Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 5

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 5

–**–**–

منت بھاری بھاری قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر واپس آگئی۔اور اپنے کمرے میں بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔اب اس کو اندھیرے سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔بارش ابھی بھی برس رہی تھی۔کھڑکی سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی تھیں۔وہ اپنا منہ چھپائے بیڈ پر لیٹی رونے لگی۔اور روتی ہی چلی گئی۔زندگی میں پہلی بار کسی نے اس طرح سے اس سے بات کی تھی۔اس کی اتنی تذلیل کی تھی۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آگے سے اُسے  یہ سب سننا پڑے گا۔اور وہ بھی خاص کر اس لڑکے سے۔جس کے بارے میں وہ کافی دنوں سے سوچ رہی تھی۔جس کے بارے میں وہ جاننا چاہتی تھی جس میں اس سے دلچسپی پیدا ہو رہی تھی۔آخر اس کا قصور کیا تھا؟اس نے کیا ہی کیا تھا  صرف مدد ہی تو مانگی تھی. مدد نہیں کرنی تھی تو نہیں کرتا. میری کردار کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔وہ بچوں کی طرح روئے جارہی تھیں سسکیاں لے لے کر۔وہ روتے روتے ہی سو گئی تھی۔۔
کافی گھنٹوں بعد عبدالہادی نے دیکھا اس کے ساتھ والی کھڑکی میں اندھیرا تھا۔ ساتھ والا فلیٹ ابھی تک اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
                    _________________
تقریبا رات ساڑھے گیارہ بجے ماہین گھر واپس آئی جب بارش تھم گئی تھی۔اس نے زور زور سے دروازہ بچایا۔دروازے کی آواز پر منت کی آنکھ کھل گئی۔وہ اٹھی اور دروازے تک آئی۔
” کتنی دیر سے دروازہ بجا رہی ہوں۔کھول کیوں نہیں رہی تھی۔کتنی بھیگ گئی ہوں میں۔” دروازہ کھلتے ہی  ماہی نے غصے سے کہا۔
کہاں چلی گئی تھیں آپ کہاں چلی جاتی ہیں آج کل روز اس وقت؟ منت بھی غصے میں لگ رہی تھی۔
” کیا مطلب کہاں چلی جاتی ہوں کام سے جاتی ہوں۔اور یہ تم کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہی ہو؟ماہین نے حیرت سے پوچھا۔
اور کس لہجے میں بات کرو آپ سے؟آپ اسی لہجے کی حقدار ہیں. آپ نے میری زندگی برباد کر دی. مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔میری خوشیاں میری خواہشیں میرا اعتماد سب کھا گئیں آپ۔۔ایک ایک چیز کے لئے آپ نے مجھے ساری زندگی ترسایا۔۔۔کسی سے ملنے نہیں دیتی تھیں کسی سے بات کرنے نہیں دیتی تھیں۔کبھی اسکول اور کالج میں کوئی دوست بنانے نہیں دیا آپ نے مجھے۔کتنا تنہا کر دیا آپ نے مجھے بھی اور خود کو بھی۔آپ کی وجہ سے آج میں کسی سے بات کرنے کے قابل نہیں ہوں۔کسی سے بات کرتی ہوں تو میرے ہاتھ پاؤں کانپنے لگ جاتے ہیں۔تھوڑی سی دیر میں اندھیرے میں رہ نہیں سکتی۔کون سی خواہش ہے جو وقت پر آپ نے میری پوری کی ہو۔ساری زندگی آپ نے مجھے اچھے لباس۔اچھے کھلونوں۔ دوستو ضرورت کی چیزوں کے لیے ترسایا۔ساری زندگی میں سسکتی رہی بلکتی رہی۔آپ سے کچھ نہیں مانگا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ آپ کچھ مجھے دیں گی ہی نہیں۔اور اگر دیں  گی بھی تو تب دیں گی جب میرے اندر اس کی خواہش ہی مر چکی ہوگی۔آپ کو کیا پتا خواہشوں کا پورا نہ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے۔میری شخصیت کو مسمار کردیا ہے آپ نے۔میں کتنی ذہین تھی میری ساری ذہانت  بے کار گئی۔میں کچھ نہیں کرسکتی زندگی میں کچھ نہیں بن سکتی۔کسی سے مدد مانگنے جاؤ تو میرے کردار پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں۔” منت آج پھٹ پڑی تھی۔وہ بہت زور زور سے تیز آواز میں بولے جا رہی تھی۔اتنی تیز آواز میں کہ کوئی بہت آسانی سے سن سکتا ہو۔
” یہ کیا کہہ رہی ہو تم آج یہ کیسی باتیں مجھ سے کر رہی ہو۔؟کس نے تمہارے کردار پر انگلیاں اٹھائی ہے؟ماہین حیران تھی . اسے منت سے ان سب باتوں کی توقع نہیں تھی. اس کی نظر میں تو منّت ایک بے زبان جانور کے جیسی تھی. آج اس میں زبان کہاں سے آگئی.؟
”  آپ نے میرے ساتھ جو کچھ بھی کیا میں نے کبھی اس کا شکوہ آپ سے نہیں کیا۔لیکن آج جو آپ کی وجہ سے میرے ساتھ ہوا۔وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔” منت کا غصہ  کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔
کیا ہوا تمہارے ساتھ بتاؤ مجھے مجھے نجلا یاں آمنہ نے کچھ کہا کیا؟ اس بار ماہی نے اپنی آواز کو دھیمی کرتے ہوئے کہا۔وہ چاہتی تھی منت کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔
” میں ہر بات آپ کو بتانے کی پابند نہیں ہوں۔اور آج کے بعد میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔” منت نے غصے سے کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی زور سے دروازہ بند کیا۔ماہین کے موبائل کی ٹارچ آن تھی۔گھر میں ابھی تک اندھیرا تھا۔
                 ____________________
عبدالہادی سب کچھ سننے کے بعد  نڈھال سا  کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ ایک آہ بھری۔۔۔منت کی آواز اتنی اونچی تھی کہ ہادی نے بہت آسانی سے ان کی تمام گفتگو سن لی تھی۔
کچن کی طرف ایک خلا جیسا تھا۔جو کہ وینٹیلیشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جو کہ ساتھ والے کے فلیٹ کی طرف کھلتی تھی۔جس کی وجہ سے اس نے آسانی سے آوازیں سن لی تھیں۔اور جب سے یہاں آیا تھا اس نے کسی قسم کا شور اُن کےگھر  سے نہیں سنا تھا۔وہ دونوں بولتےہی کب تھے۔مگر آج ان دونوں کی باتیں سن کر عبدالہادی کو احساس ندامت نے گھیر لیا۔
” یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔” اس کو خود پر غصہ آنے لگا۔
” میں نے کیوں دوسروں کا غصہ اس بچاری پر اتارا۔وہ تو مجھ سے مدد مانگنے آئی تھی۔’ ہادی کو افسوس ہوا۔
                          _____________
آج پانچواں دن تھا ہادی نے منت کو نہیں دیکھا تھا۔وہ روز صبح آفس جاتے وقت بھی اس کے دروازے کی طرف دیکھتا تھا۔اور شام کو واپس آتے ہوئے بھی دیکھتا تھا۔شاید وہ نظر آ جائے۔جب اتنے دن سے وہ نظر نہیں آئی تو ہادی کو پریشانی نے گھیر لیا۔
” کہیں اس نے خودکشی وغیرہ تو نہیں کر لی ڈپریشن میں آکر میری باتوں کی وجہ سے۔۔۔” اس کو خوف سا لاحق ہوگیا۔
شام کو جب وہ آفس سے واپس آیا تو دیکھا کے ماہین کے ہاتھوں میں بہت سارے بھاری شاپر ہیں۔شاپر میں شاید سبزیاں تھیں۔
” یہ تو وہی خاتون ہیں جو اس لڑکی کے ساتھ رہتی ہیں۔” ہادی نے دل ہی دل میں کہا۔
وہ ایک دم سے آگے بڑھا۔
” السلام علیکم آنٹی۔” ہادی نے ماہی کو سلام کیا۔
ماہی سلام کا جواب دیے بغیر اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
” وعلیکم السلام” ماہی نے جواب دیا۔
” آنٹی میں آپ کے ساتھ والے فلیٹ میں رہتا ہوں۔پچھلے ماہ ہی شفٹ ہوا تھا۔” ہادی نے اپنا تعارف کروایا۔
” اچھا” ماہین اچھا کو لمبا کھینچا۔اس کی طبیعت میں بے زاری چھلک رہی تھی۔
” ارے آنٹی لائیں شاپر مجھے دے دیں آپ تھک گئی ہیں۔میں اٹھا لیتا ہوں۔” ہادی نے شاپر اس کے ہاتھ سے لینا چاہا۔
ماہی واقعی تھک گئی تھی۔اس کے ہاتھ اب دکھنے لگے تھے۔اس نے بنا  کوئی بحث کئے شاپر ہادی کو تھما دیے۔اور اپنے ہاتھوں کو رگڑنے لگی۔اس کی انگلیاں زیادہ وزن اٹھانے کی وجہ سے سرخ ہو گئی تھیں۔
” شکریہ بیٹا” ماہین تشکر بھرے انداز میں کہا۔
وہ دونوں آگے بڑھنے لگے۔
” آپ اکیلی رہتی ہیں؟ ” عبدالہادی نے بات کو آگے بڑھانا چاہا۔
” نہیں میری بیٹی میرے ساتھ رہتی ہے۔” ماہی نے مسکرا کر جواب دیا۔
ماہی کسی سے زیادہ بے تکلف نہیں ہوتی تھی۔اور نہ ہی تو کسی کی مدد لینا پسند کرتی تھی۔
لیکن عبدالہادی کی شخصیت میں پتا نہیں کیا سحر تھا۔کہ وہ اُسے  انکار نہ کرسکی۔عبدالہادی اس کو ایک سلجھا ہوا ، پڑھا لکھا اور خاندانی لڑکا لگا تھا۔
ماہی نے چابی نکال کر فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ماہی کو پتا تھا کہ منت دروازہ نہیں کھولے گی۔اس لئے چابیاں وہ اپنے ساتھ لے گئی تھی۔اس رات کے بعد سے دونوں ماں بیٹی کی بات چیت بند تھی۔
” یہاں رکھ دو شاپر” ماہی نے  کچن کی شیلف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔یہ اوپن کیچن تھا۔کچن اور لاؤنج ایک ساتھ ہی تھے۔
” اوکے آنٹی میں چلتا ہوں۔” ہادی نے شاپر رکھنے کے بعد کہا۔اس کی نظریں منت کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
” ارے نہیں بیٹھو چائے پی کر جانا۔ بیٹھو میں تمہارے لئے چائے بنا دیتی ہوں۔” ماہی نے اس کو روکنا چاہا۔
” اب چائے کا نام لے لیا ہے تو بیٹھنا ہی پڑےگا۔”  ہادی صوفے پر بیٹھ گیا ۔
” لگتا ہے چائے کے بہت شوقین ہو” ماہین نے فرج سے دودھ نکالتے ہوئے کہا۔
” بس یہی سمجھ لیں۔ ” ہادی نے مسکرا کر کہا۔
ان دونوں کی آواز سن  کر منت نے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر لاؤنج میں جھانکا۔
 عبدالہادی اور ماہین کو اس طرح سے باتیں کرتا ہوا دیکھ کر اس کو حیرت ہوئی۔دروازہ کھلنے کی آواز پر عبدالہادی نے سر گھما کر دیکھا۔منت نے اس کو دیکھ کر  غصے سے دروازہ بند کیا۔”  ٹھاہ ”  کی آواز آئی تو ماہی نے دروازے کی طرف دیکھا۔
” ماہی کو منت کی  اس  حرکت پر بہت غصہ آیا  لیکن ضبط کر گئی۔
” تم مائنڈ مت کرنا ۔ یہ ایسی ہی ہے۔” ماہی نے شرمندہ ہو کر کہا۔
” نہیں آنٹی میں نے مائنڈ نہیں کیا۔میں سمجھ سکتا ہوں۔اس عمر میں لڑکیاں اکثر غیر فطری رویہ اختیار کرتی ہیں۔” ہادی نے کہا۔
” بہت سمجھدار لگتے ہو۔کام کیا کرتے ہو؟” ماہین متاثر ہوتے ہوئے بولی۔
” ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتا ہوں” ہادی نے بتایا۔
” اکیلے رہتے ہو؟” چائے تیار ہو گئی تھی۔ماہی نے چائے کا کپ  ہادی کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
” جی اکیلا رہتا ہوں۔اس شہر میں نیا ہوں” جاب کی وجہ سے آنا پڑا۔” ہادی نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
” اچھا پہلے کون سے شہر میں رہتے تھے؟” ماہین بھی چائے کا کپ اٹھا  کر ساتھ والےصوفے پر بیٹھ گئی۔۔
” جی پہلے اسلام آباد میں رہتا تھا۔” ہادی بولا۔
” اچھا تو پھر اتنا شاندار شہر چھوڑ کر تم یہاں کیوں آئے ہو؟ ” ماہین نے حیرت سے پوچھا۔
” میرا ٹرانسفر یہاں ہو گیا تھا اس لئے۔” ہادی کو اتنی تفتیش اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
” اچھا اور تمہاری فیملی وہ کہاں ہے وہ اسلام آباد میں رہتی ہے؟ ” ماہی نے پوچھا۔
( اور یہی وہ سوال تھا جو عبدالہادی چاہتا تھا کہ کوئی اس سے نہ کرے۔اور اسی سوال کی وجہ سے وہ کسی سے ملتا نہیں تھا۔کیونکہ اس سوال کا جواب دینا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔)
                        _________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: