Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 4

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 4

–**–**–

(میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں۔۔۔)
تم جاب نہیں کرو گی؟ منّت رات کے کھانے کے لئے سبزیاں کاٹ رہی تھی تو ماہین نے اس سے سوال کیا۔
ماہین کے سوال پر منت کے سبزی کاٹتے ہاتھ ایک پل کو رک گئے۔
” سوری ماما میں جاب نہیں کر سکتی” وہ کہہ کر پھر سے سبزی کاٹنے لگی۔
” یہ کیا بات ہوئی جاب نہیں کر سکتی آخر میں نے تمہیں کیوں تعلیم دلوائی ہے ؟” منت کے جواب پر ماہی کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا تھا۔
منت نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا۔وہ جب بھی پریشان ہوتی تھی اسی طرح ری ایکٹ کرتی تھی۔
” مجھ میں کانفیڈنس (خود اعتمادی) نہیں ہے”. منت نے کہا۔
کیوں نہیں ہے کانفیڈنس اپنے اندر کانفیڈنس پیدا کرو نہ۔۔۔ ماہی نے چڑ کر کہا۔
” ماما کونفیڈنس ایک دن میں نہیں آ جاتا ہے۔” منت نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی اس کا دل کیا آج بہت لمبی تہمید باندھے۔لیکن ماہین کے سامنے آتے ہیں اس کو پتا نہیں کیا ہو جاتا تھا۔اس کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ ماہین سے ڈرتی ہے یا ججھکتی ہے۔خیر جو بھی تھا وہ ماہین کا سامنا کرنے سے کتراتی تھیں۔اپنی ماں سے بات کرنے سے ڈرتی تھی۔ان دونوں کی پیچھے جیسے صدیوں کا فاصلہ ہو ۔۔۔یہ فاصلہ سوچ کا تھا۔۔۔
____________
عبدالہادی صبح چائے بنانے کیلئے کچن میں گیا تو دیکھا کہ ماچس خالی ہے۔اس نے ایک لمبی سانس اندر کھینچ کر منہ سے باہر نکالی۔
” اب کیا کروں۔۔چائے نہیں ملی تو سر میں درد ہو جائے گا۔” ہادی نے خود سے کہا۔
اس کا فلیٹ پانچویں منزل میں تھا اور پانچویں منزل سے صبح سویرے نیچے جانا اور پھر سیڑھیوں سے چڑھنا اس کو مشکل لگ رہا تھا۔
” پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں” اس نے زیر لب کہا اور دروازہ کھول کے آگے بڑھا۔
ساتھ والے فلیٹ کی بیل بجائی۔
” کون ” ؟ اندر سے آواز آئی۔ہادی کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
اس کی جواب دینے سے پہلے دروازہ کھل گیا۔یہ جالی کا دروازہ تھا۔جس نظر آ جاتا تھا کہ باہر کون ہے۔
” جی میں آپ کے ساتھ والے فلیٹ میں رہتا ہوں۔اصل میں چائے بنا رہا تھا تو دیکھا کہ ماچس ختم ہو گیا ہے۔مجھے جلدی آفس کے لئے نکلنا ہے اور چائے کے بغیر میرا دن شروع نہیں ہوتا ہے۔اور میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ میں نیچے جا کر دکان سے ماچس لے آؤں۔آپ ذرا مجھے ماچس دے دیں تو مہربانی ہو گی تھوڑی دیر میں آپ کو واپس کر دیتا ہوں۔” ہادی نے ایک ہی سانس میں اپنا مدعا بیان کیا۔
دروازہ منت نے کھولا تھا۔پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔وہ ہادی کو اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر ہڑبڑا گئی۔کچھ سیکنڈ تو وہ کوئی ردعمل دیے بغیر عبدالہادی کو دیکھے گئی۔جیسے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا ہوں کہ عبدالہادی اس کے سامنے کھڑا ہے۔اور اس سے مخاطب ہے۔
جب اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو عبدالہادی نے سوالیہ انداز میں ابرو اُچکائے۔
” جی ایک منٹ دیتی ہوں۔” منت اپنی ٹرانس کی سی کیفیت سے باہر آئی اور بولی۔
” ماچس تو نہیں ہے۔چولہا جلانے والا لائٹر ہے۔” منت نے لائٹر عبدالہادی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
عبدالہادی بنا کچھ کہیں لائٹر لے کر چلا گیا۔منت کو ایک عجیب احساس نے آن گھیرا تھا۔
                        ______________
عبدالہادی چاۓ پی کر آفس کے لیے چلا گیا۔لائٹر واپس کرنا بھول گیا تھا۔شام کو جب وہ واپس آیا۔تو اس کو چائے کی طلب ہوئی۔اس نے کچن کی شیلف پر لائٹر دیکھا تو اس کو یاد آیا۔
“اوہ میں یہ تو واپس کرنا بھول ہی گیا”. اس نے دل ہی دل میں کہا ہی تھا کہ ڈور بیل بجی۔دروازہ کھولا تو وہی لڑکی سامنے کھڑی تھی جسے صبح اس نے لائٹر لیا تھا۔فلیٹ میں جالی کے دروازے لگے ہوئے تھے۔لکڑی کے دروازے سے تقریبا سب کے کھلے ہوئے ہوتے تھے۔جالی کا دروازہ بند ہوتا تھا۔اور اس سے باہر کا منظر نظر آ جاتا تھا ۔
” آپ صبح ہمارا لائٹر لے کے گئے تھے تھے آپ نے واپس نہیں کیا۔مجھے شام کی چائے بنانی ہے۔” منت نے ہمت کرکے کہا اس کی دل کی دھڑکنیں بہت تیز ہو گئی تھیں۔وہ کسی بھی اجنبی سے بات کرتی تھی تو اس کا دل یوں ہی زور زور سے دھڑکنے لگ جاتا تھا۔خاص کر جب سامنے والا کوئی مرد ہو۔
عبدالہادی کچن میں گیا اور لائٹر اٹھا لایا۔اس کی طرف بڑھایا۔عبدالہادی نے نوٹ کیا کہ منت کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
” آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ ” عبدالہادی نے پوچھا۔
منت نے اثبات میں سر ہلایا اور لائٹر لیکر جلدی سے وہاں سے چلی گئی۔
” عجیب لڑکی ہے۔۔۔” ہادی نے زیر لب کہا اور دروازہ بند کر دیا۔
                          ______________
منت حسب معمول رات کو گیلری میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اس سامنے والی گیلری کے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔عبدالہادی گیلری میں آیا اور وہاں پر کرسی میں بیٹھ گیا۔یہ گیلری اتنی چھوٹی تھی کہ اس میں صرف ایک انسان ہی بیٹھ سکتا تھا اور صرف ایک کرسی کی ہی جگہ تھی۔گیلری میں لوہے کی ریلنگ لگی ہوئی تھی۔عبدالہادی وہاں بیٹھ کر سگریٹ سلگانے لگا۔کسی گہری سوچ میں گم وہ سگریٹ کے کش لگاتا جا رہا تھا ۔اس بات سے بے خبر کی کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
منت گیلیری کی لائٹ آف کر کے بیٹھ جایا کرتی تھی تاکہ وہ کسی کو نظر نہ آئے۔وہ ایسی ہی تھی چاہتی تھی کہ ساری دنیا اس کو نظر آئے لیکن وہ ساری دنیا کی نظروں سے اوجھل ہی رہے۔وہاں بیٹھ کر  فلائی اوور میں آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنا نیچے سڑک پر آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا۔۔۔نیچے دوکان میں گاہکوں کو آتے جاتے دیکھنا۔بچوں کو سڑک پر کھیلتا ہوا دیکھنا یہ سب اس کی روز کا معمول تھا۔یہ منظر دیکھ کر اس کو زندگی کا احساس ہوتا تھا۔اسے لگتا تھا کہ زندگی چل رہی ہے۔ورنہ اپنے فلیٹ کے اندر تو زندگی نام کی کوئی چیز اس کو محسوس نہیں ہوتی تھی۔۔۔
عبدالہادی کی گیلری کی لائٹ جل رہی تھی۔اس کو صاف دیکھا جا سکتا تھا۔
اس کو دیکھ کر منت کو آج صبح کا منظر یاد آیا  اور پھر شام کا بھی۔اس کو عبدالہادی کی آنکھیں یاد آئیں۔
(ان کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز۔۔۔
رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی۔۔۔)
ہادی کی آنکھوں کا نچلا حصہ اس سرخ تھا۔جیسے کسی انسان کے بہت زیادہ رونے اور جاگنے کے بعد ہوتا ہے۔
منت کو اتنا اندازہ تو ہو گیا تھا کہ عبدالہادی اپنی زندگی سے خوش نہیں ہے۔وہ فون پر اس کی باتیں سنا کرتی تھی۔اب اس کو تجسس ہونے لگا تھا کہ آخر کیا ہوا ہے اس شخص کے ساتھ۔۔۔ کیا یہ شخص مجھ سے بھی زیادہ دکھی ہے؟اگر ہاں تو پھر اس کو کیا دکھ ہے؟ عبدالہادی اب منّت کے لیے ایک بند کتاب جیسا تھا۔ اور پہلی بار منت کو کسی انسان میں دلچسپی پیدا ہو رہی تھی۔اس کی زندگی کی کتاب کو کھول کر پڑھنا چاہتی تھی۔جاننا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ اس وقت کیا ہوا ہے جو وہ اس رات زاروقطار رو رہا تھا ۔آخر ایسا کیا ہوا تھا جو وہ اپنے گھر واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔یہ تو صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر آیا ہے کیونکہ وہ فون پر کسی سے کہہ رہا تھا کہ اب میری میت ہیں اس گھر میں واپس جائے گی۔۔۔
                         ______________
بارش بہت زوروں سے برس رہی  تھی۔رات کے نو بج رہے تھے۔ماہین کسی کام سے باہر گئی تھی۔لیکن شاید بارش کی وجہ  سے اس کو دیر ہو گئی۔منت پریشان اپنے گھر میں اکیلی بیٹھی تھی۔بارش اتنی تیز تھی کہ اپنی سہیلی کے گھر بھی نہیں جا سکتی تھی۔سیڑھیوں سے پانی کسی آبشار کی مانند بہتا جا رہا تھا۔پھسلنے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔اس نے ماہی کو فون ملایا۔
” ہیلو ماما آپ کہاں ہیں اتنی دیر سے؟ آپ کو پتہ ہے نہ مجھے اکیلی ڈر لگتا ہے۔” ماہین نے کال ریسیو کی تو جلدی سے منت نے کہا۔وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
” ہاں مجھے وقت لگے گا۔بارش بہت تیز ہے۔میں اس وقت ایک کافی شاپ میں بیٹھی ہوئی ہوں۔جیسے ہی بارش تھم جائے گی تو میں آ جاؤں گی تو فکر نہ کرو۔اور ڈرو مت مضبوط بنو.” اتناکہہ ماہی نے فون بند کر دیا۔منت کچھ دیر فون کو دیکھتی رہی۔ہم آپ نے مجھے مضبوط بننے ہی کب دیا تھا۔۔۔اس نے موبائل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
پتہ نہیں ماما آج کل روز کہاں چلی جاتی ہے۔پہلے تو کبھی بھی اتنا گھر سے باہر نہیں رہیں۔اور آجکل کچھ پریشان بھی ہیں۔خیر انہوں نے کونسا اپنی پریشانی مجھے سے ڈسکس کرنی ہے۔وہ خود ہی اپنے مسئلے سلجھا لیتی ہیں۔وہ سوچوں میں مگن تھی کے اچانک کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔پٹاخے جیسی کوئی آواز آئی۔شارٹ سرکٹ کی وجہ سے گھر کا فیوز اڑ گیا تھا شاید۔وہ جو پہلے سے اتنی ڈری ہوئی بیٹھی تھی مزید ڈر گئی۔۔۔ایک دم سے ماہین کو فون ملایا۔لیکن بیلنس ختم تھا۔اس نے جلدی میں لون لیا۔اور کال ملائی۔
” ماما گھر کی لائٹ چلی گئی ہے پورے گھر میں اندھیرا ہو گیا ہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے.” ماہی نے کال ریسیو کی تو میں نے ایک ہی سانس میں بولی۔
” اس میں ڈرنے کی کون سی بات ہے بجلی چلی گئی ہو گی” ماہین نے کہا۔
” سب کی بجلی نہیں گئی صرف ہمارے گھر کی گئی ہے۔اور دھماکے کی کوئی آواز بھی آئی ہے لاؤنج سے۔” منت پریشانی کے عالم میں بولی۔
٫ بارش کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہوگیا ہوگا۔تم پریشان نہ ہو آرام سے بیٹھی رہو۔یاں آمنہ کے گھر چلی جاؤ۔”ماہین نے کہا۔
” ماما بارش اتنی زیادہ ہے کہ میں سیڑھیاں نہیں اتر سکتی۔سیڑھیوں سے پانی بہہ رہا ہے اور میں پھسل جاؤ گی اور بھیگ بھی جاؤں گی۔”منت نے کہا
” منت زندگی میں ایسا ہوتا ہے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔کبھی بجلی چلی جاتی ہے کبھی بارش تیز ہوتی ہے۔اس میں اتنا گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔” تم ایسا کرو کہ۔۔۔۔ ماہین کی بات ادھوری رہ گئی تھی کال کٹ گئی تھی۔جو لون اس نے لیا تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔
منت نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور چپ چاپ بیٹھی رہی۔تھوڑی دیر میں بیٹری لو ڈیٹیکشن بھی آگیا۔اب اس کا دم گھٹنے لگا تھا اسے اندھیرے سے خوف آ رہا تھا۔بارش کی وجہ سے وہ گیلری میں بھی نہیں جا سکتی تھی۔ابھی تم سے گپ اندھیرا ہو گیا تھا۔
” کیوں نہ پڑوس والے اس لڑکے سے مدد لوں۔۔۔ہو سکتا ہے وہ فیوز ٹھیک کرکے دے۔” اس کو خیال آیا۔
موبائل میں اب پانچ پرسنٹ چارج رہ گیا تھا۔اس نے ٹارچ آن کی لیکن نہیں ہوئی۔موبائل کی سکرین آن کرکے وہ دروازے تک آئی۔باہر نکلی ہادی کے گھر کی بیل بجانے لگی۔ایک دم سے کرنٹ کا ایک جھٹکا لگا۔اس نے ہاتھ ہٹایا۔
 ” کیا مصیبت ہے” وہ غصے سے بولی۔
اور زور زور سے لوہے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی جس میں جالی لگی ہوئی تھی۔
                      _________________
ہادی اپنی سوچوں میں مستغرق تھا  کہ اچانک دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔
اس نے ایک کان میں ہینڈ فری لگائی ہوئی تھی۔اور دوسرا کان خالی تھا۔جس سے وہ بہت آسانی سے دروازے کی آواز سن سکتا تھا۔
” اتنی بارش میں کون ہو سکتا ہے؟عبدالہادی کو تعجب ہوا. وہ اٹھا اور دروازہ کھولنے کے لیے بڑھا۔سامنے وہی پڑوس والی لڑکی کھڑی تھی۔وہ کافی بھیگ چکی تھی۔کوریڈور میں تو چھت تھی۔لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے بارش اندر تک آ رہی تھی۔
”  میرے گھر کی بجلی۔۔۔ چلی گئی ہے. اور مجھے بہت ڈر لگ۔۔۔ رہا ہے. میرے موبائل کی بیٹری۔۔  بھی ڈیڈ ہو گئی ہے۔کیا آپ میرے گھر کا فیوز۔۔۔ ٹھیک کر سکتے ہیں۔؟ ” منت نے اٹک اٹک کر اپنے الفاظ ادا کیے۔
عبدالہادی سوچ میں پڑ گیا۔
منت اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
” سخت نفرت ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں سے۔۔۔جو لڑکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی چیپ برکتیں کرتی ہے۔پڑوس میں کوئی اکیلا لڑکا کیا دیکھ لیتی ہیں۔کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔کیا اب یہ مناسب لگتا ہے کہ میں اکیلے تمہارے گھر میں اندھیرے میں آؤں ؟ کیا کوئی بھی شریف لڑکی جو گھر میں اکیلی ہوں اس طرح سے کسی اجنبی لڑکے کو گھر پر بلا سکتی ہے؟وہ لڑکا جس کا نام تک نہیں جانتی. تم جیسی لڑکی  attention seeker ( توجہ حاصل کرنے والی) ہوتی ہیں۔جو کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔” عبدالہادی نے اپنے اندر کا سارا غبار منت پر نکال دیا۔اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔منت کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب عبدالہادی نے اس سے کہا ہے۔بے یقینی سے بند دروازے کو دیکھتی جا رہی تھی۔
                         _____________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: