Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Episode 6

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – قسط نمبر 6

–**–**–

منت کی باتوں کو سوچ سوچ کر ماہین کی طبیعت خراب ہوتی جارہی تھی۔اس کا فشار خون بلند رہنے لگا تھا۔اسے اپنی طبیعت آج بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔اس کی دوائیاں بھی ختم ہوگئی تھیں۔منت تو اس سے بات ہی نہیں کرتی تھی۔وہ اٹھی اور ہمت کرکے عبدالہادی کے فلیٹ تک آئی۔عبدالہادی نے دروازہ کھولا۔
” ارے آپ آئیں اندر آ جائیں۔” عبدالہادی کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
” نہیں بیٹا میں اندر آنے کے لیے نہیں آئی۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور دوائیاں بھی ختم ہیں۔اگر تم فارغ ہو تو میری دوائیاں لادو۔”ماہین نے کہا.
” آنٹی اگر آپ کی طبیعت صحیح نہیں ہے تو میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کے جاتا ہوں میرے پاس گاڑی بھی ہے۔صرف دوائی کھانے سے کیا ہوگا۔آپ میرے ساتھ چلے اور مکمل چیک اپ کرا لیں۔”ہادی پریشان ہو کر بولا.
ماہین راضی ہوگئی۔ماہین کو واقعی اپنی صحت اور زندگی کی فکر تھی۔صرف اس لئے لیے کہ اس کے بعد منت کا کیا ہوگا۔وہ ہمیشہ اس وجہ سے پریشان رہتی تھی لیکن اپنی پریشانی کا اظہار نہیں کرتی تھی۔
ہادی سے لے کر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔
” دیکھیے ان کی طبیعت صحیح نہیں ہے۔ابھی تو میں دوائی لکھ دیتا ہوں۔ان کا بلڈ پریشر کافی ہے۔اس حالت میں ان کو آرام اور توجہ کی ضرورت ہے۔” ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ہادی سے کہا۔
” جی شکریہ۔” ہادی دواؤں کی پرچی لے کر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
” آنٹی دیکھا ڈاکٹر نے کیا کہا آپ کو آرام کی سخت ضرورت ہے۔جب بھی دیکھتا ہوں آپ کو کوئی نہ کوئی وزنی چیز اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ کر آتی ہیں۔آج کے بعد کوئی بھی کام ہو تو آپ مجھ سے کہہ دیا کریں۔٫” گھر واپس آنے پر ہادی نے ماہرین سے کہا۔
وہ اس کے کمرے میں بیڈ کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔
منت لاؤنج میں بیٹھی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔اس کو ہادی کا اپنے گھر اس طرح سے آنا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
” ایک طرف اتنی باتیں سناتا ہے اور دوسری طرف اپنی خدمات پیش کر رہا ہے مما کو۔۔۔” منّت کو ہادی پر بہت غصہ تھا۔ صرف غصہ ہی نہیں بلکہ نفرت بھی محسوس ہو رہی تھی۔منت اپنی تذلیل بھولی نہیں تھی۔
” اچھا آنٹی اب میں چلتا ہوں۔” ہادی کہہ کر اٹھا اور لاؤنج تک آیا جہاں منت بیٹھی ہوئی تھی۔
” آنٹی کی طبیعت صحیح نہیں ہے آپ کو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔آپ کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے جو ان کا خیال رکھے۔” ہادی نے ہمت کرکے منت سے کہا۔
” آپ کو ہماری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔بہتر ہوگا کہ آپ ہمارے گھر اور ہمارے معاملات سے دور رہیں۔” منت نے ہادی کی طرف دیکھے بغیر کہا۔وہ ناراض بھی لگ رہی تھی اور غصے میں بھی۔
” آپ ناراض ہیں مجھ سے؟ ” ہادی نے آرام سے کہا۔
” ناراض ان سے ہوا جاتا ہے جو آپ کے اپنے ہوں۔” منت ابھی بھی منہ پھیرے دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔
” میں اس دن کے لئے معذرت خواہ ہوں۔مجھے آپ سے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔یقین مانے میں اس قدر شرمندہ ہوں کہ آپ سے معافی مانگنے کی بھی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔”ہادی جو اتنے دن سے منت سے بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا بالآخر آج اسے موقع مل ہی گیا۔
” میرے پاس آپ کے لئے کوئی معافی نہیں ہے۔اور پلیز میری مما سے دور رہیں۔میں خود اپنی ماں کا خیال اچھے طریقے سے رکھ سکتی ہوں۔مجھے آپ کا اس گھر میں آنا بالکل بھی پسند نہیں۔آئندہ مجھے میرے گھر میں نظر نہ آئیں۔” منت نے اپنی تذلیل کا بدلہ لینا چاہا۔لیکن پھر بھی اس کو سکون نہیں آیا۔
” دیکھیے میں سچے دل سے آپ سے معافی مانگ رہا ہوں۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔لیکن میں۔۔۔۔
” میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب عزت پہ بات آ جائے تو بات کرنی ضروری ہو جاتی ہے۔لیکن میں کہتی ہوں کہ جب عزت پہ بات آ جائے تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے۔” منت نے ہادی کی بات آدھے میں کاٹتے ہوئے کہا۔
اس نے عبدالہادی کو لا جواب کر دیا تھا۔ہادی کچھ بھول ہی نہیں سکا۔منت کے الفاظ ہاتھی کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے تھے۔ہادی جانتا تھا کہ دکھ کیا ہوتا ہے۔دھتکارے جانے کا کیا مطلب ہے۔لفظوں کے وار کیا ہوتے۔دکھ کیا ہوتا ہے یہ عبدالہادی سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا ۔۔۔
_______________
پچھلے دو گھنٹے سے عبدالہادی سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔لیکن آج نیند اس پر کسی طور مہربان نہیں ہو رہی تھی۔اسے منت کی ساری باتیں یاد آ رہی تھیں۔اس کو رہ رہ کے پچھتاوا ہورہا تھا۔
” میرے خدا میں اس کا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا۔لیکن تو جانتا ہے کہ میں کس پریشانی سے گزر رہا ہوں۔میرا اپنا دماغ اس وقت کام نہیں کر رہا ہے۔اگر وہ مجھے معاف کر دیتی تو شاید مجھے سکون آجاتا۔اور جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گی تب تک تو بھی مجھے معاف نہیں کرے گا۔” ہادی نے دل ہی دل میں کہا۔
اگلے روز پھر وہ ماہین کے گھر پر تھا۔اس کی بیمار پرسی کرنے کے لئے آیا تھا۔ماہین کے سرہانے بیٹھ کر اس سے باتیں کئے جارہا تھا۔
” بڑا ڈھیٹ لڑکا ہے۔اتنا کچھ سنا دیا پھر بھی منہ اٹھا کے چلا آیا۔” منت کچن میں شام کی چائے بنا رہی تھی اور ہادی اور ماہین کی باتیں گوش گزار بھی کر رہی تھی۔
وہ چائے لے کے کمرے میں آئی۔اور سامنے بیڈ سائیڈ پر رکھ دی۔
” چائے پی لو ہادی۔” ماہین نے ہادی سے کہا۔
” تو جناب کا نام ہادی ہے۔۔۔” منت نے دل ہی دل میں سوچا ۔
” لگتا ہے آپ آنٹی کا کچھ خاص خیال نہیں رکھ رہی ہیں۔” منت باہر جانے کے لئے مڑی تو ہادی نے اس کو مخاطب کرکے کہا ۔
منت کا سیروں خون تو یہیں پر ہی جل گیا تھا۔
” آپ جو ہے ان کا خیال رکھنے کے لیے۔۔” من طنزیہ لہجے میں کہا۔
ہادی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
مت کہہ کر جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
” تم اس کی باتوں کا برا مت منانا یہ آجکل کچھ پریشان ہے۔” ماہین کو شرمندگی ہوئی۔
” اور اس کی پریشانی کی وجہ میں ہوں۔” ہادی نے دل میں کہا ۔
” نہیں آنٹی میں برا نہیں مناتا کسی کی بھی بات کا۔” خاص کر ان لوگوں کا جو ڈپریشن سے گزر رہے ہوں۔ہادی نے کہا اور چائے پینے لگ گیا۔
” پتا نہیں کس بات کا ڈپریشن ہے اس کو۔کچھ بتاتی بھی نہیں۔” ماہی نے افسردہ ہو کر کہا۔
” آپ چاہیں تو میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔میں ایک طرح سے نیچرل سائیکیٹرسٹ بھی ہوں۔کوئی ڈگری تو نہیں ہے میرے پاس لیکن زندگی کے تجربات آپ بہت ہیں۔انہی تجربات کی روشنی میں ان کا علاج کر سکتا ہوں۔”ہادی نے اپنی خدمات پیش کرنا چاہیں۔
” وہ کسی کی نہیں سنتی ہے اپنے آپ میں مگن رہتی ہے مجھ سے بھی زیادہ بات نہیں کرتی ہے۔پھر بھی تم کوشش کر کے دیکھ لو۔” ماہی نے کہا
” ٹھیک ہے میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔” ماہین کی بات پر ہاتھی جیسے خوش ہو گیا۔
” تم نے اپنی فیملی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تمہارے ماں باپ تمہارے بہن بھائی سب کہاں ہیں؟” ماہین کو یاد آیا تو اس نے پوچھا۔
” مر گئے سب۔۔۔(میرے لیے)… ” میرے لئے” ہادی نے زیر لب کہا تھا جس کو ماہین سن نہیں سکی۔
اللہ خیر کیا ہوا ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔کیا کوئی حادثہ ہوا تھا؟ عبدالہادی کے جواب نے ماہین کو بہت پریشان کر دیا تھا۔
” کچھ لوگ جیتے جی مر جاتے ہیں ہمارے لیے آنٹی” ہادی کہہ کر اٹھا اور وہاں سے نکل گیا۔منّت جو لاؤنج میں بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی عبدالہادی کو اس طرح سے اچانک باہر نکلتا ہوا دیکھ کر چونک گئی۔ہادی نے ایک نظر منت پر ڈالی۔اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
” آخر کیا ہوا ہے اس کے ساتھ؟ ” منت کو ایک بار پھر سے تجسس ہونے لگا۔
                    ________________
” کھانا تیار ہے آپ کھائیں گی؟. ” منت نے پرہیزی کھانا  بنانے کے بعد ماہین سے پوچھا ۔
” ہاں لے آؤ تھوڑا سا۔” ماہی نے کہا۔
منت نے  کھانا اس کے سامنے رکھا۔اور اس کی دوائیاں نکالنے لگی جو اس کو کھانے سے پہلے اور بعد میں کھانی تھیں۔اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔
” سنو تم ہادی سے اس طرح سے بات مت کیا کرو۔مجھے برا لگتا ہے۔وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔” ماہی نے کہا ۔
ماہین کی بات پر منت نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔
” آپ کو کیسے پتہ کہ وہ اچھا ہے یا برا۔۔۔ایک ایسا لڑکا جس کے بارے میں آپ کو کچھ بھی نہیں جانتی ہیں۔سوائے اس کے نام کے۔۔وہ کون ہے کہاں سے آیا ہے کس خاندان سے ہے۔۔۔کچھ بھی تو نہیں جانتی آپ۔اور نہ ہی تو وہ کچھ آپ کو بتاتا ہے ۔پھر آپ کیوں اس کو اتنا سر پر چڑھا رہی ہیں۔پہلے تو آپ نے کبھی کسی کو اتنی لفٹ نہیں دی۔نہ ہی تو کسی کو اپنے گھر میں اتنا بلایا ۔۔ اس بلڈنگ میں اور بھی بہت سارے لڑکے رہتے ہیں۔جن کے بارے میں ہم سالوں سے جانتے ہیں۔ان کو تو کبھی آپ نے اتنی لفٹ نہیں کرائی۔نہیں تو کبھی کسی کی مدد لینا پسند کی۔مدد تو دور کی بات آپ تو کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتی تھیں۔۔۔اور اچانک سے عبدالہادی۔۔۔۔” منّت نے سوالیہ انداز میں اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
” میں پتا کرواتی ہو اس کے خاندان کے بارے میں۔اور باقی سب کچھ بھی پتہ کرواتی ہوں۔آہستہ آہستہ سب پتہ چل جائے گا۔” ماہین نے کہا
” اور آپ کے سب کیوں کروائی گی؟ ” منت کی چھٹی حس بیدار ہوئی۔
” وہ لڑکا مجھے کافی اچھا اور سلجھا ہوا لگا۔میں سوچ رہی تھی کہ اگر تمہاری شادی اس سے۔۔۔۔
” بس ماما آگے کچھ نہیں کہئے گا۔۔۔میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔اگر وہ اس زمین پر دنیا کا آخری انسان بھی ہوا۔تب بھی میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔اگر میرے پاس آپشن ہو۔ یا تو میں اس سے شادی کرو یا زہر کھا کر مر جاؤں۔تو یقینا میں زہر کھا کر مر جانے کو زیادہ پسند کروں گی۔” منت ماہین کی بات آدھی میں ہی کاٹ کر غصے سے کہا۔اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
” آخر ہو کیا گیا ہے اس لڑکی کو…” ماہین حیرت سی سوچا۔
                     _________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: