Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 13

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

وہی تھی سرخ فراک میں سجی سنوری ہوش ربا حسن کو دوبالا کیے ہوۓ اس کی نظریں کیسے دھوکا کھا سکتی تھیں اور سامنے بیٹھا وہ لڑکا بھی وہی تھا ۔ یونیورسٹی کے اس منظر کو وہ کبھی نہیں بھلا سکا تھا ان چند ماہ میں جسے اس کے ذہن نے باراہ دہرایا تھا ۔
لڑکا کوٸ بات کر رہا تھا ادینہ سے ۔ میسم کچھ ہی فاصلے پر ساکن سا کھڑا تھا ۔ لڑکے کی آواز مدھم سی تھی جو سہی سے اسے سناٸ نہیں دے رہی تھی ۔
” ادینہ میں میں “
روشان نے شرمانے کے سے انداز میں تمہید باندھی ۔ ادینہ اس کے انداز سے الجھی سی یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ روشان اس وقت اس سے کیا بات کرنے والا ہے ۔
” میں آپ کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں “
روشان نے سر جھکا کر ہمت جمع کرتے ہوۓ دل کی بات کی ۔ادینہ جو الجھی سی سمجھنے کو کوشش میں سرگرداں تھی اس کی رشتہ بھیجنے کی بات پر گڑ بڑا سی گٸ ۔
” جی!!!!!“
آنکھیں پھیلا کر حیرت سے روشان کی طرف دیکھا ۔
میسم کا دل اس دن کی طرح ہی گھٹن کا شکار ہونے لگا دیدار یار اگر اتنے عرصے بعد ہوا بھی تو کیسے ہوا ۔لڑکے کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ادینہ کو پر پوز کر رہا ہے ۔
” غلط مت سمجھیے گا پلیز پلیز “
روشان اسکے حیران سے چہرے کو دیکھ کر فوراً گھبرا کر بولا۔اس کا حیران ہونا بنتا تھا کیونکہ روشان نے آج سے پہلے کبھی اشاروں میں بھی اسے یہ باور کروانے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ اسے پسند کرنے لگا ہے ۔
” مجھے آپ اچھی لگتی ہیں آپ کے گھر ڈاٸریکٹ رشتہ بھیجنے سے پہلے آپ کو پرسنلی پرپوز کرنا چاہتا تھا “
روشان نے جھینپ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور سرخ رنگ کی مخمل کے کور والی ڈبیا کو میز پر رکھا ۔ ادینہ نے چونک کر ایک نظر روشان کو اور پھر ڈبیا کی طرف دیکھا ۔
سرخ رنگ کی ڈبی جیسے ہی اس لڑکے نے میز پر رکھی میسم کا لگایا گیا اندازہ یقین میں بدل گیا وہ واقعی ایک دوسرے سے رشتہ بنانے جا رہے تھے ۔
آہ ۔ دل سے ایک ٹیس اٹھی پر لب مسکرا دیے آخر کار اس کی قربانی رنگ لاٸ ۔ چلو کسی کو تو کسی کی محبت ملی ۔
” کیا آپ میرا پرپوزل ایکسیپٹ کریں گی “
روشان نے گہری نظروں اور نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا ۔ ادینہ بوکھلا سی گٸ۔ کیا کر رہا ہے یہ میں نے تو اسے کبھی ۔ ادینہ نے الجھ کر سوچا ۔
” میں “
ادینہ نے پریشان سے انداز میں گردن پر ہاتھ دھر ا ۔ ماہ رخ کہاں مر گٸ ہے ۔ماہ رخ کو دیکھنے کی غرض سے گردن کو جو گھمایا تو لمحہ جیسے تھم گیا ۔ دشمن جاں دل کی سلطنت کا حکمراں ۔ زندان میں ڈال کر بھول جانے والا سامنے کھڑا تھا ۔ جسم کے رواں رواں میں جیسے سنسنی سی دوڑ گٸ ۔ لمحہ بھر تو کو زبان گنگ ہوٸ پورے وجود میں بس دل ہی محرک تھا ۔
” میسم !!!!!!“
دورررر کسی ویرانے کی بند کوٹھڑی سے آتی ہوٸ آواز تھی۔ وہ تھا حقیقت میں تھا اب کی بار تخیل سے تراشا ہوا میسم نہیں تھا۔ ادینہ کی خود پر نظر پڑنے کی دیر تھی میسم نے بجلی کی سی تیزی سے ہوٹل کے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
” ایک منٹ روشان “
ادینہ نے ہڑ بڑاہٹ میں کرسی کو پیچھے دھکیلا اور تقریباً بھاگتی ہوٸ بیرونی دروازے سے نکلتے میسم کے پیچھے دوڑی ۔ روشان جو ادینہ کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش میں تھا میسم کو دیکھ ہی نہ پایا کہ ادینہ اس کے پیچھے بھاگی ہے ۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اب ہوٹل کے دو طرفہ لان کے درمیان موجود سرخ اینٹوں کی راہ داری پر چلتا ہوا ہوٹل کے مین گیٹ کی طرف جا رہا تھا ۔
” میسم میسم “
شیشے کے دروازے کو دھکیل کر باہر آتے ہی ادینہ نے چیخنے کے انداز میں میسم کو آواز دی اس کے قدم تھم گۓ تھے پر وہ مڑا نہیں ۔ ادینہ پھولتی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتی اس تک آٸ ۔ اور بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے میسم کو اپنی طرف گھمایا ۔
لمحہ تھم گیا تھا ۔ جولاٸ کی گرمی اور حبس زدہ رات میں ایسا لگا ہوا کے ساتھ سب تھم گیا ہو ۔ میسم نے گہری تڑپتی نظر اپنے سامنے کھڑی ادینہ پر ڈالی ۔ دمکتی رنگت ہوش ربا حسن کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا اس آٹھ نو ماہ کے عرصے میں ۔ دھڑکن اپنی رفتار بڑھا چکی تھی ۔
وہ جو سوچا تھا ملے گا تو تھپڑوں کی برسات کر دے گی اس کی آنکھیں نوچ ڈالے گی اس کا سر پھاڑ دے گی اب جب وہ لمحہ تھا تو دل کیا گھٹنوں کے بل ڈھے جاۓ اس کے قدموں میں اور پھوٹ پھوٹ کر رو دے اپنی بے بسی پر
”تم کیوں کیوں گۓ تھے اس دن “
گھٹی سی آواز جیسے گلے میں کچھ اٹک رہا ہو ۔ وہ جو اس کی چہرے پر خوشی کی تلاش میں کوشاں تھا ضبط سے آنسو مسکراہٹ میں چھپاۓ ۔
” تم خوش ہو نہ؟“
میسم نے پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ گھٹی سی آواز میں پوچھا ۔ سوال کچھ تھا تو جواب کچھ ادینہ نے تڑپ کر سامنے کھڑے اس ظالم کی طرف دیکھا جو پھول بننے سے پہلے ہی محبت کی کلی کو ایسے مسل کر گیا تھا کہ اس کلی کی خوشبو اس کی روح سے آج تک نا جا سکی تھی ۔
” خوش ہوں !!!!!“
ادینہ نے حیرت سے آنکھیں سکیڑ کر ماتھے پر شکن ڈالے اس کے عجیب سےجواب کو ناسمجھی میں دہرایا ۔ ایک دم سے دماغ جیسے تپ گیا ۔ دل کی دنیا تہس نہس کر کے پوچھتا ہے خوش ہو نہ ؟ ۔
” تم نے میرے ساتھ گھر والوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیا اگر یوں جانا تھا تو جب بار بار میں تمہیں کہتی رہی تب کیوں نہیں انکار کیا تم نے ؟“
غصے میں جیسے پھٹ ہی تو پڑی تھی وہ ۔ وہ جو غم سے پھٹتے دل کو بمشکل سنبھالے کھڑا تھا اس کے یوں چلانے پر گڑ بڑا سا گیا ۔
” بولو اتنی تکلیف اتنی ذلت تمہیں شرم بھی نہ آٸ ہم میں سے کسی پر ترس بھی نہ آیا “
وہ رو رہی تھی آواز پھٹ رہی تھی میسم نے ناسمجھی کے انداز میں ماتھے پر شکن ڈالے اسے کیا ہوا ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہے اس کے لیے ہی تو کیا تھا میں نے سب ۔ وہ الجھ سا گیا ۔
” کیوں کیوں کیا تم نے ایسا ؟“
ادینہ نے آگے بڑھ کر اب اس کی پتلی سی ٹی شرٹ نما ہڈی کے گریبان کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ ادینہ کے یوں خود پر جھپٹنے پر وہ بمشکل خود کو گرنے سے سنبھال پایا ۔ وہ بار بار ایک ہی سوال کر کے اس کو جھنجوڑ رہی تھی ۔ وہ اپنی زندگی کا اتنا اہم لمحہ چھوڑ کر یہ ڈرامہ کیوں کر رہی تھی ۔ میسم کا دماغ شل ہونے لگا ۔ ایک دم سے ضبط ختم ہوا
” تمھاری خاطر تمھاری خاطر کیا سب پاگل لڑکی “
میسم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر ایک جھٹکا دیا ۔ تڑپتا وجود تھم سا گیا ادینہ نے حیرت سے آنکھوں کو سکوڑا ۔
” میری خاطر “
میسم کے گریبان پر گرفت ڈھیلی ہوٸ ۔ افف تو میسم مراد وہ جو میں چار سال تک رٹ لگاتی رہی دل نے دھڑکنا بند کیا ۔ حیرت سے اپنے سامنے کھڑے میسم کی طرف دیکھا
” ہاں تمھاری خاطر کیا سب میں نے “
میسم نے مدھم سی آواز میں کہا ۔ اور وہ اس کی عقل پر ماتم کنعاں تھی ۔ ایک دم سے ماتھے پر شکن ابھرے
” تو میری خاطر تمہیں مجھے نکاح کے روز ہی چھوڑ کر جانا تھا بولو تب جب سب ٹھیک ہونے چلا تب تمہیں یاد آیا اور میرے اقرار کے بعد وہ بھی “
ادینہ نے غصے سے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ میسم نے دکھ بھری مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ
” کیوں کہ مجھے پہلے معلوم نہیں تھا کہ تم کسی اور سے محبت کرتی ہو“
میسم نے گہری سانس لی ۔ادینہ کی آنکھیں پھیل گٸیں
” واٹ !!!!!!“
ادینہ کا منہ کھل گیا تھا آنکھوں کو جھپک کر میسم کی کہی ہوٸ بات کو پھر سے ذہن میں دہرایا
” مجھے لگتا تھا میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ تم سب بھول جاٶ گی لیکن میں غلط تھا “
میسم نے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر آسمان کی طرف چہرہ کیا اور آنکھوں سے امڈ آنے والے آنسوٶں کو انکھوں کے اندر ہی جزب کیا۔ وہ اُسی حالت میں ہونق سی بنی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی ۔
” لیکن تمھارے دل میں تو پہلے سے کوٸ بستا تھا “
میسم نے گلے میں اٹکے آنسوٶں کے گولے کو ضبط سے نگلا ۔
” تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا “
ادینہ نے الجھتے ہوۓ آہستہ سی آواز میں سوال کیا ۔ وہ کیا کہہ رہا تھا کس سے محبت کونسی محبت کس کی بات کر رہا تھا وہ ۔
” ادینہ کیوں کر رہی ہو یہ سب کیوں کسی اور کو دل میں رکھ کر تم مجھ سے نکاح کرنے چلی تھی مجھے کہتی تو ایک دفعہ اس کا بتاتی تو نہ مجھے بھاگنے کی ضرورت پڑتی اور نہ تمہیں ایسے رو رو کر زبردستی میرا ساتھ قبول کرنے کی “
میسم نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا اور سامنے کھڑی ادینہ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔
” تم پاگل ہو کیا تمہیں معلوم بھی ہے میں کس سے محبت کرتی ہوں تم سے ڈیمڈ تم سے “
” مجھے سے ؟“
میسم نے چونک کر ادینہ کے چہرے کی طرف دیکھا جو آنسوٶں سے تر تھا ذہن ایک دم سے ساٸیں ساٸیں کرنے لگا ۔ کیا تھی اس کے سامنے کھڑی یہ لڑکی اندر بیٹھا وہ شخص جس کی خاطر پہلے یہ مجھ سے انکار کروانے پر بضد تھی اور اب میسم نے حیرت سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ وہ اب معصومیت سے آنسو بہا رہی تھی ۔ اور اس کے ذہن میں ہتھوڑے چل پڑے اس کے اچانک محبت کے اظہار پر اور دماغ تیزی سے دوڑنے لگا ۔
تھوڑی دیر پہلے اگر میں یہاں نہ آتا تو یہ اُس کے نام کی انگوٹھی پہن رہی ہوتی اور اب۔۔۔۔۔۔
تو پہلے بھی تو میں ہی میسم تھا جس سے اسے اتنی نفرت تھی مجھے ایک نظر نہیں دیکھنا چاہتی تھی چار سال تک مجھ سے انکار کرنے کی بھیک مانگتی رہی اور آج کہہ رہی ہے کہ اسے۔۔۔۔۔
نہیں نہیں اس وقت کے میسم میں اور آج اس کے سامنے کھڑے میسم میں زمین آسمان کا فرق ہے تو کیا اب اسے میری کامیابی سے اوہ خدا ۔۔۔
میسم نے غور سے ادینہ کا چہرہ دیکھا کتنا معصوم چہرہ تھا لیکن کتنی خود غرض تھی وہ ۔ جب میں بیکار تھا تو اسے اس لڑکے کے ساتھ محبت تھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی اور آج اگر میں دسترس میں نہ آتا تو اُس کی ہونے بھی جا رہی تھی اور اب جب میں کامیاب ہو گیا تو میسم نے افسوس سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔ میسم مراد یہ ہے وہ لڑکی جس کی خاطر تم نے سب کچھ قربان کر ڈالا ۔ میسم پر ادینہ کی اپنی طرف سے گھڑی ہوٸ حقیقت دوسری دفعہ آشکار ہو رہی تھی ۔
” اچھا !!!! کب سے ہوٸ تمہیں مجھ سے محبت باٸ دے وے “
میسم نے طنز بھری مسکراہٹ سجا کر سامنے کھڑی معصوم چہرے والی خود غرض حسینہ کو دیکھا جو شاٸد صرف پیسے سے محبت کرتی تھی ۔ انسانوں کی ان کے دل کی شاٸد کوٸ وقعت ہی نہیں تھی اس کی نظر میں۔ ادینہ نظریں جھکا گٸ ۔
” اُسی رات سے جب تم میرے پاس آۓ تھے اور تمھاری آنکھوں میں “
ادینہ نے نظریں جھکاۓ دھیرے سے کہا۔ آواز میں تلخی سختی سب پل بھر میں ختم ہوٸ ۔ ہاں آج بتا دوں گی ساری تڑپ اور بتاٶں گی کہ کتنا پیار کرنے لگی ہوں پاگل تمہیں مجھے تو خود خود پر یقین نہیں رہا میں کتنا چاہنے لگی ہوں تمہیں ادینہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا ۔
” اچھا تو تب سے تم مجھ سے محبت کرنے لگیں ہاں “
میسم نے زور سے قہقہ لگایا قہقہ اتنا زور کا تھا کہ آنکھوں میں تکلیف سے آنسو آ گۓ ۔ دل کو جیسے کوٸ روند رہا تھا ۔ کیا اوقات تیری کچھ بھی نہیں ۔ کچھ بھی نہیں سب کھیل ہے پیسے کا شہرت کا میسم کی سوچ کے گھوڑے دوڑ رہے تھے ۔
” ہاں تب سے اور میں نے ۔۔“
ادینہ نے دونوں ہتھیلوں کو آپس میں ملا یا اور نظریں اوپر اٹھاٸیں ابھی بات مکمل نہیں ہوٸ تھی کہ میسم کے چہرے کی سختی اس کے چہرے پر موجود ناگواری حقارت دیکھ کر وہ بات کو ادھورا چھوڑ گٸ ۔
” یہ جان کر بہت خوشی ہوٸ مس ادینہ کہ آپکو مجھ سے محبت ہو گٸ لیکن پتا ہے کیا ؟“
میسم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ۔
” مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی “
کندھے اچکا کر اپنے اندر ہونے والی تکلیف کو چھپایا ۔
” وہ جو اندر بیٹھا ہے اب خدارا اسے میری جیسی اذیت سے مت دوچار کرنا جاٶ اور جا کر اس کا پرپوزل ایکسیپٹ کرو “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ حقارت بھری ایک نظر ادینہ پر ڈالی ۔ وہ حیرت سے گنگ کھڑی تھی ۔ وہ کیا کہے جا رہا تھا ایسا کیوں کر رہا تھا ۔
” باۓ “
میسم نے لب بھینچے جبڑے ایک دوسرے میں ایسے پیوست تھے کہ چہرے پر لاٸن بن گٸ تھی ۔ ادینہ کو وہیں حیران سا چھوڑ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا ۔ وہ جو عجیب کشمکش کا شکار تھی اچانک ہوش میں آ کر میسم کے پیچھے بھاگی ۔
” میسم میری بات سنو یہ یہ کیا بکواس کر رہے ہو “
ادینہ غصے سے چلاتی اس کے پیچھے بھاگی
” تم تم کیا کہہ رہے ہو میری بات سنو پلیز “
وہ اتنا اونچا چیخ رہی تھی ارد گرد سے گزرتے لوگ گردنیں گھما گھما کر اسے دیکھ رہے تھے
” میسم رکو میری بات میسم۔م۔م۔م۔م۔“
پر وہ تو جیسے کچھ بھی سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا ۔
کان کو موباٸل لگاۓ ہوٹل کے گیٹ سے باہر نکل گیا۔ ادینہ روہانسی سی ہو کر دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر رکی جو وہ بولنے کی قوت لگانے کے لیے بند کیے ہوۓ تھے ۔
پھر تیز تیز قدم اٹھاتی واپس ہوٹل کے ھال میں آٸ جہاں ماہ رخ اور روشان پریشان سے میز پر بیٹھے تھے کھانا لگ چکا تھا جو جوں کا توں ان کے آگے دھرا تھا ادینہ پسینے میں بھیگی ہوٸ تھی اور چہرہ آنسوٶں سے تر تھا ۔ ماہ رخ اور روشان اسے اسطرح کی حالت میں دیکھ کر پریشان سے ہو گۓ ۔
” ماہ رخ مجھے گھر جانا ہے “
ادینہ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو گال پر سے رگڑ ڈالے اور چور سی بے زار نظر روشان پر ڈالی ۔
” کیا ہوا ادینہ ؟ “
ماہ رخ بوکھلا ہٹ کا شکار ہو ٸ ابھی تک تو وہ یہی سوچ رہی تھی کہ ادینہ باہر صرف کچھ دیر روشان کے پرپوزل کو سوچنے گٸ ہے اور کچھ دیر میں فیصلے کے ساتھ واپس آۓ گی پر اس کی حالت تو اسے پریشان کر گٸ تھی ۔
” ماہ رخ پلیز مجھے ہاسٹل جانا ہے اسی وقت “
میسم پر چیخنے کی وجہ سے گلا پھٹ سا گیا تھا اور آنسو سے تر آواز بھاری ہو رہی تھی ۔
” چلیں چلتے ہیں آٸ گیس ادینہ ناٹ فیلنگ ویل “
روشان جلدی سے گاڑی کی چابی اٹھاتا کرسی سے اٹھا ۔
” نہیں روشان پلیز بہت شکریہ آپکا ماہ رخ ٹیکسی سے جانا ہے مجھے “
ادینہ نے ہاتھ کے اشارے سے نظریں چراتے ہوۓ روشان کو روکا اور پھر ماہ رخ کی طرف رخ کیے سخت لہجہ اپنایا ماہ رخ سٹپٹا کر اٹھی ایک شرمندہ سی نظر روشان پر ڈالی جس نے آج کے دن کے لیے اتنا اہتمام کیا تھا حتی کہ جو فراک ادینہ پہنے ہوۓ تھی وہ بھی حقیقت میں روشان کی طرف سے ہی دیا گیا گفٹ تھا
ماہ رخ نے جلدی سے بیگ کو اٹھا کر ادینہ کے پیچھے قدم بڑھا دیے جبکہ روشان ہارے ہوۓ کھلاڑی کی طرح سرخ ڈبیا پر نظریں جماۓ کھڑا تھا ۔
*************
” کیا مطلب اس کا کہ وہ کہہ رہا تمھاری وجہ سے تمہیں چھوڑ کر گیا “
ماہ رخ نے الجھ کر ادینہ کے روتے چہرے پر نظر ڈالی وہ جب سے آٸ تھی تب سے روۓ چلی جا رہی تھی ۔
”ہاں اور اور یہ کہ میں کسی اور سے محبت کرتی تھی اس لیے مجھے چھوڑ گیا “
ادینہ نے سرخ چہرے کے ساتھ روتے ہوۓ میسم کی عجیب و غریب باتیں بتاٸیں۔ جس پر ماہ رخ کا رد عمل بھی بلکل وہی تھا جو کچھ دیر پہلے میسم کے سامنے اس کی باتیں سن کر ادینہ کا تھا ۔
” بکواس کر رہا سب “
ماہ رخ حیران سی ہو کر پلنگ پر اس کے پاس بیٹھی ۔ وہ سرخ فراک میں اب سرخ چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔
” تم نے بتایا نہیں اسے کہ تم اس سے “
ماہ رخ نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا ۔
” بتایا ہے “
ماہ رخ نے تڑپ کر بازو گود میں رکھے ۔
” کیا کہتا پھر “
ماہ رخ نے تجسس بھرے انداز میں اگلا سوال داغا ۔
” کہتا بہت خوشی ہوٸ یہ جان کر پر میں تم سے اب محبت نہیں کرتا “
ادینہ نے آنسوٶں کو پیتے ہوۓ میسم کے الفاظ دھراۓ ۔ ماہ رخ نے حیرت اور افسوس سے منہ پر ہاتھ رکھا ۔
” مطلب وہ پہلے بھی نہیں کرتا تھا وہ کبھی نہیں کرتا تھا تو پھر مجھے کیوں ہو گٸ اتنی محبت اس سے “
ادینہ نے گھٹنوں کو سمیٹ کر سر اس پر رکھ دیا ۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔
” اس کا کوٸ پتہ کوٸ نمبر لیا “
ماہ رخ نے فوراً ذہن میں آنے پر اس سے پوچھا ۔ ادینہ نے روہانسی صورت بناۓ سر نفی میں ہلا دیا ۔ اور پھر سر گھٹنوں میں دے دیا ۔ ماہ رخ نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا کتنی مشکل سے سنبھلی تھی وہ اور آج کے دن ہی میسم کو ٹپکنا تھا خود غرض ذلیل کہیں کا ماہ رخ نے دانت پیس کر سوچا ۔
پھر ادینہ کی طرف دیکھا جو مسلسل روۓ جا رہی تھی ۔
” ادینہ کیوں ایسے بے غرض انسان کے لیے روۓ چلی جا رہی ہو “
ماہ رخ نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا اور نرم سے لہجے میں کہا ۔ پر اس پر کوٸ اثر نہیں تھا ۔
” اور وہ جو تم سے اتنی محبت کرتا ہے اتنی چاہت سے تمہیں پرپوز کرنے جا رہا تھا “
ماہ رخ کا دھیان اچانک روشان کی طرف گیا تو ڈپٹنے کے سے انداز میں کہا ۔ ادینہ نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا ۔
” پلیز ماہ رخ میں نے کبھی نہیں سوچا اس کے بارے میں “
روہانسی صورت بناۓ بے زاری سے کہا ۔
” تو سوچ لو نہ گھر بات کرو “
ماہ رخ نے پھر سے بازو پر دباٶ ڈالا ادینہ نے نخوت سے اس کے ہاتھ کو جھٹکا ۔
” پلیز ماہ رخ “
غصے سے بھری نظر ماہ رخ پر ڈالتی وہ اب اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گٸ تھی ۔
*********
یہ بہت ہی خوبصورت دو کمروں کا اپارٸٹمنٹ تھا جس کے ایک طرف خوبصورت اوپن کچن اور لاونج تھا۔ داٸیں طرف کے کمرے میں لگے بیڈ پر میسم کان سے فون لگاۓ چت لیٹا تھا ۔ یہ اپارٸٹمنٹ وہ پچھلے دو ہفتوں سے طلحہ کے ساتھ شٸیر کر رہا تھا ۔
” تم گھر آٶ تو سہی ایک دفعہ میں ساتھ ہوں تمھارے “
جواد احمد نے پھر سے التجاٸ انداز میں کہا ۔ میسم نے آنکھیں بند کیں اور پلکوں کو انگلی کی پوروں سے مسلا ۔ سر میں شدید درد تھا اور بھوک سے برا حال ادینہ کی وجہ سے وہ اتنی بھوک کے باوجود کھانا چھوڑ آیا تھا
جواد احمد نے زبردستی فہد سے میسم کا نمبر نکلوا لیا تھا ۔ اور اب وہ تین دن سے تقریباً روز ہی فون کر کے میسم کو گھر آ کر معافی مانگنے کی ترغیب دے رہے تھے ۔
” کیسے سامنا کروں گا سب کا چاچو “
میسم نے شرمندہ سی آواز میں وہی فقرہ دہرایا جو وہ اتنے دن سے کہہ کر جان چھڑا رہا تھا۔ جن حالات میں جیسے وہ سب کا دل دکھا کر آیا تھا اب ہمت کہاں سے لاۓ ان ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی ۔
” جس ہمت سے بھاگ گۓ تھے سب چھوڑ کر اس ہمت سے “
جواد نے سخت لہجے میں ڈپٹا ۔ میسم نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا اور آنکھیں کھولیں لمبی پلکوں کی جھالر اٹھی تھی گہری آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ دماغ کی نسیں ابھی تک ابھری ہوٸ تھیں ادینہ کا روتا چہرہ بار بار نظروں کے سامنے آ رہا تھا ۔ دل مچل رہا تھا اور دماغ اسے پکڑ پکڑ کر واپس تھپک رہا تھا ۔
” چاچو بابا اور دادا ابو پھر سے مجھے کرکٹ چھوڑنے کا کہیں گے اور آپ جانتے ہیں میں یہ نہیں کر سکوں گا “
میسم تھکی سی آواز میں دل کے ڈر کو زبان پر لے آیا کہ وہ کیوں نہیں آنا چاہتا گھر ۔ بچپن سے ہی گھر میں کرکٹ کے نام سے بھی نفرت کی جاتی تھی اس کی وجہ جواد احمد ہی تھے جنہوں نے کرکٹ کی وجہ سے ڈاکٹری پاس نہیں کی تھی ۔
” کیا پتا وہ ایسا نہ کریں دیکھو تو ایک دفعہ آ کر ادینہ سے شادی تمھاری نہیں ہو گی یہ میری گارنٹی ہے “
جواد نے نرم سے لہجے میں سمجھایا ادینہ کے نام پر دل پر ضرب لگی ۔ کاش کاش میں اس لڑکی کی حقیقت پہلے جان جاتا تو کبھی یہ ۔ ۔۔۔۔۔
پر تب میں کیا گھر سے بھاگتا ؟ خود سے ہی سوال کر ڈالا ذہن کتنی ہی ڈوریوں کو الجھاۓ ہوۓ تھا جن کا سرا کھو گیا تھا ۔
” جو ہونا تھا وہ ہوا کیا تم نے غلط پر شکر ہے اللہ کا کہ اس کا نتیجہ خدا نے اچھا نکالا “
وہ ہم تن گوش چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا اور جواد احمد کی باتیں سن رہا تھا۔ گھر والے اسے بھی شدت سے یاد آتے تھے ۔دل ان سے ملنے کے لیے ہمک رہا تھا پر ایک ڈر کہ ان کو پا کر پھر سے کرکٹ کو چھوڑنا پڑے گا ۔اور اس نام پر آ کر جو اس نے اتنی تیزی سے کمایا تھا اب واپسی مشکل تھی بہت مشکل ۔
” چاچو یہ نتیجہ آپکو ہی اچھا لگتا ہے بس “
مایوس سی آواز میں کہا۔ اورجھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا
”دادا ابو اور بابا “
گہری سانس لی اور بات ادھوری چھوڑ دی ۔ سارا مسٸلہ تو ان کا تھا ادینہ سے شادی تو اب کسی صورت نہیں ہو سکتی تھی اور نہ وہ کرنا چاہتا تھا ۔
” میں تمھارے ساتھ ہوں تم بس آ جاٶ “
جواد احمد نے پھر سے اپنے ساتھ ہونے کا حوصلہ دیا ۔ میسم نے گہری سانس لی لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری دل جانے کی ہمت باندھنے لگا ۔
*********
” میں چھوڑ دیتا ہوں “
فہد نے قریب آ کر مہدب انداز میں کہا ۔ اریبہ نے چونک کر گردن موڑی تو فہد سن گلاسز لگاۓ لبوں پر مخصوص محبت بھری مسکراہٹ سجاۓ پاس کھڑا تھا ۔ دل عجیب ہی طرز سے دھڑکا وہ گھبرا گٸ
اریبہ کا آٹو یونیورسٹی کے گیٹ کے آگے کھڑا تھا جسے آٹو والا بار بار چلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔ پر وہ تھوڑی سی آواز نکال کر بند ہو رہا تھا ۔
اریبہ ہاتھ میں پکڑی فاٸل سے بار بار خود کو ہوا دے رہی تھی جب یونیورسٹی سے نکلتی کار میں سے فہد کی نظر اس پر پڑی ۔
” آپ غلط سمجھ رہے ہیں جو بھی سمجھ رہے ہیں “
اریبہ نے مصنوعی مسکراہٹ سجا کر طنز بھرا لہجہ اپنایا ۔ جس پر فہد نے ناسمجھی میں بھنویں اچکاٸیں ۔
” مطلب؟ میں سمجھا نہیں میں کیا غلط سمجھ رہا ہوں؟ “
فہد نے گردن کو تھوڑا سا خم دیتے ہوۓ ذہن پر زور دینے کے سے انداز کو اپنایا ۔
” آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ نے اس دن میری اور میری دوست کی مدد کی تو میں آج آپ کی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے تیار ہو جاٶں گی “
اریبہ نے ناک چڑھا کر مطلب سمجھایا جس پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا ۔ اس کی مسکراہٹ بھی اس کے چہرے کی طرح معصومیت لیے ہوۓ تھی ۔
” نہیں تو بلکل نہیں اتنی گرمی ہے دیکھیں اور آٹو خراب ہے میں نے بھی تو وہیں جانا ہے آ جاٸیں “
فہد نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا ۔ اریبہ نے دل کو قابو میں کیا اور گھور کر دیکھا
” یہ آٹو خراب ہوا ہے سارے شہر کے تو نہیں “
دانت پیس کر کہا اور سڑک پر آتے آٹو کو ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔
” شکریہ آپکی آفر کا “
طنز بھرے انداز میں کہہ کر وہ آٹو میں بیٹھ گٸ جبکہ وہ کمر پر ہاتھ دھرے اب ہونق سا کھڑا تھا ۔
” بہت تھکی ہوٸ ہوں چاۓ ہی بنا دو ایک کپ اتنا لمبا سفر تھا “
ادینہ نے ٹاول سے منہ صاف کیا اور اُسے ایک طرف رکھا ۔ وہ آدھاگھنٹہ پہلے ہی گھر پہنچی تھی عید کی وجہ سے ہاسپٹل سے دو ہفتے کی چھٹی تھی ۔ اریبہ جو ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی اس کی چاۓ کی فرماٸش پر ٹی وی کا ریموٹ ایک طرف رکھتے ہوۓ اٹھی ۔
” اور یہ امی کیوں نہیں آ رہی آج نیچے سے “
ادینہ نے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو سمیٹ کر جوڑے کی شکل دیتے ہوۓ پوچھا ۔ اریبہ جو تقریباً کچن کے دروازے تک پہنچ چکی تھی فوراً پلٹی ۔ کمر پر ہاتھ رکھا
” آیا ہوا ہے نہ ان کا شہزادہ کل سے “
معنی خیز انداز میں آنکھیں گھما کر کہا ۔ ادینہ کے بالوں کا جوڑا بناتے ہاتھ ایک دم سے رکے اور بال آبشار کی طرح کمر پر بکھر گۓ ۔ آنکھیں حیرت سے کُھلیں۔
” کیا میسم نیچے ہے ؟“
ادینہ بجلی کی سی تیزی سے صوفے پر سے اٹھی اور پاٶں میں چپل اڑاٸ انداز عجلت اور بوکھلاہٹ لیے ہوۓ تھا۔ اس دن سے چین کہاں تھا سوچ سوچ کر دماغ نے کام کرنا چھوڑا رکھا تھا آخر کو میسم کے دل اور ذہن میں کیا چل رہا ہے وہ کیوں ایسے کر رہا ہے ۔
” نہیں جی نیچے تو پھٹکنے نہیں دیا ابھی تک ماموں مراد نے سامنے ہے اپنے چہیتے فہد کے گھر “
اریبہ نے پھر سے معنی خیز جملہ ادا کرتے ہوۓ گردن داٸیں باٸیں گھماٸ ہوۓ ۔ جواد احمد نے اسے سیدھا گھر آنے سے منع کر دیا تھا ۔ وہ کل دوپہر سے فہد کے گھر میں تھا اور گھر میں اس کو لے کر ایک سرد جنگ چل رہی تھی جس میں احمد میاں اور مراد احمد کی مخالف ٹیم میں رابعہ ، جواد، اور عزرا شامل تھے ۔ جو مراد اور احمد میاں سے میسم کو معاف کرنے کا کہہ رہے تھے ۔
ادینہ نے استری کے میز پر پڑے دوپٹے کو ایک ہاتھ سے کھینچ کر اوڑھا اور تیزی سے نچلے زینے کی طرف بڑھی ۔
” تم کہاں چل دی “
اریبہ نے حیران ہو کر ہاتھ کے اشارے سے روکنے کی کوشش کی۔
” آتی ہوں “ تیزی سے کہتی ہوٸ آگے بڑھی اور پھر تھپ تھپ زینے اترنے کی آواز اریبہ کے کانوں میں پڑی اس نے افسوس سے گردن ہلاٸ اور پھر سے آ کر ٹی وی کے سامنے لگے صوفے پر براجمان ہوٸ ۔
” اس کو کیا ہوا باولی ہو گٸ ہے کیا “
عزرا کی عقب سی آتی آواز پر اریبہ نے گردن موڑی ان کے انداز سے واضح تھا کہ سیڑھیوں میں ان کی ملاقات ادینہ سے ہوٸ ہے ۔
” امی غالب نے تو اسے عشق کا نام دیا ہے “
اریبہ نے ریموٹ پکڑے ہاتھ کو داٸیں باٸیں گھماتے ہوۓ ٹھنڈی سانس لی۔ عزرا نے ذہن پر زور ڈالا
” کیا مطلب“
عزرا پھولی سانسوں کو بحال کرتی اریبہ کے ساتھ ہی صوفے پر براجمان ہوٸیں ۔ اریبہ نے ہاتھ سے فہد کے گھر کی طرف اشارہ کیا ۔ عزرا ایک دم سے ماتھے پر بل ڈال کر سیدھی ہوٸیں
” بلوا اُسے کوٸ ضرورت نہیں فہد کے گھر جانے کی “
عزرا بیگم نے تنک کر کہا ۔ اریبہ نے بےزار سی شکل عزرا پر ڈالی جہاں فہد کا نام سنتے ہی ازلی نفرت امڈ آٸ تھی ۔ پتا نہیں اب اسے عزرا کے منہ سے فہد کے لیے نکلتے تعریفی کلمات اچھے نہیں لگتے تھے ۔
” رہنے دیں کچھ نہیں ہوتا اور خیر بخش دیں اب جان اس فہد کی بھی آ گیا ہے آپکا راج دلارا کل تک گھر بھی آ جاۓ گا “
اریبہ نے عزرا کے غصے کو کم کرنے کے انداز میں کہا ۔اور بات کا رخ بدلہ ۔
” ممانی کی طبیعت کیسی ہے اب ؟“
ٹی وی کو بند کر کے پوری طرح اب وہ عزرا کی طرف متوجہ تھی۔ کیونکہ کل جب سے رابعہ نے میسم کے آنے کی خبر سنی تھی تب سے ہی ان کا رو رو کر برا حال تھا اور آج صبح سے تو بستر سے جا لگی تھیں ۔
”کہاں ٹھیک ہے مراد جانے بھی نہیں دے رہا اسے سامنے والوں کے گھر میسم سے ملنے “
عزرا نے دکھ سے آہ بھری ۔ بیٹا آٹھ ماہ بعد گھر آۓ اور ماں اس سے مل نہ سکے اس سے بڑھ کر کیا تکلیف ہو سکتی تھی ۔
” اچھا پریشان نہ ہوں سب ہو جاۓ گا ٹھیک “
اریبہ نے عزرا کے پریشان چہرے کو دیکھ کر تسلی دی ۔ وہ بھی پر سوچ سے انداز میں سر ہلا گٸیں ۔
*********
اے سی میں رہنے کی اتنی عادت ہو چکی تھی کہ اب فہد کی بیٹھک میں گرمی لگ رہی تھی وہ ٹی شرٹ کو اتارے پنکھے کے بلکل نیچے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ لیٹا تھا ۔ جب دروازہ دھماکے سے کھلنے کی آواز پر گردن گھماٸ اور سامنے کھڑی ادینہ کو دیکھ کر اچھل کر سیدھا ہوا۔ وہ ناک پھلاۓ اندر داخل ہو رہی تھی ۔
” او۔و۔و۔و آرام سے ناک تو کرتی پہلے “
میسم نے عجلت کے انداز میں پاس پڑی ٹی شرٹ کو پہننا شروع کیا ۔ جبکہ وہ تو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی ۔
” کیوں کرتی “
جب تک اس نے شرٹ کے گلے میں سے سر باہر نکالا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اس کے سر پر کھڑی تھی ۔ شاٸد بہت تیز تیز چل کر آٸ تھی سانس چڑھا تھا اور گال سرخ ہو رہے تھے آنکھیں تھکان سے بوجھل سی تھیں ۔ جن پر پلکوں کی جھالر گری ہوٸ تھی بمشکل آدھ کھلی سی ۔
” کیوں کرتی!!! کیا مطلب منیرز ہیں یہ “
میسم نے شرٹ کو کھینچ کر پیٹ ڈھکا اور دل کو قابو میں لا کر خفگی سے ادینہ کی طرف دیکھا جو کسی ٹرانس جیسی حالت میں کھڑی تھی ۔
” مجھے مت سکھاٶ مینرز تم سے زیادہ آتے ہیں “
ادینہ نے سپاٹ لہجے میں کہا جس پر میسم کے لبوں پر طنز بھری مسکراہٹ ابھری ۔
” کیا ہوا ایسے کیوں آٸ ہو یہاں “
آبرو چڑھا کر پوچھا ۔ اور وہ تو جیسے انتظار میں تھی فوراً تڑپ کر آگے ہوٸ ۔
” اپنی اس دن والی بات کلیر کرنے آٸ ہوں “
ادینہ نے سینے پر بازو باندھے اور سپاٹ لہجے میں ناک پھلایا ۔ پاس پڑے گلدان پر ایک نظر ڈالی جسے وہ تخیل میں اٹھا کر میسم کے سر پر مار چکی تھی۔
” کونسی مجھ سے محبت والی “
میسم نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوۓ آنکھوں کو سکوڑا ۔ ادینہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا ۔شیو بڑھی ہوٸ تھی مخصوص انداز میں ۔ پیلے اور سفید رنگ کی دھاریوں والی ٹی شرٹ کے آدھے بازوٶں میں سے اس کے کسرتی بازو اس کی ان ماہ میں کی گٸ محنت کا واضح ثبوت تھے ۔
” تم کس سے محبت کی بات کر رہے تھے میں کس سے کرتی ہوں محبت ہاں “
ادینہ نے ماتھے پر شکن ڈال کر دانت پیستے ہوۓ پوچھا ۔ انداز ایسا تھا جیسے اس کے بال نوچ ڈالے گی ۔
” اُسی لڑکے سے جو سامنے بیٹھا تھا تمھارے اب تک تو ڈاکٹر بھی بن گیا ہو گا ہے نہ “
میسم نے ضبط سے جبڑے پیوست کیے ۔ اور مصنوعی جوش بھرے انداز میں کہا ۔ ادینہ کا سر گھوم گیا اس کی بات پر ۔
” شٹ یور ڈرٹی ماٶتھ جاہل کے جاہل ہو اب تک “
ادینہ کی نسیں پھول گٸ تھیں انگشت انگلی میسم کے سامنے اکڑا کر کہا ۔ اب وہ اس کی انگلی کو دیکھ کر ڈرنے جیسے انداز میں پیچھے ہوا ۔
” میں اس سے محبت نہیں کرتی میں تم سے کرتی ہوں “ ادینہ نے بے بس ہو کر ہاتھ ہوا میں اچھالتے ہوۓ نیچے کیے چہرے پر بھی بچارگی تھی لیکن وہ تو اب سر جھکاۓ طنز بھری ہنسی ہنسنے میں مصروف تھا۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اپنے ننگے پاٶں دیکھ رہا تھا ۔پھر مسکراہٹ دبا کر سر اوپر اٹھایا۔
” اچھا تو اس دن وہ رومانوی ماحول اور تمھاری تیاری کیا سریل چل رہا تھا وہاں کوٸ مجھے پاگل مت بناٶ “
طنز بھرا کڑوا لہجہ اپنایا چہرے پر جلن بدگمانی نفرت حقارت کے آثار واضح تھے ۔ دل جو ادینہ کو سامنے دیکھ کر بار بار ہمک رہا تھا اسے کتنے ہی گھونسے وہ جڑ چکا تھا ۔
” ضرورت نہیں آل ریڈی ہو تم پاگل جو تم نے دیکھا ویسا کچھ بھی نہیں تھا “
ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور پھر روہانسی صورت بنا کر میسم کو دیکھا۔ پر وہ اب چھت پر چلتے پنکھے کو دیکھ رہا تھا ۔ اسی پنکھے میں دے دوں تمھارا سر ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ سوچا ۔ ادینہ کی خاموشی کو محسوس کر کے سر نیچے کیا ۔
” اوہ!!!! تو آپ سمجھا دیں مجھے میڈیم کیسا تھا پھر ؟“
میسم نے ہاتھ سینے پر باندھ کر انداز ایسا بنایا جیسے پوری طرح متوجہ ہو اس کی طرف ۔ ادینہ نے پیشانی کے شکن کم کیے ۔
” وہ مجھے کر رہا تھا پرپوز پر ۔۔۔“
ادینہ نے ہاتھوں کو ہوا میں اٹھا کر الجھے سے انداز میں اپنی صفاٸ میں کہنا شروع کیا ۔ میسم نے لبوں پر ایسے انگلی رکھی جیسے اس کا مزاق اڑا رہا ہو اور اس کی بات کو درمیان سے ہی کاٹتے ہوۓ بول پڑا ۔
” پر پھر اُدھر میں آ گیا یہی نہ “
لبوں پر انگلی رکھے طنز کرنے جیسے انداز میں آنکھیں جھپکاٸیں ۔ ادینہ نے بے بسی سے نظر اس پر ڈالی ۔ لب ایک دم خاموش ہوۓ تھے ۔ کیسے یقین دلاٶں تمہیں دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ۔
” تو یہ ہی تو میں کہہ رہا ہوں “
میسم نے مزاق اڑانے جیسے انداز میں طنز کیا ۔ اور پھر سے نظریں چراٸیں
” میسم مجھے نہیں پتا تھا وہ مجھے پسند کرتا ہے “
ادینہ کی آواز ضبط سے کانپ گٸ ۔ آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸ تھیں۔ میسم کے چہرے پر سے سختی فوراً غاٸب ہوٸ ۔ ان آنکھوں میں آنسو کہاں دیکھ سکتا تھا چاہے وہ جھوٹے ہوں ۔ جلدی سے مچلتے دل پر قابو پایا ۔
” آ ہاں تو اب کیا کہنا چاہتی ہو“
پرسکون لہجہ اپنایا اور معنی خیز انداز میں سوال پوچھا ۔ کیونکہ لگ رہا تھا اب اگر ایک بھی سخت لفظ منہ سے نکلا تو وہ زارو قطار رو دے گی ۔
” یہ کہ ۔۔۔“
ادینہ نے آنسوٶں کے اٹکے گولے کو نیچے کیا پر الفاظ سمجھ نہیں آۓ کیا کہے الجھ کر بچارگی سے میسم کی طرف دیکھا ۔ آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے ۔ تم بھی پڑھ لو نہ میری آنکھیں جیسے میں نے اس رات پڑھ لی تھیں تمھاری آنکھیں ۔ دل نے بے اختیار خواہش کی۔ جلدی سے خود کو سنبھالا
” تم پلیز سب ٹھیک کرو معافی مانگو سب سے “
ادینہ نے التجاٸ انداز میں میسم کی طرف دیکھا ۔ جو اب قدرے پر سکون انداز میں اسے دیکھ رہا تھا ۔
” وہی تو کرنے آیا ہوں “
میسم نے گہری سانس لی ۔ ادینہ کا چہرہ ایک دم سے کھل گیا ۔
” سچ “
ادینہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ۔ سامنے کھڑا شخص آج دنیا کا حسین ترین مرد لگ رہا تھا ۔ اس کے دل کا حکمراں ۔ اس کی روح میں بسنے والا ۔
” ہاں دعا کرو سب ٹھیک ہو جاۓ دادا ابو معاف کر دیں “
میسم نے کمر پر ہاتھ دھر کر نارمل سے انداز میں کہا ادینہ نے مسکراتے ہوۓ سکھ کا سانس لیا ۔
” ہاں کر دیں گے سب ٹھیک ہو جاۓ گا میں میں بھی بات کرتی ہوں “
وہ چہکنے جیسے انداز میں گویا ہوٸ ۔ شکر ہے میسم کا شک دور ہوا دل کی تکلیف کم ہوٸ ۔
” میسم “
دروازے پر ہاتھ رکھے فہد نے میسم کو مخاطب کیا تو دونوں نے ایک ساتھ رخ فہد کی طرف موڑا
” ہممم“ میسم نے سوالیہ انداز میں فہد کی طرف دیکھا جو حیرت سے ادینہ کو یہاں دیکھ رہا تھا۔
” بلا رہے جواد چاچو باہر پیشی ہے تمھاری گھر میں “
فہد نے ادینہ کو دیکھتے پوۓ پر سوچ لہجے میں آہستہ سے کہا ۔اور اندر آ گیا ۔ میسم نے ماتھے پر انگلی رکھ ادینہ کو آنکھ کے اشارے سے جانے کے لیے کہا ۔ وہ ایک دم سے شرمندہ سی ہوٸ ۔
” اوہ پھر میں بھی چلتی ہوں گھر “
ادینہ تیزی سے پلٹ کر دروازے کی طرف بڑھی ۔ فہد حیران سا اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” یہ کیا کہہ رہی تھی یہاں ؟ “
فہد نے حیرت میں کھوۓ سے انداز سے پوچھا اور الجھ کر میسم کی طرف دیکھا ۔ جو اب صوفے کے نیچے سے اپنی چپل نکالنے میں مصروف تھا ۔
” میڈیم کو مجھ سے پیار ہو گیا ہے “
سر جھکاۓ ہاتھ بڑھا کر چپل باہر نکالی اور پیروں میں پہنتے ہوۓ اچٹتی سی نظر سر پر کھڑے فہد پر ڈالی جس کی باچھیں کھِل گٸ تھیں ۔
” کیا سچ “
پرجوش انداز میں خوش ہوتے ہوۓ میسم کی طرف دیکھا جس کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ در آٸ ۔
” زیادہ خوش مت ہو مجھ سے نہیں ہوا مشہور کرکٹر میسم مراد سے ہوا ہے “
فہد کے گال پر ہلکی سی چپت لگاتا وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ اور وہ گال پر ہاتھ پھیرتا ہوا اس کی بات کو دہرا کر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
*********
جیسے ہی گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو رابعہ نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا اور رونا شروع کر دیا ۔ میسم نے باہوں کا گھیرا اور تنگ کیا ۔ کتنا سکون ملا تھا ۔ ماں کی خوشبو اور لمس دنیا کی نایاب ترین نعمت ہے ۔ ایسا سکون کبھی کہیں نہیں مل سکا تھاجتنا ماں کی آغوش میں مللا تھا راحت سے آنکھیں بند کیے کتنے ہی لمحے وہ رابعہ کے گلے لگا رہا ۔ پھر عزرا اور حزیفہ سے بغل گیر ہوا ۔
جواد نے اندر کی طرف اشارہ کیا تو سر جھکاۓ احمد میاں کے کمرے میں آیا جہاں مراد احمد پہلے سے موجود تھے ۔ مراد احمد نے خفگی سے چہرہ پھیرا جواد نے اسے احمد میاں کے پلنگ کے سامنے پڑی نشست پر بیٹھنے کے اشارہ کیا ۔ وہ سر جھکاۓ اب کٹہرے میں کھڑے مجرم کی طرح کرسی پر بیٹھا تھا ۔ احمد میاں کچھ دیر تو اسے یونہی گھورتے رہے پھر گلا صاف کیا ۔
” تو ٹھیک ہے مت چھوڑے کرکٹ “
احمد میاں نے کانپتی سی آواز میں کہا اور سامنے کرسی پر بیٹھے میسم کی طرف ناراضگی سے دیکھا ۔ میسم نے سر اٹھایا ان کی نظروں کی خفگی دیکھ کر پھر سے سر جھکایا ۔ سب خاموش تھے ۔
” نکاح کرے ادینہ سے “
احمد میاں کی نقاہت بھری آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا ۔ سب لوگوں کی نظر اب میسم پر ٹکی تھی جو ہنوز سر جھکاۓ بیٹھا تھا ۔ کچھ دیر بعد میسم نے سر اوپر اٹھایا ۔
” دادا جی “
لب بھینچ کر التجاٸ نظر ان پر ڈالی اس کی نظروں میں صاف انکار تھا ۔ احمد میاں نے غصے سے دیکھا ۔ سب لوگ ساکن تھے ۔
” کیا دادا جی دادا جی اپنا سب چاہتے ہو سب ٹھیک ہو ہم بھی گلے لگا لیں اور خود اپنی بھی من مانیاں کرتے پھرو “
احمد میاں کا سانس پھولنے لگا رابعہ نے روہانسی صورت بناۓ دوپٹہ منہ پر رکھا۔
” ادینہ سے نکاح کر لو کرکٹ چھوڑنے کا نہیں کہیں گے “
مراد احمد نے سخت لہجے میں کہہ کر چہرہ خفگی سے دوسری طرف موڑا ۔اس سارے میں عرصے میں وہ پہلی دفعہ بولے تھے۔ نہیں تو تب سے وہ میسم پر ایک نظر بھی نہیں ڈال رہے تھے ۔
” دادا ابو آپ سوچیں تو ایک دفعہ وہ ڈاکٹر ہے میں کرکٹر کیا جوڑ ہے ہمارا “
میسم نے نرم سے لہجے میں قاٸل کرنے کے لیے دلیل دی ۔ احمد میاں نے پھر سے گھور کر دیکھا ۔
” کیوں اس سے کیا ہوتا ہے بھٸ یہ کیا بے تکی بات کر رہے ہو “
احمد میاں نے کانپتا ہوا ہاتھ ہوا میں اس کی طرف اٹھایا اور غصے سے کہا ۔ میسم نے بے چارگی سے سب پر ایک نظر ڈالی ۔ پر سب باری باری نظر چرا گۓ ۔
” دادا ابو میری طرف سے تو نہیں لیکن ادینہ کے ساتھ زیاتی ہے یہ اس کی شادی کسی ڈاکٹر سے ہی ہونی چاہیے “
میسم نے اپنی طرف سے دوبارہ ایک مضبوط دلیل پیش کی ۔ وقت مشکلیں اور بھانت بھانت کے لوگوں سے ملاپ اسے بہت کچھ سیکھا گیا تھا ۔ آج وہ بلکل جھجک نہیں رہا تھا بات کرتے ہوۓ ۔
” تم اپنا دماغ زیادہ مت چلاٶ میری بچی ہر اس حال میں خوش رہے گی جس میں ہم اسے رکھیں گے “
احمد میاں نے طنز بھرے لہجے میں کہا ۔ میسم نے گہری سانس لی
” نہیں مجھے منظور نہیں یہ “
دو ٹوک نہ ڈر انداز میں کہا ۔ وہ ڈرپوک سا میسم تو کہیں پیچھے چھوڑ آیا تھا ۔
” ہاں البتہ آپکو پھپھو کی کسی بیٹی سے کرنا ہی ہے رشتہ تو پھر میرا اریبہ سے کر دیں ادینہ ہی کیوں “
بھنویں اوپر چڑھا کر اس نے ایسے کندھے اچکاۓ جیسے کوٸ عام سی بات کی ہو ۔ سب کی طرف نظر دوڑاٸ تو سب کے منہ حیرت سے کھلے تھے ۔ کوٸ بھی کچھ بھی نہیں کہہ پایا تھا ۔
” سوچ لیں آپ لوگ ادینہ سے ہر گز نہیں کرنی مجھے شادی “
لب بھینچے اور ٹانگوں پر ہاتھ دھر کر وہ دھیرے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا ٹھٹھکا اور رکا ادینہ ہونق چہرہ لیے دیوار کے ساتھ لگی ہوٸ تھی ۔
*************
اتنے دن بعد اپنے کمرے میں آیا تھا ہر چیز کو ہاتھ پھیر پھیر کر دیکھ رہا تھا ۔ کمرہ صاف ستھرا تھا ہر چیز ترتیب سے تھی ۔لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری ۔
دروازہ ٹھاہ سے بجا میسم چونک کر پلٹا ۔ وہ سرخ آنکھیں لیے بےحال سی کھڑی تھی ۔ بال بکھرے ہوۓ ہونٹ سوجے سے ناک سرخ ۔
” میسم یہ سب کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ “
آنسوٶں میں بھیگی آواز میں کہتی آگے بڑھی میسم کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑا ۔ تخیل میں بھاگ کر ادینہ کو باہوں میں بھینچ ڈالا جلدی سے تخیل کے دلدل سے خود کو باہر نکالا دل کو سرزنش کیا اور دماغ کو حاضر کیا ۔
” کیا سب ؟ “
سخت لہجے میں کہا اور رخ پھیرا ۔ وہ اب باقاعدہ رو پڑی تھی شاٸد میسم نے نظریں چراٸیں تھی بس اس سسکی دل پر ہتھوڑے چلا رہی تھی ۔ پر دماغ حکومت کی کرسی پر براجمان تھا ۔
” یہ سب جو کہہ کر آۓ ہو سب کے سامنے “
بچوں کی طرح لب باہر کو نکالے بھاری سی آواز میں کہتی وہ آگے ہوٸ کیا کر رہی تھی کیوں کر رہی تھی کچھ خبر نہیں تھی بس تھا تو سامنے کھڑا شخص تھا ہر جگہ ۔
” کیوں تم ہی تو چاہتی تھی میں انکار کر دوں تم سے رشتے سے تو کر دیا “
میسم اتنے ہی قدم پیچھے ہوا اور بازو کو لمبا کرتے ہوۓ نظریں چرا کر کہا ۔ ادینہ نے تڑپ کر آنکھیں زور سے بند کیں ۔ کیسے پلٹ کے لے آٶں وہ سب لمحے کاش کاش خدا نے اگر دلوں کو ملانے کا معملا رکھا ہی ہے تو دنوں دلوں میں محبت ڈالنے کا وقت بھی ایک سا مقرر کر دیتا ۔
” میسم وہ تب چاہتی تھی اب نہیں “
مدھم سی شرمندہ سی آواز ۔ میسم نے رخ موڑا وہی لمحہ ذہن میں گھوم گیا جب وہ سیڑھیوں میں اس لڑکے کے سامنے روہانسی صورت بناۓ بیٹھی تھی ۔ اس کے سامنے ایسے ہی روتی ہو گی ۔ دماغ میں ہتھوڑے چلنے لگے جبڑے باہر کو نکلنے لگے ۔
” کیوں اب کیا ہے ؟“
سختی ایک دم سے بڑھی ۔ اب وہ بک رینک میں اپنی کتابیں دیکھ رہا تھا انداز ایسا تھا جیسے ادینہ کے یہاں ہونے کی اسی پرواہ تک نہیں ہے۔
” اب اب میں کرنا چاہتی ہوں شادی “
ادینہ نے گال صاف کیے اور نچلے لب کو بچارگی سے کچلا ۔
” کیوں ؟“
اگلا سوال بنا دیکھے رخ موڑے ہی کیا ۔ ادینہ نے کٹے دل سے اس کی پشت کو گھورا ۔ ٹی شرٹ سے چوڑی پشت لے کندھے باہر کو واضح تھے ۔
کیوں اتنی کمزور ہو رہی تھی وہ اس کے آگے ۔ دل کیوں مان نہیں رہا تھا ۔ کیوں اس کی منتیں کر رہی تھی خود پر ہی تف کہنے کو دل کیا۔ آنسوٶں کو پی کر پھر بولنے کی ہمت کی ۔
” کیوں کہ مجھے “
گھٹی سی آواز تھی ۔ میسم اب اپنی کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھ گیا تھا۔
” میسم میں تمہیں بتا چکی ہوں میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں بلکل ویسی جیسی تم مجھ سے کرتے ہو“
جدھر جدھر میسم جا رہا تھا ادینہ اس طرف رخ موڑ موڑ کر اپنی صفاٸ دیتے ہوۓ روہانسی ہو رہی تھی ۔ وہ اپنے کپڑے ہینگ کر رہا تھا انداز مصروف تھا ۔
جو بھی تھا ادینہ اس کی پہلی محبت تھی اس کا یوں منتیں کرنا عجیب طرح کی تکلیف دے رہا تھا کیوں کر رہی ہے یہ سب اور زیادہ گرا رہی ہے خود کو میری نظروں میں ۔ ضبط کرتے ہوۓ سوچا اور پھر ایک دم سے بلکل اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ۔
” لِسن میں تم سے ویسی محبت بلکل نہیں کرتا جیسی تم مجھ سے کرتی ہو اور شادی میں تم سے نہیں کرنا چاہتا“
اپنی پاک بے غرض محبت کو وہ اس کی خود غرض مطلبی محبت سے کیسے ملا دیتا ۔ ادینہ نے تڑپ کر کچھ کہنے کے لیے لب کھولے
” چپ “ میسم اپنے لبوں پر غصے سے انگلی رکھ کر اس پر جھکا وہ کانپ سی گٸ ۔ اتنی زور سے کب وہ پہلے کبھی اس پر چیخا تھا ۔
”ایک اور بات اُس اُس کون ہے وہ ڈاکٹر اسے کہو گھر رشتہ بھیجے یہ کیا چھچھوروں کی طرح پبلک پلیز پر پرپوز کر رہا تھا “
کمر پر رکھے ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ اور نفرت بھرے لہجے میں نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔
” میسم !!!!“
ادینہ کی تھکی سی آواز نکلی ۔ افسوس ہی افسوس تھا بس میسم نے ٹاول اٹھایا اور واش روم کی طرف بڑھا ۔
” میسم میری بات سنو “
ادینہ کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔ واش روم کا دروازہ اتنی زور سے بند ہوا جس پر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے منہ پر بند ہوا ہو ۔ آنکھیں زور سے بند کیں۔
*********
” میں نے بھی ایسی بات کی بولتی بند ہو گٸ سب کی “
میسم نے کوک کا سپ لیتے ہوۓ کہا ۔ اور سامنے کھڑے فہد کو دیکھا ۔
” کیا بات کی “
فہد نے سوالیہ سے انداز میں بھنویں اچکاٸیں۔ اور بوتل منہ کو لگاٸ ۔
” میں نے کہا اگر پھپھو کی بیٹی سے رشتہ کرنا ہی ہے تو اریبہ سے کر دیں میرا ادینہ ہی کیوں “
میسم نے ایک ہی سانس میں جیسے ہی بات مکمل کی فہد کے منہ سے بوتل کا فورا باہر کو نکل آیا اور کھانسی کا اٹیک ایسا ہوا کہ سینے پر ہاتھ دھرے اتنا کھانسنے پر بھی تکلیف کم نہیں ہوٸ ۔میسم نے پریشان سا ہو کر اس کی طرف دیکھا ۔ کھانس کھانس کر فہد کی آنکھوں میں پانی آ گیا ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: