Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 10

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 10

–**–**–

 

دادو آپ کو نہیں لگتا یہ رانیہ میں ابھی تھوڑا بچپنا ہے؟”
متقین ناشتے سے فارغ ہوکر دادو کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا تھا،مائشہ کو دادو نے جو روم دیا تھا،وہ اسمیں آرام کرنے جا چکی تھی۰
“ارے شادی سے پہلے سب لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں،میاں بچوں کی ذمہ داری آتے ہی سارا بچپن غائب ہوجاتا ہے۰”
دادو نے ہنستے ہوئے کہا۰
“ہمم مم۰۰ویسے میں آپ سے پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ لڑکی بہت کم عمر ہے،میرا تھوڑا مشکل ہوجائے گا،امیچیور لڑکی کے ساتھ گزارا۰
“متقین نے کچھ پریشان ہوتے ہوئے کہا۰
“ایسی بات کیوں کر رہے ہو،تمہاری کوئی بات ہوئی ہے اس سے”؟
دادو نے چونکتے ہوئے کہا۰
“ہاں کچھ خاص نہیں مگر مجھے ایسا فیل ہورہا ہے۰”
متقین نے گول مول سا جواب دیا۰دادو پر سوچ انداز میں اسکو دیکھے گئیں،جو
اب اپنے موبائیل میں مصروف تھا۰
“اچھا اور اس لڑکی کا کیا قصہ ہے؟
“اچانک دادو کو مائشہ یاد آگئی۰
متقین پہلے سے من گھڑت کہانی انکو سنا کر مطمئین کرنے لگا۰
“اچھا،وہ سب تو صحیع ہے،مگر یہ کب تک رہے گی یہاں پر؟”
دادو نے ساری روداد سن کر پوچھا۰
“دادو کچھ کہہ نہیں سکتے،ویسے بھی آپکے لئیے تو اچھا ہے نہ،آپ کا اچھا وقت گزر جائے گا۰”
متقین نے انکے پاؤں دباتے ہوئے کہا۰
“ہاں مگر وہ تو ویسے بھی میں تمہاری شادی کرنے والی ہوں،رانیہ کے ساتھ بھی میرا اچھا وقت گزر جائے گا،اور ویسے بھی تم اسکو جلدی یہاں سے چلتا کرو،ایسے جوان بچی کو گھر میں رکھنا صحیع نہیں ہے،اور پھر رانیہ کو بھی شادی کے بعد مسائل ہوسکتے ہیں۰”
دادو نے سمجھاتے ہوئے کہا۰
“دادو میں آپکو کیا بتاؤں کہ اسکو تو شادی سے پہلے ہی مسائل ہوچکے ہیں۰”
متقین دل میں سوچ کر رہ گیا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رات کے نہ جانے کون سے پہر جنت کی آنکھ کھلی،اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا،وہ عشاء پڑھتے پڑھتے سو گئی تھی۰
اب بھی اس نے وضو کیا اور تہجد کے لئیےکھڑی ہوگئی۰اس کی واحد امید
صرف اللہ تھا،جس کے آگے وہ گڑگڑا سکتی تھی۰
رشید تو اسکی ایک بھی سننے کو تیار نہ تھا۰وہ آجکل روز تہجد میں لمبی لمبی دعائیں مانگتی تھی،کہ کسی طرح رشید کا دل بدل جائے،اور وہ لوگ حرام سے بچ جائیں۰
ابھی بھی آنسو تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے،
“اے میرے مالک !تو میرے دل کا حال جانتا ہے،تو میرے رشید کو بچا لے،
اسکو شیطان کی چال سے بچا لے،مجھے اور میری آنے والی نسلوں کو اس حرام رزق سے بچالے،
میری فریاد تیرے سوا سننے والا کوئی نہیں ہے،صرف تو دلوں کو بدل سکتا ہے،رشید کا دل بدل دے،اسکو عقل عطا کردے،
مجھے ڈھنگ سے مانگنا نہیں آتا،مگر تو تو بن مانگے بھی عطا کرتا ہے۰
میں نے جانے انجانے کوئی گناہ کیا ہو تو تو اسکو بخش دے،مگر مجھے ایسی ذلت کی زندگی نہ دینا،جس میں حرام کی آمیزش ہو۰
میرے رب تو سن لے،میری دعا سن لے۰”
روتے روتے وہ بے ہوش ہوگئی تھی۰آنکھ کھلی تو فجر کی اذانیں ہورہی تھیں۰وہ پتہ نہیں کتنی دیر بے ہوش رہی تھی۰
بےبے بھی نماز کے لئے اٹھ چکی تھیں۰اسکا اٹھتا دیکھ کر اسکے پاس آگئیں۰
”کیا ہوگیا دھی رانی،جب سے آئی ہے،بڑی پریشان ہے،تہجد بھی بنا اٹھائے پڑھ رہی ہے،رشید تو ٹھیک ہے نہ؟؟”
بے بے نے اسکے بال سنوارتے ہوئے پوچھا،جو چادر کھلنے کے باعث بکھرے ہوئے نظر آرہے تھے۰
“بے بے میرے لئے دعا کرنا،بہت دل گھبرا رہا ہے”۰
جنت نے بے بے کے گلے لگتے ہوئے کہا۰
“سب خیر تو ہے نہ پتر؟؟میں تو ویسے بھی دن رات تیرے ہی لئے دعا کرتی ہوں،میرا تیرے سوا ہے ہی کون۰”
بے بے نے اسکو پچکارتے ہوئے کہا۰
“ہاں بے بے سب خیر ہے”۰
جنت نے لمبی سانس کھینچ کر کہا۰بس صرف دعاؤں کی ضرورت ہے۰
چادرسنبھالتی وہ وضو کے لئے کھڑی ہوگئ۰بےبے نے اسکے دل کے سکون کے لئے دل سے دعا کی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مائشہ کے ایکدم سے گھر سے چلےجانے سے گھر کا ماحول اور کشیدہ ہوگیا تھا۰سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے تھے،اوپر سے بلیک میلر کی کال نے بھی راتوں کی نیند اڑائی ہوئی تھی۰
آج رات زیشان صاحب اور انسپکٹر شہزاد کوپیسے لے کر جانے تھے۰
انسپکٹر شہزاد گھر کے کپڑوں میں تھا،اس نے اپنے بندےبھی آس پاس لگا دئیے تھے،جو آس پاس چھپے بیٹھے تھے۰ان لوگوں نے رات دو کا وقت دیا تھا،
زیشان تایا مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے پہلے ہی پہنچ گئے تھے،اب ایک گھنٹا گزرنے کو آگیا تھا،مگر کسی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۰
جب ہی رات کے سناٹے میں ٹائر کے چرچرانے کی آواز آئی۰انسپکٹر زیشان ایکدم الرٹ ہوکر بیٹھ گیا تھا۰
اس نے زیشان صاحب کوتسلی دینے والے انداز میں تھپتھپایا،اور جانے کا اشارہ کیا۰
زیشان تایا سخت ٹینشن کے زیر اثر تھے،
“اگر تم لوگ ناکام ہوگئے تو میرا بہت نقصان ہوجائے گا،”
انہوں نے رومال سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،جو کہ گاڑی کا اے سی کھلا ہونے کے باوجود انکے چہرے پر نظر آرہا تھا۰
“کچھ نہیں ہوگا،بس آپ اطمینان سے جاکر بات کریں،اور ویڈیو کی اصل کاپی حاصل کریں،باقی کام ہم بعد میں سنبھال لیں گے۰”
ایس پی شہزاد نے انکو حوصلہ دیا۰نہ چاہتے ہوئے بھی وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترے۰
سامنے والی گاڑی کی لائٹس آن تھیں،اور آنے والے نے منہ ڈھانکا ہوا تھا،روشنی آنکھوں پر پڑنے کے باعث ویسے بھی وہ اسکو دیکھ نہیں پا رہے تھے،جب ہی انکا موبائیل تھرتھرایا۰انہوں نے جیب سے موبائیل نکالا۰
ان نون نمبر سے کال آرہی تھی،یہ ضرور اسی بلیک میلر کی کال ہے،جب ہی وہ گاڑی سے اتر نہیں رہا تھا۰
ہیلو،کال ریسیو کرکے انہوں نے کان سے لگایا۰
“ہاں ،پیسے پورے لائے ہو نہ”؟
سوال کیا گیا۰
“ہاں ہاں ہاں پورے ہیں،کھول کے دیکھ لینا،تم آؤ گے یا میں آؤں؟”
زیشان صاحب نے سوال کیا۰
“نہیں آگے مت آؤ ،اپنی دائیں طرف دیکھو،اسکول کی دیوار کے ساتھ ایک کوڑا دان رکھا ہے،اس کے اوپر کالے رنگ کا شاپر رکھا ہے،وہ اٹھا کر اچھی طرح تسلی کرلو،اور وہیں سے بیگ کھول کے مجھے دکھاؤ۰”
فون کرنے والے نے حکم جاری کیا۰زیشان تایا نے دور سے ہی بیگز کی زپ کھول کر نوٹوں کی گڈیاں دکھائیں۰ہیڈ لائٹ کی روشنی میں اس بندے کو وہ صاف نظر آرہی تھیں۰
“ٹھیک ہے،اسکو بھی وہیں کوڑے دان کے اوپر رکھدو،اور بلکل بھی ہوشیاری نہ دکھانا،ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۰”
زیشان صاحب نے اسکی ہدایت کے مطابق بیگز کوڑے دان پر رکھے،اور وہاں موجود ڈی وی ڈی کوگاڑی میں موجود لیپ ٹاپ پر لگا کر چیک کیا۰وہ دونوں اب تک کال پر تھے۰
“مگراس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ اصل ویڈیو ہے اور تمہارے پاس کوئی کاپی نہیں ہے”؟
زیشان تایا نے ویڈیو دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا۰
“گارنٹی جب تک ہے،جب تک تم مجھے نقصان نہیں پہنچاؤ گے۰”
جیدے نے مونچھوں کو تاؤ دیا۰
“جب تک میں ٹھیک ٹھاک ہوں،ویڈیو کہیں لیک نہیں ہوگی،دوسری صورت میں میرے آدمی اسکو سارے شہر میں پھیلا دیں گے۰”
اس نے ان لوگوں کو دباؤ میں لینے کے لئے خالی دھمکی دی تھی،ورنہ اس کے اور رشید کے علاوہ یہ بات کسی کو نہیں معلوم تھی،اور اسکو بھی بس صبح تک کا انتظار تھا،اسکو صبح ہی یہ شہر چھوڑ دینا تھا،اور کچھ دنوں میں ملک چھوڑنے کا ارادہ تھا۰
“اور تمہارے ساتھ یہ آدمی کون ہے؟”
اسکا اشارہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایس پی کی طرف تھا۰
“یہ میرا دوست ہے،میں اتنی رات کو ڈرائیو نہیں کرسکتا ہوں۰
“زیشان صاحب نے تھوڑا گڑبڑا کر جواب دیا۰
“اچھا ٹھیک ہے،اب جاکر گاڑی میں بیٹھو اور فوراً یہاں سے نکل جاؤ۰”
زیشان صاحب نے ایس پی کو نظروں میں اشارہ کیا ،اور گاڑی میں بیٹھ گئے۰ایس پی نے انجن اسٹارٹ کیا۰
“وہ کہہ رہا ہے،ویڈیو اور لوگوں کے پاس بھی ہے،”
زیشان تایا نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پریشانی سے کہا۰
“فکر نہ کرو اسکو ہاتھ آنے دو،اگلے پچھلوں سب کا حساب لے لوںگا۰”
ایس پی نے کال ملاتے ہوئے کہا۰
“ہاں ہیلو،ہوشیار ہوجاؤ،اور سنو اسکو زندہ ہی پکڑنا ہے۰”
گاڑی ریورس گئیر میں ڈالتے ہوئے اس نے ہدایت دی اور فون کاٹ دیا۰
“ہم یہیں انتظار کریں گے۰جیسے ہی وہ بیگ کے پاس پہنچے گا،میرے آدمی اسکو جا لیں گے،بس ہم بھی سگنل ملتے ہی پہنچیں گے۰”
اسکول کے پچھلے جانب اپنی گاڑی کھڑی کرکے ایس پی نے زیشان صاحب کو لائحہ عمل بتایا۰زیشان صاحب دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھے تھے۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رات کے کھانے سے فارغ ہوکر مائشہ البم کھولے بیٹھی تھی،جب متقین ناک کرکے کمرے میں داخل ہوا۰
مائشہ نے مسکرا کر اسکو دیکھا اور البم بند کردیا۰
“میں نے سوچا تم بور ہورہی ہوگی ،اتنے دن سے گھر سے نہیں نکلی ہو،تو یہ کچھ بکس لایا تھا،تم کوریڈنگ کا شوق ہے؟؟”
متقین نے بکس مائشہ کو دیتے ہوئے کہا۰
“ہاں بہت زیادہ تو نہیں مگر تھوڑا بہت پڑھ لیتی ہوں،ویسے بائی دا وے تھینکس۰”
مائشہ نے بکس پکڑتے ہوئے کہا۰
“آئیں بیٹھیں”
اس نے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا۰
متقین مسکرا کر بیٹھ گیا۰
“دن بھر کیا کرتی ہو؟؟یونیورسٹی بھی چھوٹ گئی ہے۰”
“ہاں بس زندگی ایکدم پلٹ گئی۰میں نے کبھی نہیں سوچا تھا،میں یہ سب اتنی آسانی سے جھیل جاؤنگی۰پاپا نے مجھے لاڈوں میں پالا تھا،اور آج میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں۰”
مشی نے اپنے آنے والے آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۰
“اچھا یہ بتاؤ کیا دیکھ رہی تھیں تم؟”
متقین نے بات کا رخ موڑنا چاہا۰
“یہ میرے بچپن کا البم ہے،اسمیں میرے وہ سارے پیارے لوگ ہیں جو اب میرے ساتھ نہیں ہیں۰”
مائشہ نے نمناک آنکھوں سے البم پر ہاتھ پھیرا۰آئیں میں آپکو اپنے ممی پاپا سے ملواتی ہوں۰”
اس نے البم اٹھا کر سامنے رکھی ٹیبل پر رکھا اور خود گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھ گئی۰
“ارے یہ تم اتنی گول مٹول سی ہوتی تھیں۰”
متقین نے مائشہ کی پہلی سالگرہ کی تصویر دیکھ کر کہا۰جس میں وہ پھولا ہوا فراک پہنے اپنے پاپا کے ساتھ روتے ہوئے کیک کاٹ رہی تھی۰مائشہ جھینپ کر مسکرا دی۰
“اوریہ میری پھپھو ہیں،انکو بھی ممی کی طرح میں نے کبھی نہیں دیکھا،مگر سنا ہے،یہ بہت خوبصورت اور دادا کی لاڈلی تھیں۰پتہ نہیں کیوں مجھ سے سارے رشتے جلدی چھوٹ گئے۰”
وہ اپنی جون میں ساری بات کئے جارہی تھی اس بات سے بے خبر کہ متقین شاک میں ہے۰
“یہ تمھاری سگی پھپھوہیں؟ “
متقین نے پوچھنے سے زیادہ جیسے خود کو یقین دلانا چاہا تھا۰
“ہاں آپ کیوں اتنا حیران ہورہے ہیں؟”
مائشہ نے نا سمجھی سے کہا۰
“یہ میری ممی ہیں”۰متقین نے لمبا سانس لے کر جواب دیا۰
اب کی بار شاک لگنے کی باری مائشہ کی تھی۰
“وہاٹ ،انکی تو ڈیتھ شادی سے پہلے ہی ہوگئی تھی۰ہم لوگوں کو تو بچپن سے یہی پتہ ہے۰”
مائشہ نے نا سمجھی سے کہا۰
“ہمم م م۰۰اب ان سارے سوالوں کے جواب دادو ہی دے سکتی ہیں۰اس وقت تو وہ سو چکی ہونگی۰”
متقین نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۰
“کل شام کو واپسی پر ان سے بات کرتا ہوں۰”
جاری ہے۰۰۰۰۰۰۰۰
کس کس کو شک تھا کہ مائشہ کی پھپھو ہی متقین کی ماما ہوں گی۰کمنٹ میں جواب دیں اور ایپی کیسی لگی یہ بتانا مت بھولئیے گا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: