Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 12

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 12

–**–**–

 

دو دن سے دادو کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی،مائشہ اس وقت بھی ان کے لئیے سوپ بنوا کے لائی تھی۰
جب ہی اشرف نے رانیہ اور انکی والدہ کے آنے کی خبر دی۰
“تم ان لوگوں کو ڈرائینگ روم میں بٹھاؤاور ناشتے کا بندوبست کرو میں آتی ہوں۰”
دادو نے اشرف کو ہدایت دی۰
“مائشہ بیٹا میری ٹانگوں میں بہت درد ہے،تم ذرا اشرف کے ساتھ تھوڑا انتظامات وغیرہ دیکھ لو۰متقین کی ساس اور منگیتر آئی ہے۰”
دادو نے مائشہ کو پچکارتے ہوئے کہا۰
“اچھا متقین کی انگیجمنٹ ہوگئی۰”
مائشہ نے حیرت سے پوچھا۰
“ہاں بس پچھلے ہی ماہ تو کی ہے۰”
دادو اسکو جواب دیتی کھڑی ہوگئیں۰آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر شال درست کرکے وہ باہر نکل گئیں۰
مائشہ بھی کچن کی طرف چل دی۰جس وقت اشرف کے ساتھ مائشہ روم میں داخل ہوئی تو متقین بھی آچکا تھا،اور وہاں بہت اچھے ماحول میں بات چیت جاری تھی۰وہ لوگ دادو کی طبعیت کا سن کر آئے تھے۰
“ارے تم نے کیوں زحمت کی۰اشرف کرلیتا نہ”۰
متقین نے مائشہ کو پلیٹ وغیرہ سرو کرتے دیکھ کرکہا۰
“اشرف ہی نے کیا ہے سب،میں تو بس اسکے ساتھ تھی۰”
مائشہ نے مسکرا کر پلیٹ رانیہ کی والدہ کی طرف بڑھائی۰
رانیہ کے لئے یہ منظر کچھ خوش کن نہیں تھا۰
“یہ کون ہیں؟؟ “
مائشہ کے غیر معمولی حسن اور مائشہ کے لئے متقین کی فکر کچھ رانیہ کی والدہ کو بھی نہ بھائی تھی۰اسلئیے انہوں نے دادو سے سوال کیا۰
“یہ متقین کے ماموں کی بیٹی ہیں۰”
دادو نے تعارف کروایا۰
“اچھا تو انگیجمنٹ پر کیوں نہیں تھیں یہ؟”
رانیہ کی والدہ نے حیرت سے پوچھا۰
“ہاں بس اس وقت کچھ مصروفیت کے باعث آ نہیں سکی تھیں۰آپ کا یہ ملتانی سوٹ ہے نہ؟بہت خوبصورت لگ رہا ہے۰”
دادو نے جلدی سے بات پلٹی۰
رانیہ کی والدہ انکو اپنے سوٹ کی تفصیل بتانے لگیں۰جب ہی متقین کے فون پر میسج آیا۰
“آپ کو مجھ سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی،صاف بتا دیتے کہ یہ آپ کی کزن ہیں،مجھ سے کیوں بولا کہ یہ دوست کی بہن ہے؟”
میسج پڑھ کر متقین کا دماغ گھوم گیا۰
“مجھے آپ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۰مگر بہت سی باتیں وقت کی ضرورت ہوتی ہیں۰امید ہے آئندہ آپ ان باتوں کو سمجھیں گی۰”
میسج کرکے متقین روم سے ایکسکیوز کرکے اٹھ گیا۰رانیہ کو مائشہ کو دیکھ دیکھ کر غصہ آرہا تھا،اسکے پہلے جھگڑے کی وجہ یہ لڑکی بنی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“دیکھیں گولیاں انکی ریڑھ کی ہڈی میں لگی تھیں۰جس نے ان کے دماغ کے بھی کچھ حصے کو متاثر کیا ہے۰ہم نے آپریشن کردیا ہے،مگر اب یہ ساری زندگی کے لئے اپاہج ہوگئے ہیں،یہ چل پھر نہیں سکتے ہیں،بہت ممکن ہے کہ انکو بولنے میں بھی دقت ہو،کچھ ٹیسٹ ابھی باقی ہیں،کوئی بھی حتمی جواب ہم آپکو سب ٹیسٹ ہوجانے کے بعد ہی دیں گے۰”
ڈاکٹر نے آپریشن تھیٹر سے باہر آکر خبر دی۰کوریڈور میں ایکدم سناٹا چھا گیا تھا۰سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“کیسا رہا سفر؟؟”
ٹرین سے اترتے ہی جنت کو رشید مل گیا تھا جو اس وقت اسکو لینے اسٹیشن آیا ہوا تھا۰
“ہاں اچھا رہا۰تو سنا اتنی جلدی میں بلایا مجھے۰”
جنت نے اسکو بیگ پکڑاتے ہوئے پوچھا۰
“گھر پہنچ پھر بتاتا ہوں۰”
رشید نے اسکا بیگ کندھے پر پہنتے ہوئے جواب دیا۰
“قسم سے رشید میں اتنا خوفزدہ تھی،شکر تونے پیسوں کا لالچ چھوڑ دیا۰میں نے رب کا لاکھ شکر ادا کیا۰”
جنت نے اس وقت بھی آسمان کو دیکھتے ہوئے شکر ادا کیا۰
“تجھ کو کس نے کہا کہ میں نے پیسے نہیں لئے۰”
رشید نے کنکھیوں سے جنت کو دیکھا۰
“کیونکہ اگر تونے پیسے لئے ہوتے تو تو خود گاؤں آتا مجھے یہاں نہیں بلواتا۰”
جنت نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے تفاخر سے اپنی ذہانت جتائی۰
رشید اس وقت زیشان صاحب کی گاڑی میں جنت کو لینے آیا ہوا تھا۰وہ اکثر ہی کام کے لئیے گھر کی گاڑی استعمال کر لیتا تھا۰زیشان صاحب کی طرف سے اسکو اجازت تھی۰
جنت اس ایمانداری والے ٹھاٹ بھاٹ میں ہی خوش تھی۰وہ زیادہ کی ہوس میں کبھی نہیں رہی تھی۰
باتوں کے بیچ دونوں گھر پہنچ گئے تھے۰جنت کو گھر اتار کر رشید ہاسپٹل کے لئے روانہ ہوگیا۰جہاں زیشان صاحب ایڈمٹ تھے۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“میں رات کے ایک بجے کا الارم لگا کر لیٹ گیا تھا،کہ اگر آنکھ لگ گئی تو کہیں مجھے پہنچنے میں دیر نہ ہوجائے۰ساتھ ساتھ ایک ڈر اور خوف بھی حواسوں پر طاری تھا۰کچھ تیری باتوں نے بھی مجھے تھوڑا سا ہلا دیا تھا۰مگر سب چیزوں کو پسِ پشت ڈال کر میں آنکھ بند کرکے لیٹ گیا کہ اب آر یا پار،یا تو آج میں پکڑا گیا تو زندگی ختم ہوجائے گی یا پھر زندگی سنور جائے گی۰دونوں ہی صورتوں میں میری زندگی بدلنے جارہی تھی۰”
رشید رات کے کھانے سے فارغ ہوکرجنت کو اس رات کا حال سنا رہا تھا۰
جنت ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھی تھی۰
“جب میری آنکھ کھلی تو فجر کی اذانیں ہورہی تھیں۰میں اچھل کر بستر سے اٹھا،جلدی سے فون اٹھا کر جیدے کو کال ملائی ،مگر اسکا نمبر بند جارہا تھا،اور جس نمبر سے وہ زیشان صاحب کو کال کرتا تھا اس پر ملانا خطرے سے خالی نہیں تھا سو میں خاموشی سے گھر سے نکل کر پرانے اسکول پہنچا۰
میں نے سوچا جیدا بیگ اسکول کے اندر پھینک کر جاچکا ہوگا،اب بھی بیگ اندر ہی پڑا ہوگا۰
مگر دور ہی سے مجھے پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینس وغیرہ نظر آگئی۰میں سمجھ گیا کہ جیدا زخمی یا پکڑا گیا ہے،میں نے جلدی سے ہی وہاں سے نکلنے میں عافیت سمجھی۰
پہلے میں نے غائب ہونے کا سوچا مگر اس طرح میں شک کےدائرے میں آجاتا۰جب میں موقع واردات کے وقت تھا ہی نہیں،تو مجھے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے یہ سوچ کر میں گھر واپس آگیا۰
“صبح مجھے پتہ لگا کہ زیشان صاحب کو دو گولیاں لگی ہیں اور وہ ہاسپٹل میں ہیں۰میں بیگم صاحبہ کو لے کر ہاسپٹل پہنچا تو پتہ لگا انکا آپریشن چل رہا تھا۰
باقی جیدے کی کوئی خیر خبر نہیں تھی،اور یہ بات میں کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۰انسپکٹر شہزاد بھی ہاسپٹل میں موجود تھا،اسکو دیکھ کر میری سٹی گم ہوگئی تھی،میں وہاں سے رفو چکر ہونے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے مجھ سے زیشان صاحب کی دوائیں لانے کو کہا۰انداز اسکا نارمل سا تھا،اسلئیے میری سانس میں سانس آئی۰
تھوڑی دیر بعد وہاں جیدے کی ڈیڈ باڈی لائی گئی۰وہ بھی آپریشن کے لئے اندر لے جایا گیا تھا،مگر زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ چکا تھا،گولی اسکے دل کے پاس لگی تھی۰پولیس اسکا بیان نوٹ کرنے کے انتظار میں باہر بیٹھی تھی۰
لوگوں نے اس کو بلیک میلینگ کے بجائے عام لوٹ مار کی واردات کا رنگ دیا تھا،کیونکہ بلیک میلنگ کی صورت میں وہ خود بھی دائرہ تفتیش میں آتے۰”
رشید نے لمبی سانس کھینچ کر بات ختم کی۰
جنت جو اب تک خاموش بیٹھی تھی،ایکدم جھرجھری لے کر بولی۰
“میرے رب سوہنے نے میری اس دن دعا سن لی۰اس نے تجھ کو بچالیا۰میں نے اس رات بہت رو رو کر دعا مانگی تھی کہ تجھ پرکوئی آنچ نہ آئے۰”
جنت کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو چمکنے لگے تھے۰
“ہاں اس دن میرا الارم پر نہ اٹھنا اور وہاں موجود نہ ہونا،کسی معجزے کی طرح میں اس سب سے بچ گیا۰تیری نیکی میری آڑے آگئ ورنہ اس روز جیدے کے ساتھ میں بھی مارا جاتا۰”
رشید نے تشکر سے جنت کو دیکھا۰
“میرا رب بڑا رحیم ہے،اس نے مجھ پر بہت کرم کیا ہے۰”
جنت فوراً ہی سجدہ شکر کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“اب مجھے سمجھ آیا کہ اس دن تمہاری آنکھوں میں آنسو مجھے بے چین کیوں کرگئے تھے۰”
وہ لوگ اسوقت شام کی چائے لان میں بیٹھے پی رہے تھے۰جب متقین نے مائشہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۰
“کیوں”؟؟
مائشہ نے استہفامیہ نظروں نے دیکھا۰
“کیونکہ تمہاری آنکھیں بلکل میری ماما جیسی ہیں۰”
متقین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۰
“ہممم م۰۰۰ویسے گھر پر بھی سب مجھ کو یہی کہتے تھے کہ میں پھپھو جیسی دکھتی ہوں۰”
مائشہ نے بلش ہوتے ہوئے کہا۰
“ویسے تمہارا آگے کیا اردہ ہے؟میرے خیال سے تم لیگل ایکشن لو کہ تمہاری جان کو خطرہ ہے اور شادی کے معاملے میں بھی تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہ کی جائے۰ایسے کب تک گھر سے دور رہو گی؟”
متقین نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۰
“جی کہہ تو آپ صحیع رہےہیں ،مگر مجھے گھر جانے سے بہت ڈر لگ رہا کے،مجھے اس گھر سے وحشت ہورہی ہے۰میرا دم گھٹتا ہے اس ماحول میں۰”
مائشہ نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا۰
“ہاں بٹ تم کب تک ایسے ادھر ادھر رہو گی۰تمہارا گھر ہے وہ،تم کو واپس جانا چاہیے۰
تم کہو تو میرے ایک دو دوست لائیر ہیں میں ان سے بات کروں؟اور یہ بلکل نہیں سمجھنا کہ مجھے تمہارے یہاں رہنے سے کوئی پرابلم ہے،تم جب تک چاہو شوق سے رہو،مگر کسی کے ڈر سے چھپ کر لائف نہ گزارو۰سمجھ رہی ہو نہ میری بات؟؟
اور ویسے بھی میں پہلی بار جس مائشہ سے ملا تھا،وہ بہت نڈر تھی،ان فیکٹ میرا سر پھوٹتے پھوٹتے بچا تھا۰”
متقین نے شرارت سے کہا۰
“آپ مجھے شرمندہ کررے ہیں،وہ تو میں نے آپکو کڈنیپر سمجھا تھا۰”
مائشہ نے تھوڑا جھینپتے ہوئے کہا۰
“ارے نہیں بلکل بھی نہیں میں شرمندہ نہیں کررہا،بلکہ تم کو تمہاری ہمت اور طاقت کے بارے میں بتا رہا ہوں۰”
“ہمم م م۰۰کہہ تو آپ صحیع رہے ہیں مگرمجھے لگتا ہے ان کچھ دنوں میں میں بلکل بدل گئی ہوں۰”
مائشہ نے افسردگی سے کہا۰
“سنولڑکی! مایوسی کفر ہوتی ہے،تم ایک باہمت لڑکی ہو،اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ۰کسی سے ڈر یا دب کے مت رہنا،اور میری طرف سےجس قسم کی بھی مدد درکار ہوگی میں حاضر ہوں۰”
متقین نے سینے ہر ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دہانی کروائی۰
“تھنکس آ لوٹ فور ایوری تھنگ۰”
مائشہ تہہ دل سے اسکی شکر گزار تھی۰
“اچھا ایک بات بتائیے؟مجھے نہیں پتہ آپ سے یہ بات کرنی چاہئیے یا نہیں ،مگر مجھے لگا شاید پوچھنا زیادہ بہتر ہے۰”
مائشہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی۰
“ہاں ہاں پوچھو،جو بھی بات ہے،اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۰”
متقین نے بہت ہی دوستانہ انداز میں اسکی ہمت بندھائی۰
“مجھے یہ پوچھنا تھا کہ آپ نے اپنی فیانسی کو میرے بارے میں کیا بتایا ہے،وہ پہلے تو پورے ٹائم اس دن مجھے گھورتی رہی،مجھے لگا میرا وہم ہے،بٹ جاتے ٹائم جب دادو آنٹی سے مل رہی تھیں تو مجھ سے کہتی ہوئی گئی
تھی،کہ ڈونٹ بی ٹو اسمارٹ ،آئی ول سی یو۰”
میں جب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر اس کو مجھ سے کیا پرابلم ہوسکتی ہے۰
آپ اسکو کلئیر میرے بارے میں بتادیں،میں چند دن میں واپس چلی جاؤں گی۰میں آپکی پرسنل لائف بلکل بھی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی۰
مائشہ نے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا۰
“دراصل وہ شاید کسی وجہ سےان سیکیور ہے،مجھے اس سے بات کرنی پڑے گی۰تم پریشان نہ ہو،اور بھول جاؤ اس نے کیا کہا۰وہ تھوڑی پوزیسیو ہے میرے لئے شاید”
متقین نے ہلکے پھلکے انداز میں بات ختم کی۰
“اوکے مغرب ہونے والی ہے،اندر چلتے ہیں۰”
متقین نے چائے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا۰مائشہ بھی اسکے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“اسلام وعلیکم،”
متقین بات کررہا ہوں۰
“وعلیکم اسلام جی،کیسے ہیں؟
آپ نے کیسے کال کرلی؟”
رانیہ نے تھوڑا طنز سے سوال کیا۰
“دیکھو رانیہ مجھے بلکل اندازہ نہیں ہے،تم کو پرابلم کس چیز سے ہے۰
میں نے یہی ڈسکس کرنے کےلئے تم کوکال کی ہے۰اگر تم کو میری کوئی بھی بات بری لگی ہے تو تم مجھ سے بات کرو،تم نے مائشہ سے بھی اس دن روڈلی بات کی۰
جہاں تک یہ بات ہے کہ میں نے تم کو اس سے دوست کی بہن کہہ کر تعارف کروایا تھا تو وہ ہمارے کچھ پرسنل میٹرز ہیں،وقت آنے پر میں تم کو سب کلئیر کردوںگا۰
فی الحال تم کو اسکے علاوہ کوئی ایشو ہے تو مجھ سے ڈسکس کرو۰میں تمہارے ہر سوال کا جواب دونگا۰”
متقین نے بہت تحمل سے اپنی بات مکمل کی۰
“ مطلب انگیجمنٹ آپ کی مجھ سے ہوئی ہے اور پرسنل میٹرز اپنی کزن کے ساتھ ڈسکس کرتے ہیں۰”
رانیہ نے طنزاً کہا۰
“رانیہ یہ تم کس قسم سے بات کررہی ہو۰؟؟”میں تم سے کہہ رہا ہوں وہ بات میں تم کو آرام سے بعد میں سمجھاؤں گا ،ابھی وہ ایک غیر ضروری بات ہے تمہارے لئیے۰”
متقین کو بھی اب غصہ آگیا تھا۰
“دیکھیں متقین مجھے وہ لڑکی پہلے دن ہی پسند نہیں آئی تھی،اور پھر آپکا اوراسکا تعلق بھی ایک مسٹری ہی ہے اب تک میرے لئے۰
تیسری بات وہ آپ کے لئیے اتنی اہم ہے کہ اس کے لئیے آج آپ کو مجھ سے بات کرنے کا خیال آگیا،ورنہ اتنے دنوں میں تو کبھی آپ نے مجھ سے بات نہیں کی۰”
رانیہ نے افسوس سے سر ہلایا۰آئی ایم فیلنگ لائیک آ تھرڈ پرسن بٹوین یو ٹو۰”
“ رانیہ یہ تم بن بات کا بتنگڑ بنا رہی ہو۰میرے اور مائشہ کے بیچ صرف ایک اچھی دوستی ہے اور وہ بھی کوئی بہت پرانی نہیں،یا یہ کہ وہ میری کزن ہے اسکے علاوہ ہم دونوں کا کوئی ریلیشن نہیں۰
جہاں تک تم سے بات نہ کرنے کا تعلق ہے تو تم جانتی ہو میری جاب کیسی ہے میں کتنا بزی رہتا ہوں۰میرا شیڈول بہت ٹف ہوتا ہے۰میں روز نو عمر لڑکوں کی طرح تم کو لمبی لمبی کالز نہیں کرسکتا ہوں۰”
متقین نے ضبط سے جواب دیا۰
“تو پھر آپ کو منگنی نہیں کرنی چاہیے تھی۰بات فون کالز کی نہیں بات احساس کی ہوتی ہے جو آپکو صرف مائشہ کا ہے۰
اور میں نے آپ سے پہلے دن ہی پوچھ لیا تھا کہ اگر آپ کسی میں انٹرسٹڈ ہیں تو بتا دیں۰
رانیہ کی تان گھوم پھر کر مائشہ پر ہی آکر ٹوٹ رہی تھی۰
“ارے تو میں کسی میں انٹرسٹد ہی نہیں ہوں تو کیسے بول دوں۰اور تم شادی کے لئے اچھے سے سوچ لو کیونکہ میں ایسا ہی ہوں ،اگر تم کو ابھی مجھ سے ایشوز ہیں۰”
متقین کی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کہ دوسری طرف سے فون کاٹ دیا گیا۰
متقین نے بے بسی سے کندھے اچکا کر فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۰دادو نے مجھے کہاں پھنسا دیا ہے،بڑبڑاتے ہوئے اس نے فائل اٹھائی اور اسٹڈی کرنے لگا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“بے بے تیری دعائیں رنگ لے آئیں،میں بہت خوش ہوں، میرے رب نے میری مراد سن لی۰”
جنت اس وقت بے بے سے بات کر رہی تھی۰
ویسے تو یہ بے بے کا بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کا وقت ہوتا تھا۰مگر اس وقت جنت کو ٹائم ملا تو اس نے بے بے کو کال ملا لی تھی۰
ہاں” میری دھی رانی،وہ سب کی سنتا ہے،ہم ہی ہیں جو اسکو بھول جاتے ہیں وہ تو ہم کو ہر وقت یاد رکھتا ہے،اور بھولے بھٹکے جب اس کے در پر مانگنے جاتے ہیں تو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۰
سچے دل سے مانگی ہر جائز دعا قبول کرتا ہے،نہ بھی کرے تو اس سے زیادہ بہتر عطا کرتا ہے جوہم نے مانگا ہو۰
دعا میں توجہ ، یقین، اخلاص ہو تو دعا ضرور قبول ہوتی ہے۰اللہ پاک غافل دِل کی دُعا قبول نہیں فرماتے۔“
اور قرآن مجید میں ہے: ”کون ہے جو قبول کرتا ہے بے قرار کی دُعا، جبکہ اس کو پکارے۔“
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دُعا کی قبولیت کے لئے اصل چیز پکارنے والے کی بے قراری کی کیفیت ہے۰
اور تم جس لو اور لگن سے اس رب سے مانگ رہی تھیں تو کیسے وہ نہ تم کو نوازتا۰
بے بے نے مسکرا کر بات ختم کی۰
“ہاں بے بے تیری ان ہی باتوں سے تو مجھے سکون ملتا ہے اور اپنے رب پر یقین مضبوط سے مضبوط تر ہوتا ہے۰
“بس اب تو چند دن کے لئے میرے پاس یہاں شہر آجا۰کب سے ٹال رہی ہے”۰
جنت نے روٹھتے ہوئے کہا۰
“چل جھلی،تو ابھی تو گئی ہے میرے پاس سے،ویسے بھی بچوں کا قرآن پاک کا ناغہ ہوجائے گا ،تو ہی چکر لگا لینا”۰
“اچھا چل بچے انتظار کر رہے ہیں میں بعد میں بات کرتی ہوں۰”
بے نے اللہ حافظ کرکے کال منقطع کی۰
جنت بھی پرسکون سی رات کا سالن بنانے کھڑی ہوگئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: