Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 3

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 3

–**–**–

آج وہ پہلے سے ہی ہالا کا لائبریری میں انتظار کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بوریت سے وہاں بیٹھے سٹوڈنٹس کو خاموشی سے پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ پچھلے پندرہ منٹ سے اسنے سیگرٹ نہیں پی تھی اور بس!! اب طلب بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ خود کو قابو میں رکھے ہوا تھا
’’کیا بکواس ہے!!‘‘ زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے وہ بولا کیونکہ ہالا ابھی تک نہیں آئی تھی
’’سائلنس!!‘‘ لائبریرین اسکو گھورتے بولی جس پر عبداللہ نے بوریت سے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا
’’اوہوں۔۔۔اوہوں‘‘ اسے اپنے پاس سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ہالا شرمندہ سی مسکراہٹ لیے کھڑی تھی۔۔۔۔ عبداللہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک نظر وال کلاک پر ڈال کر پھر اسے گھورا۔۔۔ جیسے کہنا چاہ رہا ہوں’’ اب بھی آنے کی زحمت نہیں کرنی تھی‘‘
’’سوری!!‘‘ اسکی نظروں کا مطلب سمجھتے ہالا ہلکی آواز میں بولی اور ساتھ ہی کرسی کو آہستہ سے باہر نکالتے ہوئے وہ عبداللہ نے نامحسوس انداز میں تھوڑا دور بیٹھی ، مگر عبداللہ کی تیز نگاہوں سے یہ سب مخفی نہیں رہ سکا
’’اوور ایکٹریس‘‘ بظاہر چہرے پر مسکان سجائے اسے دیکھتے دماغ میں لقب سے نوازہ
’’تو شروع کرے؟‘‘ ہالا نے پوچھا تو عبداللہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
’’کیا؟‘‘
’’وہی جس کے لیے ہم یہاں موجود ہے۔۔۔۔۔ سٹاٹس‘‘ ہالا کہ بولنے پر وہ جو اسے دل میں دھیڑوں باتیں سنارہا تھا فورا ہوش میں آیا اور سر اثبات میں ہلادیا
’’شیور!!‘‘ دوبارہ سے زبردستی کا مسکراتا وہ بولا
ہالا نے اسے سمجھانا شروع کردیا جس پر وہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔۔ مگر دماغ میں کچھ پڑتا تو نا۔۔۔۔۔ اسے تو طلب محسوس ہورہی تھی سیگریٹ کی۔۔۔۔ شدید طلب
’’بس اب اور نہیں!!‘‘ مزید پندرہ منٹ گزرے تو وہ دونوں ہاتھ زور سے ٹیبل پر مارتا غصے سے اٹھ کھڑا ہوا
ہالا نے آنکھیں بڑی کیے حیرت سے، جبکہ لائبریرین نے آنکھیں چھوٹی کیے غصے سے اسے دیکھا جو لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔ ہالا بھی پیچھے شرمندہ سی وہاں موجود تمام لوگوں سے ایکسکیوز کرتی اسکے پیچھے بھاگی
جیسے ہی وہ لائبریری سے باہر نکلی اسنے حال کے اینڈ میں موجود جینٹس واشروم کے باہر اسے سیگرٹ پیتے دیکھا۔۔۔ ہالا کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا۔۔۔ مطلب کہ ایک تو وہ اسکی مدد کرنے کے لیے ایکسٹرا ٹائم یونی میں رکی اوپر سے جناب کے نخرے
’’یہ کیا تھا عبداللہ؟‘‘ غصے سے اسکے سر پر پہنچتی وہ بولی
’’تم سے مطلب؟‘‘ عبداللہ نے رخائی سے جواب دیا۔۔۔ بس آج کے لیے اتنی ایکٹنگ کافی تھی۔۔۔ اور اس میں ہمت نہیں تھی اوپر سے نشے کی طلب نے اسے مزید گھوما دیا تھا
’’حد میں رہیں۔۔۔۔ مت بھولیے کے وہ آپ ہوں جسے مدد چاہیے‘‘ ہالا اسکو انگلی دکھاتی دبے دبے غصے میں بولی
’’ہاں معلوم ہے۔۔۔۔ اب دفع ہوجاؤ‘‘ سیگرٹ کے کش لگاتا وہ رخائی سے بولا تو ہالا اپنی اتنی بےعزتی پر کلس کر رہ گئی
’’واہ!! مطلب کے ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘ ہالا طنز کرتے بولی مگر یہاں پرواہ ہی کسے تھی
’’ہوگیا ؟ اب جاؤ۔۔۔۔ فالتو کا دماغ مت چاٹو ۔۔۔۔۔ چلو شاباش نکلو‘‘ عبداللہ کی اس قدر بدتمیزی پر ہالا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ کیا یہ وہی عبداللہ تھا جو کل اتنی تمیز اور شرافت سے اس سے بات کررہا تھا۔۔۔۔۔ ہالا کا میٹر ہائی ہوگیا اسکی اس قدر بدتمیزی پر
’’یو نو واٹ۔۔۔۔ ایون آئی ڈونٹ کیر اباؤٹ یوں۔۔۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائے آپ‘‘ ہالا وہاں سے واک آؤٹ کرگئی جبکہ عبداللہ اب آرام سکون سے سیگرٹ پینے لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اوہ گاڈ یہ کیا کردیا میں نے۔۔۔۔۔ گدھا، بےوقوف، ایڈیٹ۔۔ کیا تھا اگر تھوڑی دیر اسکی کھچ کھچ سن لیتا۔۔۔۔ کوئی مر تھوڑی نہ رہا تھا میں۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔۔ اسکی سٹوپڈ زبان کو بھی تبھی اسکے سامنے اپنے جوہر دکھانے تھے۔۔۔۔ اتنی مشکل سے تو مانی تھی وہ۔۔۔۔۔ اب دوبارہ کوئی ڈرامہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ اوہ گاڈ۔۔۔۔۔ واٹ ربش‘‘
تین چار سیگرٹس اکٹھے پینے کے بعد اسے ہوش آیا۔۔۔ اور یاد بھی کہ وہ کتنی بڑی بےوقوفی کرچکا ہے۔۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی اسے یہ سب بکواس کرنے کی۔۔۔۔ کیا حرج تھی اگر وہ تھوڑی دیر خود پر قابو پالیتا۔۔۔۔۔ اور اب تب سے وہ خود کو صلوتیں سنا رہا تھا۔۔۔۔ کتنا افسوس تھا اسے ہالا کے ہاتھ سے نکل جانے کا۔۔۔۔۔۔ ابھی تو بدلے کا پہلا پڑاؤ، دوستی کرنے میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوا تھا کہ دوبارہ سے سب کچھ زیرو پر آگیا تھا
’’کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔ تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا میں‘‘ خیالوں میں اس سے مخاطب ہوئے وہ بولا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا کلاس میں داخل ہوئی تو پوری کلاس اسے دیکھ کر دبی آواز میں ہنسنے لگی۔۔۔۔۔ ہالا نے حیرت سے انہیں دیکھا اور پھر کندھے اچکا کر اپنی سیٹ کی طرف بڑھی۔۔۔۔ مگر یہ کیا سامنے ہی تازہ، سرخ گلابوں کا ایک بوکے اسکے انتظار میں تھا۔۔۔۔ ہالا کو حیرت ہوئی بوکے دیکھ کر جس میں ایک چھوٹا سا کارڈ بھی تھا۔۔۔۔۔ ہالا نے کارڈ نکال کر کھولا تو اندر ’’سوری‘‘ لکھا ہوا تھا
ہالا نے دوبارہ سے پوری کلاس میں نظریں دوڑائی جو معنی خیزی مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر ہالا کا پارہ ہائی ہونے لگا مگر اسنے اپنے اندر اٹھتے اشتعال پر قابو پایا اور بوکے ایک سائڈ کو کرکے خود اپنی جگہ پر آرام سکون سے بیٹھ کر وہ اپنا کوئیز ریوائز کرنے لگی
’’ایم سوری۔۔۔۔ رئیلی سوری‘‘ وہ جو نظریں کتاب پر جمائے بیٹھی تھی، بھاری مردانہ آواز پر سر اٹھایا تو سامنے عبداللہ شرمندہ سا کھڑا تھا
ہالا نے پرسکون طریقے سے نوٹس بند کیے اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھنے لگی
’’کس لیے سوری؟‘‘ ہالا نے ابرو اچکائے پوچھا
’’کل جو بدتمیزی کی تھی اسکے لیے‘‘ وہ شرمندہ سا بولا۔۔۔۔۔۔ چہرے پر اس قدر شرمندگی تھی کہ اگر وہاں کسی بھی موجود شخص کو اس بات کا علم ہوتا کہ یہ سب ایک ڈرامہ ہے تو عش عش کر اٹھتا
’’ٹھیک۔۔۔۔۔ آپ نے معافی مانگی، میں نے معاف کردیا۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔‘‘ ہالا ایک پل کو رکی
’’مگر؟‘‘ عبداللہ نے ہچکچا کرپوچھا
’’مگر آئیندہ ایسی حرکت کرنے کی ضرورت۔۔۔۔۔ آپ کو تو نہیں مگر مجھے میری عزت عزیز ہے۔۔۔۔ اور ایسی حرکتیں آپ کے ساتھ ساتھ میرا امیج بھی لوگوں کی نظروں میں خراب کردے گی‘‘ لال گلاب کے بوکے کی طرف اشارہ کرتے وہ سپاٹ لہجے میں بولتی، وہاں سے چلہ گئی، جبکہ عبداللہ ایک بار پھر اسکے انداز پر پیچ وتاپ کھا کر رہ گیا
’’سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔۔۔۔ کوئین ایلزبت جو اسکے پیچھے پیچھے گھوموں گا میں‘‘ منہ میں بڑبڑاتے اسنے ڈیسک سے بوکے اٹھایا اور کلاس سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
بوکے ہاتھ میں تھامے وہ تیزی سےراہداری عبور کرتا اپنی کلاس کی جانب جارہا تھا جب اسے ایک خالی کلاس میں سے کچھ آوازیں سنائی دی۔۔۔۔۔ وہ اگنور کردیتا اگر ان میں سے ایک آواز جانی پہچانی نہ ہوتی
’’ہالا؟‘‘ آواز پہچانتا وہ خود سے بولا
ایک جھٹکے سے دروازہ کھولے وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں اسنے دونوں وجودوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھا
’’میرا ہاتھ چھوڑو اسامہ‘‘ ہالا ضبط کی آخری منزل پر پہنچتے بولی
’’پلیز ہالا۔۔۔۔ میری بات تو سنو۔۔۔۔ میں واقعی میں شرمندہ ہوں‘‘ اسامہ منت کرتے بولا
’’کچھ نہیں سننا مجھے۔۔۔۔ چھوڑو مجھے‘‘ ہالا چلائی جبکہ اسامہ نے اسکی کلائی پر گرفت مزید مضبوط کردی
’’نہیں ۔۔۔۔ نہیں چھوڑو گا‘‘ اسامہ ضد کرتا سر نفی میں ہلانے لگا
عبداللہ کو یہی سہی وقت لگا ہالا کی گڈ بکس میں آنے کا
’’اسنے کہاں اسکو ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔ اور چھوڑنے کا مطلب چھوڑنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ پکڑنا‘‘ بوکے ایک سائڈ پر رکھتے وہ اسامہ کی طرف بڑھا اور آرام سے ہالا کی کلائی آزاد کروائی
’’تم اب جاسکتی ہوں‘‘ عبداللہ ہالا کو دیکھ کر مسکراہ کر بولا تو ہالا سر اثبات میں ہلاتی اپنی کلائی ملتی وہاں سے چلی گئی
’’یہ تم نے اچھا نہیں کیا‘‘ اسامہ عبداللہ کو گھورتے بولا
’’اوہ رئیلی۔۔۔۔۔۔ یو نو واٹ میں اس سے بھی زیادہ برا کرسکتا تھا۔۔۔۔ وہ تو شکر مناؤ کہ میرا موڈ اچھا تھا تو بچ گئے‘‘ اسامہ کو مسکراہ کر کہتے وہ وہاں سے تیزی سے نکلتا ہالا کہ پیچھے بھاگا جو اپنی کلاس میں جاچکی تھی
’’کوئی بات نہیں بعد میں سہی‘‘ مزے سے کندھے اچکائے وہ اپنی کلاس کی جانب چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہوتے ہی عبداللہ تیزی سے ہالا کی کلاس کی جانب بھاگا جب اسے ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل رہی تھی
عبداللہ نے اسے آواز دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا جب ہالا کہ رویے کے بارے میں سوچتا منہ بند کرگیا اور اسکے پیچھے بھاگا
’’سو وہ کون تھا؟‘‘ اسکے ساتھ برابر میں چلتے عبداللہ نے پوچھا
’’آپ سے مطلب‘‘ وہ سیدھ میں چلتے بنا اسکی طرف دیکھے بولی
’’ارے بتا دوں، بتا دوں مجھ سے کیسا شرمانا۔۔۔۔۔ بوائے فرینڈ تو نہیں کہی تمہارا؟‘‘ عبداللہ ہنستے بولا تو ہالا ایک دم رکی اور جن نظروں سے اس نے عبداللہ کو گھورا تھا وہ اسے اس بات کا احساس دلانے کو کافی تھی کہ وہ بہت بڑی بکواس کرچکا ہے
’’سوری کچھ زیادہ بول گیا‘‘ اسنے ایکسکیوز کی
’’کچھ زیادہ نہیں ، بہت زیادہ‘‘ ہالا اسے بولتے آگے بڑھ گئی
’’ارے وجہ تو بتاتی جاؤ‘‘ عبداللہ نے ہانک لگائی
’’اسی سے پوچھ لے‘‘ ہالا نے بھی پیچھے مڑے بنا جواب دیا
اسکی بات سن کر عبداللہ نے ہلکا مسکراہ کر سیگرٹ سلگائی
’’جو بھی ہے۔۔۔۔۔۔ لڑکی ہے کمال‘‘ وہ خود سے بڑبڑایا جب اسکی نظر اسامہ پر پڑی جو اسے ہی گھور رہا تھا
عبداللہ کش لگاتا اسکی طرف بڑھا اور اسکے سامنے آکھڑا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہممم۔۔۔۔۔۔ تو اسکا مطلب تم نے اپنی دوست پلس منگیتر کے ساتھ بےوفائی کی‘‘ عبداللہ ادھرسے ادھر چکر لگاتے بولا
جبکہ اسامہ سر ہاتھوں میں گرائے بینچ پر بیٹھا تھا
’’بس یار غلطی ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اب اسے منانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ محبت کرتا ہوں اس سے۔۔۔۔ بس ایک موقع دے دے وہ‘‘ اسامہ بےچارگی سے بولا
’’ویسے چھوڑنے کی وجہ؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا
’’یار!! وہ بندی ایک دم بورنگ ہے۔۔۔ نا کسی سے دوستی کرتی ہے۔۔۔۔ نا ملتی جلتی ہے۔۔۔۔ بس اپنی دنیا ، اپنی کتابوں میں مگن رہتی تھی۔۔۔۔ ایسے میں عائلہ میری لائف میں آئی۔۔۔۔۔ وہ مجھے اچھی لگی، میرے سٹینڈرڈ پر پورا اترتی تھی۔۔۔ لوگوں سے ملنے جلنے، گھلنے کا فن آتا تھا اسے۔۔۔ مجھے اس میں وہ سب کچھ نظر آیا جو ایک مرد کو اپنی لائف پارٹنر میں چاہیے ہوتی ہے۔۔۔۔۔ بس !!! مجھے ہالا ایک غلط فیصلہ لگنے لگی اور میں نے عائلہ کہ لیے اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔ مگر بعد میں احساس ہوا کہ ہالا میرے لیے کیا تھی۔۔۔۔۔۔ وہ صرف میری تھی، اسکا تمام وقت میرا تھا۔۔۔ جبکہ عائلہ مجھے بھی سب کے جیسا ڈیل کرتی۔۔۔۔۔ کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میں عائلہ کے لیے اسپیشل ہوں۔۔۔۔۔۔ اور اب عائلہ نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔ کسی اور کے لیے۔۔۔۔۔۔ تو بس اسی لیے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اسامہ بولا تو عبداللہ کو اس پر غصہ آنا لگے
اسے پہلی بار کوئی مرد مطلبی لگا۔۔۔۔۔ اسامہ کو اب بھی اپنی فکر تھی ہالا کا کیا۔۔۔۔۔۔ خیر عبداللہ کو بھی اس سے کیا
’’تمہیں ہالا واپس چاہیے؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا تو اسامہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا
’’مگر تم دونوں تو۔۔۔۔۔۔‘‘ اسامہ کچھ بولنے والا تھا
’’ہم دونوں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور جو ہے وہ کچھ الگ ہے۔۔۔۔ تم بس اتنا بتاؤ واپس چاہیے ہالا؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا تو اسامہ نے سر ہاں میں ہلادیا
’’تو بس ٹھیک ہے جیسا کہتا جاؤں ویسا کرتے رہنا‘‘ عبداللہ مسکراہ کر بولا
’’لیکن پلان کیا ہے؟‘‘ اسامہ نے ابرو اچکائے تو عبداللہ دھیرے دھیرے اسے سب سمجھانے لگا
’’مگر یہ تو ہالا کہ ساتھ غلط نہیں؟‘‘ اسامہ متفکر سا بولا
’’کیا غلط؟ کچھ غلط نہیں۔۔۔۔ دیکھ بھائی سمپل بات ہے۔۔۔۔ جن کے دل ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ موم ہوجاتے ہیں اور موم کو اپنی من پسند شکل میں ڈھالنا بہت آسان ہے۔۔۔۔ سو اسی لیے پلان سمپل ہے۔۔۔۔ میں ہالا کو خود سے محبت پر مجبور کردوں گا اور ایٹ دی اینڈ اسے چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔ بس اسی وقت تم سٹوری میں اینٹر ہونا اور ہالا کو اپنی محبت کا یقین دلانا۔۔۔۔ میرا بدلا پورا اور ہالا تمہاری۔۔۔۔۔۔ اور ہم دونوں اپنی اپنی لائف میں سیٹ۔۔۔ اور میں یہ بات بھی واضع کردوں گا کہ کسی کہ بچھڑ جانے سے کسی کی جان نہیں جاتی‘‘ اسامہ کو آئیڈیا کچھ خاص اچھا تو نہیں لگا مگر ہالا کو واپس حاصل کرنے کے لیے اتنا ڈرامہ تو چل سکتا تھا اور آخر میں تو سب ٹھیک ہوجانا تھا۔۔۔۔ اسی لیے اسامہ نے بھی حامی بھر دی
دونوں مرد صرف اپنے بارے میں سوچ رہے تھے۔۔۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر واقعی ہالا حسن کو عبداللہ سے محبت ہوگئی۔۔۔۔ تو کیا وہ برداشت کرپائے گی یہ دھوکا۔۔۔۔۔ کیا وہ اسامہ کے ساتھ آگے بڑھ سکے گی۔۔۔ مگر نہیں وہ تو بس حجاب کے ہالے میں موجود ایک مکروہ چہرہ تھا۔۔۔۔ جس کی اصلیت کو عبداللہ کو سب کے سامنے لانا تھا۔۔۔۔۔ مگر اس دل کا کیا جس میں عبداللہ کو ابھی دھڑکنا تھا۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔ محبت تو ہوتی ہی نہیں نا۔۔۔۔۔۔ یہ تو بس بکواس ہے۔۔۔۔ اس میں سچ تو کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: