Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 1

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 1

–**–**–

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
آئی رت مستانی کب آئے گی تو
بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو
چلی آ تو، چلی آ
مین گیٹ پر نظریں ٹکائے وہ کب سے انتظار میں کھڑے تھے۔۔۔۔۔ شدید گرمی نے ان معصوموں کے چہرے جھلسا دیے تھے۔۔۔۔۔۔ اور انہیں اپنے ہینڈسم چہروں کی بےحد فکر تھی۔۔۔۔۔۔ مگر وقت تو ظالم بنا بیٹھا تھا
ایک آدھ غصیلی نظر وہ اس پر بھی ڈال لیتے جس کی وجہ سے وہ یہاں پاگلوں کی طرح آدھے گھنٹے سے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ سب سے بےنیاز سیگرٹ سلگائے مزے سے کش لگارہا تھا
’’یار!!!!کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔ اتنی دیر ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ اب تک ایک بھی۔۔۔۔۔ میرا مطلب ایک بھی حجابی لڑکی یہاں۔۔۔۔۔۔۔ اس گیٹ سے نہیں گزری۔۔۔۔۔۔ حد ہے یار‘‘ علی جھنجھلائے بولا
’’یار میں تو کہتا ہوں چھوڑو اس بیکار سی شرط کو۔۔۔۔۔ بھاڑ میں جھونکو۔۔۔۔ عبداللہ معافی مانگ لے گا آمنہ سے۔۔۔۔۔۔ چھوڑو یہ شرط‘‘ شام التجائی انداز میں بولا
’’ہرگز نہیں!!‘‘ عبداللہ اور علی دونوں بیک وقت چیخیں
دونوں نے ایک دوسرے کو زبردست گھوری سے نوازہ اور دونوں اپنے اپنے مشغلے میں مصروف ہوگئے۔۔۔۔۔ عبداللہ سیگرٹ پینے میں علی گیٹ کو گھورنے میں
’’آگئی!!!!‘‘ یکدم علی پرجوش سا چلایا جبکہ عبداللہ نے اسے ناگواری سے دیکھا اور پھر نظریں گیٹ کی طرف گھمائی جہاں حجاب میں موجود وہ معصوم چہرہ نظریں جھکائے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا
’’شکر ہے مل گئی ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ آج ان حجابی لڑکیوں نے سٹرائک کر رکھی ہے‘‘ علی شکر مناتے بولا
’’مگر یار یہ تو ہالا ہے‘‘ شام پریشان لہجے میں بولا
’’تو؟‘‘ علی نے آنکھیں گھمائی
’’علی وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی سب سے سنجیدہ اور لڑکوں سے دوری بنائے رکھنے والی لڑکی ہے۔۔۔۔ میں تو کہتا ہوں اسے ان سب میں مت گھسیٹوں‘‘ شام نے امید بھری نظروں سے عبداللہ کو دیکھا
’’شرط ، شرط ہوتی ہے احتشام صاحب۔۔۔۔۔ اور اب اگر عبداللہ پیچھے ہٹ گیا تو جیت میری ہوگی۔۔۔۔۔ اور یہ بات بھی واضع ہوجائے گی کہ سب لڑکیاں ایک جیسی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ تو پھر کہوں عبداللہ مانتے ہوں ہار اپنی‘‘ علی عبداللہ کی طرف جتاتی نظروں سے دیکھتے بولا
’’ہرگز نہیں!!‘‘ اپنی تیسری سیگرٹ جلاتے وہ نفی میں سر ہلائے بولا کیونکہ بات نہ صرف اس کے جھوٹا ہونے پر چلی جانی تھی مگر اسکی عزت۔۔۔۔ ایک لڑکی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے اور اب جان سے پیاری ہیوی بائیک کی بھی تھی
ہوا کچھ یوں تھا کہ عبداللہ ، علی اور احتشام تینوں کا گروپ یونی کے پہلے دن ہی بن گیا تھا اور اب دوستی پختہ ہوگئی تھی
عبداللہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں محبت پر یقین نہیں ۔۔۔۔ اسکے نزدیک بھلا یہ کیسی محبت ہوئی جس میں ایک لڑکی کو لڑکے کی امیری دیکھ کر۔۔۔۔۔۔ اور لڑکے کو لڑکی کی خوبصورتی دیکھ کر اس سے محبت ہوئی ہوں۔۔۔۔۔۔ اور ایسی محبت کا کیا فائدہ جس کو آخر میں ابا نہیں مان رہے یا اماں نہیں مان رہی کہہ کر دفن کردیا جائے اور وہ جس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتی تھی اسکے بغیر مزے سے زندگی گزار رہے ہوں۔۔۔۔۔۔ تو عبداللہ کے نزدیک محبت کا کوئی وجود نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے ایسی لڑکیوں سے سخت نفرت تھی جو ویسے تو ماں باپ کی عزت کا رونا روتی رہے اور پھر محبت۔۔۔۔۔ مطلب کے عبداللہ کی نظر میں کسی بھی لڑکے سے افئیر چلائے۔۔۔ اسکے نزدیک تمام لڑکیاں ایک سی تھی۔۔۔۔ انہیں بس پیسے سے مطلب ہوتا ہے۔۔۔ جہاں پیسہ زیادہ وہی انکی محبت۔۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ نفرت خودساختہ تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ تھی
اور وہ وجہ تھی عبداللہ کے محلے میں رہنے والی اسکی باجی جن سے وہ ٹیویشن پڑھنے جاتا تھا۔۔۔۔۔ وہ عین اپنی شادی والے دن گھر سے بھاگ گئی تھی کیونکہ جہاں انکی شادی ہورہی تھی وہ لوگ زیادہ امیر نہیں تھے جبکہ وہ لڑکا جس کے ساتھ وہ بھاگی تھی وہ ایک امیر کبیر خاندان کا چشم و چراغ تھا۔۔۔۔۔ عبداللہ کو تو یقین ہی نہیں آیا کہ اسکی وہ باجی جو ہمیشہ سر پر ڈوبٹا رکھتی۔۔۔ حجاب لیتی وہ ایسا کام کرسکتی تھی
مگر بعد میں نفرت مزید تب بڑھی جب اسکی ایک کلاس فیلو نے اسے گروپ سٹڈی کے نام پر اپنے گھر بلایا اور پھر اس پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ۔۔۔۔۔ وہ تو بھلا ہوں کمرے میں لگے کیمرے کا جو عبداللہ بچ گیا۔۔۔۔ مگر اب اسے لڑکیوں سے ایک چڑ سی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اور اس کے نزدیک ہر لڑکی اسکی ٹیویشن والی باجی اور اسکی کلاس فیلو سے کم نہیں تھی۔۔۔
جبکہ دوسری جانب علی محبت کا بہت بڑا علمبردار تھا۔۔۔۔۔۔ اسکے نزدیک محبت بہت معنی رکھتی تھی۔۔۔۔۔ وجہ اسکے ماں باپ تھے جن کی شادی محبت کی تھی۔۔۔۔ اور اس نے آج تک ان میں محبت ہی دیکھی تھی۔۔۔۔۔ علی کو بھی یوں ہی محبت ہوگئی۔۔۔۔ وہ انکی ہی جونیر تیسرے سمسٹر کی لڑکی آمنہ تھی جوکہ ہمیشہ حجاب میں رہتی تھی۔۔۔دونوں میں ملاقاتیں ہوئی اور پھر سلسلہ بڑھتے بڑھتے محبت تک جاپہنچا۔۔۔۔ مگر مسئلہ آمنہ کے ماں باپ تھے جو کاسٹ سے باہر شادی نہیں کرتے تھے۔۔۔۔ اسی سلسلے میں علی عبداللہ اور شام کو آمنہ سے ملوانے لایا تھا تاکہ وہ اسکے پیرنٹس کو کنوینس کرسکے۔۔۔ کیونکہ عبداللہ کے ڈیڈ کی کمپنی میں آمنہ کے والد صاحب نوکری کرتے تھے
’’تو تم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں؟‘‘ عبداللہ نے ابرو اچکائے سوال کیا جس پر دونوں سے سر اثبات میں ہلادیا
’’تو مس آمنہ مجھے آپ سے کچھ سوالات کرنے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر آپ مائنڈ نہ کرے‘‘ عبداللہ نے پوچھا تو آمنہ نے سر ہلایا
’’تمہاری عمر کیا ہے؟‘‘ عبداللہ کے سوال پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا
’’بیس!!!‘‘ آمنہ نے علی کو دیکھتے جواب دیا
’’اور تم علی کو کب سے جانتی ہوں؟‘‘
’’پچھلے چار مہینے سے‘‘
’’تمہیں یہ بات کب پتہ چلی کہ تمہاری اور علی کی کاسٹ الگ ہے؟‘‘
’’پہلی ملاقات سے‘‘وہ پھر سے ہچکچکا کر بولی۔۔۔۔۔ نجانے کیوں مگر اسے عبداللہ سے ایک ڈر سا لگ رہا تھا
’’تو مس آمنہ آپکی عمر بیس سال ہے۔۔۔۔ اور بیس سال کی لڑکی کوئی بچی نہیں ہوتی۔۔۔۔ تمہیں علی سے ملے چار مہینے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ اور تم پہلی ملاقات سے ہی یہ بات جانتی ہوں کہ تمہاری اور علی کی کاسٹ سیم نہیں اور یہ بھی کہ تمہارے ماں باپ تمہیں مار تو ڈالے گے مگر کبھی تمہاری شادی کاسٹ سے باہر نہیں کرے گے تو کیا سوچ کر تم نے علی سے ملاقاتیں بڑھائی اور پھر پیار و محبت کی داستان چھیڑی؟ آمنہ بی بی پیار محبت کے نام پر امیر لڑکوں سے پیسہ لوٹنے کا ٹرینڈ بہت پرانا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نیا ٹرائے کرو۔۔۔۔۔۔ اور ہاں یہ حجاب اوڑھ کر مس معصومہ بننے کی کوشش مت کیا کروں‘‘ لفظوں کے تیر چلاتا وہ یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے بیٹھی آمنہ کو اپنا آپ زمین میں گڑھتا محسوس ہوا۔۔۔۔ سہی تو کہہ رہا تھا وہ اسے معلوم تھا کہ وہ اور علی کبھی ایک نہیں ہوسکتے مگر یہ محبت تھی۔۔۔۔۔۔ ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔ اس پر کسی کا اختیار نہیں۔۔۔۔ مگر عبداللہ اس سچ سے کوسوں دور تھا
آمنہ کی اتنی زلالت پر عبداللہ اور علی میں ٹھیک ٹھاک جنگ ہوئی تھی جب علی نے عبداللہ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ایک حجابی لڑکی کو محبت کے جال میں پھنسائے اور پھر اس سچ کو سب کے سامنے لائے کہ وہ صرف پیسوں کے لیے اس کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔ اگر تو وہ لڑکی صرف پیسوں کے لیے عبداللہ کے ساتھ ہوئی تو علی آمنہ کو چھوڑ دے گا لیکن اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو اسے نا صرف اپنی پیاری ہیوی بائیک علی کو دینا ہوگی بلکہ آمنہ سے معافی بھی مانگنی ہوگی اور اسکی اور آمنہ کی مدد بھی کرنا ہوگی۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے بھی شرط کو قبول کیا
اب فیصلہ یہ ہوا تھا کہ یونی کے گیٹ سے جو بھی حجابی لڑکی سب سے پہلے اندر انٹر ہوگی عبداللہ کو اسے تین ماہ کے اندر اندر اپنی دولت اور محبت کے جال میں پھانسنا ہے۔۔۔۔ اسے مہنگے تحفوں سے اپنی طرف راغب کرنا ہے
حجابی لڑکی بھی اسی لیے چنی گئی کیونکہ عبداللہ نے آمنہ کے حجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا
اسی لیے وہ آدھے گھنٹے سے فرنٹ گیٹ پر نظریں جمائے کھڑے تھے۔۔۔۔ جب ہالا جو کہ انکی ہی بیج میٹ تھی وہ اندر داخل ہوئی
ہالا ایک سلجھی اور اچھی لڑکی تھی اور شام نہیں چاہتا تھا کہ دو دوستوں کی بےجا ضد اور انا میں وہ قربان ہوجائے مگر وہ بھی خاموش رہا۔۔۔۔۔ لیکن دل سے یہ دعا نکلتی رہی کہ اسے کبھی بھی عبداللہ سے محبت نا ہوں
جبکہ علی بھی اپنی جگہ خوش تھا کیونکہ ہالا کو وہ بہت اچھے سے جانتا تھا اور اسے معلوم تھا کہ عبداللہ اسے کبھی بھی اپنے جال میں نہیں پھانس سکے گا اور پھر اسے آمنہ سے معافی مانگنا ہوگی
اور تیسری طرف تھا عبداللہ جو اس پل کو کوس رہا تھا جب ہالا اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔ کوئی بھی اور لڑکی ہوتی مگر وہ نہیں۔۔۔۔۔ اسے ہالا ہمیشہ دوسری لڑکیوں سے علیحدہ لگی تھی اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکا احترام کرتا تھا۔۔۔۔ مگر وہ شرط ہار نہیں سکتا تھا وہ ایک عورت سے معافی ۔۔۔۔۔ وہ بھی ہاتھ جوڑ کر نہیں مانگ سکتا تھا
’’آئی ایم سوری ہالا۔۔۔۔۔ مگر یہ شرط میرے لیے بہت اہم ہے اور اسکو جیتنے کے لیے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔۔۔۔ کچھ بھی مطلب، کچھ بھی‘‘ خیالوں میں ہالا سے مخاطب ہوئے وہ سیگرٹ کے کش لگانے لگا۔۔۔۔
جبکہ چوتھی طرف موجود ہالا اپنے آنے والے بھیانک کل سے انجان تھی۔۔۔۔۔ وہ وجود اپنی زندگی میں آنے والے نئے طوفان سے بےنیاز تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: