Mamta Ki Chori Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 1

0

مامتا کی چوری از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 1

–**–**–

مامتا کی چوری
ــــــــ
افراد
مسٹر بھاٹیہ
مسز بھاٹیہ
گوپال(گوپو)
مسٹر اور مسز بھاٹیہ کا کم سن لڑکا
چپلا
گوپال کی استانی ڈاکٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ-
(پانی میں ہاتھ دھونے کی آواز)
ڈاکٹر :بچے کو زبردست انفکشن ہو گئی ہے اگر اس کی اچھی طرح تیمار داری اور خبرگیری نہ کی گئی تو مجھے اندیشہ ہے۔ ۔ ۔
چپلا :نہیں نہیں۔ ۔ ۔ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے۔ آپ مطمئن رہیں ڈاکٹر صاحب اس کی اچھی طرح تیمار داری کی جائے گی۔ ۔ ۔ یہ لیجئے تولیہ!
(بچہ بخار میں ’’ہوں ہوں ‘‘ کرتا ہے)
چپلا :گوپو۔ گوپو۔ ۔ ۔ میں تیری استانی ہوں بیٹا۔ ۔ ۔ کیا تو آج سبق نہیں پڑھے گا مجھ سے۔ ۔ ۔ اور سیر کے لئے بھی تو جانا ہے ہمیں۔ نہیں، نہیں، کل چلیں گے۔ کل تو بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔
ڈاکٹر :باتیں کرنے سے بچے کو تکلیف ہو گی۔
چپلا :بہت اچھا ڈاکٹر صاحب میں باتیں نہیں کروں گی۔ پر میں اس کے پاس بیٹھ تو سکتی ہوں۔ یہ خود چاہتا ہے کہ میں اس کے بیٹھی رہوں۔
ڈاکٹر :تو بھاٹیہ صاحب جو ہدایات میں دے چکا ہوں ان پر ضرور عمل کیا جائے۔
بھاٹیہ :بہت بہتر ڈاکٹر صاحب!
(چلنے کی آواز۔ ۔ ۔ پھر دروازہ کھلتا ہے۔ )
مسز بھاٹیہ :ڈاکٹر صاحب بتائیے۔ میرے بچے کا کیا حال ہے۔ ۔ ۔ بچ جائے گا خطرے کی کوئی بات نہیں ؟۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اوہ۔ ۔ ۔ لیکن یہ کیا ظلم ہے کہ مجھے اس کے پاس جانے سے منع کیا جاتا ہے۔ (جذبات کی رو میں بہہ کر)کیا میں اس کی ماں نہیں۔ کیا وہ میرا بیٹا نہیں۔ ۔ ۔ وہ عورت کیا وہ عورت قاعدے کے چند حروف پڑھا کر اس کی ماں بن گئی ہے۔ ۔ ۔ چند روز باغ میں لے جا کر کیا اس عورت کے دل میں مامتا پیدا ہو گئی ہے ؟۔ ۔ ۔ میری اولاد پر اسے کیا حق ہے۔ کب تک وہ میرے ہی گھر میں میری چیزوں پہ قابض رہے گی۔ ۔ ۔ میں کب تک یہ اذیت برداشت کرتی رہوں گی۔
ڈاکٹر : (سنجیدگی کے ساتھ)بچے کی حالت نازک نہیں ہے لیکن وہ خطرے سے باہر بھی نہیں۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ۔ ۔ ہاں تو بھاٹیہ صاحب میں اب اجازت چاہتا ہوں۔
مسز بھاٹیہ : اور ۔ ۔ ۔ اور یہ سب احتیاط صرف وہی عورت کر سکتی ہے۔ ۔ ۔ میں بالکل ناکارہ ہوں۔ محض اتفاق ہے کہ میں اس کی ماں ہوں۔ ورنہ وہی عورت اس کی سب کچھ ہے (سسکیاں)۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ میں کتنی رکھی ہوں۔
بھاٹیہ :ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ۔ امید ہے شام کو آپ ضرور تشریف لائیں گے۔
ڈاکٹر :ایک ایک گھنٹے کے بعد دوا دینا نہ بھولئے گا اور وہ بھاپ بھی۔ ۔ ۔
بھاٹیہ :آپ مطمئن رہیں گوپال کی استانی ہوشیار ہے اسے سب کچھ یاد رہے گا۔
(دروازہ کھولنے اور بند کرنے کی آواز۔ ۔ ۔ ڈاکٹر چلا جاتا ہے۔ )
مسز بھاٹیہ :تم یہ جھگڑا ہی ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ یہ نئی بلا جو تم نے پالی ہے اسی کے ہو رہو اور مجھے زہر دے کر ہلاک کر دو۔ یہ روز روز کی دانتا کلکل تو ختم ہو۔ میرا تو اس گھر میں ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ یہ چپلا جب سے آئی ہے ایساجادو اس نے تم پرکیا ہے کہ میں کیا کہوں۔ اب تو گھر میں اسی کا راج ہے۔ میں کون، تین میں تیرہ میں سعی کی گرہ میں۔ ۔ ۔ تم تو خیراس کے ہو ہی گئے تھے۔ پراس موئی نے تو میرے بچے پربھی قبضہ جما لیا ہے۔ اب بتاؤ میں کہاں جاؤں ؟
بھاٹیہ : (بڑی متانت اور ٹھنڈے دل سے) میں تم سے بار بار کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ تم بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہو۔ یہ گھربار سب تمہارا ہے بچہ بھی تمہارا ہے جس عورت کا تم بار بار ذکر کرتی ہو وہ تمہاری نوکر ہے۔ ۔ ۔ تمہارے بچے کو اس نے دنوں میں سدھار دیا۔ ۔ ۔ اب بیماری میں وہ اس کی خبرگیری کر رہی ہے اس کے لئے
مسز بھاٹیہ :تم اس کی وکالت کیوں کرتے ہو؟۔ ۔ ۔ تم کیوں اس کی اصلی خواہشوں پر پردہ ڈالتے ہو۔ ۔ ۔ کیایہ جھوٹ نہیں کہ جب سے وہ اس گھر میں داخل ہوئی ہے تم مجھ سے بالکل بے پرواہ ہو گئے ہو۔ تم اب مجھ سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں اور کیا یہ جھوٹ ہے کہ بچے کولے کر کئی کئی گھنٹے تم اس حرافہ کے ساتھ باغ میں ٹہلتے رہتے ہو؟جب وہ بچے کو سبق پڑھاتی ہے تو گھنٹوں تم اس کے پاس بیٹھے رہتے ہو کیا یہ غلط ہے کیا یہ سب اس چڑیل کی کارستانی نہیں۔ ۔ ۔ اس ذلیل عورت کو جو فاحشہ سے بھی بدتر ہے۔ ۔ ۔
مسٹر بھاٹیہ :پاربتی۔ ۔ ۔ بند کرو اس بکو اس کو(غصے کوپی کر) تم۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ اب میں تم سے کیا کہوں۔ میری زندگی تم نے اجیرن کر دی ہے۔
مسز بھاٹیہ : (طعن آمیز لہجے میں) میں تو بہت سکھی ہوں۔ ۔ ۔ میری زندگی تو بڑے آنند میں گزر رہی ہے۔
مسٹر بھاٹیہ :بھگوان کے لئے اب یہ موہنا ٹھی ٹھی بند کرو۔
مسز بھاٹیہ :زور صرف مجھی پر چلتا ہے۔ لیکن سن لو جب تک یہ عورت گھر میں موجود ہے میری زبان چلتی رہے گی۔ مجھے دیکھ دینے کے لئے جب تم یہ عورت یہاں لے آئے ہو تو میں تمہیں ایک لمحے کے لئے چین نہ لینے دوں گی اور اس عورت۔ ۔ ۔ اور اس عورت کو پرماتما سزا دے گا۔ جس نے میرے بسے بسائے گھر کو برباد کیا ہے۔ جس نے میرا پتی دن دہاڑے مجھ سے چھین لیا ہے۔
مسٹر بھاٹیہ :میں اب دفتر جا رہا ہوں زیادہ باتیں کرنے کے لئے میرے پاس وقت نہیں تم چا ہو تو دوسرے کمرے میں اپنے لڑکے کے پاس جا سکتی ہو۔
مسز بھاٹیہ :میں نہیں جاؤں گی۔
مسٹر بھاٹیہ :یہ اور بھی اچھا ہے۔
(دروازے کھولنے اور بند کرنے کی آواز۔ بھاٹیہ چلا جاتا ہے۔ مسز بھاٹیہ چند لمحات تک اضطراب کی حالت میں ٹہلتی ہے۔ )
مسز بھاٹیہ :چپلا۔ ۔ ۔ چپلا۔
(دروازہ کھولنے کی آواز۔ )
چپلا :میں نے آپ کی آواز سن لی تھی۔ آپ نے دوسری مرتبہ زور سے پکارا گوپو جاگ پڑا۔
مسز بھاٹیہ :پھر سو جائے گا۔ کوئی حرج نہیں!
چپلا :بڑی مشکل سے بیچارے کی آنکھ لگی تھی۔
مسز بھاٹیہ :گوپو سے تمہیں بہت پیا رہے ؟
چپلا :جی ہاں۔
مسز بھاٹیہ :کیوں ؟
چپلا :مجھے اس سے پیا رہے۔ میں دل سے اسے چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ کیوں ؟ اس کا میں آپ کو جواب دوں۔
مسز بھاٹیہ :کیا مجھے اس سے محبت نہیں ؟
چپلا :آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم ہونا چاہئے۔
مسز بھاٹیہ :کیا میں اس کی ماں نہیں ؟
چپلا :آپ یقیناً اس کی ماں ہیں۔
مسز بھاٹیہ :تم اس کی کیا ہوتی ہو؟
چپلا :استانی، جس کو آپ نے مقرر کیا ہے۔
مسز بھاٹیہ :میں نے تمہیں مقرر نہیں کیا۔ میرے پتی نے تجھے نوکر رکھا ہے۔
چپلا :میں بھاٹیہ صاحب اور آپ میں کوئی فرق نہیں سمجھتی۔ میں آپ کی بھاٹیہ صاحب اور گوپو تینوں کی خدمت گار ہوں۔ میرا کام خدمت کرنا ہے۔
مسز بھاٹیہ :جیسی خدمت تم میرے پتی کی کر رہی ہو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تم اپنے فن میں ضرورت سے زیادہ مہارت رکھتی ہو؟
چپلا :میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔
مسز بھاٹیہ :میرے منہ میں بھاٹیہ صاحب کی زبان ہوتی تو میرا مطلب فوراً تمہاری سمجھ میں آ جاتا۔ ۔ ۔ تم۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: