Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Last Episode 13

0

مکافات عمل از شمائلہ حسن – آخری قسط نمبر 13

–**–**–

 

متقین تمہاری رانیہ سے کوئی بات ہوئی ہے؟؟”
شام کو جب متقین گھر آیا تو چائے سے فارغ ہونے کے بعد دادو نے اس سے سوال کیا۰
“ہاں کچھ خاص نہیں ،کیوں؟آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟”
متقین نے لہجہ سرسری بناتے ہوئے کہا۰
“پتہ نہیں رانیہ کی ماں کا فون آیا تھا،کہہ رہی تھیں کہ وہ یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی ہیں،ہماری طرف سے بہت معذرت مگر متقین اور رانیہ کی نبھنا تھوڑا مشکل ہے،رانیہ کی جب سے منگنی ہوئی ہے وہ پریشان رہتی ہے۰”
میں نے کہا بھی کہ” آپ وجہ تو بتائیے کوئی،ایسے بغیر وجہ کے میں کیا کہہ سکتی ہوں،متقین بلکل بھی ایسا بچہ نہیں ہے کہ اس سے کسی کو کوئی شکایت ہو،مجھے بہت حیرانگی ہے آپکی بات سن کر۰
تو بس اتنا ہی بولیں کہ آپ پھر متقین سے ہی پوچھ لیجیے گا۰”
اب جب سے میں یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر ایسی کیا بات ہوئی جو وہ اتنے اچھے رشتے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۰
دادو نے متفکر ہوکر پوچھا۰
“دادو کوئی خاص بات نہیں ہے،بس رانیہ تھوڑی بچکانہ سوچ والی جذباتی لڑکی ہے،اسکو لگتا ہے میں مائشہ میں انٹرسٹڈ ہوں،اسی بات کو لے کر وہ ایشو بنا رہی ہے۰
میں نے اسکو سمجھایا بھی تھا کال کرکے،مگر میرا خیال ہے کہ اگر وہ لوگ خود رشتہ ختم کرنا چاہ رہے ہیں تو اچھی بات ہے کیونکہ مجھے بھی لگتا ہے کہ رانیہ بہت امیچیور ہے۰میں بہرحال خود سے تو پہچھے نہیں ہٹتا،جیسے بھی ہوتا نبھاتا
مگراگر انکو بات ختم کرنی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۰”
ابھی متقین دادو سے بات کر ہی رہا تھا کہ اسکو زور زور سے مائشہ کے رونے کی آواز آئی۰
وہ جلدی سے بھاگ کر اسکے روم میں پہنچا ،وہ گھٹنوں میں سر دئیے زور زور سے رورہی تھی،سامنے ہی کیم کارڈر پڑا تھا۰
“مائشہ مائشہ کیا ہوا،اٹھو۰”
متقین نے اسکا سر گٹھنوں سے اٹھاتے ہوئے پوچھا۰
“میرے پاپا،پاپا۰۰۰ “
“کیا ہوا”؟
متقین نے نا سمجھی سے پوچھا۰
“میرے پاپا۰۰۰قتل۰۰انکا قتل۰۰”
وہ ہچکیوں کے بیچ بس اتنا ہی بول پا رہی تھی۰اور اشارہ بار بار کیم کارڈر کی طرف کر رہی تھی۰
متقین نے جلدی سے کیم کارڈر اٹھا کر دیکھا۰
جوں جوں وڈیو آگے بڑھ رہی تھی،متقین کے چہرے پر بے یقینی پھیل رہی تھی۰
مائشہ کی سسکیاں اب دھیمی ہوگئی تھیں.وہ اب ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی۰
دادو اس کو گلے لگائے تھپک رہی تھیں۰گو انکو ابھی کچھ پتہ نہیں تھا،مگر مائشہ کی حالت دیکھ کر انکو اندازہ ہورہا تھا کہ بات کچھ سیریس ہے۰
“تم بلکل پریشان نہ ہو،ہم ابھی جاکر ایف آئی آر لوج کرواتے ہیں۰اور میں اپنے لائیر فرینڈ سے بات کرتا ہوں،ان کے خلاف جلد از جلد لیگل ایکشن لیں گے۰ہمارے پاس ثبوت ہے،وہ لوگ بلکل بھی نہیں بچ پائیں گے۰
دادو آپ اسکے لئیے جوس وغیرہ منگوائیں۰”
متقین نے پاکٹ سے موبائیل نکال کر روم سے باہر جاتے ہوئے کہا۰
تھوڑی دیر بعد وہ روم میں داخل ہوا۰
“میری بات ہوگئی ہے،انفیکٹ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی پولیس اسٹیشن چلے گا۰
کل صبح انکے خلاف اریسٹ وارنٹ بھی ایشو ہوجائے گا۰”
متقین نے واپس آکر کیم کارڈر اٹھا کر اسکو احتیاط سے کپ بورڈ میں رکھتے ہوئے کہا۰
مائشہ اب کچھ سنبھل چکی تھی۰مگر بلکل گم صم بیٹھی تھی۰رو رو کر اسکی آنکھیں سوج چکی تھیں۰
متقین کو دیکھ کر ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھر آئیں۰
“میرے پاپا نے کیا بگاڑا تھا،ان لوگوں کا۰تایا ابو کہتی ہوں میں انکو،مطلب باپ کی طرح پیار کرتی تھی ان سے،اور وہ اس سازش میں برابر کے شریک تھے۰انہوں نے میرے ساتھ ڈرامہ کیا۰میرے سر سے باپ کا سایہ چھینا۰”
کہتے کہتے وہ ایک بار پھر دادو کے گلے لگ کے دھاڑیں مار مار کے رونے لگی تھی۰
متقین افسوس اور دکھ سے اسکو دیکھے گیا۰
“مشی تم اٹھو منہ ہاتھ دھو،ہم کو ابھی پولیس اسٹیشن جانا ہوگا،ہم ماموں کو انصاف دلوائیں گے۰شاباش ہمت سے کام لو۰”
متقین نے اسکو دادو سے الگ کرتے ہوئے کہا۰
“ہاں میرا بچہ ظالم کو اسکے جرم کی سزا ضرور ملے گی،تمہارے پاپا کو انصاف ضرور ملے گا۰دیکھو ظلم چھپتا نہیں ہے،اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۰بس جب جس کی پکڑ ہوجائے۰شاباش تم جلدی سے اٹھو،اور متقین کے ساتھ جاؤ”۰
دادو نے پیار سے اسکے بال سمیٹتے ہوئے کہا۰مائشہ آنسو ضبط کرتے کھڑی ہوگئی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
زیشان تایا آج گھر آگئے تھے۰ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ یہ اب ساری عمر کے لئے محتاج ہوگئے ہیں۰وہ ہل بھی خود نہیں پا رہے تھے۰
جس دولت کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اتنی سازشیں کی تھیں،اسکو خرچ کرنے کے قابل وہ نہیں بچے تھے۰
وہ بہت بے بسی سے آفرین تائی کو دیکھ رہے تھے جو خود اس صورتِ حال سے پریشان تھیں۰
رشید سے انہوں نے کسی لڑکے کے بندوبست کا کہا تھا جو کل وقت زیشان صاحب کا خیال رکھ سکے۰
رشید اس دن سے اللہ کے ساتھ ساتھ جنت کا بھی شکر گزار تھا جس نے اسکو بروقت اپنی نیکی سے بچالیا تھا۰
وہ سوچ رہا تھا ٹھیک کہتے ہیں نیک صفت ساتھی جنت میں لیکر جائے گا۰جنت نے تو اسکو دنیا میں ہی جنت دلوادی تھی۰
جنت کو بھی آفرین تائی نے گھر سنبھالنے کے لئے بلا لیا تھا،کیونکہ فی الحال وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھیں۰
اب بھی وہ زیشان صاحب کا سوپ لے کر آئی تھی۰اور انکی یہ حالت دیکھ کر اس نے اللہ کا دل ہی دل میں شکر ادا کیا۰
جہاں اللہ پاک رحمن اور رحیم تھا،وہیں وہ قہار،عادل اور جبار بھی تھا۰جنت سوپ رکھ کر باہر آگئی تھی مگر اسکے زہن میں زیشان صاحب کا وہ محتاج وجود گھوم رہا تھا۰
ایک وہ وقت تھا جب وہ دبدبے سے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،اور آج وہ پانی پینے کے لئے بھی دوسروں کے محتاج تھے۰جنت کو بچپن میں بے بے کی یاد کروائی سورہ کا ترجمہ اب سمجھ آیا تھا۰
قسم ہے عصر کی،بے شک انسان خسارے میں ہے۰
وہ یہی سوچ رہی تھی کہ واقعی انسان کی زندگی کی کیا حیثیت ہے،اس رب کی مرضی نہ ہو تو وہ سانس بھی اندر نہیں اتار سکتا،مگر دنیا میں اکڑ کر چلتا ہے۰
تھوڑی سی دولت،شہرت پر اکڑ کر پھرتا ہے۰بھول جاتا ہے کہ وہ بس اسکی ایک کن کی مار ہے۰
مگر اس دنیا میں آنے والوں کی اکثریت نے بدی کا راستہ اختیار کر کے عارضی لذتوں کے عوض ہمیشہ ہمیشہ کے خسارے یعنی جہنم کی آگ کا سودا کیا ہے۰
اسکو یاد تھا بے بے اکثر اسکو پہاڑی کے وعظ میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کے وعظ کے بارے میں بتاتی تھیں۰
” تنگ دروازے سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ جو چوڑا ہے اور وہ راستہ جو کشادہ ہے، ہلاکت کو پہنچاتا ہے، اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں اور وہ دروازہ جو بہت تنگ ہے اور وہ راستہ جو سکڑا ہے، زندگی کو پہچانتا ہے اور اس کے پانے والے تھوڑے ہیں”
جنت کو آج اس وعظ کا مفہوم سمجھ آیا تھا۰وہ شکر گزار تھی کہ اللہ نے اسکو ہدایت نصیب فرمائی تھی۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“امی زروا میں ماشااللہ بہت پوزیٹیو چینج آرہا ہے،آپ نے نوٹس کیا۰”
انعم اپنی امی کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی،اورزروا کچن کاؤنٹر پر کیک ڈیکوریٹنگ کا سامان پھیلا کر کھڑی تھی۰
کیک بیک ہو چکا تھا،اب فونڈینٹ سے اسکو کور کرنا تھا۰
“ہاں ،بس بچوں کی نیچر سمجھنی ہوتی ہے،پھر سب آسان ہوجاتا ہے۰ماں باپ کے اوپر بہت بھاری ذمہ داری ہوتی ہے،پرورش کی۰
بس یاد رکھنا تم جو بھی خوبی ان میں دیکھنا چاہتی ہو،یا جو بھی خراب عادت بدلنا چاہتی ہو،ان کے لاشعوری ذہن میں محفوظ کردو،انکو یقین دلاؤ،تم بہت سمجھدار ہو،ذمہ دار ہو،جو بات تعریف سے بدل سکتی ہے نہ وہ تنقید سے ہرگز نہیں بدلے گی۰
تم نے چند دن میں بدلاؤ دیکھ لیا نہ؟
انہوں نے پیار سے زروا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،جو میلٹڈ مارش میلو میں آیسنگ شوگر مکس کر رہی تھی۰
آہستہ آہستہ شوگر مارشمیلو میں یک جان ہوکر ایک ڈوہ کی صورت میں آچکی تھی۰
“ماما پلیز کیا آپ مجھے آئسنگ شوگر کا نیو پیکٹ نکال کر دے سکتی ہیں؟”
زروانے وہیں سے کھڑے کھڑے آواز لگائی۰
“ہاں بیٹا واۓ ناٹ”
انعم نے بول میں آئسنگ شوگر نکال کر اسکو دے دی۰
“مما اس کو ورک میٹ پر اسپریڈ بھی کردیں ،مجھےڈوہ کو نیڈ کرنا ہے نہ تو وہ اسٹک نہ ہو اس پر”۰
زروا نے ہاتھ میں ڈوہ اٹھاتے ہوئے کہا۰
انعم نے مسکراتے ہوئے آئسنگ شوگر میٹ پر پھیلا دی۰
زروا ڈوہ کو نرم ہاتھوں سے گوندھی گئی۰
انعم سوچ رہی تھی کیسے ابھی پورے میں پھیلنے والی مارشمیلو زرا سی محنت سے نرم سی بال گئی،اس کو جیسے چاہو اب اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال لو۰
شاید زندگی کا بھی یہی اصول ہے۰نرمی،لگن اور وقت آپ چاہے انسانوں کو دیں یا چیزوں کو،وہ آپ کی من چاہی چیز میں بدل سکتے ہیں۰مسکراتے ہوئے وہ واپس لاؤنج میں آکر بیٹھ گئی تھی۰
“امی میں سوچ رہی تھی بڑے بوڑھوں کی موجودگی بچوں پر زیادہ اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۰
مجھے اچھے سے یاد ہے،دادی امی کیسے ہمیں بچپن میں سبق آموز کہانیاں سناتی تھیں نہ،میری سب سے فیورٹ کہانی وہ بسم اللہ کا معجزہ تھی،جس میں مچھلی کے پیٹ سے بسم اللہ کی برکت سے انگوٹھی نکل جاتی ہے،اور اشعر کو تو وہ چرواہے کے جھوٹ والی کہانی کے بعد سے جھوٹ بولتے واقعی ڈر لگتا تھا۰”
انعم بہت محظوظ ہوکر اپنا بچپن دہرا رہی تھی۰
“مجھے اچھے سے یاد ہے،شام کو ہم سب بچے چھت پر اپنے بن اور چائے لے کر دادی امی کے ساتھ جمع ہوجاتے تھے،اور وہ ہم کو پیغمبروں کی کہانی سناتی تھیں،حضرت آدم علیہ اسلام سے لےکر حضرت محمد صلی الللہ علیہ وسلم تک کے سب کے قصے ہم سب بچوں کو زبانی ازبر تھے۰”
وہ بچپن یاد کرکے جیسے واپس اسی چھت پر پہنچ چکی تھی،جہاں وہ اب دادی امی کے گرد جمع ہوکر قصے سنا کرتے تھے۰
“میرے بچوں نے وہ سب مس کردیا نہ،انکی بھی دادو ہوتیں تو شاید یہ بھی بچپن سے فائنڈنگ نیمو اور فروزن دیکھنے کے بجائے اچھی باتیں سیکھتے۰ماؤں کے پاس تو کاموں کے سو جھمیلے ہوتے ہیں۰بچے یہ سب کچھ تو گرینڈ پیرنٹس سے ہی سیکھتے ہیں۰آپ بھی کبھی کبھار ہی آتی ہیں۰کاش آپ میرے پاس رہ سکتی ہوتیں۰”
اس نے چاہت سے انکا ہاتھ پکڑا۰
“بیٹا میرے گھر پر بھی میری کچھ ذمہ داریاں ہیں،میں کیسے سب چھوڑ کر یہاں رہ سکتی ہوں۰”
امی نے مسکرا کے اسکے ہاتھ کو تھپکا۰
زروا کا کیک مکمل ہونے کے قریب تھا،وہ یہ کیک انعم کے لئے اسکی آنے والی سالگرہ کا بنا رہی تھی۰
“امی آئی لو یو،”
انعم نے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۰نانو،ماما اور زروا تینوں اپنی اپنی سوچوں پر مسکرا رہی تھیں۰تینوں ہی کا کام مکمل ہوچکا تھا۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“شہریار کہاں ہے،اسکے نام کا اریسٹ وارنٹ ہے۰”
انسپکٹر نے آفرین تائی کو وارنٹ دکھاتے ہوئے کہا۰
“مم مگر۰۰۰کیوں۰۰”
آفرین تائی کی تو حالت زیشان تایا کی وجہ سے پہلے ہی خراب تھی۰اب مزید یہ خبر سن کر وہ حواس باختہ ہوگئی تھیں۰
“مائشہ میڈم نے انکے خلاف اپنے پاپا کے قتل کی ایف آئی آر درج کروائی ہے۰آپ شہریار کو بلادیں ورنہ مجبوراً ہم کو گھر کے اندر آنا پڑے گا۰”
انسپکٹر نے سختی سے جواب دیا۰جب ہی شہریار گیٹ تک آچکا تھا۰
“جی کیا مسئلہ ہے آپ لوگوں کو؟”
وہ تنتناتا ہوا گیٹ کے باہر نکلا۰
“تمہارے خلاف اریسٹ وارنٹ ہے، ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۰”
انسپکٹر نے نخوت سے کہا۰
متقین بھی انسپکٹر کے ساتھ ہی تھا۰وہ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے شہریار کو گھور رہا تھا۰
“آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے قتل کیا ہے،شہریار نے وارنٹ پکڑکر غصہ سے دونوں کو دیکھا۰”
“ثبوت اور گواہ عدالت میں پیش ہونگے،شرافت سے ہمارے ساتھ چل لو،ورنہ زبردستی کرنی پڑے گی۰رحیم بخش ہتھکڑی لاؤ۰”
انسپکٹر نے کانسٹیبل کو آواز لگائی۰
“جی سر،”
رحیم بخش نے جلدی سے ہتھکڑی لاکر انسپکٹر کو تھمائی۰
شہریار نے دانت پیستے ہوئے متقین کو دیکھا۰
“یہ کون ہے؟؟”
میں جو کوئی بھی ہوں،پوچھ گچھ تم سے ہوگی،اس وقت تم کچھ بھی پوچھنے کی پوزیشن میں نہیں ہو۰لے جائیے اسکو،یہ تھوڑی دیر اور میرے سامنے رہا تو میں اسکا منہ توڑ دونگا۰”
متقین نے غصے سے مٹھیاں بھینچھتے ہوئے کہا۰
شہریار کوہتھکڑی ڈال کر گاڑی میں بٹھا کر وہ لوگ روانہ ہوگئے۰
آفرین تائی کو تو ایسا صدمہ لگا کہ وہ تو وہیں دروازے پر سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۰
“یا میرے اللہ !یہ کس آزمائش میں ڈال دیا مجھ کو،شوہر اپاہج،بیٹا جیل میں،میں کیا کروں،کہاں جاؤں۰مجھ پر رحم کر میرے مالک۰”
وہ وہیں سجدے میں گڑگڑا کر رونے لگیں۰
وہ یہ بھول گئیں تھیں کہ اللہ جب تک چاہتا ہے رسی ڈھیلی چھوڑتا ہے مگر جب پکڑ میں لیتا ہے تو انسان کو زمیں کا کوئی حصہ سر چھپانے کو نہیں ملتا۰
بھلے سے قتل انہوں نے نہیں کیا تھا،مگر اسکو چھپا کر وہ گناہ میں برابر کی شریک تھیں۰پیسوں کے حوس اور لالچ میں انہوں نے کسی کو یتیم کردیا تھا۰جب انکے دل میں رحم نہیں جاگا تھا،اور آج خود جب اللہ کے زیرِ عتاب آئیں تو رحم یاد آرہا تھا۰
جنت دور سے کھڑی یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۰
اس نے آج ایک بار پھر رب کا شکر ادا کیا جس نے رشید کو اس رات اس حوس سے بچالیا۰
اس ظلم میں شامل سب ہی ایک ایک کرکے اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے تھے۰
“ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے
آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئ۰”
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اس وقت مائشہ اور متقین قبرستان میں کھڑے تھے۰
متقین نے پہلے ہی سلمان صاحب کی قبر پر کتبہ لگوادیا تھا۰قبر پر تازہ پھولوں کی پتیاں بکھری تھیں۰
انسپکٹر شہزاد کی نشاندہی پر متقین کو بآسانی قبر مل گئی تھی۰
اب وہ مائشہ کو بہت تاکید سی یہاں لے کر آیا تھا کہ وہ ذرا بھی شور نہیں مچائے گی۰
مائشہ کو لگ رہا تھا وہ پاپا کی قبر دیکھ کر بہت روئے گی۰مگر یہاں آکر اسکو بہت سکون ملا تھا،اسکو لگ رہا تھا جیسے اتنے دن سے اسکا دل جو بےقرار تھا اسکو سکون مل گیا ہو،جیسے اسکی ملاقات اپنے پاپا سے ہوگئی ہو۰وہ بہت دیر سے قبر کے سرہانے بیٹھی رہی۰
شائد وہ اسلئے مطمئن تھی کہ اسکے پاپا کو انصاف مل گیا تھا،سب کیفرِ کردار کو پہنچ چکے تھے۰
عدالت نے شہریار کو پہلی ہی ہیرنگ میں پھانسی سنا دی تھی۰
زیشان صاحب کو علالت کے باعث ا کروڑ جرمانہ لگا۰ویسے بھی انکی سزا قدرت نے پہلے ہی لکھ دی تھی۰
آفرین تائی کو شواہد مٹانے کے جرم میں کچھ ماہ کی سزا اور جرمانہ لگا۰
انسپکٹر شہزاد کو تاحیات کے لئے سسپنڈ کردیا گیا تھا۰اور اسکے خلاف کیس اوپن کرنے کی ہدایت پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دی گئی تھی۰
مائشہ اور متقین کے حصے کی دولت سے دونوں نے اپنے ماما اور پاپا کے نام پر ایک اوفینیج کھول لیا تھا۰
انکو قدرت نے اپنے والدین کی خدمت کا موقع نہ دیا تو وہ انکے لئے صدقہ جاریہ بننا چاہتے تھے۰ویسے بھی ان سے زیادہ یتیمی کا دکھ کون سمجھ سکتا تھا۰
“از مکافاتِ عمل غافل مشو
گندم از گندم بروید جو زجو”
(کسی کے عمل کے بدلے سے غافل نہ رہو،
گیہوں سے گیہوں اگتا ہے اور جو سے جو)
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
“مشی کتنی دیر تم کو اور لگے گی؟
سب ویٹ کررہے ہیں۰”
متقین کے چوتھی بار آواز دینے پر مائشہ جھلائی ہوئی کمرے سے برآمد ہوئی۰
وہ اس وقت بلیک شفون کی پلین ساری پر بلیک ہی بھاری کام کا بلاؤز پہنی تھی،جس کا گلا اور آستینیں ننھے ننھے ڈائموٹیز سے بھرا تھا۰براؤن بال پشت پر پھیلے تھے،اور اسموکی میک اپ آنکھوں کو اور حسین بنا رہا تھا۰ ہاتھ میں جڑاؤ کنگن تھے،جو متقین نے اسکو منہ دکھائی میں دئیے تھے۰کانوں میں ڈائمنڈ اسٹڈز تھے،اس نے آج پہلی بار ساڑی پہنی تھی۰اور اسی لئے جھلائی ہوئی تھی کیونکہ اسکو ساڑی پسند نہیں تھی،اور آج متقین کی فرمائش پر پہنی تھی۰
“واؤ”۰۰۰۰
متقین نے اسکو باہر آتا دیکھ کر ستائشی انداز میں تعریف کی۰
“مجھے پتہ ہوتا تم ساڑی میں اتنی پیاری لگو گی تو دادو سے کہہ کر ساری ساڑھیاں ہی بنواتا ۰”
متقین نے اسکو چھیڑا۰
“ہاں خود پہن کر دیکھیں ایک دفعہ،دادو سے کہہ کر ساری ساڑھیاں بنواتا۰”
مائشہ اسی کے انداز میں نقل اتارتی دھپ سے صوفے پر بیٹھ کر سینڈل کر اسٹریپ بند کرنے لگی۰
متقین کی تعریف پر مائشہ بلش ہوگئی تھی،مگر اپنی شرماہٹ کا اثر زائل کرنے کے لئے اسکو چڑا رہی تھی۰
“اچھا چلو،ناراض نہ ہو۰باہر چلو،دادو سب مہمانوں کے ساتھ ہمارا ویٹ کررہی ہیں۰”متقین نے ہاتھ بڑھایا جس کو مائشہ نے مسکرا کر تھام لیا تھا۰
متقین اس وقت بلیک ڈنر سوٹ میں تھا،کریو کٹ اورفرینچ بئیرڈ میں وہ بہت جاذب نظر لگ رہا تھا۰
آج انکی پہلی ویڈنگ اینیورسری تھی،اور دادو نے اسی لئے پارٹی ارینج کی تھی،جس کا انتظام انکے لان میں کیا گیا تھا۰
دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے باہر نکلے تھے۰
دور سے دادو نے دونوں کو مسکرا کر دیکھا،جو ان ہی کی طرف بڑھ رہے تھے۰
وہ اسوقت چئیر پر بیٹھی تھیں،پاس ہی دو ماہ کا مومن کیری کاٹ میں لیٹا تھا۰انہوں نے دل ہی دل میں دعائیں پڑھ کر دونوں کے دائمی ساتھ کی دل سے دعا کی تھی

 

Read More:  Filhal By Muhammad Shariq – Episode 5

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: