Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 5

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 5

–**–**–

ہالا کی چیخ بلند ہوتے ہی ان میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر اتنی زور سے طمانچہ مارا تھا کہ وہ اوندھے منہ زمین پر جاگری
قسمت سے عبداللہ کا گزر بھی اسی راہ سے ہوا تھا جب اسنے ہالا کی گاڑی دیکھ کر اپنی کار کی سپیڈ سلو کردی مگر آگے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں لہولہان ہوگئی تھی۔۔۔۔ ہالا کا وجود زمین پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا جبکہ اب وہ دونوں اسکی جانب بڑھ رہے تھے
عبداللہ نے فورا سے کار روکی اور تیزی سے نکلتے اسکی طرف بھاگا
“چھوڑو اسے” وہ ان دونوں پر جھپٹا اور ہالا سے دور کیا ۔۔۔۔ ایک آدمی زمین پر دور جاگرا جبکہ دوسرےنے خود کو سنبھالتے عبداللہ پر جوابی کاروائی کی تھی۔۔۔۔ عبداللہ اس سے لڑنے میں مصروف تھا جب دور گرے آدمی نے ایک بھاری بھرکم پتھر اٹھایا مگر اس سے پہلےوہ عبداللہ پر حملہ کرتا ہالا نے ایک پتھر سے اسکا نشانہ باندھا۔۔۔۔
“تیری تو!!!” اپنے سر پر چوٹ لگتے وہ تڑپ اٹھا اور دوبارہ سے ہالا کی طرف بڑھا مگر عبداللہ نے اب اسکو جالیا اور اسکی اچھی خاصی دھلائی کی
پہلے والے نے اپنی پستول اٹھائی اور عبداللہ کا نشانہ باندھتے اسکے بازو میں گولی ماری۔۔۔۔ عبداللہ چیخ کر زمین پر گر گیا۔۔۔۔ جبکہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر ہالا کی چیخ بھی بلند ہوگئی۔۔۔۔ تب تک وہ دونوں وہاں سے ہالا کی کار اور اسکا موبائل لیکر بھاگ چکے تھے
“عبداللہ۔۔۔۔ آ۔۔آپ ٹھیک ہوں؟” اسکے بازو سے مسلسل خون بہہ رہا تھا ۔۔۔ دانت پر دانت جمائے اسنے خود پر قابو کیا تھا
“جلدی سے ہوسپٹل” عبداللہ صرف اتنا بولا
اسکی بات سمجھتے ہالا نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کار کی بیک سیٹ پر لٹاتے خود فرنٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور ہوسپٹل کی جانب موڑ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آدھے گھنٹے سے اندر تھا جبکہ ہالا بےچین سی باہر چکر لگا رہی تھی۔۔۔۔ اتنے میں اسے ڈاکٹر باہر نکلتی نظر آئی
“ڈاکٹر وہ۔۔۔۔۔” ہالا نے عبداللہ کے بارے میں پوچھا
“فکر کی بات نہیں گولی نکال دی ہے۔۔۔۔ انشااللہ جلد آرام آجائے گا ۔۔۔۔ آپ چاہے تو مل سکتی ہے” ڈاکٹر کی بات پر سر ہلاتے وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔ آج ہالا کو ایک عجیب سا خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ کسی اپنے کو کھو دینے کا ڈر۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مگر عبداللہ کی تکلیف اسے تکلیف پہنچارہی تھی
“ارے ہالا آؤ نا” عبداللہ جو کسی سے کال پر ہنس کر بات کررہا تھا ایک دم ہالا کو دیکھ کر گڑبڑا گیا
“کیوں کیا ایسا؟” ہالا نے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے پوچھا تو عبداللہ کو خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی
“کیا کیا میں نے؟” عبداللہ نے اسکے جواب کے ڈر سے ہکلا کر پوچھا
“یہ۔۔۔ کیوں کیا ایسا؟” اشارہ اسکی چوٹ کی طرف تھا۔۔۔۔عبداللہ نے پرسکون سانس خارج کی
“تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا” اسکے گال پر موجود تھپڑ کے نشان کو دیکھتے وہ بولا
“کیوں؟” ہالا نے سوال کیا
“کیوں؟ ہمت ہے اس کیوں کو جاننے کی؟ کیا برداشت کرپاؤں گی جواب میرا۔۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے جواب دینے سے ہالا۔۔۔۔ اگر تمہارے اس کیوں کا جواب دے دیا نامیں نے تو پھر واپسی نہیں ہوگی اس راہ سے جس پر چل پڑا ہوں” ڈھکے چھپے لفظوں میں وہ اس پر بہت کچھ واضع کرگیا تھا۔۔۔۔ اسکا جواب سن کر ہالا اپنی جگہ ان رہ گئی۔۔۔۔ اتنی بچی نہیں تھی وہ کہ اسکی بات کا مفہوم نا سمجھ سکتی
“چلو تمہیں تمہارے ہاسٹل چھوڑ دوں” عبداللہ کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ ہالا بھی بےجان سی اسکے پیچھے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل آنے کے بعد بھی پوری رات وہ بس عبداللہ کو سوچتی رہی۔
“یا اللہ” وہ اب تھک چکی تھی اسے سوچتے ہوئے مگر عبداللہ تو اسکے ذہن سے نہیں نکل رہا تھا
اسنے کوشش کی مگر لاحاصل۔۔۔۔ جب وہ سوچ سے نا نکلا تو اسکی اج کی حرکت یاد کرکے مسکرا دی اور بعد میں اسکے الفاظ یاد آتے ہی ہالا کے گال دہک اٹھے
“عبداللہ” سونے سے پہلے یہ آخری لفظ تھا جو اسکے لبوں سے ادا ہوا تھا۔۔۔۔ ایک میٹھی مگر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ وہ نیند کی وادی میں چلی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح وہ یونی پہلے ہی پہنچ گئی تھی اور اب نظریں غیر ارادی طور پر اسے ڈھونڈ رہی تھی جب اسے وہ علی اور شام کے ساتھ نظر آیا ۔۔۔۔ جو بھی تھا مگر ہالا کو یوں تین مردوں کے درمیان جانا اچھا نہیں لگا اسی لیے عبداللہ سے بعد میں ملنے کا سوچتی وہ کلاس کی جانب بڑھ گئی
۔۔۔۔۔۔
“یار آمنہ ابھی تک نہیں آئی۔۔۔۔اسنے کل بات کی تھی اپنے ابو سے۔۔۔۔ اور آج اسے مجھے انکا فیصلہ سنانا تھا” علی مضطرب سا موبائل دیکھتے بولا
“مے بی اسکے ابو نے اسے غصے میں قید کردیا ہوں” عبداللہ سیگڑت کے کش لگاتا بولا
“بکواس نا کر” علی اسے گھورتے بولا جس کا اسنے خاطر خواں اثر نہیں لیا
“ویسے یار میری مان لے چھوڑ دے اسے یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی” عبداللہ نے اسے سمجھایا
“ارے ایسے کیسے کچھ نہیں ہوتی” علی چہک کر بولا
جانتے ہوں شارخ خان نے کہا تھا۔۔۔ زندگی میں محبت بھی ایک بار ہوتی ہے اور شادی بھی”
وہ فلمی دنیا میں پہنچا بڑے ترنگ سے بولا
“ہاں اور پھر اسی کمینے نے اسی فلم میں محبت بھی دوسری بار کی اور شادی بھی”
سیگڑت کا آخری کش لگاتا وہ مخصوص بھاری لہجے میں بولتا
اسے واپس اصلی دنیا میں کھینچ لایا
“بکواسی انسان” علی اسے گھور کر بولا جب اسکے موبائل پر آمنہ کی کال آنے لگی۔۔۔۔ کال سن کر علی کے طوطے اڑ گئے۔۔۔۔ اسنے عبداللہ کو گھورا جو اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کال کاٹ کر وہ عبداللہ کی جانب غصے سے بڑھا
“تم کالی زبان والے۔۔۔۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے” علی تو عبداللہ کو مار دینے کے در پر تھا
“تو پہلے بتائے گا بھی کہ یوا کیا ہے؟” شام نے اسے عبداللہ سے پرے دھکیلتے پوچھا
“یار آمنہ کے ابو نے اسکا نکاح کل ہی رکھ دیا ہے اسکے کزن کے ساتھ اور اسے بھی کمرے میں بند کردیا ہے۔۔۔۔ اسنے بہت مشکل سے اپنی بہن سے موبائل مانگ کر مجھے کال کی ہے۔۔۔۔۔ اب، اب کیا ہوگا۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا” علی پریشانی سے بولا تو عبداللہ نے اپنی سیگرٹ پیر کے نیچے مسلی اور اسے دیکھنے لگا
“چلو” وہ قدم آگے بڑھاتے بولا
“کہاں؟” علی حیران ہوا
“آمنہ کے گھر اسکے ابو سے بات کرنے چلو چلے۔۔۔۔ اس سے پہلے کے دیر ہوجائے” عبداللہ بولا تو ان دونوں نے حیرانکن نظروں سے اسے دیکھا
“تو سیریس ہے؟” شام نے پوچھا
“ایکدم سیریس۔۔۔۔ اب نکلو” عبداللہ کی بات پر وہ دونوں اسکے پیچھے نکل گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا کو آف ہوئے آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا مگر اسے عبداللہ کہی نظر نہیں آیا ایک عجیب سی بےچینی تھی جو اس کے دل کو لاحق تھی
اسکے پاس تو موبائل بھی نہیں تھا۔۔۔۔ گھر بھی حادثے کی اطلاع اسنے اپنی روم میٹ سے موبائل لیکر کی تھی
وہ بےچینی سے چکر کاٹ رہی تھی جب وہ تینوں ہنستے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مارتے اسی کی طرف آتے اسے نظر آئے
ہالا دل چاہا کہ وہ بھاگ کر اس کے پاس جائے اور پوچھے اسے کہ کہاں تھا وہ۔۔۔۔۔مگر دل پر بند باندھ لیا
“عبداللہ؟” ہالا نے اسے پکارا جو اب اکیلا بینچ پر بیٹھا تھا جبکہ علی اور شام کینٹین گئے تھے
“ارے ہالا آؤ نا” عبداللہ اسے دیکھ کر مدھم سا مسکرایا۔۔۔۔جبکہ ہالا کی نظر اسے چہرے پر پڑے تھپڑ کے نشان پر گئی
“یہ کیا ہوا آپ کو؟” ایک دم بےقراری سے پوچھتے وہ اسکے تھوڑا نزدیک بیٹھ گئی
“وہ۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔۔ کچھ خاص نہیں” عبداللہ ہنستا بولا
“عبداللہ!!!!” ہالا نے اسے گھورا ۔۔۔۔ انداز وارنگ زدہ تھا
“اوکے آمنہ کے ابو نے خاطر تواضع کی” عبداللہ چڑا
“ہے؟ مگر کیوں؟” ہالا۔ حیران ہوئی
“وہ آمنہ کے ابو۔۔۔۔اسکی شادی کروا رہے تھے کہی اور۔۔۔۔ بس پھر ان سے بات کرنے گیا تھا تو یہ تحفہ ملا” عبداللہ۔بولا تو ہالا ہنس دی جس پر عبداللہ نے اسے ناراضگی سے گھورا
“سوری” ہالا مسکراہٹ دبائے بولی
“ویسے تھپڑ سے یاد آیا ۔۔۔۔ ان دونوں آدمیوں میں سے کسی نے تمہیں تھپڑ مارا تھا نا۔۔۔۔ کون تھا وہ؟ اور ہاں پولیس کو انفارم کیا؟” عبداللہ نے اچانک سوال پوچھا
“انہوں نے تو رومال سے چہرے ڈھکے تھے شکل یاد نہیں۔۔۔ ہاں مگر جس نے تھپڑ مارا تھا اسکی کلائی پر ایک پھول کا ٹیٹو تھا۔۔۔۔ اور پولیس کو بتانے کے لیے میرا من راضی نہیں ۔۔۔۔۔ ویسے بھی پولیس کیا کرلے گی” ہالا بولی تو عبداللہ نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا
“ویسے جب تم سب کچھ دے چکی تھی تو پھر انہوں نے ایسا کیوں کیا؟” عبداللہ کو یہ سوال چین نہیں لینے دے رہا تھا
“اسکی۔وجہ سے” ہالا نے اپنے گلے سے چین نکال کر عبداللہ کو دکھائی
“یہ میری امی کی ہے انہوں نے مانگی میں نے منع کردیا۔۔۔۔ اسی لیے” ہالا نم آنکھوں سے چین کو دیکھتے بولی تو عبداللہ کو بھی کچھ یاد آیا
“بہت محبت ہے نا اپنی مام سے تمہیں” عبداللہ کا لہجہ کچھ بدلا سا تھا
“بہت زیادہ” ہالا چین کو چومتے بولی
“مجھے بھی تھی بہت” عبداللہ کی آواز میں ایک درد شامل تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے ہالا اس سے پوچھ سکتی اسے علی اور احتشام آتے نظر آئے
“ارے ہالا آپ یہاں کیسی ہے؟” علی اور شام واپس آئے تو اسے دیکھ کر چونک گئے
“میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ بتائے ہونے والے دولہا صاحب آپ کیسا محسوس کررہے ہے؟” ہالا نے پوچھا تو علی ہنس دیا
“بہت اچھا۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اچھا اور یہ سب کچھ صرف عبداللہ کی وجہ سے ہوا ہے وہ نا ہوتا تو شائد یہ سب نا ہو پاتا” علی محبت سے عبداللہ کی جانب دیکھتے بولا جس نے خفگی سے اسے دیکھا
“وہ تو ہے” ہالا بھی عبداللہ کی جانب دیکھتے بولی تو عبداللہ کو اسکی آنکھوں میں خود کے لیے کچھ الگ محسوس ہوا جس پر وہ مسکرا دیا
“اچھا بھئی آف ہوگیا ہے گھر جانا بھی ہے یا نہیں” شام بولا
“یار میں تو جارہا ہوں۔۔۔۔۔ ماما پاپا کو بھی بتانا ہے” علی نے جواب دیا
“رک میں بھی تیرے ساتھ چلتا ہوں” شام اسکے ساتھ ہی نکل گیا اب صرف وہ دونوں رہ گئے تھے۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر تک دونوں کے مابین خاموشی رہی جب ہالا کو اسامہ اپنی طرف آتا نظر آیا۔ جبکہ عبداللہ جو اسامہ کو آتے دیکھ چکا تھا اسکی بات سمجھ گیا۔
“چلو ساتھ چلتے ہیں۔۔۔۔ویسے بھی تمہارے پاس کوئی ٹرانسپورٹ نہیں ہے, میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں” عبداللہ بولا تو ہالا نے سر نفی میں ہلایا
“نہیں اسکی ضرورت نہیں ٹیکسی سے چلی جاؤں گی میں” ہالا اسے منع کرتی وہاں سے نکل گئی جبکہ عبداللہ نے غصے سے جبڑے بھینچ لیے۔۔۔۔ اب اتنی بھی کیا پارسائی۔۔۔۔ کل بھی تو چھوڑا تھا نا اسنے۔۔۔۔
“نخرے نور جہاں کے” عبداللہ اسکی پشت دیکھتے بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی اور آمنہ کی شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھی۔۔۔۔ آمنہ کے ابو پہلے پہل تو ناراض رہے مگر جب علی سے ملے ۔۔۔۔ اسے جانچا تو احساس ہوا کہ وہ ایک اچھا لڑکا تھا۔۔۔۔۔ اسی لیے اب وہ بھی خوش تھے
سب کچھ ٹھیک تھا ماسوائے عبداللہ کے جسے آجکل اپنی طبیعت ٹھیک نہیں محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔ وہ بیمار سا رہنے لگا تھا۔۔۔۔۔ نجانے کیوں۔۔۔۔
عبداللہ کا وزن پہلے کی نسبت کم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ چہرے کا رنگ بھی پیلا ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔ اسے بہت دفع الٹیاں بھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسکے پیٹ میں کبھی کبھار شدید درد رہتا ۔۔۔۔۔ جس پر وہ پیناڈول کھا لیتا۔۔۔۔ آج بھی علی کی برات تھی جبکہ عبداللہ کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی۔۔۔۔ برات رات کی تھی جبکہ ابھی صبح کے گیارہ بجے ہوئے تھے
اس وقت وہ عمیر کے ساتھ تھا۔۔۔۔ جو کہ اسکے بھائی کے بزنس پارٹنر یاسین صاحب کا بیٹا اور اسکا دوست بھی تھا۔۔۔۔ عمیر اسے اپنے اور سروج کے بارے میں بتا رہا تھا یہی کے اسے سروج سے کتنی محبت ہے اور یہ کہ خالص محبت کرنے والے بار بار نہیں ملتے
“تمہیں پکا یقین ہے کہ تمہیں اس سے محبت ہے؟” عبداللہ نے اس سے پوچھا
“ہاں” عمیر دھیمی مسکان لیے بولا
“اچھا اور وہ کیسے؟” عبداللہ نے جانچنا چاہا
“کیونکہ میں اسکی بہت عزت کرتا ہوں۔۔” عمیر بولا تو عبداللہ نے اسے حیران کن نظروں سے دیکھا بھلا یہ کیسا جواب ہوا
“محبت کا دوسرا نام عزت ہوتا ہے عبداللہ۔۔۔۔۔ جہاں عزت نہیں وہاں محبت نہیں۔۔۔۔ جب تم کسی کی دل سے عزت کرنے لگوں نا تو سمجھ لینا کہ تمہیں اس سے محبت ہے۔۔۔۔” عمیر بولا تو عبداللہ ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے اسے کھانسی کے دورے پڑے تبھی عبداللہ منہ پر ہاتھ رکھے واشروم کی طرف بھاگا اور الٹیاں کرنے لگا۔۔۔۔۔ عمیر جو اسکے پیچھے اندر واشروم میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا اور فورا سے ایمبولینس کو کال ملائی
۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ کے تمام ٹیسٹ کیے گئے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹرز کو رپورٹ سے کچھ خاص امید نہیں تھی۔۔۔۔ عبداللہ کی حالت کے پیش نظر ڈاکٹرز کو شک تھا کہ اسے شائد کینسر ہوں۔۔۔۔ جب کہ یہ بات سن کر عمیر کے تو ہوش اڑ گئے تھے۔۔۔۔ لیکن اس نے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ڈیسائڈ کیا تھا کہ وہ رپورٹس نے کا انتظار کرے گا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: