Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 10

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

” نہیں میں اس سے پوچھ کر جاٶں گی مسیم کا نمبر دو “
عزرا نے ماتھے پر بل ڈالے زبردستی اریبہ سے اپنا بازو چھڑوا کر آگے ہوٸیں ۔ فہد ایک دم سے ان کے یوں آگے بڑھنے پر گڑ بڑا سا گیا ۔
” آنٹی اس نے منع کیا ہے ابھی نمبر اس کے پاس نہیں ہے “
خجل سا ہو کر گردن کھجاتے ہوۓ جواب دیا اور نظریں جھکا لیں ۔ اریبہ جلدی سے آگے بڑھی ۔
” امی چلیں بات سمجھ کیوں نہیں آتی آپکو آپ کے ایسا کرنے سے میسم واپس آ جاۓ گا کیا کبھی نہیں چلیں آپ “
اریبہ نے آگے بڑھ کر عزرا کے بازو کو پھر سے گرفت میں لیا اور ایک ناگوار نظر فہد پر ڈالی ۔ وہ جو اُس کو آج اپنے گھر میں دیکھ کر عجیب سی خوشگوار کیفیت سے دوچار ہوا تھا ۔ نفرت بھری نگاہ سیدھا دل پر جا لگی ۔
جس کی طرف سے ہمیشہ ایک محبت بھری نظر کا منتظر رہتا تھا آج اگر اس نے دیکھا بھی تو نفرت بھری نظروں سے ۔ وہ عزرا کو پکڑے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی اور فہد کے قدم بے ساختہ ان کے پیچھے تھے ۔
اریبہ بڑی مشکل سے عزرا کو بیرونی دروازے تک لاٸ اور جب وہ بڑبڑاتی اپنے دروازے کی طرف بڑھی تو اریبہ ناک پھلا کر مڑی ۔ وہ جو اس کی پشت پر بکھرے اس کے بالوں کو محبت سے دیکھنے میں مگن تھا اس کے یوں پلٹنے پر گڑ بڑا سا گیا ۔
” اور تم تم نے بلکل اچھا نہیں کیا “
دانت پیس کر خونخوار نظر فہد پر ڈالی ۔ آنکھوں کو سکوڑے ناک پھلاۓ بلکل اپنی اماں کے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی ۔ فہد نے بمشکل دل کی حالت کو سنبھالا ۔
” مجھے کوٸ افسوس نہیں میں نے سب اچھا ہی کیا ہے “
گہری سانس لی اور مسکرا کر سینے پر ہاتھ باندھے ۔ اور غور سے اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا جس پر وہ دنیا بھر کی نفرت سمیٹے کھڑی تھی ۔
” تمہیں تو دیکھ لوں گی میں “
اریبہ نے منہ پر ہاتھ پھیرا ۔ اور ایک جھٹکے سے دوپٹہ سر پر اوڑھنے کے لیے ہوا میں اچھالا جو عزرا کو قابو کرتے ہوۓ سر سے ڈھلک گیا تھا ۔ دوپٹہ ہوا میں اٹھا اور اس کا پلو فہد کے چہرے سے مس ہوتے ہوۓ آگے ہوا ۔
وہ گہری سانس کو اندر کھینچ گیا ۔ایک مسحور کن سا احساس تھا جو ناک کے نتھنوں سے گھس کر دل پر گدگدی کر گیا۔ اور اس کے سنجیدہ سے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ ۔ وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی۔
”مجھے خوشی ہو گی یہ نگاہ کرم مجھ پر پڑے گی جس کا منتظر کب سے ہوں میں “
خود سے سرگوشی کرتا ہوا وہ مسکرا دیا ۔ اور دروازے کو چمٹ کر حسرت سے اس کی گھر کے اندر داخل ہوتی آخری جھلک دیکھی ۔
*******
” بہت بہت مبارک ہو میرے شیر “
سر ابرار نے گرم جوشی سے میسم کو ساتھ لگایا اور اس کی پیٹھ کو تھپکا۔ میسم نے سرشار سے انداز میں آنکھوں کو موند کر لبوں پر مسکراہٹ بکھیری ۔
” خیر مبارک سر بس آپکا ساتھ تھا “
محبت سے مسکراتا ہوا ان سے الگ ہوا۔ ٹیم کی سلیکشن کے بعد اب دبٸ روانگی سے پہلے ان کی دن رات پریکٹس چل رہی تھی ۔ وہ لاہور کی ٹیم میں اکیلا نیا کھلاڑی تھا اس لیے کسی کے ساتھ ابھی اتنی بول چال نہیں ہوٸ تھی ۔ وہ سر ابرار کے دوست اشفاق علی کی سفارش کے ساتھ اکیڈمی کے ہاسٹل میں ایک لڑکے کے ساتھ کمرہ بانٹ رہا تھا لیکن اس میں بہت دقت تھی جس کا گاہے بہ گاہے ان سے کہہ رہا تھا اور آج وہ اسی سلسلے میں ملتان سے لاہور آۓ تھے ۔
” گڈ ویری گڈ بس مجھے یقین ہے اب تم سپلمینٹری میں نہیں رہو گے ان شا اللہ “
ابرار نے گردن اکڑا کر فخر سے کہا ۔ اور اس کے بازو پر گرفت مضبوط کی جس پر وہ سر جھکا گیا جبکہ لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی ۔ یہ اشفاق علی کا ہی آفس تھا جہاں اس وقت وہ دونوں کھڑے تھے۔
” بے شک آپ کا مجھ پر اعتماد یہاں تک لے آیا ہے “
تشکر آمیز نظروں سے ابرار کی طرف دیکھا ۔ سفید رنگ کی ڈھیلی سی ٹی شرٹ اور بڑھی ہوٸ شیو میں وہ تھکا سا لٹا سا مسافر لگ رہا تھا ۔
” اچھا سنو تمھاری رہاٸش کا انتظام ادھر اکیڈمی کے ہاسٹل میں کر دیا ہے میں نے اور کسی طرح کی کوٸ “
ابرار نے سر اثبات میں ہلاتے ہوۓ میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ابھی بات مکمل نہیں کر پاۓ تھے کہ سامنے سے آتے سنیٸر کرکٹ کوچ اشفاق علی کو دیکھ کر گرم جوشی سے مسکراتے ہوۓ آگے بڑھے ۔
”ارے آٸیے آٸیے اشفاق صاحب “
اشفاق علی قہقہ لگاتے ہوۓ آگے بڑھے اور ابرار سے بغل گیر ہوۓ ۔
” آپ کے لڑکے کو ویسے آپکی سفارش کی ضرورت نہیں تھی “
ابرار سے الگ ہو کر مسکراتے ہوۓ میسم کی طرف دیکھا جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اس تعریف پر تھوڑا شرمانے کے سے انداز میں نظریں جھکا گیا ۔
” بس بچپن سے اس کے اندر وہ چیز دیکھی ہوٸ تھی میں نے ہی ہیز میجیکل پاور ان ہز بیٹنگ ما شا اللہ “
ابرار نے فخر سے کہتے ہوۓ میسم کی پیٹھ کو پھر سے تھپکا جس پر لبوں کو باہر نکال کر اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اشفاق علی نے تاٸید کی ۔
” چلیں پھر اس دفعہ لاہور قلندر جیتے گی میسم مراد کے دم پر “
اشفاق علی نے پر جوش انداز میں کہا اور پھر تینوں کا قہقہ اس بات پر گونجا ۔
**********
” وہ جا رہی ہےکالج کیا “
میسم کان کو فون لگاۓ آگے بڑھا اور کھڑکی کو کھولا ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلاتی کمرے میں خنکی بھر گٸ نومبر کی سرد رات تھی پر دل کی گھٹن کے ہاتھوں مجبور ہو کر کھڑکی کو کھولنا پڑا ۔ یہ ہاسٹل کا تنگ سا کمرہ تھا جہاں دو پلنگ لگے تھے ۔ ایک کمرے میں دو لوگ رہتے تھے ۔ پہلے جس کمرے میں وہ رہ رہا تھا وہاں پہلے سے دو لڑکے موجود تھے
” ہاں جا رہی ہے دیکھا تھا کل جواد چاچو کی کار میں “
دوسری طرف سے فہد کی آواز پر وہ پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اب آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ساتھ والا لڑکا خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا ۔ اس لیے اس کے ہلکے ہلکے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے ۔
” ہممم “
جیب میں ہاتھ ڈال کر ڈھنے کے سے انداز سے کھڑکی سی ٹیک لگاٸ ۔ اب چاند میں ادینہ کا چہرہ دمک رہا تھا ۔گداز سا نرم سا سفید شفاف ۔ دل میں شدت سے اسے دیکھنے کی چاہ ابھری ذہن کو جھٹکا ۔
” دادا ابو کیسے ہیں “
سنجیدہ سے لہجے میں اگلا سوال پوچھا ۔دل کو بری طرح سرزنش کی وہ ادینہ اب کہاں اس کی تھی۔ اب تو وہ خوش ہو گی جو چاہتی تھی وہی ہوا ۔
” ساتھ والی پڑوسن سے امی کے ذریعے پوچھوایا کل ٹھیک ہیں وہ بھی “
فہد نے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔ لب پھر سے مسکرا دیے ۔
اچھا چل رکھتا ہوں فون پھر بات ہو گی کل دبٸ کے لیے نکل رہا ہوں وہاں شاٸد بات نہ ہو سکے “
اداس سی آواز میں کہتے ہوۓ فون بند کیا ۔ اور پھر سے سینے لر ہاتھ باندھ کر چاند کی طرف دیکھا ۔
**********
” تھنکیو روشان “
ادینہ نے ہاوس جاب کا اپاٸنٹمنٹ لیٹر ہاتھ میں لے کر تشکر آمیز نظروں سے سامنے کھڑے روشان حمدانی کی طرف دیکھا ۔ جو اپنی مخصوص پر وقار مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ مسکرا دیا ۔ اس کے ساتھ کھڑی ماہ رخ بھی پرجوش انداز میں اپنے لیٹر پر نظریں دوڑا رہی تھی۔
روشان کے ماموں لاہور کے بہت بڑے سرکاری ہسپتال میں سرجن تھے . جہاں انھوں نے روشان کے ساتھ ساتھ ادینہ اور ماہ رخ کی بھی ہاٶس جاب کروا دی تھی ۔
ان کے فاٸنل امتحانات ہو چکے تھے اور روشان نے ان دونوں کی ہاٶس جاب کروانےکی پیشکش انہیں خود دی تھی اس دن تو وہ اس پیشکش کو اس کا بڑا پن سمجھی تھیں صرف لیکن اس نے تو واقعی ہی دونوں کی ہاٶس جاب نہ صرف کروا دی تھی بلکہ آفیشل لیٹر بھی لے آیا تھا جو کل رات اس کے ماموں نے اسے میل کیے تھے ۔
” اٹس اوکے “
روشان نے مسکرا کردونوں کی طرف دیکھا ۔ ماہ رخ نے پرجوش انداز میں لبوں کو دانتوں میں دبا کر ادینہ کی طرف دیکھا لیکن اس کے چہرے پر ابھی الجھن اور خوشی کے ملے جلے اثرات تھے ۔ اس نے تو اس بات کا گھر میں ابھی تک ذکر بھی نہیں کیا تھا ۔ اور مراد احمد ابھی اس کی اچھی جگہ ہاٶس جاب کی کوشش میں سرگرداں تھے ۔
” بس تم دونوں جواٸنگ کی تیاری کرو اور کچھ نہیں کوٸ تھنکس نہیں کچھ نہیں “
روشان نے دوستانہ انداز میں خفگی سے دونوں کی طرف دیکھا جو تشکر کے احساس سے لبریز اس کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ اس بات پر دونوں بے ساختہ مسکرا دی ۔روشان دونوں کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھتا ہوا آگے بڑھا تو ۔ماہ رخ نے بھنویں اچکا کر ادینہ کی پریشانی کا جواز طلب کیا ۔
” سنو ماموں مان جاٸیں گے کیا اتنی دور ہاٶس جاب کے لیے “
نچلے لب کو بے چینی سے دانتوں میں دباۓ اب وہ ماہ رخ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” ایسے ہی نہیں مانیں گے ارے یار اتنا اچھا ہاسپٹل قسمت والوں کی وہاں ہاوٸس جاب ہوتی ہے “
ماہ رخ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر ہلایا اور ماتھے پر اس طرح شکن ڈالے جیسے اس کی دماغی حالت پر شک گزرا ہو ۔ ادینہ نے پر سوچ انداز میں سانس لیا ۔ یونیورسٹی کے ان آخری مہینوں میں روشان ان کے بہت قریب ہو چکا تھا تینوں ایک ساتھ نظر آتے تھے ہر جگہ ۔
” ہمممم چلو ویسے مان جاٸیں گے بس امی کا ہے اداس ہوں گی وہ “
ادینہ نے سر اثبات میں ہلایا۔ کندھے پر بیگ کو درست کیا ۔
” کچھ نہیں ہوتا تم کوٸ بہت چھوٹی سی بچی نہیں ہو لوگ میٹرک کے بعد اپنی بیٹیوں کو بھیج دیتے باہر شہروں میں پڑھنے اور تم کوٸ اکیلی تھوڑی نہ ہو گی میں ہوں گی نہ ساتھ تمھارے “
ماہ رخ نے اس کے گرد بازو حاٸل کٸے ۔ اور قدم آگے بڑھا دیے وہ آج روشان کے کہنے پر ہی یونیورسٹی آٸ تھیں اور اب واپسی بیرونی گیٹ کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
” ہاں شاٸد میں ہی زیادہ سوچ رہی ہوں “
ادینہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔ اور پھر پرسکون سے انداز میں سانس لیا ۔اس کے ڈاکٹر بن جانے پر پورے ڈھاٸ ماہ بعد تو گھر میں خوشی کی لہر آٸ تھی ۔ میسم کے جانے اور کرکٹ جواٸن کرنے کے غم کو سب بھلا کر اس کی اس خوشی کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔
” یقیناً آپ محترمہ زیادہ سوچ رہی ہیں “
ماہ رخ نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاٸ ۔ اور پھر وہ مسکراتے ہوۓ اس کے ساتھ قدم بڑھا دیے ۔
***********
” مجھے میسم کو اوپنر بھیجنا ہے “
فراز نے پاس کھڑے اسد کی طرف دیکھا جو سر میں ٹاول چلاتا ایک دم سے تھم گیا ۔ وہ لوگ دبٸ سپورٹس جم میں موجود تھے جہاں ان کی پوری ٹیم موجود تھی اسد نے حیرت سے کچھ دور ویٹ لفٹنگ کرتے میسم کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑے فراز جاوید کو بے شک میسم کی بلےباز شاندار تھی جو وہ سب لوگ دیکھ چکے تھے لیکن وہ ابھی سیپلمینٹری کھلاڑی تھا بلکل نیا اسد نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا لیکن سامنے لاہور ٹیم کا کپتان تھا فراز جاوید جس کی ہر بات پتھر پر لکیر ہوتی تھی ۔ اسد لاہور قلندر کا وکٹ کیپر تھا ۔اور وہ بھی فراز کی طرح گولڈن بیج میں تھا۔
” نیا لڑکا ہے دیکھ لیں باقی لوگ منہ بناٸیں گے “
تھوڑا جھجکتے ہوۓ اسد کہہ ہی گیا لیکن جانتا تھا ہو گا وہی جو فراز چاہتا ہے ۔ فراز نے بھونیں سکیڑ کر اسد کی طرف دیکھا اور پھر پاس پڑی پانی کی بوتل کو منہ سے لگا لیا ۔
” کچھ نہیں ہوتا اسے بلاٶ ذرا “
پانی کی بوتل کو نیچے کرتے ہوۓ فراز نے انگلی کا اشارہ میسم کی طرف کیا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے منہ صاف کیا اسد نے پرسوچ انداز میں دیکھا اور پھر سر ہلاتا ہوا میسم کی طرف بڑھ گیا اور تھوڑی دیر بعد ہی میسم فراز کے سامنے کھڑا تھا ۔
” میسم تم فواد کے ساتھ اوپنر جاٶ گے کل کے میچ میں “
فراز نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا میسم نے چونک کر دیکھا ۔ کل لاہور قلندر کا میچ کراچی کنگ کے ساتھ تھا ۔ یہ ابھی ان کی ٹیم کا دوسرا ہی میچ تھا سپر لیگ کے لیے جس میں فراز نے اسے اوپنر کھلاڑی بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور یہ بات میسم کے لیے بہت بڑی بات تھی ۔
” سر میں “
حیرت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر ارد گرد ایسے دیکھا جیسے اس کے علاوہ بھی کوٸ وہاں موجود ہو ۔ انھیں دبٸ آۓ ابھی دوسرا ہفتہ تھا ۔
” ہاں کیوں “
فراز نے مسکرا کر اس کے کندھے پر دباٶ ڈالا ۔ میسم ابھی بھی ہنوز حیرت میں مبتلا تھا ۔ فراز نے مسکراتے ہوۓ پھر سے کندھے پر دباٶ ڈالا ۔
” جی سر “
سینہ ایک دم سے چوڑا ہوا اور ناک کے نتھنوں سے سانس نکلا اور لب مسکرا دیے ۔ تو میسم مراد یہ تمھاری پہلی جیت ٹھہری دل نے دماغ سے سرگوشی کی ۔
” بیسٹ آف لک “
فراز نےمیسم کے کندھے پر تھپکی دی ۔ اور اپنی جم کٹ اٹھا کر آگے بڑھ گیا جبکہ وہ وہیں کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ ایک عجیب سی خوشی تھی ۔ دل اچھل رہا تھا ۔

 

شازل وحید تیز تیز قدم اٹھاتا ہوٹل کے کمروں کی راہداری میں سے گزرتا اب فرازجاوید کے کمرے کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔ یہ دبٸ کا شاندار ہوٹل تھا جہاں پاکستان سپر لیگ کے تمام کھلاڑیوں کو ٹھہرایا گیا تھا
شازل کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا جس پر تزلیل کا عکس موجود تھا فراز کے کمرے کے بند دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے گہری سانس لی لیکن بے سود تھا سب اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا ہاتھ اٹھا کر لب بھینچتے ہوۓ دستک دی دستک کے بعد کمرے سے اندر آنے کی اجازت ملتے ہی وہ دروازہ کھول کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا سامنے صوفے پر بیٹھے فراز کے سر پر کھڑا تھا ۔ فراز اخبار پر نظریں جماۓ ہوۓ بیٹھا تھا سامنے میز پر ناشتے کے لوازامات موجود تھے ۔ شازل کے یوں سر پر آ کر کھڑے ہونے پر نظر اٹھا کر اوپر دیکھا ۔
” آپ نے میری جگہ کل آۓ لڑکے کو اوپنر بھیج دیا “
دانت پیس کر ضبط کرتے ہوۓ کہا ۔ فراز نے پرسکون انداز میں اوپر دیکھا اس کا مطلب تھا نوٹس سب کے پاس دستخط کےلیے پہنچ چکا تھا جس میں فراز نے کل صبح ہی ردوبدل کی تھیں ۔ کچھ دیر میں ان کو کراچی کنگ کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے دبٸ انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم پہنچنا تھا ۔
” اس میں کل آیا یا پرسوں آیا کوٸ معنی نہیں رکھتا اس کی کارکردگی دیکھی ہی ہو گی تم نے “
فراز نے ایک آنکھ کے آبرو چڑھاۓ اور پرسکون لہجے میں کہا ۔ شازل کا جلدی اٶٹ ہو جانا اب معمول بنتا جا رہا تھا وہ بمشکل کچھ اورز کھیل پاتا تھا ۔ اب اس کی بلے بازی کی وہ لاٸن نہیں رہی تھی کہ فراز اسے ٹی ٹوینٹی میچ میں اوپنر کھلاڑی کے طور پر بھیجتا اور میسم کو وہ آڈیشن کے دن سے نوٹ کر چکا تھا ۔
” وہ کارکردگی صرف پریکٹس میں دکھاتا ہے وہاں گراونڈ میں فرسٹ ٹاٸم فیس کرنا سب کے بس کی بات نہیں “
شازل نے ہتھیلی کو کھول کر ہلاتے ہوۓ حقارت سے دانت چباۓ ۔ اس کے اتنے غصے کا سامنے بیٹھے نفوس پر کوٸ اثر نہیں ہوا تھا ۔
” مجھے لگتا ہے کر لے گا “
فراز نے گہری سانس لی اور گود میں رکھے اخبار کو فولڈ کیا۔
” ہن۔ن۔ن۔ن یہ انسلٹ ہے میری چلیں میری جگہ ابراہیم آتا یا طلحہ تو اور بات تھی آپ نے اٹھا کر ایک سپلمینٹری کھلاڑی کو اوپنر بنا دیا “
شازل نے ناک چڑھا کر بھر پور خفگی دکھاٸ ۔ اسے یہ سب اپنی تزلیل لگ رہی تھی ۔
” مجھے لگتا تم رول بھول رہے ہو پہلے کھلاڑی کو منتخب کرنے کے کوٸ رولز نہیں رکھے گۓ کہ وہاں سپلمینٹری کھلاڑی نہیں جا سکتا ہے “
فراز نے میز پر پکڑی فاٸل اٹھا کر شازل کے سامنے کرتے ہوۓ کہا ۔ شازل نے ایک غصیلی نظر فاٸل پر ڈالی ۔
” چلیں دیکھ لیتا ہوں میں بھی کیا جھنڈے گاڑتا ہے وہ آج کہ میچ میں کراچی کنگز کوٸ معمولی ٹیم نہیں ہے “
فاٸل پر ایک حقارت بھری نظر ڈال کر وہ تیزی سے مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اب وہ میسم کے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔ بنا اجازت دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہوا میسم اسد کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا یہاں اس وقت دو تین اور کھلاڑی موجود تھے ۔جب شازل غصے میں بھرا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ۔
” مبارک ہو میری جگہ لینے کے لیے “
شازل نے طنزیہ انداز میں میسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ میسم نے خجل سا ہو کر ارد گرد باقی لوگوں کی طرف دیکھا شازل کے یوں چیخنے جیسے انداز پر سب لوگ ایک دم سنجیدہ ہو گۓ تھے ۔
” میں کسی کی جگہ نہیں لے رہا ہوں اپنی جگہ بنا رہا ہوں بس “
میسم نے مسکرا کر اسد کی طرف دیکھا اور پھر سامنے کھڑے شازل کی طرف انداز دوستانہ تھا شازل اس سے سنیر تھا اس لیے وہ فوراً اٹھ کر کھڑا ہوا اب وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔
” علیم کی ایک بھی بال نہیں کھیل پاٶ گے تم تمھارے بس کا کام نہیں “
ناک کو اوپر چڑھا کر شازل نے طنزیہ انداز اپنایا ۔ اور انگشت انگلی میسم کی آنکھوں کے درمیان میں اکڑاٸ ۔انداز اور الفاظ ھتک آمیز تھے ۔ میسم نے دھیرے سے مٹھیاں بھینچی تھیں ۔ جبڑے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہو گۓ تھے ۔
” کام تو آپ کے بس سے باہر تھا شاٸد “
میسم نے نظریں جھکا کر مدھم سے لہجے میں معنی خیز جواب دیا جس پر سامنے کھڑا شازل آگ بگولہ ہو چکا تھا ۔
” تمہیں تمیز نہیں سنیٸر سے کیسے بات کرتے ہیں “
شازل نے بپھر کر میسم کا گریبان پکڑا ۔ اب سب لوگ ایک دم سے اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔ اسد جلدی سے آگے بڑھا جسے شازل بازو کے ذریعے روک چکا تھا ۔ باقی دو نفوس بھی اب پریشانی سے شازل کی طرف دیکھ رہے تھے ۔جو بات کو بڑھا رہا تھا ۔ میسم نے بھنوں کو سکیڑ کر ماتھے پر شکن ڈالے اور شازل کے ہاتھ کی طرف دیکھا جو اس کا گریبان تھامے ہوۓ تھے ۔
” میں نے آپ سے بات نہیں شروع کی سر آپ خود آۓ ہیں اور میں یہاں ٹیم کے کپٹن کی مرضی کا پابند ہوں وہ مجھے کسی بھی جگہ پر رکھیں “
میسم نے پر سکون انداز میں اپنے گریبان پر موجود اس کے ہاتھ کو تھاما اور پوری قوت سے نیچے کیا ۔
” یہ تو شام کو پتہ چلے گا تمہیں “
شازل نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا طنز بھرا قہقہ لگایا ۔
” بے شک آج پورے پاکستان کو پتہ چلے گا ان شا اللہ “
میسم نے ہنوز پرسکون لہجے میں کہا۔ شازل نے ناک پھلاٸ حقارت بھری نظر سب پر ڈالی اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا ۔
***********
ناک کو بار بار سکوڑنے کی آواز پر ادینہ نے بیگ کے زپ بند کرتے ہاتھ روکے اور گردن موڑ کر پیچھے دیکھا ۔ عزرا سامنے پلنگ پر بیٹھی مسلسل آنسو بہا رہی تھیں ۔
” امی بس کر دیں اب ابھی تو جب باہر جاٶں گی سپیشلاٸزیشن کے لیے تب کیا کریں گی آپ بتاٸیں مجھے “
ادینہ نے عزرا کے چہرے کو اوپر کیا اور اپنے ساتھ لگایا عزرا نےزور سے اپنے پاس کھڑی ادینہ کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے ادینہ نے محبت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سر پر بوسہ دیا ۔ آج صبح سے وہ یوں روۓ جا رہی تھیں ۔
” بس کریں اب لاہور جا رہی ہوں وہ بھی ہاوس جاب کے لیے جاب یہیں کروں گی اپنے شہر میں پریشان نہ ہوں آپ “
تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ پیار سے عزرا کے چہرے کو اوپر کیا ۔ ادینہ پہلی دفعہ ان سے اتنا دور جا رہی تھی ۔ ان کی بہت زیادہ مخالفت کے باوجود مراد اور احمد میاں نے ادینہ کو لاہور بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ ادینہ نا صرف ان کی پہلی اولاد تھی بلکہ ان کے دکھ سکھ کی ساتھی بھی تھی وہ بہت چھوٹی سی عمر سے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنی ماں کے آنسو صاف کرنے لگی تھی اور اس کی ننھی ہتھیلوں کا لمس عزرا کو سارے غم بھلا دیتا تھا ۔ اور پھر ادینہ کو کبھی انہوں نے خود سے دور کرنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ بچپن سے میسم کے ساتھ کیا گیا رشتہ ان کے دل کو پرسکون کر دیتا تھا کہ ادینہ ہمیشہ ان کی نظروں کے سامنے رہے گی
” آپی آپ چلیں ماموں انتظار کر رہے “
اریبہ نے آ کر دروازے پر کھڑے ہوتے ہوۓ ہاتھ کا اشارہ باہر کی طرف کیا جہاں مراد احمد اسے سٹیشن چھوڑنے کے لیے تیار کھڑے تھے خیر پور سے لاہور وہ بزریعہ ریل گاڑی جا رہی تھیں جو تقریباً دس گھنٹے کا سفر تھا ۔ عزرا کو اس کا اور ماہ رخ کا اکیلے جانا بھی منظور نہیں تھا اس لیے جواد احمد ساتھ جا رہے تھے ۔
” میں سنبھال لوں گی ان کو “
اریبہ نے عزرا کے گرد بازو حاٸل کیے۔ اور آنکھوں سے ادینہ کو جانے کا اشارہ کیا ۔ حزیفہ نے اندر داخل ہو کر کندھے پر ادینہ کا بیگ رکھا اور وہ ہاتھ میں کیری بیگ کو چلاتی آگے بڑھی بار بار مڑ کر عزرا کی طرف دیکھتی ہوٸ وہ اب باہر آ چکی تھی سب سے ملنے ملانے کا کام وہ کر چکی تھی تیز تیز قدم اٹھاتی اب وہ پورچ میں داخل ہوٸ جہاں مراد احمد ہارن پر ہارن دے رہےتھے ۔
”آ گٸ ماموں بس آ گٸ “
ہاتھ کے اشارے سے ان کو صبر کی تلقین کرتی وہ جلدی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف بڑھی ۔
*********
” سن ابھی شروع میں سلو کھیلنا ہے سہی“
فواد نے بلے کو ٹانگوں کے درمیان میں دے کر دستانے درست کرتے ہوۓ میسم کی طرف دیکھا ۔ وہ دنوں دبٸ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے وسیع عریض میدان کے وسط میں موجود پچ پر کھڑے تھے۔ کراچی کی ٹیم ٹاس ہار چکی تھی اور لاہور قلندر نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا ۔ کپتان فراز جاوید کے فیصلے کے مطابق میسم فواد احمد کے ساتھ اوپنر کھلاڑی کے طور پر میدان میں آ چکا تھا ۔ اور اب فواد اسے آہستہ کھیلنے کا کہہ رہا تھا ۔
” لیکن فواد بھاٸ یہ تو ٹی ٹیونٹی ہے “
میسم نے اچھنبے سے سوال داغا جس پر فواد نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا ۔
” ارے دماغ زیادہ مت لگا یار سلو کھیل کہہ رہا ہوں نہ “
فواد نے ٹانگوں کے درمیان سے بلے کو نکالا اور میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ فواد لاہور قلندر کا ناٸب کپتان بھی تھا میسم نے دھیرے سے سر کو ہاں میں ہلایا ۔فواد وکٹ کے آگے جگہ لے چکا تھا اور وہ دوسری طرف کھڑا تھا ۔
کمینٹری پینل زور شور سے میچ کی کمینٹری کر رہا تھا ۔ فواد احمد کو پہلی گیند کروا دی گٸ تھی ۔ پہلی گیند پر ہی فواد احمد نے باونڈری لاٸن کو چھوتی گیند کے زریعے چار سکور کیے تھے۔ پھر ایک سکو ر کے بعد میسم اس طرف آیا تھا ۔ اور فواد نے اسے پھر سے سلو کھیلنے کا اشارہ دیا میسم نے ایک سکور کیا ۔ اسی طرح دونوں کے ایک ایک کر نے پر میسم کے چار سکور کرنے کے بعد پھر سے فواد سامنے تھا۔
” اور یہ فواد احمد کے بلے کو چھوتی ہوٸ گیند لگتا ہے یہ ایک اور شاندار باٶنڈری ہے فواد عظیم کی “
کمینٹری پینل سے پرجوش آواز ابھر رہی تھی دوسرے اور کی دوسری گیند پر فواد ایک اور چوکا لگا چکا تھا۔ میسم نے آنکھیں سکیڑ کر فواد کی طرف دیکھا وہ خود کیوں باٶنڈریز لگا رہا تھا اور اسے ایک ایک سکور کا کہہ رہا تھا۔ بات کچھ سمجھ سے باہر تھی اور عجیب بھی ۔
” اور یہ گیند باونڈری کو کراس کرتی ہوٸ “
فواد نے تیسرا چوکا لگایا تھا سٹیڈیم میں بیٹھے لوگ اچھلنے لگے تھے ۔ فواد نے اس کے بعد ایک سکور لیا اور اب میسم وکٹ کے سامنے جگہ بناۓ کھڑا تھا۔
” بلے بازی کے لیے وکٹ کے سامنے موجود ہیں میسم مراد نۓ کھلاڑی بلے باز “
کمینٹری پینل سے آتی ہوٸ بازگشت اس کے کانوں میں پڑی۔
” ابھی تک چار گیند پر صرف چار سکور کۓ ہیں میسم مراد نے“
کمینٹری کی بازگشت پر میسم نے گہرا سانس لیا ۔ صرف چار سکور ان لفظوں پر ذہن اٹکا۔ بلے پر گرفت مضبوط کی ۔ گہرا سانس لیا بلے سے زمین پر لکیر کا نشان بنایا ۔
” اور یہ گیند باز اپنی پوزیشن لے چکے ہیں کراچی کنگ کے ناٸب کپتان علیم سعید بہترین گیند باز “
میسم کے سامنے گیند کو ہوا میں اچھالتا علیم تھا ۔ ( علیم کی ایک بھی بال نہیں کھیل پاٶ گے تم ) شازل کے کہے گۓ الفاظ ذہن کی دیواروں سے ٹکرانے لگے تھے ۔ علیم بھاگتا ہوا آ رہا تھا اور پھر اس کے ہاتھ سے گیند نکل چکی تھی ۔ میسم نے بلے کو گیند کی پوزیشن میں درست کیا ۔
” اور یہ گیند میسم مراد کی طرف بڑھتی ہوٸ “
کمینٹری کی بازگشت کانوں سے ٹکراٸ اور گیند کے پاس آتے ہی میسم نے لبوں کو گول کرتے ہوۓ درست جگہ پر پوری قوت سے ہٹ لگاٸ اور بازو کو لمباٸ کے رخ میں جھٹکا دیا جس کی وجہ سے گیند زیادہ اوپر تو نہیں گٸ تھی البتہ اس کی رفتار اسے باونڈری لاٸن سے باہر لے جا رہی تھی ۔
” اور یہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ “
کمینٹیٹر نے بھی حیران سی آواز نکالی کیونکہ گیند گولی کی رفتار میں سفر کرتی ہوٸ کھلاڑیوں کے سروں کے اوپر سے گزرتی ہوٸ سٹیڈیم کی نشستوں کو پار کر چکی تھی ۔
” ارے واہ شاندار ہوا میں اڑتی ہوٸ گیند باٶنڈری سے آگے انکلیور میں اور یہ اب تک کا شاندار چھ ہے میسم مراد کی کی طرف سے “
کمینٹیٹر کی پر جوش آواز اور سٹیڈیم میں بیٹھے شاقین کا شور یہ اس میچ کا پہلا اور پورے پاکستان لیگ کے ہونے والے اب تک کے میچز کا سب سے بڑا چھکا تھا ۔ فواد تیزی سے میسم کے قریب آیا ۔ چہرے پر سنجیدگی تھی ۔
” تمہیں کہہ رہا ہوں کہ آہستہ کھیل شاہد آفریدی نہ بن “
فواد نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ میسم نے مسکرا کر دیکھا اور سر جھکایا ۔
” اوکے سر “
میسم نے فرمابرداری سے سر کو جنبش دی ۔ پر آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں ۔
” اب اگلی گیند پر سنگل سکور لے سمجھا “
فواد نے سرگوشی کے سے انداز میں کان کے قریب ہو کر کہا اور گھٹنوں تک پیروں کو لے جاتا دوسری طرف چل دیا ۔ میسم نے دستانے درست کیے اور وکٹ کے آگے پوزیشن لی ۔
” علیم گیند کو پکڑے آگے بڑھتے ہوۓ اور سامنے نۓ کھلاڑی میسم مراد “
کمینٹری کی بازگشت ۔ میسم نے آنکھوں کو سکوڑا ۔ علیم نے گیند کرواٸ ۔ اور اب کی بار پھر اس کے بازوٶں نے اسی طرح لمباٸ کے رخ میں درمیانی اونچاٸ میں جھٹکا دیا ۔
” اور یہ ایک اور شاندار چھکا “
کمینٹری پینل سے کمینٹیٹر کی پر جوش آواز ابھری ۔ میسم نے مسکرا کر دیکھا فواد نے افسوس بھری نظروں سے میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے دھیرے سے کانوں کو ہاتھ لگایا ۔
اور پھر اگلی گیند پر چار سکور تھے ۔ میسم نے فواد کی گھوری پر پھر سے کانوں کو ہاتھ لگاۓ ۔ علیم نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ کر میسم کی طرف دیکھا جو اب پھر سے وکٹ کےسامنے کھڑا تھا ۔
” علیم پریشان لگ رہے ہیں “
کمینٹیٹر میں سے ایک نے کہا اور اب پینل میں موجود دونوں کمینٹیٹر قہقہ لگا رہا تھے ۔
*******
” یہ نیا لڑکا تو لاہور کو جیتا دے گا “
لڑکے نے جوش سے کہا ۔ ساتھ والے لڑکے نے بھی موباٸل پر نظر جماٸ ۔ ملتان سٹیشن پر ریل گاڑی رکی تھی جب سامنے بیٹھے دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے کی آواز ادینہ کے کانوں میں پڑی ۔
” کیا کھیل رہا ہے بھٸ۔ی۔۔ی۔ی۔ “
دوسرے لڑکے نے جوش سے اپنی ٹانگ پر ہاتھ مارا ۔
” کیا نام ہے پہلے تو نہیں دیکھا “
ساتھ والے لڑکےنے آنکھیں سکوڑی اور چہرے کا رخ ساتھ بیٹھے لڑکے کی طرف موڑا ۔
” میسم مراد ہے نام ارے اتنے مزے کی بیٹنگ کر رہا ہے “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: