Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 14

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

” کیا ہوا تجھے “
میسم نے آگے ہو کر اس کی پیٹھ تھپکی ۔ فہد مشکل سے خود کو سنبھال پایا ۔ آنکھیں کھانس کھانس کر گیلی ہو گٸ تھیں۔
” کہ کہ کچھ نہیں “
منہ کو صاف کرتے ہوۓ ہاتھ کا اشارہ دیا اور چور سی نظر میسم پر ڈالی ۔ جو بڑے پر سکون انداز میں اس پر بم پھوڑ کر خود پھر سے بوتل کے سپ لے رہا تھا ۔ وہ گلی میں موجود ایک سٹور کے پاس لگی کرسیوں پر براجمان تھے ۔
گرمی تو تھی ہی لیکن فہد کو اب لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے جلتے تندور میں پھینک دیا ہو اور آگ سب سے پہلے دل کو پڑی ہو ۔
” کیا کیا کہا پھر گھر والوں نے ؟“
ڈری سی گھٹی سی آواز میں میسم سے پوچھا۔ میسم نے آخری گھونٹ پی کر بوتل منہ سے ہٹاٸ ۔ لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ سجاٸ ۔
” سوچ میں پڑ گۓ سب دیکھو کیا کرتے اب نہا کر تیری طرف آ گیا “
میسم نے بوتل کو ایک طرف رکھ کر غیر مرٸ نقطے پر نظر جماٸ ۔ ادینہ کی ساری باتیں ذہن میں گھوم گٸیں ۔ اگر سوچ میں پڑ گۓ تھے تو یقیناً کچھ سوچ ہی لیں گے ۔ اور سوچ وہ ایسا ہی لیں گے ۔ فہد کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا ۔ تھوک نگلا ۔ دل کوٸ آری سے کاٹ رہا تھا۔
اور اریبہ اوہ دل اور تیزی سے کانپنے لگا ۔ وہ کونسا مجھے چاہتی ہے وہ بھی مان جاۓ گی گھر والوں کے کہنے پر ۔ تف ہے فہد تجھ پر اپنی زندگی کے دس سال گال دیے ایک لڑکی سے اظہار محبت نہیں کر سکا ۔ خود کو لعنت ملامت کرنے کے سوا اب اس کے پاس بچا ہی کیا تھا ۔
سوچا تھا میسم کے گھر والے ناراضگی ختم کریں گے سب پھر سے ویسا ہو جاۓ گا تو ان کے گھر والے بھی واپس ملنے لگیں گے پر یہاں تو الٹ ہی گیا تھا سب کچھ ۔ اور الٹا کر بھی اس کا اپنا دوست ہی آیا تھا اور اب فخر اس کو اپنا کارنامہ بتا رہا تھا ۔
” تو کیوں سوچ میں پڑ گیا ہے “
میسم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلایا تو وہ جیسے ہوش میں آیا ۔ خجل سا ہو کر گردن پر ہاتھ پھیرا ۔ گلے میں کانٹے سے چبھے دل کیا ایک گھونسہ مارے میسم کے منہ پر کیا عقل مندی کر کے آیا ہے ۔
” نہ نہیں تو “
شرٹ کا گریبان پکڑ کر اسطرح آگے پیچھے کیا جیسے گھٹن ہو رہی ہو۔ میسم پھر سے بوتل پینے میں مگن ہوا ۔
میسم سے بات کروں ؟ پر کیسے کروں ؟ کیا سوچے گا وہ اسکا دوست ہو کر اسی کی کزن پر نظر رکھے ہوۓ تھا ۔ کیا کروں؟ ماتھے سے پسینہ رینگنے لگا تھا۔
ان گنت سوال ذہن میں امڈ رہے تھے ۔ دل گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا ۔ بچپن سے لے کر آج تک اریبہ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو نہیں تھا۔
” میسم بھاٸ دادا ابو بلا رہے “
عقب سے حزیفہ کی آواز آنے پر میسم سے زیادہ چونک کر فہد نے دیکھا دل اچھل کر حلق میں آیا ۔ مطلب سوچ لیا گھر والوں نے ۔ حزیفہ دانت نکالتے ہوۓ آگے آیا ۔
” مان گۓ سب آپکی گھٹیا آفر “
حزیفہ نے ایک آبرو چڑھا کر طنز سے پوری بتیسی کی نماٸش کی ۔ جس پر میسم کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ در آٸ جبکہ فہد کی روح فنا ہوٸ ۔ چہرہ ایک جست میں ہی زرد پڑا ۔
” اریبہ آپی سے ہو گا آپکا نکاح جمعہ کے روز “
حزیفہ نفرت آمیز لہجے میں کہتا ہوا فہد کے دل پر ہتھوڑے پر ہتھوڑا چلا رہا تھا۔ میسم جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ اور شرٹ کو درست کرتا ہوا حزیفہ کے ساتھ آگے بڑھ گیا جبکہ وہ وہیں ہونق بنا بیٹھا تھا۔ آدھی بھری بوتل پر نظر جماۓ ۔ زور سے بوتل پر ہاتھ مارا بوتل نیچے گری اور چھناکے کی آواز سے ٹوٹی ۔
” اچھا ہی ہوا ادینہ آپی سے میں کر لوں گا شادی ویسے بھی آپ ان کو ڈیزرو ہی نہیں کرتے “
حزیفہ نے خفگی بھرے انداز میں ہاتھ ہوا میں مارتے ہوۓ کہا ۔ ۔ میسم نے بے ساختہ اس کی گردن پر چماٹ جڑا ۔
” مار کیوں رہے ہیں “
حزیفہ نے منہ پھلا کر گردن کو سہلایا ۔ وہ جو کل میسم کے آ جانے پر سب سے زیادہ پر جوش تھا آج اس کے فیصلے پر دل برداشتہ ہوا پڑا تھا ۔
گھر والوں نے کیا رضامند ہونا تھا ہونا تو وہی تھا جس پر احمد میاں ہاں کہہ دیں تو انھوں نے اپنا فیصلہ ہاں میں دے دیا تھا ۔ سارے گھر والوں کے منہ اترے ہوۓ تھے۔ رابعہ ناراض سی بیٹھی تھیں ادینہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا ۔ اریبہ الگ ٹسوے بہا رہی تھی ۔پر احمد میاں نے تین دن بعد ہی نکاح کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا ۔ جس پر سب نے سر تسلیم خم کیا ۔
**********
یونیورسٹی پہنچ کر ابھی کار سے اتر کر وہ کار کو لاک ہی کر رہا تھا جب پیچھے سے مدھر سی آواز ابھری ۔
” بات کرنی ہے آپ سے “
فہد نے تڑپ کر پیچھے دیکھا تو دشمنِ جاں پیشانی پر شکن ڈالے کھڑی تھی ۔ ناک کا اوپری حصہ سرخ تھا آنکھوں کے پوٹے بھی سوزش کا شکار تھے۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں زرد چہرہ لیے ۔
” جی “
بمشکل اسے دیکھنے پر دل کی غیر ہوتی حالت کو سنبھالا ۔ وہ تو جیسے پورے عزم سے آٸ تھی ۔ تنک کر گویا ہوٸ ۔
” مجھے پسند کرتے ہیں “
سپاٹ چہرہ سنجیدہ دو ٹوک لہجہ ۔ فہد گڑ بڑا گیا ۔ وہ اتنے دو ٹوک لہجے میں اس سے محبت کا اظہار کرواۓ گی کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔
”ہاں “
آہستہ سی آواز میں لڑکھڑاتی زبان سے کہا دل اچھل اچھل کر باہر آنے کو تھا ۔ اریبہ نے گھور کر دیکھا ۔ آنکھیں غصے سے بھری پڑی تھیں۔
” مطلب کرتا ہوں “
فہد نے گھبرا کر وضاحت کی مبادہ وہ سمجھی نہ ہو ۔ اریبہ نے دانت پیسے اور ناک پھلایا ۔
” تو پھر پرسوں میرے نکاح پر کرسیاں لگاٸیں گے کیا ؟ “
سینے پر ہاتھ باندھ کر سر کو سوالیہ انداز میں جنبش دی جب کے ناک غصے اور ضبط سے کبھی پھول رہا تھا کبھی سکڑ رہا تھا ۔
پھٹو کہیں کا دوست شادی کرنے جا رہا ہے اس کی پسند سے اور جناب کو کوٸ پرواہ ہی نہیں ۔ اریبہ کا دل کیا جھنجوڑ ڈالے اسے ۔
” نہ نہیں نہیں “
فہد نے بوکھلا کر کہا ۔ وہ ہنوز غصے میں بھری کھڑی تھی ۔
” تو پھر کیا کریں گے میسم جب نکاح نامے پر دستخط کر لے گا اس کے گلے لگ کر کہیں گے بہت بہت مبارک ہو یار “
اریبہ نے دانت پیس کر آنکھیں جھپکاتے ہوۓ طنزیہ انداز میں کہا ۔ اور خفگی سے چہرے کا رخ داٸیں طرف موڑا ۔
مطلب کرتا ہے مجھے پسند تاڑ تاڑ کر میرے دل کو تار تار کر ڈالا اور اب میری شادی کسی اور سے ہو رہی تو جناب کو کوٸ لینا دینا ہی نہیں اریبہ کو رونے سے زیادہ غصہ آ رہا تھا ۔ اب دونوں طرف خاموشی تھی ۔
کیا کر رہی ہے یہ کیا محبت کرنے لگی ہے فہد نے ہمت جمع کی ۔ نچلے لب کو دباتے ہوۓ اس پر نظر ڈالی وہ روٸ روٸ سی خفا سی دل میں اتر رہی تھی ۔
” اریبہ تم مجھ سے شادی کرو گی ؟“
مدھم سی آواز میں بمشکل الفاظ ادا کیے ۔ اریبہ نے گھور کر دیکھا ۔
دل تو اس کے لہجے پر زور زور سے دھڑکنے لگا تھا پر حالت پر قابو پایا اور غصے سے فہد کو گھورا۔
” نہیں نہیں کروں گی کیونکہ عورت ایک نکاح میں ہوتے ہوۓ دوسری شادی نہیں کر سکتی “
اریبہ نے سخت لہجے میں روہانسی صورت بنا کر کہا ۔ فہد کے لبوں پر اس کے اس خفا سے انداز پر بے ساختہ مسکراہٹ ابھر آٸ ۔ مطلب محترمہ کو اس بات پر غصہ ہے ۔ کہ میں نے کوٸ ایکشن کیوں نہیں لیا ابھی تک ۔
” مطلب میں اگر میسم سے بات کروں تو تو کیا پھر میں اپنی اماں کو بھیجوں گھر؟ “
گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ نرم سی آواز میں تھوڑا سا جھکنے کے سے انداز میں پوچھا ۔ تخیل میں اریبہ کا شرمایا سا چہرہ سامنے آیا ۔
” میرے ماتھے پر کیا بیوقوف لکھا ہے “
اریبہ نے غصے سے گھور کر دیکھا ۔ فہد سٹپٹا گیا ناسمجھی کی حالت میں اریبہ کو دیکھا ۔
” ہیں !!!!“
اس کا انداز بلکل برعکس تھا ۔ دل جو تخیل میں بڑی بڑی موچھوں والے آدمی کے ڈھول پر لڈیاں ڈال رہا تھا ڈھول والے نے ڈھول ہی گھما کر سر میں دے مارا ۔
” میں یونیورسٹی آتے ہی تمھارے پاس آٸ ہوں تمہیں کیا لگا انویٹیشن دے رہی ہوں اپنے نکاح کا “
اریبہ نے سر پھاڑ دینے جیسے انداز میں تھوڑا سا آگے ہو کر کہا ۔ وہ جو مسکین سی شکل بنا چکا تھا ایک دم سے اس کے اس حق بھرے انداز پر پھر سے چہرہ کھل اٹھا ۔
” ” مطلب تم ۔۔۔“
لبوں پر بھرپور مسکراہٹ سجا کر فقرہ ادھورا چھوڑا ۔ اور محبت بھری نظر اپنی منہ پھٹ حسینہ پر ڈالی
” نکال لیا مطلب تو پھر روکیں میسم کو گھر والے مان گۓ ہیں اب صرف میسم ہی انکار کرے تو کرے “
اریبہ نے ہاتھ سیدھا کر کے درمیان میں حاٸل کیا انداز طنز بھرا تھا ۔
” میں ۔۔میں بات کرتا ہوں “
فہد نے بے چینی سے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ اریبہ فوراً خفگی سے پلٹی ۔ فہد مسکراہٹ دباۓ ہوۓ تھا ۔ دل پر سے بوجھ اتر گیا تھا رات سے چھاۓ اداسی کے بادل چھٹ گۓ تھے۔
” سنو “
فہد نے جلدی سے ہوا میں ہاتھ اٹھا کر روکا ۔ اریبہ واپس مڑی۔ انداز وہی تھا خفا سا پھولا پریشان چہرہ ۔
” تم روٸ تھی کیا “
کان کھجاتے ہوۓ نرم سے لہجے میں پوچھا ۔ اریبہ کے ماتھے پر پھر سے شکن نمودار ہوۓ ۔ غصے سے گھورا ۔
” رونے سے کیا نکاح ٹل جاتا فلو ہوا ہے “
بے رخی سے جواب دیا ۔ فہد شرمندہ سا ہوا ۔
اریبہ پھر سے پلٹی لبوں پر محبت بھری مسکراہٹ تھی ۔ اور وہ بے حال سا سوچوں میں گم وہیں گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔
**********
فہد نے موباٸل کو جیب میں رکھا ۔ ذہن میں لفظوں کو ترتیب دیا ۔ گلا صاف کیا اور ہمت جمع کر کے لب بولنے کے لیے کھولے ۔
” تو ویسے بہت بڑی غلطی کر رہا ہے “
فہد نے چور سی نظر میسم کے چہرے پر ڈالی ۔ وہ جو اپنے موباٸل پر مصروف تھا بنا دیکھے ٹھنڈی آہ بھری۔
” کونسی غلطی ؟“
آواز تھکی سی تھی بے زار سی ۔ وہ گھر رابعہ کو راضی کرنے میں لگا تھا جو ادینہ کو انکار کرنے پر اس سے سخت خفا تھیں وہ بچپن سے ادینہ کو ہی اپنی بہو کے روپ میں دیکھتی آٸ تھیں ادینہ اریبہ کے مقابلے میں کم گو اور شاٸستہ تھی انھیں بچپن سے ہی ادینہ اریبہ کے مقابلے میں زیادہ پسند تھی وہ ابھی رابعہ کے پاٶں دبا دبا کر ان کی خفگی دور کر ہی رہا تھا کہ اسی دوران اسے فہد کی کال آٸ کہ وہ کوٸ ضروری بات کرنا چاہتا ہے اس سے جلدی گھر آۓ اس کے ۔ اسی لیے وہ اب اس کے سامنے ان کی بیٹھک میں بیٹھا تھا ۔
” یہ جو ضد میں آ کر اریبہ سے نکاح کرنے لگا ہے “
فہد نے سنجیدہ سے لہجے میں سوچ سوچ کر الفاظ ادا کیے میسم نے اب کی بار نظر اٹھا کر اوپر دیکھا ۔ اس کے دیکھنے کے انداز سے فہد گڑ بڑا سا گیا ۔
” ضد میں تو نہیں ادینہ سے نہیں تو کسی سے تو کرنی ہی تھی تو اریبہ دوست بھی ہے میری مجھے سمجھتی ہے “
میسم نے فون والے ہاتھ کو ہی داٸیں باٸیں جنبش دیتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا ۔ فہد کے موبل پر پھر سے مسیج ٹون ہوٸ ۔
” پر محبت تو نہیں کرتی “
فہد نے فوراً سے کہہ کر اس کی بات کو کاٹا وہ ایک لمحے کے لیا رکا۔ اور پھر صوفے کی پشت سے پیٹھ ٹکاٸ ۔
” وہ تو ادینہ بھی نہیں کرتی “
آہستہ سی آواز میں کہہ کر سر پھر سے موباٸل پر جھکا لیا۔ فہد نے جلدی سے اپنے موباٸل پر کچھ ٹاٸپ کیا اور پھر سے میسم کی طرف متوجہ ہوا ۔
” کیا پتہ جو تو سوچ رہا ہے وہ سب غلط ہو ادینہ سچ میں تم سے محبت کرتی ہو “
فہد نے کان کھجاتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے چہرہ اوپر اٹھایا غور سے فہد کے چہرے کو دیکھا فہد نے نظریں چراٸیں۔ میسم کی نظروں کی تپش اب اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔
” اچھا !!!! ایک بات بتا “
موباٸل ایک طرف رکھ کر میسم اب اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوا ۔ آنکھوں کو اپنے مخصوص انداز میں سکوڑ کر آبرٶ چڑھایا ۔
” تجھے کیا ہو گیا ہے جب سے آیا ہوں ادینہ کی وکالت کر رہا ہے یہ ضروری بات تھی جس کے لیے تو نہ اتنی گرمی میں بیٹھایا ہوا مجھے ۔ “
میسم نے ماتھے پر بل ڈال کر کھوجنے جیسے انداز کو اپنایا ۔ فہد سٹپٹا کر سیدھا ہوا ۔ موباٸل کو پھر سے جیب میں رکھا ۔ میسم نے تھورڈی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کن اکھیوں سے اس کی جیب کی طرف دیکھا ۔
” کہ کچھ نہیں مجھے کیا ہونا ہے “
فہد نے ارد گرد نظر ڈالی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔ جبکہ میسم اب اس کے ہر انداز کا بغور جاٸزہ لے رہا تھا ۔ میسم اپنی جگہ سے اٹھا ۔ فہد اس کا اردہ بھانپ کر فوراً اٹھ کر داخلی دروازے کی طرف بھاگا ۔
” بات سن رُک رُک کمینے “
میسم نے اچھل کر اس کی گردن دبوچی ۔ فہد اب بری طرح اپنی جیب پر ہاتھ رکھے ہوۓ تھا ۔جہاں مسلسل اریبہ کے پیغامات آ رہے تھے ۔ وہ جب سے یونیورسٹی سے آیا تھا مسلسل دونوں رابطے میں تھے ۔ اب بھی وہ اسے بار بار پیغامات بھیج رہی تھی جس میں وہ میسم کو قاٸل کرنے کے مفید مشورے دے رہی تھی ۔
” موباٸل دے اپنا “
میسم نے اسے پشت سے بری طرح دبوچا ہوا تھا اور اب اس کے بازو کو موڑ کر اس کی پشت سے لگایا ۔
” کہ کیوں “
فہد نے تکلیف کے زیر اثر لب زور سے بھینچے اور خود کو چھڑوانے کی کوشش کی ۔ جو اس کے مضبوط جسم کے آگے کچھ نہیں تھی ۔
” دے موباٸل تیری تو “ میسم نے زور سے کمر پر ٹانگ ماری وہ لڑکھڑا گیا ۔ میسم نے اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر موباٸل نکالا اور اب بازو اوپر کیے مسیج انباکس کھول چکا تھا ۔
”میسم یہ کیا بدتمیزی ہے بھٸ “
فہد کا قد میسم سے چھوٹا تھا اس لیے اسے اب اچھل اچھل کر میسم سے موباٸل چھیننا پڑ رہا تھا ۔ چہرہ سرخ ہو گیا تھا پر کوٸ فاٸدہ نہیں تھا وہ سارے پیغامات زرافے کی طرح گردن تان کر پڑھ چکا تھا ۔ اس کے چہرے پر حیرت کے آثار تھے ۔
فہد شرمندہ سی صورت بناۓ کمر پر ہاتھ رکھے ایک طرف ہوا ۔ میسم نے سنجیدہ سے انداز میں سارے پیغامات پڑھنے کے بعد بازو نیچے کیے اور فون فہد کی طرف بڑھایا جسے اس نے جھٹکے سے پکڑا پر نظریں جھکی ہوٸ تھیں ۔
” ڈھکن کہیں کے “
ایک زوردار تھپڑ فہد کی گال پر پڑا فہد نے بوکھلا کر میسم کی طرف دیکھا ۔ وہ اب اس کی گردن کو دبوچ کر اس کے پیٹ میں اپنے گھٹنے مار رہا تھا ۔ بمشکل فہد نے اسے قابو کیا ۔
” مار کیوں رہا ہے “
تکلیف سے آواز بھی بمشکل نکل رہی تھی میسم بری طرح اسے مار رہا تھا ۔
” میں تجھ سے ہر بات شٸیر کروں اور تو کمینے کہیں کے اتنی بڑی بات چھپاٸ “
ایک اور گھونسا پڑا ۔ فہد اچھل کر دور ہوا ۔ پر وہ تو جیسے ہوش میں نہیں تھا ۔
” بات سن بات سن “
فہد نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ایک ہاتھ سے اسے آگے بڑھنے سے روکا اور خود پیچھے ہوا۔
” بول کمینے “
میسم نے مصنوعی خفگی دکھاٸ ۔ اور مسکراہٹ دباٸ ۔ اسکے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ کر فہد کی جان میں جان آٸ سکھ کا سانس لیا ۔
” اتنا آسان ہے کیا تم سے آ کر کہتا تمھاری کزن کو بچپن سے پسند کرتا ہوں “
فہد نے رک رک کر نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔ میسم نے اور حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں ۔
” بچپن سے !!!“
حیرت سے زیر لب فہد کے الفاظ دھراۓ ۔ فہد نے سر نیچے جھکایا۔
” ہاں “
آہستہ سی آواز تھی۔ میسم اب پریشان سی صورت بناۓ کمرے میں چکر لگا رہا تھا ۔ بےشک سارے نا خوش تھے پر احمد میاں کے حکم کی وجہ سے نکاح کی تیاریاں ہو چکی تھیں۔
” تو اب کیا کریں “
فہد نے بچارگی سے کہا اور خاموشی توڑی ۔ میسم نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور غصے سے دیکھا ۔ فہد نے پھر سے شرمندہ سی شکل بناٸ ۔ میسم مسلسل ماتھے پر ہاتھ پھیر رہا تھا ۔
” کل نہیں بول سکتا تھا ڈھکن “
دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ فہد نے پریشان سی صورت بناٸ بچارگی سے میسم کی طرف دیکھا ۔
” اریبہ کا نہیں پتا تھا یار اس نے تو آج اظہار کیا نہ “ پریشان سے لہجے میں کہا اور کمر پر ہاتھ دھرے ۔ میسم اب پھر سے سوچ میں ڈوب چکا تھا ۔
اب اس سارے مسٸلے کا ایک ہی حل ہے ۔ ادینہ کے لیے ہاں کر دوں ۔ میسم نے پر سوچ انداز میں فہد کی طرف دیکھا ۔ پاس آ کر فہد کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اور پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
*********
” مزاق سمجھ رکھا ہے کیا “
مراد احمد نے غصے سے میسم کا ہاتھ گھٹنے پر سے ہٹایا ۔ اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوۓ گھور کر سامنے مجرم سی بنی کھڑی رابعہ کی طرف دیکھا جو جلدی سے سر جھکا گٸ ۔
” یہ دوسرا جواد ہے لکھوا لو مجھ سے “
مراد احمد نے رابعہ کی طرف دیکھا اور انگلی سے میسم کی طرف اشارہ کیا آواز غصے سے کانپ رہی تھی ۔
” ہو بہو اُسی جیسا دماغ اس جتنی عقل میں تو کہتا ہوں دونوں بچیوں کو بچا لیں اس سے “
مراد احمد نے نخوت سے ناک چڑھاٸ اور میسم اب گردن گراۓ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ خاموش بیٹھا تھا ۔ دوسری طرف خاموشی کو محسوس کر کے سر اٹھایا ۔
” ایسی کوٸ بات نہیں ہے بہت سوچا میں نے پھر لگا کہ ادینہ ٹھیک ہے کر دیں اسی سے شادی اور ابھی تھوڑی دیر تک تو آپ سب بھی منہ لٹکاۓ ہوۓ تھے “
میسم نے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔ جس پر مراد احمد تھپڑ لگانے جیسے انداز میں اس کی طرف بڑھے جنہیں بمشکل رابعہ نے آگے بڑھ کر روکا ۔
”تم کرو ابا جی سے بات اپنے لاڈلے کے لیے میں تو نہیں کرتا “
مراد احمد نے سینے پر ہاتھ باندھے اور چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔ مشہور کرکٹر میسم مراد تھوڑی دیر پہلے اپنے باپ کے ہاتھوں پڑنے والے زور دار چماٹ سے بال بال بچے تھے ۔ اور اب نیچے گردن گراۓ بیٹھا تھا ۔
” یہ خود ہی کرے جا کر “
رابعہ نے بھی خفگی بھرے لہجے میں کہا اور آنکھوں سے میسم کو احمد میاں کے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔ میسم دونوں پر ایک نظر ڈالتا ہوا اٹھا اور کمرے سے نکل کر احمد میاں کے کمرے کا رخ کیا ۔
فہد اور اریبہ کے لیے یہ سب کرنا ہی تھا نہیں تو بہت کچھ غلط ہو جاتا ۔ اور ادینہ کو تو دیکھ لوں گا میں ۔ اپنی سوچوں میں الجھا اب احمد میاں کے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
*******
گہری خاموشی سب نفوس ہم تن گوش تھے ۔ احمد میاں کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوۓ جو تقریبا دس منٹ سے چپ بیٹھے بس میسم کو گھورے ہی جا رہے تھے ۔
” نہیں نکاح نہیں ہو گا “
احمد میاں نے غصے سے کانپتی آواز میں رعب سے کہا ۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ سب لوگوں نے نظر اٹھا کر دیکھا اوپر اور پھر سر جھکایا۔ میسم بھی سامنے سر جھکاۓ بیٹھا تھا ۔
” شادی ہی کرو اس خبیث کی پھر ادینہ سے “
احمد میاں کی آواز پر سب نے چونک کر پھر سے سر اٹھایا ۔رابعہ اور عزرا کے چہرے کھِل اٹھے جبکہ مراد احمد اور احمد میاں ابھی بھی سپاٹ چہرہ لیے ہوۓ تھے ۔ میسم شادی کی بات پر سٹپٹا گیا اور ہاتھ آگے بڑھا کر ابھی لب کھولے ہی تھے ۔
” بس چپ “
احمد میاں نے گھور کر رعب دار آواز میں کہا وہ فوراً لب بند کر کے سر جھکا گیا ۔ احمد میاں کچھ دیر اس کے جھکے سر کو گھورتے رہے پھر گردن موڑی ۔
” عزرا “
احمد میاں نے کانپتا سا ہاتھ عزرا کی طرف اٹھایا ۔ عزرا جو کل سے ادینہ کے دکھ میں گھل رہی تھیں اب آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کر رہی تھیں ۔
” جی جی ابا جی “
عزرا جلدی سے آگے ہوٸ ۔
” عید کے روز شام کو رخصتی کی تیاری کرو “
احمد میاں نے رعب سے کہا ۔ میسم نے چونک کر سب کی طرف دیکھا ۔ کہ کوٸ تو بچاٶ شادی کا تو سوچا بھی نہیں تھا یہ کیا ہو گیا پر یہاں اب سارے اس کے خلاف ہی تھے ۔
” اور نکاح آج اسی وقت میرے کمرے کرو دونوں کا “
احمد میاں نے اپنے دونوں ہاتھ گود میں دھرے اور گردن اکڑاٸ ۔ اب سب کے سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے ۔ حیرت سے آنکھیں کھل گٸ تھیں ۔
” ہاں یہ میرے کمرے میں بیٹھا ہے مراد لے کر آٶ نکاح خواں “
احمد میاں نے مراد احمد کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا ۔ میسم گڑ بڑا گیا ۔
” ابا جی “
مراد احمد نے بات شروع کرنے کے لیے پکارا ۔ احمد میاں نے رعب سے ہاتھ کھڑا کیا ۔
” ارے بھٸ اس کا کیا اعتبار ابھی کمرے سے نکلے پھر بھاگ جاۓ “
احمد میاں نے غصے سے کہا ۔ گھور کر میسم کی طرف دیکھا ۔
” جو کہہ رہا ہوں وہ کرو سب اور یہ بیٹھا ہے ادھر “
احمد میاں نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور سب لوگ باری باری کمرے سے نکل گۓ اور وہ الجھا سا بیٹھا تھا ۔
چھت پر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا پھر بھی چہرہ تکیے میں دیے ہونے کی وجہ سے پسیینے میں شرابور تھا ۔ بالوں کی کتنی ہی لٹیں گردن سے چپکی ہوٸ تھیں ۔ تیسرا پورشن ویسے بھی جون جولاٸ میں تندور بن جاتا تھا یہ سارے مہینے وہ زیادہ وقت نیچے ہی گزارا کرتی تھیں ۔ اب بھی دو دن سے وہ اکیلی ہی اوپر تھی باقی سب نیچے ہی سوتے تھے ۔ نیچے چار کمروں میں اٸیر کنڈیشن تھا ۔ جن میں سے ایک کمرے میں وہ تینوں سوتی تھیں ۔
تو میسم مراد یہ تھی وہ محبت جو مجھے اس روز تمھاری آنکھوں میں نظر آٸ تھی۔ میرا دل اتنا بڑا دھوکا کیسے کھا سکتا ہے ۔ وہ نم محبت بھری آنکھیں کیسے جھوٹی ہو سکتی ہیں۔ تم محبت کرتے ہو میں جانتی ہوں پر یہ جو عجیب سا شک کرنے لگے ہو ہمارے درمیان سب ختم کر گیا سب ۔
دھیرے سے کوٸ سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا لمس محسوس ہوتے ہی ادینہ نے سر اوپر اٹھایا ۔ عزرا نے نرم سی مسکراہٹ لبوں پر مزین کی ۔
” اٹھو میسم کے ساتھ نکاح ہے ابھی تمھارا “
عزرا نے نرمی سے سر پر ہاتھ پھیر کر محبت سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی ۔ بے یقینی سے عزرا کی طرف دیکھا ۔
” کیا کہا آپ نے ابھی امی “
ادینہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر اپنے سامنے بیٹھی عزرا کی طرف دیکھا۔ عزرا پھر سے مسکرا دیں ۔
” ہاں میسم مان گیا ہے چلو منہ ہاتھ دھو لو نکاح ہے نکاح خواں پہنچتاہی ہو گا “
عزرا نے اسکے چہرے پر آۓ بال ہاتھ سے سمیٹے ۔ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر شفقت بھرا بوسہ دیا جب کے وہ تو مجسم بنی بیٹھی تھی یہ اچھا تماشہ تھا اس شخص کا ۔ ادینہ نے بے زاری سے عزرا کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑواۓ ۔
” امی میں کوٸ کھلونا ہوں کہ جب چاہے آپکا بھتیجا ٹھکرا دے جب چاہے اپنا لے “
چہرہ تزلیل کے احساس سے زرد پڑ رہا تھا ۔پیشانی پر شکن نمودار ہوۓ ۔ لیکن آواز صدیوں کی تھکی ہوٸ لگ رہی تھی ۔
” مجھے نہیں کرنی اب اس سے شادی جا کر کہہ دیں اسے “
ناک پھلا کر غصے سے کہا ۔ اور ٹانگیں سمیٹ کر چہرہ اس پر ٹکایا ۔
” یہ دیکھ “
عزرا نے دونوں ہاتھوں کو معافی کی شکل میں جوڑ کر ادینہ کے آگے کیا ۔ ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ ادینہ گھبرا گٸ۔
” یہ دیکھ میری ماں تم اور میسم بخش دو میرے بوڑھے باپ کو پہلے اس نے سب کیا اب تم “
عزرا نے غصے سے ہاتھوں کو جوڑ کر ادینہ کے چہرے کی طرف کیا ۔ ادینہ نے سٹپٹا کر نظر ان کی طرف اٹھاٸ ۔
وہ تو جیسے پھٹ ہی پڑی تھیں ۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔
” اٹھو آرام سے کل سے ٹسوے بہا رہی ہو اس کے انکار کو لے کر اور اب تمہیں عزت نفس یاد آ گٸ ہے “
عزرا نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ ادینہ نے روہانسی صورت بنا کر دیکھا پر عزرا کے چہرے پر سختی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ الماری سے اس کا سادہ سا جوڑا نکال کر رکھا ۔اور مڑ کر غصیلی آنکھوں سے ادینہ کو گھورا جو اب چپ سی بیٹھی تھی ۔
وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھیں تین دن سے گھر میں تماشہ ہی تو لگا ہوا تھا اور بڑے سب پریشان حال تھے ۔نہ کسی نے کھانا سہی سے کھایا تھا اور نہ کوٸ ہنسا تھا ۔
” وہ ایک بہت ہے ہمیں ذلیل کرنے کے لیے “
وہ بڑ بڑاتی ہوں باہر نکل گٸ اور ادینہ ٹرانس کی صورت میں اٹھ کر کپڑے اٹھاتی واش روم کی طرف بڑھی ۔ واقعی اب میسم سب کو اتنا تنگ کر چکا تھا کہ اگر مزید وہ کرتی تو بس پھر ۔ پر اب وہ کیوں راضی ہوا ذہن الجھ رہا تھا ۔
***********
اے سی کی ٹھنڈک میں احمد میاں آنکھیں موندے لیٹے تھے اور وہ بلکل سامنے کرسی پر بیٹھا تھا ان دونوں کے علاوہ کمرے میں کوٸ موجود نہیں تھا ۔ موباٸل پر شاٸد فہد کے پیغامات آ رہے تھے وہ جیب میں وابریٹ کر رہا تھا ۔ پر ڈر کے مارے وہ موباٸل نہیں نکال رہا تھا ۔ احمد میاں کا کوٸ اعتبار نہیں تھا وہ اس سے اسکا موباٸل بھی لے سکتے تھے ۔
لگتا ہے سو گۓ میسم نے ایک آبرٶ چڑھا کر احمد میاں کی طرف دیکھا ۔ شکر ہے سو گۓ اب باہر جاتا ہوں جواد چاچو کہاں چلے گۓ ہیں آج ۔ میسم نے کرسی کے بازو تھامے اور اپنے جسم کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا۔
” ہاں کدھر جا رہے ہو “
احمد میاں نے میسم کو کرسی سے اٹھتے دیکھ کر رعب سے کہا۔ میسم سٹپٹا کر پھر سے بیٹھا اور بے زار سی شکل بناٸ آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اسے یوں کرسی پر بیٹھے ۔
” دادا ابو واش روم بھی نہیں جا سکتا کیا “
بے چارگی سے احمد میاں کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر اس کے لیے محبت کی کوٸ رمق نہیں تھی ۔ بہانہ کام آ گیا تھا شاٸد ان کے چہرے پر تھوڑی نرمی کے آثار دکھاٸ دیے ۔
میسم جلدی سے اٹھ کر کمرے کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ان کی آواز پر مڑنا پڑا ۔
” میرے کمرے میں موجود ہے واش روم جاٶ “
نقاہت بھری آواز میں کانپتے ہاتھ سے واش روم کی طرف اشارہ کیا ۔میسم دل مسوس کر رہ گیا۔
” جی “
میسم سر جھکا ۓ واش روم کی طرف بڑھا اندر جاتے ہی جلدی سے فہد کے نمبر پر واٹس ایپ پیغام بھیجا ۔
”ہیلو “
میسم نے پیغام ابھی بھیجا ہی تھا کہ فوراً دوسری طرف سے جوابی پیغام آیا ۔
” ہاں کیا بنا یار میری جان پر بنی ہے “
اس کا پیغام پڑھتے ہی میسم کے ماتھے پر بل پڑے ۔ شہزادہ جان پر بنی ہے میسم نے دانت پیسے
” اوۓ چل تیری جان پر بنی جان پر تو میری بنی ہے یہاں نکاح ابھی اسی وقت ہو رہا میرا “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ ٹاٸپ کیا ۔
” کیا نہ کر یار “
ادھر سے فہد نے خوف بھری شکل کے کے ساتھ جوابی پیغام بھیجا ۔ وہ سمجھا تھا کہ اریبہ سے ہی ہو رہا نکاح اب وہ رونے والے ایموجی بھیج رہا تھا ۔
” ڈ ھکن پہلے پوری بات تو سن لے ادینہ سے ہو رہا نکاح “
میسم نے سر کو ہوا میں گھمایا جیسے اس کی عقل پر افسوس کر رہا ہو ۔ گرمی اور حبس سے اسے پسینہ آنے لگا تھا ۔
” ہیں تو پھر کیا تکلیف تمہیں “
اگلا جواب ۔ ساتھ دانت نکالے ایموجی بھیجی ۔
” واہ واہ صدقے تمھارے وہ جو عید کی شام رخصتی رکھ دی وہ “
میسم کا دل کر رہا تھا فون سے ہی گھونسا رسید کرے اس کے منہ پر ۔ اب دونوں طرف سے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا تھا میسم ساتھ ساتھ شرٹ کو گلے سے پکڑ کر ہوا دے رہا تھا ۔
فہد ” ارے کیا بات کر رہا ہے شادی رکھ دی “
میسم ” جی “
فہد ” تو کر لے کیا ہے اس میں “
میسم ” چل بکواس نہ کر میرا سارا کیریر داٶ پر لگ جاۓ گا “
فہد ” کیوں تم کیا انڈیا کی فلموں کی ہیروٸین ہو “
میسم ” شٹ اپ تمہیں کیا پتا یار کرکٹ میں بھی کھلاڑی کی ویلیو کم ہونے لگتی شادی کے بعد سب کو یہ لگتا کہ پرفارمنس پر فرق پڑتا “
فہد ” فضول بات ایسا کچھ نہیں ہو گا اور ویسے بھی میں اس میں کیا مدد کر سکتا ہوں تمھاری “
میسم “ ہاں مدد کیا کر سکے گا میری قید کیا ہوا دادا ابو نے اپنے کمرے میں مجھے “
فہد ”اوہ “
باہر سے آوازیں آنے لگیں تھیں۔ ایک دم سے جیسے بہت سے لوگ کمرے میں آ گۓ ہوں ۔
میسم ” چل چل رکھتا ہوں فون لگتا ہے قصاب آ گیا میرا مطلب ہے نکاح خواں آ گیا “
میسم نے جلدی سے پیغام ٹاٸپ کیا اور فون کو جیب میں رکھا۔ اور باہر آیا ۔ نکاح خواں آ چکا تھا ۔ جواد احمد مراد احمد میسم کے ماموں جو اسی شہر میں رہتے تھے ان کی بیوی اور ادینہ جو پہلے سے ہی کمرے میں موجود تھی۔ ہلکے سے فیروزی رنگ کے جوڑے میں سر پر دوپٹہ لیے دھلا سفید چہرہ جو سپاٹ تھا آنکھیں سوجی پڑی تھیں ۔ کرسی پر سر جھکاۓ بیٹھی تھی ۔
میسم نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی ۔ محترمہ تو خوش ہو گٸ جو چاہتی تھی وہی ہو رہا ۔ میسم نے ناک پھلا کر سوچا
احمد میاں نے گھور کر میسم کی طرف دیکھا جو بنا بازو والی ٹی شرٹ زیب تن کیے ہوۓ اب ادینہ کو تاڑنے میں مصروف تھا۔
” ڈھنگ کی شرٹ لا کر دو اسے رابعہ پورے بازو والی نکاح ہے اس کا کیا فرنگی بن کر گھوم رہا “
احمد میاں نے حقارت سے میسم کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا ۔ میسم گھبرا کر باہر جانے کے لیے آگے ہوا تو احمد میاں نے اسے اشارے سے باہر جانے سے منع کیا اور رابعہ کی طرف اشارہ کیا کہ وہ جاۓ اور شرٹ لا کر دے اسے ۔
” جی ابا جی “
رابعہ فرمابرادری سے سر کو اثبات میں ہلاتی باہر کی طرف بڑھی ۔ اور پھر وہاں موجود لوگوں میں ادینہ شیراز بنت شیراز منیر میسم مراد کے نکاح میں آ گٸ ۔
ادنیہ کو رابعہ اور عزرا کمرے سے لے کر جا چکی تھیں اب سب منہ میٹھا کر رہے تھے اور میسم کے گلے لگ رہے تھے اتنے دن بعد تو کہیں جا کر مسواۓ میسم کے سب کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آ رہی تھی ۔ وہ تو بے حال سا بیٹھا تھا ۔
میسم نے چور سی نظر سب پر ڈالی اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
” مراد اور جواد سب بات سن لو میری غور سے دو دن یہ گھر سے باہر نہیں جاۓ گا اور رات کو ادھر میرے کمرے میں سوۓ گا ۔“
احمد میاں نے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ میسم کے قدم تھم گۓ ۔ بچاری صورت بناٸ ۔ اتنی بے اعتبار ی ۔
*******
گھر کی دوسری منزل میں وہ اکیڈمی کی کرسی پر ایک ٹانگ رکھے طلحہ سے بات کر رہا تھا
ٹیم میں سب سے زیادہ دوستی اس کی طلحہ اور اسد سے ہی ہوٸ تھی اسد ویسے تو سنیر تھا اور عمر میں بھی اس سے بڑا تھا لیکن اُس کی عادات بہت اچھی ہونے کی وجہ وہ بہت جلد اس سے گھل مل گیا تھا
لیکن طلحہ کیونکہ اس کے ساتھ اپارٸٹمنٹ بھی شٸیر کر رہا تھا اس لیے طلحہ کے ساتھ وہ اپنی ہر بات کر لیتا تھا اب بھی وہ اسے اپنی اچانک ہونے والی شادی کا بتا رہا تھا ۔ جو اس کے لیے بہت بڑی پریشانی بن چکی تھی ۔
وہ طلحہ سے بات کرنے میں ہی مگن تھا جب پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ پر گردن موڑ کر دیکھا ۔ ادینہ نیچے سے شاٸد اوپر جا رہی تھی ۔
سب لوگوں کا نیچے اتنا شور تھا کہ اُس کا ذہن پھٹنے لگا تھا جو پہلے ہی ان گنت سوالوں سے گھِرا ہوا تھا ۔ سب سے جان چھڑا کر وہ اوپر جانے کے لیے ابھی دوسری منزل پر پہنچی تھی جہاں جناب پہلے سے ہی موجود تھے ۔ دل مچل سا گیا کہ کرسی پر پڑا لکڑی کا واٸٹ بورڈ ڈسٹر اٹھاۓ اور جا کر میسم کے سر میں دے مارے جب نکاح کرنا ہی تھا تو اتنا کیوں ڈرامہ کیا ۔
اپنے دل کی اس خطرناک خواہش پر قابو پاتی وہ خاموشی سے آگے بڑھی ہی تھی جب جناب کی آواز نے قدم جما دیے ۔ دل کمبخت سدا کا دغا باز دھیرے دھیرے تھرکنے لگا ۔
” بات سنو نا میری ذرا “
اب وہ چل کر بلکل سامنے آ چکا تھا ۔ وہ بازی جیت چکی تھی اور وہ بچارا جس کو اتنے خواب دکھاۓ تھے اس نے میسم کے دماغ میں بار بار جیب سے سرخ مخمل کی ڈبیا نکالتا ہوا روشان آ رہا تھا ۔ چہرہ دماغ کے خیالات کی عکاسی کر رہا تھا
ادینہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور دھک ہی تو رہ گٸ ۔ وہی انداز وہی حقارت وہی نفرت ۔ وہ جو محبت بھری نظروں کی منتظر تھی اس کی نظروں میں وہی شک دیکھ کر تپ گٸ ۔
آہ ۔۔ وہ محبت بھری نظریں کہاں گٸیں جو دل کی دنیا بدل گٸ تھیں ایک رات میں ۔
ادینہ نے فوراً قدم آگ بڑھاۓ انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہی ہو مجھے تمھاری کوٸ بات نہیں سننی ۔ میسم نے اس کی کلاٸ کو گرفت میں لے کر پہلو سے نکلنے سے روکا ۔
” زیادہ اِترانے کی ضرورت نہیں ہے میں نے کو ٸ خوشی سے نہیں کیا ہے نکاح “
میسم نے سپاٹ سے لہجے میں مدھم سی آواز رکھتے ہوۓ کہا ۔ ادینہ جو تب سے پلکیں گراۓ ناک پھلاۓ کھڑی تھی جھٹکے سے پلکیں اٹھاٸیں اور افسوس سے میسم کی طرف دیکھا ۔جو بڑی بے زار سی نظر ڈالے کھڑا تھا ۔
” میں کوٸ اِترا نہیں رہی میں نے امی کو صاف انکار کر دیا تھا کہ مجھے نہیں کرنی تم سے شادی “
ادینہ نے نخوت سے ناک چڑھاٸ اور اس سے بھی زیادہ بے زاری چہرے پر سجا کر کہا ۔ اگر ایسی اکڑ ہے جناب کی تو ایسا ہی سہی چاہتا کیا ہے کہ میں ساری عمر ایسے ہی اس کی منتیں کرتی پھروں ۔ احسان کر دیا ہے مجھے اپنا کر ۔ ادینہ نے کسمسا کر بازو چھڑوانے کی کوشش کی پر میسم کی گرفت اور مضبوط ہو چکی تھی ۔
” میں بھی صرف نانا ابو کی وجہ سےہی راضی ہوٸ ہوں بازو چھوڑو میرا اب “
ادینہ نے تکلیف کے زیر اثر چہرے کے زاویے کو تبدیل کیا اتنی زور سے کلاٸ تھامے ہوۓ تھا اب تکلیف ہونے لگی تھی ۔۔میسم نے ہاتھ کی گرفت ختم کی ادینہ کی کلاٸ پر اس کی مضبوط انگلیاں اپنے سرخ رنگ کی چھاپ چھوڑے ہوۓ تھیں ۔ سفید نرم نازک کلاٸ سرخ ہو رہی تھی میسم گھبرا گیا ۔ چہرے کی سختی ایک لمحے میں ہوا ہوٸ دل میں موجود محبت نے دماغ کو ایک جھانپڑ رسید کیا ۔
پریشان سی صورت بناۓ ادینہ کی کلاٸ کو تھاما اور نشانوں پر ایسے انگلیاں پھیریں جیسے ایسا کرنے سے شاٸد نشان ختم ہو جاٸیں ۔
” یہ نشان ایسے نہیں جاٸیں گے “
ادینہ نے نم آنکھوں کو میسم کی آنکھوں میں گاڑا اور دھیرے سے کلاٸ کو چھڑایا ۔ اور تقریباً بھاگتی ہوٸ اوپری زینہ عبور کیا ۔ دل اتنی قوت سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آۓ گا ۔
جب تک وہ اوپری منزل پر پہنچی لبوں پر نرم سی مسکراہٹ در آٸ تھی ۔ کمبخت محبت سہی سے غصہ بھی نہیں کرنے دے رہی تھی جب اتنی محبت ہے جناب کو تو شک کے خول سے باہر کیوں نہیں نکلتے ۔اپنے کلاٸ پر موجود میسم کی انگلیوں کے نشان پر ہاتھ پھیرا ۔
تف ہے مجھ پر میرے دل پر اس کی ساری حقیقت ساری ڈرامے بازی جانتے ہوۓ بھی ابل ابل کر باہر کیوں آنے کی کوشش کرتا ہے ۔
مس ادینہ شیراز آپکو سب ملے گا میرا نام میری شہرت پر میری محبت نہیں تب تمہیں احساس ہو گا دلوں سے کھیلنا اور پل بھر میں محبتیں تبدیل کرنا کیا ہوتا ہے ۔ چہرہ پھر سے سپاٹ ہو چکا تھا ۔
*********
دوپہر کے دو بجے شور کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی اور وہ باہر آیا تو باہر کا منظر ہی عجیب تھا بہت سے قریبی رشتہ دار اپنے چنگڑ پوٹوں(بال بچوں) سمیت گھر میں گھوم رہے تھے ۔
برآمدےمیں لگے تخت نما پلنگ پر محترمہ مسز ادینہ میسم ابٹن لگوا رہی تھیں لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔ دونوں بازو شہزادیوں کی طرح ساتھ بیٹھی لڑکیوں کے دے رکھے تھے جو رگڑ رگڑ کر ابٹن مل رہی تھیں اس کو ابھی اور گورا ہونا ہے کیا میسم نے آبرو چڑھاۓ حیرت سے ادینہ کی طرف دیکھا جو پیلے رنگ کے جوڑے میں دمک رہی تھی کل اس کا مایوں تھا اور آج رات مہندی تھی حزیفہ بھی پاس بیٹھا برابر ابٹن کو اپنے پھولے ہوۓ گالوں پر مسل رہا تھا ۔ کل صبح مسواۓ اس کے سب کی سپیشل عید تھی ۔
” میسم بھاٸ آپ بھی لگاٸیں ابٹن “
حزیفہ نے دانت نکال کر میسم کی طرف ابٹن میں لت پتھ ہاتھ بڑھاۓ ۔ میسم نے بھنویں چڑھا کر کراہیت سے اس کے ہاتھوں کو دیکھا ۔
” تو رہنے دے میرے بھاٸ اور اگر لگانا ہی ہے تو یہ اپنی کالی گردن پر لگا نہ جہاں سالوں پرانی میل جمع ہے “
میسم نے آگے بڑھ کر اس گردن پر زور کا تھپڑ رسید کیا ادینہ کے اردگرد بیٹھی ساری دوشیزاٸیں کھلکھلا اٹھیں جبکہ مسز ادینہ میسم بس مسکراہٹ دبا کر ہی رہ گٸیں ۔
” ایو ۔و۔و۔و امی دیکھیں مار رہا ہے یہ “
حزیفہ نے تکلیف سے چیخ کر رابعہ کو کہا جو عزرا کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں۔
بھوک سے بے حال ہوتا ہوا وہ کچن میں آیا تو اریبہ بڑے سے دیگچے میں چاۓ چڑھا کر کھڑی تھی میسم کو دیکھتے ہی نظریں چراٸیں ۔ فہد اور اس کا راز کھلنے کے بعد وہ اب اس کے سامنے آٸ تھی ۔میسم کی شرارت کی رگ پھڑکی ۔
” بات سن ذرا “
میسم نے گلا صاف کرتے ہوۓ معنی خیز انداز میں کہا ۔ اریبہ کا چہرہ ایک دم سے پھیکا پڑا ۔افف یہ کہاں سے آ گیا ۔ اریبہ نے زبان دانتوں تلے دباٸ فہد اسے پوری داستان سنا چکا تھا کہ میسم نے سارے پیغام پڑھ لیے ہیں۔
” وہ چاۓ پیو گے سب پی رہے ہیں “
اریبہ نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر خجل سی ہو کر گردن کھجاٸ ۔ جبکہ وہ تو سارے بدلے چکانے کے موڈ میں تھا۔
” پی لوں گا پی لوں گا “
میسم نے مسکراہٹ دباٸ ۔ معنی خیز انداز میں الفاظ کو لمبا کھینچا ۔
” سنجیدہ ہو نہ فہد کے لیے “
میسم کی بات پر اریبہ جو چولہے کی آگ بند کرنے کے لیے جھکی ہوٸ تھی چونک کر اوپر دیکھا اور پھر خوف سے ارد گرد ۔
” ہمممم ہوں “
شرمندہ سی مدھم سی آواز میں جواب دیا۔ میسم سخت چہرہ بنا کر کھڑا تھا۔
” گڈ “
میسم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور کچن کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگاٸ ۔
” ویسے دوست ہے میرا پر دماغ کا تھوڑا کسھکا سا ہے “
میسم نے کان کھجاتے ہوۓ سنجیدہ لہجہ اپنایا ۔ پر اب کی بار وہ اپنی مسکراہٹ نہیں چھپا سکا تھا ۔ اریبہ نے مسکراہٹ دبا کر دیکھا ۔
” تم سے بھی زیادہ ؟“
اریبہ کے دل میں جو ڈر تھا میسم کو لے کر کہ کیسا ردعمل ہو گا وہ میسم کی مسکراہٹ دیکھ کر جھٹ سے ختم ہوا ۔ اب وہ اپنے مخصوص انداز میں واپس آ چکی تھی ۔
” بدتمیز “
میسم نے مصنوعی غصہ دکھایا ۔
” ہٹو میرے راستے سے چاۓ دینی سب کو “
اریبہ نے رعب سے کہا ۔ میسم کا ناک پھول گیا ۔
” انتہاٸ کوٸ بے شرم لڑکی ہو بتاتا ہوں پھپھو کو میں “
منہ پر ہاتھ پھیرتا وہ سیدھا ہوا ۔ اریبہ فوراً سے ڈر کر سامنے آٸ اور پیار سے ٹرے آگے کی ۔
” میسم بھاٸ “
شریں لہجہ اپنایا جس پر میسم نے قہقہ لگایا ۔
” ہاں ایسے ہی شاباش “
میسم نے گردن اکڑاٸ جب کے اریبہ دانت پیس کر رہ گٸ ۔
” چاۓ کے ساتھ وہ لڈو جو امی صرف مہمانوں کو ہی دے رہی ہیں وہ بھی چوری کر کے لاٶ میرے لیے “
میسم نے حکمانہ انداز میں کہا ۔
” جی جی بھاٸ ضرور “
اریبہ دانت پیستی ہوٸ آگے بڑھی ۔ میسم مسکراہٹ دبا کر کمرے کی طرف بڑھا ۔ گھور کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ جو جھینپ گٸ ۔اس کے دیکھنے پر اور چہرہ گلابی ہوا ۔
” اوۓ بس کرو بھٸ کیا گندی سمل ہے اس کی “
حزیفہ کی گردن پر پھر سے چپت لگاٸ جو اب ناک پھلا کر تیز تیز سانس لے رہا تھا جلدی سے اٹھا اور میسم کے منہ پر اپنے دونوں ابٹن والے ہاتھ رکھ دیے ۔ پھر کیا تھا زبردستی سب نے مل کر میسم کو ابٹن سے زرد کر دیا اور وہ رونے جیسا ہو گیا ۔
************
میڈیا والے پاگل ہو رہے تھے ۔ میسم پریشان حال سٹیج پر بیٹھا تھا ۔ ھال کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا جس کے ایک طرف فہد لبوں پر مسکراہٹ سجاۓ موباٸل پر جھکا تھا۔
” بہت بہت بہت پیاری لگ رہی ہو “
فہد نے مسکرا کر پیغام ٹاٸپ کیا اور پھر سے ایک بھرپور نظر اریبہ پر ڈالی جو گلابی رنگ کے جوڑے میں نک سک سے تیار ہوٸ غضب ڈھا رہی تھی ۔
” پر تم ذرا نہیں اچھے لگ رہے ریڈ ٹاٸ لگانے کو کس نے کہا تھا “
اریبہ نے شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ پیغام لکھا۔
میسم سامنے صوفے پر سیاہ کوٹ پینٹ پہنے بجلیاں گرا رہا تھا ادینہ ابھی براٸیڈل روم میں ہی تھی۔جسے کچھ دیر تک لا کر میسم کے ساتھ بیٹھانا تھا ۔
فہد کو بلایا عورتوں والے حصے میں میسم نے تھا لیکن وہ آ کر اپنے اہم کام میں لگ چکا تھا۔ جس کو دیکھ دیکھ کر میسم اب غصے سے پہلو بدل رہا تھا۔
”وہ وہ اچھی نہیں لگ رہی کیا “
اریبہ کی ٹاٸ پر ناپسندیدگی پر فہد گڑبڑا گیا ۔ اور جوابی پیغام بھیجا ۔
اریبہ ” اوں ہوں بلکل نہیں “
فہد ” چینج کر کے آٶں “
اریبہ ” ارے ارے نہیں مزاق کر رہی تھی بہت اچھے لگ رہے ہو “
فہد ” تھنکیو “
اریبہ ” امی دیکھ رہی ہیں تمہیں “
فہد نے سٹپٹا کر گردن ارد گرد گھماٸ ۔ اریبہ نے بے ساختہ لبوں پر ہاتھ رکھ کر قہقہ روکا اور مسیج ٹاٸپ کیا۔
اریبہ : ” ہا ہا ہا مزاق تھا “
میسم کی ہمت جواب دے گٸ تھی خبیث بھرپور طریقے سے انجواٸیمنٹ میں لگا ہوا ہے ۔ میسم نے دانت پیس کر سوچا ۔
” فہد۔۔۔ فہد ۔۔۔کم ہیر پلیز “
میسم نے دور سے آواز لگاٸ انداز ایسا تھا جیسے کچا چبا جاۓ گا فہد کو ۔ پر مجبوراً میڈیا کی وجہ سے دانت نکالے ۔
” ہمم برو “
فہد نے آ کر بڑے انداز میں ٹاٸ درست کرتے ہوۓ کہا ۔میسم نے گھور کر دیکھا۔ اب وہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔
” برو کے بچے میری یہاں جان پر بنی ہے اور تو اپنے انجواٸمنٹ میں لگا ہے “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ فہد نے شرمانے کے انداز میں کان کھجایا ۔
” میرے دادا کو نہیں جانتا تو تمہیں بھی پکڑ کر ادھر ہی زبح کر ڈالیں گے “
میسم نے گھٹی سی آواز میں اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔ جس پر اس کے گال لڑکیوں کی طرح گلابی ہوۓ میسم نے افسوس بھری نظر اس پر ڈالی ۔خبیث زیر لب دھرایا۔
” ہاۓ کر ڈالیں یار “
فہد نے دل پر ہاتھ رکھ کر اریبہ کو دیکھا جو اب کسی لڑکی سے باتیں کر رہی تھی ۔
” منحوس صرف اور صرف تیری خاطر آج ادھر پھنسا ہوں اور اوپر سے یہ میڈیا والے ان کو کیسے خبر ہو گٸ مصیبت “
میسم نے پریشانی سے اردگرد دیکھا۔ اور مصنوعی دانت نکالے پھر ٹاٸ کی ناٹ کو گھمایا جو گلے کا پھندا لگ رہی تھی لگتا تھا مراد احمد نے باندھتے ہوۓ کوٸ بدلہ ہی لیا تھا ۔ وہ کوٹ پینٹ پہننے پر راضی نہیں تھا مراد احمد نے زبردستی نگرانی میں تیار کیا تھا اسے۔
” محلے والے میری جان انھوں نے بات پھیلاٸ ہے “
فہد نے دانت نکالے ۔ اور اردگرد موجود لوگوں کو دیکھا۔
” اچھا چل منہ سیدھا کر بیس خراب ہو رہی تمھاری “
فہد نے شرارت سے مسکراہٹ دبا کر چھیڑا ۔ میسم نے گھور کر دیکھا۔
” بکواس نہ کر کوٸ بیس نہیں لگاٸ میں نے “
میسم نے ناک پھلایا۔ جس پر فہد نے قہقہ لگایا۔
” اواں میرا بچہ اتنا گورا “
فہد کی چھیڑ خانی عروج پر تھی ۔ میسم کا منہ پھولا ہوا تھا۔
” جھوٹ کسی اور سے بولیو “
فہد نے آنکھوں کو سکیڑ کر میسم کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔
” تم پلیز جاٶ یہاں سے “
میسم نے دونوں ہاتھ باندھ کر سر کے قریب کیے ۔ اور وہ تو جیسے تیار بیٹھا تھا فوراً مسیج ٹاٸپ کرتا ایک طرف چل دیا ۔مسیم نے افسوس سے دیکھا۔
” بیغیرت خود غرض انسان “ میسم دل مسوس کر رہ گیا ۔ سامنے نظر اٹھی اور پھر جھپکی نہیں وہ آج سے پہلے اتنی حسین کبھی نہ لگی تھی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: