Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 8

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 8

–**–**–

 

اسلام وعلیکم ،میں مائشہ بول رہی ہوں،پہچاناآپ نے”؟
“وعلیکم اسلام۰۰کیسی ہیں آپ؟جی بلکل پہچان لیا۰مگر یہ نمبر تو آپکا نہیں ہے”؟
متقین کی دوستانہ آواز سن کر جیسے اسکو ڈھارس ہوئی تھی۰
“جی نہیں میرا فون اس وقت بند ہے،میں اپنی دوست کے فون سے کال کر رہی ہوں۰مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی،آپ اس وقت کہاں ہیں؟”
“میں کراچی شفٹ ہوچکا ہوں۰اپنے گھر پر ہوں۰۰خیریت تو ہے سب”؟
کراچی سن کر مائشہ کو جیسے اطمینان ہواتھا۰
“اچھا تو کیا آپ مجھ سے مل سکتے ہیں کہیں؟”
اسکو ایسے فری ہونا بلکل بھی اچھانہیں لگ رہا تھا،وہ اس کے بارے میں کچھ بھی غلط سوچ سکتا تھا،مگر اس وقت وہ بہت مجبور تھی۰رات بھر سوچنے پر اسکو یہی سمجھ آیا کہ عروش کی طرح کسی بھی دوست کے گھر والے اسکو نہیں رکھیں گے ۰اور تایا بہت آسانی سے اس تک پہنچ بھی جائیں گے،کیونکہ اسکے سب ہی دوستوں سے وہ لوگ واقف تھے۰بہت سوچ بچار کے بعد اسکے ذہن میں متقین آیا تھا،جس کو کوئی جانتابھی نہیں تھا اور جو ان ڈیپینڈنٹ بھی تھا،باقی سب ہی دوست والدین پر ڈیپینڈنٹ تھے اور اسکی مدد کرنے سے قاصر تھے۰
“جی ،خیریت تو ہے؟مجھے آپ کچھ پریشان لگرہی ہیں؟”
متقین کووہ لا ابالی سی مشی یاد تھی،ابھی وہ کچھ الجھی اور گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۰بے ربطگی سے بات کرتی وہ اسکو پریشان لگی تھی۰
“جی بس خیریت نہیں ہے،مجھے آپ سے ایک فیور چاہئیے۰آپ سوچ رہے ہونگے آپ مجھے صحیع سے جانتےبھی نہیں اورمیں آپکے گلے پڑ رہی ہوں،مگرابھی میں بہت مجبور ہوں۰”
اس نے بہت ہی دلگرفتگی سے کہا۰
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے،آپ پریشان نہ ہوں،آپ کہاں ملنا چاہتی ہیں؟”
متقین نے اسکو تسلی دی۰
“میں اس وقت پی ای سی ایچ ایس میں ہوں،آپ سندھی مسلم سوسائٹی میں گلوریا جینز پر آجائیں۰میں جہاں ہوں وہاں سےوہ نزریک ہے۰”
مشی نے جلدی جلدی اسکو جگہ سمجھائی۰
“صحیع ہے،میں آدھے گھنٹے میں پہنچتا ہوں۰”
متقین نے اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے آمادگی ظاہر کی۰
“تھینک یو سو مچ،اللہ حافظ۰”
مشی نے سکون کا سانس لیکر کال ڈسکنکٹ کی۰اس نے کال لاگ سے متقین کا نمبر ڈیلیٹ کیا،وہ اپنا کوئی بھی سراغ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۰عروش اس وقت روم سے باہر تھی،اسلئیے اس نے اس کے فون سے کال کرلی تھی۰اپنا فون وہ بند ہی رکھے ہوئی تھی۰سامان تو اسکا سارا پیک تھا،بس اس نے کپڑےنکال کر چینج کئے،وہ جو ہمیشہ ہی جینز اور رف حلئیے میں ہر جگہ نکل جاتی تھی،آج پتہ نہیں کیوں اسکو اپنا آپ بہت انسیکیور فیل ہوا،اس نے شلوار قمیص اوردوپٹہ والا سوٹ نکال کر پریس کیا،اور شاور لینے چلی گئی۰جب عروش دونوں کا ناشتہ لے کر آئی اسوقت وہ پوری تیار ہو چکی تھی۰
“ارے تم کہاں جارہی ہو ،صبح صبح؟”
گو کہ ابھی بھی باہر اسکی ممی سے بحث ہوئی تھی کہ اس لڑکی کو جلدی چلتا کرو،مگرپھربھی وہ مروتاً اسکو تیار دیکھ کر روک رہی تھی۰
“بس یار میں تم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی،میں امی کے ماموں کے پاس جارہی ہوں،اسلام آباد میں رہتے ہیں وہ،ابھی بات ہوئی تھی میری،وہ مجھے لینے ائیر پورٹ آجائیں گے۰”
اس نے من گھڑت کہانی سنائی۰
“اوہ اچھا،چلو یہ تو اچھا ہے،اپنوں کے پاس تم زیادہ سیکیور رہو گی۰
عروش نے اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۰مشی جبراً مسکرا دی۰
“چلو اچھا ناشتہ کرلو،ٹکٹ کب کرواؤگی؟”
عروش نے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا۰
“وہ ڈائرکٹ ائیر پورٹ پہنچ کر ہی ہو جائے گی۰”
اس نے نظریں چراتے ہوئے ایک اور جھوٹ بولا۰
عروش ناشتہ شروع کر چکی تھی۰مشی کو تو بھوک نہیں تھی،اس نے صرف ایک کپ چائے لی۰
“تھینکس آ لوٹ یار،سب سے مشکل میرے لئے کل کہ ہی رات تھی،تمنےمجھے سپورٹ کیا۰تھینکس اگین۰”
چائے ختم کرکے وہ عروش سے گلے مل کر اپنا سامان لے کر نیچے اترنے لگی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“تو آج رات اسکو کال کرکے وہیں پرانے اسکول کے پیچھےہفتے کی رات بلالے،میں وہیں اسکول کے اندر ہونگا،کہہ دینا کہ بیگ دیوار کے ساتھ رکھے کوڑے دان میں ڈال دیں،اور اسکے اوپر رکھا پیکٹ اٹھا لیں،اس دوران تو انکے ساتھ رابطے میں رہنا،ان لوگوں کے جاتے ہی کوڑےدان سے وہ بیگ نکال کر اسکول کی دیوار کے پیچھے پھینک دینا،میں اسکو اٹھا کر آگے کے دروازے سے نکل جاؤنگا،اگر وہ لوگ پیچھا کرنا بھی چاہیں گے تو جب تک وہ آگے پہنچیں گے میں وہاں سے نکل چکا ہونگا،کیونکہ وہ نگرانی کوڑے دان کی ہی کریں گے۰تو ساری بات سمجھ گیا ہے نہ”؟
اپنا پورا لائحہ عمل بتانے کے بعد رشید نے اپنے دوست جیدے سے پوچھا،جس کا نام تو جاوید تھا ،مگر سب اسکو جیدا بلاتے تھے،اب تک کال اور میسج بھی اس نے جیدے سے ہی کروائے تھے،اور ۲کروڑ دینے کا وعدہ کیا تھا۰
“ ہاں وہ سب تو ٹھیک ہے،مگر اس سب میں جان میری جوکھم میں زیادہ پڑے گی،اور دس کروڑ میں سے صرف دو میرے ،یہ زیادتی ہے۰آدھے آدھے ہونے چاہیے۰”
جیدے نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۰وہ دونوں اس وقت فون پر بات کر رہے تھے،رشید کو اندازہ تھا آجکل سارے نوکروں کی نقل و حرکت پر نظر ہے،اسلئیے وہ کام سے آنے کے بعد گھر سے نہیں نکل رہا تھا،اور اسی لئے سب کام بھی جیدے سے ہی کروائے تھے۰جیدے کو اب ہوس ہونے لگی تھی،شروع میں بیٹھے بٹھائے دو ملنے پر بھی وہ خوش تھا،مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسکی لالچ بڑھ رہی تھی۰
“دیکھ تو زیادہ سیانا نہ بن،ثبوت مجھے ملے،آئیڈیا میرا،شک کے دائرے میں بھی میں ہوں تجھ کو کون جانتا ہے؟تو کس حساب میں آدھا لے گا”؟
رشید کو بھی تاؤ آگیا تھا۰
“سوچ لے،میں جاکر بتا دونگا،اور پھنسونگا تو میں بلکل بھی نہیں،کیونکہ انکا شک ویسے بھی گھر کے بندوں پر ہی ہوگا”۰
جیدے نے مکار مسکراہٹ کے ساتھ فون ایک ہاتھ سے دوسرے میں لیا۰
“اب تو مجھے بلیک میل کرے گا”؟
رشید کو صحیع معنوں میں شاک لگا تھا۰”ہاہاہاہا تیرے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں،تو تو جسکا نمک کھا رہا ہے اسکو نہیں بخشا تونے،مجھے بھی تو دھوکہ دے سکتا ہے۰۰۰اب سن میں کہوں گا،پانچ پانچ کے دو بیگ لائیں،ایک بیگ میں تجھکو پھینک دونگا اور ایک میں لے کر چلا جاؤنگا۰تو راضی ہے تو ٹھیک ورنہ میں اس کھیل کا حصہ نہیں۰”
جیدے نے دو ٹوک الفاظ میں بات ختم کی۰رشید اس وقت مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق مجبور تھا،دل میں اسکو موٹی سی گالی دے کر ہامی بھر کر فون بند کیا۰مگر اب اسکو جیدے سے خوف آرہا تھا،وہ اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے جیدے کو ساتھ ملایا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جب وہ ریسٹورنٹ پہنچی تو متقین پہلے باہر کھڑا وہاں اسکا انتظار کرہا تھا۰مائشہ کو دیکھ کر آگے بڑھ کر اس نے دروازہ کھولا اور پھر دونوں ساتھ ہی ریسٹورںٹ میں داخل ہوئے۰
“کیا لیں گی آپ”؟
متقین نے بیٹھنے کے بعد مائشہ سے پوچھا۰
“جی کچھ نہیں بس بریک فاسٹ کرکے نکل رہی ہوں۰”
“ہم م م۰۰چلیں ایک کپ کافی میں میرا ساتھ دے دیں”۰
جب تک ویٹر بھی انکے پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا۰مائشہ نے ہلکے سے گردن ہلادی۰متقین آرڈر کرکے مائشہ کی طرف مڑا۰”جی اب آپ بتائیے کیوں پریشان ہیں”؟
متقین نے دونوں ہاتھ کی انگلیاں باہم ملا کر تھوڑی پر رکھیں۰
“دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں”؟
مائشہ ابھی بھی بہت کنفیوز تھی۰
“جہاں سے سمجھ آجائے وہیں سے بتانا شروع کردیں۰”
متقین نے مسکراتے ہوئے کہا۰ساری روداد اس نے آنسوؤں کے بیچ سنائی۰متقین اس دوران خاموش تھا۰اس نے اس دوران بس مائشہ کو خاموشی سے ٹشو دئے تھے۰
“افسوس ہوا آپکے فادر کی ڈیتھ کا سن کا۰”
مائشہ کے چپ ہونے پر متقین نے اسکوایک اور ٹشو پکڑاتے ہوئے کہا۰مائشہ نے زور سے آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا۰
“اب آپ مجھے یہ بتائیے کہ فی الحال آپکا مسئلہ رہائش کے علاوہ کیا ہے”؟
متقین نے بغور اسکو دیکھتے ہوئے پوچھا۰
“کچھ نہیں،بس تھوڑے دن کے لئے مجھے آپ کسی سیف جگہ کا بندوبست کرکے دے دیں،جب یہ معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا تو میں خود کہیں اور چلی جاؤںگی۰”
مائشہ نے اپنے ناخنوں کو کھرچتے ہوئے کہا۰
“دیکھیں مائشہ فی الحال اگر آپ چاہیں تو میرے گھر پر بھی رہ سکتی ہیں،میری صرف دادو ہوتی ہیں،انکو اس بات سے کوئی پرابلم نہیں ہوگا،میں انکو سمجھا لوں گا۰کیونکہ میرے جاننے میں دو تین لوگ ہیں جو آپ کو بحفاظت کسی محفوظ جگہ پہنچا دیں گے،مگر جیسے آپ نے کہا کہ آپ کے کزن کے بہت تعلقات ہیں تو آپ کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے،میرے گھر پر آپ آرام سے رہ سکتی ہیں۰آپ نے گھر پر کسی سے ذکر تو نہیں تو کیا تھا میرا”؟
متقین نے ایکدم چونک کر پوچھا۰
“نہیں اور اسی لئے مجھے آپ کا خیال آیا کہ آپ سے زیادہ محفوظ جگہ مجھے کوئی نہیں رکھ سکتا۰”
مائشہ نے گردن جھکا کر کہا۰
“ہمم م۰۰۰تو بس اپنا سامان اٹھائیں ،ہم لوگ ابھی چلتے ہیں۰”
متقین نے بل فولڈر میں پیسے رکھتے ہوئے کہا۰
“آپ میرے دوست کی بہن ہیں،اور اسکو کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا،اسلئیے وہ آپکو میرے پاس چھوڑ کر گیا ہے،آپکے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوچکی ہے،اور رشتے دار سارے دوسرے شہروں میں ہیں۰۰۰از دیٹ کلئیر ٹو یو”؟
متقین نے کور اسٹوری ترتیب دے کر مائشہ کو سمجھایا۰مائشہ نے آہستہ سے گردن ہلادی،اور خاموشی سے متقین کے پیچھے چلنے لگی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: