Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Episode 8

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – قسط نمبر 8

–**–**–

اسامہ کے بولے کسی بھی حرف یا اسکی دکھائی گئی وڈیو پر ہالا کو ابھی تک یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ وہ خود روبرو عبداللہ سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر اسکے فلیٹ پر لگا تالا دیکھ کر ہالا کی آنکھیں بھر آئی۔۔۔۔۔ اسنے علی سے جھوٹ بول کر عبداللہ کا نمبر مانگا تھا مگر موبائل سوئچ آف آرہا تھا
ہالا کی حالت حد درجہ بری ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ رو رو کر اسنے اپنی آنکھیں سوجھا لی تھی۔۔۔۔۔۔ ریسرچ ورک کی وجہ سے وہ ابھی بھی اپنے ہوسٹل میں ہی تھی
ویسے بھی کچھ ہی دنوں میں انکا انٹرنشپ سمسٹر شروع ہونے والا تھا۔۔۔۔۔ علی آمنہ اور شام تینوں واپس آچکے تھے مگر عبداللہ کہاں گیا، کسی کو علم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ علی اور شام تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ عبداللہ کہاں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔ چار سالوں کی اس دوستی میں عبداللہ نے کبھی کبھی بھی انہیں اپنی فیملی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا اور نہ ہی انہوں نے جاننے میں انٹرسٹ لیا تھا
علی اور شام نے اپنی تئے پوری کوشش کی تھی عبداللہ کو ڈھونڈنے کی مگر لاحاصل۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مس ہالا حسن‘‘ وارڈن نے اسے پکارا جو اپنے کمرے کی جانب جارہی تھی
’’جی‘‘ ہالا نے راستے میں رک کر پوچھا
’’یہ آپ کے لیے‘‘ ایک خط اسکی جانب بڑھاتے وہ بولی
’’میرے لیے؟‘‘ ہالا خط ہاتھ میں لیے حیران تھی۔۔۔۔۔ بھلا آج کے دور میں خط کون لکھتا تھا۔۔۔۔۔ خیر!! کندھے اچکائے وہ اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے اپنی تمام چیزیں اپنی جگہ پر رکھی اور نماز کی نیت سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔ نماز ادا کرنے کے بعد اسنے اپنے لیے چائے بنائی اور بالکونی میں بیٹھ کر پینے لگی۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ اپنے ریسرچ ورک پر اسائنمنٹ بنانے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔ خط تو وہ کب کا بھول بھلا چکی تھی۔۔۔۔۔۔ اپنی اسائنمنٹ کمپلٹ کرنے کے بعد وہ موبائل اٹھانے کی نیت سے ٹیبل کی جانب بڑھی جب وہاں رکھا خط نظر آیا۔۔۔۔۔ وہ تو اسے بھول ہی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ ہالا نے خط نکالا اور اسے پڑھنا شروع کیا
’’ہالا!!!
کیسی ہوں!!!
میں عبداللہ۔۔۔۔۔۔ یہ خط کتنی ہمت سے لکھا یہ نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔ ہمت تو تمہارا سامنا کرنے کی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔ ہالا تم بہت اچھی ہوں، بہت اچھی ہوں، مگر میرے لیے نہیں۔۔۔۔۔تم نے مجھ سے محبت کا اعتراف کیا، مجھ سے جواب بھی مانگا، مگر نا تو میں تم سے محبت کرتا ہوں اور نا ہی اسکا کوئی جواب ہے میرے پاس۔۔۔۔ بس اتنا جان لو کہ تم ایک چیلنج تھی میرے لیے صرف ایک چیلنج۔۔۔۔۔۔۔میرا مقصد کیا تھا تم اب تک جان چکی ہوگی۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہیں اس وقت مجھ سے نفرت محسوس ہورہی ہوگی۔۔۔۔۔ ہونی بھی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔ مگر میری غلطی نہیں۔۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے محبت ہوئی یہ تمہاری غلطی ہے۔۔۔۔۔۔ بلکہ تم نے تو مجھ پر ثابت کردیا کہ تم بھی انہی لڑکیوں میں سے ایک ہوں جو تھوڑی سی توجہ ملتے ہی پکے پھل کی طرح جھولی میں گرجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر میں مانتا ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ ایسا گیم نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ میں تمہارا گناہگار ہوں ہالا مانتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔ اگر زندگی اور وقت نے مجھے مہلت دی تو ہم دوبارہ ملے گے ہالا۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں میں معافی مانگو گا تم سے۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے تم مجھے معاف کردوں گی۔۔۔۔۔ مگر غلطی تمہاری تھی ہالا۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف تمہاری‘‘ خط ختم ہوگیا مگر ہالا کی آنکھیں اسی پر ٹکی رہی۔۔۔۔۔۔ کتنی آسانی سے اس نے ہالا پر الزام لگا دیا تھا۔۔۔۔۔ وہ بھی تو تھا جس نے ہالا کو اشارہ دیا تھا۔۔۔
’’تم سہی کہہ رہے ہوں عبداللہ میری ہی غلطی تھی جو اپنے قیمتی جذبات تم پر ضائع کیے‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’آئی ہیٹ یو عبداللہ آئی رئیلی ہیٹ یوں‘‘ اسے واٹس ایپ میسج بھیجتے ہالا پھر سے رونے لگی
’’ہیلو؟‘‘ موبائل پر آتی زکریہ آپا کی کال پر اسنے موبائل اٹھایا
’’ہیلو ہالا کیسی ہوں بچے؟‘‘ زکریہ آپا نے محبت سے پوچھا
’’بجو!!‘‘ ہالا رونا شروع ہوگئی
’’ہالا بچے کیا ہوا ہے؟‘‘ زکریہ آپا کو اسکی فکر ہوئی
’’آپا!!۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ سب ختم ہوگیا آپا۔۔۔۔۔ آپ کی ہالا نے سب کچھ ختم کردیا۔۔۔۔ توڑ دیا آپکا مان، مٹی میں ملی دی آپ کی عزت۔۔۔۔ سب کچھ ختم کردیا اسنے‘‘ ہالا کی باتوں پر زکریہ آپا کا دل ڈوبنے لگا
دوسرے ہی دن زکریہ آپا ہالا کے ہاسٹل میں موجود تھی۔۔۔۔ ہالا انہیں سب کچھ بتاچکی تھی
’’آئی ایم سوری آپا، آپکو مجھ سے نفرت ہورہی ہوگی نا‘‘ ہالا انکی گود میں سر رکھے بولی
’’کیوں ہوگی نفرت؟‘‘ زکریہ آپا نے پوچھا
’’کیونکہ مان توڑا آپکا، آپ نے کبھی جھکنا نہیں سکھایا تھا اور میں جھک گئی۔۔۔۔۔۔ آپ نے ہمیشہ سے سکھایا کہ جھکو تو صرف اللہ کے سامنے اور میں نادان ایک انسان کے سامنے جھک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار میں رہتی کہ کب وہ بھی مجھے ان محبت بھری نگاہوں سے دیکھے گا۔۔۔۔۔۔کب کہے گا کہ ہالا مجھے بھی تم سے محبت ہے۔۔۔ انتظار رہتا۔۔۔۔۔۔ وہ جب ہوسپٹل میں تھا نا تو منتظر رہتی کہ کب وہ مجھے کوئی کام کہے، حکم کرے اور میں وہ پورا کروں۔۔۔۔۔ پاگل تھی نا میں بہت بڑی۔۔۔ مگر اب عقل آگئی ہے‘‘ زکریہ آپا بس اسے سنے جارہی تھی۔۔۔۔
اگلے کچھ دن زکریہ آپا ہالا کے پاس رہی تھی۔۔۔۔۔ انہی دنوں اسامہ کا رشتہ آیا تھا ہالا کے لیے جسکو زکریہ آپا نے سہولت سے منع کردیا تھا۔۔۔۔
ہالا کا بی ایس کمپلیٹ ہوچکا تھا اور اب وہ جارہی تھی سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔ ہالا اپنی فیملی کے ساتھ لاہور میں ہی ایک نئی سوسائٹی میں شفٹ ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسنے اپنا نمبر تک چینج کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئی
پہلے عبداللہ اور اب ہالا۔۔۔۔ علی آمنہ اور شام تینوں سخت پریشان تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارک سے آتے ہی وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔۔۔۔۔
’’اسے کیا ہوا ہے؟‘‘ نیلم نے حیرانگی سے پوچھا
’’کچھ نہیں بس تھوڑا سا تھک گئی ہے‘‘ زکریہ آپا نے جواب دیا
سچ ایک نا ایک دن ہالا کے سامنے آنا تھا مگر یوں انہیں علم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ زکریہ آپا کو ہالا کی فکر ستائے جارہی تھی
ہالا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ خط نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو اب وقت آگیا ہے کہ تم مجھ سے معافی مانگو عبداللہ۔۔۔۔۔۔ جیسا تم نے لکھا تھا‘‘ اس خط کے ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہالا غصے سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی ہالا بنا کسی سے ملے کالج کے لیےنکل گئی تھی۔۔۔۔۔ آج اسکی پہلی کلاس تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔زکریہ آپا اسے ناشتے کی ٹیبل پر ناپاکر سمجھ گئی تھی کہ وہ ان سے حد درجہ ناراض ہے۔۔
’’ارے یہ ہالا کہاں گئی؟‘‘ نیلم اسے ناپاکر پوچھ بیٹھی
’’کالج گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پہلا دن ہے اسکا۔۔۔۔۔۔ اسے وہاں ایز آ میتھس ٹیچر جاب ملی ہے‘‘ زکریہ آپا نے چائے کی چسکی لیتے جواب دیا
’’ہے؟ یہ کب ہوا؟‘‘ نیلم نے حیرانگی سے پوچھا
’’ایک دو دن پہلے‘‘ زکریہ آپا نے جواب دیا
’’حد ہے اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں‘‘ نیلم نے شکوہ کیا
’’تمہیں بتانے سے کیا ہونا تھا؟‘‘ زکریہ آپا نے حیرانگی سے پوچھا
’’میں بہن ہوں مجھے پتہ ہونا چاہیے‘‘ نیلم شکوہ کرنے سے بعض نہیں آئی
’’تو اب پتہ چل گیا نا کافی ہے‘‘ وہ بھی ہنوز پرسکون لہجے میں بولی
’’آپا!!‘‘ نیلم منمنائی
’’ڈرامہ مت کروں اور جاکر برتن دھوؤں‘‘ زکریہ آپا جھڑک کر بولی جس پر نیلم کا منہ بن گیا
’’اچھا جاتی ہوں‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کا ٹائم ہوتے ہی ہالا تیزی سے کالج سے نکلی اسے جلد از جلد یونی پہنچنا تھا
’’یا اللہ ہالا جلدی کر ورنہ لیٹ ہوجائے گی‘‘ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ ایک کالے رنگ کی چمچماتی کار کو پار کرتے اپنی کار کی جانب بڑھی
’’ہالا!!‘‘ کالے رنگ کی کار سے نکلے اس شخص نے ہالا کو پکارا
اپنے راستے میں رکی ہالا نے مڑکر دیکھا تو اسے اپنا سانس جاتا محسوس ہوا
’’عبداللہ!‘‘ اسکے لب ہلے
’’ہالا‘‘ عبداللہ مسکراتا اسکی جانب بڑھا
’’جی فرمائیے‘‘ ہالا نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔ عبداللہ کو اس سے ایسے ری ایکشن کی ہی امید تھی
’’ہالا بات سنوں میری۔۔۔۔۔ مجھے موقع دوں بولنے کا۔۔۔۔۔۔ تلافی کرنے کا‘‘ عبداللہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا
’’تلافی؟ ہاں تلافی۔۔۔۔۔آپ کو تلافی کرنا تھی نا‘‘ اسکے سامنے کھڑی دونوں بازوں سینے پر باندھے ہالا نے نظروں میں نظریں گاڑھے اچانک اس سے پوچھا
’’ہالا میری بات تو سن۔۔۔‘‘ اس سے پہلے عبداللہ کچھ کہہ پاتا ہالا نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا
’’آپ نے لکھا تھا اپنے خط میں کہ اگر ہم دوبارہ کبھی ملے تو آپ تلافی کرے گے۔۔۔۔معافی مانگے مجھ سے۔۔۔۔تو مانگے مجھ سے معافی۔۔۔کیجیے اپنا گناہ قبول۔۔۔۔اور اسکے بعد بھول جائے گا کہ آپ کسی ہالا کو بھی جانتے تھے۔۔۔جیسے ہالا بھول جائے گی کہ اسکی زندگی میں کوئی عبداللہ بھی آیا تھا” خود پر ضبط کرتی وہ مضبوط لہجے میں بولی
’’ہالا مگر میری بات۔۔۔۔۔۔‘‘
’’معافی۔۔۔۔۔ صرف معافی چاہیے آپکی۔۔۔۔۔۔۔ اور کوئی بات نہیں‘‘ ہالا نے سر نفی میں ہلایا
’’اور ہاں جب بات معافی کی ہوں تو آجائیے گا۔۔۔۔ تاکہ میں بھی آپ کو معاف کرسکوں اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ماضی کو ساتھ باندھے نا تو میں حال میں جی سکتی ہوں اور نا ہی میرا کوئی مستقبل بن سکتا ہے۔۔۔۔۔ تو اچھا ہوگا کہ ہم یہ معاملہ جلد از جلد سلجھائے تاکہ آپ اپنے اور میں اپنے راستے جاسکوں‘‘ ہالا پرسکون لہجے میں بولتی عبداللہ کا سکون غارت کرگئی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: