Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 4

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 4

–**–**–

 

آپ لوگوں کی قیمتی آراء کا انتظار ہے۰۰۰
یہ دیکھو آج میں چھوٹے صاحب کا کمرا صاف کر رہا تھا تو مجھے کیا ملا۰۰رشید جو خان ولا میں ڈرائیور اور صفائی وغیرہ کا کام کرتا تھا،بڑی رازداری میں اپنی بیوی کو کچھ دکھا رہا تھا۰اس کی چھ ماہ پہلےشادی ہوئی تھی۰چونکہ سرونٹ کوارٹر میں چوکیدار اپنی فیملی کے ساتھ رہتا تھا،اسلئیے سلمان صاحب نے ایک چھوٹا کمرہ اسکو بھی بنوا کے دے دیا تھا۰بیوی اسکی ویسے تو کوئی کام نہیں کرتی تھی،مگر اکثر آفرین تائی مالش وغیرہ کے لئے بلا لیا کرتی تھیں۰اسلئیے اسکا آنا جانا بھی گھر کے اندر تھا،اور وہ گھر کے سب ہی مکینوں کو جانتی تھی۰جو کچھ رشید نے اسکو دکھایا،اسکو دیکھ کر تو جنت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۰یہ شہر کے پڑھے لکھے لوگ بھی آپس میں ایک دوسرے کو ایسے قتل کردیتے ہیں۰اسکی گھٹی گھٹی آواز نکلی۰ہاں یہاں بھی وہی لوگ بستے ہیں بس چہروں پر تعلیم کے نقاب ہوتے ہیں ،رشید نے طنز سے بولا۰تم اسکو فوراً پولیس کو دے دو۰۰جنت نے اسکو مشورہ دیا۰پگلی ہوگئی ہے،اس سے تو ہم امیر بن سکتے ہیں۰۰پولیس کو دے کر ہمارا کیا فائدہ۰۰۰خوف کر رشیدے۰۰۰اس بھلے مانس نے ہمارے لئیے یہ چار دیواری بنوائی تھی،جنت کو واقعی بہت افسوس ہورہا تھا۰ہاں تو اب وہ تو اس دنیا میں نہیں ہے نہ۰۰اور یہ دوسرا صاحب تو مجھے ویسے بھی نہیں بھاتا،اس سے پیسے لیکر عیش کریں گے۰ہم یہ جگہ چھوڑ کے چلے جائیں گے۰رشید نے ساری پلاننگ کی ہوئی تھی۰ رشیدے میرا دل نہیں مان رہا،ہم کسی بھلے مانس کے قتل پر بجنس(بزنس) چلائیں۰میری بے جی کہتی تھیں,سورۂ مائدہ میں اللہ نے فرمایا ہے،جس نے ایک انسان کا قتل کیا ،گویا اس نے تمام انسانوں کا قتل کیا۰جنت نے اسکو جھرجھری لے کر بتایا۰چل زیادہ سقراط نہ بن۰۰ایک تیری بے جی ماسٹرنی ہے،ایک تو بن گئی ہے اب۰۰۰جب عیش کرے گی نہ پیسوں پر ،تب ہوچھوں گا تجھ سے۰۰رشید نے اسکو سبز باغ دکھائے۰پر تجھ کو یہ سب چلانا کیسے آیا۰؟؟تو تو بڑا سیانا نکلا۰ارے دس سالوں سے شہر میں رہتا ہوں۰مجھے ان چیزوں کی کافی سمجھ بوجھ ہے۰رشید نے فخر سے کالر جھاڑے۰تجھ کو جو ٹھیک لگے تو کرلے،مگر سچ بولوں تو میرا دل نہیں اٹھ رہا۰جنت ابھی ابھی رشید سے متفق نہیں تھی۰چل تو روٹی لا جلدی۰۰۰۰زیادہ اپنی چھوٹی عقل نہ لڑا۰رشید نے اسکو جھاڑا،اور کیم کرڈر چھپا کر الماری میں رکھ دیا۰اس بات سے بے خبر کہ جنت نے خاموشی سے اسکو رکھتے ہوئے دیکھا ہے۰جنت نے سوچ لیا تھا کہ وہ پولیس کے چکر میں تو نہیں پڑ سکتی مگر وہ مشی بی بی کو انکی یہ امانت ضرور پہنچاۓ گی۰
۰۰۰۰۰۰۰
آج صبح سے ہی جنت رشید کے گھر سے جانے کا انتظار کر رہی تھی،تاکہ وہ کیم کارڈر نکال سکے،۸بجے رشید گھر سے نکلا تو جنت نے ساری الماری چھان ماری،شاید رشید نے رات کے کسی پہر اٹھ کر وہ کہیں چھپا دیا تھا،جنت کو بہت قلق ہوا۰وہ ایک طرف تو اپنے محسن کو انصاف دلوا کر انکا احسان اتارنا چاہتی تھی،تو دوسری طرف وہ رشید کو بھی اس گناہ میں ساجھے دار نہیں بننے دینا چاہتی تھی۰وہ بھلے انپڑھ عورت تھی،مگر اخلاق اور انسانیت کے سارے تقاضے نبھاتی تھی۰بچپن سے ہی اسکی بے جی نے اسکو (جو بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھیں،)حقوق العباد کی بڑی تاکید کی تھی۰وہ سوچنے لگی ابھی اگر بے جی یہاں ہوتیں تو وہ کتنا ناراض ہوتیں۰اسکو یاد تھا،اسکے گاؤں میں دو بھائیوں میں جائیداد کے تنازعے پر جھگڑا اتنا بڑھا تھا کہ ایک نے دوسرے کو قتل کردیا تھا۰سزا کے طور پر قاتل کو بھی جرگے نے موت کی سزا سنائی تھی۰مگر وہ رفوچکر ہوگیا تھا۰کتنے دن جنت کو رات کو مرے ہوۓ بھائی کا چہرہ نظر آتا رہتا تھا،کتنا ڈر گئی تھی وہ۰بے جی اس پر آیتیں پھونک پھونک کر سلاتی تھیں ۰اس نے ایک دن بے جی سے پوچھا تھا کہ چاچا نذیر تو بھاگ گیا اب اسکو سزا کیسے ملے گی۰بے جی نے کہا تھا،پتر۰۰۰وہ دنیا کی سزا سے بھاگ سکتا ہے،پتہ ہے،جو کسی مسلمان بھائی کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اسکی سزا جہنم ہے۰اسمیں ہمیشہ رہے گا،اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا،اور لعنت ہوگی۰اس کے لئیے دنیا سے بھی بڑا عذاب تیار رکھا ہے۰جنت ابھی یہی سوچ رہی تھی،اور ناحق قتل کی پردہ پوشی اور اس قتل پر کمائی کرنے والے کے لئے کتنا عذاب ہوگا۰۰کاش اس نے یہ بھی بے جی سے پوچھ لیا ہوتا۰بہرحال اسکو اپنے رشید کو اس گناہ کی شراکت سے بچانا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مگر تائی امی پاپا سے میری ایک روز پہلے بات ہوئی تھی،انہوں نے تو مجھ سے شادی کے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی،اور ویسے بھی وہ جہاں بھی گئے ہیں دو چار دن سے زیادہ تھوڑی لگائیں گے۰وہ واپس آئیں گے تو آپ ان سے ہی سب بات کرلیجئیے گا۰مجھے ان باتوں کا کچھ نہیں پتہ۰بیٹا تمھاری تائی ٹھیک کہہ رہی ہیں،سلمان نے جاتے ٹائم مجھ سے کہا تھا کہ اسکی واپسی پر نکاح کرلیں گے،رخصتی تمھاری پڑھائی کے بعد بھی ہوتی رہے گی۰زیشان تایا ابھی ابھی نیچے لاؤنج میں آئے تھے۰انکو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی آفرین تائی کے بس کی نہیں ہے۰وہ لوگ چاہ رہے تھے کہ سلمان صاحب کی گمشدگی کے دن بڑھنے سے پہلے کمُ از کم وہ لوگ مائشہ اور شہریار کا نکاح کردیں تاکہ بعد میں مائشہ پیچھے نہ ہٹ سکے۰مگر مائشہ آسانی سے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں تھی۰تایا ابو میں صبح سے پاپا کو کالز کر رہی ہوں مگر فون آف جارہا ہے انکا۰۰میری جب ان سے بات ہوجائے گی تب ہی میں کچھ اور سوچوں گی،ابھی میں بہت پریشان ہوں اور ویسے بھی یہ سب پاپا کے کام ہیں۰۰وہ خود ہی آکر نمٹائیں گے۰وہ منہ بسور کر بیٹھ گئی۰زیشان تایا پیچ و تاب کھا کر رہ گئے۰
۰۰۰۰۰۰۰
آپ لوگ سے ایک لڑکی نہیں سنبھالی جارہی۰میں خود دیکھ لونگا۰مجھے پتہ ہے،کیسے راضی کرنا ہے اسکو۰شہریار نے غصے سے کہا۰خبردار۰۰۰خبردار جو تم نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی۰میں نے دیکھا ہے کل رات تم نے کیسے بات سنبھالی ہے۰سن لو آفرین اگر اب کی بار اس لڑکے نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو میں اسکو جائیداد سے عاق کردونگا۰زیشان تایا غصے میں کف اڑا رہے تھے۰مجھےآپ کی دولت میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے،بس مجھے ہر حال میں مائشہ سے شادی کرنی ہے،بہت صبر کرلیا میں نے۰شہریار نے بھی دوبدو جواب دیا۰ہاں تم تو یہ سب عیاشیاں خود کی کمائی دولت پر کر رہے ہو نہ،زیشان تایا نے طنز سے اسکو دیکھا۰دیکھیں اگر اس ہفتے کے اندر اندر مائشہ راضی نہیں ہوتی تو مجھے پتہ ہے کہ اسکو کیسے راضی کرنا ہے۰وہ کرسی کو پاؤں سے مارتا کمرے سے نکل گیا۰آفرین تائی دل پکڑ کر بیٹھ گئیں۰کس کی نظر لگ گئی میرے گھر کو۰میں کل ہی گھر میں آیت کریمہ کا ختم کرواتی ہوں۰انہوں نے زیشان تایا کو دیکھتے ہوۓ کہا۰ہاں اپنی اولاد کے کرتوت نہ دیکھو،سارا الزام بس نظر پر ڈال دو۰وہ تنفر سے کہتے کمبل کھینچ کر لیٹ گئے۰
۰۰۰۰۰۰
رات کو جب جنت صندوق سے بستر نکال رہی تھی،تب اسکی نظر اس کے اوپر رکھے کیم کارڈر پر گئی۰اس نے خاموشی سے اس کے اوپر ایک لحاف ڈال کر صندوق بند کردیا۰مجھے بڑی بی بی نے بلایا ہے آج انکو مجھ سے کچھ کام ہے۰صبح جنت نے رشید کی پلیٹ میں گرما گرم پراٹھا رکھتے ہوۓ کہا۰وہ کنکھیوں سے رشید کو دیکھ رہی تھی۰اچھا،تو ساتھ ہی چل لے میرے۰نہیں کام نمٹا کر جاؤں گی اپنا۰جنت نے چولہا بند کرتے ہوئے کہا۰بس تھوڑے دن اور غلامی کرلے،جلد ہی میں نوکری چھوڑنے کی بات کرلوںگا۰رشید نے چائےکا گھونٹ بھرتے ہوۓ کہا۰تو نوکری چھوڑ دے گا؟؟جنت نے خوف اور حیرت سے کہا۰ہاں میں وہ ویڈیو تھوڑے دن بعد بھیجوں گا اور نوکری چھوڑنے کا ابھی سے کہہ دونگا تاکہ کسی کو کوئی شک نہ ہو۰بس تو بھی سب کو یہی بتا کہ ہم گاؤں واپس جارہے ہیں۰میری زمیں کا حصہ مجھے مل گیا ہے،اور ہم اس پر کھیتی باڑی کریں گے۰تاکہ جب ہم اچانک جائیں تو کسی کو شک نہ ہو۰ویسے بھی ہمارے پاس اتنے پیسے آجائیں گے کہ ہم یہ شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے۰وہاں نئی زندگی شروع کریں گے۰رشید نے بہت دور تک کی پلاننگ کی ہوئی تھی۰جنت نے تہیہ کرلیا تھا وہ یہ کام رشید کو ہرگز نہیں کرنے دے گی۰رشید کے نکلتے ہی اس نے صندوق سے کیمکارڈر نکالا اور اسکو چادر میں چھپا میں کر نکلی۰اسکو پتہ تھا رشید سب سے پہلے گھر کے عقبی حصہ اور لان وغیرہ کی صفائی کرتا تھا۰اسلئے وہ اسکے گھرکے اندرونی حصے میں داخل ہونے سے پہلے پہلے مشی سے ملنا چاہتی تھی،وہ دعا کرتی ہوئی گئی تھی کہ اسکو مشی مل جائے،اور شاید یہ اسکی قبولیت کا وقت تھا کہ مشی اسکو لاؤنج میں بیٹھی ہوئی مل گئی۰وہ کسی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۰جنت نے کانپتے ہاتھوں سے مائشہ کو کیم کارڈر پکڑایا۰یہ تم کو کہاں سے ملا؟؟مائشہ نے حیرت سے اسکو اور پھر کیم کارڈر کو دیکھا۰وہ بی بی ۰۰جنت پھولی سانسوں کے درمیاں شروع ہوئی،وہ چاہتی تھی کسی کہ بھی آنے سے پہلے وہ مشی کو ساری حقیقت بتادے۰جب ہی آفرین تائی لاؤنج میں آگئیں۰ارے جنت تم کب آئیں۰؟؟وہ میں نے سوچا آپکو کوئی کام وغیرہ ہو تو کردوں۰تو مشی بی بی کا یہ کیمرہ مجھے باہر رکھا نظر آگیا تو دینے آگئی۰جنت آفرین کو دیکھ کر ایکدم گھبرا گئی۰چلو شکریہ تمھارا۰مشی نے اسکو مسکرا کر دیکھا اور موبائیل چیک کرنے لگی کہ شاید پاپا کا کوئی میسج ہو۰مگر کوئی بھی میسج نہ پاکر اسکا دل افسردہ ہوگیا تھا۰آج تک ایسا نہیں ہوا تھا ،پاپا اسکو دن میں ایک دو میسج ضرور کرتے تھے،اور ٹائم مل جائے تو کال بھی کرلیتے تھے۰اور اب کی بار نہ انکے میسجز آرہے تھے،نہ مائشہ کے جارہے تھے۰اور اب آج کا دن جیسے جیسے گزر رہا تھا ،اسکا دل بہت بری طرح گھبرانا شروع ہوگیا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
تایا ابو پلیز آپ معلوم کریں،آخر پاپا کہاں گئے ہیں جو آج دوسرا دن ہوگیا ہے انکا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۰ہاں میں نے اپنے ایس پی دوست سے کہا ہے۰میں بھی کل سے کانٹیکٹ کی کوشش کر رہا ہوں،مگر نہیں مل رہا۰زیشان تایا نے مصنوعی پریشانی سے کہا۰مگر پاپا کہاں کا کہہ نکلے تھے ؟؟میں رات کو اس کے کمرے میں گیا تھا کچھ پیپرز وغیرہ کی بات کرنے تو وہ پیکنگ کر رہا تھا،بلکہ میں باہر آیا تو کرم دین دودھ لارہا تھا میں نے خود اس سے دودھ لے کر سلمان کو لے جاکر دیا۰کہہ رہا تھا،ارجنٹ کام ہے،دو تین دن میں آجاؤنگا۰میں نے سوچا وہ تو ایسے جاتا رہتا ہے اسلئے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی۰زیشان تایا نے من گھڑت کہانی مشی کو سنا کر مطمئن کیا۰مگر فون کیوں بند ہے انکا،مجھے پریشانی بس اس بات کی ہے۰۰۰مائشہ نے روہانسی ہوتے ہوۓ کہا۰ہاں دیکھو معلومات کرتا ہوں ،تم پریشان نہ ہو۰انہوں نے مائشہ کو گلے لگاتے ہوۓ اسکے سر کو تھپک کر کہا۰مائشہ اس بات سے بے خبر کہ وہ ان ہی ہاتھوں سے اسکے باپ کو دفنا کر آۓ ہیں ،انکے اندر اپنے پاپا کا لمس ڈھونڈ رہی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
مائشہ نے کیم کارڈر لاکے اپنی الماری کی ڈرار میں ڈال دیا تھا،اسکو پتہ ہی نہیں تھا کہ جس سوال کے لئے وہ اتنی پریشان ہے کہ آخر پاپا کہاں گئے،اسکا جواب اس کیم کارڈر میں چھپا ہے۰تایا ابو سے بات کرکے بھی اسکو زیادہ تسلی نہیں ہوئی تھی۰وہ بغیر کچھ کھاۓ پیے ایسے ہی لیٹی تھی۰اچانک اسکو خیال آیا کہ کیا پتہ پاپا نے اسکے لئے کوئی ویڈیو میسج چھوڑا ہو،جب ہی تو اسکا کیم کارڈر باہر کہیں تھا۰کیا پتہ وہ جلدی میں میسج ریکارڈ کرکے باہر لان میں رکھ گئے ہوں۰یہ خیال آتے ہی اس نے فوراً کیم کارڈر نکالا۰آن کرنے پر پتہ لگا کہ اسکی بیٹری لو ہے۰۰اسکو چارج پر لگا کر وہ شاور لینے چلی گئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جنت کو آفرین تائی نے کافی چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگا لیا تھا،وہ واپس آئی تو رشید گھر آچکا تھا،اور پورا صندوق اور ساری الماری خالی تھی۰رشید جنت کو دیکھتے ہی لپک کے اسکے پاس آیا۰سچ سچ بتا کہاں ہے وہ کیمرہ؟؟مم مجھے نہیں پتہ،جنت نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۰دیکھ جنت سیدھے سے بتادے،مجھے پتہ ہے تو نہیں چاہتی کہ میں وہ ویڈیو بھیجوں مگر اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے،اس نے اسکو پچکارتے ہوئے کہا۰میں نے کہا نہ مجھے نہیں معلوم،میں تو خود تیرے پیچھے پیچھے نکل گئی تھی۰پوچھ لے بڑی بیبی سے۰۰کب سے ہوں انکے پاس،جنت اب سنبھل چکی تھی۰تو آخر کہاں گیا۰میں نے رات خود لاکر یہاں رکھا ہے۰اس نے اپنے بال نوچتے ہوئے کہا۰میں نے کل ہی دوست کے لیپ ٹاپ سےاسکویو ایس بی میں کاپی کیا تھا،اور واپس لاکر یہیں رکھا ہے۰اس نے صندوق کی طرف اشارہ کیا۰جنت کو اسکی بات کچھ سمجھ نہیں آئی،کیا کیا تونے؟؟میں نے اس ویڈیو کو ایک جگہ اور رکھ لیا ہے،تیرے پلے نہیں پڑے گی،تو چھوڑ اس بات کو،مگر وہ کیمرہ کھو گیا تو مسئلہ ہوجائے گا،بات اور لوگوں کو بھی پتہ لگ جائے گی۰رشید کا یہ انکشاف سن کر کہ وہ ویڈیو ابھی بھی اسکے پاس تھی،جنت کے دل کو دھکا سا لگا۰اس نے اتنا رسک لے کر وہ کیمرہ بیبی کو دیا اور اسکا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوا۰وہ مرے مرے دل کے ساتھ سارا پھیلا ہوا سامان سمیٹنے لگی۰رشید سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا وہ سوچ رہا تھا آخر کون انکے اس کمرے میں آسکتا تھا،جسکو یہ بھی پتہ تھا کہ کیم کارڈر کہاں رکھا ہے۰اسکے چہرے پر سوچ کا جال تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
متقین دو دن پہلے ہی کراچی شفٹ ہوا تھا،دادو کی تو خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا،انہوں نے اسکے آنے سے پہلے سے لیکر اب تک گھر کے نوکروں کی پریڈ لگوائی ہوئی تھی۰متقین کے لئے انہوں نے اوپر اسکا روم صاف کرودیا تھا،متقین کے ماما پاپا ایک کار ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئے تھے۰اس وقت متقین دس سال کا تھا،اسکو دادو نے ہی پالا تھا۰اسکے پاپا دادو کی اکلوتی اولاد تھے۰اور ماما کو کبھی اس نے انکے گھر والوں سے ملتے نہیں دیکھا تھا۰اسلئے اسکے ننھیال کا اسکو پتہ نہیں تھا۰ رشتوں کے نام پر اسکے پاس دادو تھیں۰جن پر وہ جان چھڑکتا تھا۰آج چھٹی کا دن تھا مگر متقین کو صبح خیزی کی عادت تھی۰اسلئے وہ فجر کے بعد جاگنگ کے لئے نکل گیا تھا،اور اب آٹھ بجے کے قریب اسکی واپسی ہوئی تھی۰جب تک وہ فریش ہونے گیا،دادو نے اسکے لئے ناشتہ لگوادیا تھا۰متقین اب بس تم شادی کرلو،دادو نے کپ میں چائے انڈیلتے ہوۓ کہا۰دادو کیوں میری آزادی چھیننا چاہتی ہیں آپ؟متقین نے فرائیڈ انڈے کو کانٹے میں پھنساتے ہوئے کہا۰بس بہت ہوگئی ہے،من مانی۰تم کو کوئی پسند ہے تو بتادو ورنہ میں نے ایک لڑکی پسند کرلی ہے،ہماری ہی کالونی کی ہے،آگے والے بلاک میں رہتے ہیں،بڑی ہی پیاری اور معصوم سی ہے،یونیورسٹی میں پڑھتی ہے ابھی تو،بس تم سے پوچھنا تھا،ورنہ کل میں جاکر رشتہ کی بات ڈال آؤنگی۰دادو نے اپنا فیصلہ سنایا۰دادو بہت چھوٹی نہیں ہے؟؟متقین نے تھوڑا پریشان ہوکر پوچھا۰ارے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں،تم کون سے بوڑھے ہو جو وہ چھوٹی لگ رہی ہے،آٹھ ،نو سال کا فرق تو عام سی بات ہے،دادو کے پاس سارے دلائل موجود تھے۰اچھا،جو آپکو ٹھیک لگے۰اس نے موبائیل اسکرول کرتے ہوئے کہا،میرا چاند ہمیشہ خوش رہے۰دادو نے خوش ہوکر اسکی بلائیں لیں

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: