائیل میں نے آپکے بیگ میں رکھ دیا تھا۰سوری فار سیکورٹی پرپز میں اپنا موبائیل آپکو نہیں دے سکتا۰متقین نے بے رخی سے کہتے ہوۓ کچن کا رخ کیا۰مائشہ ایکدم خفت کا شکار ہوگئئ،جی جی میں اپنے سے ہی کر لوں گی۰مجھے لگا میرا موبائیل وہ لوگ بیگ کے ساتھ ہی لے گئے ہیں۰مائشہ بی بی جب میں آپکو یہاں تک لے آیا تو کیا آپکا بیگ لانا مشکل کام تھا،متقین نے پلٹ کر آئی برو اچکائی۰مائشہ ایکدم سٹپٹا گئی،جی تھینکس ،کہہ کر وہ جلدی سے اٹھ کر بیڈ روم میں آگئی۰کھڑوس آدمی،آرمی والے کوئی ایسے ہوتے ہیں،ہونہہ ،کہتے ہوۓ اس نے بیگ ٹٹول کر موبائیل نکالا،شکر بیٹری ڈیڈ نہیں تھی۰،دوستوں کو اپنی خیریت کی خبر دے کر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی۰مگر اسکی نیند اڑ چکی تھی،اور سر اب تک درد سے پھٹا جارہا تھا،شام سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا،پیٹ میں گرہیں پڑ رہی تھیں،کیا کروں ،اس نے انگوٹھے کا ناخن دانتوں سے چباتے ہوۓ سوچا۰دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو وہ نظر نہیں آیا۰وہ دبے قدموں باہر نکلی،جب ہی وہ سامنے سے اچانک آتے ہوۓ اس سے ٹکرا گیا۰افف۰۰مائشہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۰متقین نے ہاتھ میں پکڑا سامان نیچے رکھا،اور جھک کر اسکو دیکھنے لگا،آر یو آل رائٹ؟ہاں بس وہ ٹرے کا کونہ لگ گیا۰یہ میں تمھارے لئے ہی کھانا لینے گیا تھا، غفور چاچا اس وقت سو رہے ہیں ،ورنہ وہ نکال دیتے۰متقین نے اپنے کل وقتی ملازم کا نام لیا۰تم نے کچھ کھایا نہیں ہوگا ،یہ کھا لو۰متقین نے ٹرے اسکو تھمائی۰ٹرے میں
ایک پلیٹ میں سلیقے سے سالن اور ہاٹپاٹ میں روٹی تھی۰مائشہ نے تھنکس کہ کر ٹرے پکڑ لی،اور بیڈ روم میں آکے بیٹھ گئی۰اتنا بھی برا نہیں ہے کھڑوس،اس نےمسکرا کر کھانے کا پہلا نوالہ توڑتے ہوۓ کہا۰پیٹ بھرا تو اسکو نیند بھی آنے لگی۰اس نے بلینکٹ سر سے پاؤں تک تانا اور نیند کی وادی میں چلی گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: