Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 11

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

ادینہ کی رنگ زرد پڑا اس کے نام سے دل کے تاروں کا ایک عجیب ہی رشتہ استوار تھا کوٸ نام لیتا تو دل جیسے کوٸ مٹھی میں جکڑ لیتا خود کو سنبھالے ساری محنت پر پانی پھر جاتا تھا۔جواد نے چونک کر ادینہ کی طرف دیکھا ماہ رخ نے نظریں چرا کر بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا ۔دونوں لڑکے جوش و خروش سے موباٸل پر لاٸیو میچ دیکھ رہے تھے اور میسم کی بلے بازی پر تعریفی کلمات کہہ رہے تھے دونوں کا تعلق غالباً لاہور سے تھا اس لیے ان کا جوش و ولولہ دیدنی تھا ۔
ادینہ نے فوراً گردن گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھا سٹیشن پر لوگوں کی بھیڑ تھی کچھ مسافر تھے تو کچھ لوگ مسافروں کو لینے آۓ تھے اور کچھ چھوڑنے آۓ تھے پر ہر کوٸ خوش تھا اسے ایسا لگا جیسے اس جیسا دکھی کوٸ نہیں ان میں ۔ جواد نے ایک چور سی نظر ادینہ پر ڈالی پھر سامنے بیٹھے لڑکوں کی طرف دیکھا ۔
” ایک منٹ کے لیے موباٸل ملے گا “
جواد نے نرم سے لہجے میں سامنے بیٹھے دونوں لڑکوں کو مخاطب کیا ۔ دونوں نے مصروف سے انداز میں جواد کو دیکھا ۔ اور پھر ایک دوسرے کو ۔
” انکل آپ ساتھ آ جاٸیں نہ یہاں “
جس لڑکے کے ہاتھ میں موباٸل تھا اس نے اپنے داٸیں طرف اشارہ کیا۔ جواد احمد لپک کر ساتھ براجمان ہوۓ اور بےچینی سے سکرین پر نظریں گاڑیں ۔ ادینہ نے ناک پھلا کر جواد کو دیکھا اور ایک جھٹکے سے سیٹ پر سے اٹھی ۔
” تم کہاں جا رہی ہو “
ماہ رخ نے فوراً سے ادینہ کا بازو تھاما ۔ سوال کے جواب کا علم ہونے کے باوجود پوچھ ڈالا جواد نے بھی شرمندہ سی شکل بنا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ پورے گھر میں میسم کی اس کامیابی پر اگر کوٸ خوش تھا تو وہ جواد احمد اور حزیفہ تھے ۔
” گھٹن ہو رہی ہے لگتا وٶمٹ کر دوں گی “
ادینہ نے بےزار سی صورت بناٸ ۔ ماہ رخ نے فوراً ہاتھ کی گرفت اس کے بازو سے ختم کی ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ڈبے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھی ۔ ایسا لگ رہا تھا سیٹوں پر بیٹھے برتھوں پر لیٹے سب لوگ اسے گھور رہے ہیں اس کو ترسی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
” ماہ رخ تم ساتھ جاٶ اس کے “
جواد احمد نے سر کے اشارے سے ماہ رخ کو ساتھ جانے کے لیے کہا وہ جو ادینہ کی حالت سے پریشان سی بیٹھی تھی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کے پیچھے چل دی ۔
” بھتیجا ہے میرا یہ میسم مراد میں دکھاتا ہوں اپنے موباٸل میں پکس اس کی “
جواد احمد نے جوش سے ساتھ بیٹھے لڑکے سے کہا ۔ لڑکوں نے حیران ہو کر جواد کی طرف گردنیں گھماٸیں آنکھوں میں بے یقینی تھی ۔ جواد نے جلدی سی موباٸل میں سے میسم کی تصاویر نکال کر سامنے کیں سینہ جوش سے پھول رہا تھا تو باچھیں کھلی ہوٸ تھیں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا جھمگٹا سا بن گیا جواد احمد کے گرد ۔
*******
” ارے بھٸ نہیں ہو رہا یہ اٶٹ “
علیم نے باسط کمال کی طرف دیکھ کر پریشانی سے سر کو پیچھے کیا باسط کمال کراچی ٹیم کا کپتان تھا ۔ اور علیم ناٸب کپتان میسم سینچری کر چکا تھا اس کے ساتھ کے چار کھلاڑی ساتھ چھوڑ کر پویلین جا چکے تھے ۔ فواد ،طلحہ ، شازل اور عابد اب اس کے ساتھ ابراہیم بلے بازی کر رہا تھا جسے دوسری طرف وہ آنے ہی نہیں دے رہا تھا ۔ اپنی بلے بازی سے کراچی کنگ کے ہاتھ پاٶں پھلا دیے تھے اس نے ۔
” سینچری کر چکا اب بہت پیٹے گا اتنا ٹارگٹ ایچیو کیسے کرنا “
علیم نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔ باسط نے پر سوچ انداز میں کمر پر ہاتھ دھرے آنکھوں کو سکوڑ کر ارد گرد دیکھا ۔
” پریشان نہ ہو شیلی کا اٶور ہے یہ اس کو بھیج باولنگ کے لیے زید کو نہیں دینا یہ “
باسط نے انگلینڈ کے گیند باز کو بھجینے کے لیے کہا جسے وہ جان بوجھ کر آخری چار اٶورز کے لیے رکھے ہوۓ تھے اسے اب تیرہویں اٶور میں ہی بھیجنے لگے تھے ۔ علیم نے فیلڈنگ میں کھڑے شیلی کو ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا ۔
” Having a ball to him that is considered to go up and catch eaisly understand”( اسے ایسی گیند کرواو ا کہ گیند زیادہ اوپر جاۓ اور آسانی سے کیچ ہو جاۓ )
باسط نے گیند کو پینٹ پر رگڑتے ہوۓ کہا اور شیلی کو گیند پکڑاٸ ۔ میسم کا اٶٹ ہونا اب ان کی ٹیم کے جیتنے کے لیے بہت ضروری تھا۔
” okkkk i understand ”
شیلی نے آنکھیں سکوڑی اور پرسوچ انداز میں سر ہلاتا ہوا پچ کی طرف بڑھا جہاں میسم وکٹ کے سامنے بلے کو ہوا میں پنکھے کی طرح چلا رہا تھا ۔
” اس کو ایسے ہی اٶٹ کرنا پڑے گا “
باسط نے کن اکھیوں سے میسم کی طرف دیکھا اور پھر علیم کی طرف جو مسکراتا ہوا سر ہلا رہا تھا۔
” اور یہ انگلینڈ کے مشہور کھلاڑی شیلی وسٹم بہت بہترین گیند باز اس اٶور کو کھیلیں گے “
کمینٹری گونجی میسم نے سر اٹھا کر دیکھا ۔ دستانے درست کیے بلے پر گرفت مضبوط کی ۔ چہرہ تپ رہا تھا جسمانی طور پر تھک چکا تھا پر جوش مدھم نہیں پڑا تھا ۔
” ووکٹوں کے سامنے میسم مراد اپنی بلے بازی سے سب کو پریشان کیے ہوۓ میسم مراد نے اس میچ میں پنتالیس گیندوں پر دس چھکوں اور بارہ چوکوں کی مدد سے ایک سو اٹھارہ رنز سکور کیے۔ یہ کسی بھی پاکستانی کی جانب سے اس فارمیٹ میں بنائی جانے والی سب سے تیز ترین سینچری ہے اور لاہور قلندر نے اب تک چار وکٹوں کے نقصان پر ایک سو اکہتر سکور کیا ہے “
کمنٹیٹر روانی سے کمینٹری کر رہا تھا ۔
میسم نے شیلی کے ہاتھوں پر نظر کو ٹکایا اس کی کلاٸ کے گھومنے پر اسے گیند کی سمت کا تعین کرنا تھا ۔ شیلی ہاتھ میں گیند پکڑے بھاگتا ہوا اب اس کی طرف آ رہا تھا ۔
” اور یہ شیلی میسم کی طرف بڑھتے ہوۓ “
اس نے پچ لاٸن سے پیچھے پاٶں کو رکھے بازو کو پیچھے سے آگے کیا گیند کو کلاٸ کی لچک سے چھوڑا میسم نے بلے کو گیند کی سیدھ میں درست کیا گیند قریب آ رہی تھی نہیں نہیں میسم کے کی آنکھیں پھیلیں بلے کی جگہ درست نہیں تھی گیند گھوم گٸ تھی میسم نے جلدی سے بلے کو اوپر کی جانب کھڑا کیا اور گیند کو گزرنے دیا۔
” اوہ میسم نے گیند کو چھوڑ دیا اٶور کی ایک گیند کے ساتھ زیرو سکور “
میسم نے ہیلمٹ پر ہاتھ مارا پسینے کی بوندیں جو اٹکی تھیں نیچے کو لڑھکی ۔ دبٸ میں پاکستان کی نسبت کم سردی تھی یہی وجہ تھی پسینہ آ رہا تھا ۔ شرٹ کا اوپری حصہ سینے سے چپک رہا تھا ۔
” شیلی دوسری گیند کروانے کے لیے تیار “
کمینٹری کی بازگشت شاقین کے شور میں گونجی ۔
شیلی پھر سے علیم سے گیند پکڑ کر اب بھاگتا ہوا آ رہا تھا ۔ میسم نے گردن کو جھٹکا دیا آنکھوں کو سکوڑا لب تھوڑے سے کھلے تھے گیند کی پچھلی پوزیشن کو ذہن میں رکھا ۔
” میسم مراد وکٹ پر اپنی پوزیشن لیتے ہوۓ “
شیلی کی کلاٸ گھومی ہاتھ کی انگلیوں نے پھر سے گیند کو چھوڑا میسم نے بلے کی جگہ اسی انداز میں درست کی نہیں گیند اس دفعہ پھر سے گھوم کر پوزیشن تبدیل کر رہی تھی ۔ میسم نے پھر سے بلے کو کھڑا کیا اور گیند چھوڑ دی ۔
” اور یہ مسیم مراد نے اس بار بھی گیند کو چھوڑا “
لوگوں نے سر پر ہاتھ دھر لیے تھے۔ اٶ۔و۔و۔و۔ کی بازگشت بھنبناہٹ کی طرح گونج گٸ ۔
میسم نے گردن کو داٸیں باٸیں جنبش دی ۔ کیا کرتا ہے یہ کیا کرتا ہے کیا کرتا ہے خود سے بار بار سوال کیا میسم نے لب کو دانتوں میں دبا کر کچلا شیلی گیند کو پھینکتے وقت بلے باز کو کچھ اور دکھاتا تھا مطلب کلاٸ اور ہاتھ کی جنبش اور تھی پر گیند پھینکتا کسی اور سمت میں تھا دو گیندوں کے بعد میسم کو شیلی کی گیند بازی کی سمجھ آ چکی تھی۔
” نہیں کھیل پاۓ گا شیلی کو “
شازل نے پاس بیٹھے فواد کے کندھے پر ہاتھ رکھا دونوں نے دانت نکال کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر دلچسپی سے میدان کی طرف دیکھا ۔
”ویلڈن شیلی کیپ اٹ اپ “
علیم نے شیلی کی پیٹھ تھپکی اور گیند اسے پکڑاٸ ۔ شیلی نے غرور سے گردن اکڑاٸ گیند کو ٹانگ پر مس کیا ۔
” اٶور کی تیسری گیند کراوانے کے لیے شیلی تیار “
کیمنیٹری گونجی
شیلی گیند کو لے کر اپنی جگہ پر آیا اور داٸیں ٹانگ کو آگے کیا ۔
” میسم مراد نے جگہ سنبھالی “
کمینٹری کی بازگشت اور لوگوں کا شور میسم کے کانوں میں پڑ رہا تھا گال تپ رہے تھے ۔
میسم نے بلے کو درمیان میں عارضی طور پر درست کیا اس دفعہ چکما دینے کی باری اس کی تھی ۔ اور شیلی نے تیسری دفعہ پھر اسی انداز کی گیند بازی کی ۔پر اب کی بار وہ نہیں ہوا جو پچھلی دو گیندوں میں ہوا تھا ۔
” اور یہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ وہی پرانا انداز اس اٶور کی تیسری گیند پر میسم مراد کی شاندار باٶنڈری لگتا ہے چار سکور ہوں گے “
پر جوش آواز میں کہہ کر اب کمینٹیٹر دوسرے ساتھی کے ساتھ مل کر قہقہ لگا رہا تھا ۔
گیند بلے سے ٹکرا کر تیز رفتاری سے پیچھے سے نکلتی ہوٸ باونڈری لاٸن کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
” اور یہ چار “
گیند اپنے پیچھے بھاگتے فیلڈرز کو منہ چڑاتی باونڈری لاٸن سے ٹکرا چکی تھی ۔ اور پھر میسم مراد کے بلے کو کوٸ نہیں روک سکا۔
” رُک ۔۔۔ پلٹ دیکھ مجھے دیکھ مجھے دیکھ مجھے “
بلا گھوم رہا تھا ۔ گیند ہوا میں اڑتی ہوٸ جا رہی تھی ۔
” تو ہے وہی تو ہے وہی تو ہے وہی “
میسم نے بلا گھمایا سامنے کھڑے کھلاڑی کو ہاتھ سے سکور لینے سے روکا
میں وہ نہیں۔۔۔ میں وہ نہیں۔۔۔۔ میں وہ نہیں “
لاہور قلندر دوسو سکور کر چکی ہے ۔
گھما دوں گا ۔۔۔۔ گھما دوں گا ۔۔۔۔ گھما دوں گا “
میسم کا بلا گھما ۔ پھر گھما اگلی گیند پر پھر گھما ایک کھلاڑی اور پیولین کی طرف جا رہا تھا
”گرا دوں گا ۔۔۔ گرا دوں گا۔۔۔ گرا دوں گا “
علیم نے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑا دوسو ستاٸیس سکور
جھکا دوں گا ۔۔۔۔ جھکا دوں گا ۔۔۔جھکا دوں گا “
شازل نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ پھیرا ساتھ بیٹھے فواد نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر لبوں پر رکھا
میں ہوں بخت بخت بخت بخت بخت “
وہ بھاگ رہا تھا ۔ بلے کو زمین سے مس کرتا زمین پر پورا لیٹ گیا پر اٶٹ نہیں ہوا
میں ہوں بھاگ بھاگ بھاگ بھاگ بھاگ “
گیند ہوا میں اڑتی نشستوں کے اوپر سے ہوتی ہوٸ چھت پر جا گری لوگوں کی گردنوں کے اوپر سر گھوم گۓ
میں ہو دھنی ۔۔۔۔میں ہوں دھنی ۔۔۔میں ہوں دھنی “
”اور یہ ایک اور چھکا میسم مراد کے بلے سے “ کمینٹری گونج رہی تھی ۔ ” دوسو ستر سکور کا حدف لاہور قلندر کی طرف سے میسم مراد ڈبل سینچری سے کچھ ہی دوری پر تھے “
” میں سکندر۔۔۔۔ سکندر ۔۔۔۔۔سکندر ۔۔۔۔“
فیلڈنگ میں بھاگ رہا تھا میسم ۔ کراچی کنگ بلے بازی کر رہی تھی
” میں بہرہ۔۔۔۔ بہرہ ۔۔۔۔بہرہ ۔۔۔۔۔بہرہ۔۔۔“
میسم نے ٹانگ کو لمباٸ کے رخ میں گھسیٹ کر باونڈری سے ٹکرانے سے پہلے گیند کو روکا
” میں بخرہ ۔۔۔۔ بخرہ ۔۔۔بخرہ۔۔۔۔بخرہ۔۔۔۔“
اور یہ گیند میسم مراد کے ہاتھوں میں اور کراچی کنگ کے ایک اور بلے باز کو پیولین کی راہ دکھا دی
” میں پارہ ۔۔۔۔ پارہ ۔۔۔۔پارہ ۔۔۔۔“
کراچی کنگ شکست سے دو چار
” میں نوشتہ تقدیر تقدیر تقدیر تقدیر “
فراز نے میسم کو گلے لگا کر بھینچ ڈالا ۔ اور یہ لاہور قلندر جیت سے ہمکنار
” دیکھ مجھے میں ہی ہوں مقسوم۔م۔م۔م۔م۔م۔۔م۔م۔۔م۔“
” اور آج کے مین آف دی میچ ہیں میسم مراد “ ماٸک پکڑے آصف نے مسکرا کر میسم کی طرف دیکھا
اور وہ اب سر جھکاۓ مسکراتا ہوا سٹیج کی طرف آ رہا تھا ۔
************
” ادینہ کہاں ہے آج باہر چلتےہیں کہیں کھانا کھانے جب سے لاہور آۓ ہیں بس کام میں ہی لگے ہیں “
روشان نے سفید کوٹ کی جیب میں قلم رکھتے ہوۓ خوشگوار انداز میں سامنے کھڑی ماہ رخ کو دیکھا ۔ آج اتفاق سے تینوں کی شفٹ ایک ساتھ آٸ تھی اور وہ بھی دن کے اوقات میں اسی بات سے فاٸدہ اٹھاتا روشان لیڈیز سٹاف روم میں آیا تھا اور اب ماہ رخ کے سامنے کھڑا تھا جو کچھ دیر پہلے ہی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر آٸ تھی ۔
” ادینہ تو اوٹی میں ہے ڈاکٹر کے ساتھ آتی ہے تو کہتی ہوں “
ماہ رخ نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ واقعی انہیں لاہور آۓ تین ہفتے ہو چلے تھےاور ابھی تک وہ کہیں بھی گھومنے کی غرض سے نہیں گٸ تھیں ۔
” چلو میں انتظار کرتا ہوں “
روشان نے لب بھینچ کر موباٸل کو ہوا میں ہلایا اشارہ ماہ رخ کی طرف تھا کہ ادینہ سے پوچھ کر اسے پیغام دے ۔ ماہ رخ نے اشارہ سمجھ کر مسکراتے ہوۓ سر اثبات میں ہلایا ۔
اپنی چیزیں سمیٹ کر اوپریشن تھیٹر کا رخ کیا ابھی وہ راہداری میں ہی تھی جب سامنے سے تھکی سی صورت بناۓ ادینہ آتی ہوٸ نظر آٸ ۔
” چلو روشان باہر لے کر جا رہا ہمیں “
ماہ رخ آگے بڑھ کر پلٹی اور اسکے قدم کے ساتھ قدم ملاۓ انداز بہت پر جوش سا تھا لیکن دوسری طرف اس جوش کا کوٸ اثر دکھاٸ نہیں پڑ رہا تھا
” کیوں ؟“
ادینہ نے تھکے سے انداز میں سر پر ہاتھ پھیر تے ہوۓ بکھرے بالوں کو سمیٹا ۔ جو چھوٹی چھوٹی لٹوں کی صورت میں چہرے پر آ کر الجھن کا شکار کر رہے تھے ۔
” کیوں کیا بھٸ تین ہفتے ہو گیے ہاسٹل سے ہاسپٹل ہاسپٹل سے ہاسٹل چلو نہ گھوم کر بھی آٸیں گے کہیں“
ماہ رخ نے لاڈ سے اس کے بازو کے گرد اپنے بازو کو حاٸل کیا پر دوسری طرف ہنوز تھکاوٹ اور بے زاری تھی
” ماہ رخ معلوم ہے تمہیں میری ڈیوٹی آج ڈاکٹر ثمرہ کے ساتھ تھی اوٹی میں اور تمہیں پتا ہے وہ کس قسم کی ہیں بہت تھک گٸ ہوں بھٸ “
بچارگی سے ماہ رخ کی طرف دیکھا اور اس کا پر جوش چہرہ ایک دم سے سنجیدہ ہوا اور پھر اگلے ہی لمحے وہ پھر سے اسی ٹریک پر تھی
” یہ کیا وہ خود آفر دے کر گیا ہے برا لگتا ایسے منع کرنا اسے “
خفگی کے سے لہجے میں کہتے ہوۓ ادینہ کے بازو کو چھوڑ کر سیدھی ہوٸ ادینہ ایک دم سے رکی گھوم کر رخ ماہ رخ کی طرف موڑا جو التجاٸ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” تم چلی جاٶ نہ میں ہاسٹل جاتی ہوں “
سینے پر ہاتھ باندھ کر پر سکون لہجے میں کہا ۔ جس پر ماہ رخ نے ناک پھلا کر آنکھیں سکیڑی اور جنگلی بلی کی طرح اسے گھورا
” نہیں جی بلکل نہیں چل رہی ہو تم اتر جاۓ گی تھکاوٹ بھی “
اس کا بازو دبوچ کر وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی سٹاف روم کی طرف بڑھ رہی تھی اور گھسیٹنے کے انداز میں ساتھ ہو لی تھی
” چلو چلو روشان ویٹ کر رہا اسے مسیج کر دیا میں نے “
ماہ رخ نے جلدی سے ادینہ کا سفید کوٹ اتار کر اسے بیگ پکڑایا
” تم بھی نہ!!!! چلو مرو “
ادینہ نے جھٹکے سے بیگ اس کے ہاتھ سے لیا اور کندھے پر ڈالا جس پر وہ قہقہ لگا گٸ
********
یہ لاہور کے ونسٹن ہوٹل کی خوبصورت عمارت تھی ۔ اور اس وقت اس میں یہ شاندار بوفے پاکستان سپر لیگ کی تمام ٹیمز کےلیے منعقد کیا گیا تھا ۔
ہلکی سی بجتی موسیقی میں برتنوں کی بجنے کی کھنک تھی ہلکے ہلکے سے قہقے گونج رہے تھے ۔ وہ اپنی پلیٹ کو تھامے مختلف کھانوں سے سجی قطار کے آگے کھڑا تھا جب اپنے عقب سے اسے آواز سناٸ دی ۔ آواز کی بازگشت کا تعین کرتے ہوۓ میسم نے گردن گھماٸ ۔ وہ اس وقت سیاہ رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا ۔ کسرت کرنے کی وجہ سے سینہ اور بازو چوڑے ہو گۓ تھے۔ بالوں کی ایک لٹ فولڈ ہو کر ماتھے پر موجود تھی اور آنکھیں اور چہرہ سنجیدگی لیے ہوا تھا ۔
” ہیے!!!میسم کم ہیر “
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیر مین عادل عزیز نے پر جوش انداز میں میسم کو ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا ۔ میسم مسکراتا ہوا قریب آیا ۔ لاہور قلندر سیمی فاٸنل میں پہنچ چکی تھی ۔ اور اب فاٸنل سے پہلے ایک میگا ایونٹ رکھا گیا تھا جس میس تمام ٹیمز شامل تھیں ۔
” شاندار بیٹنگ جوان “
عادل عزیز نے میسم کی پشت کو تھپکا ۔ اور اپنے سامنے کھڑے جہانزیب کی طرف دیکھا وہ بھی پر ستاٸش نظروں سے میسم کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جہانزیب سنیر پاکستان کرکٹ کوچ میں سے ایک تھا ۔
” تھنیکیو سر “
میسم نے شرمانے کے سے انداز میں لب بھینچے تو گالوں کے گڑھے واضح ہوۓ ۔ تھوڑی دیر مختلف باتوں کے تبادلے کے بعد وہ اجازت طلب کرتا ہوا وہاں سے چل پڑا
” جہانزیب لڑکے میں دم ہے “
عادل عزیز نے چمچ کو منہ تک لا کر بھنویں اوپر چڑھاٸ ۔
” بلکل جناب لاہور قلندر جیسی ٹیم کو سیمی فاٸنل تک لے آیا ہے “
جہانزیب نے قہقہ لگایا ان کے کندھے ہل رہے تھے ۔ اب دونوں نفوس ہنس رہے تھے
” نیشنل ٹیم کے معیار پر پورا اتر رہا ہے لڑکا “
عادل نے پھر سے بات کا رخ میسم کی طرف موڑا اور دور کھڑے کھلاڑیوں کے بیچ مسکراتے میسم کو دیکھا
” بہترین اننگز کھیل گیا ہے سپر لیگ میں “
جہانزیب نے دھیرے سے تاٸید میں سر ہلاتے اپنی راۓ کا بھی اظہار کیا ۔
” چلو دیکھتے ہیں فراز جاوید سے بھی بات کرتا ہوں میں “
عادل عزیز نے پر سوچ انداز میں پھر سے میسم کی طرف دیکھا ۔
***********
روشان نے کار کو ونسٹن ہوٹل کے سامنے روکا ادینہ جو روشان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر براجمان تھی گردن گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھا ۔
” ہممم تو گرلز ہو جاۓ بوفے؟ “
روشان نے ادینہ کی طرف دیکھ کر لب بھینچے اور سوالیہ انداز میں بھنویں اچکاٸ ۔ پھر گردن کو تھوڑا خم دیا اور پچھلی نشست پر موجود ماہ رخ کی طرف دیکھا دونوں نے کندھے اچکاۓ ۔ روشان نے مسکرا کر دونوں کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ کیا ۔ وہ لوگ آج لاہور ایکسپو سینٹر کی اگیزیبیشن کے بعد کھانے کے لیے آۓ تھے ۔ اور کھانا روشان کھلا رہا تھا اس لیے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر لے کر آیا تھا ۔
روشان لاہور میں اپنے ماموں کے ساتھ ان کے گھر میں رہاٸش پزیر تھا اور اس وقت وہ لوگ جس گاڑی میں گھوم رہے تھے یہ بھی روشان کو اس کے ماموں کی ہی عناٸیت کردہ تھی ۔
گاڑی کو لاک کر کے وہ لوگ ابھی ہوٹل کے داخلی دروازے تک پہنچنے ہی والے تھے جب سکیورٹی گارڈ نے دور سے ہی رکنے کا اشارہ کیا ۔ وہ لوگ بوفے کارنر کی طرف جا رہے تھے کیوں کہ اس ہوٹل کا بوفے بہت شاندار تھا ۔ روشان اسی غرض سے انہیں یہاں لایا تھا ۔
روشان نے دونوں کو وہیں رکنے کا کہا اور خود سکیورٹی گارڈ کی طرف بڑھ گیا اور پھر کچھ دیر میں جیب میں ہاتھ ڈالے سر مارتا ہوا واپس آیا ۔
” یہاں نہیں بھٸ آج کرکٹ ٹیم آٸ ہوٸ یہاں بوفے چل رہا ان کا “
روشان نے لب باہر نکال کر کچھ افسوس زدہ انداز میں سر کو داٸیں باٸیں مارا جنوری کے شروع کے دن تھے اور خنکی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ دونوں ٹھٹھر رہی تھیں ادینہ ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مس کر رہی تھی جیسے ہی روشان نے کرکٹ ٹیم کا نام لیا اس کے ہاتھوں کی حرکت کو بریک لگی کرکٹ کی لفظ پر فوراً ماہ رخ نے بھی ادینہ کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر سے مسکراہٹ ایک جست میں غاٸب ہوٸ ۔
” کہیں اور چلتے ہیں کیا خیال ہے “
روشان گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ لاپرواہی سے کہہ رہا تھا وہ ادینہ کی حالت سے یکسر انجان تھا ۔ ادینہ وہیں کھڑی اب ہوٹل کی عمارت کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ ماہ رخ نے گھبرا کر اسے دیکھا
” ہممم سہی “
ماہ رخ نے ادینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور لب بھینچ کر چلنے کا کہا ۔ ادینہ نے ایک نظر ماہ رخ پر ڈالی تو دھیرے سے نفی میں سر ہلا رہی تھی مطلب وہ جان چکی تھی کہ ادینہ اس وقت کیا سوچ رہی ہے اور ڈر تھا کہ جزبات کی رو میں بہہ کر وہ اندر کی طرف نہ چل دے ۔ ادینہ نے سر جھکایا اور خاموشی سے گاڑی کی طرف بڑھ گٸ ۔
تو آج وہ ہو گا اندر دل تو کیا سارے بندھ توڑ کر اندر جاۓ اور اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالے اور پوچھے کیوں کیوں چلے گۓ تھے ۔ روشان نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہ مجسم کی طرح اندر بیٹھی ۔
میں نے جب ہاں کر دی تھی ۔ کہہ دیا تھا کہ میں تیار ہوں تو پھر اسی وقت کیوں نہیں بتایا مجھے کہ تم جا رہے ہو تم نے سوچ رکھا ہے ہم سب کو چھوڑ کر جانا ۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ بھی بند ہوا ماہ رخ کے بیٹھتے ہی روشان نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی ۔
لیکن تم تو نفرت میں اتنا آگے جا چکے تھے تم نے یہ سوچا تک نہیں کہ تم میرے جزبات سے کھیل رہے ہو ۔ گاڑی سڑک پر چل رہی تھی ۔ اور ہوٹل کی عمارت دور سے دور ہو رہی تھی وہ عمارت جس کے لان میں وہ اس وقت بورن فاٸر پر نظر جماۓ اداس سا کھڑا تھا ۔ آگ کے شعلے اچھل اچھل کر ارد گرد گر رہے تھے کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ مستی میں لگے شور و غل کر رہے تھے ۔
اور اسے ایک دم سے کسی احساس نے جکڑا تھا ۔ سامنے کھڑی لیڈیز کرکٹ کی کھلاڑی کوچ جس لڑکی سے بات کر رہی تھی وہ ہنس رہی تھی اس کے ہنسنے سے ہی اسے ادینہ کی کھلکھلاتی ہنسی یاد آ گٸ شاٸد اس لڑکی کا انداز تھا یا کچھ اور تھا اس لمحے میں کہ ادینہ شدت سے یاد آٸ تھی ۔گہری سانس لیتے ہوۓ آسمان کی طرف دیکھا چودہویں شب کا چاند چمک رہا تھا۔
ہوا ادینہ کے بالوں کی اڑا رہی تھی وہ گاڑی کی کھڑکی کو کھولے سر کو تھوڑا سا باہر کی طرف ٹکاۓ ہوۓ تھی ۔
یہ کیا کہ روز ایک سا غم، ایک سی اُمید
اِس رنجِ بےخُمار کی ، اب اِنتہا بھی ہو
کیوں مجھے اس کے ذکر سے تکلیف ہونا کم نہیں ہوتی کیوں میں اسے بھول نہیں جاتی ۔ کیوں ہے ایسا ۔ لوگ تو کہتے ہیں وقت مرہم ہے ایسا مرہم جو ہر زخم بھر دیتا ہے تو میرا گھاٶ کیا اتنا گہرا ہے کہ بھر نہیں سکتا ۔ میں کیوں نکل نہیں پا رہی اس دلدل سے مجھے نکلنا ہے ہاں بس اب نکلنا ہے
اس نے گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا ۔ چودہویں رات تھی آج چاند کی ۔
وہ کھوٸ کھوٸ سی بیٹھی اس بات سے بلکل بے خبر تھی کہ اس کے ساتھ بیٹھا نفوس کتنی ہی دفعہ کن اکھیوں سے محبت بھری نظر اس پر ڈال چکا ہے
************
” کیا ہے اُس کو تو دیکھو “
شانزہ نے اریبہ کے کندھے پر کندھا مارا اور لبوں کو منہ کے اندر لے جا کر آنکھوں سے سامنے بیٹھے فہد کی طرف اشاراہ کیا ۔ جو کب سے اس کے اور اریبہ کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ اریبہ نے ایک پراٸویٹ کالج سے بی ایس سی کے بعد اب اپنے بڑے ماموں کے نقشے قدم پر چلتے ہوۓ ماسٹرز آف کیمسٹری میں داخلہ لیا تھا ۔
یونیورسٹی کا آج تیسرا دن تھا اور اچانک سے اسی یونیورسٹی میں آج اس کا فہد سے آمنا سامنا ہو گیا وہ لوگ کینٹین پر کچھ کھانے کی غرض سے آٸ تھیں اور سامنے بیٹھے فہد کی تو جیسے اریبہ کو دیکھ کر عید ہو گٸ بلا وجہ دانت نکالے وہ بار بار اسے دیکھ رہا تھا۔
” دیکھا ہے اگنور کر ہمارے پڑوسی ہیں “
اریبہ نے ناک چڑھا کر کہا اور فہد کی طرف سے رخ کو تھوڑا خم دیا ۔ اب وہ فہد کی طرف پشت کر چکی تھی ۔
” اچھا!!!!!!“
شانزہ نے شرارت سے اریبہ کی طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں اچھا کو لمبا کھینچا ۔ اور ایک نظر سامنے بیٹھے لڑکے پر ڈالی خوش شکل خوبرو سا لڑکا تھا ۔
” ایسا معنی خیز اچھا کرنے کی ضرورت نہیں مجھے اس سے نفرت اور میری ماں اور گھر والوں کو شدید نفرت ہے “
اریبہ نے کولڈڈرنک کا سپ لیتے ہوۓ نخوت سے ناک چڑھاٸ اور بالوں کو لا پرواہی سے جھٹکا ۔
” ہیں ایسا کیا پر شکل تو بہت معصوم سی ہے کیوں ؟ “
شانزہ نے شرارتی انداز میں نچلے لب کو دانتوں میں دبایا اور سوالیہ نظروں سے اریبہ کی طرف دیکھا ۔ اریبہ نے آنکھوں کو غصے سے اٹھایا ۔
” ہاں ایسے بھی کچھ کمال لوگ ہوتے ہیں معصوم شکل اور شیطانی دماغ رکھتے ہیں محترم ان میں سے ہی ایک نایاب پیس ہیں “
اریبہ نے طنزیہ لہجے میں فہد کی شان میں تعریفی کلمات کہے ۔ شانزہ تو مسلسل اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی ۔فہد اب کان کھجاتا ہوا اپنی نشست سے اٹھ کر ان کی طرف آ رہا تھا اریبہ اس کی طرف پشت کیے ہوۓ تھی اس لیے اسے خبر نہیں ہوٸ
” آ رہا ہے ہماری طرف “
شانزہ نے سرگوشی کی۔ اور خجل سی ہو کر داٸیں باٸیں دیکھا اریبہ کا منہ کھل گیا اور ناک پھول گیا ۔ آنکھوں کو سکوڑ کر سامنے بیٹھی شانزہ کو گھورا
” سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے تم جو بار بار دیکھ رہی ہو اس کو “
اریبہ نے میز پر دھرے شانزہ کے ہاتھ پر چپت لگاٸ ۔ فہد ان کے سر پر پہنچ چکا تھا ۔ منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر گلا صاف کرنے جیسی آواز نکالی اریبہ نے سر اٹھانا مناسب نہیں سمجھا
” اسلام علیکم “
فہد نے گھوم کر اریبہ کے سامنے آ کر خوش دلی سے کہا۔ بتیسی باہر تھی ۔ کرمزی رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے جینز پینٹ پہنے تھوڑے سے بکھرے سے بالوں میں وہ گلی والی حالت سے بہت الگ لگ رہا تھا ۔
” وعلیکم سلام “
اریبہ نے دانت نکالتی شانزہ کو گھور کر دیکھا اور دانت پیس کر سنجیدہ سے انداز میں سلام کا جواب دیا ۔
” کیسی ہیں آپ ؟“
فہد نے مدھم سی آواز میں بات آگے بڑھاٸ ۔ لبوں پر بھر پور مسکراہٹ سجاۓ وہ اس دن والی اریبہ کو شاٸد بھول گیا تھا جس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر اسے کہا تھا دیکھ لوں گی تمہیں میں ۔
” شانزہ اٹھو “
اریبہ نے جلدی سے آدھی کولڈ ڈرنک کو میز پر رکھا اور ماتھے پر بل ڈالے اٹھ کر کھڑی ہوٸ ۔
” ارے ارے اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں مجھے تو خوشی ہوٸ یہ دیکھ کر آپ کا ایڈمیشن اس یونیورسٹی میں ہوا ہے “
فہد نے ہاتھ کے اشارے سے اریبہ کو روکتے ہوۓ کہا ۔ جس پر اس نے اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھا ۔
” جی پر آپ یہاں ؟؟؟ پڑھاٸ میں تو غالباً آپ میسم سے بھی چار ہاتھ اوپر تھے “
اریبہ نے تھورڈی پر انگلی رکھتے ہوۓ طنزیہ انداز اپنایا ۔ وہ میسم سے تین کلاس پیچھے تھا وہ میسم سے عمر میں چھوٹا تھا پر گلی میں کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی ۔ اریبہ سہی کہہ رہی تھی پڑھاٸ میں وہ بھی ایسا ویسا ہی تھا اس لیے اب جا کر یونیورسٹی تک آیا تھا ۔
” جی بلکل درست اندازہ لگایا میری کینٹین ہے یہاں “
فہد نے ہاتھ مودبانہ انداز میں باندھتے ہوۓ برجستہ جواب دیا جس پر دونوں کی گردنیں ایک دم سے کینٹین کی طرف گھومیں پرانا سی ڈھابہ نما کینٹین تھی ۔
” کیا!!!!“
اریبہ نے ناگوار سی نظر سامنے کھڑے سوٹڈ بوٹڈ فہد پر ڈالی ۔ جن کا اچھا خاصہ مشہور ہوٹل تھا شہر میں۔ اور وہ اس خستہ حال کینٹین کو چلاتا تھا ۔
” جی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی آپ تو یہی سوچ رہی ہوں گی نہ ؟ پر ایسا کچھ نہیں ماسٹرز کر رہا ہوں فزکس میں “
فہد نے بڑے انداز میں آنکھیں داٸیں باٸیں گھماٸیں ۔ گردن فخریہ انداز میں اٹھاٸ
” چلو شانزہ “
اریبہ نے ایک ابرو چڑھا کر (مجھے کوٸ انٹرسٹ نہیں یہ جاننے میں )جیسا چہرہ بنایا اور شانزہ کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی ۔ جبکہ وہ ڈھیٹوں کی طرح اب بھی پیچھے آ رہا تھا ۔
” اچھا سنو مبارک ہو پتہ چلا تھا ادینہ کی ہاٶس جاب ہو گٸ ہے “
اریبہ کے پیچھے پیچھے چلتے ہوۓ بڑے دوستانہ انداز میں کہا ۔اریبہ ایک جھٹکے سے رُکی دانت پیسے اور ماتھے پر بل ڈال کر مڑی ۔ وہ اتنے خونخوار انداز میں اُسے دیکھ رہی تھی کہ اس سے یوں بے تکلفی سے بات کرنے کی ساری ہمت ہوا ہو گٸ فہد تھوک نگل کر رہ گیا ۔ پر وہ ہنوز ویسے ہی کھڑی تھی ۔
فہد نے پھر ہاتھ کھڑا کیا اور اسے پرسکون ہونے کا اشارہ کرتا وہ واپس پلٹ گیا ۔ عقب سے شانزہ کا پر زور قہقہ کانوں سے ٹکرایا ۔
**********
” اے۔ے۔ے۔ے کول ڈاٶن برو “
فواد نے شازل کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ سرخ چہرہ لیے بیٹھا تھا ۔ مٹھایاں بھی بھینچی ہوٸ تھیں ۔ کچھ دور میدان میں میسم اکیلا پریکٹس میں لگا تھا ۔جس کو دیکھ دیکھ کر شازل کا خون جل رہا تھا ۔
” کیا کول ڈاٶن عادل عزیز کو دیکھا تھا اس رات پارٹی میں کیسے اس کے کندھے تھپک رہا تھا “
کندھا جھٹک کر شازل نے ہاتھ کو ہوا میں اٹھا کر نفرت آمیز انداز اپنایا ۔ فواد اور وہ ایک ساتھ کرکٹ میں آۓ تھے ایک ہی شہر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دونوں کی آپس میں دوستی بھی تھی ۔
” شازل غصہ نا کرنا یار پر دم ہے اس میں “
فواد نے خجل سا ہوتا ہوۓ نظریں چراٸیں اور میسم کی تعریف کیے بنا نا رہ سکا ۔
” کیا دم ہاں کیا دم !!!جوش سے کھیلتا ہے ہوش سے نہیں “
شازل نے دانت پیستے ہوۓ اپنے سر کے قریب ہاتھ لا کر ہوا میں گھومایا ۔ اپنے ہی دوست سے میسم کی تعریف سن کر وہ اور آگ بگولہ ہو گیا تھا ۔
” سن کل سیمی فاٸنل میں اسے رن اٶٹ کروا “
فواد کی طرف آنکھیں سکیڑے وہ اب پوری طرح سرخ ہو رہا تھا ۔ نظریں میدان میں دوڑتے میسم پر ٹکی تھیں جو اس سردی میں بھی سلیو لس ٹی شرٹ پہنے میدان میں بھاگ رہا تھا فواد نے چونک کر اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شک گزرا ہو ۔
” دماغ ٹھیک ہے تمھارا “
فواد اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔ اور کمر پر ہاتھ دھر کر نفرت کی آگ میں جلتے شازل کی طرف دیکھا ۔
” تم سمجھ نہیں رہے کل لاہور قلندر اس کے دم پر جیتی تو سمجھ وہ گیا نیشنل ٹیم میں “
شازل نے ماتھے پر بل ڈالے پرسوچ انداز میں اسے قاٸل کرنے کی کوشش کی ۔
” یہ غلط ہے برو “
فواد کی آواز مدھم تھی ۔ کمر پر ہاتھ دھرے وہ اب بار بار نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔
” کچھ غلط نہیں دیکھ تو کھیل کل کے میچ میں میں کھیلوں گا سیمی فاٸنل ہمارے دم پر جیتے گی کل لاہور قلندر اس کے نہیں “
شازل نے کھڑے ہو کر اس کندھے پر دباٶ ڈالا ۔ فواد نے بے یقینی سے شازل کی طرف دیکھا جو اب کمینی سی ہنسی ہنس رہا تھا ۔
” ہممم ٹھیک ہے “
کچھ دیر سوچنے کے بعد فواد نے تھورڈی پر ہاتھ پھیر کر کن اکھیوں سے شازل کی طرف دیکھا ۔ کہہ تو وہ ٹھیک رہا تھا سپر لیگ کے ہر میچ میں وہ چھایا ہوا تھا۔ اپنے ساتھ والے کھلاڑی کو تو بہت کم کھیلنے دیتا تھا ۔
*********
جم کا شیشے سے بنا دروازہ کھول کر فواد اندر داخل ہوا اور ارد گرد نظر دوڑا کر میسم کو تلاش کیا ۔ رات بھر وہ شازل کی بات پر غور کرتا رہا اور پھر ان دونوں کے شاطر دماغ نے ایک منصوبہ تیار کیا جس کی بدولت وہ میسم کو اپنے جال پھنسا سکتے تھے ۔ کچھ دیر تلاش کرنے کے بعد ہی ایک جگہ جا کر نظروں کی تلاش ختم ہوٸ ۔
میسم ویٹ لفٹنگ میں مصروف تھا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور لب ویٹ کے اوپر نیچے کرنے پر مختلف زاویے بدل رہے تھے کسرتی مضبوط بازو سلیو لس شرٹ میں اس کی محنت کا واضح ثبوت تھے اب وہ پتلا سا کمزور سا میسم نہیں رہا تھا
فواد لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک آیا اور اس کے سر کی طرف کھڑا ہوا ۔ وہ نظریں جھکاۓ کسرت میں اتنا مصروف تھا کہ اسے فواد کا پاس آ کر کھڑے ہونے کا بھی پتا نہیں چلا ۔
” میسم کیسا ہے برو “
اپنے اوپر سے آتی آواز پر میسم نے آنکھیں اوپر اٹھاٸیں ۔ ویٹ لفٹنگ کرتے ہاتھ رک گۓ ۔ فواد مسکرایا ۔ میسم جلدی سے ویٹ ایک طرف کرتا کھڑا ہوا ۔
” ٹھیک فواد بھاٸ آپ سناٸیں “
پاس پڑے ٹاول کو کندھے پر گھمایا ۔اور مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اب وہ سر سے سب سنیرز کو بھاٸ کہنا شروع ہو گیا تھا ۔ اس کے سر سر کہنے پر اسد نے اسے ایک دن ٹوکا اور کہا یہاں کوٸ کسی کا سر نہیں بس جو آپ سے سنیر ہے اس کو عزت دینے کے لیے بھاٸ لگا دو ساتھ تب سے اس نے سب کو بھاٸ کہنا شروع کر دیا ۔
” بس طبیعت کچھ ناساز ہے یار کل سے بدن میں درد ٹمپریچر “
فواد نے بچارگی سے آوازار صورت بناٸ ۔ آواز میں بھی نقاہت کا تاثر پیش کیا میسم جو اپنے چہرے کو ٹاول سے دھیرے دھیرے تھپتھپا رہا تھا ایک لمحے کے لیے رکا پریشان سی نظر فواد پر ڈالی کیونکہ کل سیمی فاٸنل میں وہ دونوں ہی اوپنر تھے ۔ اور پہلی پارٹنر شپ کا مضبوط ہونا جیت کے لیے بہت معنی رکھتا تھا
” اوہ تو ریسٹ کریں نا کل تو سیمی فاٸنل ہے “
میسم نے پریشان سے لہجے میں کہا ۔ فواد نے مسکراتے ہوۓ سر کو اثبات میں ہلایا ۔ پر چہرے پر وہی تھکاوٹ کے اظہار کو برقرار رکھا ۔
” اور سناٶ بہت پریکٹس ہو رہی آجکل ماشااللہ یار بہت متاثر ہوا ہوں تمھاری اننگز سے یقین جانو “
فواد نے بھنویں اچکا کر ستاٸشی نظروں سے میسم کی طرف دیکھا میسم اپنے مخصوص انداز میں تھوڑا سا شرما کر نظریں جھکا گیا ۔ اور پھر پاس پڑی اپنی جم کٹ سے اپنی ہڈ کو نکالا
” شرمندہ کر رہے ہیں آپ “
میسم نے ہڈ کو چڑھایا اور مسکراہٹ کو دباتے ہوۓ سامنے کھڑے فواد کو دیکھا ۔ فواد نے ہلکا سا قہقہ لگایا ۔
” چلو آج اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں کہیں “
فواد نے خوشدلی سے کہا جس پر وہ بھی سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔ پورے سپر لیگ میں فواد سے اس کی یہ پہلی لمبی بات چیت تھی لیکن اپنی تعریف ان کے نام سے سن کر اسے دلی خوشی ہو رہی تھی کیونکہ وہ اس کے پسندیدہ بلے باز میں سے تھے ۔
********
” کیا ہے آج پاگل کیوں ہو رہے لوگ سارے “
ادینہ نے سٹاف روم کا دروازہ کھولا اور بیزار سے لہجے میں سامنے بیٹھی ماہ رخ سے پوچھا ابھی وہ ریسپیشن سے آ رہی تھی جہاں ویٹنگ ہال میں لگے بڑے سے ٹی وی کے آگے مریضوں کے ساتھ آۓ تیماداروں کی بھیڑ لگی تھی ۔ ماہ رخ اس کی بات پر بھر پور انداز میں مسکرا دی
” لاہوری ہیں پہلی دفعہ لاہور قلندر سیمی فاٸنل تک آٸ ہے “
ماہ رخ نے پاس بیٹھی روشبہ اور مہرین کی طرف آنکھیں گھما کر اشارہ کیا جو پر جوش انداز میں سٹاف روم کے ٹی وی کے آگے براجمان تھیں ۔ ادینہ نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور پھر کندھے اچکاتی آگے بڑھی
” اچھا “
ادینہ نے مدھم سے لہجے میں لاپرواہی برتی اور صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی ۔ صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں ۔ وہ تو بہت کچھ بدل دینے کی طاقت رکھتا تھا ایک رات میں میرے دل کی دنیا بدل سکتا ہے تو لاہور قلندر کی سوٸ قسمت بھی بدل سکتا ہے ۔ دل میں عجیب سی گھٹن ہوٸ ۔
” ہے گاٸز چلو چلو تین ٹیکٹس سٹڈیم چلتے ہیں “
روشان کی پر جوش آواز پر ادینہ نے اپنی آنکھیں کھولی تو وہ بلکل سامنے کھڑا تھا ۔ اور جوش میں چہرے پر سوالیہ انداز اپناۓ کبھی ادینہ کی طرف دیکھ رہا تھا اور کبھی ماہ رخ کی طرف اس کی صورت ہی بتا رہی تھی وہ بھی پاکستان کی اس نوے فیصد عوام میں سے ایک ہے جو کرکٹ کی شیداٸ ہے ۔ ادینہ کو وہ بھی اس وقت زہر لگا ۔
ماہ رخ نے کان کھجاتے ہوۓ جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ اور چور نظر ادینہ پر ڈالی ۔ جو اب سپاٹ چہرہ لیے روشان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” نو ویے۔ےے۔ے۔“
ادینہ ایک دم سے اٹھی اور پاس پڑے سفید کوٹ کو اٹھاتی تیز تیز قدموں سے سٹاف روم سے باہر نکل گٸ جبکہ ماہ رخ نے زبان کو دانتوں میں دبا لیا اور روشان ہونق بنا دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا جس سے تھوڑی دیر پہلے ادینہ باہر گٸ تھی ۔
وہ اس رات سے ادینہ کے ساتھ وقت گزارنے کے بہانے تلاش کرتا رہتا تھا اور آج بھی اسی وجہ سے تین ٹکٹس لے کر آیا تھا ۔ پر جس کے لیے اس نے اتنی مشکل سے یہ ٹکٹس لی تھیں اس کا ردعمل عجیب تھا ۔
” اسے کیا ہوا “
مایوس سے آواز میں کہہ کر گردن ماہ رخ کی طرف موڑی ۔ جو پہلے سے اس انتظار میں تھی کہ کب وہ اس حالت سے باہر آ کر اس کی طرف دیکھے ۔
” ان محترمہ کا قصور نہیں کرکٹ سے نفرت انہیں وراثت میں ملی ہے “
ماہ رخ نے رک رک کر گردن کو ہلاتے ہوۓ لبوں کو بھینچ کر ادینہ کے رویے کی واضحات کی۔ جس پر روشان کی بھونیں اور حیرت سے اچک گٸیں
” مطلب “
روشان نے کچھ ناسمجھی کے انداز میں ماہ رخ کی طرف دیکھا جس نے گہری سانس لی
” مطلب کچھ نہیں تم نہیں سمجھو گے سنو تم جاٶ ہم پھر کہیں چلیں گے تمھارے ساتھ “
ماہ رخ نے معزرت کے انداز میں کہا جس پر روشان کا چہرہ اتر گیا ۔
” یہ کیا بھٸ آٸ لو کرکٹ اور اس دفعہ تو لاہور کا جشن دیکھنے والا ہو گا سیمی فاٸنل ہے اسلام آباد یوناٸیٹڈ کے ساتھ “
روشان جلدی سے تھوڑا آگے ہوا اور پر جوش انداز میں ماہ رخ کو قاٸل کرنے کی کوشش کی ۔
” اب تمہیں کیا سمجھاٶں وہ نہیں جاۓ گی کبھی “
ماہ رخ نے لبوں کو چبا کر سرگوشی جیسا انداز اپنایا ۔ روشان کچھ دیر پریشان حال سا کھڑا رہا پھر مریل قدم اٹھاتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: