Mamta Ki Chori Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 2

0

مامتا کی چوری از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 2

–**–**–


چپلا :میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔
مسز بھاٹیہ :میرے منہ میں بھاٹیہ صاحب کی زبان ہوتی تو میرا مطلب فوراً تمہاری سمجھ میں آ جاتا۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔
چپلا :فرمائیے۔
مسز بھاٹیہ : (لہجہ بدل کر)دیکھو چپلا۔ میں عورت ہوں۔ تم بھی عورت ہو۔ ۔ ۔ آؤ کھل کر باتیں کریں وہ پردہ اٹھا دیں جو ہمارے درمیان حائل ہے۔
چپلا :آقا اور نوکر کے درمیان پردہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔
مسز بھاٹیہ :انجان بننے کی کوشش نہ کرو۔ ۔ ۔ میں تم سے ایک التجا کرنا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ میں تم سے کچھ مانگنا چاہتی ہوں۔ مجھے مانگنے دو۔ التجا کرنے دو۔ ۔ ۔ دیکھو جب سے تم اس گھر میں آئی ہو۔ میری زندگی بالکل اجیرن ہو گئی ہے۔ میرا پتی مجھ سے چھین گیا۔ میرا بچہ بھی میرا بچہ نہ رہا۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ تم نے لے لیا۔ ۔ ۔ وہ تمام چیزیں جن کی ملکیت سے عورت بیوی بنتی ہے۔ ایک ایک کر کے تم مجھ سے چھین چکی ہو اس گھر میں جو کبھی میرا تھامیں اجنبی مہمانوں کی سی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ ۔ ۔ دیکھو تم عورت ہو ایک مظلوم عورت تم سے بھیک مانگتی ہے اس کو وہ تمام چیزیں بخش دو جو اتفاق سے تمہارے ہاتھ آ گئی ہیں۔
چپلا : (جذبات پر قابو پا کر)۔ ۔ ۔ آپ۔ ۔ ۔ آپ۔ ۔ ۔ اب میں آپ سے کیا کہوں، آپ ایک شریف عورت کو بدنام کر رہی ہیں۔
مسز بھاٹیہ : (چڑ کر)شریف عورت۔ ۔ ۔ آہ تمہاری شرافت۔ ۔ ۔ تم عورت نہیں ڈائن ہو۔ لیکن میں پوچھتی ہوں، کب تک تم ان چیزوں کو اپنی ملکیت بنائے رکھو گی۔ ۔ ۔ جن پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ کب تک تم اس گھر میں فساد برپا کئے رکھو گی۔ ۔ ۔ کب تک۔ ۔ ۔ کب تک۔ ۔ ۔ کب تک تم ان بجلیوں سے بچی رہو گی جو آکاش میں تم ایسی ناپاک عورتوں پر گرنے کے لئے تڑپتی رہتی ہیں۔
چپلا : (کوئی فیصلہ کرنے کے انداز میں)آپ کیا چاہتی ہیں۔ میں چاہتی۔ ۔ ۔
مسز بھاٹیہ :میں تمہارے منہ پر تھوکنا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ دنیا تمہارے وجود سے پاک ہو جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ جو دکھ تم نے مجھے دیئے ہیں۔ تمہارے حلق میں ہچکی بن کر اٹک جائیں۔ ۔ ۔ میں بہت کچھ چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ میں چاہتی ہوں کہ گوپال مجھے ماں کہے۔ میری بے چارگی دیکھو کہ میں کیا چاہتی ہوں۔
چپلا :گوپال کی ماں آپ کے سوا کون ہو سکتی ہے ؟
مسز بھاٹیہ :تم۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ جس نے میری مامتا پربھی قبضہ جما لیا۔
چپلا : (معنی خیز لہجے میں)مامتا چرائی نہیں جا سکتی۔ آپ نے خود کہیں کھو دی ہو گی۔
مسز بھاٹیہ :میں تم سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔ ایک سودا کرنا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ مجھ سے کچھ زیورات لے لو اور یہاں سے چلی جاؤ۔ ان سے کہہ دینا۔ ۔ ۔ میں اپنی مرضی سے جا رہی ہوں۔
چپلا :کیا اس سے آپ کا اطمینان ہو جائے گا۔
مسز بھاٹیہ : (خوش ہو کر) تومیں تمہیں زیور اور روپے لادوں۔
چپلا :جی نہیں، مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ آپ نے مجھے نوکر رکھا اور اب نکال دیا اس میں سودا کرنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے میں آج ہی چلی جاؤں گی اور یہ افسوس ساتھ لیتی جاؤں گی کہ آپ نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا۔ ۔ ۔ گوپال آپ ہی کا ہے۔ پرماتما کرے کہ وہ تندرست ہو جائے اور آپ کی گود ہری رہے۔
(کلاک چھ بجاتا ہے۔ )
مسٹر بھاٹیہ : (اپنی بیوی کو آواز دیتا ہے) پاربتی۔ پاربتی۔ ۔ ۔
مسز بھاٹیہ : (روکھے پن سے)کیا ہے ؟
مسٹر بھاٹیہ :چپلا کہاں ہے۔ بچے کو اس نے دوا کیوں نہیں پلائی؟
مسز بھاٹیہ :مجھے کیا معلوم۔ اپنے کمرے میں ہو گی۔
مسٹر بھاٹیہ :کیا کر رہی ہے ؟
مسز بھاٹیہ :اندر جا کے دیکھ لو۔
مسٹر بھاٹیہ :دیکھتا ہوں۔
(چلتا ہے اور دروازہ کھول کر دوسرے کمرے میں جاتا ہے۔ )
بھاٹیہ :چپلا، تم کیا کر رہی ہو۔ ۔ ۔ یہ اسباب وغیرہ تم نے کیوں باندھا ہے ؟
چپلا :میں جا رہی ہوں۔
بھاٹیہ :کہاں ؟
چپلا :جہاں سے آئی تھی۔
بھاٹیہ :کوئٹے میں بھونچال کے بعد، تمہارا کون باقی رہا ہے۔
چپلا :کہیں اور چلی جاؤں گی۔
بھاٹیہ :تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ گوپال کو چھوڑ کر کبھی نہ جاؤں گی۔ جانتی ہو۔ وہ تمہیں کتنا چاہتا ہے۔ ۔ ۔
چپلا :یہ اس کی غلطی ہے۔ اس کو اپنی ماں سے محبت کرنی چاہئے۔
بھاٹیہ : (تھوڑی دیر خاموش رہ کر)معلوم ہوتا ہے اس کی ماں سے تمہاری گفتگو ہوئی ہے لیکن اس سے تم نے یہ کہا ہوتا کہ ماں کو بھی اپنے بچے سے محبت کرنی چاہئے۔ ۔ ۔ تم نے اس سے پوچھا ہوتا کہ ماں بننے کا خیال اب ایکا ایکی اس کے دل میں کیوں پیدا ہو گیا ہے۔
چپلا :میں نوکر ہوں بھاٹیہ صاحب۔ ایسے گستاخانہ سوال میری زبان پر کبھی نہیں آ سکتے۔
بھاٹیہ :لیکن وہ عورت۔ ۔ ۔ لیکن وہ عورت۔ ۔ ۔ آہ۔ اس عورت نے مجھے کتنا تنگ کیا ہے۔ جب تم یہاں نہیں تھیں تو وہ سمجھتی تھی کہ میں نے باہر ہی باہر کئی عورتوں سے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اب تم یہاں ہو تو۔ ۔ ۔ تو اب میں تم سے کیا کہوں کہ وہ کیا سمجھتی ہے۔ ۔ ۔ میں بہت شرمندہ ہوں چپلا کہ میرے گھر میں تمہیں ایک بے وقوف عورت کے ہاتھوں دکھ پہنچا ہے۔
چپلا :انہیں شک ہے۔
بھاٹیہ :ہر چیز کوشک کی نظروں سے دیکھ دیکھ کراب وہ ناقابل برداشت حد تک شکی ہو گئی ہے۔ اس کی حالت قابل رحم ہے۔ وہ مریض ہے۔ وہم اس کو مرض بن کے چمٹ گیا ہے وہ لاعلاج ہے۔ شادی کے بعد دوسرے ہی ہفتے اس نے مہندی لگے ہاتھوں سے میرا منہ نوچنا شروع کر دیا تھا۔ میں ایک مصروف آدمی ہوں سارا دن دفتر میں سر کھپاتا رہتا ہوں یقین مانو تمہارے یہاں آنے سے پہلے میں گھر آتے وقت ڈرتا تھا بہت خوف کھاتا تھا اس کی دیوانگی کا اثر صرف میری ذات ہی پر ختم ہو جاتا تو شاید میں برداشت کر لیتا مگر اس کی بے وقوفیوں نے میرے بچے کا بھی ستیاناس کر دیا۔ اس کی عادات خراب ہو گئیں۔ میں نے پرماتما کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے تم جیسی دیوی کو میرے گھر بھیج دیا۔ تمہارے آنے سے میری بہت سی پریشانیاں دور ہو گئیں بچے کو تم نے سنبھال لیا۔ اس کو پیار و محبت کی ضرورت تھی اور تم نے دونوں ہی اپنا گرویدہ بنا لیا۔ مگر اب تم جا رہی ہو۔ ۔ ۔
چپلا :جی ہاں۔ جا رہی ہوں!
بھاٹیہ :ٹھیک ہے مگر میرے بچے کا کیا ہو گا۔ وہ عورت تو مجھے اور اسے دونوں کو اپنی حماقتوں سے ہلاک کر دے گی(وقفہ) تم نہیں جاؤ گی۔ ۔ ۔ تم یہیں رہو گی۔ آخر اس گھر پر تو کچھ میرا بھی حق ہے میرے منہ میں بھی تو زبان ہے۔ اب تک میں نے اپنے اختیارات سے کام نہیں لیا۔ لیکن اب مجھے لینا پڑے گا۔
چپلا :بھاٹیہ صاحب۔ آپ اس جھگڑے کو طول نہ دیجئے۔ ۔ ۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ میں اور ان میں میری وجہ سے کشیدگی پیدا ہو۔
بھاٹیہ :یہ کشیدگی اب پیدا نہیں ہوئی تمہارے آنے سے پہلے ہی اس گھر میں موجود تھی۔ ۔ ۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ ابھی کچھ دیر ٹھہر جاؤ گوپو اچھا ہو جائے تو کیا پتہ ہے کہ اس کی ماں بھی سمجھ جائے۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی باتوں سے تمہیں بہت دکھ پہنچا ہو گا اور ۔ ۔ ۔ اور تم کو زبردستی یہاں ٹھہرانے کا مطلب یہ ہے کہ مزید توہین برداشت کرنے کے لیے تمہیں مجبور کیا جائے۔ مگر ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ نہیں چپلا۔ تم نہیں جاؤ گی۔ تمہارے انکار سے ہمیں صدمہ ہو گا۔ ۔ ۔ کھول دو اپنا اسباب!
(دروازہ کھول کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ )
بھاٹیہ :پاربتی تمہیں یہ سن کر خوشی ہو گی کہ چپلا اب نہیں جائے گی۔ اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
مسز بھاٹیہ : (طنز بھرے لہجے میں) مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔
بھاٹیہ : اور دیکھو۔ اگر تم نے اس کی توہین کی یا اسے اپنی وہم پسند طبیعت کا نشانہ بنایا۔ ۔ ۔
مسز بھاٹیہ : (تیزی سے)تو۔ ۔ ۔ تو کیا ہو گا۔ ۔ ۔ تم مجھے دھمکاتے کیا ہو۔ کیا کرو گے تم۔ ۔ ۔ مجھے دھکے مارکر باہر نکال دو گے۔ ۔ ۔ مجھے مار ڈالو گے ؟ کیا کرو گے ؟
بھاٹیہ :میں ایک بار پھر تمہارے لیے دعا کروں گا۔
مسز بھاٹیہ :مگر تم اس عورت کو نہیں چھوڑو گے اس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھو گے۔ جو تمہارا دل نہ جانے کن اداؤں سے موہ چکی ہے جو کوٹھے میں بھونچال لا کر اب اس گھر میں زلزلہ برپا کر رہی ہے۔ مگر یاد رکھو۔ ۔ ۔
بھاٹیہ : (بلند آواز میں غصے کے ساتھ)پاربتی۔ اس بے۔ ۔ ۔ بے ہودہ بکو اس کو بند کرو۔ میں۔ ۔ ۔ میں۔ کچھ نہیں، پرماتما تمہاری حالت پر رحم کرے۔
(فرش پر اضطراب کے ساتھ ٹہلنے کی آواز)
بھاٹیہ :اب خوش ہو گئیں۔ کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔ ۔ ۔ وہ عورت جس نے تمہارے خیال کے مطابق نہ جانے کن اداؤں سے میرا دل موہ لیا ہے تمہارے بچے پر اپنی جان قریب قریب فنا کر چکی ہے۔ اس کی زندگی اور موت میں اتنا وقت بھی باقی نہیں کہ وہ تمہارے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر سکے۔ تمہیں کوئی بددعا ہی دے سکے۔
مسز بھاٹیہ :میرا کیا قصور ہے ؟
بھاٹیہ :تم نے ہر وقت اس کی توہین کی۔ اس کی ہر نیکی، ہر اچھائی کو تم نے اپنی لعنتی نظروں سے دیکھا۔ اف!جب میں اس کا تصور کرتا ہوں کہ تم نے ایک پاک اور معصوم عورت پر کیچڑ اچھالی ہے تو میری آتما کانپ کانپ اٹھتی ہے۔ مگر تمہاری آتما کہاں ہے ؟تمہارا ضمیر کہاں ہے۔ ۔ ۔ جاؤ، جاؤ، میری آنکھوں سے دور ہو جاؤ۔ ۔ ۔ تم قاتل ہو۔ تمہارے ہاتھ مجھے اس بے گناہ عورت کے خون میں آلود نظر آتے ہیں۔
(جاری ہے)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: