Mamta Ki Chori Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Last Episode 3

0

مامتا کی چوری از سعادت حسن منٹو – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

مسز بھاٹیہ :میرا کیا قصور ہے ؟
بھاٹیہ :تم نے ہر وقت اس کی توہین کی۔ اس کی ہر نیکی، ہر اچھائی کو تم نے اپنی لعنتی نظروں سے دیکھا۔ اف!جب میں اس کا تصور کرتا ہوں کہ تم نے ایک پاک اور معصوم عورت پر کیچڑ اچھالی ہے تو میری آتما کانپ کانپ اٹھتی ہے۔ مگر تمہاری آتما کہاں ہے ؟تمہارا ضمیر کہاں ہے۔ ۔ ۔ جاؤ، جاؤ، میری آنکھوں سے دور ہو جاؤ۔ ۔ ۔ تم قاتل ہو۔ تمہارے ہاتھ مجھے اس بے گناہ عورت کے خون میں آلود نظر آتے ہیں۔
مسز بھاٹیہ :کیا پتہ ہے بچ جائے۔
بھاٹیہ :اب وہ کیا بچے گی۔ ۔ ۔ ڈاکٹر جواب دے چکا ہے۔ تمہارے بچے کو موت سے بچا کروہ خود اس کے منہ میں چلی گئی ہے۔ ۔ ۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ کاش!میں نے اسے اسی روز جانے دیا ہوتا۔ میرا اس پر کوئی زور تو تھاہی نہیں مگر وہ میرے کہنے پر رضا مند ہو گئی اس لیے گوپو سے اسے پیار تھا۔ وہ پیار جو تمہارے دل میں ہونا چاہئے تھا۔ گوپو کو اس کے دل میں نظر آیا۔ وہ بچ گیا اور وہ موت جو تجھے آنا چاہئے تھی۔ اسے آ گئی۔
گوپال : (روتا ہوا آتا ہے) پتا جی، پتا جی۔ ۔ ۔ استانی جی کہاں ہیں ؟
بھاٹیہ :گوپال جاؤ۔ تم باہر کھیلو، تمہاری استانی بیمار ہے۔
گوپال :میں بیمار تھا تو میرے پاس بیٹھی رہتی تھیں۔ اب میں ان کے پاس بیٹھوں گا۔ پتا جی!
بھاٹیہ :ہاں، ہاں۔ ۔ ۔ لیکن تم اب باہر جاؤ۔
(گوپال چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ کچھ وقفے کے بعد)
مسز بھاٹیہ :مجھے اجازت ہو تو میں چپلا کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
بھاٹیہ :اس اجازت کی ضرورت تمہیں کیوں محسوس ہوئی۔ ۔ ۔ جاؤ۔ ۔ ۔ دیکھ آؤ۔ مگر تمہارے دیکھے سے کیا اس کا دل تمہاری طرف سے صاف ہو جائے گا۔ وہ خراشیں جو تم اس کے دل و دماغ پر پیدا کر چکی ہو۔ یوں ایک بار دیکھنے سے مٹ تو نہیں جائیں گی۔ ۔ ۔ جاؤ ممکن ہے وہ تمہیں معاف کر دے۔ تم نے اسے بہت دکھ پہنچایا ہے۔ میں تو خیر تمہاری حماقتوں کا عادی ہو چکا تھا۔ مگر ایک آفت رسیدہ عورت کے لیے جو اچھے دن دیکھ چکی ہو تمہاری ہیسٹریا کے دورے ناقابل برداشت تھے۔
(وقفے کے بعد دروازہ کھولنے کی آواز۔ ۔ ۔ مسز بھاٹیہ دوسرے کمرے میں جاتی ہے۔ )
مسز بھاٹیہ :چپلا۔ ۔ ۔ چپلا۔ ۔ ۔ میں آئی ہوں۔
چپلا : (مردہ آواز میں) آئیے۔ ۔ ۔ آئیے۔ ۔ ۔ مگر یہاں آپ کس جگہ پر بیٹھیں گی۔
مسز بھاٹیہ :میں یہاں تمہاری چارپائی پر بیٹھ جاؤ گی۔ ۔ ۔ تم اٹھنے کی کوشش نہ کرو۔ ۔ ۔ لیٹی رہو۔
چپلا :مگر ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ نہیں، نہیں، آپ کو میرے پاس نہیں بیٹھنا چاہئے۔ یہ بیماری چھوت ہے۔ نہیں، نہیں، آپ دور ہی کھڑی رہیں اور جلد ہی باہر چلی جائیں۔
مسز بھاٹیہ :مجھے کچھ نہیں ہو گا۔ اگر کچھ ہو بھی گیا تو مجھے افسوس نہ ہو گا۔ میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔
چپلا :معافی؟۔ ۔ ۔ کیسی معافی۔ ۔ ۔ آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔
مسز بھاٹیہ :میں نے غلط فہمی میں تم سے کئی بار ایسی باتیں کی ہیں جن سے یقیناً تمہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔ اب سوچتی ہوں اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتی تو میرے دل کی کیا حالت ہوتی۔
چپلا :میری جگہ پر آپ ہوتیں تو۔ ۔ ۔ تو یہ حالات نہ ہوتے۔ ۔ ۔ لیکن آپ میری جگہ پرکیوں ہوتیں ؟ہر ایک آدمی کے لیے ایک جگہ مقرر ہے۔ میرے لیے یہی جگہ مقرر تھی جہاں آ کر مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے پاپ کا پرایشچت کرنا تھا۔
مسز بھاٹیہ :پاپ۔ ۔ ۔ پرایشچت!
چپلا :میں اب سوچتی ہوں اگر یہاں سے میں اس روز چلی جاتی تو میرے من کی من ہی میں رہ جاتی۔ کوئی زمانہ تھا کہ میں بھی آپ ہی کی طرح تھی۔ میرا پتی تھا جو آپ کے پتی کی طرح بڑا شریف کاروباری آدمی تھا۔ مگر میری حاسد اور بات بات پر شک کرنے والی طبیعت کا برا ہو کہ میں نے اس کو ہمیشہ پریشان رکھا۔ وہ جی ہی میں کڑھتا تھا۔ میں ہر گھڑی اس کو جلی کٹی سناتی مگر وہ چپ رہتا۔ اس کو خاموش دیکھ کر میں سمجھتی۔ چونکہ یہ مجرم ہے اس لیے کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی۔ ۔ ۔
مسز بھاٹیہ :یہ تو میری ہی کہانی ہے۔ ۔ ۔
چپلا :گوپال جیسا میرا بھی ایک بچہ تھا اور میری طرح اس کی بھی ایک استانی تھی جس پر میں شک کرتی۔ کئی جھگڑے ہوئے میں نے اپنے پتی اور اپنی دونوں کی زندگی کو نرک بنا دیا تھا۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور اس کا انجام یہ ہوا کہ اس معصوم عورت نے جو میرے بچے کو مجھ سے زیادہ عزیز سمجھتی تھی کچھ کھا لیا اور مر گئی۔ اس کے بعد بھونچال آیا اور بچہ اور اس کا باپ دونوں ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہو گئے۔ لیکن اب۔ اب میں بھی ان کے پاس جا رہی ہوں۔
مسز بھاٹیہ : (اشک آلود آواز میں)نہیں، نہیں، تم زندہ رہو گی۔ میں تمہیں اپنی بہن بنا کے اپنے پاس رکھوں گی۔ عین اس وقت تک جب کہ میری آنکھیں کھلی ہیں تم ان سے اوجھل نہیں ہو سکتی ہو۔
چپلا :میں بہت خوش ہوں کہ اپنی آتما کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ میں نے ایک اچھا کام بھی کر دیا۔ ۔ ۔ بھاٹیہ صاحب اور آپ دونوں خوش رہیں۔ آپ کی زندگی پرماتما کرے سورگ بن جائے۔ ۔ ۔ لیکن آپ جائیے زیادہ دیر یہاں نہ ٹھہرئیے۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو۔ ۔ ۔
(آواز ڈوب جاتی ہے۔ )
مسز بھاٹیہ :چپلا۔ ۔ ۔ چپلا۔ ۔ ۔
(درد ناک سروں میں ساز بجتا ہے۔ مسز بھاٹیہ کے رونے کی آواز آتی ہے۔ )
(فیڈ آؤٹ)

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: