Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 7

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 7

–**–**–

 

رشیدے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے،اگر ان لوگوں کو پتہ لگ گیا تو وہ ہم کو نہیں چھوڑیں گے۰جنت نے جب سے سنا تھا کہ رشید نے وہ ویڈیو اسکے مالکوں کو بھیج دی ہے،وہ گھبرائی ہوئی تھی۰اونچا نہ بولا کر،دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۰رشید نے روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے اسکو ڈپٹا۰کوئی نہیں پکڑ پائے گا مجھے۰اسی لئے یہاں سے نہیں گیا ابھی کہ ہمارے غائب ہوتے ہی ویڈیو ملے گی تو ہم فوراً پکڑ میں آجائیں گے ،اگر وہ کیمرہ کھویا نہ ہوتا تو اپنے پلان کے حساب سےآرام سے سب کام کرتا ،مگر اس سے پہلے وہ ان لوگوں کے ہتھے چڑھے ہم اسکی قیمت وصول کرکے یہاں سے چلے جائیں گے،بلکہ تو کل اپنی بے بے کے پاس چلی جا،میں پیسے ملتے ہی یہاں سے نکل جاؤنگا پھر تجھ کو لے کر ہم کسی دوسرے شہر چلیں گے،رشید نے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۰نہیں میں تجھ کو چھوڑ کر نہیں جاؤںگی،میرا دل بہت گھبرا رہا ہے،جنت نے توے پر سے روٹی اتاری اور اسکے ساتھ ہی آکر بیٹھ گئی۰آجکل اسکی بھوک مر گئی تھی،اسکا دل ہر وقت انجانے خوف سے دھڑکتا رہتا تھا۰تو جھلی ہوگئی ہے،ہمارے دن پلٹنے والے ہیں ،اور تو ہر وقت الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہے۰رشید نے ڈکار لے کر رومال سے منہ صاف کیا،اور وہیں پلنگ پرلیٹ گیا۰جنت اسکو ملامتی نظروں سے دیکھے گئی۰اس نے کھانا بھی نہیں کھایا اور برتن سمیٹنے لگی۰رب سوہنے تو میرے رشیدے کو سیدھا راستہ دکھا دے،اسکو طمع اور لالچ سے بچا لے،یہ حرام پیسہ ہمارے پیٹ میں نہ جائے،اس نے دل میں رشید کے لئے دعا کی اورآنکھیں خشک کرکے برتن دھونے لگی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام و علیکم،متقین نے ریسیور کان سے لگاتے ہوئے کہا۰اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے،اور متقین لاؤنج سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا،جب فون کی گھنٹی بجی۰اتنی رات گئے آنے والے فون پر وہ حیران تھا،کیونکہ اسکے جاننے والے اسکو موبائیل پر ہی کانٹیکٹ کرتے تھے،اور دادو کی زیادہ جان پہچان کسی سے تھی نہیں،اور وہ بھی اس ٹائم تو انکو کوئی کال کرتا نہیں کیونکہ وہ عشاء کے بعد اپنے کمرے میں سونے چلی جاتی تھیں۰دوسری طرف ابھرنے والی نسوانی آواز پر وہ تھوڑا اور حیران ہوا۰جی دادو تو سونے جاچکی ہیں،آپ صبح انکو کال کرلیجیے گا۰دوسرے جانب رانیہ کا نام سن کر اس نے یہی اخذ کیا کہ رانیہ کو دادو سے ہی بات کرنی ہوگی۰نہیں ایک منٹ فون مت رکھیے گا ،مجھے آپ سےہی بات کرنی تھی،متقین کوجان چھڑاتا دیکھ کر رانیہ نے جلدی سے بولا،مبادا وہ فوراً ہی فون نہ رکھ دے۰جی بولئیے۰متقین نے بہت ہی شائستگی سے کہا۰دراصل مجھے آپ سے بہت اہم موضوع پر بات کرنی ہے،رانیہ نے تمہید باندھی۰جی جی بولئیے میں سن رہا ہوں۰متقین نے ریسیور ایک کان سے دوسرے پر منتقل کرتے ہوئے کہا۰ساتھ ہی وہ کرسی بھی کھینچ کر بیٹھ گیا۰اصل میں بات یہ ہے کہ میں ہمارے رشتے کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہ رہی تھی۰رانیہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا۰ہم م م ۰۰متقین نے ایک صرف ہم م پر ہی اکتفا کیا،آپ کسی کو پسند تو نہیں کرتے ہیں؟رانیہ نے ہچکچکاتے ہوئے پوچھا۰میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوتا تو آپ سے منگنی ہی کیوں کرتا؟متقین نے الٹا اس سے ہی سوال کرڈالا،اور ویسے میں کسی میں انٹرسٹد نہیں ہوں۰۰آپکو ایسا کیوں لگا؟؟متقین نے سنجیدگی سے سوال کیا۰دراصل میری فرینڈ کےساتھ ایسا ہوچکا ہے،اسلئیے مجھے لگا کہ شروع میں ہی آپ سے پوچھ لینا چاہیے۰رانیہ نے تھوڑا جذباتی انداز میں بتایا۰متقین گردن ہلا کر رہ گیا۰اور ویسے یہ بات تو آپکو مجھ سے پھر منگنی سے پہلے پوچھنے چاہیے تھی،متقین کو رات اس پہر اپنا انٹرویو لینا کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۰دراصل میں تو چاہ رہی تھی،مگر موقع ہی نہیں ملا، اور آپ کا نمبر بھی نہیں تھا۰رانیہ نے بے چارگی سے بولا۰اور کچھ جو آپ پوچھنا چاہتی تھیں پوچھ لیں،متقین نے محظوظ انداز میں پوچھا۰اسکو اندازہ ہوگیا تھا کہ رانیہ ایک جذباتی اور حساس لڑکی ہے،سو وہ اس پر اپنا ایک نرم مزاج تاثر چھوڑنا چاہ رہا تھا،تاکہ اسکو متقین کی طرف سے کوئی خدشہ نہ رہے۰نہیں فی الحال تو اتنا ہی کافی ہے۰اور میرا نمبر بھی نوٹ کرلیں،تاکہ آئندہ آپکو جو بھی معلوم کرنا ہو آسانی سے کرسکیں،متقین نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۰جی ویٹ میں اپنا موبائل لے کر آتی ہوں،نمبر نوٹ کرتے ہی رانیہ نے جلدی سے تھینکس،بائے کہہ کر فون رکھدیا۰متقین کندھے اچکاتا ،ریسیور کریڈل پر رکھتا ہوا وہاں سے چلا گیا۰
۰۰۰۰۰۰
بی بی صاحب مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے،کرم دین کچھ گھبرایا ہوا مائشہ کے کمرے میں داخل ہوا۰جی بولئیے،مائشہ اچانک اسکو اپنے کمرے میں دیکھ کر کچھ پریشان ہوگئی۰کرم دین نے جب سے زیشان تایا کے کمرے میں ہونے والی گفتگو سنی تھی،وہ کافی پریشان تھا۰وہ تایا کے لئیے قہوہ لے کر گیا تھا اور اس نے وہاں ہونے والی ساری بات سنی،اور خاموشی سے وہاں سے پلٹ گیا۰وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس خطرے سے مشی کو آگاہ کرکے وہ اسکو بچا لے،اسکو باتوں سے کچھ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ سلمان صاحب کا قتل ہوا ہے،اب وہ مشی کو اس سازش کا حصہ نہیں بننے دینا چاہتا تھا۰اور اسی غرض سے وہ اس وقت مائشہ کے کمرے میں تھا۰بی بی صاحب، اس نے ڈرتے ڈرتے آس پاس نظر دوڑائی اور مشی کے تھوڑا نزدیک آکر اس کو رازداری میں سب بتانے لگا جو کچھ اس نے سنا تھا،بس وہ بیچ سے سلمان صاحب کے قتل والی بات گول کرگیا کہ کہیں مشئ بی بی اس بات سے جزباتی ہوکر سب کے سامنے ہی بات نہ کھول دیں،بی بی صآحب آپ جلد از جلد یہاں سے چلے جاؤ،آپ کی دولت کے چکر میں یہ لوگ آپ کی زبردستی شادی کروادیں گے،بلکہ مجھے تو آپکی جان کو بھی خطرہ لگ رہا ہے،انکے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۰اندر اندر کچھ کھچڑی پک رہی ہے ۰کرم دین نے آنکھوں سے آنسو پونچھے جو اسکو پھر سے سلمان صاحب کو سوچ کر آگئے تھے۰اچھا بابا ،میں کچھ سوچتی ہوں،آپ جائیے،مشی یہ سن شاک میں تھی۰وہ جنکو اپنا سمجھ رہی تھی،وہ اسکے باپ کے مرتے ہی دولت ہتھیانے کے طریقے سوچنے لگے تھے۰وہ پہلے ہی ڈپریشن میں تھی،سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہاں جائے،کس سے مدد لے۰نا نا نانی کا اسکے انتقال ہوچکا تھا،دو خالائیں تھیں جو کینیڈا اور آسٹریلیا میں مقیم تھیں۰ماموں اسکے کوئی تھے نہیں،بہت دیر کی سوچ بچار کے بعد اس نے عروش کی طرف جانے کا سوچا تھا، مگر اس طرح اسکو گھر سے کوئی نکلنے نہیں دے گا،بس یہی سوچ کر وہ رات کا انتظار کرنے لگی۰اس نے اپنا بیگ پیک نکال کر اپنا ضروری سامان رکھ لیا تھا،کپڑے نکالتے وقت اسکی نظر کیم کارڈر پر پڑی،اس نے وہ بھی اپنے بیگ کے اندر ہی رکھ لیا۰اپنے کریڈٹ ،ڈیبٹ کارڈ،کافی مہیںے کی جمع شدہ پاکٹ منی،اپنے بچپن کا البم اور اپنی ماما کا زیور جو انکے انتقال کے بعد اسکے سیف کے لاکر میں رکھا تھا،ہینڈ کیری میں رکھ کر وہ پرسکون ہوگئی تھی،کم ازکم اب اسکو مالی پریشانی تو نہیں ہوگی۰باقی منصوبہ بندی وہ سکون سے بیٹھ کر کرے گی۰ابھی اسکو خود کو نارمل شو کرنا تھا۰اور اسی غرض سے وہ رات کا کھانا کھانے چلی گئی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰
کندھے پر بیگ پیک ،ہاتھ میں ہینڈ کیری لئے ،سر پر جیکٹ کا ہڈی گراۓ وہ دبے قدموں سے کچن کے عقبی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی،جو لان سے گھوم کر باہر کی طرف نکلتا تھا۰اس وقت گھر کا ہر ذی روح خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا،سواۓ اسکے جو رات کے گہرے ہونے کا انتظار کر رہی تھی۰اور اب موقع غنیمت جان کر خاموشی سے گھر سے نکل رہی تھی۰آہستہ سے دروازہ بند کرتے وقت مڑ کر نمناک آنکھوں سے ایک الوداعی نظر گھر کو دیکھا،اور آستینوں سے آنسو پونچھتے ہوئےکبھی نہ واپس آنے کا مصمم ارادہ لئے دہلیز پار گئی۰
۰۰۰۰۰۰۰
باہر نکل کر اسنے اپنی گاڑی نکالی اور زن سے گھر کا گیٹ عبور کرگئی۰اب اسکا رخ عروش کے گھر کی طرف تھا، جس کو وہ پہلے ہی آگاہ کر چکی تھی۰عروش اپنے ٹیرس پر کھڑی اسکا ویٹ کر رہی تھی۰مشی کی گاڑی دیکھ کر وہ جلدی سے گیٹ کھولنے آئی۰اندر داخل ہونے پر مشی نے دیکھا کہ عروش کے پیرنٹس بھی لاؤنج میں بیٹھے اسکا ویٹ کر رہے ہیں۰وہ انکو سلام کرکے وہیں کاؤچ پر بیٹھ گئی۰ان دونوں کے چہروں سے لگ رہا تھا کہ انکو مشی کا آنا اچھا نہیں لگا ہے۰آنٹی انکل میں آپ لوگوں کو پریشان نہیں کرونگی بس ایک دو دن میں کوئی انتظام کرلوںگی ۰اس نے نظریں نیچی رکھتے ہوۓ کہا۰ہاں بیٹا ہم سب کے حق میں یہی بہتر ہے،آپ کو پتہ ہے کہ آپکے تایا تائی ہم پر آپ کو ورغلانے کا الزام ڈال سکتے ہیں،اور پھر بہرحال آپ کی ساتھ عروش کی بھی بدنامی ہوگی۰اسکے پاپا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۰جی انکل ،بلکل ،میں بس دو دن میں چلی جاؤنگی۰امڈنے والے آنسوؤں کا گلا گھوںٹ کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا۰لاؤنج میں موجود ہر چیز اسکو آنسوؤں کے باعث دھندلی نظر آرہی تھی،مگر وہ خود کو مضبوط دکھانا چاہتی تھی۰چلو مشی تم فریش ہو جاؤ،اتنی دیر سے خاموش بیٹھی عروش نے مشی کو وہاں سے لے جانا مناسب سمجھا۰سیڑھیاں چڑھتے اسکے کان میں عروش کی ماما کے الفاظ پڑے جو انہوں نے بظاہر آہستگی سے کہے تھے،مگر مشی کا دل اندر تک چیر گئے۰ماں باپ کی سر چڑھی اولادیں ایسے ہی رنگ دکھاتی ہیں۰عروش کے ماما پاپا آپس میں بات کرتے لاؤنج سے نکل کر چلے گئے۰اور ایک بار پھر مشی نے اپنے آنسوؤں کا گلا گھونٹ لیا۰وہ بس یہاں سے نکلنے کا اگلا لائحہ عمل ترتیب دینےلگی۰
کیا ہوا،آج اب تک مشی نیچے نہیں آئی ہے؟؟زیشان تایا نے اخبار کو تہہ لگا کر رکھتے ہوئے آفرین تائی سے استفسار کیا۰اس وقت دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۰اور عموماً مشی چھٹی کے دن بھی گیارہ بجے تک ناشتے کے لئے آجاتی تھی۰ہاں ابھی دکھلواتی ہوں کسی کو بھیج کر،آفرین تائی نے ٹی وی آف کرتے ہوئے کہا۰وہ اس وقت کوئی ریپیٹ ٹیلی کاسٹ دیکھ رہی تھیں۰کرم دین،انہوں نے وہیں سے کرم دین کو آواز دی۰جی بی بی جی،کرم دین رومال سے ہاتھ خشک کرتا ہوا آیا،وہ اس وقت دن کاکھانا بنا رہا تھا۰جاؤ مشی بی بی کا دروازہ ناک کرو،وہ ابتک نیچے نہیں اتری ہیں۰آفرین تائی نے اپنا موبائیل اٹھاتے ہوئے کہا۰انکا ارادہ اپنی بہن سے بات کرنے کا تھا۰کرم دین سر ہلاتا چلا گیا۰دو تین بار ناک کرنے پر بھی دروازہ نہیں کھلا تو کرم دین نے آکر آفرین تائی کو اطلاع دے دی۰اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا،کہ کیا واقعی مشی بی بی گھر پر نہیں ہیں،جو وہ دروازہ نہیں کھول رہیں۰مصیبت میں ڈال دیا ہے اس لڑکی نے،نہ کام کی نا کاج کی،ذرا شادی ہو لینے دو،پھر دیکھتی ہوں میں،آفرین تائی اپنی بہن سے دل کی بھڑاس نکالتی سڑھیاں چڑھنے لگی تھیں۰ایک دو اور تین ناک پر بھی جب دروازہ نہیں کھلا،تو انہوں نے دروازے کا ناب گھمایا۰جو فوراً ہی کھل گیا۰اندر کمرہ خالی تھا،باتھ روم میں بھی سناٹا تھا۰باتھ روم چیک کرنے پر وہ بھی خالی ملا۰اچھا میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں،انہوں نےجلدی سے بہن کا فون کاٹا،اور مشی کو کال ملانے لگیں،انکے خیال میں مشی صبح صبح کسی دوست کی طرف چلی گئی تھی۰مگر انکو سخت غصہ آرہا تھا،کہ ان سے اجازت لئے بغیر وہ ایسی من مانی کیسے کر سکتی ہے۰مشی کا سیل فون بھی آف تھا۰آخر اس لڑکی نے ستانے کی کونسی قسم کھائی ہوئی ہے،خود ہی نمٹیں بھئی یہ اپنی چہیتی سے،مجھے بیچ میں پھنسا کر رکھا ہوا ہے۰وہ بڑبڑاتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگیں،

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: