Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 6

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 6

–**–**–

 

مگر تم کو کیسے معلوم ہوا؟؟رشید نے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر کرم دین کو دیکھا۰وہ بڑے صاحب اور بڑی بی بی صاحبہ آپس میں کچھ بات کر رہے تھے،تو میں نے سنا۰مشی بی بی کی طبعیت بھی اسی لئے خراب ہوئی ہے۰کرم دین نے دکھ سے رشید کو سلمان صاحب کی ڈیتھ کی ساری تفصیل بتائی۰رشید کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے،جو پیسے اسکو ہاتھ سے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے،اب پھر امید بندھ گئی تھی۰مگر ظاہر ہے،کرم دین کے سامنے وہ کچھ اظہار نہیں کر سکتا تھا۰بڑی مشکل سے اس نے اپنے تاثرات چھپا کر افسوس کا اظہار کیا۰اور فوراً وہاں سے کھسک گیا۰وہ جلد از جلداس ویڈیو کو زیشان تایا کو بھیجنا چاہتا تھا۰جب ہی اسکو آفرین تائی کی آواز پر رکنا پڑا۰رشید کل تم جنت کو بھی اپنے ساتھ لے آنا،سلمان کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا ہے،کل باڈی آئے گی،تو تدفین وغیرہ ہوگی،گھر میں کافی کام ہوگا،تو صبح ہی تم لوگ آجانا۰آفرین تائی نے نمناک لہجے میں جلدی جلدی اسکو ساری تفصیل بتائی۰یہ کب ،کیسے ہوا؟؟رشید نے بھی انجان بننے کی بھرپور ایکٹنگ کی۰بس کسی ٹرک نے ٹکر مار دی تھی،کل شام ہی ہم لوگ کو بھی پتہ لگا۰آفرین تائی نے آنکھیں چراتے ہوئے بولا،ویسے بھی وہ دماغی طور پر کافی اپ سیٹ تھیں۰جو بھی تھا،وہ اس طرح سے یہ سب نہیں چاہتی تھیں۰جو کچھ ہورہا تھا،وہ اس سب سے بہت ناخوش تھیں۰ٹھیک ہے بی بی جی،میں جنت کو بھیج دونگا،رشید نے بھی رومال سے خشک آنکھوں کو خشک کیا،اور اللہ حافظ کہتا وہاں سے نکل گیا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رانیہ کے گھر والے متقین سے مل کر جاچکے تھے،انکو متقین بہت پسند آیا تھا۰اگلے ہفتے کو باقاعدہ رسم طے ہوئی تھی۰دادو کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی،وہ اب متقین سے بیٹھی اگلے ہفتے لے جانے والے شگون کی فہرست ڈسکس کر رہی تھیں۰دادو آپ خود دیکھ لیں نہ،مجھے تو کوئی اندازہ نہیں ہے،ان سب چیزوں کا،متقین نے احتجاج کیا۰ہاں تم بھی صحیح کہہ رہے ہو،مگر میں کس سے بولوں یہ سب؟دادو نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا۰اچھا چلیں بتائیں ،آپکو اپنی بہو کے لئے کیا کیا لے کر جانا ہے، میں ابھی لسٹ بناتا ہوں،متقین نے موبائیل رکھ کر انکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر بوسہ دیا۰وہ دادو کو افسردہ نہیں دیکھ سکتا تھا۰سوچ رہی ہوں کہ زریں کا زیور(متقین کی ماما)تو شادی پر دونگی،ابھی ایک سیٹ چل کر خرید لیتے ہیں۰دادو نے گال تلے انگلی رکھ کر متقین کو دیکھا۰مطلب میں بھی جاؤنگا آپکے ساتھ؟؟متقین نے پوری آنکھیں نکال کر پوچھا۰ہاں اب عادت ڈال لو،عورتوں کی شاپنگ کی،تمھارے بابا آفس سے آکر فوراً لے کر جاتے تھے،تمھاری ماما کو۰دادو نے اسکو ہنس کے دیکھتے ہوئے کہا۰دادو آپ مجھے شادی سے ڈرا رہی ہیں؟؟متقین نے معصوم سی شکل بنائی۰نہیں میرے چاند،بس میں چاہتی ہوں ،تم میری بہو کو بہت خوش رکھو،بلکل جیسے تمھارے بابا تمھاری ماما کو رکھتے تھے۰دادو کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پرمسکراہٹ تھی۰دادو ماما گھر والوں سے اسی لئے نہیں ملتی تھیں،کہ دونوں کو ایک دوسرے کے علاوہ کوئی نہیں دکھتا تھا۰متقین نے شرارت سے دادو کو دیکھا۰یہ سوال کتنی بار وہ گھما کر کر چکا تھا،مگر دادو نے کبھی اسکے ننھیال کے بارے میں نہیں بتایا تھا۰ابھی بھی انہوں نے اسکے سر پر چپت رسید کی اور کھانا نکلوانے کے بہانے اٹھ گئیں۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
دوپہر سے ہی گھر پر رشتے داروں کا تانتا بندھ گیا تھا،ہر کوئی سلمان صاحب کی اتنی اچانک موت کی خبر پر بہت افسردہ تھا۰لوگوں کے پاس سوالوں کا انبار تھا،اور آفرین تائی اور زیشان تایا لوگوں کو جواب دے دے کر تنگ آچکے تھے،مائشہ کو ہاسپٹل گئے دو دن ہوچکے تھے،اسکی طبعیت بہتر تھی،اور امید تھی کہ ایک دو دن میں اسکو ڈسچارج کردیں گے،اس وجہ سے زیشان تایا جلد از جلد اس قصے کو نمٹانا چاہ رہے تھے۰اس وقت وہ قبرستان میں کھڑے یہی سوچ رہے تھے کہ آج اس کھیل کو ختم کرکے وہ سکون میں آجائیں گے۰مگر وہ یہ بھول گئے تھے،کہ سب سے بہترین چال اللہ کی ہوتی ہے،بندے کی ہر بساط اسکی چال کے آگے الٹ جاتی ہے۰گھر پہنچ کر وہ کافی مطمئین تھے۰آہستہ آہستہ تعزیت کرنے والوں کا بھی رش ختم ہوگیا۰سب اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے،جب ہی انکو موبائیل میں ایک میسیج موصول ہوا۰جسکو کھولتے ہی انکے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۰وہ جلدی سے بھاگ کر اپنے بیڈروم میں پہنچے اور اپنی کپ بورڈ کھولی۰جس میں انکو سفید لفافےمیں لپٹی ایک ڈی وی ڈی ملی،جب ہی شہریار بھی ان کے روم میں داخل ہوا،کیا ہوا پاپا آپ کافی پریشانی میں آئے تھے،سب خیریت؟؟شہریار نے انکو بہت تیزی سے اندر آتے ہوئے دیکھا تھا،اسلئے وہ بھی پیچھے پیچھے آگیا تھا۰جواب میں زیشان تایا نے اسکو اپنا موبائیل پکڑا دیا۰”سلمان صاحب کا ایکسیڈنٹ نہیں قتل ہوا ہے،ثبوت تمہاری الماری میں موجود ہے،کل تک ۱۰ کروڑ کا انتظام کرلینا،ورنہ یہ پولیس تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۰یہ جاننے کی کوشش نہ کرنا میں کون ہوں،اسکا فائدہ نہیں ہے”میسج پڑھتے ہی شہریار نے ایک موٹی سی گالی نکالی۰اور موبائیل بیڈ پر پٹخ دیا۰زیشان صاحب سر پکڑ کر بیٹھے تھے۰شہریار نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے ڈی وی ڈی لی اور انکا لیپ ٹاپ اٹھا کر اس میں ڈالی۰جوں جوں ویڈیو آگے بڑھتی جارہی تھی،دونوں باپ بیٹا کی حالت “ کاٹو تو لہو نہیں” والی ہورہی تھی۰دونوں لٹھے کی طرح سفید ہورہے تھے۰مم مگر اس ٹائم کون یہ ویڈیو بناسکتا ہے؟؟ویڈیو ختم ہوتے ہی شہریار نے زیشان صاحب کو دیکھا۰ہو نہ ہو یہ حرکت گھر کے کسی ملازم کی ہے۰۰ورنہ رات کے اس پہر گھر کے اندر کون آسکتا ہے۰زیشان صاحب اب شاک سے سنبھل چکے تھے۰ابھی سب کو فارغ کرتا ہوں میں،شہریار تنتناتا ہوا باہر نکلنے لگا۰رک جاؤ،زیشان تایا نے اسکا بازو پکڑا۰تمھاری جلد بازی نے پہلے بھی کام بگاڑا تھا،اب بھی تم یہی کرنے جارہے ہو،ایسے کرنے سے ہم ویڈیو کی اصل کاپی نہیں حاصل کرسکتے،اسکو پیسوں کے جھانسے میں پھنسا کر ہی اسکا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۰اور پھر دیکھتے ہیں اسکے ساتھ کیا کرنا ہے۰۰زیشان صاحب اب ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگے تھے۰تم کوئی حرکت نہیں کرو گے۰انہوں نے انگلی اٹھا کر اسکو خبردار کیا۰شہریار نے زور دار مکا دیوار پر مارا۰اور اپنے بال پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۰زیشان تایا نے ڈی وی ڈی نکال کر دو ٹکڑے کی،اور اسکو ڈسٹ بن میں پھینک کر سگریٹ جلا کر بیٹھ گئے۰۰وہ کسی گہری سوچ میں تھے۰جن پیسوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ اتنی تگ و دو کر رہے تھے،وہی پیسہ اب آہستہ آہستہ انکے ہاتھ سے سرک رہا تھا۰پہلے انسپکٹر اور اب یہ بلیک میلر۰خیر اتنا بھی تر نوالہ نہیں ہوں میں،اس سے تو میں نمٹتا ہوں۰انہوں نے ایش ٹرے میں سگریٹ بجھاتے ہوئے خود کلامی کی۰باہر نکلتے ہوئے ایک نظر انہوں نے شہریار پر ڈالی جو ہنوز سر پکڑ کر بیٹھا تھا،وہ گردن جھٹک کر باہر نکل گئے۰
۰۰۰۰۰۰۰
آج زروا کی برتھ ڈے تھی،کیک کٹنگ ،گیمز ،ڈنر اور گفٹ ان پیکنگ کے بعد اب وہ سب کوئی مووی لگا کر بیٹھ گئی تھیں۰آج ان سب کا اوور نائٹ اسٹے تھا،اسلئیے زروا کے روم میں سب کے لئیے کینوپی میٹرسز لگائے گئے تھے،جو آرگینایزرز نے ہی ارینج کئے تھے۰مگر فی الحال وہ سب لاؤنج میں مووی دیکھنے میں بزی تھیں۰زمل کیونکہ چھوٹی تھی،اسلئیے وہ جلدی ہی فاران کے پاس آکر سو گئی تھی۰انعم بھی سارے کاموں سے فارغ ہوکر اب بیڈروم میں آئی تھی۰جہاں زمل فاران کے بازو پر سر رکھے بے خبر تھی۰کتنا مس کرتے ہیں ہم لوگ یہ سب،انعم نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فاران کے بازو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۰کرتا تو میں بھی ہوں،فاران نے آہ بھر کر کہا۰انعم بھی زمل کے دوسری طرف آکر لیٹ گئی۰ویسے ایک گڈ نیوز ہے،فاران نے آہستگی سے زمل کے نیچے سے ہاتھ نکال کر کہنی کے بل بیٹھتے ہوئے کہا۰اچھا وہ کیا؟؟انعم بھی جزباتی ہوکر کشن گود میں لے کر بیٹھ گئی۰میرا ٹرانسفر دبئی ہیڈ آفس ہورہا ہے۰وہاں تم لوگوں کو میں باسانی بلا لونگا۰بس انشااللہ دو یا تین منتھس کی بات ہے۰اس نے مسکرا کر انعم کو دیکھا۰سچی ،انعم تو یہ خبر سن کر خوشی سے کھل اٹھی۰مچی،فاران نے اسکی ناک ہلکی سی دبائی۰انعم کی سارے دن کی تھکن ایک دم اڑنچھو ہوگئی تھی۰ویسے ہم یہ گھر ایسے ہی سیٹ چھوڑ کر جائیں گے،تاکہ جب کبھی آئیں تو رہنے کی جگہ تو ہو ہمارے پاس۰انعم نے مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کردی تھی،فاران مسکرا دیا،وہ جانتا تھا اب جب تک وہ یہاں ہے،انعم اب بس اسی ٹاپک کو ڈسکس کرتی رہے گی،وہ ایسی ہی جذباتی،چھوٹی چھوٹی بات پر خوش ہونے والوں میں سے تھی۰یہ تو پھر بہرحال بہت بڑی خبر تھی،جس کا انتظار دونوں کو بہت عرصے سے تھا۰فی الحال وہ فاران سے زروا کو ڈسکس کرنے کا سوچ کے آئی تھی،مگر اب سب بھول بھال کر بہت پر جوش ہوگئی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
آج متقین اور رانیہ کی منگنی کی رسم تھی۰دادو نے رانیہ کے لئے آف وہائٹ اور ایمرلڈ کے امتزاج میں سوٹ سلوایا تھا۰ساتھ ننھے جڑے اسٹونز کا وہائٹ گولڈ کا سیٹ تھا۰متقین نے بھی آف وہائٹ شلوار سوٹ کے ساتھ لائٹ گولڈن جامہ وار کی واسکٹ پہنی تھی۰دونوں کی جوڑی بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۰تقریب رانیہ کے لان میں ہوئی تھی۰پورا لان فیری لائٹ سے جگمگا رہا تھا۰اسٹیج آف وہائٹ اور گرین آرٹیفیشل ویسٹیریا وائن فلاورز سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۰دادو نے رسم کے لئے ڈائمنڈ کی رنگ لی تھی،جو انہوں نے خود ہی رانیہ کو پہنائی ،رانیہ کی طرف سے رانیہ کی ممی نے متقین کو وائٹ گولڈ بینڈ رنگ پہنائی تھی۰دادو نے دونوں کی نظر اتاری،آج انکو اپنا بیٹا بہو شدت سے یاد آرہے تھے،ہر تھوڑی دیر میں انکی آنکھیں نم ہوجاتی تھیں۰جس کو وہ بار بار خوشی کے آنسو کہہ کر پونچھتی تھیں۰رانیہ کی تین اور بہنیں تھیں،جو اس سے چھوٹی تھیں۰انہوں نے متقین اور رانیہ کو گھیرا ہوا تھا۰ہنسی مذاق ،بات چیت کے ساتھ فوٹو سیشن ہوتا رہا۰متقین کی طرف سے اسکے چند دوست تھے،باقی دادو کے کچھ رشتے دار تھے۰ہاں رانیہ کے گھر کی طرف سے بہت لوگ جمع تھے،جن سےمسکرا مسکرا کے مل کے متقین کے جبڑے دکھ چکے تھے،اسکی یہ مشکل رانیہ کے پاپا نے آسان کی،انہوں نے زبردستی سب کو اسٹیج سے ہٹا کر کھانا کھانے بھیجا،متقین نے سکون کا سانس لیا۰کھانے سے فارغ ہوکر دادو نے سب سے رخصت لی،وہ بہت خوش اور مطمئیں تھیں۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مائشہ کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا تھا،وہ دوبارہ بے ہوش تو نہیں ہوئی تھی،مگر بلکل گم سم تھی،پاپا کو آخری بار نہ دیکھنے کا اسکو بہت دکھ تھا۰زیشان تایا نے اسکو کہہ دیا تھا کہ وہ لوگ سلمان صاحب کو زیادہ دن نہیں رکھ سکتے تھے،اور مائشہ کی طبعیت کا کچھ پتہ نہیں تھا،اسلئیے اسکی عدم موجودگی میں انکو یہ کرنا پڑا جسکا انکو بہت قلق ہے،مائشہ نے خالی خالی نظروں سے زیشان تایا کو دیکھا اور اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۰دو دن میں ہی وہ بلکل کملا گئی تھی۰بیڈ روم میں آکر اسکو وحشت ہونے لگی تھی۰وہ جلدی سے باہر نکل کر سلمان صاحب کے روم میں آگئی۰انکے کمرے میں آکر اسکا ضبط ٹوٹ گیا تھا،انکی چیزوں میں اسکو انکا چہرہ نظر آرہا تھا۰وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۰انکے کپڑے سینے سے لگا کر وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی،کتنی دیر وہ ان کپڑوں میں پاپا کی خوشبو محسوس کرتی رہی۰اسکو لگ رہا تھا جیسے وہ پاپا کے سینے سے لگی ہو۰اسکو تھوڑا سکون ملا تھا۰وہ وہیں آنکھیں موند کر لیٹ گئی تھی۰اسکی آنکھ کسی کے ہلانے پر کھلی۰اٹھو مشی یہاں ایسے کیسے لیٹی ہو؟؟یہ آفرین تائی تھیں ،جو اسکے زمیں پر لیٹنے کی طرف اشارہ کرکے اسکو اٹھا رہی تھیں۰بس تائی امی اچھا لگ رہا ہے یہاں،اس نے بیٹھتے ہوئے کہا۰چلو اٹھو،منہ ہاتھ دھو،تایا بلا رہے ہیں تمہارے۰انہوں نے اسکو اٹھاتے ہوئے کہا۰اچھا آتی ہوں،اس نے انکے ہاتھ سے ہاتھ نکال کر اپنے بال سمیٹے۰میں جب تک چائے بنواتی ہوں تم آجاؤ،آفرین تائی کہتی ہوئی باہر نکل گئیں۰مائشہ نے ایک بار پھر کپڑوں کو زور سے بھینچ کر سینے سے لگایا اور آنکھیں بند کرکے بیٹھ گئی۰کاش پاپا میں ٹور پر نہ گئی ہوتی تو آپ سے آخری دن ملاقات ہوجاتی میری۰کاش۰۰۰۰آنسو ایک بار پھر تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
زیشان اس نمبر کی میں نے معلومات کروائی ہے،وہ گجرات کے کسی گاؤں کا نمبر ہے،مگربات یہ ہے کہ جس کے نام پر یہ سم ہے وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۰اب تم کو یہ معلوم کرنا ہے کہ تمہارا کونسا نوکر گجرات کا ہے،ضرور یہ اسکے باپ وغیرہ کے نام سم ہوگی،جو وہ استعمال کررہا ہے۰اور دوسرے وہ نمبر مسلسل بند جارہا ہے،میں کل سے ٹرائی کر رہا ہوں،ایس پی شہزاد نے اپنی بات مکمل کرکے زیشان تایا کو دیکھا۰ہممم ۰۰۰۰۰ہے تو یہ کسی گھر کے بھیدی کا کام۰۰کیونکہ پہلے وہ ویڈیو بنانا اور پھر میری الماری میں رکھنا ،گھر کے کسی نوکر کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۰زیشان تایا نے پر سوچ انداز میں کہا۰ہاں مگر تم نوکروں سے ہٹ کر بھی سوچو کہ ایسا اور کون ہوسکتا ہے جو اس دن تمہارے گھر آیا ہو،کیونکہ اگر یہ کوئی باہر کا آدمی ہوا تو ہم بے خبری میں پھنس سکتے ہیں۰تمھارے سارے نوکروں پر تو میں نے اپنے آدمی لگا دئیے ہیں وہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں،جلد یا بدیر ہم اسکو پکڑ لیں گے یہ جس کا بھی کام ہے۰۰۰ایس پی شہزاد نے پہلو بدلتے ہوئے کہا،وہ بھی کافی پریشان تھا کیونکہ ویڈیو میں قتل کے نشانات مٹانے میں وہ سر فہرست تھا۰،تم اپنا کام ٹھیک سے کرو،میں باقی کسی دوسرے متوقع شخص کے بارے میں بھی غور کرتا ہوں۰زیشان تایا نے سگریٹ جلاتے ہوئے کہا۰ایس پی شہزاد بھی جانے کے لئے کھڑا ہوگیا ،یہ جو کوئی بھی تھا ،اسکا پکڑا جانا اسکے لئے بھی اہم تھا۰
۰۰۰۰۰۰
کیا ہوا مشی آئی نہیں؟زیشان تایا نے سوالیہ نظروں سے آفرین تائی کو دیکھا۰ہاں آرہی ہے۰۰۰سلمان کے کمرے میں بیٹھی سوگ منارہی تھی،ابھی بلا کر تو آئی ہوں۰انہوں نے بےزاری سے بولا۰ہمم م م۰۰۰میں خود دیکھ لیتا ہوں،وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑے ہوئے۰جب ہی مشی سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی۰آو بیٹا میں تمھارے پاس ہی آرہا تھا۰انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۰مشی خاموشی سے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۰آنکھیں رونے کے باعث سوجی ہوئی تھیں،بال بھی گول مول سے جوڑے میں بندھے تھے،جن کپڑوں میں وہ ہاسپٹل گئی تھی،اب تک انکو بھی نہیں تبدیل کیا تھا۰دو دن میں ہی وہ صدیوں کی بیمار لگنے لگی تھی۰اسکو دیکھ کر زیشان تایا کے دل کو کچھ ہوا۰ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو،انہوں نے اسکو اپنے قریب بلا کر بیٹھایا۰بیٹا یہ دنیا ہے،ایک دن سب کو یہاں سے جانا ہے،مجھے پتہ ہے تم سلمان سے بہت اٹیچڈ تھیں،اور پھر سب سے زیادہ دکھ تم کو اسکو آخری بار نا دیکھنے کا ہے،مگر جو رضائے الہی،انہوں نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۰مائشہ ایک بار پھر انکے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی،وہ آہستہ آہستہ اسکا سر تھپک رہے تھے۰بس اب تم جلدی سے جاؤ ،فریش ہو،شاور لو،پھر ساتھ کھانا کھائیں گے۰انہوں نے اسکا سر تھپکتے ہوئے کہا تھا،مائشہ کی حالت دیکھ کر انکا ضمیر انکو کچوکے لگا رہا تھا،مگر شہریار انکا اکلوتا بیٹا تھا اسکو اکیلے بھی نہیں چھوڑ سکتے تھے۰انکو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سب کا ازالہ کیسے کریں۰ایک گناہ کو چھپانے کے لئے وہ اب تک کیا کیا نہیں کر چکے تھے ،انکا ذہن وہ سب سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۰اپنے دل کو مطمئین کرنے کرنے لئیے انکے پاس ہزاروں دلیلیں تھیں۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
پاپا آپ نے مشی سے اب تک شادی کی بات نہیں کی ہے؟؟شہریار دن کے کھانے سے فارغ ہوکر زیشان تایا کے کمرے میں موجود تھا۰اسکی ضد تھی کہ بس اب اسکی اور مائشہ کی شادی کردی جائے۰تمہارا دماغ بلکل خراب ہوگیا ہے۰یہاں ابھی اس جھنجھنٹ سے نہیں نکلے کہ کون ہے وہ بلیک میلر جس کو سلمان کے قتل کا پتہ لگ گیا ہے اور تم کو شادی کی سوجھ رہی ہے۰۰ انہوں نے غصے سے شہریار کو لتاڑا۰اور وہ مشی ،تم کو لگتا ہے، وہ اتنی آسانی سے شادی کے لئے مان جائے گی؟؟اسکے باپ کا انتقال ہوا ہے،وہ ابھی اس غم سے نہیں نکلی ہے،اس سے شادی کا مطالبہ کرتا کیسا لگوں گا میں۰ٹھیک ہے آپ نہیں کرسکتے تو میں کرتا ہوں مشی سے بات۰آخر شادی تو ہونی ہے نہ ہماری۰شہریار نے انکی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑائی۰آفرین تم سمجھالو اپنے لاڈلے کو،مجھے برین ہیمرج کروا کر دم لے گا یہ۰انہوں نے دانت کچکچاتے ہوۓ بولا۰اللہ نہ کرے،کیسی باتیں کرتے ہیں آپ۰۰آفرین تائی نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھا۰شہری بیٹا پاپا صحیع کہہ رہے ہیں،مشی ابھی شادی کی کنڈیشن میں نہیں ہے،اسکو تھوڑا وقت دو۰میرا وعدہ ہے ایک مہینے کے اندر میں اسکو شادی کے لئے منالوں گی،مگر ابھی تم کچھ نہ کرو۰ویسے بھی اب اسکا کون ہے ،وہ کہیں نہیں جانے والی،یہیں رہ گی،تھوڑا آرام سے سب کام کرو،گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے۰ٹھنڈا کرکے کھاؤ۰اس سے ہمدردی کرکے اسکا دل جیتو،تاکہ وہ خود ہی آسانی سے شادی کے لئے تیار ہوجائے۰آفرین تائی نے اسکو پیار سے پچکارتے ہوئے کہا۰بات شہریار کے دل کو لگی تھی،اسلئے وہ خاموشی سے انکی بات سن کے بیٹھا رہا۰اسکی خاموشی دیکھ کر تایا اور آفرین تائی نے سکون کا سانس لیا۰اس بات سے بے خبر کہ کوئی چوتھا شخص بھی انکی بات سن کر آہستگی سے مڑگیا ہے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: