Mann Musafir Novel By Qanita Khadija – Last Episode 10

0
من مسافر از قانتہ خدیجہ – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

پورا راستہ خاموشی میں گزرا تھا نا ہالا نے کوئی بات کی اور نا ہی عبداللہ نے بات کرنے کی کوشش کی۔۔۔ نیلم کا ڈریس لیکر وہ دونوں واپس آرہے تھے جب راستے میں ہی عبداللہ کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔۔۔۔۔ لیکن یہ ان کی خوش نصیبی تھی کہ گھر پاس ہی تھا۔۔۔۔۔ صرف بیس منٹ میں وہ پیدل گھر پہنچ سکتے تھے
’’کیا ہوا؟‘‘ ہالا نے حیرت سے اسے پوچھا جو ٹائر دیکھ کر اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔۔۔۔۔
’’ٹائر پنکچر ہوگیا ہے‘‘ عبداللہ نے جواب دیا
’’تو اب؟‘‘ ہالا نے سوال کیا
’’اب یہ کہ گھر بیس منٹ کے واکنگ ڈسٹینس پر ہے اگر ہم چل کر جائے تو۔۔۔‘‘ عبداللہ نے بات ادھوری چھوڑ دی
’’ٹھیک ہے‘‘ ہالا کو تجویز بری نہیں لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ دونوں خاموشی سے ساتھ چلنا شروع ہوگئے۔۔۔۔ عبداللہ اور ہالا میں تھوڑی دوری تھی مگر دیکھنے والے کو یہی لگتا کہ وہ ساتھ ساتھ ہے
آج پورا دن اسکا عبداللہ کیساتھ گزرا تھا اور ایسے میں ایک بار بھی ہالا نے اسے سیگرٹ پیتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ یہ سوال کرنا چاہتی تھی مگرکس حق سے یہی بات اسے روکے ہوئے تھی
’’تمہیں کچھ پوچھنا ہے؟‘‘ عبداللہ نے اس سے سوال کیا جس پر ہالا گڑبڑا گئی
’’ہاں؟ ۔۔۔۔ نن۔۔۔۔نہیں مجھے کیا پوچھنا ہے‘‘ نظریں نیچی کیے وہ بڑبڑائی تو عبداللہ مسکراہ دیا
دو منٹ کی خاموشی کے بعد ہالا کی آواز اسکی سماعت سے ٹکڑائی
’’سیگرٹ نہیں پیتے اب آپ؟” اسکی آواز میں حیرت کا عنصر نمایاں تھا
” نہیں” اسکے ساتھ چلتا وہ بس اتنا ہی بولا
” کیوں؟” ہالا نہ حیرت سے اسے دیکھا’
” چھوڑدی” وہ اسکے ساتھ قدم ملاتے بولا
’’کیوں چھوڑ دی؟” اب کی بار آواز میں جھنجھلاہٹ واضع تھی
وہ ایک پل کو رکا اور مڑ کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا
’’کیونکہ اب کی بار تمہیں نہیں چھوڑ سکتا” اسکی آنکھوں میں دیکھے وہ اتنے جذب سے بولا کہ ایک پل کو ہالا کا دل چاہا وہ سب کچھ بھول جائے
’’کیا بات کرسکتے ہیں صرف دو منٹ؟‘‘ عبداللہ کی التجا پر آج ہالا نے اسے اجازت دے دی تھی
’’سامنے پارک میں بیٹھ کر کرلے؟‘‘عبداللہ کی بات پر ہالا نے ایک بار پھر سر ہاں میں ہلا دیا
وہ دونوں اس وقت بینچ پر زرا سے فاصلے پر بیٹھے تھے
’’سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے شروع سے ہی لفظ محبت سے نفرت تھی۔۔۔۔۔۔ میں نہیں مانتا تھا محبت کو۔۔۔۔۔ لڑکیوں کی محبت ہمیشہ فراڈ لگتی تھی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کو لگتا تھا کہ شائد وجہ میری وہ ٹویشن والی آپی ہے جو اپنی شادی سے بھاگ گئی یا پھر میری کلاس فیلو تھی جس نے گھر سٹڈی کے بہانے بلا کر مجھ پر اسے ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔۔۔۔ مگر وجہ کچھ اور تھی۔۔۔۔۔۔ میری ماں۔۔۔۔۔ میری ماں وجہ تھی ان سب کی۔۔۔۔۔۔ میں حسیب بھائی کا سگا بھائی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ میرے بابا ڈیڈ کے آفس میں ایک ورکر تھے۔۔۔۔۔۔۔ ایک دن ڈیڈ کو انکی وجہ سے کوئی بڑا پروجیکٹ حاصل ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسی لیے انہوں نے ہماری فیملی کو ڈنر پر بلایا تھا۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ کے کچھ بزنس حریف کو انکی کامیابی ہضم نہیں ہوئی تو انہوں نے ڈیڈ پر حملہ کروایا۔۔۔۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں میرے بابا اور ڈیڈ کی وائف، حسیب بھائی کی مام کی ڈیتھ ہوگئی۔۔۔۔۔ ماما کی عدت پوری ہوئی تو ہمیں میرے تایا نے گھر سے نکال دیا۔۔۔۔ وہ کسی کا بوجھ اپنے سر نہیں لینا چاہتے تھے۔۔۔ انہی دنوں ماما نے ڈیڈ سے کانٹیکٹ کیا مدد کے لیے تو انہوں نے ماما کو شادی کا پیغام دیا۔۔۔۔۔۔ اور اس بات کا وعدہ بھی کیا کہ وہ میری پوری ذمہ داری لے گے۔۔۔۔۔ ماما راضی نہیں تھی مگر ممانیوں کے طعنے۔۔۔۔ اسی لیے ماما نے ہاں کردی۔۔۔۔۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا۔۔۔۔۔ مجھے ایک فیملی مل گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہماری فیملی میں فریحہ آئی اور ہماری فیملی کمپلیٹ ہوگئی۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ کے ایک دوست جو کہ پروڈیوسر تھے انہیں ماما کی خوبصورتی بھا گئی۔۔۔۔۔ وہ انہیں ڈرامہ میں کاسٹ کرنا چاہتے تھے مگر ڈیڈ اسکے سخت خلاف تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ کے دوست نے ماما کو ورغلانا شروع کردیا۔۔۔۔۔ ماما اور ڈیڈ کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا اور اسی بات کا احساس اس نے ماما کو دلوایا۔۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ بدلنا شروع ہوگئی۔۔۔۔۔ وہ ہمیں ٹائم نہیں دیتی۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پارٹیز میں جانا شروع کردیا۔۔۔۔۔ ڈیڈ نے ماما کو بہت بار سمجھایا مگر وہ نہیں مانی اور آخر میں طلاق کی ڈیمانڈ کی۔۔۔۔۔۔ اس چیز نے ڈیڈ کو اندر سے توڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے منت کی ۔۔۔۔۔ واسطے دیے۔۔۔۔ مگر ماما اس وقت غرور میں تھی۔۔۔۔۔وہ ڈیڈ کی محبت بھول گئی تھی۔۔۔۔ انہی دنوں میں سے ایک ایسا دن بھی آیا۔۔۔۔۔۔ حسیب بھائی تب اپنے دوستوں کیساتھ انٹرنشپ کے لیے دوسرے شہر گئے تھے جبکہ فریحہ کا مری کا ٹرپ تھا ۔۔۔۔۔۔۔ میں کالج سے گھر آیا جب چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دی۔۔۔۔۔۔ ماما اپنا سامان اٹھائے نیچے آرہی تھی جبکہ ڈیڈ انہیں روک رہے تھے مگر انہوں نے ایک بار بھی سنا نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور اسی ہاتھا پائی میں ماما نے ڈیڈ کو دھکا دیا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے آگرے۔۔۔۔۔۔۔ وہ بلکل میرے قدموں میں گرے تھے ہالا۔۔۔۔۔ انکا پورا چہرہ خون سے بھیگا ہوا تھا‘‘ وہ ہالا کی طرف دیکھ کر بولا
’’ڈیڈ!!‘‘ اٹھارا سال کا عبداللہ انکی جانب بھاگا
’’ڈیڈ آنکھیں کھولے ڈیڈ‘‘ عبداللہ نے انہیں ہلایا۔۔۔۔۔ جبکہ شازیہ سیڑھیوں پر سن کھڑی تھی
’’ڈرائیور۔۔۔۔ ڈرائیور انکل جلدی آئے‘‘ ڈرائیور کے آتے ہی عبداللہ نے انہیں اٹھایا اور ہاسپٹل بھاگا
’’سوری بٹ ہی از نو مور آپ نے دیر کردی‘‘ ڈاکٹر کے الفاظ تھے کہ کیا۔۔۔۔۔۔ عبداللہ وہی زمین پر گر گیا اور دھاڑے مار مار کر رونا شروع ہوگیا
حسیب اور فریحہ دونوں ارجنٹلی واپس آئے تھے۔۔۔۔۔۔ پورے خاندان میں کہرام مچا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ شازیہ۔۔۔۔۔۔ وہ تو بلکل چپ تھی۔۔۔۔۔ یہ کیا کردیا انہوں نے۔۔۔۔۔ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا سہاگ اجاڑ دیا۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ان سے ایک بار بھی نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔ عدت ختم ہوگئی تھی مگر شازیہ ابھی تک عبداللہ سے نہیں ملی تھا، نا عبداللہ کا ان سے کوئی سامنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ حسیب اور فریحہ تو ان سے ملتے، ان کے پاس بیٹھتے۔۔۔۔۔۔۔ اب شازیہ کو احساس ہوا تھا کہ اپنی خود غرضی اپنے، غرور میں انہوں نے کیا کیا کھودیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے حسیب کو سب کچھ سچ بتادیا تھا، سچ تو شازیہ نے بھی حسیب کو بتادیا تھا اور اب انہیں اپنی سزا کا انتظار تھا مگر حسیب نے سزا پر معافی کو ترجیح دی اور اسی بات پر عبداللہ نے گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا۔۔۔۔ فریحہ ان سب باتوں سے لاعلم تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ بھی اسلام آباد چھوڑ کر لاہور آگیا تھا اور اسکی فیملی کے بارے میں یہاں ہر کوئی لاعلم تھا۔۔۔۔۔
’’محبت پر کبھی یقین نہیں رہا مجھے۔۔۔۔ ہالا ۔۔۔۔۔ محبت ایسی تو نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ بتاؤں کیا ایسی ہوتی ہے؟‘‘ عبداللہ نے ہالا سے سوال کیا جبکہ وہ لاجواب تھی
’’مجھے بتاؤں میں کیا کرتا۔۔۔کیسے یقین کرلیتا۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ جو کیا وہ غلط تھا مگر جو میرے ساتھ ہوا سہی وہ بھی نہیں تھا‘‘
’’تو کیا۔۔۔ آپ نے مجھ سے بدلا لیا؟ میں نے۔۔۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا تھا‘‘ ہالا نے نم آنکھوں سے پوچھا
’’جانتا ہوں اسی لیے معافی کا طلب گار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔معاف کردوں‘‘ اسکے دونوں ہاتھ تھامے وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا
ہالا چند پل اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ کتنا بدل گیا تھا وہ کتنا کمزور سا لگ رہا تھا
’’گھر چلے دیر ہورہی ہے‘‘ اچانک اسکے ہاتھوں سے ہاتھ کھینچے وہ اپنی جگہ سے اٹھتی بولی۔۔۔۔۔ عبداللہ نے لمبی سانس خارج کی
’’چلو‘‘ عبداللہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا فنکشن کمبائن رکھا گیا۔۔۔۔ تمام مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ نیلم کو لاکر حسیب کے برابر بٹھایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ رسموں کی ادائیگی شروع ہوگئی تھی
ہالا رسم ادا کرنے کے بعد سب سے دور کھڑی عبداللہ کو دیکھ رہی تھی جو کسی لڑکی سے مسکراہ کر بات کررہا تھا۔ ہالا کو تکلیف ہوئی تھی
’’وہ سروج ہے میری بیوی‘‘ اسے اپنے ساتھ سے آواز آئی۔۔۔۔ ہالا نے ایک آئی برو اچکائے اسے دیکھا۔۔۔ جیسے پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ بھئی تم کون ہوں
’’اوہ!!! میں موسی۔۔۔۔۔۔۔ موسی علی زماد۔۔۔۔۔۔ اور وہ سویٹ اور بیوٹیفل لیڈی وائف ہے میری۔۔۔۔۔ ویسے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں بھی بلکل تمہارے جیسا فیل کررہا تھا‘‘ موسی مسکرا کر بولا
’’کیسی فیلنگ؟‘‘ ہالا ے حیرت سے پوچھا
’’جیلس۔۔۔۔۔ میں اپنی بیوی کو اس انسان کیساتھ دیکھ کر جیلس فیل کررہا تھا‘‘موسی نے دوبارہ جواب دیا
’’بائے دا وے فکر مت کروں وہ تمہارا ہے‘‘ موسی اسکی جانب دیکھتے بولا
’’کون؟‘‘ ہالا چونکی
’’وہی جسے میری بیوی کیساتھ دیکھ کر تم جیلس ہورہی تھی‘‘
’’میں جیلس نہیں ہوں‘‘ ہالا نے سر نفی میں ہلایا
’’اور میں بےوقوف نہیں ہوں‘‘موسی ہنستے بولا
’’وہ آپ کی بیوی سے فلرٹ کررہا ہوگا‘‘ ہالا نے اسے غصہ دلانا چاہا
’’نہیں وہ اسکا احترام کرے گا‘‘
’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ ہالا حیران ہوئی
’’عمیر کو جانتی ہوں تم؟‘‘ موسی نے سوال کیا تو ہالا نے سر اثبات میں ہلادیا
’’ وہ میری بیوی سے پہلے عمیر کی منکوحہ رہ چکی ہے۔۔۔۔۔ انکی مایوں والے دن عمیر کی کار ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی‘‘ موسی نے اسے بتایا تو ہالا نے اسے لڑکی کو غور سے دیکھا جو نفیس سی مسکان لیے اب زکریہ آپا سے مل رہی تھی
’’ویسے جن سے محبت ہوں ان پر شک نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ محبت تو اعتماد اور بھروسے کا دوسرا نام ہے‘‘ موسی اسکے پاس جھکتا بولا
’’اور اگر آپ کا وہی اعتماد توڑ دیا جائے۔۔۔۔‘‘ ہالا نے برجستہ سوال کیا
’’تو موو آن کرے‘‘ موسی نے کندھے اچکائے
’’کوشش جارہی ہے مگر لاحاصل‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’کتنے سالوں سے کوشش کررہی ہوں؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’ڈیڑھ سال سے‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’بس!! یہاں تو لوگوں کو سالوں لگ جاتے ہیں موو آن کرنے پر اور تم صرف ڈیڑھ سال کی بات کررہی ہوں۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر میں کیا کروں؟ میں چاہے جو مرضی کرلوں اسے بھول نہیں سکتی‘‘
’’کیا وہ تمہیں بھول گیا ہے؟‘‘ موسی کے سوال پر سر نفی میں ہلا
’’نہیں وہ شرمندہ ہے معافی چاہتا ہے۔۔۔۔۔ اور موقع بھی‘‘ ہالا نے جواب دیا
’’اور تم کیا چاہتی ہوں؟‘‘
’’پتا نہیں‘‘ ہالا نے کندھے اچکائے
’’میں بتاؤں تمہیں کیا کرنا چاہیے‘‘ موسی اسکی جانب دیکھتے بولا
’’کیا؟‘‘ ہالا نے فورا پوچھا
’’اسے موقع دوں، مگر بھروسہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اسے موقع دوں کہ وہ تمہارا بھروسہ جیتے‘‘
’’اور اگر پھر سے توڑ دیا میرا بھروسہ؟‘‘ ہالا کے پاس ایک اور سوال تھا
’’تو وہ تمہارا نصیب اس سے زیادہ میرے پاس گیان نہیں‘‘ ہنس کر بولتا موسی وہاں سے چلا گیا
موسی تو وہاں سے چلا گیا مگر ہالا کو پھر سے الجھا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے آپا بتائے تو سہی ہم نیلم باجی کے گھر اتنا سب کچھ کیوں لیکر جارہے ہیں کیا کوئی تہوار ہے؟‘‘ ہالا نے مسکراتے ہوئے مائز کو دیکھ کر زکریہ آپا سے پوچھا
’’ہاں بھی خوشی کی ہی خبر ہے۔۔۔۔۔۔ فریحہ کے لیے مائز کا رشتہ مانگنے جارہے ہیں ہم‘‘ زکریہ آپا مسکراتے بولی
’’سچی میں‘‘ ہالا چہکی
’’مچی میں‘‘ زکریہ آپا مسکرا کر بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ کو انگوٹھی پہنا دی گئی تھی جب مائز سب سے اجازت لیکر اس سے ملنے گیا تھا۔۔۔۔۔ سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے۔۔۔۔ عبداللہ گھر نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ ہالا بور ہوتی باہر گارڈن میں آگئی اور وہی بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ آس پاس نظریں دوڑائے اسے گیلری نظر آئی۔۔۔۔ ہالا کے قدم اس جانب بڑھے۔۔۔۔۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسے مختلف پینٹنگز نظر آئی۔۔۔۔۔ جبکہ بیچ میں ہی اسکی اور عبداللہ کی ایک پینٹنگ تھی جس میں وہ بینچ پر بیٹھی تھی اور عبداللہ نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے تھے۔۔۔۔۔۔ جبکہ پینٹنگ کے آخر میں بڑا سا سوری لکھا تھا
’’سوری‘‘ ہالا بڑبڑائی
’’سوری‘‘ عبداللہ جو ابھی ابھی آفس سے آیا تھا ہالا کو یہاں آتے دیکھ چکا تھا اسی لیے اسکے پیچھے چلا آیا
’’سوری پلیز‘‘ عبداللہ کا لہجہ منت بھرہ تھا
’’نہیں‘‘ ہالا ضدی بچے کی طرح سر نفی میں ہلائے بولی
’’کیوں؟‘‘ عبداللہ نے مسکرا کر پوچھا
’’اگر پھر سے اعتبار توڑا؟‘‘ ہالا نے خدشہ ظاہر کردیا
’’تو گولی سے اڑا دینا‘‘ عبداللہ نے آئیڈیا دیا
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر مجھے گولی چلانا نہیں آتا‘‘ ہالا نے جواز پیش کیا
’’تو تم واقعی چلانے کا ارادہ رکھتی تھی؟‘‘ عبداللہ نے حیرت سے پوچھا
’’ہاں ‘‘ اسنے جھٹ سر ہلایا
’’تو معافی سمجھو؟‘‘ عبداللہ نے ابرو اچکائے پوچھا
’’ہمم‘‘ ہالا نے سر اثبات میں ہلایا
’’موقع دوں گی مجھے؟‘‘ عبداللہ نے دونوں ہاتھ تھامے
’’ہاں مگر وعدہ کریں کہ اس بار چھوڑوں گے نہیں‘‘ ہالا کے لہجے میں درخواست تھی
’’بلکل بھی نہیں‘‘ اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکڑاتے وہ بولا تو ہالا مسکراہ دی
’’رشتہ پکا سمجھو؟‘‘ دروازے سے ٹیک لگائے نیلم نے پرسکون لہجے میں پوچھا تو ہالا فورا عبداللہ سے دور ہوئی
’’ہاں پکا سمجھے‘‘ عبداللہ ہالا کو نظروں میں رکھے بولا
’’تو آپا سے منگنی کی بات کرلوں‘‘ نیلم مسکرائی
’’منگنی کیوں؟ شادی کی کرے بس بہت صبر کرلیا اور نہیں‘‘ عبداللہ شوخ ہوا تو ہالا نے اسے گھورا
’’صرف موقع دیا ہے بھروسہ نہیں‘‘ ہالا گھور کر بولی
’’کوئی بات نہیں بھروسہ بھی جیت لوں گا ۔۔۔۔۔۔ ایک بار پناہوں میں تو آجاؤں‘‘ عبداللہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ہالا کے گال دہک اٹھے
’’اوہوں ۔۔۔ اوہوں۔۔۔۔۔ میں یہی ہوں ابھی‘‘ نیلم گلا کھنکھار کر بولی
’’پھر تو آپ کو چاہیے کہ آپ فورا واپس چلی جائے۔۔۔۔۔۔ اور ہمیں اکیلے کچھ موقع دے‘‘ عبداللہ ہالا کو آنکھ مارتے بولا
’’بدتمیز‘‘ ہالا عبداللہ کو دھکا دیتے وہاں سے بھاگی تو عبداللہ کا قہقہ گونج اٹھا
نیلم نے ان دونوں کو یوں دیکھا تو انکی دائمی خوشیوں کے لیے دعا مانگی….

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: