Mannat Raaz e Sahar Urdu Novels

Mannat Novel by Raaz e Sahar – Last Episode 9

Mannat Novel by Raaz e Sahar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
منّت از رازِ سحر – آخری قسط نمبر 9

–**–**–

گلریز غوری دن میں نہ جانے کتنی بار اس کو
فون کرتا تھا وہ بار بار ملنے کا مطالبہ کرتا تھا۔ منت اس کے فون اس کے مطالبات سے تنگ آ گئی تھی اس کا دل نہیں چاہتا تھا ملنے کو۔
” بہت دن ہو گئے ہادی ہمارے گھر نہیں آیا ۔” منت نے دل میں سوچا ہادی کافی دنوں سے ان کے گھر نہیں آرہا تھا ۔اس کو بےچینی ہونے لگی وہ لاشعوری طور پر بار بار دروازے کی طرف دیکھتی تھی کہ شاید وہ آ جائے۔شام کی چائے بناتی تھی تو تین کب بناتی تھی کے ہادی ضرور آئے گا۔جب سارا ہفتہ وہ نہیں آیا تو منت کو پریشانی ہونے لگی۔ماہی بھی بار بار اس کا پوچھ رہی تھی۔منت سے صبر نہیں ہوا تو وہ اس کے فلیٹ میں چلی گئی مگر وہاں تالا لگا ہوا تھا۔یہ دیکھ کر اس کو مزید پریشانی اور مایوسی ہوئی۔( کہاں چلا گیا؟) منت نے سوچا۔۔۔
جب ایک ہفتے بعد وہ واپس آیا تو ان کے فلیٹ میں آیا۔جیسے ہی ڈور بیل بجی منت جھٹکے سے اٹھی۔( ضرور ہادی ہوگا۔۔۔) وہ پر جوش ہو کر دروازے کی طرف بڑھی۔ہادی کو دیکھ کر اس کے چہرے پر چمک آ گئی تھی۔
” کہاں تھے اتنے دن؟”  بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا۔
” آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جسے آپ کو میرا انتظار تھا ۔” ہادی نے مسکرا کر کہا اور اندر آ گیا۔
منت تھوڑی سی شرمندہ ہوئی۔( اتنا بھی ایکسیڈنٹ ہونے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔) منت نے خود کو ملامت کی۔
                     ____________________
کیا میں ہادی سے محبت کرنے لگی ہوں؟ منت نے خود سے سوال کیا. یہ وہی ایک سوال تھا جو آج کل اس کو بہت پریشان کر رہا تھا۔ وہ نے یہ سوچ سوچ کر پریشان تھی کہ کیوں اس کو بار بار ہادی کا خیال آ رہا تھا۔ کیوں  وہ اس کے بارے میں اتنا سوچنے لگی ہے ؟ کیوں اسے انتظار رہتا ہے؟۔ ان سارے سوالوں کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ اس کو ہادی سے محبت ہو گئی ہے۔بہت دن خود کو جھٹلانے کے بعد بالآخر آج اس نے تسلیم کرہی لیا تھا کہ اس کو ہادی سے محبت ہو گئی ہے۔لیکن اب وہ وہ  ایک دوراہے پر کھڑی تھی۔ایک طرف گلریز غوری سے کیا ہوا وعدہ تھا تو دوسری طرف ہادی کی محبت۔ وہ گلریز سے وعدہ کر چکی تھی کہ وہ اس سے شادی کرے گی۔ لیکن اس سے جان چھڑانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ وہ دن میں کئی بار اس کو فون کرتا تھا لیکن وہ اس کا فون نہیں اٹھاتی تھی اب ۔کسی کو دھوکا دینا اس کو نہیں آتا تھا۔ اس نے دھوکے کی نیت  سے گلریز سے وعدہ نہیں کیا تھا۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے دل میں ہادی کا خیال آ جائے گا۔لیکن جو بھی تھا اب اس کو گلریز  کو انکار  کرنا تھا۔ اور وہ اس کے لیے ہمت جمع کر رہی تھی بالآخر اس نے گلریز غوری کو ملنے کے لیے بلایا ۔اس نے صاف صاف اس کو سب بتا دیا۔کہ وہ صرف اپنی ماں کی ب باتوں سے بچنے کی وجہ  سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن اب اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے اس کی ماں بھی اب ٹھیک ہوگئی  ہے اور اس کی ماں نہیں چاہتی کہ ہم دونوں کی شادی ہو اس لیے وہ اپنی ماں کی خواہش کا احترام کرے گی۔ اس نے گلریز سے معذرت کر لی۔
                ________________________
عبدالہادی یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ منت کو اس کا انتظار تھا۔( لیکن میں اس بات پر اتنا خوش کیوں ہو رہا ہوں؟) اس نے سوچا
( کیا مجھے اس لڑکی سے محبت ہو گئی ہے؟) اس نے دل میں سوچا۔اور مسکرا دیا۔اتنے دکھوں کے بیج ایک محبت  نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔
                 ________________________
میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے ماں باپ اور اپنے بہن بھائیوں کو اپنے سامنے پایا۔ میرے ماں باپ میرے بہن بھائی مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔  میرے ماں باپ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ میں سب سے چھوٹا تھا اورسب سے لاڈلا بھی تھا میری ہر خواہش ایک منٹ میں پوری ہوجاتی تھی میں ادھر منہ سے نکلتا تھا اس وقت میری ہر خواہش پوری ہو جاتی تھی۔ ماں باپ کے علاوہ میرے بہن بھائی بھی مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اتنی محبت مجھے اس گھر میں ملی شاید ہی کسی انسان کو ملی ہوگی۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ میری زندگی ایک مکمل زندگی ہے میں خود کو مڈل کلاس ہوتے ہوئے بادشاہوں کی طرح تصور کرتا تھا۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ میں جھوٹا ہوں اس لئے سب کا لاڈلا ہوں۔
دوسرے بہن بھائی عام سے اسکولوں میں پڑھے تھے لیکن جب مجھے اسکول میں داخل کرایا گیا تو وہ شہر کے اچھے اسکول میں سے ایک تھا۔
 میں نے اس میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد مجھے بہترین کالج میں داخلہ دلوایا گیا اور میں بہت خوش تھا کہ میں اتنے اچھے کالج میں داخلہ لے رہا ہوں مجھے بچپن سے اندازہ ہو گیا تھا کہ میں جو بات کہوں گا وہ پوری ہو جائے گی مجھے کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔نا میرا باپ نہ میری بہن نہ میرے بھائی۔ بہنے مجھ پر جان نچھاور کرتی تھیں اور بھائی بھی شفقت کا ہاتھ سر پہ ہمیشہ رکھے تھے
۔پھر یونیورسٹی کا دور آیا میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا شہر کی ایک بہترین یونیورسٹی میں مجھے داخلہ مل گیا۔ اس کی بھاری بھر کم فیسیں میرے ماں باپ دیتے تھے۔
میں اپنی ماں کا سب سے پیارا بیٹا تھا۔ وہ مجھے بہت پیار کرتی تھیں۔ میں اپنی ماں کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا وہ میرے لئے نعمت خداوندی تھی۔ماں سے بھی زیادہ مجھے اپنے باپ سے پیار تھا مجھے اپنے باپ سے اس قدر محبت ہیں کہ شاید ہی کسی بیٹے کو دنیا میں ہو۔میری ماں ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ تمہیں مجھ سے زیادہ اپنے والد سے پیار ہے ہاں یہ سچ تھا۔ مجھے واقعی اپنے والد سے پیار تھا۔
میری دو بہنیں تھیں ایک آپی جوگھر میں سب سے بڑی تھی طلاق یافتہ ہو کر ہمارے ساتھ ہی رہنے لگی تھی اور ایک ایمان جو مجھ سے ایک سال بڑی تھی۔
بجپن میں آپی  اپنے ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلاتی تھیں۔ مجھے اسکول کے لیے تیار کرکے بھیج دیتی تھیں میں بہت خوش ہوتا تھا۔میری دوسری بہن ایمان تھی مجھ سے ایک سال ہی بڑی تھی لیکن ہم دونوں دوستوں کی طرح رہتے تھے۔
میرے دو بھائی تھے اور وہ بھی مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے مجھے باہر گھومنے لے کے جایا کرتے تھے۔میرے بھائی مجھ سے عمر میں بہت بڑے تھے ۔
مُجھے بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ ایمان پیاری تھی۔ کیونکہ میری پیاری بہن تھی اور میری سب سے اچھی دوست بھی تھی۔ میں اپنی ہر بات شیئر کرتا تھا اور وہ اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی تھی۔یونیورسٹی میں بھی میں نے ایک بہترین زندگی گزاری میں نے جو چاہا وہ مجھے ملا۔میں فطری طور پر ایک ذہین طالب علم تھا ہمیشہ سے اول  پوزیشن لینے والا۔اور کیوں نہ لیتا میرے ذہن پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا مجھے پڑھنے کے لیے مکمل آزادی دی جاتی تھی۔ایک  کمرہ میرے پڑھنے کے لئے لیے تیار کیا گیا تھا ۔
میں بہت دل لگا کر پڑھتا تھا دن رات محنت کرتا تھا۔
” پھر تمہاری زندگی تو بالکل پرفیکٹ ہیں تم کیوں اپنا گھر بار چھوڑ کر آ گئے اپنے ماں باپ اپنے اتنے پیار کرنے والے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر آ گئے؟؟  پھر ایسا کیا ہوا  تھا؟” ہادی آج منّت کو اپنی ساری داستان سنانے بیٹھا تھا۔ منت بہت آرام سے اور دلچسپی سے سن رہی تھی اور حیران بھی ہورہی تھی اور پھر منت نے سوال کیا۔
میری زندگی صرف تب تک پرفیکٹ تھی جب تک میں نے اپنے گھر والوں کی باتیں نہیں سنی تھیں۔
“کیسی باتیں؟ منت نے حیرت سے پوچھا.
میں اپنا فائنل ختم کرکے یونیورسٹی سے گھر آیا تو گھروالوں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا ان کو میرے آنے کی خبر نہیں تھی میں گھر آیا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔
میں نے جیسے ہی لاؤنج میں پہلا قدم رکھا تو ان سب کی آواز میرے کانوں تک پہنچی میں نے اپنا  آگے بڑھنے والا قدم  پیچھے ہٹا لیا اور ان کی باتیں سننے لگا۔
یہ ان سب کی مشترکہ میٹنگ تھی جو اس دن ہو رہی تھی۔اور یہ میٹنگ میری وجہ سے ہی  ہورہی تھی وہ لوگ مجھے اور میری فیوچر پلاننگ ڈسکس کر رہے۔ تھے اور جو کہہ رہے تھے وہ سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین  حقیقت میں نکل گئی گی۔
” کیا کہہ رہے تھے وہ منت نے پھر پوچھا۔وہ دونوں لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے تھے۔سامنے چاۓ رکھی ہوئی تھی۔جس سے بھاپ اُڑ رہی تھی۔ماهی سو رہی تھی۔
 اس دن مجھے پتہ چلا کہ میں ان کا بیٹا ہوں ہی نہیں.
اوہ تو کیا ان لوگوں نے تمہیں گود لیا تھا؟ اگر گود لیا تھا تو پھر بھی تو میں ان سے کوئی شکایت نہیں ہونے چاہیے تھی۔ انہوں نے تمہیں بہترین زندگی پھر کس بات کا رونا رو رہے ہو؟ منت اب اسکو تم کہہ کر مخاطب کرنے لگی تھی۔
جس مقصد کے لئے ان لوگوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا وہ مقصد اتنا بھیانک تھا کہ میں۔۔۔۔۔۔ہادی آگے کچھ بول ہی نہیں سکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا منت کو بہت دکھ ہو رہا تھا۔
منت نے کچھ نہیں کہا وہ چپ چاپ اس کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی اس کو روکنا نہیں چاہتی تھی ملنا چاہتی تھی کہ وہ رو کر اپنا غبار نکال دے اس کا دل ہلکا ہو جائے۔
حقیقت میں بہت امیر بزنس مین کا بیٹا تھا۔اور میرا باپ جس نے مجھے پالا تھا وہ میرے حقیقی والد کا ایک ملازم تھا۔
میری ماں کی موت کے بعد میرے والد نے دوسری شادی کی تھی جب میرے والد نے دوسری شادی کی تو میں دو سال کا تھا۔
میرے والد مجھ سے بہت محبت کرتے تھے لیکن میری سوتیلی ماں مجھ سے محبت نہیں کرتی تھی۔ میرے والد سے شادی کے بعد میری سوتیلی ماں کو ایک بیٹا ہوا اور ان کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں میں ساری جائیداد پر قبضہ نہ کر لوں اس لیے انہوں نے مجھے راستے کا پتھر سمجھ کر ہٹانے کی کوشش کی۔ اور اس کے لیے میری سوتیلی ماں نے میرے باپ کی ملازم کی مدد لی۔
میں چار سال کا ہوچکا تھا۔میری ماں نے میری باپ کے ملازم سے کہا کہ وہ مجھے کہیں روپوش کر دے یاں مجھے کہیں جنگل میں لے جا کر پھینکے مجھے جان سے مار دے۔
میرا سوتیلا باپ ۔۔۔جس نے مجھے پالا جس کا نام عبدالقیوم تھا ۔اس نے میری سوتیلی ماں کی بات پر عمل کیا اور مجھے کہیں جنگل میں لے جانے  لگا۔
اسی دوران اسکو یہ آئیڈیا ذہن میں آیا کہ اس لڑکے کو جان سے مارنے کی بجائے میں خود پالتا ہوں۔
وہ مجھے اس مقصد کے لیے اپنے آبائی گاؤں لے گیا۔اور اس نے میری ماں سے کہا کہ اس نے مجھے جان سے مار دیا ہے۔
میرے سگے والد اس وقت بیرون ملک میں تھے۔ ان کو جب یہ بات پتہ چلی کہ میں غائب ہو گیا ہوں یا اغوا ہو گیا ہوں یا مار دیا گیا ہوں۔تو وہ بیرون ملک میں ہی صدمے سے مر گئے۔۔۔ ان کو یہ سن کر ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا۔
عبدالقیوم مجھے اپنے گھر لے گیا اس کے بعد اس نے مجھے اپنے بیٹوں کی طرح پالا پوسا اور بڑا کیا عبدالقیوم کی پلاننگ یہ تھی کہ جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو وہ مجھے یہ کہیں گے کہ تمہاری سوتیلی ماں تمہیں جان سے مارنا چاہتی تھی اس لئے میں نے تمہاری جان بچائی اور تم کو پالا اور اپنی جائیداد میں سے اپنا حصہ مانگو۔
انہوں نے ایک پوری کہانی گڑھ رکھی تھی مجھے سنانے کے لیے میں ان کی کہانی پر بہت آرام سے یقین کر لیتا کیونکہ مجھے ان سے محبت تھی۔ اگر وہ یہ کہانی مجھے سناتے کہ انہوں نے میری جان بچانے کے لیے مجھے روپوش رکھا تو میں یقین ضرور کرتا کیونکہ میں اندھوں کی طرح ان کی ہر بات کا یقین کر لیتا تھا لیکن۔۔۔
عبدالہادی ایک بار پھر سے رونے لگا وہ چپ چاپ اس کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی اس کی باتوں پر حیران ہو رہی تھی منت کو دکھ بھی ہو رہا تھا۔
رونے کے بعد عبدالہادی نے پھر سے اپنی بات شروع کی۔
لیکن اس دن میں نے ان سب کی باتیں سنی تھیں ان کی کیا پلاننگ تھی وہ یہی ڈسکس کر رہے تھے کہ اب اب مجھے بتانے کا صحیح  وقت آ گیا ہے کیوں کہ میں اپنی پڑھائی مکمل کر چکا ہوں۔
اس سے پہلے کہ وہ مجھے اپنے طریقے سے بتاتے اور میرا دل ان کے لئے نرم ہو جاتا میں نے ان کی باتیں سن لی تھی شاید خدا مجھے ان کی باتیں سنانا چاہتا تھا۔ اس لیے اس دن میں ان کو بتائے بغیر گھر چلا آیا تھا۔ سرپرائز دینے کے لیے مگر قسمت نے مجھے اتنا بڑا سرپرائز دے دیا جس کی وجہ سے میں آج تک صدمے اور  اذیت میں ہوں۔
اگر تمہیں پتہ چلے کہ تمہارے والدین جس نے تم کو پالا پوسا بڑا کیا جن سے تم کو بے حد محبت ہے وہ تمہارے حقیقی والدین نہیں ہے تو کتنی تکلیف ہوتی  ہے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
نا صرف یہ کہ وہ میرے حقیقی والدین نہیں تھے مگر دکھ کی بات یہ تھی کہ انہوں نے پیسے کے لئے مجھے استعمال کیا۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرے کالج اور یونیورسٹی کی بھاری فيسیں کہاں سے ادا کرتے ہیں۔ میری سوتیلی ماں نے بہت موٹی رقم دی تھی مجھے غائب کرنے کے لئے اس رقم کو ان لوگوں نے سنبھال کر رکھا اور میری پرورش کے لئے لیے خرچ کرتے رہے۔
مجھے سوچنا چاہئے تھا کہ میرے والدین ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آ جاتا ہے میری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے۔انہوں نے دس لاکھ کی رقم جو میری سوتیلی ماں نے عبدالقیوم کو دی تھی وہ بینک میں رکھوا دی اور اس پر منافع بھی لیتے رہے
میرے لئے یہ دکھ بھی اتنا بڑا نہیں تھا کہ وہ لوگ میرے سگے نہیں تھے بلکہ میرے لئے یہ بہت بڑا تھا کہ انہوں نے اتنے سال مجھے ایک مقصد کے لئے استعمال کیا۔
میں تم سے کہتا ہوں انٹی جیسی بھی ہیں تمہاری سگی ماں تو ہیں انہوں نے تم سے سچ میں محبت کی تمہاری پرورش کی جس طرح سے ان کو صحیح لگا انہوں نے تمہاری پرورش کی انہوں نے جو بھی کیا تمہارے بھلے کے لیے کیا۔ ان کا طریقہ غلط تھا لیکن غلط طریقے کے پیچھے بھی ان کا یہی مقصد تھا کہ وہ تمہاری اچھی تربیت کر سکیں اور تم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکو۔  تمہیں چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہو۔ ان سب کے پیچھے تمہاری ماں کی نیت بری نہیں تھی لیکن مجھے دیکھو مجھے ہر نعمتوں سے نوازنے والے ماں باپ کی نیت بھی دیکھوں ۔
اسی لیے میں کہہ رہا تھا کہ جن کی خواہشیں بروقت پوری ہوجاتی ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ دنیا کے خوش قسمت انسان ہوں۔ اور تم سے بہتر زندگی جی رہے ہوں۔
بیس سال تک میں نے تم سے بہتر زندگی جی ہے۔لیکن اب دیکھو میرا کیا حال ہو گیا ہے۔میں ہر وقت ذہنی اذیت میں مبتلا ہو۔ ایک پل چین سکون نہیں ہے۔ میں سکون کی نیند سو نہیں سکتا۔ سونے کے لئے اس عمر میں مجھے نیند کی گولیاں استعمال کرنی پڑ رہی ہیں۔
اور تم پوچھ رہی تھی نہ کہ ہر وقت پسٹل اپنے ساتھ کیوں رکھتا ہوں؟
میرے سوتیلے بھائی کو پتہ چل گیا کہ میں زندہ ہوں۔اور یقینا وه پھر سے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ میرے  والد کی جائیداد بہت بڑی ہے۔ان کو یہ خوف ہو کہ میں اتنی بڑی جائیداد میں سے آدھا حصہ لے جاونگا۔
میں کبھی بھی جائیداد میں سے حصہ نہ لیتا۔مجھے اس جائیداد میں اور اس پیسے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن پھر اپنے مرے ہوئے باپ کا کا خیال آتا ہے۔میرا وہ باپ کتنی اذیت میں رہا ہوگا۔اس نے مجھے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ہوگا اور وہ یہ سب برداشت ہی نہیں کر سکا۔
میبن دونوں ماں بیٹے کو کورٹ میں گھسیٹوں گا۔میرے پاس ان کے خلاف تمام ثبوت ہیں۔میں اپنی باپ کی موت کا بدلہ ان لوگوں سے ضرور لوں گا۔ وہ لوگ میرے باپ کی موت کی ذمہ دار ہیں۔
میں اتنا بڑا شہر چھوڑ کے اس چھوٹے سے شہر میں صرف اس لئے آیا ہوں کہ میرے باپ کی قبر یہاں پر ہے اور میں روز صبح اس کی قبر پر جاتا ہوں ۔مجھے بہت سکون ملتا ہے وہاں جا کر مجھے ان کا دکھ ہوتا ہے۔سنا ہے ان کو مجھ سے بہت محبت تھی وہ ایک پل مجھے نہیں دیکھتے تھے تو ان کا سانس بیٹھنے لگتا تھا۔ان کو میری ماں سے بھی بہت محبت تھی میری ماں سے انہوں نے پسند کی شادی کی تھی میں پیدا ہوا تو ان لوگوں کی زندگی بہت خوبصورت ہو گئی تھی۔ لیکن میری ماں کار ایکسیڈنٹ میں ماری گئی۔اور اس کے بعد میرے باپ کی دنیا جیسے اجڑ گئی۔
پھر میری سوتیلی ماں نے ان کو ٹریپ کیا اور ان سے شادی کی وہ ان کی ایک سیکریٹری تھی۔
میرے باپ کا آبائ گاؤں یہی سامنے ہی ہے اور وہاں پر اس کی قبر ہے۔
ساری کہانی سننے کے بعد مین نے ایک آہ بھری۔
عبدالہادی سچ کہتا تھا آج منت کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا تھا۔اور منت کے دل میں اپنی ماں کے لیے قدر اور بڑھ گئی تھی۔ جیسی بھی تھی وہ اپنی سگی ماں تھی اور اس نے جو کچھ بھی کیا اس کے بھلے کے لیے کیا۔اس کی ماں کا طریقہ صحیح نہیں تھا لیکن اس کی نیت صحیح تھی
۔بات طریقے کی نہیں ہوتی ہے بات نیت کی ہوتی ہے۔۔۔عبدالہادی نے کہا۔
وہ لوگ بھلے مجھ پر ظلم کرتے مجھے عا  سے اسکول میں پڑھاتے میری خواہشیں پوری نہ کرتے لیکن کم از کم مجھے پالنے کے پیچھے اتنی بری نیت نہ رکھتے تو شاید آج میں ان سے الگ نہ ہوتا۔مجھے بس صرف ایمان کا دکھ ہوتا ہے وہ بار بار مجھے فون كرتی ہے واپس بلانے کو کہتی ہے صرف ایک ایمان ہی ہے جو اس گھر میں میری دوست ہے اور ان سب سے لاعلم تھی وہ ہمیشہ سے۔
میری بہترین زندگی اچانک سے بدترین زندگی میں تبدیل ہوگئی۔اب میں جب تک زندہ رہوں گا اِس دُکھ کے ساتھ مجھے جینا پڑے گا میں تڑپتا   رہوں گا۔ ان کی باتوں کو یاد کرتا رہوں گا میرے پاس ان سب کی اتنی زیادہ یادیں ہیں کہ مجھے اپنی یادداشت ختم کرنی پڑے گی ان سب کو بھلانے کے لئے۔
یہ دکھ یہ کیسا دکھ ہے جسے میں اپنی قبر تک لے کر جاؤں گا۔ جب تک میں زندہ ہوں یہ سب کچھ میرے ساتھ رہے گا۔ یہ دھوکا میرے ساتھ رہے گا۔ میں چاہ کر بھی ان سب کو نہیں بھلا سکتا۔
تمہاری ماں نے تمہارے ساتھ جو کیا تم ان سب کو بہت آسانی سے بھلا سکتی ہو۔ وہ سب بھلانا
 بہت آسان ہے لیکن قسمت نے جو میرے ساتھ کیا وہ بھلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
ساری کہانی سن کر منت نے ایک آہ بھری اس کا دل چاہ رہا تھا کہ دنیا کی ساری خوشیاں لاکر عبدالہادی کو دے۔
” کچھ دن پہلے ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی  ہے اور وہی محبت میں نے تمہاری آنکھوں میں بھی دیکھ لی ہے۔ ” عبدالہادی نے اچانک بہت یقین سے کہا۔
منت نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرا دی۔
                         ______________
۔عبدالہادی کو اپنا حصہ لینے کے لیے کورٹ میں جانا ہی نہیں پڑھا تھا۔اس کی سوتیلی ماں بستر مرگ میں پڑی ہوئی تھی اور آخری سانسیں لے رہی تھی۔جب عبدالہادی اس کے پاس گیا تو وہ عورت بہت رونے لگی۔
” مینے جس بیٹے کے لیے تمہارے ساتھ برا کیا دیکھو میرا وہی بیٹا کچھ دن پہلے کار کے حادثے میں مر گیا۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال پُہنچے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔خدا نے دنیا میں ہی مجھے سزا دے دی۔اور میں یہ خبر سن کی پرالائز ہوگی۔اب میرا کوئی سہارا نہیں اور یہ ساری دولت میرے کسی کام کی نہیں۔” اس عورت نے روتے ہوئے کہا۔ہادی بہت کچھ سوچ کر آیا تھا لیکن اس عورت کی حالت دکھ کر کچھ بول نہیں سکا۔
                      __________________
ایک سال بعد۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی فیملی کو بھی یہاں لے کے آؤں۔۔۔ منت اور عبدالہادی ایک خوبصورت گھر کے خوبصورت سے لون میں بیٹھے ہوئے تھے۔جب اچانک سے عبدالہادی نے اپنے دل کی بات منت سے کہی۔ان دونوں کی شادی کو آٹھ ماہ ہونے والے تھے.
تم اب بھی اُن سے پیار کرتے ہو؟ منت نے پوچھا
” ہاں میں آج بھی ان کے بنا نہیں رہ سکتا۔ اور وہ معافی مانگ چکے ہیں مجھ سے میرے لیے اب واقع تڑپ رہے ہیں۔ میرے جانے کے بعد انکو اس بات کا احساس ہوا۔” ہادی نے کہا۔۔
منت کو سکون ملا۔ کیوں کے اُسنے بہت عرصے بعد ہادی کو سکون میں دیکھا تھا۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: