Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 2

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 2

–**–**–

فلیٹ کا جائزہ لینے کے بعد عبدالہادی نے اپنا بیگ ایک سائڈ پر رکھا اور وہاں موجود پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گیا۔اُسکی نظر سامنے رکھے بیگ پر پڑی تو ذہن میں ایک فلم چلنے لگی۔
ماضی کی فلم۔وہ اپنا گھر چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔بہت سے لوگوں کا دل توڑ کر آیا تھا۔۔اور خود بھی پوری طرح سے ٹوٹ گیا تھا۔
۔ہادی نے اپنے بال دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیے اور بچوں کی طرح زور زور سے رونے لگا۔اتنے دنوں سے جو وحشت اُسکی اندر پل رہی تھی وہ اُسی وحشت کو تنہا بیٹھا نکال رہا تھا۔
‌‌ساز و سامان سے خالی اس دو کمرے کے فلیٹ میں اس کے رونے کی آواز ایکو کی طرح گونج رہی تھی.وہ پہلی اور آخری بار رو رہا تھا .وہ اپنے گھر والوں کے سامنے نہیں رونا چاہتا تھا وہ ان کے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتا تھا .یہاں اس کو روتا ہوا دیکھنے والا کوئی بھی نہیں تھا دیکھنے والا تو کوئی نہیں تھا لیکن اس کی آواز سننے والا ضرور کوئی تھا ….
ساتھ والی فلیٹ کی چھوٹی سی گیلری میں بیٹھی منت کو اس کی رونے کی آواز سنائی دی تھی .دور سے نظر آنے والے فلائی اوور پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے میں مگن منت کا سارہ دھان اب ہادی کی طرح چلا گیا تھا . اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے اور ماہین سو رہی تھی. ماہین جب بھی سو جاتی تھی تو منت اٹھ کر گیلری میں چلی جاتی تھی اور باہر کی دنیا کا نظارہ کرتی تھی. مگر اس وقت ساتھ والے فلیٹ میں روتے ہوئے لڑکے کی آواز نے اس کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی. منت اب اپنے کمرے میں آگئی تھی اب وہ ماہین کے ساتھ نہیں سوتی تھی اب ماہین نے اس کو کمرہ الگ کرکے دیا تھا. وہ اس کمرے میں ہر وقت سوچتی رہتی تھی ایک یہی کام تو تھا اس کا “سوچنا”.. جسکو وہ آرام سے سر انجام دیتی تھی کمرے میں آکر وہ اس لڑکے کے بارے میں سوچ رہی تھی. جس کی آواز اس نے تھوڑی دیر پہلے سنی تھی (کتنا خوش قسمت ہے کم ازکم رو تو سکتاہے) منت خود سے کہا اور سونے کی کوشش کرنے لگی…
____________
ماہین اب بس تھوڑی بہت بات کیا کرتی تھی۔اب وہ بڑی ہو گئی تھی پہلے جیسی بچی نہیں رہی تھی کہ خاموش رہتی۔ماہی کو اب اس کی خاموشی سے خوف آنے لگا تھا۔
کہیں مجھ سے غلطی تو نہیں ہے ہو گئی؟۔ اتنے سالوں میں پہلی بار ماہین کو یہ خیال آیا تھا۔اب وہ کافی بات کرنے کی کوشش کرتی تھی منت سے لیکن منت تو لگتا تھا کہ احساس و جذبات سے عاری کوئی روبوٹ تھی جیسے۔۔۔
کل تمہارا آخری پرچہ ہے نہ؟ماہی نے اسے خاموش بیٹھے دیکھا تو سوال کیا.
” جی “منت نے بنا سر اٹھائے ہیں کہاں وہ ماربل کے فرش کو تکی جا رہی تھی۔
تم ہر وقت خاموش کیوں رہتی ہو اور اس پڑوس میں آیا جایا کرو دوست بناؤ باتیں کیا کرو ہنسا کرو جیسے دوسری لڑکیاں ہستی ہیں۔۔۔ماہین نے کہا
” میں دوسری لڑکیوں کی جیسی نہیں ہوں اور آمنہ ہے نہ میری دوست اور نجلا بھی” منت نے آرام سے کہا اور کتاب کھول کر پڑھنے لگی وہ ماہین کی باتوں سے بھاگنا چاہتی تھی یاں چھپنا۔
” تو بنو نہ دوسری لڑکیوں کے جیسی ” اس پر ماہی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
” اب بہت دیر ہو گئی ہے ” منت نے اس بار سر اٹھا کر ماہین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ماہی ایک پل کو خوفزدہ ہوگئی۔ماہین کو لگا اس کے ہاتھوں سے تراشا ہوا بت اسی کے سامنے بھگوان بن گیا ہے۔۔۔
” گریجویشن کے بعد کیا کرنے کا سوچا ہے” ماہی نے موضوع بدلا
” کچھ نہیں” منت بولی۔
“کیا مطلب ہے کچھ نہیں؟” اتنا اس لیے نہیں پڑھا ہے میں نے تم کو کہ گھر بیٹھی ہوں زندگی میں کچھ بننا ہے تم نے نوکری کرنی ہے۔ پیسے کمانے ہیں۔ ترقی کرنی ہے ایک پاپا کا گھر ہے جو ہمارے پاس جس کا کرایہ کھا رہے ہیں برسوں سے باقی فیکٹری وغیرہ تو ان کی مرتے ہی بند ہوگیا تھا۔ جو بھی تھا سب ان کے قرض اتارنے میں چلا گیا۔ کیا ساری عمر گھر کے کرائے پر پلتے رہیں گے؟ منت اب ہم امیر نہیں رہے غریب ہو گئے ہیں۔ اب تم کو کمانا ہے میں بھی تھک گئی ہوں یہ فضول نوکری کر کے مجھے آرام چاہیے۔تم اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤ ایک بار پھر میں کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر تمہاری شادی کر دوں گی۔ اس سے پہلے تم کچھ بن جاؤ۔۔۔۔” آج پہلی بار ماہین نے اتنی لمبی گفتگو کی تھی۔
مما مجھے نہیں پتہ کہ باہر کیسے بات کی جاتی ہے لوگوں سے۔۔۔ان کو کیسے ” ڈیل” کیا جاتا ہے۔منت کو الجھن ہو رہی تھی۔
کیوں نہیں پتہ کالج میں اور اس بلڈنگ میں کیا تمہاری بات نہیں ہوتی کسی سے؟ ” آمنہ سے نجلا سے ان کی ماؤں سے اڑوس پڑوس کی عورتوں سے اور بچوں سے؟ ” ماہین نے کہا۔
ان سے بات کرنے میں اور جاب کرنے میں بہت فرق ہے ماما۔۔۔ جاب کے لیے اعتماد چاہیے جو میرے اندر نہیں ہے. ” پھر وہی دوٹوک جواب آیا تھا آگے سے
ماہین اب واقعی پریشان ہو گئی تھی۔
_______________
منت نے بی سی ایس کا امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کر لیا تھا اب وہ فارغ تھی وہ واقعی پڑھ کر عاجز آ گئی تھی۔ وہ ذہین تھی پڑھائی اس کا مسئلہ نہیں تھا۔۔۔ اسکول اور کالج کا مسئلہ تھے۔ وہاں لوگوں کا سامنا کرنا اس کا مسئلہ تھا۔ وہاں دوست بنانا اس کا مسئلہ تھا۔
وہ کبھی کسی کالج فیلو کے گھر نہیں گئی تھی۔کسی کی شادی میں نہیں گئی تھی۔اس کی زندگی اس فلیٹ اور اس کے چند لوگوں تک محدود تھی۔اب وہ اسی زندگی میں خوش تھی۔وہ اب اس بلڈنگ سے باہر کی دنیا سے واسطہ ہی نہیں رکھنا چاہتی تھی۔وہ کتنے سالوں سے اپنی پڑھائی مکمل ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔اب خدا خدا کر کے وہ دن آ گیا تھا۔اب وہ تھی اور اس کا کمرہ۔۔۔کمرے میں بے شمار کتابیں.. کہانیاں سفرنامے… اور بہت سی ایسی کتابیں… یہ کتابیں اس کی کل کائنات تھی وہ ان کو کئی بار پڑھ چکی تھی وہ اب اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں رہنا چاہتی تھی لیکن ماہرین کی ضد نے اس کو پریشان کر دیا تھا۔
___________________
ماہین آج کافی دیر سے باہر گئی ہوئی تھی۔وہ کہہ کر کی تھی کہ سبزی لینے جا رہی ہوں۔سبزی لینے میں اتنا وقت تو نہیں لگتا ہے منت سوچ میں پڑ گئی۔کہیں مما کی طبیعت تو خراب نہیں ہوگئی.؟منت کو پریشانی نے گھیر لیا. ماہین کو باہر گئے ہوئے تین گھنٹے ہوگئے تھے.
” ایسا کرتی ہو نجلا کے پاس جا کر اس کے موبائل سے مما کو کال کرتی ہوں.” ۔منت نے سوچا۔
ماہین کبھی بھی اتنی دیر گھر سے باہر نہیں رہی تھی۔منت اٹھی اس نے فلیٹ کی چابیاں اٹھائیں۔اور باہر نکل گئی۔نجلہ کے فلیٹ کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہاں تالا لگا ہوا ہے۔منت کو مایوسی ہوئی۔اس کی کزن کی مہندی تھی نہ آج ضرور سب وہاں گئے ہونگے۔منت نے زیر لب کہا اور واپس اپنے گھر کی طرف چلی آئی۔وہ اپنے فلیٹ کا دروازہ چابیوں سے کھولنے لگی۔
اتنے میں ایک لڑکا تیزی تیزی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کے ساتھ والے فلیٹ کے سامنے رک گیا ۔منت کی نظریں غیر ارادی طور پر اس لڑکے کی طرف چلی گئی۔وہ ایک دراز قد لڑکا تھا۔وہ فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں فون پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی جیبیں کھنگال رہا تھا شاید چابیاں ڈھونڈ رہا تھا۔اس کو چابی مل گئی۔وہ بہت جلدی میں لگ رہا تھا۔اس کا دھیان منت کی طرف نہیں تھا لیکن منت کا سارا دھیان اس کی طرف چلا گیا۔اچانک ہی منت کو وہ رات یاد آئی۔جب اسی فلیٹ سے ایک لڑکے کے رونے کی آواز آرہی تھی۔۔۔
” کیا یہی وہ لڑکا ہے جو اس رات رو رہا تھا دھاڑیں مار مار کر ” منت نے سوچا۔
وہ لڑکا دیکھنے میں بہت سنجیدہ اور مضبوط کردار کر لگ رہا تھا۔اس کو دیکھ کر محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اس طرح سے رو بھی سکتا ہے۔
وہ لڑکا منّت کو نوٹس کئے بغیر ہی اپنے فلیٹ کے اندر چلا گیا۔منت حیرانی سے تھوڑی دیر وہاں کھڑی رہی۔پھر اچانک وہ ٹرانس کی کیفیت سے باہر آئی۔اس نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر آگئی۔اس لڑکے کی سرخ آنکھیں اب منت کو یاد آ رہی تھیں۔
_____________
چار گھنٹے بعد ماہی گھر واپس آئی تو منت کی جان میں جان آئی۔
ماہین کے ہاتھ میں ایک شاپر کی سوا کچھ نہیں تھا۔
“مما آپ تو سبزی لینے گئی تھیں نہ؟” منت نے حیرانی سے پوچھا کیوں کہ اس کے ہاتھ میں کوئی سبزی نہیں تھی۔
” اور اتنی دیر بھی لگا دیا آپ نے میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔” منّت نے پہلی بار کھل کر اپنی پریشانی ظاہر کی۔
ماہین نے شاپر سے ایک ڈبہ نکالا جس میں جدید قسم کا مہنگا موبائل تھا۔
” یہ لو تمہاری سالگرہ کا تحفہ آج تمہاری بیسویں سالگرہ ہے نا. ” ماہین موبائل منت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
منت حیرانی سے ماہین کو دیکھتی رہی اور پھر موبائل کو۔
منت کو یاد آیا کہ تین سال پہلے جب اس کی دوستوں نے موبائیل لیا تھا تو اس نے ماہین سے موبائل کی فرمائش کی تھی۔اس وقت ماہین نے اس کی فرمائش پوری نہیں کی تھی۔اور آج جب وہ خواہش ختم ہوگئی تو اس کو موبائل مل گیا۔تین سال پہلے اس کا دل بہت بری طرح سے ٹوٹا تھا موبائل نہ ملنے پر۔منت کو اب موبائل کی وہ خواہش تو نہیں رہی تھی لیکن ضرورت ضرور تھی۔انسان خواہشات کے بغیر رہ سکتا ہے لیکن ضرورت کے بغیر نہیں۔
منتن بنا کچھ کہے موبائل اس کے ہاتھوں سے لے لیا۔اس کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی خوشی نہیں تھی۔ہاں اگر تین سال پہلے یہ موبائل اس کو ملتا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی۔
جب منت نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تو ماہرین کو مایوسی ہوئی۔ماہین کو لگا کہ زیادہ ترسنے کے بعد اس کو موبائل ملے گا تو اس کو خوشی ہوگی اور اس کی قدر ہوگی۔لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
________________
رات کا کھانا بنانے کے بعد منت موبائل کا جائزہ لینے لگی گی۔۔۔اس نے سم موبائل میں ڈالا۔اتنے میں ڈور بیل بجی۔اس نے دروازہ کھولا تو نجلہ اندر آئی۔
” واہ کتنا زبردست موبائل ہے کب لیا؟” نجلا نے اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھا تو پوچھا۔
” آج صبح مما لے کے آئی تھی میرا برتھ ڈے گفٹ۔” منت نے پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا۔
” دیکھا آنٹی تم سے کتنا پیار کرتی ہیں۔اتنا قیمتی موبائل تم کو لے کر دیا۔” پھر بھی تمہیں شکایت ہے کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتی ہیں۔” نجلہ نے کہا۔
وہ دونوں اب کمرے میں آ گئی تھیں۔
” اب مزا آئے گا میں تم اور آمنہ واٹس ایپ پر باتیں کیا کریں گی۔” نجلہ نے پرجوش ہو کر کہا۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد نجلا واپس چلی گئی تو منت موبائل اٹھا کر اپنی چھوٹی سی گیلری میں آ کر بیٹھ گئی۔آج وہ فلائی اوور کو نہیں دیکھ رہی تھی۔آج وہ اپنے موبائل میں مگن تھی۔
اچانک اسے کوئی آواز آئی۔ساتھ والی گیلری میں وہی لڑکا جو اس نے صبح دیکھا تھا فون پر کسی سے باتیں کرتا ہوا باہر گیلری میں نکل آیا۔وہ تیز آواز میں کسی سے فون پر بحث کر رہا تھا۔اس کی آواز صاف صاف بنت کو سنائی دے رہی تھی۔
” میں اب جیتے جی اس گھر میں واپس نہیں جاؤں گا۔اب میری میّت ہی اس گھر میں جائے گی بس۔ “وہ لڑکا ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔
ایک بار پھر سے منت کا سارا دھیان موبائل سے ہٹ کر اس لڑکے کی طرف چلا گیا تھا۔
________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: