Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 1

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 1

–**–**–

اس کی ماں نے اس پر ایک عجیب قسم کا تجربہ کرنا چاہا تھا۔
سب سے پہلا ظلم توں ماہی نے اپنی بیٹی منت پر یہ کیا کہ جب وہ دودھ کے لئے روتی رہتی تو ماہین بہت دیر تک اسے روتا ہوا دیکھتی اور اسے دودھ نہیں دیتی تھی۔ماہین چاہتی تھی کہ منت کو ہر چیز ملے سہی لیکن بہت رونے دھونے کے بعد۔جب ماہی کو لگتا تھا کہ اب زیادہ بھوک منت برداشت نہیں کر سکتی ہے تو وہ اسے دودھ پلا دیتی تھی۔پھر جب منت تھوڑی بڑی ہوئی تو ماہین اسے کھانے کے لیے ترسانے لگی۔شدید بھوک کی حالت میں دوسال کی منت روتی رہتی تھی مگر ماہین اسے کھانا نہیں دیتی تھی۔پھر جب ماہین کو اندازہ ہوتا کہ اس سے زیادہ بھوک منت برداشت نہیں کر سکتی ہے تو وہ اسے کھانا کھلا دیتی تھی وہ بھی پیٹ بھر کر۔پھر جب منت پانچ سال کی ہوئی تو ماہی نے اسے اسکول میں داخل نہیں کروایا۔یہ سوچ کر کے تعلیم بھی اسے دیر سے م ملے۔ لیکن پھر اس کے رشتے داروں میں سے بہت سے لوگوں نے زور دیا تو ماہین نے منت کو اسکول میں داخل کروا دیا جب وہ چھ سال کی ہوئی۔ماہین نے منت کو نہ اٹھایا نہ گھمایا پھرایا نہ ہی ان چیزوں کی عادت ڈالی۔تو منّت بھی سمجھ گئی تھی کہ وہ جتنا رولے اس کی ماں سے نہیں اٹھائے گی اس لئے وہ چپ چاپ بیٹھی رہتی تھی۔ماہین چاہتی تھی کہ منت دوسرے بچوں سے بلکہ دوسرے تمام انسانوں سے الگ ہواور اُسکی زندگی سب سے الگ طرح سے گزرے۔۔۔اس لئے ماہین نے اسے اچھے کپڑوں کیلئے ترسانا شروع کر دیا ہر اسے عام سے کپڑے لے کر دینے لگی۔منت کو اب عجیب قسم کی احساس کمتری نے گھیر لیا تھا۔وہ 10 سال کی ہوچکی تھی۔اسکول کے علاوہ وہ کہیں باہر آتی جاتی نہیں تھی۔ اس نے اب تک جو بھی سیکھا تھوڑا بہت وہ اسکول سے ہی سیکھا اگر اس نے اپنے اور اپنی ماں کے علاوہ دوسرے انسان دیکھے تو وہ اسکول میں ہیں دیکھے۔وہ ایک ایسی بچی تھی جس کو گھر میں کارٹون دیکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔اس کے گھر میں زندگی کی ہر نعمت موجود تھی وہ ایک بہت اچھا اور ویل سیٹلڈ گھر تھا۔مگر اچانک ہی ایک دن ماہین کو احساس ہوا کہ یہ گھر اس کی بیٹی کے لئے صحیح نہیں ہے۔ اگر منت شروع میں ہی اتنے بڑے گھر میں رہے گی تو اس کو احساس کیسے ہوگا کہ نعمتیں کیسے حاصل کی جاتی ہیں اس کو نعمتوں کی قدر کیسے ہوگی اور یہی بات سوچ کر ماہین نے فیصلہ کیا کہ وہ منت کو ایک چھوٹے سے شہر اور ایک چھوٹے سے گھر میں لے کے جائے گی۔اس لئے وہ بڑا شہر چھوڑ کر چھوٹے شہر میں آ گئی اور وہاں اس نے ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔اس نے اپنا گھر کرائے پر چڑھا دیا۔اور فلیٹ کرائے پر لے لیا۔وہ چاہتی تو اپنا فلیٹ لے سکتی تھی لیکن وہ منت کو احساس دلانا چاہتی تھی کہ ہم کرایہ بھرتے ہیں ہمارے پاس عیش و آرام نہیں ہیں اور ہمیں اس سے خود حاصل کرنا ہوگا۔11سالہ منت اپنا اسکول اور اپنا شہر چھوڑ کر ایک اجنبی سے ہر میں آگئی تھی اپنا بڑا گھر چھوڑ کر ایک دو کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں آ گئی تھی۔یہ فلیٹ اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا۔یہ نئی بلڈنگ تھی جو حال ہی میں تیار کی گئی تھی اور اس میں شفٹ ہونے والے تمام لوگوں کو ایک ماہ کا عرصہ ہوا تھا شفٹ ہوئے۔منت فلیٹ میں آوازیں سنتی رہتیں اس کے عمر کی بچیاں باہر راؤنڈ میں کھیلتی تھیں۔منت کھڑکی سے ان بچیوں کو کھیل تا ہوا دیکھتی تھی۔لیکن وہ سوال کرتی تو کس سے کرتی کہ وہ ان بچیوں کے ساتھ کیوں نہیں کھیل رہی ہے؟ماہین تو اس سے ضرورت کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتی تھی وہ اپنے خیالوں میں کھوئی رہتی تھی. ماربل کے چمچماتے ہوئے فرش پر ایک فوم پڑا ہوتا تھا. جس میں منت اور ماہین ساتھ سوتی تھیں۔کچن میں ضرورت کا تھوڑا سا سامان پڑا ہوتا تھا۔پڑوس کی عورتوں نے ماہین کے گھر آنا جانا شروع کردیا تھا وہ ماہین سے روابط بڑھانا چاہتیں تھیں۔اس لئے نہیں کہ انہیں ماہین سے دوستی کرنے کا شوق تھا اس لیے کہ ان کا تعلق جس طبقے سے تھا وہاں پر پڑوسیوں سے لین دین ضروری ہوتی تھی۔اور یہی لین دین ان سب کو آپس میں جوڑے رکھتی تھی۔شروع میں تو ماہین کون اُن کا آنا جانا بالکل پسند نہیں تھا لیکن ایک دن گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بجلی کٹ گئی اور بالآخر ماہی کو گھر سے باہر نکلنا پڑا اور پڑوس سے مدد لینی پڑی۔اس کی پڑوسن نفیسہ کا شوہر جو کہ یہ کام اچھے طریقے سے کر سکتا تھا اس نے آکر بجلی کی تمام تاریں ٹھیک کر دی تھی۔اس دن ماہین کو احساس ہوا کہ اسے فلیٹ والوں کیساتھ کنیکٹڈ رہنا چاہیے۔
یہاں ماہین نے منت کو ایک نئے سکول میں داخل کروادیا۔اسکول اچھا تھا اور گھر کے قریب بھی تھا۔ماہین خود روز منت کو اسکول چھوڑنے جایا کرتی تھی اور اس بیچ دونوں میاں بیٹی کی کوئی بھی بات نہیں ہوتی تھی ۔اسکول کا سارا راستہ خاموشی سے کٹتا تھا۔واپسی بھی اسی خاموشی سے ہوتی تھی۔تیس سال کی عمر میں ماہین کے چہرے پر جو سختی آگئی تھی وہی سختی 12 سال کی منت میں بھی آ گئی تھی۔ماہی نے منت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسکول میں کوئی دوست نہیں بنائے گی۔اور اگر اسے پتا چلا کہ منت نے کوئی دوست بنائی ہے تو وہ دن اسکول میں منت کا آخری دن ہوگا۔منت کو اسکول میں کوئی اتنی دلچسپی تھی تو نہیں کہ وہ یہاں سے نکلنا نہ چاہتی ہوں لیکن اسکول وہ واحد جگہ تھی جہاں جا کر اس کو اچھا لگتا تھا۔وہ فطری طور پر ذہین لڑکی تھی۔پڑھائی میں اچھی تھی۔اوپر سے ماہین کا زور تھا کہ وہ دل لگا کر پڑھے اور اول نمبروں پر ہمیشہ آتی رہے۔وہ اوّل تو نہیں آتی تھی لیکن بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو جایا کرتی تھی۔وہ جو چودہ سال کی ہوئی تو ماہی نے اسے گھر کے کاموں میں لگانا شروع کردیا۔گھر میں کوئی کام تھا تو نہیں لیکن جھاڑو لگانا پھر ماربل پر پونچھا لگانا اور پھر روٹیاں پکانا اس کی ذمےداری تھی۔صاف ستھرے گھر کو روزانہ صاف کرنا اب اس کی ذمہ داری تھی۔اس شہر کی ہواؤں کی وجہ سے دھول مٹی بہت جمع ہوجاتی تھی۔تو صرف مٹی کی وجہ سے جھاڑو کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔ماہین ایک ایسی ذہنی مریضہ تھی جو بظاہر بالکل نارمل لگتی تھی اور کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے دماغ میں اس طرح کی عجیب و غریب باتیں چل رہی ہے۔اس کے خاندان میں بھی زیادہ لوگ نہیں تھے۔ماہین کی شادی کے بعد ہی اس کے والدین بھی چل بسے۔اس لئے وہ اب مکمل طور پر خود مختار تھی۔ماہی منت کو ڈراتی نہیں تھی اسے مارتی نہیں تھی۔اگر وہ منت کو مارتی ہیں تو منت کو کوئی شکایت ہوتی کہ ہاں میری ماں مجھے مارتی ہے۔لیکن اس نے تو منت کو شکایت کا کوئی موقع ہی نہیں دیا۔سیدھی سیدھی سی زندگی چل رہی تھی دونوں ماں بیٹی کی۔بیچ میں کسی قسم کی کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے کا مزاج سمجھنے لگے۔ان دونوں کے مابین خاموشی بولتی تھی۔پڑوس کی عورتوں کی زور دینے پر ماہین نے منت کو بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔اب وہ اپنی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ کبھی کبھار کھیلتی تھی۔مگر ان میں سے کوئی بھی اس کی پکی والی دوست نہیں بن سکی۔لیکن کوئی کسی کی چاہے کیسی اور کتنی ہی تربیت کیوں نہ کر لے یہ بات حقیقت ہے کہ ایک وجود کو جب خدا دنیا میں بھیجتا ہے تو اس کی اپنی ایک سوچ ہوتی ہے اپنے جذبات و احساسات ہوتے ہیں۔ہر انسان دنیا میں کوئی خاصیت لے کر آتا ہے اورمنت بھی اپنے اندر بہت ساری خصوصیات لے کر آئی تھی مگر افسوس کی بات تھی کہ اس کی ان خصوصیات کو سمجھنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ایک دن پڑوس کی ایک بچی نے منّت کو ایک کتاب دی۔وہ بچوں کی کہانیوں کی کتاب تھی۔اس کے بعد منت کو کتابیں پڑھنے کی عادت ہو گئی۔پڑوس کی نجلا اب سے دوسری کتابیں بھی دیا کرتی تھی۔
“امی مجھے کچھ پیسے چاہیے۔۔۔” یہ پہلی فرمائش تھی جو 14 سال کی عمر میں منت نے اپنی ماں سے کی تھی۔ماہین تو بہت دیر تک اس کو دیکھتی رہی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ منت ہی ہے نہ جو مجھ سے پیسے مانگ رہی ہے۔۔۔
کس لئے چاہیے پیسے؟؟؟ ماہین نے حیران ہو کر پوچھا۔
کچھ کتابیں لینی ہے۔۔۔منت نے آرام سے کا حال اس کے دل میں کوئی خوف نہیں تھا کہ اس کی ماں اس فرمائش پر اس کو تھپڑ مارے گی کیونکہ ماہی نے کبھی بھی اس کو نہیں مارا تھا۔ماہی نے اسے کبھی کوئی جسمانی اذیت نہیں دی تھی۔ماہی نے اسے صرف اور صرف ذہنی اذیت دی تھی۔ماہین کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک شاہکار تیار کر رہی ہے۔لیکن ایک ذہنی مریض صرف خود کو صحیح اور سب کو غلط سمجھتا ہے۔ماہین کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ اسکے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔
تم جاؤ گی کتابیں لینے؟ماہی نے حیرت سے سوال کیا.
نہیں نجلا کو دوں گی وہ مجھے کتاب منگوا کر دی گی وہ خود بھی اپنے لئے کتابیں منگواتی ہے۔منت کی بات پر ماہین سوچ میں پڑ گئی۔پھر اچانک سے اٹھی۔اپنی چادر اوڑھی۔جوتے پہنو چلو ہم دونوں ساتھ چلتے ہیں تو میں جو کتابیں چاہیے میں تمہیں لے کر دیتی ہوں۔
منت خوش نہیں ہوئی تھی۔حالانکہ اسی اس بات پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ اس کی ماں خود اس کے ساتھ جارہی ہے اس کو کتابیں دلوانے کے لئے۔14سال کی منت کو یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ خوشیاں اسے راس نہیں آتی ہیں۔وہ چپ چاپ اپنی ماں کے ساتھ چلی گئی۔
ماہی نے اسے وہ تمام کتابیں لے کر دیں جو وہ چاہتی تھی۔ماہین کی 14 سالہ زندگی میں یہ پہلی فرمائش تھی جو اسی وقت پوری ہو گئی تھی۔ورنہ اسے ہر چیز مل تو جایا کرتی تھی لیکن بہت دیر بعد۔
ماہین یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ منت کس قسم کی کتابیں لیتی ہے۔منت نے کچھ کہانیوں کی کتابیں لیں۔
اس دن کے بعد ماہین الرٹ ہو گئی تھی۔ہوں سمجھ گئی تھی کہ اب وہ منت پر زیادہ پابندیاں نہیں لگا سکتی ہے۔زیادہ پابندیاں منت کو باغی بنا دیں گی۔وہ اسے باغی نہیں بنانا چاہتی تھی۔وہ اُسے محروم بنانا چاہتی تھی۔محبتوں سے محروم، خوشیوں سے محروم، توجہ سے محروم، دولت سے محروم۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ ماہی چاہتی تھی کہ اس کو یہ سب نہ ملے۔ماہین چاہتی تھی کہ اس کو یہ سب تڑپ تڑپ کر سسک سسک کر ملے۔۔۔کیونکہ یہ سب چیزیں ماہین کو بنا تڑپے بنا سسکے اور بنا مانگے مل گئی تھی۔ماہی نہیں جانتی تھی کہ محرومی کیا ہے۔اسی لیے وہ منت کو بتانا چاہتی تھی کہ محرومی کیا ہے۔ماہی نے کبھی محرومی کی لذت نہیں دیکھی تھی۔اور وہ اس محرومی کا ذائقہ اپنی بیٹی کو چکانا چاہتی تھی۔اسے لگتا تھا کہ ہر کوئی یہی چاہتا ہے۔لیکن اسے غلط لگتا تھا۔ہر کوئی یہ نہیں چاہتا تھا۔ہر کوئی تو وہ نعمتیں آسائشیں اور محبتیں چاہتا ہے جو ماہین کو بنا مانگے مل گئی تھی۔بے تحاشہ دولت۔والدین کا پیار۔۔۔ارسل کی محبت۔۔ہم جو اس نے چاہا سے ملا۔۔۔اور ارسل سے علیحدگی میں اس کی اپنی خواہش تھی۔۔۔ورنہ ارسل تو اسکے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا مگر کچھ مجبوریوں کی وجہ سے رہ نہیں سکا۔۔۔
وقت گزرتا گیا اور منت 19 سال کی ہوگئی۔انسان چاہے کتنا ہی کسی کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنا چاہیے لیکن نہیں ڈھال سکتا۔کوئی کسی کی سوچ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ہر بچہ دنیا میں اپنی سوچ لے کر آتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ اس کی سوچ دنیا کی سامنے آنا شروع ہو جاتی ہے۔اور منت کو بھلا کام ہی کیا تھا سوائے سوچنے کے علاوہ۔۔۔14 سال کی عمر سے منت نے سوچنا شروع کیا۔اور اب وہ 19 سال کی تھی۔مگر اس کی سوچ اسی سال کے بوڑھے انسان جیسی ہو گئی تھی۔ان پانچ سالوں میں کونسی کتاب نہیں تھی جو اس نے پڑھی ہو۔دنیا کا ہر ادب اس نے کھنگال ڈالا کیونکہ اس کے پاس وقت ہی وقت تھا۔سے بہت ساری سوالوں کے جواب ملتے گئے۔بہت سارے سوالوں نے اس کے ذہن میں جنم لینا شروع کر دیا۔۔۔19 سالہ منت مراد اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی۔۔۔اس کے سارے سوالوں کے جواب ایک شخص کے پاس تھے۔وہ چوبیس سالہ لڑکا جو کچھ دن پہلے ہی اس فلیٹ میں شفٹ ہوا تھا۔جس نے منت سے بھی زیادہ بدترین زندگی دیکھی تھی۔۔۔24 سالہ عبدالہادی منت کے ہر سوال کا جواب تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: