Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 3

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 3

–**–**–

 

پلیز اپنی راۓ سے ضرور آگاہ کیجیۓ گا۰
ایک گھنٹے کی محنت کے بعد ایس پی شہزاد اور زیشان تایا سلمان صاحب کی لاش کو ایس پی کی گاڑی میں ڈالنے میں کامیاب ہوۓ تھے۰رات کا وقت تھا،اسلئے گھر کے اندر کے نوکر کوارٹر میں جا چکے تھے،بس چوکیدار گیٹ پر موجود تھا۰اسلئیے گاڑی کو پچھلے گیٹ سے جس پر تالا پڑا رہتا تھا،لے کر آۓ تھے۰ایس پی کی گاڑی کا انتخاب بھی اسلئے کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی ممکنہ چیکنگ سے بچا جا سکے۰اب دونوں کا رخ قبرستان کی طرف تھا۰آخر دو گھنٹے بعد وہ لوگ انکی لاش کو ٹھکانے لگا کے اب واپس گھر جارہے تھے۰اس سب میں گورکن کو بھی شامل کرنا پڑا تھا۰لاکھ زیشان تایا کو سلمان صاحب سے اختلاف تھے،مگر تھے تو وہ انکے سگے بھائی،اب ٹینشن سے نکلنے کے بعد انکو ملال ہورہا تھا،کہ بھائی کو نماز جنازہ بھی نصیب نہیں ہو پائی۰ایک گمنام قبر میں پکڑے جانے کے خوف سے وہ بس جیسے تیسے انکو دفنا آئے تھے۰انکا ضمیر انکو ملامت کر رہا تھا۰گھر پہنچ کر بغیر کسی سے بات کئے انہوں نے نیند کی دو گولی پانی سے اتاری اور آنکھ بند کرکے لیٹ گئے۰وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
قتل کا دن۰۰۰
آج صبح سے ہی مائشہ کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۰اسکا دل چاہ رہا تھا سب چھوڑ چھاڑ کر واپس چلی جاۓ۰اس وقت وہ لوگ پٹریاٹا کے لئے نکل رہے تھے،وہ تیار ہوکر بے دلی سے بیٹھی تھی،سب لوگ ابھی تیار ہورہے تھے تو اس نے پاپا کو کال ملا لی۰سلمان صاحب اس وقت ائیر پورٹ سے باہر نکلے تھے۰کام کے سلسلے میں وہ بیرون شہر تھے،اور ابھی ہی انکی واپسی ہوئی تھی۰ہاں بیٹا کیسی ہو؟کیسا ٹرپ جارہا ہے۰؟؟پاپا آئی ایم مسنگ یو۰مائشہ نے منہ بسورتے ہوۓ کہا۰خود ہی چھوڑ کر گئی ہو اور مس بھی خود کررہی ہو،انہوں نے ہنس کے جواب دیا۰جی نہیں بلکل بھی نہیں،پہلے آپ گئے تھے،مجھے چھوڑ کر،اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۰اچھا بابا تو اس گستاخی کی کیا سزا ملے گی مجھے،انہوں نے فون ایک کان سے دوسرے پر لگاتے ہوۓ کہا۰ڈرائیور گاڑی لے آیا تھا اور اب انکا سامان رکھ رہا تھا،وہ ٹائی کے ناٹ ڈھیلی کرکے گاڑی میں آرام سے بیٹھ گئے تھے۰اب جب میں واپس آؤنگی تو بس آپ ایک ویک میرے ساتھ گزاریں گے،کوئی کام شام کا بہانہ نہیں چلے گا۰اس نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی جیسے وہ اسکو دیکھ رہے ہیں۰ہاہاہا سلمان صاحب زور سے ہنسے۰اچھا چلو واپس آؤ پہلے پھر دیکھتے ہیں۰کب آرہی ہو؟؟پاپا ویسے تو ابھی تین چار دن کا اور پلان ہے مگر پتہ نہیں کیوں مجھے اچھا نہیں لگ رہا،میں شایدجلدی واپس آجاؤں۰اس نے بے دلی سے کہا۰نہیں نہیں انجوائے کرو،ملتے ہیں تین چار دن میں۰اوکے پاپا بائے۰یہاں سب تیار ہوکر بیٹھے ہیں ،میں نکلتی ہوں ۰اوکے بیٹا بائے ۰انہوں نے مسکرا کر فون کوٹ کی پاکٹ میں رکھا،اور کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھنے لگے۰گھر پہنچ کر آفرین تائی سے بات کے بعد وہ روم میں آگئے تھے۰کافی دیر تک وہ اپنے لائیر سے بات کرتے رہے۰انہوں نے ول میں کچھ ردوبدل کروائے تھے۰جب ہی انکے پاس کال آنے لگی،انکو کل کسی ارجنٹ کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا تھا۰انہوں نے مائشہ کو کال ملائی مگر اسکا فون آؤٹ آف ریچ آرہا تھا۰وہ کھانا کھانے چلے گئے۰واپس آکر ایک باراور ٹرائی کرنے پر بھی اسکا فون نہ مل سکا،وہ چاہ رہے تھے کہ جانے سے پہلے مائشہ کو آگاہ کردیں،اگر وہ واقعی اپنا ٹرپ پورا کرنے سے پہلے آگئی تو انکو نہ پا کر بہت ناراض ہوگی۰مگر فون نہ ملنے کی صورت میں انہوں نے کیم کارڈر آن کیا،وہ مائشہ کے لئے ویڈیو پیغام چھوڑنا چاہتے تھے،یہ مائشہ کا کیم کارڈر تھا جو وہ انکے روم میں بھول گئی تھی،انہوں نے سوچا تھا کہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اس کے روم میں رکھ کر چلے جائیں گے ،تاکہ وہ جب بھی واپس آۓ گی انکی ویڈیو دیکھ کر اسکا غصہ اور ناراضگی ختم ہوجاے گی۰ ابھی انہوں نے ریکاڈنگ اسٹارٹ ہی کی تھی کہ زیشان تایا کمرے میں آگئے،سلمان صاحب نے کیم کارڈر الماری کے اوپر رکھ دیا،انہوں نے دھیان نہیں دیا کہ وہ ویڈیو ریکارڈنگ آف کرنا بھول گئے ہیں،انکو اندازہ بھی نہیں تھا کہ کیسے وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے ثبوت خود اکھٹے کر رہے ہیں۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
متقین کو دو دن سے رہ رہ کر مائشہ کی آنسو بھری آنکھیں یاد آرہی تھیں۰پتہ نہیں کیوں اس لڑکی کے لئے اسکے دل میں نرم گوشہ بن گیا تھا،وہ سخت شرمندہ ہورہا تھا کہ کم از کم اسکو چھوڑتے وقت ہی اپنے رویہ کی معافی مانگ لیتا۰پتہ نہیں کیوں اسکو لگ رہا تھا کہ اس نے مائشہ کو اتنی سختی سے نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا۰اسوقت بھی چاۓ پیتے ہوۓ اسکا ذہن مائشہ میں اٹکا ہوا تھا۰چاچا میں آج رات کو لیٹ آونگا آپ کھانا کھا کر سوجائیے گا،مجھے کچھ ضروری کام ہے،وہ غفور چاچا کو ہدایت دے کر تیار ہونے چلا گیا۰اس نے فیصلہ کرلیا تھا واپسی پر وہ مائشہ سے اسکے ہوٹل میں ملتا ہوا ایکسکیوز کرکے آجائے گا۰یہ سوچ کر اسکا ذہن کافی مطمئن ہوگیا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰
ایسے کیسے مجھکو بتاۓ بغیر پاپا کہیں چلے گئے۰مائشہ کا دل اس ٹور پر بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا،اور وہ گروپ کی واپسی کا انتظار کئے بغیر واپس گھر آگئی تھی۰اس نے سوچا تھا،گھر پہنچ کر پاپا کو سرپرائز دونگی اسلئے اپنے آنے کی خبر بھی نہیں کی تھی۰اور اب آفرین تائی کی زبانی یہ سن کر کے سلمان صاحب کسی ضروری کام سے شہر سے باہر گئے ہیں،مائشہ کو غصہ اور رونا آرہا تھا۰مگر تائی امی کل شام ہی تو میری پاپا سے بات ہوئی تھی،وہ کل ہی تو واپس آئے تھے،مجھ سے تو انہوں نے جانے کا ذکر بھی نہیں کیا۰مائشہ نے آفرین تائی کو سوال کرکے زچ کیا ہوا تھا۰ارے مجھے نہیں معلوم کچھ،تمہارے تایا اٹھیں گے تو ان سے ہی معلوم کرنا۰آفرین تائی مائشہ کے سوالوں سے گھبرا رہی تھیں۰انہوں نے وہاں سے اٹھ جانے میں ہی بہتری سمجھی۰جب ہی شہریار لاؤنج میں داخل ہوا،اسلام و علیکم،مائشہ شہریار کو دیکھ کرجلدی سے کھڑی ہوگئی،وہ ہمیشہ ہی شہریار سے ریزرو رہتی تھی۰اور شہریار کو بھی زیشان تایا کی طرف سے زیادہ بات کی اجازت نہ تھی،وہ نہیں چاہتے تھے کہ شہریار کچھ الٹی سیدھی حرکت کرکے سلمان صاحب کو اس رشتے کے ختم کرنے کی وجہ دے۰وعلیکم اسلام،شہریار نے مائشہ کو غور سے دیکھتے ہوۓ جواب دیا۰کل رات کے بعد وہ اب گھر میں داخل ہوا تھا،اور مائشہ کو نارمل انداز میں اسکو سلام کرتا دیکھ کر کچھ اچھنبے کا شکار تھا۰تو کیا چاچو بچ گئے تھے؟؟اس نے دل میں سوچا۰وہ چاچو کہاں ہیں؟؟اس نے لہجے کو بہت ہی نارمل رکھتے ہوۓ کہا،مائشہ جو اٹھنے کے لئے پر تول رہی تھی،فوراً ناراض آواز میں بولی،پتہ نہیں ،تائی امی کہہ رہی ہیں آؤٹ آف سٹی ہیں،بٹ کہاں کیوں گئے ہیں انکو بھی نہیں پتہ،پھر فوراً ہی خیال آنے پر بولی،مگر آپ کیوں پاپا کا پوچھ رہے ہیں؟؟شہریار کو اس سے سوال کی توقع نہیں تھی،اسلئے ایکدم گڑبڑا گیا۰وہ وہ میں،اصل میں چاچو ہماری شادی کی بات کر رہے تھے کچھ ڈیڈی سے ،تو میں بس اسلئے ہی پوچھ رہا تھا،شہریار کو پتہ تھا،کہ اس جواب کے بعد مائشہ اس سے اور کوئی سوال نہیں کرے گی۰اور اسکا اندازہ بلکل درست نکلا،اگلے ہی پل مائشہ”اچھا میں فریش ہو لوں “کہتی اپنا سامان اٹھا کر اندر کی طرف بڑھ گئی۰ہممم تو مائشہ بی بی کو ابھی اصل صورتحال کا نہیں پتہ،اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ سوچا۰وہ اپنی کل کی حرکت پر زرا بھی شرمندہ یا نادم نہیں نظر آرہا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سر یہ رہا نمبر،مینیجر نے رجسٹر آگے بڑھاتے ہوۓ کہا۰متقین نے نمبر اپنے موبائیل میں سیو کیا اور تھینکس کہہ کر واپس جیپ میں آگیا۰گاڑی میں بیٹھ کر وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیا کال کرنا ٹھیک ہے؟کاش وہ کل ہی آجاتا،یا اسی دن اس سے ایکسکیوز کرلیتا۰دراصل جب متقین ہوٹل پہنچا تو اسکو پتہ لگا کہ وہ لڑکیوں کا گروپ تو کل شام ہی ان کے ہوٹل سے چلا گیا،اور ظاہر ہے کہاں گیا اسکا انکو کوئی اندازہ نہیں تھا۰پہلے تو وہ متقین کو نمبر دینے پر بھی راضی نہیں تھے،مگر جب اس نے اپنا کارڈ دکھایا تو مینیجر نے اسکو نمبر دے دیا۰اسکو تو ابھی یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ نمبر مائشہ کا تھا بھی کہ نہیں؟؟اگر کسی اور کا ہوا تو وہ کیا کہہ کر بات کرے گا۰آج کم ازکم اس سے بات ہوجاتی تو وہ سکون سے ہوتا۰دو دن سے اسکی روئی ہوئی آنکھیں اسکو بہت ڈسٹرب کر رہی تھیں۰چلو اللہ مالک ہے ،کل صبح ٹرائی کرتا ہوں۰اب جس کا بھی نمبر ہوگا،کم از کم مائشہ سے بات تو ہو جائے گی۰اس نے خود کو تسلی دی اور گاڑی گھر کے راستے کی طرف موڑ دی۰
۰۰۰۰۰۰
مشی آگئی ہے اور اب پورے گھر میں ہنگامہ کھڑا کیا ہوا ہے کہ اسکے پاپا کہاں ہیں؟؟آفرین تائی نے عادت کے مطابق بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۰ زیشان تایا جو دوا کھانے کے بعد بھی پوری رات نہیں سو پائے تھے،صبح کسی وقت انکی آنکھ لگی تھی،دوا کے زیر اثر وہ گہری نیند میں چلے گئے تھے،اور اب شام کو کہیں جاکر اٹھے تھے،انکے اٹھتے ہی آفرین تائی نے انکے سر پر دھماکہ کیا۰وہ جو تھوڑا مطمئن تھے کہ مائشہ کی واپسی تک وہ کوئی حل نکال لیں گے،ایکدم ہی پریشان ہوگئے۰تم کو سوائے کوئی منحوس خبر دینے کے کوئی کام آتا ہے؟؟انہوں نے آفرین تائی کو گھور کے کہا۰ارے اب میری کیا غلطی جو وہ آگئی ہے،اب جاکر تسلی کروائیں اپنی بھتیجی کی۰انہوں نے تنفر سے گردن جھٹکتے ہوئے کہا۰اور تمہارے صاحب زادے کا کچھ اتا پتہ ہے،تم دونوں ماں بیٹا نے میری زندگی جہنم بنادی ہے۰زیشان تایا کو دونوں ماں بیٹا پر سخت تاؤ تھا۰ہاں آگیا ہے،کمرے میں ہے اپنے،انہوں نے ہلکی آواز میں بتایا۰ہاں نوکری کرکے آیا ہے،ایسے فخر سے بتارہی ہیں،زیشان تایا انکو گھورتے ہوۓ واش روم کی طرف چلے گئے۰
۰۰۰۰۰۰۰
دوسری بیل پر کال ریسیو کرلی گئی تھی،اور ایک نسوانی آواز متقین کے کانوں سے ٹکرائی۰کیا میں مائشہ سے بات کر سکتا ہوں؟؟جی ی۰۰۰مایشہ ہی بول رہی ہوں۰دوسری طرف جواب میں تھوڑی حیرت شامل تھی،کیونکہ مائشہ کی لڑکوں سے دوستی نہیں تھی۰آپ کون بات کررہے ہیں؟؟میں متقین بول رہا ہوں۰۰دوسری طرف کے جواب سے مائشہ حیرت سے گرتے گرتے بچی۰میرا نمبر کہاں سے ملا آپکو؟؟بس مل گیا،کیسی ہیں آپ؟؟متقین نے مسکراتے ہوئے کہا۰مائشہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنا میٹھا لہجہ متقین کا ہوسکتا ہے۰۰۰آپ کوئی پرینک تو نہیں کر رہے نہ،مائشہ کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا۰اسکو لگا اسکی فرینڈز شاید اسکے ساتھ کوئی مذاق کررہی ہیں۰ہاہاہا۰۰۰متقین کا قہقہہ بلند ہوا،نہیں اٹس ناٹ اے پرینک،ایکچیولی مجھے آپ سے ایکسکیوز کرنی تھی،متقین نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۰اب کی بار مائشہ کو لگا وہ حیرت سے بے ہوش ہوجائے گی۰ویٹ اے منٹ،مائشہ نے کہا،جی ہیلو،وہ دراصل میں خود کو چٹکی کاٹ کر دیکھ رہی تھی کہ میں نیند میں تو نہیں ہوں۰۰۰میجر متقین نے مجھے سوری کہنے کے لئے فون کیا ہے۰مائشہ کے جواب میں متقین کا ایک اور زور دار قہقہہ بلند ہوا۰ویسے یہ کس بات کی سوری ہے،آپ نے کافی ساری بدتمیزیاں کی تھیں مجھ سے،مائشہ بھی ایکدم خوشگوار موڈ میں آگئی تھی۰اچھا ،بس مجھے لگا مجھے آپکو روتے ہوۓ چھوڑ کے نہیں آنا چاہیے تھا،سوری فار دیٹ۰متقین نے سادہ سے لہجے میں ایکسکیوز کی۰اٹس فائن۰۰میری بھی غلطی تھی،آپ مجھے پروٹیکٹ کر رہے تھے۰مجھے ایسے نہیں نکلنا چاہیے تھا۰مائشہ نے بھی کھلے دل سے اپنی غلطی تسلیم کی۰ہم م م، آپلوگ کہاں ہیں ابھی؟؟متقین نے پوچھا۰۰جی باقی لوگ تو کالام وغیرہ کی طرف چلے گئے تھے،بٹ میں واپس کراچی آگئی ہوں۰میرا دل نہیں لگ رہا تھا۰اوہ ۰۰۰تو آپ کراچی میں رہتی ہیں۰۰میری پوسٹنگ بھی کراچی ہوگئی ہے۰گڈ۰۰۰میرے پاپا ابھی آؤٹ آف سٹی ہیں وہ آئیں گے تو آپ میری طرف مہمان ہوں گے۰میں آپکو اپنے پاپا سے ملواؤں گی۰جی شیور۰پھر بات ہوتی ہے۰۰اللہ حافظ۰متقین نے فون کاٹ دیا۰مائشہ فون بند کرنے کے بعد بھی متقین کو سوچے گئی۰
۰۰۰۰۰ زروا،دیکھو میں کیا لے کر آئی ہوں،انعم نے زروا کے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ کہا۰وہ فاران سے بات کرنے کے بعد کافی دیر سوچ بچار کرتی رہی تھی،اور خود بھی اسی نتیجے پر پہنچی تھی کہ فاران ٹھیک کہ رہا ہے۰ویسے بھی انعم شروع میں بھلے ہی فاران کی بات سے اتفاق نہ کرے مگر اسکو کرنا وہی ہوتا تھا جو فاران کہتا تھا۰اور اسی فاصلے کو کم کرنے کے لئیے اسنے آج پہلا قدم بڑھایا تھا۰زروا جو اپنے آئی پیڈ میں مگن تھی،ایکدم انعم کی آمد سے گڑبڑا گئی۰جی ماما ،اس نے جلدی سے آئی پیڈ لاک کیا اور کھڑی ہوگئی۰انعم بھی ایک پل کو ٹھٹکی مگر پھر ویسے ہی اپنے لہجے کو بشاش بناتے ہوئے اس کے بیڈ پر بیٹھ گئی۰پہلے کی بات ہوتی تو وہ زروا کو آئی پیڈ میں مگن دیکھ کر کلاس لیتی،کیونکہ یہ ان لوگوں کے ہوم ورک کا ٹائم تھا۰زمل کو تو انعم خود پڑھاتی تھی،مگر زروا اپنا کام خود کرلیتی تھی،وہ شروع سے ہی کافی ذہیں تھی۰یہ دیکھو تم اس دن کہہ رہی تھیں نہ تم کو نیل آرٹ کی کٹ چاہیئے،آج میں مارکیٹ گئی تو مجھکو نظر آئی،اسکو دیکھ کر تم مجھے فوراً یاد آئیں۰سو میں نے یہ تمھارے لئے لے لیا۰انعم نے بشاشت سے کٹ آگے بڑھائی ۰بٹ ماما اس دن آپ نے نوٹس نہیں لیا تھا تو میں نے اپنی فرینڈ سے کہہ دیا۰وہ شاید کل لے بھی آۓ گی۰میں نے اسکو اپنی پاکٹ منی سے پیسے بھی دے دئے تھے۰زروا نے تھوڑا دھیمے لہجے میں گردن جھکا کر انعم کو اپنی کارروائی گوش گزار کی۰زروا ایسی کونسی آفت آگئی تھی،کہ تم کو راتوں رات وہ کٹ چاہئیے تھی،ابھی لاسٹ ویک ہی تو تم نے مجھ سے کہا تھا،انعم زروا کی حرکت سے پھر سے پرانی جون میں آگئی تھی۰ماما مگربندہ ریسپونڈ تو کرتا ہے نہ،آپ نے نہ ہاں کی تھی نہ ناں۰ہمم کرکے دوسری بات میں مگن ہوگئی تھیں،میری چیزیں آپکے لئے امپورٹنٹ کب ہوتی ہیں۰۰۰ زروا جو تھوڑی دیر پہلے اپنی حرکت پر شرمندہ تھی،ایکدم بدتمیزی پر اتر آئی تھی۰زروا دیکھو،بیٹا آئندہ تم کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوگی تو تم مجھ کو یا پاپا کو بولو گی،اور کسی سے کچھ نہیں بولو گی۰انعم نے اپنا لہجہ دھیما کیا۰آپ دونوں ہی کے لئیے میں اور پاپا ایک دوسرے سے دور ہیں،آپ لوگ مپورٹنٹ نہ ہوتی تو آج آپ اتنے اچھے سے نہ رہ رہی ہوتیں۰انعم نے اس کے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ کہا۰اور کندھا تھپتھپا کر باہر نکل گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: