Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 6

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 6

–**–**–

ہوسپٹل سے واپسی کا پورا راستہ عمیر کا مختلف سوچوں میں گزرا۔۔۔۔گاہے بگاہے وہ نظر ساتھ بیٹھے عبداللہ پر بھی ڈال لیٹا جو سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ مگر عمیر کا بار بار اسے دیکھنا وہ محسوس کرسکتا تھا
’’کیا بات ہے بڈی۔۔۔۔ نوٹ کررہا ہوں کہ جب سے تم ڈاکٹر سے ملے ہوں کچھ پریشان سے ہوں ۔۔۔۔۔ کیا کوئی سیریس ایشو ہے؟‘‘ عبداللہ نے آنکھیں کھول کر اس سے پوچھا
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں!!‘‘ عمیرنے جھٹ سے سر نفی میں ہلایا
’’مگر کچھ تو ہے جو تم اتنا پریشان ہوں‘‘ عبداللہ نے اب اپنا رخ عمیر کی جانب کرلیا تھا
’’ڈاکٹر نے کہاں ہہے تمہیں ویکنیس ہوئی ہے بہت۔۔۔۔۔ تم پراپر ڈائٹ نہیں لیتے اور یہ بھی کہ تم سموکنگ بہت کرتے ہوں۔۔۔۔۔ جانتے ہوں نا کتنی سموکنگ صحت کے لیے کتنی نقصان دہ ہے‘‘ عمیر اسے اپنے تئی سمجھاتے بولا تو عبداللہ ہنس دیا
’’نہیں چھوڑ سکتا‘‘ عبداللہ نے سر نفی میں ہلایا
’’کیوں؟‘‘ عمیر نے ابرو اچکائے پوچھا
’’میرے غم کی دوا ہے یہ‘‘ وہ بہت تو لہجہ کرب ناک تھا۔۔۔۔ عمیر کو اس پر افسوس ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارات میرج ہال پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔ عبداللہ کی حالت بھی اب قدرے بہتر تھی۔۔۔ بزنس تعلقات کی بنا پر عمیر بھی شادی میں شریک ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر اسے عبداللہ کی فکر لاحق تھی جو سب سے بےنیاز بھنگڑے ڈالنے میں مگن تھا
’’یار کب آئے گی؟‘‘ نکاح کے بعد بےچین سا علی کب سے آمنہ کی راہ تک رہا تھا
’’آجائے گی ۔۔۔۔ کیوں باولا ہورہا ہے‘‘ شام اسکے سر پر ایک چت رسید کرتے بولا
’’دیکھ شام بعض آجا ویسے بھی میں دولہا ہوں‘‘ علی شام کو انگلی دکھاتے بولا۔۔۔۔۔۔ جب اچانک پورے ہال کی لائٹس بند ہوگئی اور سپاٹ لائٹ میں آمنہ آتی نظر آئی۔۔۔۔۔ اسکی بائیں جانب اسکی بہن، جب کے دائیں جانب ہالا تھی
ہالا جب نظریں اٹھائے علی کو دیکھا تو غیر ارادی طور پر نظریں عبداللہ پر جاٹکی جو بلیک پینٹ کوٹ میں بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ مگر نجانے کیوں ہالا کو اسکی شکل مرجھائی سی لگی۔۔۔۔۔۔۔ آمنہ کو اسکی بہن تھامے آگے لے گئی تھی جبکہ ہالا اپنی راہ میں رکی بس عبداللہ کو دیکھے جارہی تھی
’’کیا وہ بیمار ہے؟‘‘ یہ سوال اسکے ذہن میں آیا
’’مجھے کیا؟‘‘ فورا اپنے سوال کی تردید کی
’’لیکن اگر اسکی طبیعت زیادہ خراب ہوئی؟۔۔۔۔‘‘ ایک اور سوال ذہن میں آیا۔۔۔۔ جبکہ دور کھڑا عبداللہ جو اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس کررہا تھا ۔۔۔۔ چہرہ گھمائے ہالا کو دیکھا تو اسے خود کو تکتے پایا۔۔۔۔۔ عبداللہ کے دیکھنے پر بھی وہ اسے دیکھتی رہی جیسے اسکی نظریں قابو میں نہ ہوں
’’تو یہ ہے ہالا؟‘‘ عمیر نے عبداللہ کے برابر کھڑے ہوئے پوچھا تو عبداللہ کا سر خود بخود اثبات میں ہل گیا
’’لڑکی اچھی لگتی ہے۔۔۔۔۔ مگر جو تو اس کے ساتھ کرنے جارہا ہے وہ بہت غلط ہے‘‘ عمیر بولا تو عبداللہ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ وہ آمنہ اور علی کو دیکھنے لگا جو اب ساتھ بیٹھے سب سے مبارک باد وصول کررہے تھے
’’میں کچھ غلط نہیں کررہا ۔۔۔۔ بس اتنا واضع کردینا چاہتا ہوں کہ کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا‘‘ عبداللہ سخت لہجے میں بولا
وہ اس وقت کس درد، کس تکلیف میں تھا عمیر اچھے سے سمجھ سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اسنے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بس اللہ سے اسکے لیے ہدایت کی دعا ہی مانگ سکتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کب سے سیگڑت کی طلب محسوس ہورہی تھی مگر عمیر اس پر پہرہ ڈالے ہوئے تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں عمیر کو کوئی جاننے والا مل گیا تھا ۔۔۔۔ عبداللہ کو یہی سہی موقع لگا اور وہ سب سے چھپتے چھپاتے، بچتے بچاتے ہال سے باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔۔ ہالا جو کب سے عبداللہ سے بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہی تھی وہ فورا اسکے پیچھے گئی۔۔
’’آپ ٹھیک ہے؟‘‘ عبداللہ کو اکیلے پاکر ہالا نے فورا اس کے پاس جاکر اس سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔ جو سیگرٹ منہ میں دبائے لائٹر سے اسے جلا چکا تھا
’’اوہ ہالا کیسی ہوں؟‘‘ عبداللہ نے مسکراہ کر پوچھا
’’مجھے چھوڑے اپنا بتائے آپ ٹھیک ہے؟‘‘ ہالا کے لہجے میں بےانتہا فکر تھی
’’ہاں ٹھیک ہوں‘‘ عبداللہ آرام سے بولا
’’نہیں آپ ٹھیک نہیں ہے‘‘ ہالا نے سر نفی میں ہلایا
’’اچھا اور تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ عبداللہ نے حیرت اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات لیے پوچھا
’’آپ کی شکل بیان کررہی ہے سب کچھ۔۔۔۔۔۔۔ آپ بیمار ہے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کو چیک کروایا؟‘‘ عبداللہ کو اب اسکے سوالوں سے الجھن سی ہورہی تھی
’’ہالا، ہالا، ہالا میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ ہاں ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر نے کہاں ہے کہ مجھے پراپر ڈائٹ کی ضرورت ہے بس۔۔۔۔۔ زیادہ کچھ نہیں‘‘ عبداللہ نے جواب دیا تو ہالا نے اللہ کا شکر ادا کیا
’’اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔ اور یہ اسے چھوڑے آپ‘‘ اللہ کا شکر ادا کرتے ہی ہالا نے اسکے ہاتھ سے سیگرٹ کھینچ کر زمین پر پھینکی۔۔۔۔۔۔ عبدااللہ تو اسکی اس دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا
’’جب معلوم ہے طبیعت ٹھیک نہیں تو کیوں پی رہے ہیں۔۔۔۔۔ اتنی بھی کیا طلب کہ انسان اپنی صحت کا بھی خیال نا رکھے‘‘ ہالا اس پر برس رہی تھی جبکہ وہ پرسکون سا سینے پر دونوں بازو باندھے اسے دیکھ رہا تھا
اسنے انتظار کیا اس کے چپ ہونے کا
’’بول لیا جتنا بولنا تھا۔۔۔۔۔۔ فرسٹیشن ہوئی کم؟ اب میری سنوں یہ میری زندگی ہے ہالا صرف میری زندگی۔۔۔۔ اس پر کسی کا حق نہیں۔۔۔۔۔ میں کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ کوئی یوں بےجا میری زندگی میں دخل انداز ہوں۔۔۔۔۔ کسی کا مطلب کسی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ سمجھی؟‘‘
’’اور ہاں ایک اور بات۔۔۔۔۔۔ اتنی بےفکری، بے قراری بھی اچھی نہیں ہالا حسن۔۔۔۔۔ انسان کو مار دیتی ہے یہ‘‘ اسکے کان کے پاس جھکتے وہ سرگوشی نما آواز میں بولتا ہال کے اندر چلا گیا تھا
جبکہ ہالا اپنا سن وجود لیے اسکی باتوں کے زیر اثر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی؟ تو کیا وہ اسکے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔۔۔ کیا وہ اسکے لیے کسی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ یہ سوچ ہی تکلیف دہ تھی ہالا حسن کے لیے۔۔۔۔۔ اسے کسی نہیں بننا تھا۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کی زندگی میں تو بلکل بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا اور عبداللہ کی آخری ملاقات کو مہینے سے اوپر ہوگیا تھا۔۔۔۔ ان کا ساتواں سمسٹر ختم ہوچکا تھا اور اب چھٹیوں کے بعد انٹرنشپ یعنی کے آٹھواں سمسٹر شروع ہونا تھا۔۔۔۔۔ ہالا نے عبداللہ کو ہر طریقے سے اگنور کیا تھا۔۔۔۔۔ وہ کوئی بات بھی کرنے آتا تو ہوں ہاں میں جواب دیتی۔۔۔۔۔ اور اسے دور ہی رہتی۔۔۔۔ مگر اب ایک ہفتہ ہوگیا تھا یونی کو آف ملے اور وہ عبداللہ کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔ اور وہ فائنلز کے بعد سے غائب تھا اسکی آسائنمٹ بھی ہالا نے خود بنا کر سبمٹ کروائی تھی۔۔۔۔۔ ناراضگی اپنی جگہ مگر وہ اس دل کا کیا کرتی جو اسکی ایک جھلک دیکھ کر دھڑک اٹھتا تھا۔۔۔۔۔ آج کل اسکے دن بےکیف سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ جب اسے آمنہ سے عبداللہ کی خراب طبیعت کے بارے میں معلوم ہوا۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ وہ ٹائیفایڈ کی وجہ سے ایک ہفتے سے ہوسپٹلائزڈ ہے۔۔۔۔۔۔ پہلے اسکا غائب ہونا اور اب ہوسپٹل ہالا کو نجانے کیوں کچھ عجیب سا محسوس ہورہا تھا وہ عبداللہ سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے بس ایک بار دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ اور آخرکار دل کی آواز پر لبیک کہتے وہ اسے ملنے ہوسپٹل چلی گئی۔۔۔۔آمنہ اور علی ہنی مون پر گئے تھے جبکہ شام بھی اپنی فیملی کے ساتھ دبئی اپنے کزن کی شادی پر گیا تھا۔۔۔۔۔ ہالا ابھی تک اپنے گھر نہیں بگئی تھی بلکہ وہ ہاسٹل میں ہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
ریسپشن پر پہنچ کر ہالا نے عبداللہ کے بابت پوچھا جب اسے اسکا روم نمبر بتایا گیا۔۔۔۔۔۔ تیز قدم اٹھاتی وہ عبداللہ کے روم کی جانب بڑھی ۔۔۔۔۔ وہ اندر داخل ہوئی تو وہاں نرس کو زبردستی عبداللہ کو سوپ پلانے کی کوشش کرتے دیکھ کر حیران ہوئی
’’عبداللہ؟‘‘ ہالا نے اسے پکارا جو بچوں کی طرح نرس کو تنگ کررہا تھا۔۔۔۔۔ جب نرس کو سائڈ پر کرتے عبداللہ نے ہالا کو دیکھا تو یکلخت ہالا کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔۔ آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے۔۔۔۔ چہرے کا زرد رنگ۔۔ مرجھایا چہرہ
’’ارے ہالا آؤ‘‘ نقاہت کے سبب اسکی آواز بھی سہی سے نکل نہیں پارہی تھی
’’عبداللہ یہ سب۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ہالا سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا
’’وہ بخار۔۔۔ بس اور کچھ نہیں‘‘ عبداللہ کھانستے ہوئے سر نفی میں ہلائے بولا تو ہالا کا دل بیٹھنے لگا
’’سر پلیز سوپ پی لیجیے۔۔۔۔۔ ورنہ آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی۔۔۔۔ میم آپ سمجھائے سر کو صبح سے کچھ نہیں کھایا انہوں نے‘‘ نرس مجبور سی بولی
’’لائیے یہ مجھے دے۔۔۔۔ آپ جائے‘‘ اسکے ہاتھ سے سوپ کا پیالہ لیکر ہالا نے اسے جانے کو بولا اور خود عبداللہ کے پاس بیٹھے چمچ اسکے منہ کی جانب کیا
عبداللہ نے نخرے تو بہت دکھائے مگر ہالا نے بھی اسے سوپ پلا کر دم لیا۔۔۔۔ عبداللہ تب سے ہالا کو دیکھے جارہا تھا جس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمک رہے تھے۔۔۔۔۔
’’کیا ہوا رو کیوں رہی ہوں؟‘‘ کمزور سی آواز میں اس نے پوچھا
’’آپ کی وجہ سے‘‘ ہالا اسے دیکھ کر ناراضگی سے بولی
’’میری وجہ سے کیوں؟‘‘ عبداللہ نے حیرت سے سوال کیا
’’آپ بس ٹھیک ہوجائے‘‘ وہ سوال کے بدلے صرف اتنا بول پائی
’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘ عبداللہ نے ہنس کر پوچھا
’’مجھےنہیں معلوم کیا ہوگا۔۔۔۔ کیا نہیں ہوگا۔۔۔۔ معلوم ہے تو بس اتنا کہ آپ جلدی سے ٹھیک ہوجائے۔۔۔۔ یوں نہیں دیکھ سکتی آپ کو‘‘ وہ بولی
’’کیوں نہیں دیکھ سکتی مجھے یوں؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا
’’جواب ضروری نہیں‘‘ ہالا نے سر نفی میں ہلایا
’’میرے لیے ہے‘‘ عبداللہ زور دیتا بولا
’’بس یہ جان لے کہ آپ اہم ہے میرے لیے‘‘ ہالا اسکی جانب دیکھتے بولی
’’اوہ!!! تو مطلب محبت ہوگئی ہے مجھ سے؟‘‘ عبداللہ مزاحیہ انداز میں ہنستے بولا
’’اگر اسے محبت کہتے ہے تو ہاں ہوگئی ہے محبت آپ سے۔۔۔۔۔ کب کیسے نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔ بس اتنا پتہ ہے کہ آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی‘‘ ہالا نڈر انداز اپنائے اسے دیکھتے بولی
اور عبداللہ۔۔۔۔۔ جو کبھی ان آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ آج اسے ڈر لگنے لگا تھا ان آنکھوں سے۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جھلکتی اس محبت سے۔۔۔۔۔۔ مگر سب سے زیادہ ڈر اسے اپنے دل سے لگا تھا جو محبت کا اظہار سن کر دھڑک اٹھا تھا۔۔۔۔۔ عبداللہ نے رخ موڑ لیا تھا۔۔ اسکے اس عمل سے ہالا کو تکلیف پہنچی تھی۔۔۔۔ مگر وہ خاموش رہی
’’اب میں چلتی ہوں کل انشااللہ پھر آؤں گی آپ سے ملنے‘‘ ہالا نے باؤل سائڈ پر رکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی جب ایک آنسو عبداللہ کی آنکھ سے ٹوٹ کراسکی داڑھی میں جذب ہوگیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔۔۔۔۔ ہالا روزانہ عبداللہ سے ملنے ہسپتال آتی۔۔۔۔۔۔ مگر اسے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا کہ عبداللہ کو بخار تو نہیں تھا تو پھر وہ کیوں ہوسپٹلائزڈ تھا۔۔۔۔۔ جسے ڈاکٹر نے فوڈ پوائزنگ بتایا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ عبداللہ کا معدہ باہر کا کھا کر اتنا خراب ہوچکا ہے کہ اب وہ کچھ بھی ڈائجسٹ نہیں کرپارہا اسی لیے اسے ہوسپٹل میں رکھا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ وجہ سن کر ہالا کو مکمل طور پر تو نہیں مگر کافی حد تک تسلی مل گئی تھی
انہی دنوں میں ہالا کی عمیر سے بھی ملاقات ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔ مگر ہالا کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ عبداللہ کی فیملی میں سے کوئی کیوں نہیں آیا۔۔۔۔۔ عبداللہ نے اسے صرف اتنا بتایا تھا کہ اسکا کوئی رشتہ دار نہیں۔۔۔ ہالا کو معلوم تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے مگر خاموش رہی
ہالا نے عبداللہ کو ہر طریقے سے اپنی محبت کا احساس دلایا تھا اور عبداللہ جو محبت کی نفی کرتا تھا وہ بھی آہستہ آہستہ اسکا گرویدہ ہوتا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ انتظار کیا کرتا تھا ہالا کے آنے کا۔۔۔۔ وہ ہر وقت دروازے کو دیکھتا رہتا نجانے کب وہ اس سے اندر داخل ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’نو، نو ،نو مسٹر عمیر آپ سمجھ نہیں رہے۔۔۔ عبداللہ کا جگر مکمل طور پر ناکارہ ہوچکا ہے۔۔۔۔ حد سے زیادہ سموکنگ نے مکمل طور پر انکا لیور ڈیمج کردیا ہے۔۔۔ ہمیں فورا لیور ٹرانسپلانٹ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ایم سوری ہم انہیں بچا نہیں پائے گے۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی لیور ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی بچنے کی چانسز صرف تیس فیصد ہے‘‘ سوتے ہوئے عبداللہ کے سر پر کھڑا ڈاکٹر اسکی رپورٹس دیکھ کر عمیر کو بتا رہا تھا جو اپنی جگہ سن ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔ کچھ مزید باتوں کے بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ پیچھے کھڑا عمیر ایک افسوس بھری نگاہ عبداللہ پر ڈالتا ڈاکٹر کے پیچھے نکل گیا اس بات سے بےخبر کہ بیڈ پر لیٹا وجود سب کچھ سن چکا تھا۔۔۔۔۔۔ عمیر کے باہر نکلتے ہی عبداللہ نے اپنی آنکھیں کھول لی۔۔۔۔۔۔ خالی نظروں سے وہ بس چھت کو گھورے جارہا تھا۔۔۔۔۔ ان خالی ویران آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اچانک آنکھوں میں پانی بھرنا شروع ہوا اور قطرے دونوں آنکھوں سے نکلنا شروع ہوگئے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالا آج عبداللہ کے لیے اسکی فیورٹ چاکلیٹس لائی تھی۔۔۔ اسنے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ آج عبداللہ سے جواب لیکر رہے گی۔۔۔۔۔ اسنے دیکھا تھا عبداللہ کی آنکھوں کو، ان میں بہتے جذبات کو مگر نکانے وہ کیا وجہ تھی جو اسے روکے ہوئے تھی۔۔۔۔ مگر وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ آج کو عبداللہ کی دل کی بات جان کر رہے گی
’’اگر اس نے تردید کردی میرے جذبوں کی؟‘‘ یہ خیال اسکے ذہن میں آیا
’’افف اچھا اچھا سوچوں ہالا حسن‘‘ وہ خود کو ڈپٹتے بولی
’’اور اگر اسنے اپنا لیا میرے جذبوں کو؟‘‘ یہ خیال آتے ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھوگئی
مسکراہٹ دبائے وہ کمرے میں داخل ہوئی تو بیڈ کو خالی پایا۔۔۔۔۔۔ اچانک لبوں سے مسکان غائب ہوئی
’’عبداللہ!!‘‘ اسکے دل کو کچھ ہوا
اتنے میں ایک نرس کمرے میں داخل ہوئی
’’سسٹر!!‘‘ ہالا نے اسے پکارا
’’جی؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’وہ یہ۔۔۔۔ میرا مطلب یہاں جو پیشنٹ تھے؟‘‘ ہالا نے دھڑکتے دل سے پوچھا
’’اوہ وہ تو چلے گئے‘‘ نرس کندھے اچکائے بولی
’’چلے گئے مطلب؟‘‘ ہالا کو سمجھ نہیں آیا
’’جی وہ کل رات ہی ڈسچارج ہوکر جاچکے ہے‘‘ نرس کی بات پر ہالا نے سکون کا سانس لیا
وہ ہوسپٹل سے نکلتے تیزی سے اپنے کار کی جانب بڑھی
’’ہالا‘‘ اسنے مڑ کر دیکھا تو اسامہ وہاں کھڑا تھا
’’ابھی نہیں اسامہ مجھے عبداللہ سے ملنے جانا ہے‘‘ ہالا تیز لہجے میں بولتی کار کا دروازہ کھول چکی تھی
’’وہ جاچکا ہے ہالا‘‘ اسامہ اسکے پاس آخر بولا
’’ہاں مجھے معلوم ہے۔۔۔۔۔ وہ ڈسچارج ہوکر گھر جاچکا ہے‘‘ ہالا اسامہ کو دیکھتے بولی
’’نہیں ہالا۔۔۔۔۔ افف میں تمہیں کیسے سمجھاؤ۔۔۔۔۔ وہ، وہ یہ شہر چھوڑ کر جاچکا ہے ہالا۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے‘‘ اسامہ اسکا بازو تھام کر اسے اپنے سامنے کیے بولا
’’کیا بکواس کررہے ہوں‘‘ ہالا غصے سے اپنا بازو چھڑواتے بولی
’’بکواس نہیں ہے ہالا۔۔۔۔۔۔ سچ ہے یہ۔۔۔۔۔۔ یہ سب۔ یہ سب ڈرامہ تھا ہالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں خود سے محبت کروانے کے لیے عبداللہ نے یہ سب کیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ کار کا تم سے ایکسیڈینٹ ہونا، عبداللہ کا تمہیں بچانا۔۔۔۔۔ وہ گنڈوں کا حملہ، سب کچھ پری پلین تھا۔۔۔۔ اور تو اور عبداللہ نے علی اور آمنہ کی مدد بھی صرف اسی لیے کی تھی تاکہ وہ تمہاری نظر میں اچھا بنے‘‘ اسامہ بولتا چلا گیا جبکہ ہالا دونوں بازو سینے پر باندھے اسے دیکھے جارہی تھی
’’ہوگیا تمہارا۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا اسامہ تم کچھ بھی بکواس کروں گے اور میں مان لوں گی۔۔۔۔۔۔ نہیں اسامہ اب نہیں آؤں گی میں تمہاری باتوں میں۔۔۔۔۔۔ اور ہاں میں جارہی ہوں عبداللہ کے پاس‘‘ ہالا اسے بولتے دوبارہ کار کی جانب مڑی
’’ٹھیک ہے مت یقین کروں میری بات کا بس ایک بار اسے دیکھ لو‘‘ اسامہ نے اپنے موبائل سے ایک وڈیو پلے کرکے ہالا کو دکھائی۔۔۔۔۔ جیسے جیسے وڈیو آگے ہوتی گئی۔۔۔۔ ہالا کے تاثرات بدلتے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یقین نہیں کرپارہی تھی
’’یہ!!!‘‘ ہالا سے کچھ بولا نا گیا
’’یہ سب کچھ پلین تھا ہالا۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کی ضد تھی تم۔۔۔۔۔۔۔ ہالا بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔۔۔ وہ، وہ تو ت،ہاری محبت کے قابل بھی نہیں تھا، پلیز ہالا بھول جاؤ اسے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنا لو۔۔۔۔۔۔ پلیز‘‘ اسامہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتے بولا تو ہالا نے اپنے ہاتھ آزاد کروائے اور سر نفی میں ہلاتے تیزی سے کار میں بیٹھے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: