Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 1

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

چوڑیوں کی چھنک کی آواز اس کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ سناٸ دے رہی تھی ۔ سانس پھولنے لگی تھی ہاتھ میں پکڑے کاغز کو دوپٹے کے پلو کے نیچے کرتی وہ اب اوپری چھت کے زینے چڑھ رہی تھی ۔
سنہری جوتے کے ہیل سے ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ وہ زینے چڑھتی اب اوپر آ چکی تھی ۔
تیز تیز قدم اٹھاتی مہمانوں کے بیچ سے گزرتی کمرے تک پہنچی اور داٸیں ہاتھ سے دروازہ دھکیلتی کمرے میں داخل ہوٸ ۔ جہاں سامنے سنگہار میز کے آگے پڑی کرسی پر وہ بیٹھی تھی ۔ یک ٹک خود کو سامنے آٸینے میں دیکھتی ہوٸ ۔
ہلکے سے تربوزی رنگ کے جوڑے میں نفاست سے میک اپ کیے کانوں میں کندن جھمکے پہنے بڑی بڑی پلکیں گالوں پر جھکاۓ بھرے سے گداز ہونٹوں پر سرخی سجاۓ ۔ وہ مخملی سی وہ گلاب سی گم صم سی بیٹھی تھی
دروازے کے دھماکے سے کھلنے پر اس نے پلکوں کی جھالر اٹھاٸ اور بڑی بڑی سرمٸ آنکھوں میں حیرت واضح نظر آ سکتی تھی ۔ جو اریبہ کے ہونق بنے چہرے اور ہاتھ میں پکڑے کاغز کی وجہ سے آٸ تھی ۔
” ادینہ بھاگ گیا وہ خبیث “ اریبہ نے روہانسی آواز میں کہا ۔لب کاٹتے ہوۓ پریشان صورت کے ساتھ ۔ اس کا چہرہ زرد تھا مطلب نہ تو وہ کوٸ مزاق کر رہی تھی اور نہ ہی جھوٹ بول رہی تھی ایسی حالت تو سچ بولنے والوں کی ہی ہوا کرتی ہے جیسی ابھی اس کے سامنے کھڑی اس کی چھوٹی بہن کی تھی ۔
” کیا !!!!“
حیرت زدہ لہجہ جس میں بے یقینی کا عنصر واضح تھا ۔
” ہاں ہاں ٹھیک کہہ رہی ہوں چلا گیا رکھ گیا تو یہ ایک کاغز کا ٹکڑا اپنے سٹڈی ٹیبل پر جہاں آنے کو کمبخت کتابیں بھی ترس جاتی تھیں “
اریبہ نے روہانسی آواز میں کہا ۔ کاغز والا ہاتھ اوپر اٹھا کر ایک نظر کاغز پر ڈالی ۔
” دکھا تو مجھے “
ادینہ نے جلدی سے کاغز کو جھپٹ کر اپنے ہاتھ میں لیا تھا ۔مہندی کے خوبصورت ڈاٸزاٸن سے رنگے سفید دودھ جیسے ہاتھ عجلت میں تہہ شدہ کاغز کو کھول رہے تھے۔ ادینہ نے بے چین سی شکل بنا کر کاغز کو اپنے چہرے کے آگے کیا اور تیزی سے نظریں کاغز پر لکھی سطروں پر دوڑنے لگی تھیں ۔
دل عجیب سی ہی کفیت اختیار کر گیا ۔ دھڑکن تیز ہونے کے وجہ سے ہتھیلی پسینے سے بھیگ سی گٸ تھی ۔ کیوں ایسا اب کیوں ہو رہا تھا سمجھ سے باہر تھا ۔ گھٹن سی کس چیز کی تھی ۔
پیارے ابا !
اسلام علیکم
ابا مجھے جانا ہے اور اب میں رکنے والا نہیں ۔ مجھے ادینہ سے نکاح نہیں کرنا مجھے میری منزل تک پہنچنا ہے پہلے اس سب کے لیے یہ شادی یہ نکاح ابھی یہ سب کچھ میں نہیں کر سکتا ۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔
آپکا بیٹا
میسم مراد
چند فقرے تھے جو وہ اپنی صفاٸ میں لکھ کر چھوڑ گیا تھا ۔ ادینہ نے گہری سانس لی اور کاغز کو ہاتھ میں لے کر وہ ڈھنے کے سے انداز میں کرسی پر پھر سے بیٹھ گٸ ۔
” ادینہ “
اریبہ نے مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ اس کے کندھے کو تھاما تھا ۔ باہر شور ہونے لگا تھا ۔ شاٸد اب سب کو خبر ہو گٸ تھی ۔
” ہممم !!!“
ادینہ کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ سناٸ دی ۔ وہ پر سوچ انداز لیے کرسی پر بیٹھی تھی ۔
” تم ٹھیک ہو نہ ؟“
اریبہ نے ہمدردی سے کندھے پر گرفت کو مضبوط کیا ۔ اور سر تھوڑا سا اس کے کان کے قریب جھکایا ۔
” ہاں ہوں “
ویسی ہی سوچوں میں گم سی آواز تھی وہ کسی غیر مرٸ نقطے پر نظر جماۓ بیٹھی تھی ۔ دروازے کے قریب پھر سے قدموں کی چاپ سناٸ دی ۔ پر اس دفعہ متوجہ صرف اریبہ ہوٸ تھی جبکہ وہ تو ویسے ہی ساکن مجسم بنی بیٹھی تھی ۔
” ادینہ “
عزرا روہانسی آواز میں کہتی ہوٸ آگے بڑھی تھیں ۔ ہلکے سے موتیا رنگ کے جوڑے میں پوری طرح تیار ہوٸ وہ تھوڑی دیر پہلے ولا پرسکون چہرہ اب کھو چکی تھیں ۔ کچھ دیر پہلے جب وہ ادینہ کی تیاری دیکھنےکو کمرے میں آٸ تھیں تو چہرہ کھل چہرے پر دکھ اور اضطراب تھا ۔ادینہ کو یوں ساکن اور گم صم سا دیکھ کر ممتا تڑپ اٹھی تھی اور رہی سہی ہمت بھی جواب دے گٸ ۔وہ آنسوٶں پر باندھے بند کو روک نہیں سکی تھیں ۔
” امی بس کریں رونا جھوٹا تھا ہمیشہ سے اب بھی وہی کیا کمبخت نے “
اریبہ نے ادینہ کے کندھے کو چھوڑ کر اب عزرا کو تھام لیا تھا ۔ جن کی حالت اب ادینہ سے زیادہ غیر تھی ۔ عزرا آنسو صاف کرتی ہوٸ پھر سے ادینہ کی طرف بڑھی تھیں اب وہ بلکل اس کے سامنے آگٸ تھیں ۔
”ادینہ تم ٹھیک ہو نہ “
روتے ہوۓ اپنی ہتھیلی کو ادینہ کی تھورڈی کے نیچے رکھ کر اس کے چہرے کو اوپر کیا ۔ وہ سپاٹ چہرے اور خشک آنکھوں کے ساتھ اب عزرا کی طرف دیکھ رہی تھی عزرا کا دل پھٹنے کو آ گیا تھا ۔ دکھ بھی تو ایسا تھا بیٹی کے نکاح کے روز ہی اگر دلہا گھر سے چلا جاۓ تو اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے ۔
” امی آپ دونوں مجھے اکیلا چھوڑ دیں پلیز “
ادینہ نے کمرے کی خاموشی کو گھٹی سی آواز کے ساتھ توڑ ڈالا تھا ۔
” ادینہ بیٹا !!!“
عزرا نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا اور دوپٹہ اپنے منہ پر ر کھا ۔
” امی پلیز!!!!!!“
ادینہ نے چڑنے کے سے انداز میں کہا ۔ اس کے چہرے پر عجیب سی بے زاری تھی ۔ عزرا اور زور سے رونے لگی تھیں ۔ ادینہ نے ماتھے پر بل ڈال کر پاس کھڑی اریبہ کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا۔جو بڑی بہن کی ایک گھوری کو بھانپ گٸ تھی۔
” امی چلیں آپ “
عزرا کو کندھوں سے پکڑ کر وہ زبردستی کمرے سے باہر لے گٸ تھی۔
********
” پانی “
فہد نے پانی کو بوتل اس کی طرف بڑھاٸ ۔ جو کھڑکی کے باہر آتے جاتے لوگوں پر نظریں جماٸے خاموش بیٹھا تھا۔ ٹرین ملتان سٹیشن پر پچیس منٹ کے لیے رکی تھی ۔ پیاس لگی تھی اور جانتا تھا وہ خود کچھ نہیں کہے گا پر پیاس تو اسے بھی لگی ہو گی یہ سوچ کر ہی پانی کی بوتل لے آیا تھا ۔ وہ پانی کی بوتل آگے بڑھاۓ کھڑا تھا اور اسے کوٸ خبر نہیں تھی ۔ فہد نے گہری نظروں سے دیکھا ۔
لاٸنگ نیلے اور سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ اور نیچے نیلے رنگ کی جینز پینٹ پہنے الجھے سے بالوں اور بےزار چہرے کو لیے بیٹھا وہ اس کا جگری دوست میسم مراد تھا ۔ پتلا سا جسم لمبا قد سانولی رنگت جازب نظر نقوش پر اگر کوٸ چیز اس کے چہرے کو خاص بناتی تھی تو وہ تھیں اس کی لمباٸ رخ بڑی سی گہری بولتی شفاف آنکھیں ۔
” کن سوچوں میں گم ہو اب تو جو کرنا تھا کر لیا “
فہد نے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا ۔ میسم نے گردن کو ہلکا سا خم دیا اور سر کو اثبات میں جنبش دی ۔ اس کے ہاتھ سے بوتل پکڑی اور پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا ۔جب سے گھر سے نکلے تھے دونوں کے درمیان ہونے والی یہ پہلی گفتگو تھی ۔
” خط میں کیا لکھ کر رکھا “
فہد نے پھر سے سوال داغا ۔ میسم کے پانی کی بوتل کو کھولتے ہاتھ رک گۓ تھے ۔ پر فہد کی طرف نہیں دیکھا ۔
” لکھ آیا بس جو لکھنا تھا “
پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ پانی کی بوتل منہ سے لگاٸ گلے کی گلٹی نے اوپر سے نیچے سفر طے کیا ۔
” اسے مل کر آیا“
میسم نے دھیرے سے نہیں میں سر ہلایا تھا ۔ لبوں پر لگے پانی کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا ۔
” ہممم پر خوش ہوں میں ہمت بندھی اپنے آپ کو آزمانے کی “
گہری سانس خارج کی ایسے جیسے تکلیف کو کم کیا ہوا ۔ زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ جس کا ساتھ آنکھیں تو بلکل نہیں دے رہی تھی ۔
” کتنے پیسے ہیں تیرے پاس “
میسم نے گلا صاف کرتے ہوۓ آواز کو نارمل رکھ کر کہا ۔ لہجہ تھوڑا شرمندہ سا تھا ۔خود تو ایک انجانی ڈگر پکڑ ہی چکا تھا اسے بھی ساتھ گھسیٹ چکا تھا ۔
” تین ہزار صرف تیرے پاس ؟“
فہد نے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔ کیا کرتا چند گھنٹوں میں وہ کہاں سے اتنے پیسوں کا انتظام کرتا ۔ سوالیہ نظروں سے اب اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔جو خاموش تھا ۔
” ایک “
بہت مدھم سی آواز ۔ اس کے بعد دونوں نفوس چپ تھے ۔ ٹرین کی سیٹی کی آواز کے ساتھ ہی ٹرین نے دھیرے سے رفتار پکڑ لی تھی ۔
*******
تم دن کے وقت شام کا منظر نہ دیکھنا
میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا
پھر روشنی ہی بعد میں پھیکی دکھائی دے
چہرہ کسی کا ایسا منور نہ دیکھنا
میدانِ تشنگی کی یہ آنکھیں امام ہیں
ہے دیکھنے سے واقعی بہتر نہ دیکھنا
ڈر جاؤ گے خلائے بے معنی کے خوف سے
باہر سے جھانک کر کبھی اندر نہ دیکھنا
اپنی ہی دُھن میں ٹھوکریں کھاتے چلے گئے
تھا وصفِ خاص راہ کا پتھر نہ دیکھنا
آیا کوئی سفیرِ محبت چلا گیا
اب مدتوں ہم ایسا سخن ور نہ دیکھنا
ٹرین کی رفتار دھیرے دھیرے تیز ہو رہی تھی ۔ وہ کھڑکی کے باہر نظریں جماۓ بیٹھا تھا ۔ ہوا بالوں کو پھڑ پھڑا رہی تھی ۔ لب پھر سے خشک ہونے لگے تھے شاٸد ۔ سورج ڈوبنے کو تھا ۔ اور ساتھ ساتھ دل بھی عجیب طرح سے ڈوب رہا تھا ۔ فہد تو اوپری برتھ پر جا کر سو چکا تھا ۔
پر اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لی تھیں ۔ ذہن ماضی کی فلم کو شروع سے پلے کر بیٹھا تھا ۔
************
2
” کرموسومز آر “
کتاب کو فولڈ کیے ایک ہاتھ میں پکڑے دوسرے ہاتھ کو ہوا میں لہراتے وہ برآمدہ نما اس گیلری میں چکر لگاتی ہوٸ پڑھ رہی تھی ۔ کل باٸیو کا ٹیسٹ تھا اور وہ جی جان سے محنت کر رہی تھی ۔ سبز رنگ کی ڈھیلی سی قمیض اور کپری پہنے بالوں کی اونچی سی پونی بناۓ وہ ہر چیز سے بے نیاز تھی وہ جب پڑھتی تھی تو یوں ہی ارد گرد سے بے نیاز ہو جایا کرتی تھی ۔ ذہین تو تھی پر پڑھنے کی شوقین بھی بہت تھی ۔ وہ تھی ادینہ شیراز گول سا چہرہ کھڑی سی خوبصورت ناک بھورے بال بھوری سبزی ماٸل آنکھیں جن سے بلا کی ذہانت ٹپکتی تھی ۔ سڈول سا بدن اٹھارہ سال کی الہڑ دوشیزہ ۔
وہ پڑھنے میں مگن تھی جب اچانک
باہر کی طرف کھلتی کھڑکی سے ایک عدد گیند اچھلتی ہوٸ اس کے سر کے پاس سے گزرتی ہوٸ لکڑی کے میز پر پڑے شیشے کے جگ سے ٹکراٸ ۔ اور جگ چھناکے کی آواز سے ٹوٹا تھا ۔
” اففف میرے خدا “
ادینہ کا دل دھک سے رہ گیا ۔ بھوری سبزی ماٸل آنکھیں پھیل سی گٸ تھیں اور گلابی لب منہ کو وا کیے اب ٹوٹے ہوۓ جگ کی طرف رخ کیے ہوۓ تھے ۔
پلنگ پر بیٹھی اریبہ نے بھی کتاب پر جھکا سر جھٹکے سے اٹھایا اور پھر منہ کھلا رہ گیا ۔ عزرا بھی لگ بھگ اسی حالت میں کچن سے باہر آٸ تھیں ۔
” غضب خدا کا کیا ہوا یہ “
عزرا نے بوکھلا کر کہااور ایک ہاتھ سینے پر دھرا ۔ سامنے ادینہ ہاتھ میں زرد رنگ کی گیند پکڑے کھڑی تھی چہرہ ایسے سرخ ہو رہا تھا جیسے دہکتے کوٸلوں پر سلگ رہی ہو ۔ پاس ہی زمین پر شیشے کا جگ زمین بوس اپنی آخری سانسیں لے چکا تھا۔تھوڑے سے فاصلے پر اریبہ منہ پر ہاتھ رکھے بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی کو روک رہی تھی ۔ اس کی تھوڑی دیر پہلے والی پریشانی اب ہوا ہو چکی تھی ۔ کیونکہ مزہ تو اب آنے والا تھا ادینہ کا چہرہ آگے ہونے والی جنگ کا پورا ساماں کیۓ ہوۓ تھا۔
” ہونا کیا ہے سر بچ گیا ہے میرا بس آج تو نہیں دینے کی میں اس کو گیند اس کی “
ادینہ نے دانت پیس کر کہا ۔ آنکھیں پھٹنے کو تھیں ناک کے نتھنے کبھی پھول رہے تھے کبھی سکڑ رہے تھے ۔ تیز قدموں سے آگے بڑھی اور پاس پڑے تکیے کے کور میں گیند پھینکی ۔
” اوہ ! کیا ہوا فہد ہے کیا سامنے والوں کا “
عزرا نے اچھنبے سے پوچھا ۔ ماتھے پر شکن آۓ اور ناک ادینہ کی طرح ہی پھول گیا تھا ۔ دانتوں کو ایسے پیسا جیسے کچا ہی چبا جاٸیں گی اس موۓ فہد کو ۔
” نہیں وہ یہاں تیسری منزل تک کیسے بال پہنچا سکتا ہے یہ تو وہ ہے آپکا لاڈلا “
ادینہ نے گلا پھاڑ کر بھاری آواز میں لفظ چبا چبا کر ادا کیے ۔ لمبی سی گردن پر سر ایسے ہی گھما رہی تھی ۔جیسے جیسے وہ لفظ ادا کر رہی تھی اس کے ذکر پر وہ یونہی ہو جایا کرتی تھی۔ آپے سے باہر۔۔۔ تھا تو وہ اس سے تین سال بڑا اور گھر بھر میں بڑا پر وہ عقل شکل پڑھاٸ ہر چیز میں اسے خود سے چھوٹا ہی مانتی تھی
عزرا کا ناک ایک دم سے نارمل حالت اختیار کر گیا تھا پر چہرے پر حیرت در آٸ ۔
” میسم ! وہ دوکان پر نہیں گیا کیا پھر “
عزرا نے حیرت زدہ انداز میں کہا ۔ اریبہ نے گلا صاف کیا اور دانت نکالتے ہوۓ قہقہ لگایا جو وہ بہت دیر سے دباۓ بیٹھی تھی۔ ہاں میسم مراد !!!!
سامنے جو غصے میں بھری کھڑی پیاری سی لڑکی ہے نہ اس کے بڑے ماموں کا بڑا بیٹا ۔ بچپن میں چلنا بعد میں سیکھا بلا پکڑ کر گھمانا پہلے آ گیا تھا ۔ قصور سارا جواد چچا کا تھا کرکٹ کے بے انتہا شوقین تھے موصوف نے بہت کوشش بھی کی کے کسی طرح کرکٹ کو ہی اپنا پروفیشن بنا ڈالیں پر احمد میاں یعنی کے جواد کے ابا حضور اور میسم کے دادا حضور اس کے سخت خلاف تھے بھٸ گردن سے دبوچ کر ڈاکٹری پڑھاٸ پر ڈاکٹر تو مراد کی طرح وہ بھی نہ بن پاۓ ہاں البتہ دونوں بھاٸ پروفیسر ضرور بن گۓ ۔
جی جی درست سمجھے آپ مراد احمد ۔۔ میسم کے والد انہیں کرکٹ سے تو باپ کی طرح بہت چڑ تھی لیکن ڈاکٹر بن جانے کا خواب وہ بھی اپنے ابا کا پورا نہیں کر سکے تھے ۔ تو جناب یہ ڈاکٹر بننے کا خواب تو ابھی تک اس گھر میں کوٸ نہ پورا کر پایا تھا ۔ اس لیے یہ کوشش اب اگلی نسل پر کی جا رہی تھی ۔
احمد میاں کے دو سپوت اور دو عدد ہی بیٹاں تھیں ۔ بڑا بیٹا مراد احمد جن کے دو بیٹے تھے میسم مراد اور حزیفہ مراد ۔ پھر جواد احمد تھے جن کی شادی کیا ناکام ہوٸ موصوف نے پھر شادی ہی نہ کی ۔ ایک بیٹی عابدہ جو شادی کے بعد باہر مقیم تھیں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی اور دوسری بیٹی عزرا احمد جو شوہر کی وفات کے بعد سے میکے کی ہو کر رہ گٸ تھیں احمد میاں نے ان کو مکان کے تیسرے پورشن میں رہاٸش دی تھی ۔ اور ان کی بیٹیوں کا خرچ دونوں بھاٸ مل کر اٹھاتے تھے ۔
جی بلکل ٹھیک سمجھے یہ دونوں عزرا کی ہی بیٹیاں ہیں ۔ بڑی ادینہ شیراز اور چھوٹی سولہ سالہ اریبہ شیراز ۔
تو جناب ڈاکٹر بننے کا خواب اب اگلی نسل کے ان چار لوگوں پر آن پہنچا تھا ۔ پر ابھی تک ریس میں سب سے آگے ادینہ تھی ۔
” امی رات پھر ماموں سے معافی مانگ لی ہے جناب نے کہتا ہے آرٹس کے ساتھ کروں گا اگلی کوشش ساٸنس نہیں پڑھی جاتی میرے بس کی نہیں “
اریبہ نے آنکھیں گھماتے ہوۓ مزے لے کر رات کی وہ بات بتاٸ جو عزرا بیگم نہ سن سکی تھیں بحث بہت لمبی ہو چکی تھی اس لیے وہ تو اوپر آکر سو گٸ تھیں ۔ میسم دوسری دفعہ ایف ایس سی بری طرح ناکام ہوا تھا ۔ لٹیا ہی ڈبو ڈالی تھی باپ داد کی اس گھر کے بڑے بیٹے نے مانو جیسے چراغ تلے اندھیرا تھے موصوف شہر بھر کے لڑکے مراد سے پڑھ کر ٹاپ کرتے تھے اور ان کا اپنا برخوردار ساٸنس کے تینوں مضامین میں دوسری دفعہ فیل ہو چکا تھا ۔ تو دادا حضور نے اسے ورکشاپ بھیجنے کا علان کر ڈالا جس پر اس کی روح فنا ہوٸ تھی ۔اور پھر رو دھو کر اس پر سے ڈاکٹر بننے کا بوجھ اتار دیا گیا تھا ۔
” تو کیا ابا اور مراد مان گۓ پھر ؟“
عزرا نے حیران ہو کر پوچھا ۔ ہاتھ بے ساختہ گال پر آ چکا تھا ۔
” ماموں اور نانا ابو تو بہت غصے میں تھے لیکن پھر ممانی کے بہت کہنے پر آخری چانس دیا ہے کہ بھٸ کر لو بس میں آرٹس کو “
اریبہ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ۔ اور جھاڑو سے کانچ کے ٹکڑے چنے ۔ جتنی تیزی سے جھاڑو فرش پر چل رہا تھا اتنی تیزی سے اس کی زبان چل رہی تھی ۔
” کوٸ فاٸدہ نہیں لکھوا لو مجھ سے بھٸ انتہاٸ کوٸ نکما انسان ہے آرٹس میں بھی ٹھس ہو گا “
ادینہ نے خونخوار لہجے میں نفرت سے کہا ۔دانت پیس کر ناک پھلایا۔ جی مقابلہ تو عروج پر تھا ۔ ابھی تک تو ہر طرح کی داد وصول کرنے والوں میں یہی میڈیم سب سے آگے تھیں ۔
” اچھا زیادہ بکواس نہ کیا کر “
عزرا نے فوراً کہا ۔اسی لمحے وہ ہانپتہ ہوا اوپر آیا تھا ۔ جی بلکل درست اندازہ لگایا آ گیا وہ زینے پھلانگتا اپنی گیند لینے میسم مراد !!!
پتلا سا سانولے رنگ بڑی آنکھوں والا پسینے سے بھیگا ہوا ۔ سانس چڑھا ہوا ۔
ایک نظر سامنے غصے میں بھری کھڑی ادینہ کی طرف دیکھا کان کھجایا ۔ منہ میں کچھ بڑ بڑایا اور پھر عزرا کی طرف رخ کیا ۔
” پھپھو میری گیند آٸ ہے “
شرٹ کو گلے سے پکڑ کر سینے کو ہوا دیتے ہوۓ کہا ۔ چور نظر پھر سے غصے میں بھری کھڑی ادینہ پر ڈالی جو لگ بھگ چڑیل نما شکل اختیار کرنے کو ہی تھی ۔
” ہا۔۔ہاں ادینہ گیند دے اس کی “
عزرا نے فوراً ادینہ کی طرف دیکھا اور آنکھیں نکال کر کہا ۔ میسم کے معاملے میں وہ ایسی ہی ہو جاتی تھیں ۔ جی بلکل درست سمجھے ادینہ اور اریبہ کی سوتیلی ماں کے جیسی
” کیوں دوں میرا سر پھوڑ ڈالتی تو اس کا کیا جاتا ہاں “
ادینہ نے دونوں ہاتھ کمر پر دھر کر آنکھیں سکیڑ کر کہا۔ آنکھوں میں آج بھر پور جنگ کا عزم لیے کھڑی تھی وہ ۔
” پھوڑ ڈالتی نہ پھوڑا تو نہیں بال دو میری “
میسم نے اسی کے انداز میں کہا ۔ کمر پر ہاتھ دھرے وہ اس وقت میسم تو نہیں معصومہ زیادہ لگ رہا تھا ۔
” نہیں دیتی میں یہ بال تو شام کو ماموں کو ہی ملے گی جب میں پڑھنے آوں گی ان سے “
ادینہ نے آنکھیں نکال کر اپنے خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا تھا ۔ مراد احمد دوسرے پورشن میں اکیڈمی چلاتے تھے جہاں ڈھیروں بچے ان سے کیمسٹری پڑھنے آتے تھے ۔
” ادینہ !!!!“
عزرا نے کچن سے پھر ڈپٹنے کے سے انداز میں آواز لگاٸ تھی ۔ میسم پیر پٹختا ہوا کچن کی طرف بڑھ گیا تھا ۔ چلو جی لاڈ اٹھوانے کا وقت آن پہنچا ۔ اسی بات سے تو وہ خار کھاتی تھی بچپن سے ۔
” پھپھو دیکھیں اسے زیاتی کر رہی ہے میرے ساتھ “
میسم نے بچارگی سے عزرا کو کہا اور پھر واپس عزرا سمیت ہی وہ کچن سے باہر آیا تھا۔
” نہیں دیتی “
ادینہ نے پر سکون انداز میں ہاتھ سینے پر باندھے ۔
” اریبہ کہاں رکھی ہے اس نے بال “
میسم نے تنک کر اریبہ کی طرف دیکھا ۔ جو ہڑ بڑا کر اب ادینہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ ادینہ نے ایسے کالی ماتا کا روپ اختیار کر کے اس کی طرف دیکھا کہ وہ تو تھوک نگل کر ہی رہ گٸ بچاری
” ماموں سے لے لینا شام کو “
ادینہ نے مزے سے اپنے ناخنوں کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے گہری سانس لی پھر تیزی سے پلنگ پر اس کی کتاب کی طرف بڑھا ۔ وہ بھی پیچھے لپکی تھی پر شرٹ ہی پکڑ کر کھینچ سکی صرف
” ٹھیک ہے “
میسم نے کتاب کو دونوں ہاتھوں میں یوں پکڑا جیسے ایک ہی جست میں دو ٹکڑے کر ڈالے گا ۔ ادینہ کی سانس ہی تو خشک ہوٸ تھی ۔
” ارے ارے جاہل کہیں کے خبردار جو میری کتاب کو چھوا بھی تو “
وہ تیزی سے تڑپنے کے انداز میں میسم کی طرف لپکی ۔ جو کتاب کے دو ٹکڑے کر دینے کے انداز میں اسے تھامے کھڑا تھا ۔
” بال دو میری اور لے لو کتاب اپنی “
میسم نے بھنویں سکیڑ کر کہا ۔ ادینہ پیر پٹختی آگے بڑھی تھی اور پھر تکیے میں سے گیند نکال کر واپس پلٹی ۔
” یہ لو مرو پکڑو “
زور سے غصے میں مارنے کے انداز میں اس نے گیند کو میسم کی طرف اچھالا تھا نشانہ تو اس کے چہرے کا ہی لیا تھا ۔جسے بہت مہارت سے وہ اپنے ہاتھ میں لے چکا تھا ۔
” تم کیا جانو کتابوں کی قدر “
ادینہ نے زہر خندہ لہجے میں کہا۔ جبکہ وہ دانت نکال گیا تھا بس ۔ گیند کو ہاتھ میں اچھالتا زینے کی طرف بڑھا لیکن پھر رک کر کچن کی طرف بڑھ گیا ۔ جہاں عزرا پکوڑے تلنے میں مصروف تھیں۔
” پھپھو کڑی بنی ہے کیا آج ؟ “
میسم نے آگے جا کر پکوڑا اٹھا لیا تھا ۔ عزرا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔
” ہاں آج آ جانا اوپر شام کو “
عزرا نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔ میسم پکوڑا ہاتھ میں پکڑے مسکراتا ہوا باہر آیا ۔ ایک ابرٶ اوپر چڑھا کر ادینہ کی طرف دیکھا پھر شرٹ کا کالر بڑے بھرم سے کھڑا کیا
” ٹھیک ہے پھپھو میرے لیے پکوڑے سیپرٹ بھی رکھیے گا “
تیر تو سیدھا نشانے پر ہی لگا تھا جناب اور وہ واقعی جل بھن گٸ تھی ۔
” ٹھیک ہے ٹھیک ہے آ جانا بس شام کو “
وہ ادینہ کے جل جانے پر پرسکون ہوتا نیچے اتر رہا تھا ۔ جب پیچھے سے عزرا کی آواز سناٸ دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: