Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 4

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 4

–**–**–

آج موسم بہت خوشگوار تھا۔۔۔۔ اور اوپر سے دو لیکچرز بھی فری تھی سو ہالا گارڈن میں بیٹھی اپنی پریزنٹیشن تیار کرنے لگ گئی۔۔۔۔ آج وہ لائبریری نہیں گئی تھی۔۔
کل اسامہ سے ملاقات کے بعد وہ بہت ڈسٹرب ہوگئی تھی مگر پھر خود کو اس نے سنبھال لیا تھا۔۔۔۔ جب اسنے بنا ہالا کی کسی غلطی کے اسے چھوڑ دیا تو وہ اب اسے کیوں اپناتی
ساری فضول کی سوچوں کو ایک طرف رکھتے وہ پوری طرح پریزنٹیشن میں مصروف تھی جب اسے کسی نے پکارا
’’ہالا!!‘‘ ہالا نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تو اسامہ ہاتھ میں چاکلیٹس کا باکس لیے کھڑا تھا
اسے دیکھ کر ہالا کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔۔۔۔ اسنے جلدی سے سامان سمیٹا اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی
’’ہالا میری بات سنو۔۔۔۔ دیکھو جو ہوا اسے بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔ ایم سوری۔۔۔۔۔ پلیز ہالا۔۔۔۔۔ ہالا میری ایک بار بات تو سن لوں‘‘ ہالا کے پیچھے پیچھے آتا وہ بول رہا تھا جبکہ ہالا نے مزید تیزی سے چلنا شروع کردیا ۔۔۔۔ وہ دونوں اب روڈ پر آگئے تھے۔۔۔ آس پاس کے سٹوڈنٹس حیرانگی سے انہیں دیکھ رہے تھے
ہالا نظریں نیچے کیے تیزی سے وہاں سے نکل رہی تھی جب اپنی طرف آتی کار کو دیکھ نہیں پائی ، اس سے پہلے ہالا اس سے ٹکراتی وہی کھڑے عبداللہ نے تیزی سے اسے پیچھے کو دھکیلا اور خود کار کے سامنے آگیا
ہالا تو ایک پل کو کچھ سمجھ نہیں پائی مگر جب عبداللہ کو وہاں خون میں دیکھا تو اسکی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوگئی اور ٹانگیں کانپنے لگ گئی۔۔۔۔۔۔ اسنے الٹے پاؤں قدم لیے اور تیزی سے وہاں سے بھاگ گئی
علی اور احتشام فورا عبداللہ کو ہسپتال لیکر گئے تھے۔۔۔۔ اسے زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھی ہاں مگر پاؤں کی ہڈی اپنی جگہ سے ہل گئی تھی
ڈاکٹر نے اسے سر اور پاؤں کی مرہم پٹی کردی تھی
’’ویسے تو یہ ٹھیک ہے۔۔۔ مگر ان کے پاؤں میں چوٹ کی وجہ سے انہیں ایک ویک کی ریسٹ کی ضرورت ہے‘‘ ڈاکٹر کی بات پر انہوں سے سر اثبات میں ہلادیا
عبداللہ کو رات تک ہسپتال میں ہی رکھا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا کو رہ رہ کر عبداللہ کا خیال آرہا تھا۔۔۔ وہ اپنے باقی کے لیکچرز بھی غور سے نہیں سن پائی تھی۔۔۔۔ آخری لیکچر لیے بنا وہ کلاس سے نکل آئی تھی جب اسے آمنہ عجلت میں جاتی نظر آئی
’’آمنہ رکو کہاں جارہی ہوں؟‘‘ اسے ٹینشن میں دیکھ کر ہالا نے پوچھا
’’وہ ہالا باجی عبداللہ بھائی کو چوٹ لگی ہے۔۔۔۔ وہ ہوسپٹل میں ہے تو بس انکی خیریت پوچھنے جارہی ہوں۔۔۔۔۔۔ آپ جانتی ہے ابا کو وہ گھر سے جانے کی اجازت نہیں دیتے اور کل عبداللہ بھائی گھر چلے جائے گے تو اچھا ہے نا کہ ابھی مل آؤں‘‘ آمنہ کی بات سن کر ہالا کو بھی یہی سہی موقع لگا عبداللہ سے ملنے کا
’’رکو آمنہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں‘‘ ہالا کہتی اسکے ساتھ چلی گئی
راستے وہ آمنہ کو بتاچکی تھی کہ عبداللہ کا ایکسیڈینٹ اسکی وجہ سے ہوا تھا اور وہ اب اسکا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔۔۔ جاتے ہوئے وہ اسکے لیے بوکے بھی خرید چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوسپٹل پہنچ کر آمنہ علی کی طرف بڑھی جبکہ ساتھ آتی ہالا کو دیکھ کر وہ دونوں چونکے جب آمنہ نے انہیں سب بتایا
ہالا عبداللہ کے ساتھ ساتھ ان دونوں سے بھی شرمندہ تھی اور معافی بھی مانگی جب انہوں نے کھلے دل سے اسے معاف کردیا
’’میں عبداللہ سے مل سکتی ہوں۔۔۔۔۔ اگر آپ لوگ مائنڈ نہیں کرے تو؟‘‘ ہالا کے پوچھنے پر انہوں نے اسے اجازت دے دی
روم میں داخل ہوتے ہی اسنے عبداللہ کو دیکھا جو موبائل یوز کررہا تھا جبکہ بائیں ہاتھ اور پاؤں پر پٹی بندھی تھی
ہالا کو نئے سرے سے احساس ندامت نے گھیر لیا تھا
اسکے پاس جاکر اس نے ہلکا سا گلہ کھنکھار اسے متوجہ کیا ۔۔۔۔۔ جبکہ عبداللہ ہالا کو دیکھ کر چونکا
’’السلام علیکم‘‘ اسکے بیڈ کے پاس پڑے سٹول پر بیٹھتے وہ بولی
’’وعلیکم السلام!!‘‘ عبداللہ نے حیرت سے اسے تکتے جواب دیا
’’وہ یہ آپ کے لیے‘‘ بوکے اسکی جانب بڑھاتے وہ بولی۔۔۔ جبکہ عبداللہ نے مزید حیرت سے بوکے پکڑ لیا
’’وہ سوری‘‘ نظریں نیچی کیے وہ بولی
’’سوری مگر کیوں؟ُ‘‘ عبداللہ سمجھ تو چکا تھا مگر پھر بھی جان بوجھ کر پوچھا
’’وہ آپ کا ایکسیڈنٹ میری وجہ سے ہوا۔۔۔۔۔ نہ میں بےدھیانی میں چلتی اور نہ یہ سب کچھ ہوتا‘‘ نظریں ابھی بھی نیچی تھی
’’تم نے معافی مانگی۔۔۔۔ میں نے معاف کردیا۔۔۔۔ مگر۔۔‘‘ عبداللہ رکا
’’مگر کیا؟‘‘ ہالا نے حیرت سے پوچھا
’’آئیندہ ایسی حرکت مت کرنا۔۔۔ وہ کیا ہے نا تمہیں تو نہیں مگر مجھے اپنی عزت بہت عزیزہے۔۔۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تم کچھ ایسا کروں جس کی بنا پر لوگوں کی نظروں میں تمہارے ساتھ ساتھ میرا امیج بھی خراب ہوں‘‘ بوکے کی طرف اشارہ کرتے وہ ایک ہی وار میں حساب چکتا کرگیا تھا۔۔۔۔ جبکہ ہالا کو مزید شرمندگی ہوئی
’’بائے دا وے تم اب جاسکتی ہوں۔۔۔۔ سوری بھی بول دیا۔۔۔۔۔۔ بوکے بھی دے دیا۔۔۔۔۔ اب کچھ اور رہتا ہے؟‘‘ عبداللہ نے سوال کیا
’’نہیں۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہاں۔۔۔۔ وہ آپ نے میری جان بچائی۔۔۔۔۔ مجھ پر آپ کا احسان ہے۔۔۔۔۔ مگر میں اسے لوٹانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ آپ کو کوئی فیور دینا چاہتی ہوں‘‘ ہالا کی خوداری پھر سے جاگی
’’ویسے ایک فیور کرسکتی ہوں تم‘‘ بہت دیر سوچنے کے بعد عبداللہ اچانک بولا
’’کیا؟‘‘ ہالا نے پوچھا
’’ارے وہی۔۔۔۔ سٹاٹس۔۔۔۔ بتایا تھا نا کہ میتھس کمزور ہے میرا‘‘ عبداللہ بولا تو ہالا نے شکر ادا کیا کہ فیور اتنا بڑا نہیں تھا
’’مگر ایک شرط ہے میری‘‘ عبداللہ پھر سے بولا
’’کیسی شرط؟‘‘ ہالا نے پریشانی سے پوچھا
’’تم مجھے سٹاٹس لائبریری میں نہیں بلکہ یونی کے گراؤنڈ میں کرواؤ گی۔۔۔۔ وہ کیا ہے نا کہ بند جگہ پر دم گھٹتا ہے میرا۔۔۔۔ اور ہاں کیونکہ میں ایک چین سموکر ہوں تو تمہیں ایڈجسٹ کرنا ہوگا‘‘ ہالا کو سیگرٹ پسند نہیں تھی مگر وہ عبداللہ کا احسان رکھ بھی نہیں سکتی تھی اسی لیے فورا سر اثبات میں ہلایا اور بوکے اٹھائے وہاں سے نکلنے کو تھی جب عبداللہ نے پکارا
’’ارے اسے تو رکھتی جاؤ‘‘عبداللہ نے پیچھے سے ہانک لگائی
’’معاف کیجیے گا مگر میں ایسا کوئی کام نہیں کرسکتی جس کی بنا پر میرے ساتھ ساتھ لوگوں کی نظروں میں آپ کا امیج بھی خراب ہوں‘‘ اسے جواب دیتی وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی جبکہ عبداللہ ہنس دیا
’’واقعی میں لڑکی ہے کمال‘‘ وہ خود سے بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعدہ کے مطابق آج عبداللہ ہفتے بعد یونی آیا تھا اور ہالا اب اسے گراؤنڈ میں بیٹھی سٹاٹس سمجھا رہی تھی۔۔۔۔۔ ہالا کو اتنا تو معلوم ہوچکا تھا کہ سیگرٹ عبداللہ کی محبت ہے۔۔۔۔۔۔ وہ تقریبا آدھے گھنٹے سے سٹاٹس کررہے تھے جبکہ یہ عبداللہ کی چوتھی سیگرٹ تھی مگر ہالا مجبوری میں اسے کچھ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔ ہاں پانی کی ایک بوتل اسکے پاس تھی جس میں سے منٹ دو منٹ بعد وہ ایک گھونٹ لے لیتی
عبداللہ اسکی حالت بخوبی سمجھ رہا تھا اور اسکی حالت سے مزے بھی لے رہا تھا۔۔۔۔ مگر اس سب عرصے میں عبداللہ کے سٹاٹس کے وہ کویسچنز بہت اچھے سے سمجھ آگئے تھے تو اسے ٹیچرز سے بھی سمجھ نہیں آئے تھے
’’بس آج کے لیے اتنا کافی ہے‘‘ ایک پورا چیپٹر کروانے کے بعد وہ بولی
وہ دونوں اپنا سامان سمیٹ رہے تھے جب عبداللہ نے اپنی چھٹی سیگرٹ سلگھائی
’’یہ صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی‘‘ وہ سیگرٹ کی طرف اشارہ کرتی بولی
’’ہاں معلوم ہے‘‘ وہ مزے سے کندھے اچکائے بولا
’’تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘ ہالا نے حیرانگی سے پوچھا
’’بس ایک عادت سی ہوگئی ہے۔۔۔۔ اور بری عادتیں جلدی چھوٹتی نہیں‘‘ اسنے وجہ پیش کی
’’اپنے لیے نہ سہی ان کے لیے چھوڑ دے جنہیں محبت ہے آپ سے‘‘ ہالا بولی
’’جیسا کہ؟‘‘ عبداللہ نے جانچنا چاہا
’’جیسا کہ آپ کے گھر والے۔۔۔ آپ کے ماں باپ۔۔۔ بہن بھائی‘‘ ہالا نے جواب دیا تو عبداللہ کے چہرے پر ایک سایہ لہرا گیا
’’میرا کوئی نہیں‘‘ وہ زرا سخت لہجے میں بولا
’’مگر کوئی تو۔۔۔‘‘
’’کہاں نا کوئی نہیں ہے‘‘ اب کی بار وہ اسکی بات درشتی سے کاٹتے بولا تو ہالا نے بھی منہ بند کرنا مناسب سمجھا
’’میں چلتا ہوں اللہ حافظ‘‘ عبداللہ فورا وہاں سے نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا کو عبداللہ کو سٹاٹس کرواتے ایک مہینہ ہوچکا تھا اور اب انکے ساتویں سمسٹر کے مڈز تھے
’’اففف پتہ نہیں کیا ہوگا‘‘ آج سٹاٹس کا پیپر تھا اور عبداللہ کو شدید ٹینشن تھی
’’عبداللہ تیاری کیسی ہے آپ کی؟‘‘ ہالا نے اسے پوچھا جس کی شکل پر ہی بارہ بجے ہوئے تھے
’’پتہ نہیں‘‘ وہ ناخن چباتے بولا
’’بری بات‘‘ اسکی انگلیوں پر وہ پین مارتے بولی تو عبداللہ نے اسے گھورا
’’فکر مت کرے پیپر انشااللہ اچھا ہوگا۔۔۔‘‘ ہالا مسکرا کر بولی
’’اور تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ عبداللہ نے اسے گھورا
’’میں دعا کی تھی اللہ سے آپ کے لیے۔۔۔۔۔ اور اللہ اپنے بندوں کی دعائیں رد نہیں کرتا‘‘ ہالا مسکرا کربولی تو یکدم عبداللہ نے اسے دیکھا جو اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی
’’چلے ٹائم ہوگیا ہے ۔۔۔۔ میرا بھی پیپر شروع ہونے والا ہے‘‘ کہتے ہی وہ اپنی کلاس میں چلی گئی
پیپر نارمل تھا۔۔۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ عبداللہ کو تقریبا سارا پیپر آتا تھا اور اسنے ٹائم پر ہی پیپر پورا کرلیا تھا۔۔۔۔۔ بس ایک دو سوال تھے جو نہیں آتے تھے سو چھوڑ دیے
باقی تمام پیپر اچھا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ باہر نکلا تو اسنے ہالا کو پانی کی بوتل پکڑے گراؤنڈ میں جاتے دیکھا وہ مسکرا کر اسکے پیچھے بھاگا مگر گراؤنڈ میں تو ماحول ہی کچھ اور تھا۔۔۔۔ آمنہ روئے جارہی تھی، جبکہ ہالا اسے چپ کروانے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔۔۔ جبکہ ایک طرف علی مضطرب سا تھا اور احتشام اسے کچھ کہہ رہا تھا
’’کیا ہوا؟‘‘ عبداللہ نے ہالا کو ایک طرف آنے کا اشارہ کرتے پوچھا
’’وہ آمنہ کے ابو نے اسکا رشتہ اسکے کزن سے طے کردیا ہے بنا اسکی مرضی پوچھے‘‘ ہالا نے افسوس سے آمنہ کو دیکھ کر عبداللہ کو بتایا
عبداللہ نے شکر کا سانس لیا۔۔۔ اس تو لگا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔۔ مگر یہاں تو معاملہ تو کچھ اور تھا
’’یہ تو ہونا تھا‘‘ عبداللہ آرام سے کندھے اچکائے بولا
’’عبداللہ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے ہالا کچھ کر پاتی عبداللہ قدم بڑھاتا آمنہ کے سامنے جاکھڑا ہوا
’’کیا تم واقعی میں علی سے محبت کرتی ہوں؟‘‘ آمنہ کے سر پر کھڑے ہوکر اسنے سوال کیا تو آمنہ سے سر ہاں میں ہلادیا
’’تو جاؤ اور اپنے ابو کو بتاؤ کہ تم کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ تمہیں ان کی پسند پسند نہیں‘‘
’’میں یہ نہیں کہہ سکتی‘‘ آمنہ نے ہلکی آواز میں بولے سر نفی میں ہلایا
’’کیوں جب محبت کی ہے تو ہمت بھی کروں‘‘ عبداللہ کا لہجہ اب زرا سا سخت ہوا تھا
’’تم جاننا چاہتے تھے نا علی کے مجھے محبت پر یقین کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔ تو یہ رہی وجہ‘‘ اسنے آمنہ کی جانب اشارہ کیا
’’مجھے محبت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔۔۔۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ محبت کرنے والے بزدل نہیں ہوتے، کمزور نہیں ہوتے‘‘ علی اور آمنہ دونوں کو گھورتا وہ بہت کچھ جتا چکا تھا جب دونوں نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی
ہالا نے آج پہلی بار عبداللہ کو غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ اسے عبداللہ کی کہی ہر بات سچ لگی تھی۔۔۔۔۔ وہ غور سے اسے دیکھ رہی تو جو اب نجانے ان دونوں کو کیا سمجھا رہا تھا۔۔۔۔ ہالا تو بس اسے دیکھے جارہی تھی
’’کہاں کھوگئی محترمہ؟‘‘ عبداللہ نے اسکے سامنے چٹکی بجاتے پوچھا
’’ہاں؟ نہیں کہی نہیں‘‘ ہالا نے سر نفی میں ہلایا اور نظریں جھکا لی
’’سب کہاں گئے؟‘‘ ہالا نے وہاں کسی کو نا پاکر پوچھا
’’چلے گئے‘‘ عبداللہ نے حیرانگی سے جواب دیا
’’کب؟‘‘ ہالا بھی حیران ہوئی
’’تب شائد جب تم کسی کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی‘‘ عبداللہ ہنسا
’’نن۔۔۔۔۔نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں‘‘ ہالا ہکلائی
’’ریلیکس ہالا۔۔۔۔۔۔ ‘‘ عبداللہ بولا
’’ہالا؟‘‘ اچانک اس کے کانوں سے اسامہ کی آواز ٹکڑائی۔۔۔۔۔ ہالا نے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں غصہ آنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے غور سے اسکی آنکھوں کے بدلتے رنگ کو دیکھا
’’چلے؟‘‘ اس نے عبداللہ سے پوچھا، اسامہ کو اس نے اگنور کردیا تھا
’’ہالا بات سنوں میری۔۔۔۔ آج تمہیں سننا ہوگا مجھے۔۔۔۔۔ سنے بغیر نہیں جاؤ گی تم‘‘ ایک دم اسامہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا
’’ہاتھ چھوڑو میرا‘‘ ہالا دانت پیستے بولی
’’نہیں پہلے مجھے سنوں‘‘ اسامہ کی پکڑ سخت ہوئی
’’میں نے تمہیں پہلے بھی کہاں تھا کہ چھوڑنے کا مطلب چھوڑنا ہوتا ہے۔۔۔۔ پکڑنا نہیں‘‘ اسامہ کے ہاتھ سے ہالا کی کلائی آزاد کرواتے عبداللہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔ اور نجانے نظروں ہی نظروں میں کیا کہاں کہ اسامہ وہاں سے آرام سے چلا گیا
’’چلے؟‘‘ ہالا کے پاس آکر اسنے پوچھا تو اسنے سر اثبات میں ہلادیا
وہ دونوں چلتے ہوئے اب پارکنگ کی طرف آگئے تھے جہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
مڈز کی وجہ سے سب سٹوڈنٹس جاچکے تھے۔۔۔۔۔ اپنی کار کی جانب بڑھتے دونوں اپنی منزل کی جانب رواں ہوچکے تھے
ابھی ہالا کو جاتے آدھا سفر ہی ہوا تھا جب دو نقاب پوش نے اسکی گاڑی رکوائی اور گن پوائنٹ پر اسے باہر نکالا۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت سڑک بلکل سنسان تھی
’’چلوں محترمہ جو کچھ بھی ہے باہر نکالو‘‘ ان دونوں میں سے ایک نے ہالا کے سر پر گن رکھی جبکہ دوسرے نے کار بند کرکے چابی نکال لی
ہالا انہیں سب کچھ دیکھ چکی تھی جب ان کی نظر ہالا کی چین پر پڑی
’’یہ بھی نکالو‘‘ وہ بولا
’’نہیں یہ نہیں دوں گی‘‘ ہالا بولتی پیچھے ہونے لگی
’’تیری نا کی تو ایسی کی تیسی‘‘ کہتے ہی وہ ہالا کی جانب بڑھا جب ہالا کی چیخ ہوا میں بلند ہوئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: