Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 5

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 5

–**–**–

 

دو دن بعد زروا کی برتھ ڈے تھی۰ہر سال ہی وہ اپنی فرینڈز کو بلا کر برتھ ڈے سیلیبریٹ کرتی تھی۰سو انعم کے لئے یہ ویک بہت مصروف تھا،پارٹی ارینجمنٹ کے لئے اس نے آرگینائزرز سے بات کرلی تھی،زروا نے اس بار اپنی برتھ ڈے میں سلمبر پارٹی رکھی تھی۰جسمیں اسکے فرینڈز نائٹ اسٹے اوور کرنے والے تھے۰انعم نے جب یہ پلان سنا تھا تواس نے زروا سے کہا تھا کہ وہ کچھ اور پلان کرلے کیوں کہ اسکا نہیں خیال کہ کسی کو بھی گھر سے نائٹ اسٹے کی پرمیشن ملے گی۰مگر انعم کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب دو تین کے علاوہ سب ہی نے آنے کی ہامی بھرلی۰زروا میں تو تمہیں کبھی اجازت نہ دیتی کسی اور کے گھر جاکر رہنے کی،انعم نے باتوں کے دوران زروا سے کہا۰مما آپ نہ بھی بتاتیں تو بھی مجھے پتہ ہے کہ آپ کتنی کنزرویٹیو ہیں۰زروا جو پارٹی گیمز کی لسٹ بنا رہی تھی،اس نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا۰انعم کے دل کو دھکا لگا،تو کیا زروا کو وہ کنزرویٹیو لگتی ہے اسلئے وہ اس سے اس طرح بی ہیو کرتی ہے۰انعم جو مینیو لسٹ بنا رہی تھی،چھوڑ کر سوچنے لگی۰وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے روم میں آگئی تھی،ابھی وہ زروا سے بات کرکے اپنا اور اسکا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی،مگر اس نے سوچ لیا تھا وہ زروا سے پارٹی کے بعد بات کرے گی۰
۰۰۰۰۰۰۰
مائشہ شاور لے کر نکلی،تو شہریار اسکے روم میں بیٹھا ہوا تھا۰آج تک کبھی شہریار اسکے روم میں نہیں آیا تھا،آپ یہاں کیسے ؟؟اس نے ناگواری سے پوچھا۰میرے ساتھ چلو پاپا نے بلوایا ہے،چاچو کا کچھ پتہ لگا ہے۰یہ سنتے ہی مائشہ شہریار سے بھی پہلے کمرے سے باہر نکل گئی۰کیا ہوا تایا ابو پاپا کہاں ہیں؟؟؟آپکی ان سے بات ہوئی؟؟اس نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیاں پوچھا۰اپنے روم سے زیشان تایا کے روم تک وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی۰تمہارے لئیے کچھ اچھی خبر نہیں ہے،زیشان تایا نے سر جھکا کر کہا۰کیا ہوا تایا ابو،پاپا ٹھیک تو ہیں نہ؟؟؟مائشہ نے انکو جھنجھوڑ ڈالا تھا۰سلمان اب اس دنیا میں نہیں ہے۰۰۰زیشان تایا نے کہہ کر اپنا چہرہ موڑ لیا۰ارے ارے پکڑو اسکو،آفرین تائی کی آواز پر وہ مڑے تو مائشہ کو زمیں پر بے ہوش گرا ہوا پایا۰پانی دو جلدی۰انہوں نے آفرین تائی سے کہا۰وہ بھاگ کے گلاس میں پانی انڈیل کر لائیں۰دو چار چھپاکے پانی کے مارنے پر مائشہ نے آنکھیں کھولیں،دو/چار سیکنڈ وہ سب کو خالی نظروں سے دیکھتی رہی۰پھر زور سے چیخ مار کر آفرین تائی کے گلے لگ گئی۰نہیں ایسے نہیں ہوسکتا آپلوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے،میرے پاپا بلکل ٹھیک تھے،انکو کچھ نہیں ہوسکتا۰اس نے آفرین تائی کو پورا ہلا ڈالا تھا۰بیٹا صبر سے کام لو،سلمان کو کسی ٹرک والے نے ٹکر مار دی تھی،وہ کھائی میں گر گیا تھا۰چہرے کی شناخت ممکن نہیں ہے۰اس کا کچھ سامان پولیس اسٹیشن میں ہے۰تم چل کر شناخت کرلو۰زیشان تایا نے لہجے کو گلوگیر بناتے ہوئے کہا۰شہریار اس سب ڈرامے میں تماشائی کا کردار نبھا رہا تھا۰نہیں میں نہیں جاؤنگی۰اور چیخ مار کر وہ پھر ایک بار بے ہوش ہوگئی تھی۰اور ہوش میں نہیں آرہی تھی۰تمہارا کیا دھرا ہے سارا،زیشان تایا نے شہریار کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۰اب کھڑے کیا ہو،گاڑی نکالو،اسکو ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا۰وہ اور آفرین تائی اسکو اٹھانے کی کوشش کرنے لگے،شہریار فوراً باہر کی طرف بھاگا۰وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جتنی جلدی ہوسکے سامان سمیٹ لے،ہم آج ہی یہاں سے نکل رہے ہیں۰میں یہاں سے جاکر ان لوگوں کو ویڈیو بھیجوں گا۰بس تو جاکر بول آ بیگم صاحبہ کو کہ تیرے کسی چاچے کی فوتگی ہوگئی ہے،ہم پنڈ جارہے ہیں۰سمجھ رہی ہے نہ؟؟رشید نے اسکو سارا لائحہ عمل بتایا۰جنت کی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے رشید کو یہ سب کرنے سے روکے۰وہ بادل نخواستہ اپنے کمرے سے نکلی۰گھر پہنچنے پر اسکو آفرین تائی اپنے کمرے میں نہ ملیں۰اس نے سوچا موقع پاکر مشی بی بی کو سب بتادیتی ہوں۰پھر تو رشید کے پاس یہاں سے جانے کا کوئی جواز نہیں رہے گا ،جب مشی بی بی کو ساری اصلیت پہلے ہی پتہ ہوگی تو رشید زیشان صاحب کو بلیک میل نہیں کر پائے گا۰ایسے کرکے کم از کم وہ رشید کو اس گناہ کی شراکت سے بچا سکتی تھی۰یہی سوچ کہ وہ مائشہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں مائشہ بھی نہ تھی۰البتہ جنت کو اسکا کیم کارڈر سامنے ہی چارج پر لگا نظر آگیا۰جنت کی تو جان ہی نکل گئی،اگر کہیں رشید اس طرف آگیا ہوتا تو اسکا بھانڈا پھوٹ جاتا۰جنت نے جلدی سے کیم کارڈر چارج سے نکال کر مائشہ کی الماری میں کپڑوں کے بیچ رکھ دیا،اور جلدی سے کمرے سے نکل گئی،اس سے پہلے کہ کوئی اسکو مائشہ کی الماری کھولے دیکھ لیتا،تو الٹا اسکی نیکی گلے پڑ جاتی۰باہر نکلتے ہی اسکا ٹکراؤ کرم دین سے ہوگیا۰جس سے اسکو پتہ لگا کہ مائشہ کو تو گھر والے ہاسپٹل لے کر گئے ہیں۰جنت دل مسوس کر وہاں سے واپس آگئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
کہیں مشی بی بی کے ہاتھ وہ کیم کارڈر تو نہیں لگ گیا،اور اسکو دیکھ کر انکی طبعیت خراب ہوئی ہو۰رشید نے جنت کی زبانی مائشہ کے ہاسپٹل کا سن کر قیاس کیا۰جنت کے اندر ایکدم سکون کی لہر دوڑ گئی۰وہ سوچنے لگی واقعی اس نے اس طرح سے کیوں نہیں سوچا۰مگر رشیدے مشی بی بی کو وہ کیمرہ کیسے ملے گا،اس نے اندر کی خوشی چھپاتے ہوئے کہا۰ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں،رشید نے تھوڑی کھجاتے ہوئے کہا۰اگر ایسا ہوا تو میری ساری پلاننگ اکارت جائے گی۰رشید نے افسوس سے سر جھٹکا۰ہاں پر رشیدے اب ہم کو یہاں سے جانے کی ضرورت نہیں ہے،وہ ویڈیو تو انلوگوں کو ویسے ہی مل گئی ہے،اب ہم یہاں سے جائیں گے تو اتنا اچھا رہنا کھانا آرام کہاں ملے گا ہم کو؟؟کہاں مارے مارے پھریں گے ؟؟جنت نے رشید کو آنے والے دنوں کی مشکلات سے ڈرایا۰ہم م م۰۰۰مشی بی بی کے ہاسپٹل سے آنے تک ہمکو ٹہرنا ہوگا،تاکہ اصل صورت حال کا پتہ لگ سکے۰رشید نے پر سوچ انداز میں کہا۰جنت فی الحال خوش ہوگئی تھی،اسکو لگ رہا تھا مشی کی طبعیت خرابی کی ہو نہ ہو یہی ایک وجہ ہے،ورنہ دن میں تو وہ بھلی چنگی تھیں۰سو وہ کافی اطمینان سے اپنے کام سمیٹنے لگی۰
۰۰۰۰۰۰
She had vasovagal syncope…
آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ بلڈ پریشر اتنا لو ہوجاتا ہے کہ،دماغ کو خون کی سپلائی عارضی طور پر رک جاتی ہے،جس کی وجہ سے بے ہوشی ہوجاتی ہے۰اور عام طور ایسا کوئی بری خبر سننے یا کچھ لوگوں کو خون دیکھنے سے بھی ہوجاتا ہے۰فی الحال ایسی کوئی خطرے کی بات نہیں ہے،ہم نے دوائیں وغیرہ دے دی ہیں۰ابھی وہ انڈر آبزرویشن ہیں۰ڈاکٹر نے زیشان تایا کو اپنے روم میں بلا کر تفصیل بتائی۰تو کب تک رکھیں گے آپ مائشہ کو؟؟زیشان تایا نے پریشان ہوکر پوچھا۰ابھی تو وہ ہوش میں آگئی ہیں،تھوڑی دیر میں آپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں۰مگر ہم انکی کنڈیشن دیکھ کر ہی آگے کچھ بتا سکتے ہیں،کیونکہ کچھ لوگوں کو یہ ایپیسوڈک(episodic)ہوتا ہے۰ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں انکو آگاہ کیا۰شکریہ ڈاکٹر صاحب ۰زیشان تایا انکے روم سے اٹھ کر آفرین تائی اور شہریار کے پاس آگئے،وہ لوگ کوریڈور میں کھڑے تھے،کیونکہ اب تک مائشہ ایمرجنسی میں تھی۰سب کتنا آرام سے چل رہا تھا،یہ سب تم دونوں ماں بیٹا کی بیوقوفیوں کا نتیجہ ہے جو میں بھگت رہا ہوں۰ایک بار پھر زیشان تایا کو نئے سرے سے شہریار اور آفرین تائی پر غصہ آرہا تھا۰وہ پریشانی کے عالم میں ٹہلنے لگے۰کتنی مشکل سے انہوں نے ایس پی کے ساتھ مل کر پورا ڈرامہ رچا تھا،سلمان صاحب کی گھڑی اور موبائیل جو قتل کے وقت انکے پاس تھا اسکو انہوں نے توڑ پھوڑ کر حادثہ کے شکار ہونے کا تاثر دیا تھا،باقی ایک میت سرد خانہ سے ایس پی زیشان نے انتظام کردی تھی،جس کا چہرہ مسخ تھا،انکو پوری امید تھی،مائشہ ڈیڈ باڈی دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گی،اور وہ لوگ بس اس کو دفنا کر دنیا اور مائشہ کے سامنے سلمان صاحب کے قصہ کو وقت کی گرد میں دبا دیں گے،کہ مائشہ نے یہاں دوسری ٹینشن کھڑی کردی تھی۰اس سب سلسلے میں ایس پی نے بھی ان سے تگڑی رقم وصولی تھی۰وہ جتنا اس قصہ کو جلد از جلد نمٹانا چاہ رہے تھے،اتنا ہی وہ طول پکڑتا جا رہا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰
کیا دادو مجھے اس طرح جاکر انٹرویو نہیں دینا۰متقین نے ناراضگی سے کہا۰ارے کیا لڑکیوں کی طرح گھبرا رہا ہے۰بس ایک رسمی سی ملاقات ہے،ماشااللہ میرے بچے میں کوئی کمی تھوڑی ہے،جو کوئی منع کرے گا۰ وہ لوگ بس ایک بار ملنا چاہتے ہیں اور یہ تو انکا حق ہے۰دادو نے اسکو ڈپٹا ۰دادو دو دن پہلے لڑکی دیکھ کر آگئی تھیں،لڑکی تو انکو پہلے ہی پسند تھی،بس رشتہ ڈالنے گئی تھیں۰وہاں سے فوراً ہی ہاں ہوگئی تھی۰اب وہ لوگ چاہتے تھے کہ متقین سے گھر آکر مل لیں،تاکہ آگے رسم وغیرہ کی بات چیت طے ہوجائے۰آخر وہ تھوڑی دیر کی مغز ماری کے بعد متقین کو ملنے کے لئے قائل کرچکی تھیں۰آنے والے اتوار کی شام کا کہہ دیتی ہوں،تم بھی گھر پر ہی ہوگے،اور انلوگوں کو بھی چھٹی کے دن آسانی ہوگی۰دادو نے متقین سے راۓ لینی چاہی۰ہاں آپکو جو جیسے ٹھیک لگے کرلیں۰متقین جو انکی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا،اس نے آنکھیں موندے جواب دیا۰جیتا رہے ،خوش رہے،بس آیک بار تمھارا گھر بسا لوں تو سکون سے مروں گی۰انہوں نے خوشی کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۰اوں ہوں۰۰۰کیسی باتیں کرتی ہیں آپ دادو۰۰متقین نےآنکھیں کھول کر انکو خفگی سے دیکھا۰اچھا اچھا نہیں کرتی،یہ بتاؤ،کیا پہنو گے ،میرے خیال سے شلوار قمیص ہی ٹھیک رہے گا۰دادو نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۰دادو کچھ بھی پہن لوں گا،کہیں تو یونیفارم پہن کر ہی بیٹھ جاؤں؟متقین نے انکو شرارت سے دیکھا۰نہیں میرا پوتا تو اسی حال میں بھی بیٹھ جائے تو اسکو نظر لگ جائے گی،دادو نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۰ہاہاہا۰۰کتنی خوش فہم ہوتی ہیں نہ یہ خواتین اپنے گھر کے لڑکوں کے لئیے۰متقین نے انکے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۰دونوں دادو پوتا آج کتنے دن بعد کھل کر ہنس بول رہے تھے۰دادو کا تو بس نہیں تھا کہ وہ اتوار کو دلہن ہی رخصت کرکے لے آتیں۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
انعم،زروا،زمل تینوں ہی حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساسات سے فاران کو دیکھ رہے تھے،جو ان لوگوں کو بغیر انفارم کئے زروا کے برتھ ڈے سے ایک روز قبل ہی پاکستان پہنچا تھا۰دیٹس ناٹ فئیر پاپا،فاران بھنک بھی نہیں پڑنے دی تم نے،پاپا آئی لائیک یور سرپرائز،تینوں ہی ایک ساتھ اپنی کہہ جارہی تھیں۰ارے بابا اندر بلا کر بیٹھنے بھی دوگی یا نہیں،فاران نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۰اوہ ہاں،چلو،سب سے پہلے انعم نے اس کے کندھے سے بیگ پیک اتارتے ہوئے کہا۰فاران بھی اسکے پیچھے ٹرالی بیگ گھسیٹتا ہوا اسکے پیچھے چل دیا،زمل اور زروا اسکے دونوں بازو پکڑے ہوئے تھیں،اس نے باری باری دونوں کے سر پر پیار کیا۰چلو پہلے تم فریش ہوجاؤ،میں کچھ کھانے کا دیکھتی ہوں،تم بتا کے آتے تو انتظام کرکے رکھتی نہ میں،انعم نے اسکو ایک بار پھر ناراضگی سے دیکھا۰ادھر آؤ تم میرے پاس بیٹھو،فی الحال ،میں نے پلین میں کھانا کھا لیا تھا،فاران نے انعم کا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا،جو اسکے پاس ہی کھڑی تھی۰مگر پھر بھی،دیکھو میرا حلیہ کتنا رف ہورہا ہے،انعم کو اب نئی فکر ستانے لگی،ارے فیشل تو تازہ تازہ لگ رہا ہے،فاران نے بغور دیکھتے ہوئے کہا۰ہاں وہ تو کل کی پارٹی کے لئے کروالیا تھا۰انعم نے جھینپتے ہوئے کہا۰اتنے عرصے بعد فاران کو اتنا قریب اور اتنے غور سے دیکھتے انعم کچھ جھینپ رہی تھی۰زروا فاران کو اپنی برتھ ڈے پارٹی کی تفصیل بتانے لگی،اور زمل اسکو اپنا ڈریس سلیکشن۰۰دونوں اسکے دونوں اطراف گلے لگ کر بیٹھی تھیں،اور وہ پیچھے سے انعم کا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا،جس کو پکڑے انعم خود کو تحفظ اور محبت کے ان دیکھے حصار میں محسوس کر رہی تھی۰
۰۰۰۰۰۰
ایسا کرو تم سب کو فون کرکے کل کی تدفین کا کہہ دو،بس ہم کسی کو چہرہ دکھائے بغیر ہی اس قصے کو تو ختم کرتے ہیں،مشی پتہ نہیں کتنے دن ہاسپٹل میں رہے گی،اور واپس آکر نئے سرے سے پھر وہی ڈرامہ ہوگا۰زیشان تایا نے آفرین تائی کو ہدایت دی۰ہاں مگر آپ کیسےمیت کا چہرہ چھپائیں گے،اگر کسی کو اندازہ ہوگیا۰آفرین تائی کو اس سب سے بہت خوف آرہا تھا،انکا کہنا تھا،کہ سب کو بس بتا دیتے ہیں کہ لاش مسخ شدہ تھی،تو بس جلد از جلد سب کام نمٹا دئیے۰مگر زیشان تایا پکا کام کرنا چاہ رہے تھے،کسی کو کوئی شک نہ ہو اسلئیے وہ سب کام نارمل طریقے سےسب کے سامنے کرنا چاہ رہے تھے۰تم اپنا دماغ زیادہ مت چلاؤ،مجھے پتہ ہے ،سب کچھ کیسے کرنا ہے،وہ کسی ایکسیڈنٹ کی مسخ شدہ لاش ہے،کوئی نہیں پہچانے گا۰اور ویسے بھی میں کسی کو چہرہ نہیں دیکھنے دوں گا۰زیشان تایا نے انکو جھڑکا۰آفرین تائی کشمکش میں موبائیل اٹھا کر نمبر ڈائیل کرنے لگیں۰پریشانی دونوں کے چہرے سے عیاں تھی،زیشان تایا آفرین تائی کو دیکھتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھے۰

 

Read More:  Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 15

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: