Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 12

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

” اچھا ادھر لاہور میں کس ہاسپٹل میں “
میسم کے پاٶں میں جوگر پہنتے ہاتھ رک گۓ ۔ وہ ہینڈ فری کانوں میں گھساۓ نیچے جھکا جوگر پہنتاجم کے لیے تیار ہو رہا تھا فہد کی بات پر دل کی دھڑکن منجمد ہوٸ ۔ فہد اسے ادینہ کے بارے میں بتا رہا تھا کہ وہ لاہور کے کسی ہاسپٹل میں ہاٶس جاب کر رہی ہے ۔ اور اسے یہاں آۓ مہینے سے اوپر ہو چکا ہے ۔ بے ساختہ ہی وہ ہاسپٹل کا پوچھ بیٹھا جیسے اسے ملنے پہنچ جاۓ گا ۔
” یہ تو معلوم نہیں “
فہد کی مایوس سی آواز نے اس کے دل کی تھمی دھڑکنوں کو بحال کیا ۔ ساکت سا لمحہ پھر سے محرک ہوا ۔ کیا مجھے جانا چاہیے اس کے پاس اور پوچھنا چاہیے کہ اب وہ خوش ہے نہ جو وہ چاہتی تھی میں نے وہ کر دیا وہ چاہتی تھی رشتے سے انکار میری طرف سے ہو ۔
” پتا کر “
مدھم سی دور سے آتی آواز میں فہد سے کہا ۔ اگر پوچھوں گا نہیں تو دور سے دیکھ ہی لوں گا کہ وہ خوش ہے نہ اب ۔ ذہن منصوبے بنا رہا تھا اور دل کی رفتار تیز سے تیز ہو رہی تھی ۔ دل کا یوں دھڑکنا بتا گیا تھا کہ میسم مراد محبت ابھی مری نہیں ہے اسی آب و تاب سے رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے اسی لیے اس کی ایک جھلک کو دیکھنے کا سوچ کر دل کے پمپ ہونے کی رفتار بڑھا دی تھی رگوں میں بہتے خون نے ۔
” کیوں ؟“
فہد نے معنی خیز انداز میں پوچھا ۔ جس پر وہ بھی جیسے ہوش میں آیا ۔ وہ کہاں اب اس کی تھی کہ وہ فہد سے یہ کہتا کہ اس کا دیدار کرنے جاۓ گا ۔ اپنے دل کو سکون دینے جاۓ گا ۔
” ہاں ویسے سہی کہہ رہا تو کیوں کیوں پوچھ رہا ہوں میں ہاسپٹل کا “
گہری سانس خارج کی اور بے تاب سے دل کو سرزنش کیا ۔ دوسری طرف فہد بھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوا
” اچھا چھوڑ یار سن آج کے لیے بیسٹ آف لک “
فہد نے جلدی سے اداسی کو دور کرتے ہوۓ چہکتی سی آواز میں کہا ۔ آج دوپہر میں سیمی فاٸنل تھا ۔ جم سے واپس آ کر ان کی ٹیم میٹنگ تھی اور اس کے بعد سٹڈیم کے لیے روانگی ۔
” اپنے پاس رکھ اپنا بیسٹ آف لک کہا تھا آج لاہور آجانا “
میسم نے خفگی بھرے لہجے میں منہ پھلایا ۔ اس کی زندگی کے اتنے بڑے دن میں اس کا کوٸ اپنا اس کے ساتھ نہیں تھا بہت دل تھا کہ فہد ہی آ جاتا پر وہ بھی نہیں آ رہا تھا۔
” یار بہت کوشش کی تجھے پتا ہے نہ اب گھر والے یونیورسٹی بھی بہت مشکل سے جانے دیتے ہیں “
فہد نے بچارگی سی اپنے نا آنے کا جواز پیش کیا ۔ دوسری طرف خاموشی سی تھی ۔ ہاں سب گھر والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے گھر والوں کے پاس ابھی تک اس کا یہ نیا نمبر بھی نہیں تھا جس کے بارے میں اس نے فہد کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کسی کو نمبر نہیں دے گا ابھی اس کا ۔
” ہمممم سمجھ سکتا ہوں “
آہستہ سی آواز اور اداس سا لہجہ ۔ گھر والے شدت سے یاد آۓ تھے ۔سب کی محبتیں ذہن میں گھوم گٸ تھیں اتنا عرصہ تو کبھی دور نہیں رہا تھا وہ سب سے ۔ شدت سے گھر کی درو دیوار تک یاد آ گٸ تھیں۔
” اچھا چل رکھتا ہوں اب جانا ہے “
تھوک نگلا گلے کی گلٹی نے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اوپر سے نیچے سفر کیا جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوا ۔ نم آنکھوں کو جھپکایا ۔
” جا میرے شیر مچا دے دھوم “
فہد نے پرجوش انداز میں کہا جس پر دونوں نے قہقہ لگایا اور پھر فون بند کرنے کے بعد وہ سر پکڑ کر بیڈ پر ڈھے سا گیا ۔ سب یاد آ رہے تھے سب سب ۔ فون پر رابعہ کا نمبر ڈاٸل کیا ۔ فون کی رنگ جا رہی تھی ۔
” ہیلو “
دوسری طرف حزیفہ کی آواز ابھری ۔ رابعہ کا فون اکثر اوقات اسی کے پاس ہوتا تھا وہ گیم کھیلتا تھا اس پر وہ بار بار ہیلو کہہ رہا تھا ۔ دل کیا فون سے نکال کر حزیفہ کو سینے سے لگا لے آنکھوں میں پانی چمک گیا اور سامنے کا منظر دھندلہ پڑ گیا ۔ وہ حزیفہ جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا تین ماہ سے اسے دیکھنے کو آنکھیں ترس گٸ تھیں۔
جلدی سے فون بند کیا ۔ اور آنکھیں زور سے بند کر لیں۔
*********
” میسم سن یار یہ بال ایک کھیلوں گا اور ادھر آ جانا طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی “
فواد نے میسم کے کان کے قریب ہوتے ہوۓ کہا ۔ اور بلے کو زمین پر مارا آواز بھی تھکی سی تھی ۔ وہ لوگ لاہور سٹڈیم میں اسلام آباد یوناٸیٹڈ کے دو سو چالیس تک کے دیے گۓ حدف کے خلاف بلے بازی کر رہے تھے ۔ ابھی یہ تیسرا ہی اٶور تھا جب فواد نے اس کی شروعات میں ہی اس سے اپنی طبیعت ناساز ہونے کی بات کی ۔ میسم نے پریشانی سے فواد کے اترے چہرے کی طرف دیکھا ۔
” کوٸ بات نہیں فواد بھاٸ آپ ایک سکور کے لیے پھینکو گیند میں کھیلتا ہوں پھر زیادہ لیکن ابھی پارٹنر شپ نا ٹوٹے ہماری “
میسم نے تسلی آمیز انداز میں فواد کے کندھے پر ہاتھ رکھا
” ہممم جلدی بھاگ آنا “
فواد نے پھر سے یاد دھانی کرواٸ میسم نے مسکرا کر تسلی آمیز نظروں سے دیکھا ۔
” اوکے “
میسم نے مسکرا کر ہاتھ کا اشارہ دیا اور پچ کی مخالف سمت کی طرف گیا ۔ فواد بلے بازی کے لیے وکٹ کے آگے جا کر کھڑا ہوا ۔
” فواد وکٹ کے آگے جگہ سنبھال ہوۓ لاہور قلندر کو دو سو چالیس کے حدف کا سامنا “
کمینٹری کی گونج میں کھچاکھچ بھرے سٹڈیم کا شور تھا ۔ میسم کو اب فواد کی طبیعت کی فکر ہو رہی تھی ۔
” فریڈ گیند بازی کے لیے تیار “
کمینٹری کی بازگشت پر میسم نے تھوڑا سا پیچھے ہو کر کمر پر ہاتھ رکھا اور گیند باز پر نظریں جماٸیں ۔
نیوزی لینڈ کا کھلاڑی فریڈ گیند کو ہاتھ میں تھامے اپنی جگہ سنبھال چکا تھا فریڈ بہت اچھا سپنر گیند باز تھا ۔ فریڈ نے بازو کو پیچھے لے جا کر گھمایا اور گیند اڑتی ہوٸ فواد کی طرف بڑھی ۔ فواد نے بلا گھمایا میسم نے کمر پر سے ہاتھ ہٹایا اور بھاگنے کے لیے خود کو تیار کیا ۔
” اور یہ فواد کے بلے سے گیند ٹکراتی میدان میں آصف گیند کے پیچھے بھاگتے ہوۓ “
فواد نے بازو کو کم لچک دے کر گیند کو قریب ہی پھینکا۔ اب اسلام آباد ٹیم کا فیلڈر گیند کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔ فواد نے میسم کی طرف دیکھا اور میسم نے فوراً فواد کی طرف دوڑ لگاٸ ۔ گیند تیزی سے میدان پر لڑھکتی ہوٸ جا رہی تھی اور رفتہ رفتہ رگڑ سے اس کی رفتار کم ہو رہی تھی ۔
” اوہ یہ غلط کیا میسم نے میسم کو سکور کے لیے وکٹ کی طرف نہیں بھاگنا چاہیے “
کمینٹیٹر کی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی لیکن خیال صرف فواد کی طبیعت کا تھا ۔ وہ اپنی پوری قوت لگا کر بھاگ کر اب پچ کے درمیان میں پہنچ چکا تھا لیکن یہ کیا سامنے فواد نے پھر سے پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی ۔اور وکٹ کے پاس واپس پہنچ کر اب ہاتھ کے اشارے سے وہ میسم کو پیچھے جانے کے لیے کہہ رہا تھا ۔
” اور یہ کیا فواد روک رہے ہیں میسم کو اور پیچھے جانے کا کہہ رہے “
کمینٹیٹر کی الجھی سی آواز ابھری سب لوگوں کا شور زیادہ ہو گیا تھا۔ میسم کو ایک لمحے کے لیے سمجھ نہیں آیا کیا کرے پر فواد واپس جا چکا تھا اب اس کو بھی پیچھے کی طرف ہی دوڑ لگانی تھی ۔
” آصف کے ہاتھ میں گیند آ چکی ہے “
فیلڈر گیند کو ہاتھ میں تھامے تیزی سے مڑا ۔ میسم نے اپنی پوری جان لگاٸ بھاگنے میں اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ دماغ شل ہو گیا تھا اب کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
” میسم واپس بھاگتے ہوۓ اور آصف نے وکٹ کا نشانہ لگایا “
کمینٹری اور لوگوں کی آوازٶں کا شور میسم کے کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہا تھا ۔
آصف نے فوراً گیند کو وکٹوں کی طرف پھینکا ۔ میسم نے وکٹ سے تھوڑی دوری پر ہی بازو کو لمبا کیا اور چھلانگ لگانے کی شکل میں زمین پر گھسیٹتا ہوا آگے آیا ۔ ٹک کی آواز سے گیند وکٹوں سے ٹکراٸ اور اس کے اوپر پڑی ولز اڑتے ہوۓ دور جا گرے ۔
” او۔و۔و۔۔و۔و۔وور یہ “
کمینٹیٹر کی افسردہ آواز کے ساتھ پورے سٹڈیم میں لاہور کی عوام کی ماتمی آہ ایک ساتھ گونجی اب سب کی نظریں ایک ساتھ امپاٸر کی طرف اٹھیں ۔ جس نے پر سوچ انداز میں دونوں ہاتھوں سے ہوا میں چکور نشان بنایا ۔ کچھ لوگوں نے سروں پر ہاتھ رکھ لیے تھے کچھ ناخن چبانے لگے تھے اور کچھ الجھے سے بیٹھے تھے ۔
” اور یہ امپاٸر نے فیصلہ تھرڈ امپاٸر کے سپرد کیا “
کمینٹری گونجی اور میسم کے ساتھ ساتھ سب کے دل دھڑکنے لگے ۔ میسم نے پریشانی سے نظریں تھرڈ امپاٸر سکرین پر جماٸیں ۔
” علی آپکو کیا لگتا ہے بلا لاٸن کو چھو گیا تھا “
کمینٹیٹر نے اپنے ساتھی کو مخاطب کیا ۔
” ارسلان کچھ کہا نہیں جا سکتا ابھی آصف نے بہت شاندار طریقے سے وکٹوں کا نشانہ لگا ڈالا “
علی کی بھی الجھی سی آواز ابھری ۔ میسم نے سامنے کھڑے فواد پر ایک نظر بھی نا ڈالی پر دماغ کی نسیں پھولنے لگی تھیں۔
” اور تھرڈ امپاٸر غور کرتے ہوۓ “
کمینٹری کی بازگشت گونجی بورڈ سکرین پر بار بار وکٹوں سے ٹکراتی گیند اور بلے کی پوزیشن کو دکھایا جا رہا تھا ۔
” بلا ہوا میں محسوس ہو رہا ہے ارسلان لاہور قلندر کو ایک بہت بڑا نقصان “
علی کی افسوس سے بھری آواز گونجی لوگوں نے رونے جیسی شکلیں بناٸیں ۔تھرڈ امپاٸر نے آٶٹ کا لفظ سکرین پر دکھایا۔ اور میسم نے زور سے بلے کو ہوا میں چلایا ۔
” اور یہ اٶٹ “
کمینٹری کی آواز گونجی ۔ چند لوگوں کا شور گونجا جو خوش ہو رہے تھے اسلام آباد کی ٹیم کے لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے ہاتھ پر ہاتھ مار رہے تھے میسم مراد آٶٹ ہو چکا تھا ۔
” مسیم مراد دس گیند پر چوبیس سکور بنانے کے بعد رن اٶٹ “
کمینٹری گونج رہی تھی سارے لوگ افسردہ صورتوں سے بیٹھے ہوۓ تھے ۔ فواد بھاگتا ہوا میسم کے پاس آیا ۔
” مسیم سوری یار بھاگا نہیں گیا “
فواد نے میسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر افسردہ سی آواز میں کہا میسم نے جھکی پلکیں اوپر اٹھاٸیں آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ فواد کی نظروں میں نظریں گاڑیں میسم کی نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ فواد خجل سا ہو کر نظریں چرا گیا ۔
” سکور ہو سکتا تھا فواد بھاٸ ہم سپر لیگ جیت سکتے تھے “
سپاٹ چہرے کے ساتھ مدھم سی آواز میں کہہ کر وہ مڑا اور پھر سر جھکا کر پیولین کی طرف بڑھ گیا ۔
” میسم مراد مایوسی سے پیولین کی طرف لوٹتے ہوۓ “
کمینٹیٹر کی بازگشت سے دل عجیب سا بیزار سا ہوا بلے کو دنوں ہاتھوں میں پکڑ کر ہوا میں گھما ڈالا ۔
” علی یہ لاہور قلندر کو بہت بڑا نقصان ہوا ان کا بہترین بلے باز سیمی فاٸنل میں نہیں کھیل سکا “
ارسلان کی افسوس بھری آواز گونجی ۔ ابراہیم بلے کو پکڑے داٸیں باٸیں بازو چلاتا ہوا نشستوں کے درمیانی میں موجود زینے کو اتر رہا تھا ۔
” میرے خیال سے اب فواد اور ابراہیم کو پارٹنر شپ کو لانگ لاسٹنگ بنانا چاہیے کیونکہ میسم کے بعد اب اتنا ٹارگٹ مشکل ہے ان کے لیے “
علی نے ارسلان کو مخاطب کیا ۔ میسم بھاری بھاری قدم اٹھا رہا تھا ہر شخص جانتا تھا آٶٹ ہونے میں اس کی کوٸ غلطی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ خود کو ہی قصور وار سمجھ رہا تھا ۔
” ہاں بلے باز کم ہیں اور میسم دس پر بھاری تھا“
ارسلان نے اپنی راۓ کا اظہار کیا۔ میسم جلدی سے چینجنگ روم کی طرف جا رہا تھا ۔ اور پھر لاہور قلندر برے طریقے سے شکست کھا کر سیمی فاٸنل سے باہر ہوٸ ۔
***********
” چاۓ “
روشان نے چاۓ کے دو کپ ادینہ کے سامنے میز پر رکھے ۔ ادینہ جو گردن پر ہاتھ رکھے اسے ہلکا ہلکا دبا رہی تھی مسکراتی ہوٸ سیدھی ہوٸ ۔ وہ ہاسپٹل سے کچھ دوری پر ہی موجود ایک کے ایف سی میں بیٹھے تھے ۔
” تھنکیو “
ادینہ نے چاۓ کے کپ کو ہاتھوں میں تھاما روشان اب اس کے بلکل سامنے کرسی کو پیچھے کرتا ہوا براجمان ہوا ۔ وہ ابھی ہاسپٹل پہنچی ہی تھی جب کچھ دیر بعد روشان آیا اس کی شفٹ ختم ہوٸ تھی اور چاۓ پینے کی آفر ادینہ کو کی جسے وہ رد نہیں کر سکی کیونکہ ابھی ڈاکٹر ثمرہ آٸ نہیں تھیں جن کے ساتھ اس کی ڈیوٹی تھی آج آپریشن میں ۔
” تو تم کیوں نہیں گٸ اس دفعہ خیر پور “
روشان نے چاۓ کا سپ لے کر نظریں اٹھا کر سامنے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ ہلکے سے سبز رنگ کے جوڑے میں اس کی سفید رنگت دمک رہی تھی میک سے بلکل بے نیاز سادہ سا چہرہ اتنا پر کشش تھا کہ سیدھا دل میں اتر رہا تھا ۔
ماہ رخ ویک اینڈ پر خیر پور گٸ تھی لیکن ادینہ نہیں گٸ تھی۔ اور اسے یوں اکیلے لا کر روشان کو خوشگوار سا احساس ہو رہا تھا کیونکہ اس سے پہلے ماہ رخ کے ہوتے ہوۓ اسے یہ موقع کبھی میسر نہیں آتا ۔
” مجھے ڈاکٹر ثمرہ نے روکا ہے “
ادینہ نے چاۓ کے کپ کو نیچے کیا اور مسکراتے ہوۓ معنی خیز انداز میں نظریں اٹھاٸیں کیونکہ ڈاکٹر ثمرہ کے بارے میں سب جانتے تھے وہ کسی کو بھی کبھی بھی کوٸ ٹاسک دےدیتی تھیں اور ہاٶس جابینز کی تو زیادہ درگت بنتی تھی ان کے ہاتھوں
” اوہ آٸ سی “
روشان نے ہلکا سا قہقہ لگایا۔ اور گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ پھر سے چاۓ کا سپ لیا ۔
” اور آپ ؟ “
ادینہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ روشان کے چہرے پر موجود مسکراہٹ ایک دم سے غاٸب ہوٸ ۔ روشان نے کوٸ جواب نہیں دیا ۔
” میرا مطلب آپ کیوں نہیں گۓ “
ادینہ نے اس کے چپ رہنے پر اپنے سوال کی واضحات دی ۔
” میں کہاں جاٶں “
لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ سجا کر روشان نے ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” مطلب ؟ “
ادینہ نے نا سمجھی سے بھنویں اچکاٸیں ۔
” مما ہی تھی بس میری واحد فیمیلی ممبر وہ نہیں رہیں اب تو ان کے بعد “
روشان نے لب بھینچتے ہوۓ فقرے کو ادھورا چھوڑا ۔ ادینہ کا چہرہ بھی ایک دم سے سنجیدہ ہوا ۔ ایک لمحے کو خاموشی ہوٸ
” تو بابا ؟ “
ادینہ نے جھجکتے ہوۓ اگلا سوال داغا ۔ روشان کے چہرے پر ایک دم سے پژمردگی سی چھا گٸ جسے ادینہ نے واضح طور پر محسوس کیا ۔
” اٸ اٸ ایم سوری “
ادینہ نے شرمندہ سے لہجے میں گڑ بڑا کر کہا ۔ روشان کی کیفیت عجیب سی ہو گٸ تھی اس کے والد کے پوچھنے پر ادینہ پریشان سی ہوٸ ۔
” اٹس اوکے “
گھٹی سی آواز میں کہہ کر روشان نے گلا صاف کیا ۔ اور پھر چاۓ پر نظر جماٸ
” اٸ ایم بروکن چاٸلڈ “
روشان کی دکھ بھری آواز پر ادینہ نے چونک کر جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا ۔ اس کے چہرے پر کرب تھا
” میں بہت چھوٹا تھا جب میرے پیرنٹس میں علیحدگی ہوٸ میری مدر ڈاکٹر تھیں فادر بھی بہت بڑے ہارٹ سپیشلسٹ ہیں “
روشان نے زبردستی کی پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ادینہ کی طرف دیکھا جو اب دکھی سی بیٹھی تھی ۔
” تو فادر سے ملتے ہو“
ادینہ نے نرم سے لہجے میں پوچھا روشان آج پہلی دفعہ اسے اپنے بارے میں بتا رہا تھا ۔ اور وہ سن کر اس کے دکھ کو محسوس کر سکتی تھی تو یہی وجہ تھی اپنی ماں کے گزر جانے کے بعد وہ اس بری برح ٹوٹا تھا کیونکہ وہ سنگل پیرنٹ چاٸلڈ تھا ۔ ادینہ کے ذہن نے کڑی سے کڑی ملاٸ ۔
” نہیں مما نے کبھی ملنے ہی نہیں دیا ان سے “
پھیکی سی مسکراہٹ اور اداس آنکھوں میں بہت کچھ ادھورا سا تھا ۔ جس کو وہ محسوس کر سکتی تھی اچھے سے باپ کے بنا جینا کتنا کٹھن ہے یہ وہ بھی جانتی تھی ۔
” اور اب “
ادینہ نے جھجکتے ہوۓ پھر سے سوال کر ڈالا ۔
” اب وہ یہاں پاکستان میں نہیں ہوتے باہر ہیں ان کی فیمیلی ہے وہ خوش ہیں اپنی زندگی میں “
روشان نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ پیچھے ہو کر کرسی کی پشت سے سر ٹکایا ۔
” اور ڈاکٹر عابد میرا مطلب ہے تمھارے ماموں کی فیمیلی میں کون کون ہے “

 

” ماموں کی ایک بیٹی ہے باہر ہے شادی کے بعد اب ممانی اور ماموں اور میں “
روشان نے مسکراتے ہوۓ چاۓ کا سپ لیا۔ ادینہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
” میری ممانی سے بھی مل چکی ہو تم “
روشان نے شرارتی سے انداز میں مسکراہٹ دباٸ ۔ چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ کن اکھیوں سے ادینہ کی طرف دیکھا ادینہ نے حیرت سے ذہن پر زور دینے جیسے انداز سے آنکھوں کو سکوڑا ۔
” ہیں کب کہاں ؟“
حیرانگی سے ذہن پر زور دیتے ہوۓ سوال کیا ۔ روشان اس کی حیرت پر بے اختیار مسکرا دیا ۔
” ڈاکٹر ثمرہ میری ممانی ہیں “
روشان نے مسکراتے ہوۓ شریر سے انداز میں کہا ۔ اور دلچسپی سے ادینہ کے ردعمل کو دیکھا ۔ جو واقعی میں حیرت میں ڈوب گٸ تھی ۔ ڈاکٹر عابد اور ڈاکٹر ثمرہ ہزبینڈ واٸف ہیں
” نو ویے۔ے۔ے۔ے “
ادینہ کا منہ حیرت سے کھلا ۔ جس پر روشان قہقہ لگا گیا۔
” یس میری ممانی ہیں وہ “
چاۓ کے کپ کو ایک طرف رکھ کر روشان نے اس کی حالت سے محزوز ہوتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھے ۔
” دونوں کی پرسنالٹی کتنی مختلف ہے میرا مطلب ڈاکٹر عابد اتنے سافٹ اور وہ “
ادینہ ابھی بھی حیران سی تھی ۔ اور روشان مسلسل اس کی حیرانگی پر ہنس رہا تھا۔
” وہ ایسی صرف ہاسپٹل میں ہیں گھر میں بہت اچھی پولاٸٹ لیڈی ہیں کبھی گھر چلنا تم اور ماہ رخ “
روشان نے مسکراتے ہو ۓ کہا
” ارے نہیں ڈر لگتا ہے “
ادینہ نے خوف سے نفی میں سر ہلایا ۔ اور پھر ایک دم سے کھڑی ہوٸ ۔
”اور یاد آیا تم سے باتوں میں پتا ہی نہیں چلا وقت کا ڈاکٹر ثمرہ جان نکال دیں گی میری “
عجلت میں اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر روشان کو جلدی کرنے کا اشارہ کیا ۔ جو مسکراتا ہوا اب ساتھ چل پڑا تھا ۔
************
” کیا بدتمیزی ہے یہ آپ بات کو بڑھا رہے ہیں “
اریبہ نے شانزہ اور عفت کو پیچھے کیا اور آگے ہوتے ہوۓ سامنے کھڑے لڑکے سے تنک کر کہا جو اب بدتمیزی کی حدیں عبور کرتا جا رہا تھا ۔
” مسٸلہ تو آپکی دوست کے ساتھ کے ہے یہ خود کو سمجھتی کیا ہے “
لڑکے نے دانت پیستے ہوۓ سرخ چہرہ شانزہ کی طرف موڑا ۔ جو پہلے سے ہی سانس پھولاۓ کھڑی تھی ماتھے پر شکن تھے اور صورت روہانسی ہو رہی تھی جس پر تزلیل کا احساس صاف واضح تھا ۔
وہ لوگ پرزینٹیشن کے بعد ابھی ھال میں سے نکلے ہی تھے جب شانزہ نے اس لڑکے کو روک لیا تھا حدید نامی یہ لڑکا ان کی کلاس کا سب سے بدتمیز اور اکھڑ لڑکا تھا ۔ ان کے پہلے سمسٹر کی فاٸنل پریزنٹیشن تھی پوری کلاس کو یہ بات معلوم تھی کہ شانزہ کو سٹیج کا سامنا کرنا انتہاٸ کٹھن لگتا ہے ۔ اور شانزہ نے سب سے درخواست بھی کی تھی کہ جب وہ سٹیج پر جاۓ تو سب کلاس فیلو اس کا حوصلہ بڑھاٸیں ۔لیکن یہ لڑکا اور اس کا گروپ خاص طور پر شانزہ کو پریشان کرنے کے لیے ایک عدد ایسا سیاہ چشمہ لے کر آیا تھا جس میں ایک طرف شیشہ تھا اور ایک طرف نہیں تھا جیسے ہی شانزہ سٹیج پر گٸ اور بولنا شروع کیا تو حدید نے وہ چشمہ پہن لیا اب اس کے دوست جو کہ اس کے ارد گرد بیٹھے تھے وہ بھی اس کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے شانزہ کی نظر اس پر پڑی تو معمول کے مطابق اس کے ذہن اس کی زبان کا ساتھ چھوڑنے لگا پھر اس لڑکے نے بدتمیزی کی حد یہاں تک ہی محدود نہیں رکھی بلکہ الٹے سیدھے سوال کرنے شروع کر دیے ۔ اور وہ جس بات سے ڈر رہی تھی وہی ہوا اس کی فاٸنل پریزنٹیشن میں وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی ۔اور اب جب باہر نکلتے ہی شانزہ نے اسے روک کر اس کی اس بدتمیزی کی باز پُرس کی تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑنے لگا ۔ شانزہ کے ساتھ کھڑی اریبہ نے جب اسے روہانسی صورت بنا کر ہارتے دیکھا تو خود آگے ہوٸ ۔
” آپ پرزینٹیشن کے دوران اس طرح کی حرکتیں کریں گے ار ریلیونٹ کویسچن کریں گے مزاق اڑاٸیں گے تو سنیں گے بھی ایک کلاس فیلو ہونے کے ناطے آپکو سپورٹ کرنا چاہیے کہ “
اریبہ نے دانت پیس کر سختی سے کہا۔ جس پر وہ اب شانزہ سے رخ موڑ کر اریبہ کی طرف سیدھا ہوا اس کے چہرے پر موجود کمینگی دیکھ کر اریبہ کے الفاظ درمیان ہی دم توڑنے لگے ۔
” میری مرضی میرا چہرہ تھا میں چاہے ٹوٹا چشمہ پہنوں یا کچھ بھی کروں آپ کو کیا مسٸلہ ہے “
وہ اب اریبہ کے ساتھ بھی اسی بدتمیزی سے پیش آ رہا تھا جس سے وہ کچھ دیر پہلے شانزہ سے آ رہا تھا۔ حدید کی اکڑ کی ایک وجہ ان کے گروپ میں کسی لڑکے کا نہ ہونا بھی تھا ۔ پوری کلاس میں واحد ان کا گروپ تھا جس میں کوٸ لڑکا ممبر نہیں تھا عفت شرعی پردہ کرتی تھی شانزہ ویسے ہی تھوڑی دبو سی گاٶں کی لڑکی تھی شانزہ نے گھبرا کر ساتھ کھڑی عفت کی طرف دیکھا پھر اریبہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو دفعہ کرو کیا اس کے منہ لگنا ۔
” آپ جیسی چھوٹی ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں جو خود تو کسی قابل ہوتے نہیں آتا جاتا خاک نہیں لیکن کسی اور کو بھی اس مقام پر نہیں دیکھ سکتے “
اریبہ نے شانزہ کے ہاتھ کو کندھے پر سے اتار کر غصے سے آگے ہوتے ہوۓ کہا ۔ جس پر حدید کے ماتھے پر شکن کی لکیریں اور بڑھ گٸ۔ وہ بپھر کے ناک پھلا گیا ۔
” زبان سنبھال کر کس کو بول رہی ہیں آپ چھوٹی ذہنیت کا “
حدید ایک دم سے آگے بڑھا پاس کھڑے لڑکوں نے فوراً اسے کندھے سے پکڑ کر روکا ۔ اریبہ اس کی اس بدتمیزی پر سٹپٹا گٸ ۔ ساری بہادری ایک پل میں ہی ہوا ہوٸ ۔ اب آگے تو کوٸ بات بھی سجھاٸ نہیں دے رہی تھی کیونکہ کلاس کے بہت سے لوگ اب شانزہ کو ہی کہنے لگے تھے کہ مزاق ہی تو کر رہا تھا اتنا سریس کیوں ہو رہی ہیں یہ لڑکیاں ۔
” کیا ہو رہا ہے یہ “
عقب سے آتی آواز پر سب مڑے تھے فہد اپنے چند ہم جماعت کے ساتھ کھڑا شرٹ کے بازو اوپر چڑھا رہا تھا سامنے کھڑے حدید کو خونخوار نظروں سے گھور ا ۔ سنیرز کو دیکھ کر حدید کے ساتھ کھڑے کچھ لڑکے تو فوراً کھسک لیے تھے۔ فزکس ڈیپارٹمنٹ کا یہ بیج ویسے بھی پوری یونیورسٹی میں مشہور تھا ۔ فہد تو اب اریبہ کو دیکھنے کے لیے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ آتا تھا ۔
” ہاں کیا مسٸلہ ہے “
حدید نے بڑے انداز سے اپنے دونوں بازو کو جھٹک کر ساتھ کھڑے لڑکوں کا ساتھ چھڑوایا ۔ اریبہ نے حیرانگی سے فہد کی جانب دیکھا جو آج کچھ مختلف ہی انداز لیے ہوۓ تھا۔ فہد کا اسی وقت پہنچنا اریبہ کو سکون دے گیا ۔ ایسا لگا جیسے کوٸ بہت ہی اپنا آ گیا ہو۔
” تم دونوں چلو یہاں سے “
فہد نے اریبہ کی طرف رخ کیا اور ہاتھ کی انگلیوں کو ہلکی سی جنبش دیتے ہوۓ دونوں کو وہاں سے جانے کے لیے کہا ۔ اس کا یہ اپناٸیت بھرا انداز عجیب طرح سے دل کو بھایا وہ الجھ سی گٸ ۔ الجھی الجھی سی پیچھے ہوٸ۔
” تھپڑ مارا ہے اس لڑکی نے مجھے “
حدید نے ناک پھلا کر شانزہ کی طرف دیکھ کر ڈھٹاٸ سے جھوٹ بولا۔ فہد کے ساتھ کھڑے مضبوط لڑکے بھی قدم قدم اب حدید کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
” بھاٸ جھوٹ بول رہا یہ مہ۔۔میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا “
شانزہ نے گڑبڑا کر اپنی صفاٸ دی جس پر فہد کے ساتھ کھڑے اس کے دوست نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ سینے پر اس انداز سے ہاتھ رکھا اور ہاتھ کے اشارے سے تینوں لڑکیوں کو جانے کے لیے کہا ۔ جیسے کہہ رہا ہو ہم سب سنبھال لیں گے تم لوگ جاٶ یہاں سے ۔ شانزہ نے اریبہ کا ہاتھ پکڑ ا اور پھر تینوں تیز تیز قدم اٹھاتیں آگے بڑھیں ۔
” پہلے اپنی حرکت بتا “
اریبہ اور شانزہ کے جانے کی دیر تھی فہد نے آنکھیں نکالتے ہوۓ حدید کی طرف دیکھا۔ سنیرز کے تیور دیکھ کر حدید کے ساتھ تن کر کھڑے لڑکے اسے چھوڑ کر پیچھے ہونے لگے ۔وہ دونوں ابھی آ کر یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی ہی تھیں جب سوجی گال اور سرخ آنکھ لیے حدید ان کے پاس آیا ۔
” سنیں “
گھٹی سی آواز پر دونوں نے گردن اٹھا کر سامنے کھڑے حدید کی طرف دیکھا۔ جس کے چہرے پر تھوڑی دیر پہلے والی کوٸ اکڑ موجود نہیں تھی ۔
” آٸ ایم سوری دوبارہ کبھی ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا “
حدید نے شانزہ پر ایک نظر ڈالی اور پھر نظر جھکا لی ۔ شانزہ نے اٹس اوکے کے انداز میں بس گردن کو جنبش دینے پر ہی اکتفا کیا ۔ حدید خاموشی سے پلٹا۔ شانزہ نے کچھ دور کھڑے فہد کی طرف تشکر آمیز نظروں سے دیکھا اور پھر حیرت سے منہ کھولے اریبہ کی طرف رخ کیا۔
” ارے واہ تمھارے ہیرو نے تو لگتا ہے بجا ڈالی ان کی “
شانزہ نے آنکھ کے بند کرتے ہوۓ شرارت سے اریبہ کو چھیڑا۔ اریبہ نے سٹپٹا کر ارد گرد دیکھا مبادہ اس کے یوں فہد کو اسکا ہیرو کہنے والی بات کسی کے کانوں میں نہ پڑ گٸ ہو ۔
” بکواس بند میرا کوٸ ہیرو نہیں ہے وہ “
اریبہ نے منہ پھلا کر گھور کر دیکھا جس پر وہ اور عفت قہقہ لگا گٸیں جبکہ وہ اب اپنے دوستوں کے ساتھ ایک طرف بیٹھتے فہد کی طرف دیکھ رہی تھی۔
**********
” تو جو نہیں کھیل رہا اتنا اچھا اسے نکال دو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز کھیلنے جا رہے ہیں ہم کوٸ معمولی بات تو نہیں ہے ٹف ٹیم ہے وہ ہمیں اپنے بیسٹ لے کر جانے ہوں گے “
عادل عزیز نے میز پر کہنیوں کے بل بازو رکھ کر وثوق سے سامنے بیٹھے قومی ٹیم کے کپتان توقیر عامر کی طرف دیکھا ۔
” سر یہ ایک لسٹ تیار کی ہے میں نے کچھ کھلاڑیوں کی جو گزشتہ دو سال سے کوٸ کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں “
جہانزیب نے فراز جاوید کے ہاتھ سے پکڑ کر فاٸل عادل کی طرف بڑھاٸ ۔
آسٹریلیا کے ساتھ سریز میچ سے پہلے کرکٹ بورڈ کے چیرمین عادل عزیز نے ایک میٹنگ طلب کی تھی جس کا پینل اس وقت چیر مین آفس کے میز کے گرد رکھی گٸ نشستوں پر براجمان تھا عادل عزیز مسیم مراد کو آسٹریلیا کی سریز کے لیے ریکمنڈ کر رہا تھا ۔
” تو ٹھیک ہے نہ اس لسٹ میں موجود جو بیٹس مین پہلے آسٹریلیا کی سریز کے لیے سلیکٹ تھا اسے نکال کر میسم مراد کا نام ڈال دو “
عادل عزیز نے آنکھوں پر ٹکے چشمے کو تھوڑا نیچے کرتے ہوۓ ۔ لسٹ پر نظریں جماٸیں اور پھر گہری سانس لے کر اپنا فیصلہ سنایا ۔
” اوکے سر شازل کو نکال دیتے ہیں پھر اس سریز کے لیے پچھلے دو سال سے کوٸ کارکردگی نہیں ہے اس کی ۔ “
فراز نے سر ہلاتے ہوۓ کہا جس پر توقیر نے تاٸید کی اور بھرپور طریقے سے ساتھ دیا۔
” اور لیٹر تیار کریں میسم مراد کے لیے اور آپ لوگوں میں سے کسی کو میری اس تبدیلی پر اعتراض ہو تو بات کریں “
عادل عزیز نے کن اکھیوں سے اپنے سامنے بیٹھے پینل پر نظر دوڑاٸ ۔ سب نے نفی میں سر ہلایا ۔
” گڈ “
عادل عزیز نے مسکرا کر جہانزیب کی طرف دیکھا ۔ سپر لیگ کا فاٸنل اسلام آباد یوناٸیٹڈ کوٸٹہ سے جیت گیا تھا ۔ لیکن میسم مراد لاہور قلندر کی ہار کے باوجود بہت سے دلوں پر چھا گیا جن میں سے ایک عادل عزیز تھے ۔اسی لیے سپر لیگ کے فوراً بعد کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ میں انہوں نے میسم کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
********
” بڑا مشہور ہو گیا ہے ویسے کھیلتا بھی تو اتنا اچھا ہے“
ماہ رخ نے دی سٹاٸل میگزین پر بنے میسم کے بڑے سے پوسٹر کو ستاٸشی نظروں سے دیکھتے ہوۓ بے ساختہ کہا اس کے بلکل برابر بیٹھی ادینہ جو بلا جواز اپنے موباٸل سکرین پر انگلیاں چلا رہی تھی بے ساختہ میگزین پر نظر دوڑا گٸ ۔
میسم سبز رنگ کے قومی کرکٹ یونیفارم میں مسکرا رہا تھا جب سے پاکستان آسٹریلیا سریز جیت کر آ یا تھا میسم مراد پورے پاکستان کا ہیرو بن گیا تھا ۔ اور اب بھی پاکستان کے اس مشہور میگزین میں اس کا انٹریو چھپا تھا جس کے ساتھ جناب کا بہت بڑا پوسٹر تھا ۔
کتنا بدل گیا تھا وہ جسم بھر گیا تھا بازو کسرتی مضبوط ہو گۓ تھے چہرہ نکھر گیا تھا ۔ ادینہ نے ایک بھر پور نظر پوسٹر پر ڈالی اور پھر بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوۓ نظریں چراٸیں ۔
” بہت سے دلوں کو روند کر حاصل کی ہوٸ کامیابی ہے “
مدھم سی آواز میں کہتی ہوٸ سیدھی ہوٸ ۔ خود پر بہت حد تک قابو پانا وہ سیکھ چکی تھی ماہ رخ نے اس کی بیزاری محسوس کرتے ہی جلدی سے شرمندہ سا ہوتے ہوۓ میگزین کو بند کیا ۔ پھر کچھ یاد آنے پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ شرارت سے ادینہ کے ضبط کرتے چہرے کی طرف دیکھا ۔
” ہممم اچھا سن شام کا کیا پلین ہے پھر “
ماہ رخ نے الماری کے پٹ کو کھول کر ادینہ کی طرف پیٹھ موڑے کہا ۔ وہ جو اب بند پڑے میگزین کو گھور رہی تھی چونک کر متوجہ ہوٸ ۔
” میرا ویسے کوٸ موڈ نہیں “
ادینہ نے نخوت سے ناک چڑھاٸ ۔ اور بازو کو اوپر کرتی ہوٸ چت لیٹ کر چھت کو دیکھا ۔
” موڈ کو میں ٹھیک کر لوں گی آرام سے اور یہ ڈریس پہنو گی تم “
ماہ رخ الماری میں لٹکتے سرخ رنگ کے فراک کو لے کر مڑی یہ وہ فراک تھا جو ابھی کچھ دن پہلے ہی ماہ رخ نے اسے گفٹ کیا تھا ۔ جتنا وہ اس دن اس مہنگے سے فراک کو گفٹ کرنے پر خفا ہوٸ تھی اس سے بھی زیادہ خفگی بھری نظر وہ اب ماہ رخ پر ڈال رہی تھی۔
” تمھارا دماغ ٹھیک ہے ڈنر ہے ایک عام سا “
ادینہ کے ماتھے پر خفگی بھرے شکن تھے تو منہ حیرت سے کھل گیا۔ جبکہ وہ مسکراہٹ دباۓ آنکھوں میں چمک لیے کھڑی تھی ۔
” عام سا ڈنر تو نہیں روشان سپیشلاٸزیشن کے لیے جا رہا اس کی اتنی بڑی خوشی ہے “
ماہ رخ نے مصنوعی خفگی طاری کرتے ہوۓ اسے گھورا ۔ روشان کے فادر نے اس کو باہر سپیشلاٸزیشن کے لیے بلوا لیا تھا اور وہ اس بات پر ادینہ کے بہت سمجھانے پر راضی ہوا تھا ۔ ان کی ہاٶس جاب کو چھ ماہ کا عرصہ ہو چکا تھا ۔ اور اس دوران روشان اب اس سے اپنی ہر طرح کی بات شٸر کرنے لگا تھا ۔
” اچھا تو اس کی اتنی بڑی خوشی پر میں یہ ریڈ رنگ کا ڈریس پہن کر چلی جاٶں دماغ ٹھیک ہے کیا تمھارا “
ادینہ نے اس کی ذہنی حالت پر شک کرنے جیسے انداز سے اسے گھورا ۔
” جی جی بلکل ٹھیک ہے “
ماہ رخ نے سر کو زور زور سے ہلایا اور گھما کر فراک کو پلنگ پر ڈھیر کیا ۔ سرخ رنگ کا کلیوں والا خوبصورت فراک تھا جس کے گلے پر شیشے کا کام تھا ۔
” نہیں میں یہ نہیں پہن کر جا رہی “
ادینہ نے ایک نظر فراک پر ڈالی اور پھر عجیب بے یقین سی نظر ماہ رخ پر ڈال کر سر کو زور زور سے نفی میں ہلایا ۔
” جا رہی ہو “
ماہ رخ نے آنکھیں نکالیں ۔ اور پھر سے الماری کی طرف مڑی ۔ اب وہ اپنا کوٸ جوڑا منتخب کر رہی تھی ۔ وہ مسلسل گانے گنگنا رہی تھی چہک رہی تھی ۔
” تمہیں ہوا کیا ہے “
ماہ رخ کے عجیب سے انداز پر وہ الجھ گٸ تھی اس کی معنی خیز باتیں اور شرارتی سی مسکراہٹ معمول سے ہٹ کر تھی ۔
” کچھ نہیں پتا چل جاۓ گا تمہیں “
ماہ رخ نے اس کے پریشان ہونے پر ہلکا سا قہقہ لگایا جس پر وہ اور ناک پھلا چکی تھی ۔
” کیا ؟ “
غصے سے گھور کر کہا ۔ ماہ رخ جلدی سے باہیں پھیلا کر آگے بڑھی ۔
” کچھ نہیں تیار ہو اور یہی پہنو جلدی کرو “
اسے اپنے ساتھ لگایا اور پیچھے ہو کر بیڈ پر پڑے فراک کو اٹھا کر زبردستی اس کے ہاتھوں میں دیا ۔ اور اسے واش روم کی طرف دھکا دیا ۔
” کبھی کبھی بہت فضول ضد کرتی ہو تم “
ادینہ نے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالے ایک نظر فراک پر ڈالی ۔
” چلو چلو لیٹ ہو رہا ہے “
وہ عجلت میں کہتی ہوٸ اب اپنے جوڑے کو ہینگر میں سے نکال رہی تھی ۔ ادینہ کندھے اچکاتی آگے بڑھ گٸ ۔
*******
مدھم شربتی سی روشنی میں ڈوبا ہوٹل کا پرفسوں ماحول جس میں لوگوں کی مدھم مدھم سی آوازیں اور برتنوں کے بجنے کی آوزیں گونج رہی تھیں ۔ یہ لاہور کے مہنگے ترین ہوٹلز میں سے ایک تھا۔
کار ایک چراراہٹ سے پارکنگ اٸریا کے آگے رکی تھی ۔ اور میسم نے ہڈ کی ملحقہ ٹوپی کو اٹھا کر سر پر لے کر آگے سے کھینچا ۔ کار کی پچھلی سیٹ سے وہ نکلا تھا اور اب فرنٹ ڈور بھی بند ہو رہے تھے ۔
وہ روشان کے بلکل سامنے کرسی پر بیٹھی تھی ۔ سرخ رنگ کے جوڑے میں دمکتی ہوٸ گلے پر لگے نفیس سے شیشے کا کام اس کے چہرے پر اپنا عکس ڈال کر اسے ماوراٸ حسن دے رہا تھا ۔ ماہ رخ خود تو نک سک سے تیار ہوٸ ہی تھی ساتھ اسے بھی کر ڈالا تھا ۔
اور اب وہ واش روم کا کہہ کر اسے روشان کو اکیلا میز پر چھوڑ گٸ تھی۔
” ادینہ !!!!“
روشان نے دونوں کے درمیان موجود خاموشی کو توڑا وہ جو اپنے موباٸل پر سکرین کو اوپری طرف اچھال رہی تھی روشان کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوٸ ۔ بھاری پلکوں کو مسکارہ نے اور چار چاند لگا دیے تھے ۔
ہوٹل کا دروازہ دھکیل کر وہ اندر داخل ہوا ۔ ہڈ سے چہرے کو چھپانے کے سے انداز میں ساتھ موجود دو لڑکوں کا حلیہ بھی ملتا جلتا ہی تھا ۔ جیبوں میں ہاتھ تھے اور پاٶں میں جوگرز
” مجھے تم سے کچھ کہنا ہے “
روشان نے الجھے سے انداز میں تہمید باندھی ۔ اور پھر نظر جھکاٸ ادینہ اس کے انداز پر حیران سی تھی ۔ اب تو ان میں اتنی بے تکلفی تھی پھر آج روشان اتنا سوچ سوچ کر کیوں بول رہا تھا ۔
” ہے میسم وہ سامنے کارنر ٹیبل ٹھیک رہے گا “
طلحہ نے کونے میں لگے پر سکون میز کی طرف اشارہ کیا ۔ مسیم نے اثبات میں سر ہلایا اور تینوں اب اس میز کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
” جی “
ادینہ نے ناسمجھی کے انداز میں سامنے بیٹھے روشان کی طرف دیکھا ۔ اور مدھم سے لہجے میں گویا ہوٸ ۔
طلحہ اور ابراہیم کے پیچھے وہ اپنے موباٸل پر نظریں جماۓ منتخب کردہ میز کی طرف بڑھ رہا تھا جب اچانک باٸیں طرف لگے میز کے منظر نے قدموں کو اس سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: