Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 11

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 11

–**–**–

 

جنت کی آنکھ فون کی آواز پرکھلی تھی،ویسے تو اسکو صبح خیزی کی عادت تھی،مگر کل کی رات اس پر بہت بھاری تھی۰اسلئیے وہ فجر کے بعد جب سوئی تو فون کی گھنٹی پر ہی اٹھی۰
“رشیدے کیسا ہے تو؟کہاں ہے تو؟”
فون ریسیو کرتے ہی اس نے بے صبری سے کہا تھا۰
“میں ٹھیک ہوں،بہت لمبی کہانی ہے،تو آج دن کی گاڑی سے واپس آجا،تب ہی تجھ کو سب بتاتا ہوں۰فون پر اتنی لمبی بات نہیں ہوسکتی ہے۰”
تو کہاں ہے؟؟میرا دل ڈوب رہا ہے۰”
جنت نے دل پر ہاتھ رکھ کر بولا۰
“ارے بول رہا ہوں نہ میں ٹھیک ہوں،تو گھر پہنچ سب بتاتا ہوں”۰
رشید نے جھنجھلا کر جواب دیا۰
“مگر مجھے تو پہنچتے پہنچتے کل ہوجائے گی”۰
“تو ٹھیک ہے،تو بس کسی سے ٹکٹ منگوا کر پہلی گاڑی سے نکل جا۰میں فون رکھ رہا ہوں”۰
“ رشیدے۰۰۰جنت آواز دیتی رہ گئی،مگر وہ فون رکھ چکا تھا۰
اللہ سب خیر کرنا،میرا سہاگ سلامت رکھنا میرے مولا۰
وہ دل ہی دل میں دعائیں پڑھتی اپنا سامان سمیٹنے لگی،مگر ایک بات تو طے ہے کہ رشید نے پیسے اب تک نہیں لئیے ورنہ وہ مجھے واپس نہ بلاتا،اس نے خود کلامی کی اور اس بات کا احساس ہوتے ہی اسکے اندر طمانیت اتر گئی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“ اشرف دادو کہیں گئی ہیں؟”
متقین نے دادو کو گھر میں کہیں نہ پاکرملازم سے پوچھا۰
“ہاں صاحب صبیحہ بی بی آئی ہوئی ہیں نہ تو بیگم صاحب ان کی طرف گئی ہیں۰”
“اچھا میں روم میں ہوں،دادو آئیں تو مجھے آکر بتا دینا۰”
متقین سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۰
ابھی دس منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ دروازے پر ناک ہوا۰
“صاحب وہ بیگم صاحبہ آگئی ہیں۰”
اشرف نے دروازہ کھولنے پر اسکو اطلاع دی۰
“اچھا میں آتا ہوں۰”
متقین نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آف کیا،اور دادو سے ملنے نیچے اترنے لگا۰
“اسلام وعلیکم ،کیسی ہیں آپ”؟
متقین نے سے سر آگے جھکا کر انکو سلام کیا۰
“وعلیکم اسلام،جیتے رہو،خوش رہو۰ الحمد للہ،بلکل ٹھیک ہوں ۰”
دادو نے متقین کے سر پر ہاتھ پھیرا۰”
“صبیحہ دادو آئی ہوئی ہیں؟”
متقین نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۰
“ہاں وہ آجکل انعم کے پاس رکنے آئی ہوئی تھیں تو میں نے کہا،مل کر آجاؤں۰ پرسوں واپس بھی چلی جائیں گی۰”
“جب صبیحہ دادو بھی آئی ہوئی تھیں تو انعم پھپھو نے شرکت کیوں نہیں کی منگنی میں؟؟”
متقین نے حیرت سے پوچھا۰
“دراصل اسی دن زروا کی سالگرہ تھی،اس لئیے وہ مصروف تھی۰کہہ رہی تھی کہ چکر لگاؤں گی ایک دو روز میں متقین کو مبارک باد دینے کے لئیے۰بلکہ میں ساتھ منگنی کا البم بھی لے گئی تھی۰سب کو ہی پسند آئی رانیہ۰”
دادو نے مسکراتے ہوئے کہا۰
“اچھا مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی۰”
متقین نے تمہید باندھی۰
“ہاں بولو۰”
دادو نے کچھ اچھنبے سے دیکھا کہ متقین بات کرنے سے پہلے تمہید کیوں باندھ رہا ہے۰”
مائشہ کو بھی بلالوں۰”
وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۰
“متقین ہم دونوں اکیلے بات کریں یہ مناسب نہیں ہے؟”
دادو نے اسکو ٹوکا۰
“نہیں دادو یہ بات مائشہ کے سامنے ہوگی،آپ دو منٹ رکیں۰”
“مائشہ۰۰۰ مائشہ۰”
متقین نے اٹھتے ہوئے اسکو آواز دی۰
“جی “
،
مائشہ فوراً ہی روم سے باہر آئی۰دادو نے اسکا روم نیچے ہی سیٹ کروادیا تھا۰
“مائشہ دادو کو وہ اپنا فیملی البم دکھاؤ۰”
متقین نے معنی خیزی سے مائشہ کو دیکھا۰
“جی ابھی لائی۰”
مائشہ فوراً روم سے البم لے کر آگئی۰
دادو کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر متقین کرنا کیا چاہ رہا ہے؟
دادو نے بے دلی سے البم کھولا۰ظاہر ہے مائشہ کی فیملی میں انکو کیا انٹرسٹ ہو سکتا تھا۰مائشہ ان سے سب کا تعارف کروا رہی تھی۰
“اور یہ میری پھپھو ہیں۰”
متقیین کی ماما پر نظر پڑتے ہی دادو کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا۰
“زریں تمھاری پھپھو تھی؟؟”
دادو نے بے یقینی سے ایک نظر البم اور پھر ایک نظر مائشہ کو دیکھا۰
مائشہ نے خاموشی سے گردن ہلادی۰
“اور اب آج آپ کو بتانا پڑے گا کہ ماما اپنے گھر والوں سے کیوں نہیں ملتی تھیں؟”
متقین نے البم بند کرتے ہوئے انکے ہاتھ سے لیا اور انکو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
احمد (متقین کے پاپا) اپنی خالہ زاد انعم کو دل ہی دل میں پسند کرتا تھا۰
یونیورسٹی پہنچ کر اس نے مجھ سے بولا بھی کہ میں انعم کا رشتہ دے دوں۰
اسکے جاب لگنے کے بعد ہوجائے گی۰اسوقت ہم لوگ لاہور میں رہتے
تھے۰
صبیحہ باجی(انعم کی امی) سے میں نے دبے لفظوں میں اپنی خواہش کا اظہار بھی کردیاتھا کہ احمد کے فارغ ہوتے ہی میں باقاعدہ انعم کا ہاتھ مانگنے آؤں گی۰اسوقت تو صبیحہ باجی کافی خوش ہوگئی تھیں۰کیونکہ انعم انکی سب سے چھوٹی اولاد تھی،اور اب بس اسکی ہی شادی باقی تھی۰گو اس وقت وہ میٹرک میں تھی،مگر احمد کے بھی چار سال پڑھائی کے تھے،اسلئیے میں نے سرسری بات کرنا ہی مناسب سمجھا۰ان سے بات کرکے میں مطمئن ہوگئی تھی، کہ اب صبیحہ باجی انعم کی کہیں بات طے نہیں کریں گی،اور میں نے
احمد کو بھی بولا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دے۰
تمہاے دادا تھوڑے سخت مزاج آدمی تھے،وہ اس سب بات کو پسند نہیں کرتے تھے،سو میں نے بھی یہی سوچا تھا کہ وقت آنے پر ان سے بات کرلوں گی۰
ان دنوں احمد فائنل ائیر میں تھا جب ہم کو انعم کے نکاح کی خبر ملی۰بقول صبیحہ باجی ،انعم کے بابا نے ان سے بھی بات پکی ہونے کے بعد ہی بات کی تھی،وہ اپنے دوست کے بیٹے سے انعم کا رشتہ طے کرچکے تھے۰اور اب ایک ہفتہ بعد اسکا نکاح تھا۰
احمد پر تو یہ خبر بجلی بن کر گری تھی۰وہ سب چھوڑ چھاڑ کر تھوڑے عرصے کے لئیے ہمارے آبائی گاؤں چلا گیا تھا۰
ان دنوں شمالی علاقہ جات میں زلزلہ وغیرہ کیوجہ سے بہت جانی اور مالی نقصان ہوا تھا،زریں بھی ریسکیو ٹیم کے ساتھ وہاں آئی تھی۰تمہارے دادا نے بھی یہاں سے کافی مالی امداد بھجوائی تھی،جس کی دیکھ رکھ احمد ہی کر رہا تھا۰
لوگوں کو خوراک اور ادویات وغیرہ پہنچانا انکی مدد کرنا،اس نے خود کو ان سب کاموں میں مصروف کرلیا تھا ،وہیں اس کی ملاقات زریں سے ہوئی اور وہیں سےدونوں کی دوستی ہوگئی۰ان دنوں جب احمد سے میری بات ہوتی تھی تو وہ کافی مطمیئن لگتا تھا اس نے مجھے زریں کے متعلق بتایا بھی تھا۰
وہ کسی رفاہی کیمپ میں بیمار بچوں اور عورتوں کی مرہم پٹی کرتی تھی،گو وہ ابھی ڈاکٹر نہیں بنی تھی،مگر ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ آئی تھی۰
ان ہی دنوں احمد کے دل میں اپنی فوج کے لئے محبت اور عزت اور بڑھ گئی۰وہ اکثر بعد میں بھی مجھ سے کہتا تھا کہ “میرا بیٹا ہوا تو میں اسکو فوج میں بھیجوں گا۰”
دادو نے نم آنکھوں سے متقین کو دیکھا،متقین نے مسکرا کر انکو گلے لگالیا۰
خیر حالات صحیع ہوجانے کے بعد جب دونوں کی واپسی ہوئی تو میں احمد کا رشتہ لے کر تمہارے ننھیال گئی،مگر وہاں سے مجھے خالی ہاتھ آنا پڑا۰
وہ لوگ پختون تھے،اور اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کرتے تھے۰تمہارے نانا اپنے اصولوں کے پکے تھے،انہوں نے میری کسی بات پر دھیان نہیں دیا۰ایک ماموں جو زریں سے بڑے تھے،وہ بھی سخت ناراض ہوئے۰بعد میں احمد سے پتہ چلا کہ انہوں نے زریں کا کالج جانا بھی بند کردیا ہے۰
ایک بار میں احمد کو ٹوٹتا ہوا دیکھ چکی تھی،میری پوری کوشش تھی کہ میں کسی طرح ان لوگوں کو منا لوں۰بلآخر تمہارے نانا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ اگر زریں ان کی مرضی کے خلاف شادی کرتی ہے تو وہ اسکی شکل ساری زندگی نہیں دیکھیں گے۰زریں ماں باپ کی خوشی کے بغیر شادی نہیں کرنا چاہتی تھی،سو اس نے احمد کو بھولنے میں ہی سب کی بہتری سمجھی،مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۰
ان ہی دنوں تمہارے دادا کا بھی انتقال ہوگیا۰احمد اپنا غم بھول کرمجھے وقت اور توجہ دینے لگا۰وہ زیادہ تر وقت میرے ساتھ ہی گزارتا تھا،اس نے اپنا آخری سیمسٹر بھی مکمل کرلیا تھا۰زریں کی شادی اپنے ہی برادری میں طے کردی گئی۰
جس دن زریں کا مایوں تھا،اسکو کچھ کام کے سلسلے میں تھوڑی دیر کے لئےاپنے کالج جانا تھا،اس دن شہر میں ہنگامہ وغیرہ ہوگیا۰اور کالج کی چھٹی جلدی ہوگئی۰وہ بس اسٹاپ پر پریشان حال کھڑی تھی،کیونکہ وہ کبھی بس سے گھر نہیں جاتی تھی،ڈرائیور ہی چھوڑ کر اور لے کر جاتا تھا۰اور ابھی ڈرائیور کے آنے میں وقت تھا،جب ہی میرا اور احمد کا وہاں سے گزر ہوا۰
میں نے اسکو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھالیا۰وہ جگہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی،اسلئیے اسکو اس کے گھر چھوڑنے کے بجائے ہم اپنے گھر لے آئے،کیوں کہ حالات کافی خراب ہوچکے تھے،اور ایسے میں زیادہ دیرباہررہنا ٹھیک نہیں تھا۰
میں نے سوچا تھاکہ گھر پہنچ کر ہم اسکے گھر کال کردیں گے۰ان دنوں موبائیل وغیرہ کا استعمال اتنا عام نہیں تھا۰گھر پہنچی تو مجھے پتہ لگا کہ میرا فون تو ڈیڈ ہے۰ادھر زریں کے گھر والے جب زریں کو لینے کالج پہنچے تو اسکو وہاں کا نہ پاکر بہت پریشان ہوئے۰
حالات زیادہ خراب ہوچکے تھے سڑکوں پر جلاؤ ،گھیراؤ ہورہا تھا۰زریں کا پریشانی سے برا حال تھا۰خیر میں نے بہت مشکل سے کسی طرح شام تک انکے گھر اطلاع بھجوادی کہ زریں میرے پاس ہے۰مایوں تو ویسے بھی ملتوی ہوچکا تھا۰مگر تھوڑے بہت مہمان تو پہلے سے ہی گھر میں موجود تھے۰جنہوں نے طرح طرح کی باتیں شروع کردی تھیں۰
خیر میں اگلے دن حالات بہتر ہونے کے بعد خود زریں کو لے کر تمہارے گھر گئی۰مگر اف فف۰۰۰تمہارے نانا کا غصہ آسمان چھو رہا تھا۰انہوں نے زریں کی شکل دیکھنے سے منع کردیا تھا اور اسی وقت اسکو گھر سے چلے جانے سے کہا۰
میں نے لاکھ سمجھایا مگر زریں کے سسرال والوںکو بھی پتہ لگ چکا تھااورانکا کہنا تھا کہ انکی بیٹی نے رات گھر کے باہر گزاری ہے اور یہ انکی عزت کو گوارا نہیں ہے کہ وہ ایسی لڑکی کو بہو بنائیں۰جس کا کردار داغدار ہو۰اسلئے وہ خود بھی زریں کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے۰
جب کہ تمہاری ماما تمہارے نانا کی لاڈلی اولاد تھیں۰مگر یہ جو نام نہاد غیرت ہوتی ہے نہ ،جب غلط جگہ دکھائی جاتی ہے تو صرف تباہی لاتی ہے۰تمہاری نانی اور چھوٹے ماموں نے تمہارے نانا اور بڑے ماموں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ حالات ایسے ہوگئے تھے،اسمیں زریں کا قصور نہیں ہے،وہ اب بھی معصوم ہےمگرخاندان کے دباؤ میں آکر وہ لوگ سننے کو تیار نہیں تھے۰
“مگر پھپھو تو بے قصور تھیں یہ تو ان پر تہمت تھی نہ،”
مائشہ نے تھوڑا سا ناراضگی سے کہا۰
“ہاں ہمارے یہاں یہی تو اب سب سے آسان کام ہے،کسی کی بھی ذات پر کیچڑ اچھالنا،اسکو بدنام کرنا،اور اس سب میں گناہگار وہ بھی برابر کے ہوتے ہیں جو ایسی بات پر کان دھرتے ہیں اور حق اور سچ کا ساتھ نہیں دیتے۰تم نے حضرت عائشہ کا واقعہ افک تو سنا ہوگا نہ؟؟”
دادو نے مائشہ کو دیکھ کر سوال کیا۰
مائشہ نے نفی میں گردن ہلائی۰
“لوگوں نے جب انکی عفت و پاکدامنی پر انگلی اٹھا لی تو ہم تو انکی گرد کو بھی پہنچتے ہیں۰”
“قصہ کچھ یوں ہے کہ غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے مدینے میں رات گزارنے کے لئے ایک جگہ قیام کیا۰
صبح حضرت عائشہ اپنے ہار کو(جو کھو گیا تھا) ڈھونڈنے کے لئے ہودج سے نکلیں،جو کہ زمیں پر رکھا ہوا تھا۰
جب قافلہ کہیں رکتا تھا تو ہودج کو بھی اونٹ سے اتارکر زمیں پر رکھ دیا جاتا تھا، اور سفر شروع کرتے وقت اسکو واپس اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا۰
ادھر حضرت عائشہ اپنے ہار کی تلاش میں باہر نکلیں ادھر قافلے والوں نے واپسی کی راہ لی اور انکا خالی ہودج اٹھا کر اونٹ پررکھ کر سوار ہوگئے۰
واپسی پر قافلہ نہ پاکر وہ بہت پریشان ہوئیں،اتنے میں حضرت صفوان رضہ جن کی زمہ داری پیچھے رہ جانی والی چیزوں کو سنبھالنے کی تھی وہ پہنچ گئیے۰انہوں نے آپ رضہ کو آیت حجاب سے پہلے دیکھا ہوا تھا سو وہ پہچان گئے اور انکو اپنےاونٹ پر بٹھا کر خود نکیل تھام کر روانہ ہوئے اور قافلہ سے جا ملے۰
مگر وہاں کچھ منافقین نے اس بات کو بڑھا چڑھا کر آپ رضہ کی خدانخواستہ پاکدامنی پر سوال اٹھالیا۰اس سب پروپیگنڈے میں کچھ مسلمان بھی بہک گئے۰
بہرحال اللہ پاک آپ کی عفت و پاکدامنی کی مثال قرآن پاک کی دس آایات میں اتاریں جن کو آیاتِ افک کہتے ہیں۰
اور منافقین کے لئے تو اللہ نے آخرت میں عزاب چھوڑ رکھا مگر جو مسلمان اس سب میں بہک گئے تھے ان پرحد قذف لگا کر انکو پاک کردیا گیا۰
تو بیٹا صرف آبرو ریزی کی سزا ہی سو کوڑے یا رجم نہیں بلکہ کسی پر الزام لگانا بھی بہت بڑا گناہ ہے۰
مگر آج ایک سے بات سن کر ہم دوسرے کو بغیر تصدیق کے بات آگے پہنچا دیتے ہیں۰یہ سوچے بغیر کے اسکا گناہ اور سزا کتنی سخت ہے۰”
بہرحال اس سب میں مجھے اپنا آپ بھی مجرم لگ رہا تھا،کہ نہ میں اس دن اسکو اپنے گھر لاتی،نہ اسکی پورے خاندان کے سامنے اتنی بے عزتی ہوتی۰مگر وقت کون پلٹ سکا ہے جو میں پلٹتی۰
دادو نے لمبی سانس خارج کی۰مگر مستقبل میرے ہاتھ میں ضرور تھا،میں دونوں بچوں کے کردار کی مضبوطی اور پاک دامنی کی گواہ تھی،میں انکو ناکردہ گناہ کی سزا میں کیوں جھونکتی۰
میں نے اسی شام چند لوگوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح پڑھوادیا۰اور شاید میری کوئی نیکی ہی تھی،جو مجھے زریں جیسی بہو ملی۰اس نے میری بیٹی کی کمی صحیع معنوں میں پوری کردی تھی۰میرا گھر خوشیوں کا گہوارہ بن گیا تھا۰سال پر لگا کر اڑ گیا۰اور ہمارا گھر تمہاری ننھی قلقلاریوں سے گونج اٹھا۰
دادو نے پیار سے متقین کے سر پر ہاتھ پھیرا۰
تم چند ماہ کے تھے،جب زریں کو ایک بار پھر شدت سے اپنے ماں بابا یاد آئے۰احمد اسکو لے کر تمہارے نانا کے گھر گیا۰مگر اس وقت تمہارے نانا کا انتقال ہوچکا تھا۰اور تمہارے بڑے ماموں اور مامی نے گیٹ سے ہی دونوں کی خوب بے عزتی کی۰
انکا کہنا تھا کہ تمہارے بابا زریں کے جائیداد کے حصے کے چکر میں ان لوگوں سے تعلق جوڑنا چاہ رہے ہیں۰مگر اب زریں کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۰وہ آئیندہ ان لوگوں کو اپنی شکل نہ دکھائیں۰
تمہاری ماما نے اپنی ماں سے ملنے کے لئیے بہت منت کی مگر ان دونوں میاں بیوی نے انکو گھر میں گھسنے نہیں دیا۰
اس دن احمد نے زریں سے بول دیا کہ اب بس وہ ان لوگوں کو بھول جائے۰اب اسکی زندگی بس ہم لوگ ہی ہیں۰وہ نہیں چاہتا کہ اسکا بچہ بڑا ہوکر اتنی ہتک آمیز باتیں سنیں۰اسلئیے آئندہ ان لوگوں سے ملنے کا خیال نہ کرنا۰زریں بھی اس سے متفق تھی،اسلئیے کبھی بھی اس نے تم کو تمہارے ننھیال کے بارے میں نہیں بتایا۰
اسکے بعد ہم لوگ لاہور چھوڑ کر کراچی شفٹ ہوگئے۰مجھے نہیں پتہ کب تمہارے ننھیال والے بھی کراچی آگئے۰
دادو بول کے سانس لینے کو رکیں۰
“پاپا بتاتے تھے کہ پہلے ہم لاہور میں رہتے تھے،پھردادی کی ڈیتھ کے بعد تایا اور پاپا نے کراچی میں ہی بزنس سیٹ اپ کرلیا تو ہماری فیملی بھی کراچی موو ہوگئ۰”
مائشہ نےہلکے ہلکے آنسوؤں کے بیچ میں اپنے گھر والوں کے موو ہونے کی وجہ بتائی۰
وہ اس پورے قصے کے دوران آہستگی سے رو رہی تھی۰
“خیر تم دس سال کے تھے جب احمد زریں کو گیارہویں اینیورسری پر دو روز کے لئیے ان ہی علاقوں میں لے کر گیا تھا جہاں دونوں پہلی بار ملے تھے۰تم کو میرے پاس چھوڑ گئے تھے۰
تم بہت ناراض تھے،کہ میں اب کبھی ان دونوں سے بات نہیں کروں گا،اور قسمت نے واقعی تمہاری ان دونوں سے کبھی بات نہیں ہونے دی۰
واپسی پر بارش کی وجہ سے پھسلن بڑھ گئی تھی،دھند بھی بہت تھی اسلئیے ان کی گاڑی توازن نہ رکھ سکی اور ایک گہری کھائی میں گرگئی۰”
دادو بلک بلک کر رونے لگیں۰مائشہ کے آنسوؤں میں بھی تیزی آگئی تھی۰
متقین کی آنکھیں بھی نم تھیں۰
اس نے دادو کو گلے لگا کر تھپکنا شروع کردیا اور دوسرے ہاتھ سے ٹشو کا ڈبہ مائشہ کی طرف بڑھایا۰مائشہ نے تھینکس کہہ کر ٹشو پکڑا۰اور ساری کوشش اپنے آنسوؤں کو روکنے پرلگادی۰
تھوڑی دیر بعد دادو سنبھلیں تو دوبارہ گویا ہوئیں۰
“مجھے ںہیں پتہ کہ میں نے اتنے سال تم سے یہ سب چھپا کر صحیع کیا یا غلط مگریہ میرے مرحوم بیٹے کی خواہش کا احترام تھا۰”
“ آپ ایک بہت اچھی دادو ہیں یہ تو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۰مگر ایک بہتریں ماں اور ساس ہونے کے ساتھ آپ ایک بہترین انسان بھی ہیں۰مجھے فخر ہے میں نے آپ کے ہاتھوں میں پرورش پائی۰”
متقین نے دادو کے ہاتھوں پر پیار کیا۰دادو نم آنکھوں سے مسکرا دیں۰
“مگر دادو ایک سوال اب بھی ہے کہ انعم پھپھو کی شادی تو بہت کم عمری میں ہوگئی تھی آپ کہہ رہی تھیں،مگر مجھے تو یاد ہے میں بھی انکی شادی میں گیا تھا،آئی تھنک گیارہ بارہ سال کا تو ہوںگا میں۰”
متقین نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۰
“ارے شادی کہاں ہوئی تھی۰بھائی صاحب نے بیچاری کا نکاح جس سے کیا تھا وہ تو کوئی فراڈیا نکلا۰دس سال تو اسکو اپنے نام سے باندھ کے رکھا اور خود امریکہ روانہ ہوگیا۰نہ طلاق دیتا نہ رخصتی کرواتا۰صبیحہ باجی کا تو رو رو کر برا حال تھا کہ انکی بچی رل گئی۰اٹھارہ سال میں کیا جانے والے نکاح سےاٹھائیس سال میں چھٹکارہ ملا۰پھر ظاہر ہے،دس سال کسی کے نام پر بیٹھی تھی،تو آنے والے رشتے بھی آسانی سے کہاں ہضم کرتے یہ بات۰بڑی مشکل سے اسکی شادی فاران سے ہوئی۰
مگر خیر جتنا اس بچی نے سہا تھا،فاران تو ہیرا ہے ماشااللہ،صبر کا پھل ہے انعم کے۰”
دادو نے مسکراتے ہوئے کہا۰
“ہمم م م یہ تو ہے۰اچھا تو اب یہ بات بھی کلئیر ہوگئی کہ مس مائشہ میری ڈئیر کزن ہیں،میرے سگے ماموں کی بیٹی۰”
متقین نے مائشہ کی طرف گھومتے ہوئے کہا۰
“جی میرے لئیے بھی یہ سب کچھ ایک سرپرائز ہے۰بس افسوس یہ ہے کہ کاش پھپھو ابھی زندہ ہوتیں میں ان سے مل سکتی۰”
مائشہ نے ٹشو سے آنکھیں خشک کیں۰
“اچھا چلیں رونے دھونے کا سیشن بہت ہوگیا۰اب جلدی سے آپ دونوں مسکرائیں۰ان فیکٹ مجھے بھوک بھی بہت لگ رہی ہے۰”
متقین نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۰
“ ہاں بس میں کھانا لگواتی ہوں۰”
دادو اٹھنے لگیں،جب ہی مائشہ نے انکا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا۰
“دادو میں نکلواتی ہوں،آپ بیٹھیے۰اور آپکو دادو کہنے پر آپکو برا تو نہیں لگے گا۰”
مائشہ نے سوالیہ نظروں سے دادو کو دیکھا۰
“ارے جیتی رہ میری بچی،اور جیسے میں متقین کی دادو ویسے ہی تمہاری بھی دادو ہوں۰”
انہوں نے پیار سے اسکی تھوڑی چھوئی۰مائشہ مسکراتی ہوئی کھڑی ہوگئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: