Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Episode 9

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – قسط نمبر 9

–**–**–

 

دیکھ تو بے بے کے پاس پہنچ کر مجھے فون ضرور کرنا، میں دس پندرہ دن میں یہاں سے نکلوں گا۰میرے جلدی یہاں سے جانے کی صورت میں شک میں آجائیں گے وہ لوگ۰۰۰سمجھ رہی ہے نہ تو”؟
رشید جو جنت کا سامان باندھ رہا تھا،ساتھ ساتھ اسکو سمجھا بھی رہا تھا، کیونکہ وہ مسلسل روئے جارہی تھی، اسکا جانے کا دل بلکل نہیں تھا۰
“اب بس یہ رونا دھونا بند کر،جا جاکر کوٹھی پر سب سے مل کر آ۰۰بلکہ اچھا ہے،ایسی روتی شکل سے ہی جا ، تاکہ یقین آجائے کہ فوتگی ہوئی ہے ہمارے یہاں”۰
رشید نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے جنت کو ہدایت دی۰
“رشیدے ایسے کیسے جیتے جی مار دوں کسی رشتے دار کو؟”
جنت نے بےچارگی سے رشید کو دیکھا۰”تو مرے ہوئے کو مار دے ۰”
،رشید نے اپنا سر پیٹا۰
“چل تو اپنے دادے کو مار دے،وہ تو مر چکا ہے نہ”؟
رشید نے اسکو گھورتے ہوئے کہا۰
“مگر میں جھوٹ کیسے بولوں۰۰اگر کسی کو پتہ لگ گیا تو،اور اللہ پاک کو تو پتہ ہےنہ،”
جنت نے ڈرتے ڈرتے رشید کو دیکھا۰
“جنت تو میرا دماغ خراب نہ کر،میں پہلے ہی بہت ٹینشن میں ہوں،بس ایک بار مجھے پیسے مل جانے دے۰”
رشید نے اسکے ہاتھ جوڑے۰
“اور سن بے بے کے ارشادات اب کی پنڈ انکے پاس ہی چھوڑ کے آنا۰”
رشید نے بے زاری سے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے کہا۰
جنت خاموشی سے سر جھکا کر باہر نکل گئی۰
“یہاں جان پر بنی ہے،یہ نواں کٹا کھول کے بیٹھ جاتی ہے”،جنت کے جانے کے بعد رشید بڑبڑاتا ہوا پلنگ پر دراز ہوکر آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا۰
۰۰۰۰
فاران کو گئے آج دو دن ہوگئے تھے،زندگی واپس ویسے ہی اپنے ڈگر پر آگئی تھی۰
انعم کی امی جو لاہور میں رہتی تھیں،کچھ دن انکے یہاں رہنے آئی تھیں۰شروع شروع میں فاران کے جاتے وقت انہوں نے انعم سے کہا کہ وہ انکے ساتھ ہی چلے،بچیوں کے ساتھ اکیلے رہنا مناسب نہیں ہے،مگر انعم بھائی بھابھیوں پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۰
لاکھ وہ اپنا خرچہ خود اٹھاتی،گھر کے کام بھی کرتی،مگرپھر بھی بھابھیوں کو کھٹکھتی،اور بچوں کی آپسی لڑائیاں بڑوں کے بیچ دوری لے آتیں۰سو اس نے اپنے ذہنی سکون اور عزت کو ترجیح دی۰
کیونکہ وہ بھابھیوں کے اطوار سے شادی سے پہلے سے واقف تھی،تب انکے لئیے اسکو برداشت کرنا مشکل تھا،اب تو وہ بہرحال ما شاللہ سے اپنے گھر کی تھی ،تو کیوں کسی پر بوجھ بنے۰
اس نے سہولت سے ماں کو منع کردیا تھا۰مگر وہ دو چار مہینے میں کچھ دن کے لئے انعم کے پاس آجاتی تھیں،کیونکہ انعم کے ساس سسر اسکی شادی سے پہلے ہی انتقال کرگئے تھے۰اور باقی سب بھائی اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے تھے۰سو انعم یہاں اکیلے ہی رہ رہی تھی۰
انعم کی امی کو بھی دو تین دن سے اندازہ ہورہا تھا کہ زروا اور انعم کی کچھ خاص بنتی نہیں ہے۰اسلئیے آج بچوں کے اسکول جانے کے بعد وہ انعم کے ساتھ جب ناشتہ کرنے بیٹھیں تو اس زکر کو بھی چھیڑ دیا۰۰۰۰
“ہاں امی میں بہت پریشان ہوں،سمجھ نہیں آتا کیسے سمجھاؤں اس لڑکی کو،فاران کہتے ہیں تم زیادہ پیچھے لگی رہتی ہو،
مگر میں نے تو اب روک ٹوک شروع کی ہے،جب یہ بدتمیزی کرنے لگی ہے،پہلے تو میں نہیں بولتی تھی زیادہ کہ آج کل تو بھائی بچوں کوزیادہ روکو ٹوکو تو انکا کانفیڈنس ختم ہوجاتا ہے،یہ سوچ سوچ کر میں نے اسکو زیادہ نہیں ٹوکا،مگر اب میں دیکھ رہی ہوں وہ بات بے بات بدتمیزی کرتی ہے،ایسے تو یہ ہاتھ سے ہی نکل جائے گی میرے،اسلئیے میں نے اب سختی شروع کر دی ہے۰”
انعم نے بے چارگی سے کہا۰
“بس یہی تمہاری غلطی ہے،اتنی آزادی دے کر اب قابو کرنا چاہو گی تو وہ آسانی سے ہاتھ آئے گی۰؟”
“اب اس وقت یہ روایتی انداز چھوڑ دو،جس ماحول میں تم لوگ پلے بڑھے ہو، اپنے بچوں کو ویسے نہیں پال سکتے،یہ اچانک ہر بات پر ٹوکنا،ہر وقت نکتہ چینی کرنا،میں یہ نہیں کہہ رہی،اسکو شتر بے مہار چھوڑ دو،مگر اپنا طریقہ بدلو،تم
میری بات سمجھ رہی ہو،؟”
امی نے اسکے ہاتھ کو دبایا۰
“جی بولیں،آپ۰۰۰میں سن رہی ہو،انعم نے گردن ہلا کر کہا۰
“دیکھو حضرت علی( رضہ)کا قول ہے،اپنے بچوں کی تربیت اپنے حالات کے مطابق نہ کرو،بلکہ آنے والے حالات کے مطابق کرو،
کیونکہ انہیں ایسے زمانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے جو تم سے مختلف ہے۰
تم یہ نہ سوچو کہ میں تو اپنی امی سے ڈانٹ مار کھا کر بیٹھ جاتی تھی،میری بیٹی کیوں نہیں،تو انو تم اسکو اپنا جیسا ماحول بھی تو نہیں دے سکتی نہ۰
تمہارا وقت الگ تھا،بچے ماں باپ کی آنکھوں سے بھی ڈرتے تھے،مگر وہ سب شروع سے تربیت کا حصہ ہوتا تھا سو وہ عادی ہوتے تھے،اب تم اچانک بڑی ہوتی بچی پر روک ٹوک کرو گی تو بات بڑھے گی زیادہ۰
اس کوکسی کی مثال دے کر نہ سمجھایا کرو،اس سے وہ چڑھے گی۰
یہ نہ بولو آئی پیڈ رکھ دو،بلکہ پوچھو،آئی پیڈ کب رکھو گی؟
اسکو اختیارات دو تاکہ اسکو لگے اس نے اپنی مرضی سے کام کیا ہے۰
کوئی بات نہیں سنتی تو پیار سے اکیلے میں بولو،نہ سنے تو مضبوط مگر دھیمے لہجے میں تنبیہ کرو،یا سزا کے طور پر اسکی کوئی پسندیدہ چیز اس سے لے لو،اسکے لئےوہ خود تمھارے پاس آئے گی۰
یہ جو تم زور زور سے چلانا شروع کردیتی ہو نہ ،وہ اس بات سے جھلاتی ہے،
تم اس سے باتیں شئیر کرو،اسکی سنو،اسکو اپنا دن کا روٹین بتاؤ،اسکے اسکول سے واپسی پر اسکا روٹین پوچھو،آہستہ آہستہ وہ عادی ہوجائے گی تم سے سب شئیر کرنے کے لئے،مگر حوصلے اور صبرکے ساتھ سب کرنا ہوگا۰
اب کل ہی تم اسکو نماز کے لئے جب بول رہی تھیں تو کتنی غصہ ہورہی تھیں۰
نماز کی پابندی کروانا اچھی بات ہے،بچوں کو دنیا کے ساتھ دین بھی سکھاؤ،مگر پیچھے مت پڑو،خود عمل کرکے دکھاؤ۰
آج کے بچے کہنے پر نہیں سنتے،وہ تم کو دیکھے گی تو آہستہ آہستہ شروع کردے گی۰دن میں ایک بار آرام سے یاد کرواؤ،کہ تم نے آج کتنی نمازیں پڑھیں؟؟آہستہ آہستہ عادت پختہ ہوجائے گی۰زیادہ سختی کرو گی تو وہ نماز سے منتفر ہوگی۰
اللہ سے محبت کرنا سکھاؤ،یہ مت کہو کہ یہ نہیں کرو گی تو گناہ ملے گا،اسکے بجائے بولو کہ یہ کرو تو اللہ پاک خوش ہونگے۰”
انہوں نے چائے کے دو گھونٹ لے کر کپ میز پر رکھا۰
“اب تک بچوں کو تم نے ہی پالا ہے،بہت اچھے سے پال رہی ہو،مگر بچوں کی عادت و فطرت کے حساب سے انکو ہینڈل کرنا چاہیے۰
فاران بھی یہاں پر نہیں ہے،شاید یہ بھی ایک وجہ ہو اسکے چڑچڑے پن کا،لیکن تم اگر اسکو اچھے سے ٹائم دو تو شاید وہ اتنا محسوس نہ کرے،جب بچے کو ماں باپ کا وقت نہیں ملے گا تو وہ پھر دوسری چیزوں میں دل لگائیں گے،انکو ماں باپ سے انسیت بھی نہیں ہوگی۰
اس دور میں بچوں کی اچھی تربیت بہت مشکل ہے،مگر کم از کم ماں باپ ان سے قریب ہونگے تو انکے اچھے برے سے واقف تو ہونگے،بیٹیاں ویسے بھی ماؤں سے قریب ہوتی ہیں،وہ تم سے زیادہ اچھے سے باتیں کرسکتی ہے بنسبت فاران کے۰اور تم تو ویسے بھی میری بہت سمجھدار بیٹی ہو،ہےنہ”؟
انہوں نے اسکو مسکراتے ہوئے کہا۰
امی آپ مجھے ہمیشہ یہ کہہ کر مشکل کام میں پھنسا دیتی ہیں۰
انعم یہ کہہ کر اچانک ہی چونکی۰
“امی مجھے اب سمجھ آیا،آپ نے ہمیشہ مجھے نفسیاتی طور پر قابو کیا ہے،میں نے ہمیشہ آپکی اچھی بیٹی بننے کے لئے آپکی سب بات مانی۰”
وہ بہت حیران ہورہی تھی کہ اتنی معمولی سی بات اسکو سمجھ کیوں نہیں آئی تھی۰امی نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ اسکا کندھا تھپتھپایا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
زیشان صاحب کو دئیے جانے والے وقت سے دو دن پہلے ہی رشید نے جنت کو گاؤں بھجوا دیا تھا۰
دو دن سے وہ حسبِ معمول اپنے کام پر جارہا تھا،تاکہ کسی کی نظر میں نہ آسکے۰جنت سے فون پر بات بھی ہوتی رہتی تھی۰وہ اب بھی رشید سے باز آنے کے لئے کہہ رہی تھی۰مگر رشید اسکی بات کو اڑادیتا تھا۰
آج بھی جب رشید نے جنت کو کال کی تو وہ رونے لگ گئی۰
“دیکھ رشیدے اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے،تونے ابھی گناہ نہیں کیا ہے،اب بھی پلٹ جا۰
بھٹکنا انسان کی فطرت میں ہے۰مگر یاد رکھ شیطان کی جیت اس دن تک نہیں ہوسکتی جب تک انسان خود ہار مان کر رجوع کرنا ترک کردے۰
وہ رب تو انتظار کر رہا ہے، کہ کب میرا بھولا بھٹکا بندہ، جو بندہ تو میرا ہی ہے مگر شیطان کے بہکاوے میں آگیا ہے، میرے در پر واپس آجائے، میں اسے معاف کردوں۰ اپنی رحمت سے ڈھانپ لوں۰”
میرے اللہ تو کہتے ہیں۰
“میرے بندوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، میری رحمت سے مایوس نہ ہوں۰”
بس تو نہ جانا ان حرام کے پیسوں کے چکر میں،ویسے بھی پیسہ دو دن میں ختم ہوجانا ہے،اپنی نسلوں کو حرام پہ پالے گا؟؟
جنت نے آج آخری کوششش کرلی تھی،کیونکہ آج رات رشید کو پیسے لینے جانا تھا۰
ویسے تو رشید اسکواس معاملے پر زیادہ بولنے نہیں دیتا تھا،مگر پتہ نہیں کیوں خاموشی سے اسکی ساری بات سنے گیا۰
“اپنا خیال رکھنا،میں فون رکھ رہا ہوں۰اب تجھ سے ملاقات ہی ہوگی۰اب کال نہیں کروںگاتجھکو. “
جنت شیدے شیدے کرتی رہ گئی مگر دوسری طرف فون بند ہوچکا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“تم صبح صبح کہاں چلے گئے تھے؟”
دادو نے متقین کو گھر میں داخل ہوتے دیکتھے ہی سوال کیا۰
“وہ بس آپ آنکھ موندے لیٹی تھیں تو مجھے لگاآرام کر رہی ہیں اسلئیے جگانا مناسب نہیں سمجھا۰اور دادو یہ میرے دوست کی بہن ہے۰تھوڑے دن ہمارے ساتھ ہی رہی گی۰”
متقین نے اپنے پیچھے آتی مائشہ کا تعارف کروایا۰فی الحال دادو نے بھی زیادہ استفسار نہیں کیا تھا۰
“اسلام و علیکم” مائشہ نے آگے بڑھ کر انکو سلام کیا۰
“وعلیکم اسلام ، جیتی رہو، خوش رہو۰”
دادو نے محبت سے اسکو دعا دی۰دادو کے گلے لگ کر مائشہ کو بہت سکون ملا۰بہت دن بعد کسی کے انداز میں بے لوث محبت اسکی آنکھیں نم کرگئی تھیں۰
“اچھا ناشتہ بس تیار ہی ہے، آجاؤ دونوں ہاتھ منہ دھو کر،میں جب تک مائشہ کے لئیے کمرا صاف کروادوں۰”
دادو نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۰دادو کی طرف سے کسی قسم کی ناگواری نہ پاکر مائشہ نے سکون کا سانس لیا۰
ورنہ پورے راستے اسکو یہی ڈر تھا کہ اگر متقین کی دادو نے منع کردیا تو وہ کہاں جائے گی۰
“تم ہاتھ منہ دھو کر آجاؤ۰”
دادو کے اٹھتے ہی متقین نے اسکو واش روم کا راستہ دکھاتے ہوئے کہا۰
مائشہ گردن جھکا کر آگے بڑھ گئی۰
جب ہی متقین کے فون پر میسج ابھرا۰
”اسلام وعلیکم،آپ کے ساتھ یہ لڑکی کون ہے؟”
میسج ان نون نمبر سے تھا۰متقین تھوڑا محتاط ہوگیا۰
“آپ کون؟؟متقین نے دو لفظی جواب بھیجا۰
“جی میں رانیہ،ابھی میں یونیورسٹی کے لئے نکل رہی تھی،تو آپکو گاڑی میں کسی لڑکی کے ساتھ آتے دیکھا تو سوچا پوچھ لوں۰”
متقین سر پکڑ کر بیٹھ گیا۰
“یہ میری دوست کی بہن ہیں۰”
جواب ٹائپ کرکے اس نے سر جھٹکا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
پورے گھر میں ایک ہنگامہ برپا تھا۰
زیشان صاحب سب نوکروں پرغصہ ہورہے تھے،کہ آخر مائشہ سب کی موجودگی میں نکلی کیسے؟؟
سب سے زیادہ شامت چوکیدار کی آئی ہوئی تھی۰
وہ مائشہ کے ہر جاننے والے کے گھر فون کرچکے تھے،مگر سب ہی نے لاعلمی کااظہار کیا تھا۰
شہریار تو غصے سے پاگل ہورہا تھا۰
”آپ لوگ میری سن نہیں رہے تھے نہ،کم ازکم نکاح ہی کروادیا ہوتا،مگر میں تو سب کو پاگل لگتا ہوں۰”
اس نے ٹیبل کو لات مارتے ہوئے کہا۰
“ویسے دیکھا جائے تو اچھا ہی ہوا،خس کم جہاں پاک۰۰۰اب اگر وہ گھر چھوڑ کر چلی ہی گئی ہے تو جائیداد سے بھی تو گئی۰ہم ویسے بھی اسکی شادی اسی لئیے تو تم سے کر رہے تھے نہ،ورنہ لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے تمہارےلئیےکوئی”
آفرین تائی اپنے طور پر مطمئین تھیں۰
“امی آپکو کیوں سمجھ نہیں آرہی ،مجھے بس اسی سے شادی کرنی ہے،اب وہ میری ضد ہے۰”
شہریار نے ماں کو جھنجھوڑ ڈالا تھا۰
“ارے پاگل دیوانہ تو نہیں ہوگیا ہے،ایسے کونسے سرخاب کے پر ہیں اس میں،اس سے لاکھ درجے بہترین لڑکیاں مل جائیں گی تم کو۰”
آفرین تائی نے اسکو لتاڑا۰
“تم دونوں ماں بیٹا یہ فالتو بکواس بند کرو گے،مجھے کچھ سوچے دو۰”
زیشان تایا نے دونوں کو گھور کے دیکھا۰
مائشہ کی گمشدگی انکے لئیے ٹینشن بن سکتی تھی،اچانک باپ کی موت اور بیٹی کا غائب ہوجانا انکو پولیس اور دنیا کی نظر میں مشکوک کر سکتا تھا۰وہ مائشہ کو ہر قیمت پر ڈھونڈنا چاہتے تھے۰
“چلو میرے ساتھ ،رپورٹ کرانی ہوگی،”
زیشان صاحب نے شہریار کو مخاطب کیا۰
وہ غصے میں بھرا ہوا اپنی کار کی چابی لینے کمرے میں چلا گیا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: