Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 3

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 3

–**–**–

آج پہلی بار وہ اس طرح سے اپنے گھر سے باہر نکل رہی تھی۔نیلے رنگ کی چیز کے اوپر اس نے سیاہ رنگ کا ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنا ہوا تھا۔بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے ہوئے تھی۔دوپٹہ گلے میں مفلر کے اسٹائل میں بندہ ہوا تھا۔آج اس کی زندگی کا پہلا انٹرویو تھا۔اور شاید آخری بھی۔وہ بلڈنگ سے باہر آئی تو اس کو لگا کے سارا زمانہ اس کو دیکھ رہا ہے۔حالانکہ کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ڈرتے ڈرتے اس نے ایک رکشہ روکا اور اس میں بیٹھ گئی۔رکشے والے کو ایڈریس سمجھایا۔وہ اندر سے بہت خوفزدہ تھی لیکن اپنا ہی خوف وہ کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔آج ماہی نے اس کو اکیلے ہی یہ معرکہ سر کرنے کے لیے بھیجا تھا۔سب سے پہلا ڈر تو اسے رکشے کے ڈرائیور سے لگ رہا تھا۔خدا خدا کرکے آفس آگیا۔وہاں پر موجود باقی سارے لوگ بہت ہی تیار ہو کر آئے تھے۔صرف منت ہیں ان سب کے بیچ سادہ سی لگ رہی تھی۔
” مس منّت مراد آپ کی سی وی مکمل نہیں ہے۔لیکن آپ کا تعلیمی ریکارڈ کافی اچھا ہے۔کیا آپ کو پہلے جاب کا کوئی تجربہ ہے؟ ” انٹرویو پینل میں بیٹھے ہوۓ ایک شخص نے کہا۔
” جی نہیں مجھے کسی قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہے یہ میرا پہلا انٹرویو ہے۔” منّت نے اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کہا۔
انٹرویو پینل میں بیٹھے ہوئے ان تین لوگوں پر لگ رہا تھا کہ منت گن پوائنٹ پر انٹرویو دے رہی ہو جیسے سے۔
لگتا ہے آپ یہ جاب کرنا نہیں چاہتی آپ کو زبردستی یہاں بھیجا گیا ہے کیا میں صحیح کہہ رہا ہوں؟ ۔انٹرویو پینل پر بیٹھا ہوا وہ تیسرا شخص جو اتنی دیر سے خاموش منت کو نوٹ کر رہا تھا اچانک بولا۔
“منت چونک کر اس شخص کو دیکھا۔اس کو اس قسم کے سوال کی توقع نہیں تھی۔”
اس شخص کی عمر چالیس کے لگ بھگ لگ رہی تھی۔باقی دونوں سے الگ ایک شاندار شخصیت کا مالک لگ رہا تھا۔
” جی کچھ ایسا ہی ہے۔ ” منت نے صاف گوئی سے کہا
اس شخص کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
” میں کافی دیر سے آپ کو نوٹ کر رہا تھا۔بلکہ یوں سمجھ لیں کے میں بہت اچھی فیس ریڈنگ کر لیتا ہوں۔ “اس شخص نے کہا.
اس کا نام گلریز غوری تھا۔گلریز غورو کو ہمیشہ سے سادگی پسند تھی۔انٹرویو کے لیے آئی ہوئی ہوئی تمام لڑکیاں جو سے آراستہ نک سک سے تیار ہوکر آئی تھیں۔منت اس کو تمام لڑکیوں سے الگ لگی۔کوئی چاہے کتنا ہی تیار کیوں نہ ہو لے۔سادگی کو مات نہیں دے سکتا۔صرف سادگی ہی نہیں منت کی چہرے پر گہری سنجیدگی اس کو بہت پرکشش بنا رہی تھی۔یہاں ہر کوئی چاہتا تھا کہ یہ جاب اس کو مل جائے۔سوائے منت کے۔
” ٹھیک ہے میں منت مراد آپ کل سے جاب پر آ جائیے گا۔” گلریز غوری نے حتمی فیصلہ سنایا ۔منّت سمیت انٹرویو پینل پر بیٹھے ہوئے باقی دونوں لوگ بھی چونک گئے۔ان دونوں نے سوالیہ نظروں سے گلریز غوری کی طرف دیکھا۔گلریز غوری نے آنکھوں سے کوئی اشارہ کیا جس کو منت سمجھ نہیں پائیں مگر وہ دونوں سمجھ گئے۔
” اس کے پاس دماغ ہے۔” گلریز غوری نے اپنے شہادت کی انگلی اپنے سر کے ایک جانب رکھتے ہوئے ان کو اشارے میں سمجھایا۔اور وہ سمجھ بھی گئے اور اثبات میں سر ہلایا۔وہ جانتے تھے کہ گلریز وہ جوہری ہے جو پہلی نظر میں ہی ہیرے کو پہچان لیتا ہے۔
منت یہ سن کر بہت کنفیوز ہو گئی تھی۔
” سوری میں یہ جاب نہیں کر سکتی ۔” منّت نے جلدی میں کہاں اور اپنی فائل اٹھائی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
وہ تینوں اب حیرت سے اس دروازے کو دیکھ رہے تھے جہاں سے منت ابھی ابھی گئی تھی۔
______________
رکشے سے اتر کر منت نے سر اٹھا کر اس بلڈنگ کو دیکھا جہاں وہ رہتی تھی۔یہ اس کی جائے پناہ تھی۔وہ جلدی سے اپنے گھر جانا چاہتی تھی۔بلڈنگ میں ابھی لفٹ کا کام چل رہا تھا اس لیے اسی سیڑھیاں چڑھ کر پانچویں منزل تک جانا تھا۔پہلی دو منزلیں تو تیزی سے چڑھتی گئی تیسری منزل تک آ کر اس کا سانس پھولنے لگا۔چوتھی میں ہمت جواب دے گئی۔اور پانچویں میں آکر وہ سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئی۔لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔
کوریڈور میں فون پر باتیں کرتا ہوا عبدالہادی پہلی منزل سے اس کو نوٹ کر رہا تھا۔اور اب اس کے اس طرح بیٹھ جانے پر عبدالہادی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
منت نے دوپٹے سے پسینہ پہنچا اور پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔اس کا گھر پانچویں منزل میں ہی تھا۔وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اپنے فلیٹ کے دروازے تک آئی۔عبدالہادی اب تک اسے دیکھ رہا تھا۔مگر آج منت نے عبدالہادی کو نوٹ نہیں کیا تھا۔کیونکہ آج منت کی ذہنی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔
                    ________________
” کیسا رہا انٹرویو؟ ” دروازہ کھولتے ہیں ماہی نے سوال کیا۔
” بہت برا۔ “منت بس اتنا ہی کہہ سکی.اس کا موڈ بلکل بھی ٹھیک نہیں تھا. اور وہ اس وقت سوال و جواب  کے موڈ میں بالکل بھی نہیں تھی ماہی کو سمجھ آگیا۔
وہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنا بیگ اور فائل زور سے بیڈ پر پھینک دیا۔واش روم گئی منہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مارے اور باہر آگئی۔وہ بیڈ پر چت لیٹ گئی۔اور چھت کو گھورنے لگی۔
اس نے آج ایک بہت اچھا موقع گنوا دیا تھا۔لیکن اس کو اس بات پر کوئی افسوس نہیں تھا۔اس کو لگا گلریز غوری کی آنکھیں ابھی تک اس کو دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔
                      ________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: