Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 7

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 7

–**–**–

ڈیڑھ سال بعد
’’مائز۔۔۔۔۔ مائز اٹھ جاؤ۔۔۔۔۔ دیر ہورہی ہے‘‘ کمرے کا دروازے بار بار کھٹکھاٹے وہ بولی
’’آیا‘‘ مائز کی سوئی ہوئی آواز کانوں سے ٹکڑائی تو اس نے سکون کا سانس لیا
’’کیا ہوا جاگا؟‘‘ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی زکریہ آپا نے پوچھا
’’جی فائنلی جاگ گیا‘‘ ہالا مسکراتے بولی اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے لیے کپ میں چائے نکالنے لگی
’’اچھا ہالا وہ جو اس دن لڑکی آئی تھی مائز کو لیکر بھلا سا نام تھا اسکا۔۔۔۔۔۔۔‘‘ زکریہ آپا سوچتے بولی
’’کون فریحہ؟‘‘ ہالا نے کپ لبوں کو لگایا
’’ہاں وہی۔۔۔۔۔۔ وہ بچی یہی رہتی ہے ہماری سوسائٹی میں سوچ رہی ہوں اسے گھر کھانے پر بلا لوں اسکی فیملی کے ساتھ‘‘ زکریہ آپا پرسوچ انداز میں بولی
’’جیسے آپ کی مرضی‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’بس کردے اب اتنا بھی کوئی احسان عظیم نہیں کیا اسنے۔۔۔۔ ویسے بھی چوٹ بھی اسی کی وجہ سے لگی تھی مائز کو‘‘ ٹیبل پر آتی نیلم منہ بنائے بولی تو ہالا نے مسکراہ کر سر نفی میں ہلایا
’’نیلم!!‘‘ زکریہ آپا تنبیہ انداز میں بولی
’’گڈ مارننگ‘‘ مائز وہاں آکر چہکتی آواز میں بولا
’’گڈ مارننگ‘‘ نیلم نے مسکراہ کر اسے جواب دیا
’’سلام لیتے ہے‘‘ ہالا نے اسے ٹوکا تو زکریہ آپا مسکراہ دی
’’اچھا نا‘‘ مائز بچوں کی طرح بولتا زکریہ آپا کے ساتھ جابیٹھا
’’اچھا آج رات ہم سب پارک جائے گے اوکے‘‘ مائز نے اعلان کیا تو سب سے سر اثبات میں ہلادیا
’’اوکے‘‘ ہم آواز سب کا جواب آیا
’’اوکے میں چلتی ہوں میرا انٹرویو ہے اللہ حافظ‘‘ نیلم بولتی جلدی سے نکل گئی
’’میں بھی یونی جارہا ہوں‘‘ ناشتہ ختم کرتے ہی مائز بولا
اب صرف ہالا اور زکریہ آپا رہ گئے تھے ٹیبل پر
’’تم آفس کب سےجوان کروں گی؟‘‘ زکریہ آپا نے اس سے پوچھا
’’وہ آپا میں نے سوچھا ہے کہ میں آفس جوائن نہیں کروں گی‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’تو پھر؟‘‘ زکریہ آپا نے ایک پل کو اسے دیکھا
’’دراصل میں نے ٹیچنگ کے لیے اپلائے کیا تھا تو مجھے پنجاب کالج فار وومنز (پری انجینئرنگ) سے لیٹر آگیا ہے اب میں وہاں میتھس پڑھاؤ گی‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’اور یونی اسکا کیا؟ تمہارے ایم فل کا دوسرا سال شروع ہوچکا ہے ہالا۔۔۔۔ کیسے مینج کروں گی؟‘‘ زکریہ آپا نے پوچھا
’’میری کلاسز ایوننگ کی ہے جبکہ کالج صبح کا۔۔۔۔۔۔ مینج ہوجائے گا‘‘ ہالا رسانیت سے بولی
’’مجھے کوئی مسئلہ نہیں‘‘ زکریہ آپا مسکرا کر بولی تو ہالا بھی مسکرا دی
’’تم ٹھیک ہوں ہالا؟‘‘ زکریہ آپا نے روزانہ کی طرح سوال کیا
’’پتہ نہیں‘‘ جواب بھی ویسا ہی تھا
ہالا نے واپس آکر اپنے اور عبداللہ کی ایک ایک بات زکریہ آپا کو بتادی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کتنے دن کتنی راتیں روؤئی تھی۔۔۔ اس بات سے صرف زکریہ آپا ہی واقف تھی
’’اسے بھول کیوں نہیں جاتی‘‘ زھرا آپا اسے ہمدردی اور محبت سے دیکھتے بولی
’’ناممکن‘‘ ہالا کا سر نفی میں ہلا
’’کوشش تو کی جاسکتی ہے نا؟‘‘ زکریہ آپا نے تجویز دی
’’پچھلے ڈیڑھ سال سے کررہی ہوں۔۔۔۔ دعا کیجیے گا کامیاب ہوجاؤ‘‘ بات ختم کرتے ہی اس نے برتن سمیٹے اور انہیں کچن میں رکھنے چلی گئی۔۔۔۔۔۔ زکریہ آپا نے بہت دور تک اسکی پشت کو گھورا تھا
’’اس پر اپنا رحم فرما اللہ‘‘ انہوں نے دل میں اللہ سے دعا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھائی!! بھائی۔۔۔۔بھائی!!!!!‘‘ فریحہ رات کا کھانا کھانے کے بعد سے ہی حسیب کے ارد گرد منڈلا رہی تھی
’’جی؟؟‘‘ حسیب نے لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھ کر اس سے پوچھا
’’آج پارک چلے واک پر۔۔۔۔۔۔ اسی بہانے ہماری اس نئی سوسائٹی میں لوگوں سے جان پہچان بھی ہوجائے گی‘‘ فریحہ نے اسے آئیڈیا دیا
’’کوئی ضرورت نہیں ہے کہی جانے کی۔۔۔۔۔۔ بیٹھی رہوں گھر‘‘ اسکے سر پر چت لگاتے عبداللہ بولا
فریحہ نے گھور کر اپنے بھائی کو دیکھا۔۔۔۔ اسکا رنگ اب گورے سے ہلکا گندمی ہوگیا تھا۔۔۔ چہرے پر بڑھی ہوئی شیو اب ہلکی ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ بال بھی فوجی کٹ کروائے تھے۔۔۔۔۔ مگر سب سے بڑھ کر اسکی آنکھیں تھی جو اب اپنی چمک کھو چکی تھی۔۔۔۔۔۔ حسیب نے غور سے اسے دیکھا جو فریحہ کو تنگ کیے جارہا تھا مگر آنکھوں میں موجود اکیلا پن قائم تھا
’’اچھا بس!!! لڑنا بند کروں اور چلو چلے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ حسیب اٹھتے بولا
’’او یس!! لو یو بھائی اینڈ ہیٹ یوں‘‘حسیب کے گلے لگتے اسے محبت سے بولتے اسنے عبداللہ کو گھورا
عبداللہ کے چہرے کی مسکان تو اسکے ’’ہیٹ یوں‘‘ پر ہی مدھم ہوگئی تھی
’’ہالا!!‘‘ اچانک یہ نام زبان سے پھسلا اور آنکھوں میں نمی گھلنا شروع ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اسنے اپنے بہن بھائی کو دیکھا جو ہر فکر سے آزاد آپس میں ہنس رہے تھے
’’عبداللہ۔۔۔۔۔عبداللہ۔۔۔۔۔۔عبداللہ!!!!!‘‘ اسے بار بار بلاتی فریحہ یکدم اسکے کان میں چلائی
’’ہاں؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا
’’کہاں غم ہوں جانا نہیں ہے چلو چلے‘‘ فریحہ نے اسے کہاں
’’نہیں میرا موڈ نہیں تم لوگ جاؤں‘‘ عبداللہ بےزاریت سے بولا
’’عبداللہ چلو نا تم کہی بھی نہیں جاتے پلیز۔۔۔۔ بھائی آپ اسے بولے نا‘‘ فریحہ نے حسیب کو کہاں
’’عبداللہ آجاؤ‘‘ حسیب بولا تو عبداللہ نے سر اثبات میں ہلادیا
’’یس!!‘‘ فریحہ ہاتھ ہوا میں بلند کرتے بولی
وہ ابھی پارک میں انٹر ہی ہوئی تھی کہ ہوا میں اڑتی بال سیدھی اسکے سر پر آن لگی، فریحہ تو وہی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی، جبکہ اس کے ساتھ کھڑے عبداللہ کی تو ہنسی نکل گئی۔
’’ہاہاہا۔۔۔۔‘‘ عبداللہ کا تو قہقہ ہی نا رکے جبکہ حسیب تو واقعی پریشان ہوگیا تھا
اتنے میں فساد کی جڑ مطلب کے مائز بھاگتے ہوئے اسکے پاس آیا
’’اوئے میری بال۔۔۔۔شکر ہے مل گئی۔۔۔۔ میں تو ڈر ہی گیا تھا‘‘ فریحہ کے بلکل قریب بیٹھتے اسنے مزے سے بال اٹھائی اور وہاں سے چلتا بنا جب حسیب کی غصیلی آواز نے اسے روکا
’’کیا تم پاگل ہوں؟‘‘ حسیب غصے سے بولا
’’نہیں میں مائز ہوں‘‘ مائز نے جواب دیتے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے
مائر کے نام پر جہاں فریحہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا وہی عبداللہ بھی مائز کو داد دیے بنا نا رہ سکا
حسیب تو حیرانگی سے اس تیئس سال کے بچے کو دیکھ کر حیران رہ گیا، جب مائز کی نظر فریحہ پر پڑی جس نے فورا سے نظریں نیچی کرلی، جب مائز بھی اسکے برابر بیٹھا، گھاس پر ہاتھ پھیرنے لگا، ان تینوں بہن بھائیوں نے حیرت سے اسکی اس حرکت کو دیکھا
’’مائز کیا؟ کیا کر رہے ہوں تم؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’تمہارے پیسے دھونڈ رہا ہوں جو کھو گئے ہیں؟‘‘ وہ فریحہ کے زمین پر بیٹھنے کی وجہ یہ سمجھتے ہوئے بولا
’’اور آپ دونوں کو شرم نہیں آتی آپ نے اس بیچاری کی مدد نہیں کی‘‘ اب کی بار وہ اسکے دونوں بھائیوں کو لتاڑتے بولا، جس پر وہ دونوں حیران رہ گئے، جبکہ فریحہ نے مسکراہٹ دبا لی
’’مائز۔۔۔۔۔۔۔۔مائز یہاں کیا کر رہے ہوں؟‘‘ اتنے میں نیلم اور ہالا اسکی طرف آئی، ہالا تو عبداللہ کو وہی دیکھ کر راستے میں رک گئی جبکہ عبداللہ کی تو اسکو دیکھ کر بتیسی باہر نکل آئی۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں سے اچانک ہی عجیب سی روشنی پھوٹنے لگی۔۔۔۔ جبکہ ہالا کے تو قدم ہی جم کر رہ گئے
’’نیلی وہ نا میری فرینڈ کے پیسے غم گئے تھے وہی ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔اور دیکھو یہ بڑے بڑے دونوں بھائیوں کو اسکی مدد نہیں کر رہے‘‘ اسنے منہ بسورتے نیلم کو شکایت کی، جس پر حسیب کو تو غصہ آ گیا
’’او یو ایڈیٹ کب سے تمہاری بکواس برداشت کر رہا ہوں، ایک تو اپنی بال سے میری بہن کا سر پھاڑ دیا، اور اب دوسرا یہ بچوں جیسا بی ہیو کر رہے ہوں۔۔۔۔۔سٹوپڈ۔۔۔۔۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘ حسیب تو بول چکا مگر اب ہالا اور فریحہ دونوں کی نظریں نیلم پر تھی جو کہ تپ چکی تھی
’’ہاں ہاں بھیا بلکل سہی کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔۔ مجھے تو آپکا بھائی پاگل لگتا ہے جائے اسکا کسی مینٹل ہاسپٹل سے علاج کروائے‘‘ اب کی بار تو فریحہ اور ہالا دونوں نے آنکھیں میچ لی، نیلم کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوگیا تھا
اسنے بنا کچھ ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور دونوں بھایئوں کو اس سے نہلا دیا، فریحہ اب اٹھ چکی تھی حیرت کے مارے اپنے دونوں بھایئوں کو دیکھنے لگی، جن کے منہ کھل گئے تھے
’’زیادہ غصہ انسان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے تو احتیاط لازم ہے‘‘ حسیب کے سامنے کھڑی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بولی
’’یو فول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس سے پہلے کے حسیب کچھ بولتا نیلم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کروا دیا
’’نو لسن ٹو می یو مسٹر فول۔۔۔۔۔۔۔ آئیندہ سے اگر میرے بھائی کو پاگل کہنے کی کوشش کی یا اس حوالے سے کوئی بھی بات کی تو وہ حشر کروں گی کہ دیکھتے رہ جاؤں گے، اور یاد رکھوں گےکہ نیلم حسن کون تھی‘‘ ٹشو سے اسکے ماتھے پر چمکتی پانی کی ننھی بوندوں کو صاف کرتے وہ وارننگ زدہ لہجے میں بولی
’’اور یہ بات تم پر بھی لاگو ہوتی ہے‘‘ اب اسکا اشارہ عبداللہ کی طرف تھا جس نے فرمانبرداری سے ہاں میں سر ہلا دیا
حسیب تو اس لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا
’’ارے بچوں کب سے ویٹ کر رہی ہوں تم لوگ یہاں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ارے فریحہ بیٹا تم کیسی ہوں؟‘‘ ان تینوں سے بات کرتے یکدم ان کی نظر فریحہ پر پڑی
’’السلام علیکم آپی‘‘ فریحہ نے جھٹ سلام کیا
’’وعلیکم السلام میرا بچا کیسی ہوں؟‘‘ انہوں نے اسی شیریں لہجے میں جواب دیا
’’ماپی آپ جانتی ہے مائز نے بال اتنی زوروں سے ہٹ کیا کے وہ فلائے کرتا سیدھا فریحہ کے سر پر لگا‘‘ اس سے پہلے فریحہ کوئی جواب دیتی مائز فر سے بولتا ان سے لپٹ گیا
’’ہاں کیا سچ میں؟ تو آپ نے سوری کیا؟‘‘ پیار سے اسکے بالوں کو سنوارتے انہوں نے پوچھا
’’کہاں یہ سب آپس میں لڑنے لگ گئے‘‘ اسکا اشارہ ان چاروں کی طرف تھا
’’نیلم ۔۔۔۔ ہالا‘‘ انکا لہجہ یکدم سخت ہوگیا
’’بجو قسم لے لے میں نے کچھ نہیں کیا‘‘ ہالا نے فورا صفائی دی
’’ہاں پنکی نے کچھ نہیں کیا‘‘ مائز نے بھی اسکا ساتھ دیا
’’پنکی‘‘ عبداللہ کی تو اس کے نام پر ہنسی نکل گئی، جس پر ہالا نے اسے زبردست گھوری سے نوازہ
’’نیلم؟‘‘ اب انکا رخ اسکی طرف تھا
’’زکریہ باجی آپ نہیں جانتی انہوں نے مائز کو پاگل کہاں اور بولے اسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے‘‘وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی
’’ہاں تو پاگل کو پاگل ہی بولے گے نا‘‘ عبداللہ بڑبڑایا مگر ہائے رے اسکی بری قسمت جو اسکی بات نیلم کے کانوں تک پہنچ گئی
’’تم!!! ٹھہرو زرا بتاتی ہوں میں تمہیں‘‘ وہ اپنی آستینیں چڑھاتی عبداللہ پر چڑھ دوڑی، جو فورا حیسب کے پیچھے چھپ گیا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتی اسکا اٹھا ہاتھ حسیب کی فولادی گرفت میں تھا، جس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا
’’میں تمہارا لحاظ صرف اس لیے کر رہا ہوں کہا اول تو یہ کہ تم ایک لڑکی ہوں اور دوسرا میری ٹیچر کی بہن ہوں تم‘‘ سپاٹ لہجے میں بولتے اسنے نیلم کا ہاتھ چھوڑا اور اب زکریہ بجو کے سامنے جا کھڑا ہوا
’’کیسی ہے آپ‘‘ بہت محبت سے انکا ہاتھ اپنی آنکھوں پر لگاتے اسنے پوچھا، جبکہ باقی کی عوام حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہی تھی
’’میں ٹھیک بچے تم کیسے ہوں‘‘ وہی میٹھی مسکان
’’میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اور معافی چاہتا ہوں کہ مائز کے ساتھ اپنے رویے پر۔۔۔ آپکا بھائی ہے معلوم نہیں تھا‘‘ وہ نادم لہجے میں بولا تھا
’’آپ کا بھائی ہے معلوم نہیں تھا۔۔۔ہنہ کسی اور کو ہوتا تو کوئی شرمندگی نہیں تھی نا اپنے رویے پر‘‘ نیلم جل کر بولی
’’کوئی بات نہیں تم اپنی غلطی پر نادم ہو یہی کافی ہے‘‘ اسکا ہاتھ تھپتھپاتے وہ بولی اور ساتھ ہی نیلم کو آنکھوں کے ذریعے وارن کیا
’’چلے اب ہمیں اجاززت دے ہم چلتے ہیں‘‘ واک کرنے کا تو سارا موڈ غرق ہوگیا تھا
’’چلو جیسی تمہاری مرضی‘‘ انہوں نے فورس نا کیا
’’ایک بار پھر سے سوری۔۔۔۔۔ اور آپ نے سہی کہا انسان کو واقعی غصے کو قابو میں کرنا آنا چاہیے‘‘ نیلم کے پاس سے گزرتے وہ اسے دیکھ کر بولا
’’چلو بچو‘‘ فریحہ اور عبداللہ کو مخاطب کیے وہ بولا
’’ماپی آپ فریحہ کو روک لے نا وہ میرے ساتھ کھیلے‘‘ مائز نے ضد کی
’’چھوڑو مائز جانے دوں ہم ہے نا ہم کھیلے گے‘‘ نیلم نے اسے پچکارا
’’ہاں مائز ہم کھیلتے ہے چلو‘‘ ہالا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
’’نہیں مجھے اسی کے ساتھ کھیلنا ہے‘‘ اور شروع اسکی بچوں جیسی فرمائش
’’بیٹا سمجھنے کی کوشش کروں فریحہ کو جانا ہے نا گھر‘‘ انہوں نے سمجھایا
’’مجھے نہیں پتا کھیلنا ہے تو بس کھیلنا ہے‘‘
’’ہالا مائز کو اسکی میڈیسن دی تھی آپ نے؟‘‘ انہوں نے ہالا سے سوال کیا
’’وہ آئی ایم سوری آپی۔۔۔۔۔۔ میں بھول گئی سوچا گھر جا کر دے دو گی‘‘ وہ سر جھکائے مجرم کی طرح بولی
’’اٹس اوکے آپی میں رک جاتی ہوں کھیلنے کے لیے‘‘ فریحہ خود ہی بول پڑی
’’ارے نہیں بچا آپ فکر نا کروں‘‘ انہیں افسوس ہوا
’’ارے کوئی مسئلہ نہیں میں رک جاتی ہوں۔۔۔۔۔ بھائی دونوں واپس چلے جائے گے‘‘
’’فریحہ تم اکیلے کیسے آؤ گی؟‘‘ حسیب نے پریشانی سے پوچھا، جو بھی تھا وہ اسکے یوں اکیلے آنے کے حق میں نہیں تھا
’’ارے بھائی کوئی بڑی بات نہیں ، مائز کے گھر سے پانچ منٹ کی واک پر تو ہمارا گھرہے‘‘ اسنے حل نکالا
’’اچھا چلو جیسی تمہاری مرضی‘‘ وہ ہار مانتے لہجے میں بولے
’’اوکے تو ڈیسائڈ ہوگیا کہ میں مائز کے ساتھ کھیلو گی‘‘ فریحہ مسکراتے بولی تو مائز اپنی جگہ سے اچھل پڑا
’’چلو فریحہ میں ہم چل کر کھیلتے ہیں‘‘ مائز اسکا ہاتھ تھامے وہاں سے لے گیا
اگر اس وقت مائز کی جگہ کوئی اور ہوتا تو حسیب اور عبداللہ اسکا کچومر بنا دیتے مگر چونکہ مائز کی مینٹیلٹی کو مد نظر رکھتے انہوں کچھ نہیں کہا
’’اچھا ہمیں اجازت خدا حافظ‘‘ حسیب نے بولتے ہی وہاں سے باہر کی راہ لی مگر جاتے وقت نیلم کا پورا جائزہ لینا نا بھولا، اور دوسری طرف عبداللہ کا بھی یہی حال تھا
’’میں نے کہا تھا نا کہ ہم دوبارہ ضرور ملے گے۔۔۔۔۔دیکھ لو‘‘ ہالا کہ پاس سے ہوتے اسنے کان میں سرگوشی کی جو حسیب کی زیرک نگاہوں سے نا بچ سکی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: