Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 2

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 2

–**–**–

“ایکسکیوز می!مس ہالا” لائبریری کی جانب بڑھتی ہالا کو مخاطب کیا گیا۔۔۔۔ جس نے مڑ کر حیرانگی اور کچھ نا پسندیدگی سے سامنے کھڑے عبداللہ کو دیکھا
“جی؟” اسنے ایک ابرو اچکائے سوال کیا
اسکا انداز ہی ایسا تھا کہ کوئی بھی لڑکا اسے مخاطب کرنے پر جھجکتا
پوری رات عبداللہ نے اسے سوچتے گزاری مگر صبح تک وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ وہ اپنی شرط پوری کرے گا۔۔۔۔ عبداللہ کسی صورت بھی آمنہ سے معافی نہیں مانگ سکتا تھا۔۔۔ بات اب اسکی مردانگی، اسکی انا کی تھی۔۔۔۔ اور جب بات انا کی، ایک مرد کی انا کی آجائے تو سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔ عبداللہ کی نظر میں بھی اس وقت سب جائز تھا۔۔۔۔ اور پھر پوری رات جاگ کر وہ یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ ہالا بھی معصومیت کے لبادھے میں چھپی ایک شاطر لڑکی ہے اور وہ سب کے سامنے اسکی اصلیت لاکر رہے گا۔۔۔۔
“وہ۔۔۔۔وہ مجھے آپ کی مدد چاہیے؟” عبداللہ زرا سا ہچکچایا
“کیسی مدد؟” ہالا نہ آنکھیں چھوٹی کیے پوچھا
“وہ سٹاٹس میں مدد چاہیے۔۔۔ دراصل میرا میتھس کمزور ہے اور سٹاٹس بھی اچھے سے نہیں کرپاتا۔۔۔۔ اسی لیے” ہالا کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر وہ بہت مہذب طریقے سے بولا
“تو کیا آپ میری مدد کرے گی؟” اسنے معصوم چہرہ بنائےآس سے پوچھا
“نہیں” لمبی سانس کھینچے ہالا خود کو پرسکون کرتے بولی
“وجہ؟” عبداللہ کو اس پر غصہ تو آیا مگر ضبط کرگیا
“وجہ؟۔۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے سموکرز پسند نہیں خاص طور پر چین سموکرز۔۔۔۔ اور آپ تو ماشااللہ۔۔۔۔ اور ویسے بھی میرے نزدیک سیگرٹ پینے والے لوگوں کا کریکٹر کچھ خاص اچھا نہیں ہوتا۔۔۔ پھر چاہے وہ عورت ہوں یا مرد”اسکے سیگرٹ پینے پر ہالا نے چوٹ کی تو عبداللہ تلملا کر رہ گیا
“یہ کوئی بڑی وجہ نہیں کسی کو ناپسند کرنے کی۔۔۔ یا کسی سے نفرت کرنے کی” وہ دانت پیستے بولا
“میرے لیے تو یہ بہت بڑی وجہ ہے۔۔۔۔ جیسے آپ کو حجابیوں سے نفرت ہیں ۔۔۔ بلکل اسی طرح مجھے سموکرز سے ہیں۔۔۔۔ جیسے آپ کے نزدیک ہر حجابی لڑکی کردار کی ہلکی ہوتی ہے۔۔ بلکل اسی طرح میرے نزدیک سیگرٹ پینے والے تمام مرد کردار کے ہلکے ہیں۔۔۔۔ ہوپ سو کہ آپ کو میری بات سمجھ میں آگئی ہوگی” کہتے ہی وہ اندر جانے کو بڑھی جب ایک دم رکی اور عبداللہ کی جانب مڑی
“اور ہاں ایک اور بات۔۔۔۔ اپنی بےجا انا اور فضول کی شرط میں عورت کا استعمال کرنے والا مرد۔۔۔ میری نظر میں مرد کہلانے کے قابل نہیں۔۔۔۔تو آئندہ سے اپنی شرط اپنے تک ہی رکھیے گا۔۔۔ کسی بےضرر وجود کو اس میں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں” ہالا پرسکون لہجے میں بولتی عبداللہ کو چونکا گئی جو آنکھیں حیرت سے بڑی کیے اسے تک رہا تھا
“کیا؟ یہی سوچ رہے ہیں کہ مجھے کیسے پتہ چلا آپ کی اس فضول سی شرط کا؟ تو چلے اس بات کا بھی خلاصہ کردیتی ہوں۔۔۔۔ آمنہ میری دوست کی بہن ہے۔۔۔۔ آپ سے پہلے جانتی ہوں میں اسکے اور علی کے معملے کو۔۔۔۔۔اور ہاں ایک اور بات۔۔۔ وہ آمنہ نہیں تھی جس نے پہل کی آپ کا دوست تھا۔۔۔ بتایا نہیں اس نے۔۔۔۔ اور تیسری اور آخری بات اب اسے آپ اپنی بدقسمتی سمجھے یا میری خوش قسمتی کہ گیٹ سے اینٹر ہونے والی پہلی لڑکی میں تھی اور اس سے پہلے ہی آمنہ نے مجھ پر آپ کی اچھی اور پیاری سوچ واضع انداز میں بیان کردی تھی۔۔۔۔ مجھے افسوس ہوتا آپ جیسے مردوں پر۔۔۔ جو اپنی بےجا انا اور ضد میں ایک عورت کی قربانی دے دیتے ہیں۔۔۔ شاید آپ کے دل سے اللہ کا خوف اتر چکا ہے۔۔۔۔ امید ہے اب دوبارہ ملاقات نہیں ہوگی” صرف دس منٹ میں عبداللہ کی اچھی خاصی طبیعت صاف کرتی وہ لائبریری میں چلی گئی تھی جبکہ پیچھے کھڑا عبداللہ ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیگرٹ پر سیگرٹ پھونکتے وہ آدھے گھنٹے سے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ شام غور سے اسے دیکھ رہا تھا جس کے جبڑے بھینچے ہوئے تھے
ہالا کی باتیں دماغ پر ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھی۔۔۔۔ غصے سے اسکی دماغ کی رگیں تن گئی تھی
“تو اب شرط ختم؟” شام نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے پوچھا
عبداللہ نے گھور کر اسے دیکھا
“نہیں ہرگز نہیں۔۔۔۔ اب تو میں یہ شرط ضرور پوری کروں گا۔۔۔۔ اور اگر اس نیک بی بی کو اس چین سموکر سے محبت نہیں نا کروائی تو میرا نام بھی عبداللہ نہیں” کش پر کش لگاتا وہ اس قدر ٹھوس لہجے میں بولا کہ شام کو اس سے ڈر محسوس ہوا
“مگر ہالا نے کچھ غلط نہیں کہاں” شام نے کمزور سا احتجاج کیا۔۔۔ مگر عبداللہ کی گھوری پر منہ بند کرلیا
“لیٹس دا گیم سٹارٹ مس ہالا حسن۔۔۔۔ اینڈ آئی پرامس کے مجھے دیے گئے اس لیکچر کا اختتام اچھا نہیں ہونے والا تمہارے لیے” عبداللہ کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا
مسئلہ آمنہ سے معافی مانگنے کا نہیں تھا۔۔۔ مسئلہ لفظ “صحیح” تھا جو کہ عبداللہ کی نظر میں وہی تھا۔۔۔۔ اس دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ سائیکی ہوتی ہے کہ وہ جو بولے وہی صحیح ہے۔۔۔ باقی سب غلط ۔۔۔ عبداللہ بھی ان میں سے ایک تھا۔۔۔ اور اب ہالا کا اسے غلط ثابت کرنا یا اسکے جملوں کی تردید کرنا اسے برداشت نہیں تھا۔۔۔۔ اسنے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی یوں اسکو جھٹلائے گا۔۔۔۔ وہ تو ہمیشہ سے صحیح ہوتا تھا۔۔۔ بس یہی بات اسکے لیے ناقابل برداشت تھی۔۔۔۔ اور اسکی عقل پر پردہ پڑ چکا تھا۔۔۔ اور جب عقل ساتھ دینا چھوڑ دے تو بس ضد اور انا رہ جاتی ہے۔۔۔ جن کے فیصلے مان کر انسان ہمیشہ پچھتاتا ہے
“عبداللہ دیکھ میری بات مان ۔۔۔۔ چھوڑ دے اس بات کو۔۔۔ اور چھوڑ دے اس فضول شرط کو” شان نے اسے دوبارہ سمجھایا
“چھوڑ دیا” عبداللہ اچانک بولا جبکہ شام نے اسے حیرت سے دیکھا
“سچ میں؟” شام کو جیسے یقین نہیں ہوا
“سچ میں اور کل معافی بھی مانگ لوں گا آمنہ سے میں” عبداللہ ہلکی سی مسکان لیے بولا تو شام نے شکر ادا کیا
“بلیو می عبداللہ یہ تو نے ایک بہت اچھا فیصلہ لیا ہے۔۔۔ بہت اچھا میرے دوست۔۔۔چل میں علی کا جاکر بتاتا ہوں” شام اسے گلے لگاتا خوشی سے بولا اور وہاں سے چلا گیا
“شرط تو میں نے چھوڑ دی۔۔۔ مگر اب تمہیں نہیں چھوڑو گا میں ہالا حسن۔۔۔ سو بی ریڈی” اپنی سوچ میں اس سے مخاطب ہوتے وہ مسکراہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن عبداللہ نے ناصرف آمنہ سے معافی مانگی بلکہ ساتھ ہی ساتھ علی سے بھی معافی مانگی اور اس بات کا وعدہ بھی کیا کہ وہ ان دونوں کی مدد کرے گا اور آمنہ کے ابو کو راضی بھی کرے گا کہ وہ رشتے کے لیے ہاں کردے
“علی یہ آج سے تمہاری ہوئی” بائیک کی چابی اسکی طرف اچھالتے عبداللہ بولا تو علی نے مسکراہ کر اسے کیچ کیا اور سر کو زرا سا خم دیکر تحفہ وصول کیا
“اور آمنہ مجھے امید ہے میری اس دن کی بدتمیزی کے لیے تم مجھے معاف کردوں گی” عبداللہ اس قدر عاجزی سے بولا کہ وہاں موجود کسی بھی شخص کو اسکی ایکٹنگ پر شک ہی نہیں ہوا۔۔۔۔ آمنہ تو اسکے اس لہجے ہر نہال ہوگئی۔۔۔۔ اور سچے دل سے عبداللہ کی ہر بدتمیزی کو اسنے معاف کردیا
بظاہر تو عبداللہ پرسکون تھا مگر اسکے اندر جلتی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی بات کو فضول میں انا کا مسئلہ بنائے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھا
۔۔۔۔۔۔
“ہالا،ہالا۔۔۔۔ ایکسکیوز می مس ہالا” تیزی سے ہالا کے پیچھے بھاگتے عبداللہ نے اسے روکا جو مین گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی
“جی؟” اپنے پیچھے سے پکارنے کی آواز سن کر اسنے مڑ کر عبداللہ کو دیکھا جو اب اسکے سامنے آکھڑا ہوا تھا
“کیسی ہے آپ؟” اس نے شیریں لہجے میں پوچھا
“کیا یہ پوچھنے کے لیے آپ نے مجھے روکا؟” ہالا نہ زرا سخت لہجے میں پوچھا اسے عبداللہ کا یوں خود کو مخاطب کرنا اچھا نہیں لگا تھا
“نہیں۔۔۔ وہ دراصل بات کچھ اور ہے۔۔۔ وہ دراصل مجھے سمجھ آگیا” عبداللہ اسکے ہاتھوں اپنی بےعزتی پر کڑھ کر رہ گیا اوت بظاہر شیریں لہجہ اپنائے بولا
“اور کیا سمجھ آگیا ہے آپکو؟” ہالا نے تیکھے لہجے میں پوچھا
“یہی کہ ضروری نہیں کہ ہر بار آپ جو کہے وہ ہی سہی ہوں۔۔۔ کبھی کبھار آپ غلط بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔۔ اور میں جان چکا ہوں کہ میں غلط تھا۔۔۔۔ اور اپنے کیے پر آمنہ سے معافی بھی مانگی ہے اور اب وعدہ کیا ہے ان دونوں کی مدد کروں گا” عبداللہ ایک سانس میں پوری بات کہہ گیا جب اسنے ہالا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی
“اچھی بات ہے” ہلکی سی مسکراہٹ اسکی طرف اچھلاتے وہ دوبارہ سے گیٹ کی طرف مڑی جب پھر ست عبداللہ نے اسے پیچھے سے مخاطب کیا
“تو اب!!!!” عبداللہ اسکی طرف دیکھتے ہچکچا کر بولا
“تو اب کیا؟” ہالا نے بھی ویسے ہی سوال کیا
“تو اب آپ میری مدد کرے گی؟”
“کیسی مدد؟” ہالا نے حیرانگی سے پوچھا
“سٹاٹس میں۔۔۔۔ آپ کو پہلے بھی بتایا تھا میتھس کمزور ہے میرا” عبداللہ بےچارگی سی شکل بنائے بولا
“تو اسے واقعی میں مدد چاہیے” ہالا اسے دیکھ کر سوچنے لگی۔۔ کیونکہ پہلے اسے عبداللہ کا یہ ایک بہانہ لگا تھا اسے استعمال کرنے کا
“کل شام چار بجے لائبریری میں” اسکی مدد کرنے کی حامی بھرتے ہالا وہاں سے چلی گئی
“اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔ اب آئے گا مزا مس ہالا حسن” اسے جاتے دیکھ کر عبداللہ مسکرایا۔۔۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی رہیے۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: