Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 15

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

ادینہ کو عزرا اور اریبہ دونوں اطراف سے پکڑ کر سٹیج کی طرف لا رہی تھیں ۔ گولڈن اور آف واٸیٹ ملاپ کا خوبصورت لہنگا پہنے خوبصورت روبی پرل لگے زیور سے مزین ہوۓ سر جھکاۓ وہ مغلیہ دور کی شہزادی لگ رہی تھی ۔
عام حالات میں وہ زیور بہت کم پہنتی تھی اس لیے آج کچھ الگ ہی رنگ و روپ تھا کہ سامنے بیٹھا میسم اس کے اس ماوراٸ حسن کو آنکھ جھپکے بنا دیکھ رہا تھا ۔ اس کا اٹھتا ہر قدم دل پر جمی شک کی دیوار پر ضرب لگا رہا تھا ۔
دل کی دنیا کی ملکہ آج حقیقت میں بھی ملکہ ہی بن کر سامنے سے آ رہی تھی تو یوں مجسم ہو جانا اچھنبے کی بات نہ تھی ۔
پاس کھڑے جواد احمد نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا تو جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا ۔ آس پاس کھڑے رشتہ دار اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے کھی کھی کر اٹھے ۔ میسم تھوڑا شرمندہ سا ہوتا ہوا اٹھا ۔
میسم نے اٹھ کر ہاتھ آگے بڑھایا جس پر اریبہ نے اٹھا کر ادینہ کے ہاتھ کو اس کی ہتھیلی پر رکھا۔
حالت اس لمحے ویسے ہی غیر ہو رہی تھی جیسے ہی براٸیڈل روم سے ھال میں داخل ہوٸ تو سامنے جناب سیاہ سوٹ میں ملبوس بے زار سی صورت بناۓ جلوہ گر تھے ۔ دل نے تو وہیں سے لرزنا شروع کر دیا تھا رہی سہی کثر اب جناب کے ہاتھ کے لمس نے پوری کی تھی اب تو سارا بدن لرزنے لگا تھا ۔
ادینہ گہری لرزتی پلکوں سمیت آہستہ سے اوپر آٸ اور پھر اسے میسم کے پہلو میں بیٹھا دیا گیا ۔
عجیب ہی لمحہ تھا اور عجیب ہی طاقت تھی نکاح کے اس دو بول میں کہ ساتھ بیٹھا میسم آج اسے اپنا سب کچھ لگ رہا تھا ۔ وہ دنیا کا خوبصورت ترین مرد نا ہوتے ہوۓ بھی آج اسے پوری کاٸنات سے زیادہ عزیز تر تھا ۔
مختلف رسومات کی اداٸیگی کے بعد وہ رخصت ہو کر اسی گھر میں آٸ تھی جہاں ہمیشہ سے رہی تھی فرق صرف اتنا تھا کمرہ بدل گیا تھا آج وہ پورے حق سے میسم کے کمرے میں موجود بیڈ پر براجمان تھی ۔
********
دروازہ کھلنے کی آواز پر پلکوں پر پھر سے کسی نے پتھر دھر دیے تھے اس لیے گالوں پر لرزنے لگی تھیں ۔ مردانہ کلون کی خوشبو ایک پل میں ہی پورے کمرے کو مہکانے لگی تھی ۔
آدھہ گھنٹہ سب سے چھپ کر چھت پر بیٹھا وہ دل کو ہر طرح سے قابو میں کیے اب کمرے میں آیا تھا ۔
واہ کیا زبردست اداکارہ ہیں محترمہ سامنے پلکیں گراۓ بیٹھی ادینہ کی طرف دیکھ کر میسم نے ایک آبرو اوپر اٹھا کر سوچا ۔ اس دن کہہ رہی تھی میں نے صرف نانا ابو کی وجہ سے شادی کی ہے اور اب پوری طرح مشرقی دلہن بنی بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے ۔
ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی تھی جس کی وجہ سے وہ گلے میں جھول رہی تھی بازو میں فولڈ کر کے ڈالے ہوۓ کوٹ کو آہستہ سے ایک طرف صوفے پر رکھ کر وہ اب الماری کی طرف بڑھ گیا ۔
ادینہ نے چور سی نظر میسم پر ڈالی سپاٹ چہرہ بناۓ الماری میں سے کپڑے نکال رہا تھا ۔ جیسے ہی وہ مڑا ادینہ نے فوراً پلکیں پھر سے گراٸیں ۔
ٹھک سے باتھ روم کا دروازہ بجنے کی آواز پر ادینہ نے پھر سے پلکیں اٹھاٸیں اٹکی سانس کو بحال کیا ۔ خوشبو کتنی پیاری تھی باہر کا کوٸ کلون لگ رہا تھا شاٸد ادینہ نے گہری سانس لی خوشبو ناک سے گھستی دل میں جزب ہوٸ ۔ ادینہ نے مسکراتے ہوۓ آنکھیں موندی ۔
باتھ روم کے دروازے کی چٹخنی کے نیچے ہونے کی آواز پر تیزی سے پلکیں پھر سے گراٸیں ۔
بیٹھی رہو ایسے ہی یعنی کے فل پیکج چاہیے میڈم کو ۔ میسم نے ڈھیلی سی شرٹ کے نیچے ٹرایوزر پہنا ہوا تھا ۔
افف دل پوری رفتار سے دھڑکا وہ بیڈ کی طرف آ رہا تھا ۔ ادینہ کے سارے جسم میں میٹھی سی سوٸیاں چبھ گٸیں ۔ پر یہ کیا وہ جھکا تکیہ اٹھایا اور اب صوفے کی طرف جا رہا تھا ۔ ادینہ نے چونک کر نظریں اٹھاٸیں اور حیرت سے دیکھا ۔
جناب ڈھیلے ڈھالے ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس اب صوفے پر آنکھیں موندے لیٹے تھے ۔
یعنی کہ کوٸ بات نہیں کریں گے ۔ ادینہ نے روہانسی صورت بنا کر دیکھا ۔
افف تم کتنی حسین لگ رہی ہو ۔ ادینہ مار ڈالو گی میسم کو آج ۔مارنے کا ارادہ ہے کیا دولہا بھاٸ کو ۔ میسم تو گیا آج کام سے یہ وہ سارے فقرے تھے جو شام سے اس کے کانوں میں پڑ رہے تھے اور رزلٹ صفر سرتاج جی بنا کوٸ تعریفی کلمات کہے بنا کوٸ منہ دکھاٸ دیے صوفے پر ڈھیر تھے ۔
تزلیل کے احساس سے چہرہ سرخ ہوا ۔ سمجھتا کیا ہے خود کو غصے سے اٹھی ۔ تیز تیز قدم اٹھاتی صوفے کے پاس آٸ ۔
ایک کشن کو گود میں رکھے اور پرسکون انداز میں آنکھیں موندے ایسے لیٹا ہوا تھا جیسے اس کے علاوہ اور کوٸ نفس کمرے میں موجود ہی نہ ہو ۔
وہ سر پر کھڑی ہے اسے محسوس ہو رہا تھا ۔ اب پھر سے وہی جھوٹ کا پلندہ کھول لے گی میسم میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے میسم یہ میسم وہ ہنن۔ہ۔ہ۔ہ۔
میسم ذہنی طور پر خود کو تیار کر چکا تھا ۔ چہرے پر اور سنجیدگی طاری کی ۔
ادینہ نے اس کے گود میں پڑے کشن کو جھٹکے سے کھینچا اور پوری قوت سے کھینچ کر میسم کے چہرے پر دے مارا
” اوچھ ۔۔۔۔“
اچھل کر سیدھا ہوا ۔ جبکہ وہ تو دونوں ہاتھوں سے لہنگا سنبھالتی اب واش روم کی طرف جا رہی تھی ۔ ایک لمحے کے لیے تو سمجھ نہیں آیا کہ آخر ہوا کیا ہے پھر باتھ روم کا دروازہ دھماکے سے بند ہوا ۔
اکڑ کس چیز کی دکھا رہی ہے ۔ میسم نے کشن کو پھر سے گود میں رکھا اور گھور کر واش روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا ۔
افف بہت زور سے لگا تھا کشن میسم نے چہرے پر ہاتھ پھیرا جہاں جلن کا اثر ابھی بھی تھا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ سادہ سے جوڑے میں دھلے چہرے کے ساتھ باہر آٸ ۔ میسم کی کھلی گھورتی آنکھوں سے لاپرواہی برتتی آرام سے بیڈ پر جا کر لیٹی ۔ اور گردن تک چادر کو تان لیا ۔
خود کو سمجھتا کیا ہے ۔ آخر دماغ میں چل کیا رہا ہے ۔
اوہ کہیں بچپن کی نفرت ابھی تک گٸ ہی نہ ہو جناب کے دل سے اور اب ساری زندگی نہیں نہیں
سر کو جھٹکا افف یہ روشان کا شک کہاں سے گھسا ہے اس کے دماغ میں جھنجلا کر بازو کو سر پر رکھا ۔
اتنا لمبا تھا وہ ٹانگیں ساری صوفے سے نیچے لٹک رہی تھیں ۔ کیسے سوٶں گا ساری رات ایسے ۔ صوفے پر اے سی کی ہوا بھی کم لگ رہی تھی ۔ اس کو تو تیز اےسی کی ہوا کے بلکل نیچے لیٹنے کی عادت تھی جو یہاں ایک طرف لگے صوفے پر تو بلکل نہیں آ رہی تھی ۔ایک آنکھ کھول کر چور سے نظر سے ادینہ کی طرف دیکھا پھر گھڑی کی طرف رات کا ایک بج رہا تھا ۔
افف بہت وقت پڑا ابھی زور سے سر تکیے پر دے مارا ۔
توبہ اے سی اتنی سپیڈ میں چلا رکھا ہے ادینہ نے آنکھوں پر سے بازو کو اٹھایا ۔ اس کو تو اتنے تیز اے سی میں سونے کی عادت ہی نہیں تھی اوپر سے اے سی کی ہوا کا رخ سیدھا بیڈ پر تھا ۔ چادر کو تھوڑا سا اور لیپٹا پر بے سدہ تھا سب ہوا جسم کے اندر گھس رہی تھی ۔ وہ جھنجلا کر اٹھی ۔
ایک نظر میسم پر ڈالی جناب بڑے مزے سے اپنی والی چادر کو ٹانگ کے نیچے دیے لیٹے ہوۓ تھے ۔ ارد گرد نظر دواڑی بیڈ کے ساٸیڈ میز پر پڑے اے سی کے ریموٹ کو اٹھایا ۔
” یہ کیا کر رہی ہو ؟“
میسم نے اے سی کی بیپ کی آواز پر آنکھیں کھولیں جنہیں زبردستی موندے لیٹا ہوا تھا ۔ ادینہ بیڈ پر کھڑی اےسی کا ریموٹ ہاتھ میں پکڑے ہوۓ تھی ۔ اور بٹن پریس کرتے ہوۓ اس کی رفتار کو کم کر رہی تھی۔
” اے سی کم کر رہی ہوں سردی لگ رہی ہے “
سپاٹ لہجے میں مختصر جواب دیا ۔ تب سے چپ کی گولی کھا رکھی تھی تو اب کیوں مرچیں لگی ہیں ادینہ نے دانت پیس کر سوچا ۔
” کیوں بھٸ مجھے گرمی لگ رہی ہے “
میسم نے ماتھے پر شکن ڈالے ۔ ادینہ نے آنکھیں سکیڑ کر گردن گھماٸ ۔
” تو اپنے والی چادر بھی مجھے دے دیں “
میسم کی چادر کی طرف دیکھتے ہوۓ طنزیہ لہجہ اپنایا ۔
” کیوں؟ “
میسم اٹھ کر پاس آیا اور ریموٹ ادینہ کے ہاتھ سے جھٹکے کے انداز میں چھینا۔ پھر ایک نظر اس پر ڈالی اب وہ بچوں کی طرح مسکین شکل بناۓ کھڑی تھی ۔ گھنے بال دونوں شانوں پر بکھرے ہوۓ تھے کاجل اچھے سے آنکھوں سے نکلا نہیں تھا ۔ میسم نے فوراً مچلتے دل کو سرزنش کیا ۔ اور نظریں چراٸیں ۔
” اچھا ایک کام کرو تم صوفے پر چلی جاٶ وہاں ٹھنڈک کم ہے میں بیڈ پر لیٹ جاتا ہوں “
نظریں چراتے ہوۓ نرم سے لہجے میں کہا ۔ مقصد پیچھے اپنا الو بھی سیدھا کرنا تھا ۔ ادینہ نے ایک نظر صوفے پر ڈالی اور پھر غصے سے میسم کی طرف دیکھا ۔
” میں کیوں جاٶں وہاں “
کمر پر ہاتھ رکھ کر سر ہلاتے ہوۓ کہا وہ ہنوز اسی انداز میں ابھی تک بیڈ پر کھڑی تھی ۔
” مسٸلہ کیا ہے تمھارا کچھ بھی نہیں مان رہی “
میسم نے ماتھے پر بل ڈال کر رعب سے کہا ۔ اور وہاں تو اس کے رعب کا کوٸ اثر ہی نہیں تھا ۔
” اے سی تھوڑا سا کم کر دیتے ہیں دونوں بیڈ پر لیٹ جاتے ہیں “
ادینہ تھوڑا سا پیچھے ہوٸ اور اپنی جگہ پر بیٹھی ۔ میسم گڑ بڑا سا گیا ۔
” نہ نہیں “
ادینہ کی بات پر سو واٹ کا جھٹکا لگا تھا ۔ ادینہ نے روہانسی صورت بنا کر دیکھا ۔ میسم نے پرسوچ انداز میں کمرے کا جاٸزہ لیا ۔
” اچھا تو پھر تم دوسری طرف سر کرو میں اس طرف “
میسم نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اشارے سے سونے کا رخ بتایا ۔ ادینہ نے منہ کھول کر حیرت سے دیکھا مسٸلہ کیا ہے اس کو آنکھوں کو سکوڑا یہ دوری بنا کر ثابت کیا کرنا چاہتا غصہ ہی تو آ رہا تھا میسم کی حرکتوں پر ۔
” کیوں تمھارے پاٶں کی طرف چہرہ کروں “
ادینہ نے نگواری سے ناک چڑھاٸ ۔
” تو میرا بھی مہرانی جی کے پاٶں کی طرف ہی ہو گا ایسے سونا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں جا رہا ہوں صوفے پر اور اے سی بھی کم نہیں ہو گا “
میسم نے رعب سے کہہ کر صوفے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
”ٹھیک ہے “
ادینہ نے خفگی سے منہ پھلایا اور تکیہ زور سے بیڈ کی دوسری طرف پھینکا ۔ میسم نے اے سی کی رفتار کو کم کیا خود پر اس کی سمت سیٹ کی کمرے کی مین لاٸٹ بند کی جبکہ ایک طرف چھت پر لگا چھوٹا سا بلب کمرے میں مدھم سی روشنی کیے ہوۓ تھا۔ ادینہ کے پاٶں کی طرف تکیہ درست کیا اور لیٹ گیا ۔
کیوں ایسا کر رہے ہو میسم ادینہ نے مخالف سمت میں رخ بدلہ ۔ دل میں گھٹن سی ہوٸ ۔ کیا ہے میسم آپکو کس بات کا بدلہ ہے یہ کہ زندگی کی اتنی حسین رات اور ہم ایسے ایک دوسرے سے بے رخی برت رہے ہیں ۔
اتنی تھکاوٹ کے باوجود نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ اچانک ذہن میں آنے والے خیال کے زیر اثر لبوں پر شریر سی مسکراہٹ ابھری آہستگی سے سیدھی ہو کر کن اکھیوں سے میسم کی طرف دیکھا وہ بھی بلکل اُسی انداز میں اس کی طرف پشت کیے ہوۓ تھا ۔ ادینہ نے دھیرے سے پاٶں اٹھا کر مسکراہٹ دباتے ہوۓ زور سے میسم کے سر پر دے مارا ۔
” آہ ادینہ “
پاٶں شاٸد ناک پر لگا تھا ۔ وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا ۔
” کیا ہوا “
ادینہ نے مصعومیت سے آنکھیں جھپکاٸیں ۔ وہ ناک پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا ۔
” ناک پھوڑ ڈالا پوچھ رہی ہو کیا ہوا “
میسم نے چیخنے کے انداز میں کہا ۔ وہ اب ہاتھ سے ناک کو سہلا رہا تھا ۔
” اوہ سوری پتہ نہیں چلا رات کو ایسے اکثر ٹانگیں مارتی ہوں میں “
بلا کی مصومیت چہرے پر طاری کرتے ہوۓ مسکراہٹ کو چہرے پر امڈ آنے سے روکا ۔
” چلو سیدھی لیٹو پھر “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ انگلی سے اپنی طرف کا اشارہ کیا ۔ گدھی نکلی یہ تو دل میں دانت پیستے ہوۓ سوچا اور غصے سے ادینہ کو دیکھا ادینہ نے دانت نکالے اور جلدی سے تکیہ اٹھا کر میسم کے تکیے کے ساتھ رکھا ۔
” ہاں تو یہی کہہ رہی تھی میں تب بھی “
اس کے بلکل برابر لیٹ کر پرجوش انداز میں کہا ۔میسم کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو نے دھڑکنوں کی رفتار بڑھا دی تھی اور گال تپنے لگے تھے ۔
پھر سے وہی کرنٹ پورے جسم میں دوڑ گیا تھا ۔ ساتھ لیٹنے کو کہا تھا وہ تو اتنا پاس لیٹ گٸ ۔
” سنو دور ہو کر تھوڑا سا “
میسم نے اس کے تکیے کو ہاتھ سے دوسری طرف دھکیلتے ہوۓ کہا ۔ چہرہ جزبات کے ضبط کی عکاسی کر رہا تھا ۔
” نیچے گر جاٶں کیا ؟ “
ادینہ نے میسم کی حالت سے محزوز ہوتے ہوۓ مصنوعی خفگی دکھاٸ ۔ پتا نہیں کیوں تنگ کرنے میں مزہ آنے لگا تھا ۔
” اتنی جگہ ہے دیکھو تو “
میسم نے ہاتھ کے اشارے سے ادینہ کے پہلو میں موجود جگہ کی طرف اس کی توجہ دلاٸ ۔
” درمیان میں ہو کر سونے کی عادت ہے مجھے “
ادینہ نے گردن پر بکھرے بالوں کو جھٹکا دیا بال ہوا میں اچھل کر تکیے پر بکھرۓ ۔ مدھم سی روشنی میں بھی اس کی رنگت دمک رہی تھی ۔
اففف دل کی دغا بازی شروع ہونے والی تھی میسم نے جلدی سے رخ موڑا اور چادر منہ تک تان لی ۔ کیا مصیبت ہے میسم کو خود پر ہی غصہ آ رہا تھا ۔ ہر بات مان رہا ہوں اس کی ۔ دل اور دماغ ایک دوسرے کے ساتھ کشتی لڑنا شروع ہو چکے تھے نیند کس کمبخت کو آنی تھی اس حالت میں ۔
چادر دھیرے سے اس پر سے سرک رہی تھی ۔ ادینہ اب اس کی چادر کو کھینچ رہی تھی ۔
” چادر کیوں کھینچ رہی ہو اب “
میسم نے دانت پیستے ہوۓ غصے سے رخ اس کی طرف موڑا دونوں کا سر ٹکراتے ٹکراتے بچا ۔
” سردی لگ رہی ہے “
ادینہ نے بچارگی سے کہا ۔ اسے واقعی میں سردی لگ رہی تھی ۔
” اففف کیا مصیبت ہے “
میسم نے زور سے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔ تیزی سے اٹھا ننگے پاٶں چلتا ہوا الماری کے پاس پہنچا ۔ اور پھر اپنی ایک عدد شرٹ ہاتھ میں پکڑے ہوۓ واپس آیا ۔
” یہ کیا ہے “
ادینہ نے حیرت سے دیکھا ۔
” پہنو اس کو “
شرٹ ادینہ کے طرف بڑھاٸ ۔ ادینہ نے سوالیہ سے انداز میں میسم کی طرف دیکھا ۔
” پہنو اسے “
میسم نے رعب سے کہا ۔ ادینہ نے جھٹکے سے شرٹ پکڑ کر پہنی ۔
” گڈ پیچھے ہو تھوڑا سا اب “
ہاتھ کے اشارے سے ناک چڑھاتے ہوۓ اسے پیچھے ہونے کا کہا ۔ ادینہ نے گھور کر دیکھا ۔ بدتمیز سمجھتا کیا ہے خود کو ۔
” اب مجھے سونا ہے سمجھی “
انگلی اس کے چہرے کے بلکل سامنے کھڑی کرتے ہوۓ غصے سے کہا ۔ ادینہ کا چہرہ سرخ ہوا ۔
” مجھے بھی “
غصے سے سر کو تکیے پر مار کر رخ موڑا اور زور سے آنکھیں بند کیں شرٹ سے اٹھتی بھینی بھینی سی خوشبو اور گرماہٹ میں واقعی کب نیند آٸ پتہ بھی نہ چلا ۔
کندھے پر پھر سے کچھ نرم سا وزن محسوس ہوا تو میسم نے دانت پیستے ہوۓ رخ بدلہ اور پھر جیسے لمحہ تھم گیا وہ سو رہی تھی
اپنے ہوش ربا حسن کے جلوے بکھیرتے ہوۓ وہ ہر چیز سے بے خبر تھی ۔میسم نے دھیرے سے اس کے بازو کو خود پر سے ہٹایا ۔
اپنے بازو کو اپنے سر کے نیچے دے کر غور سے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا۔ دل میں کتنی ہی خواہشیں سر اٹھانے لگی تھیں
اسے کے چہرے کے ہر نقش کو چھو لینے کی خواہش ۔ فوراً سیدھا ہو کر سر کو تکیے پر زور سے مارا ۔ تکیہ اٹھایا اور پھر سے صوفے پر جا کر ڈھیر ہو گیا ۔ چار بج رہے تھے ۔ اور پھر جس صوفے پر دو گھنٹے پہلے نیند آنے کا تصور محال تھا وہ وہیں سو گیا تھا ۔
********
” آٶ آٶ ادھر بیٹھو “
احمد میاں نے دروازے پر کھڑے میسم کو ہاتھ کے اشارے سے پاس بلایا۔ وہ اپنے بیڈ پر بیٹھے تھے اور پہلو میں وہ نارنجی پیچ رنگ کے کام سے بھرے جوڑے میں سجی سنوری بیٹھی تھی ولیمے کی تقریب کے بعد وہ لوگ ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے ۔
” جی “
میسم معدب انداز میں سر کو جھکاۓ ان کے قریب آیا ۔ احمد میاں نے ہاتھ کا اشارہ اپنے پہلو کی طرف کیا ۔ وہ اب ان کے دوسرے بازو کی طرف بیٹھ چکا تھا ۔ ادینہ پر ایک نظر ڈالی جو لاڈلی بنی بیٹھی فتح کا جھنڈا لہرا رہی تھی ۔ سب کچھ جیت لو گی پر میری محبت نہیں ۔ میسم نے گھور کر دیکھا ۔ جس پر اس نے ناک چڑھاٸ۔
” خوش ہوں بہت اپنی زندگی میں اپنی اولاد کی اولاد کی خوشی دیکھ لی میں نے “
احمد میاں نے مسکرا کر کپکپاتی آواز میں کہا ۔ اور پھر میسم کی طرف دیکھا ۔
” تجھے کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی اس کے صدقے “
انہوں نے میسم کے سر پر ہلکی سی چپت لگاٸ ۔ میسم نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ اس کی صدقے ہی سب ملا ہے ۔ میسم نے دانت پیسے ۔
” جی “
معدب انداز میں جی کہتے ہوۓ گردن اور جھکا دی ۔ احمد میاں نے ادینہ کو بازو سے پکڑ کر ساتھ لگایا ۔
” یہ جب چھوٹی سی تھی تو عزرا ایک دن میرے پاس بیٹھی رو دی کہتی ابا جی اللہ نے کوٸ بیٹا بھی نہ دیا چلو ایک بیٹا ہوتا اور ایک بیٹی “
احمد میاں نقاہت سی کانپتی آواز میں بول رہے تھے اور وہ دونوں ہم تن گوش تھے ۔ میسم نے آج گرے چیک میں تھری پیس سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا جس میں وہ آج کل سے بھی زیادہ خوبرو لگ رہا تھا ۔ ادینہ نے چور سی نظر ڈالی
” تو پاس کھڑا تھا اور یہ میری گود میں تھی “
احمد میاں نے گردن گھما کر میسم کی طرف دیکھا ۔ میسم نے جلدی سے مسکراہٹ کا لبل سجایا ۔
” میں نے تیرا ہاتھ پکڑا ایسے “
انہوں نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے میسم کے ہاتھ کو تھاما ۔
” اور ایسے اس کے ہاتھ میں دے دیا “
ادینہ کے ہاتھ کو اٹھا کر میسم کے ہاتھ پر رکھا ۔ دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ دل کی دھڑکن کے تار دونوں طرف برابر بج اٹھے تھے ۔
” پھر میں نے عزرا سے کہا یہ ہے تیرا بیٹا آج سے “
احمد میاں نے میسم کے ہاتھ کو بند کیا اور دباٶ ڈالا۔ ادینہ جھینپ گٸ۔ ہاتھ کے لمس سے میٹھا سا کرنٹ پورے وجود میں سراٸیت کر رہا تھا ۔
” جی “
میسم نے معدب انداز میں سر ہلایا ۔ احمد میاں کا ہاتھ اب دونوں کے ہاتھوں پر تھا ۔ میسم کے ہاتھ کی گرمی جیسے ہتھیلی میں جزب ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ شادی کے بعد یہ پہلا لمس تھا جس سے اس نے نوازاہ تھا۔ اور اس میں بھی جناب کی خواہش کہاں شامل تھی یہ تو بس نانا ابو نے ہی۔۔۔۔ ادینہ نے دل میں اٹھتی ٹیس کو دبایا ۔
” تو کیا تو میرے کہے قول کا پاس رکھے گا “
احمد میاں نے میسم کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ میسم نے سر کو آہستگی سے ہلایا ۔ نازک سے ہاتھ کی نرماہٹ جیسے دل کو گدگدانے لگی تھی ۔ بے ساختہ ایک نظر سامنے بیٹھی ادینہ پر ڈالی وہ اب نظریں جھکاۓ احمد میاں کے سینے سے لگی ہوٸ تھی ۔ پلکیں گالوں پر لرز رہی تھیں ۔
جوڑے کا رنگ چہرے پر عکس چھوڑے ہوۓ تھا ۔ پیچ رنگ میں اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا ۔ آج کل کی نسبت زیور ہلکا تھا سلور گولڈ کی چھوٹی سی بندیا ماتھے پر دمک رہی تھی ۔ وہ بلا کی حسین تھی ۔
” جی دادا ابو “
میسم نے مچلتے دل کو سرزنش کیا جو اس کے حسن کے بچھاۓ ہوۓ جادوٸ جال میں الجھتا جا رہا تھا ۔ ذہن کو بری طرح جھٹکا ۔ بہت بڑی ڈرامہ ہے ۔ دماغ نے دل کے کان میں سرگوشی کی جو بغاوت پر اتر رہا تھا ۔
” خوش رہو دونوں شاد آباد رہو “
اب احمد میاں دونوں کو ساتھ لگاۓ ہوۓ تھے ۔ ایک دفعہ ادینہ کے سر پر بوسہ دیا اور پھر میسم کے سر پر۔
میسم نے دھیرے سے ہاتھ کو کھینچا ۔ اور کان کھجاتا ہوا سیدھا ہوا ۔ یوں لگ رہا تھا مزید اگر کچھ دیر اور ہاتھ اس کے ہاتھ میں رہا تو دل پوری طرح باغی ہو کر دماغ کے خلاف جنگ کا کھلا علان کر دے گا ۔اور دل کی جیت مطلب ادینہ کی جیت
” نانا ابو جاٶں میں تھک گٸ ہوں “
ادینہ نے دھیرے سے احمد میاں کے سینے پر سے سر اٹھاتے ہوۓ اجازت طلب انداز اپنایا ۔
” ہاں ہاں میسم لے جاٶ بیٹا اسکو “
” احمد میاں نے مسکراتے ہوۓ میسم کی طرف اشارہ کیا ۔ میسم نے بھنویں اچکا کر ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو خود جاۓ میں کیا گود میں لے جاٶں گا ۔ ادینہ احمد میاں کی بات کو سنی ان سنی کرتی میسم کو نظر انداز کرتی ویسے ہی اسے بیٹھا چھوڑ کر باہر نکل گٸ ۔
آج ولیمے کی پوری تقریب میں صرف فوٹو شوٹ کے وقت وہ ساتھ آیا تھا اس کے بعد ایک دفعہ بھی سٹیج پر آ کر اس کے ساتھ نہیں بیٹھا تھا ۔
وہ آج چپ چپ سی تھی یہ بات عزرا کے ساتھ ساتھ پتا نہیں اور کس کس نے نوٹ کی تھی اور اب بھی اس کے ہاتھ کھینچنے پر دل بری طرح بھر آیا تھا ۔ آنسوٶں کو چھپاتی تیزی سے کمرے میں آٸ تو سامنے بیٹھی رابعہ کو دیکھ کر گڑبڑا سی گٸ ۔ وہ شاٸد اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔
” ادینہ ادھر میرے پاس آٶ “
رابعہ نے اپنے ساتھ صوفے پر ہاتھ کا اشارہ کیا ۔ ادینہ دھیرے سے چلتے ہوۓ اب ان کے برابر میں بیٹھ چکی تھی جبکہ وہ مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں گو کے نظر بہت نرم سی تھی پر بہت کھوجتی سی تھی ۔
” ادینہ یہ جو مرد ذات ہے نہ اپنے جزبات پر قابو پانے میں بہت ماہر ہوتا ہے “
رابعہ نے دھیرے سے اس کے نرم سے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔
” ہماری طرح نہیں ہوتے “
دوسرے ہاتھ سے اسکے ہاتھ کو تھپکتے ہوۓ وہ سرجھکاۓ بیٹھی ادینہ کو سمجھا رہی تھیں ۔ ادینہ نے سر کو اور جھکایا ۔جانتی تھی وہ بھی ان سب میں سے ایک ہیں جو آج اس کے چہرے پر سے اس کی رات کی کہانی پڑھنے میں کامیاب ہو گٸ تھیں۔
” لیکن میری جان بیوی کی محبت چاہت اپناٸیت میں بہت طاقت ہوتی ہے “
میٹھے سے لہجے میں بولتی ہوٸ وہ اس کے سر کو اپنے کندھے کے ساتھ لگا چکی تھیں کتنی اپناٸیت تھی ان کے انداز میں وہ بچپن سے ہی اس سے ایسی ہی محبت کرتی تھیں وہ اکثر ان کے اس والہانہ پن پر پریشان بھی ہو جایا کرتی تھی ۔
” میں نہیں جانتی وہ کیوں ایسا کر رہا ہے لیکن اتنا جانتی ہوں کسی اور لڑکی کا کوٸ چکر نہیں بس اس رشتے کو قبول نہیں کر پا رہا ہے ابھی ساتھ رہے ہو نہ تم لوگ ہمیشہ تو شاٸد بہنوں کی طرح سمجھتا رہا ہو “
رابعہ اب اس کے سر کو ہلکے ہلکے سے تھپک رہی تھیں ۔ ادینہ کے دل میں ٹیس اٹھی تھی ۔ ممانی آپکو کیا بتاٶں کہ کیا ہے آپکے لاڈلے کے دل میں ادینہ نے دھیرے سے پلکوں کو بند کیا ۔ وہ بول رہی تھیں۔
” تمہیں اس کے دل میں جگہ بنانی ہے ہمت سے کام لینا ہے تمھارا شوہر ہے تمھارا حق ہے اس پر تم چاہو تو اس کے دل کی ملکہ بن سکتی ہو اور تم چاہو تو اس کے پاٶں کی جوتی بھی نہ رہو “
وہ اتنی محبت سے سمجھا رہی تھیں کہ ہر بات ادینہ کے دل میں موجود ناراضگی کو دھو رہی تھی ۔
” لیکن شوہر کے دل میں اپنا مقام اپنی جگہ بنانے کے لیے محبت اور توجہ میں اُسی کی پہل کا انتظار کرنے والی لڑکیاں اپنی انا میں بہت کچھ کھو دیتی ہیں “
رابعہ نے دھیرے سے اسے سیدھا کیا اور اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا ۔
” مجھے امید ہے تم میری بات سمجھ رہی ہو گی ۔ “
تھوڑا سا نیچے ہو کر اس کی جھکی پلکوں سے سوال کیا ۔ ادینہ نے پلکیں اٹھاٸیں اور لب بھینچے سر کو دھیرے سے ہلایا ۔
” اور یہ کمبل “
رابعہ نے مسکرا کر گردن گھماٸ لبوں پر شریر سی مسکراہٹ در آٸ ۔
” کچھ دیر پہلے آیا تھا میرے پاس کہہ رہا تھا ادینہ کو سردی لگتی رہتی رہی کل رات تو مما بلنکیٹ دے دیں “
رابعہ نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ آنکھوں سے بیڈ پر پڑے سنگل کمبل کی طرف اشارہ کیا۔ ادینہ نے نظروں کا تعاقب کیا بیڈ پر براٶن رنگ کا سنگل کمبل پڑا تھا ۔ دل عجیب طرح سے دھڑکنے لگا ۔
” مطلب پرواہ ہے بس محبت بھی پیدا کر لو اور آج جیسے اداس سا چہرہ تھا تمھارا ایسا پھر نہ دیکھوں میں عزرا بھی پریشان سی تھی “
رابعہ نے شرمندہ سے لہجے میں کہا ۔ ادینہ نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ۔ ان کی باتوں سے دل کو حوصلہ ہوا تھا ۔
” جی “
مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ سر کو مزید جھکایا ۔
” اور اس کے کان بھی کھینچنے کو کہا ہے میں نے تمھارے ماموں سے “
رابعہ نے شرارت سے ادینہ کے چہرے کو اوپر کیا ۔
” اور کبھی بھی تنگ کرے اپنی امی کے بجاۓ مجھے بتاٶ گی تم “
وہ مسکرا رہی تھیں آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی ادینہ جھٹکے سے رابعہ کے گلے لگی ۔
” اچھا ابھی ریسٹ کرو اور میری باتوں پر غور کرنا “
کچھ دیر اس کی پیٹھ تھپکنے کے بعد وہ آہستگی سے کہتی ہوٸ اٹھیں اور باہر چلی گٸیں پر ادینہ کے لبوں پر مسکراہٹ چھوڑ گٸیں ۔
کپڑے بدل کر بیڈ پر لیٹے وہ میسم کا انتظار ہی کرتی رہ گٸ ۔ پر کل رات دیر سے سونے اور آج سارے دن کی تھکاوٹ کے باعث کب نیند آٸ پتا ہی نہ چلا اور وہ کب کمرے میں آیا ساتھ آ کر لیٹا اسکی بھی خبر نہیں ہوٸ ۔
**********
ناشتہ کرنے کے بعد وہ اب جوس کا مگ ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا ۔ آج عید کے تیسرے روز دور سے آۓ ہوۓ بھی سب رشتہ دار واپس جا چکے تھے ۔ سب گھر والے ایک ساتھ ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے جہاں زور و شور سے ہر نیوز چینل پر میسم کی شادی کی خبر چل رہی تھی ۔ اریبہ اور حزیفہ کا تو جوش سے برا حال تھا ۔ البتہ مراد احمد سپاٹ چہرہ لیے ہی بیٹھے تھے ۔
پھر سے وہی محسوسات دل ہلکے سے ردھم پر تھرکنے لگا دماغ نے گھور کر دل کو دیکھا اور مسیم نے جھنجلا کر سامنے صوفے پر بیٹھی ادینہ کی طرف جو مسلسل اسے محبت پاش نظروں دیکھے ہی جا رہی تھی ۔ ناشتہ کرتے ہوۓ تو ایک دو بار اسے لگا ویسے ہی دیکھ رہی ہے لیکن اب تو مسلسل اس کی نظروں کی تپش محسوس ہو رہی تھی ۔ جو اندر توڑ پھوڑ کر رہی تھی ۔
وہ جب سو کر اٹھا تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی ۔ اور جب باہر آیا تو محترمہ ہلکے سے پریٹ گرین رنگ کے جوڑے کو زیب تن کیے ہلکے سے میک اپ سے چہرے کو چار چاند لگاۓ مراد احمد اور رابعہ کی لاڈلی بنی ان کے درمیان میں براجمان تھی ۔ اور پھر اکٹھے ناشتہ کرتے ہوۓ اور اب جوس پیتے ہوۓ وہ مسلسل بے شرمی سے اسے تاڑنے میں مصروف تھی ۔
ادینہ کے آج مسلسل یوں دیکھنے پر احساس ہوا کہ جب لڑکے مسلسل کسی لڑکی کو تاڑتے ہوں گے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہو گی ۔ باز ہی نہیں آ رہی تھی وہ ۔ کیا کروں۔ میسم نے اردگرد دیکھ کر لاپرواہی برتتی پر بے سود اس کی نظر ابھی بھی خود پر محسوس ہو رہی تھی ۔
میسم نے ماتھے پر بل ڈالے گھور کر دیکھا تو ادینہ نے شرارت سے ایک آنکھ کا کونہ دبا دیا ۔
ایسا جھٹکا لگا کہ جوس چھلک گیا ۔ اور وہ اب ارد گرد چور نظروں سے دیکھتی ہوٸ منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی ۔
اسے کیا ہو گیا ہے آج جو ایسے خطرناک وار کر رہی ہے ۔ میسم نے بمشکل دھڑکتے دل کو پٹڑی پر سیٹ کیا ۔ جوس کا مگ ایک طرف رکھا ۔ اور موباٸل پر پیغام لکھا۔
” مسٸلہ کیا ہے تمھارے ساتھ “
دانت پیس کر سنڈ کے بٹن پر انگوٹھا رکھا ۔ ادینہ کا موباٸل صوفے کے ساتھ پڑے چھوٹے سے میز پر پڑا تھا ۔ میسم کی طرف دیکھتے ہوۓ موباٸل اٹھایا ۔ اور سکرین پر نظریں جماٸیں اور پھر لبوں پر بھرپور مسکراہٹ در آٸ ۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔
” کون سا مسٸلہ مطلب کیا ہے اس بات کا “
ادینہ نے شرارت سے دیکھا اور سنڈ کا بٹن دبایا ۔ دوسری طرف جناب نے بھنویں اچکاٸیں اور گھور کر دیکھتے ہوۓ سکرین پر نظر ڈالی ۔ اور پھر انگلیاں جوابی پیغام ٹاٸپ کر رہی تھیں ۔ سفید اور بلیک رنگ کی لاٸینگ ڈریس شرٹ اور جینز پہنے ادینہ کی شرارتوں سے پریشان ہوتا اسے وہ بہت اچھا لگ رہا تھا ویسے بھی رابعہ کی رات کی باتوں نے حوصلے بلند کر رکھے تھے ۔ اور دل کو یقین تھا وہ اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے بس بدگمانی ہے دل میں جس کے بادل اس کی محبت کی وجہ سے جلد چھٹ جاٸیں گے ۔
” تم کیوں ایسے دیکھے جا رہی ہو؟ طبیعت ٹھیک ہے تمھاری “
ادینہ نے پیغام پڑھ کر ہنسی روکی ۔ اور جواب لکھا۔ ہلکے سے بڑھے ناخن پر پیازی رنگ کی ناخن پالش لگا رکھی تھی جو سفید دودھ جیسے ہاتھوں کو اور دلکش بنا رہی تھی مسیج لکھتے ہوۓ کلاٸ میں پہنے سونے کنگن ایک دوسرے میں بج کر مدھر سا ساز بجا رہے تھے ۔
” تو میری آنکھیں ہیں میری مرضی ہے میں جدھر بھی دیکھوں “
میسم نے جواب پڑھا ایک آبرٶ چڑھا کر دیکھا ادینہ نے گردن کو جنبش دی میسم نے ماتھے پر شکن ڈالے اور جواب لکھا ۔
” سب بیٹھے ہوۓ پاگل اور تم نے آنکھ ماری ابھی مجھے “
ادینہ نے شرارت سے ارد گرد سب کو دیکھا جو ٹی وی پر چلتی خبروں کو پرجوش انداز میں دیکھنے میں مصروف تھے۔
” حق ہے میرا بھٸ میرا شوہر ہے میں نہیں دیکھوں گی تو کون دیکھے گا آنکھ ہی ماری ہے کوٸ اور نا زیبا حرکت تو نہیں کی “
مسکرا کر پیغام بھیجا اور پھر سے ویسے ہی دیکھنا شروع کیا۔ میسم نے جواب دیکھ کر ارد گرد دیکھا اور پھر انگلیاں سکرین پر دوڑنے لگیں۔
” اچھا جی بڑی بات نہیں کہہ دی آپ نے اور ہمممم حق “
جواب لکھا۔ ادینہ نے نچلے لب کو دانتوں میں دبا کر شرارت سے جواب ٹاٸپ کیا ۔
” جی بلکل حق “
گردن اکڑا کر میسم کی طرف دیکھا جو اب آنکھیں سکیڑ کر کچھ سوچ رہا تھا ۔
” اچھا ایسا کیا دیکھو پھر میرے بھی بہت سے حق تم پر “
میسم نے شرارت سے مسکرا کر دیکھا ادینہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ ایسے کندھے اچکاۓ جیسے کہہ رہی ہو کچھ بھی ۔ میسم نے جوس کا خالی مگ ساٸیڈ میز پر رکھا اور اٹھ کر باہر نکلا۔ ادینہ نے نا سمجھی سے اسے باہر جاتے دیکھا ۔
اوہ خدایا !!!! تھوڑی دیر بعد جناب اپنا کلف لگا سفید قمیض شلوار پکڑے مسکراتے ہوۓ لاونج میں داخل ہوۓ اور لا کر کپڑے ادینہ کے سامنے کیے ۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ادینہ کو کپڑے استری کرنے بلکل پسند نہیں تھے اور کلف لگے کپڑے تو اگر کبھی غلطی سے بھی اسے کوٸ کرنے کو کہہ دیتا تھا اس کی جان پر بن جایا کرتی تھی ۔
” یہ کپڑے پریس کر کے دو “
آواز میں رعب تھا ۔آنکھوں میں شرارت اور لب مسکراہٹ چھپا رہے تھے ۔ ادینہ نے تھوک نگل کر ارد گرد بیٹھے لوگوں کو دیکھا ۔ رابعہ نے ادینہ کے چہرے کی پریشانی دیکھی تو فوراً اپنی جگہ سے اٹھیں ۔
” لاٶ میں کر دیتی ہوں “ جلدی سے آگے بڑھ کر کپڑے میسم کے ہاتھ سے لیے۔
” وہ کر دے گی امی آپ کیوں “
میسم نے رابعہ کے ہاتھ سے دھیرے سے کپڑے پکڑ کر پھر سے ادینہ کی طرف بڑھاۓ ۔
” دماغ ٹھیک ہے تمھارا دو دن کی دلہن ہے “
رابعہ نے خفگی بھرے انداز میں گھورا ۔ اور پھر سے کپڑے پکڑنے کی کوشش کی ۔
” امی دو دن کی ہو یا مہینے کی اس کی ذمہ داری ہے اور میرا حق ہے کیوں بیگم “
میسم نے بڑے پریم سے ادینہ کی طرف دیکھا۔ جو بے زار سی شکل بناۓ بیٹھی تھی ۔ اور بیگم کہنا تو اور بھی کَھل گیا یہ بھی میسم کو پتا تھا کہ بچپن میں ایک ٹی وی سریل چلا کرتا تھا جس میں شوہر اپنی بیوی کو بیگم کہہ کر پکارتا تھا تو ادینہ اس سے بہت چڑتی تھی ۔ کہ بیگم کتنا عجیب لفظ ہے ۔
” ہاں ہاں ادینہ ہی کرے گی شوہر کے سارے کام بیوی کو ہی کرنے چاہیے اٹھو ادینہ “
عزرا نے جلدی سے میسم کے خوشگورا رویے کو دیکھ کر شکر ادا کیا اور اُس کی وکالت میں بولی۔ ادینہ نے گھور کر میسم کی طرف دیکھا جو اب زبان کو اوپر کیے اسے چڑانے کے انداز میں ہنس رہا تھا ۔
” جی بلکل “
ادینہ نے دانت پیستے ہوۓ جھٹکے سے میسم کے ہاتھ سے کپڑے لیے ۔ اور گود میں دھرے ۔ پر ویسے ہی بیٹھی رہی۔
” بیگم چلو اٹھو نہ پھر جمعہ کی نماز سے پہلے پہلے شاباش “
میسم نے اسے یوں ہی بیٹھے دیکھ کر پھر سے محبت سے کہا ۔ اور کندھا ہلایا ادینہ نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا اور پھر منہ پھلا کر اٹھی ۔ مریل قدم اٹھاتی استری کے میز پر آٸ میسم اس کے پیچھے ہی باہر آ گیا ۔ وہ اب بچارگی سے گدھے کی اوپری جلد کی طرح اکڑے قمیض کی طرف غصے سے دیکھ رہی تھی جب کان میں سرگوشی ہوٸ وہ بلکل پیچھے کھڑا تھا ۔
” سنو بیگم اچھی طرح پانی لگا کر ہاں “
وہ اتنا قریب تھا کہ اس کی آواز کے ساتھ ساتھ سانس کی گرماہٹ نے بھی کان کی لو کو چھوا تھا ۔ اور ایک پل کے لیے سب کچھ رک گیا۔ بیگم لفظ کی تلخی اس کی اتنی سی قربت ۔یں دب سی گٸ ۔ کلون کی مہک میں تڑپتا چھوڑ کر
وہ تو ظلم ڈھا کر جا چکا تھا پر وہ بے ترتیب ہوتی سانسوں کو سنبھالتی کپڑوں سے الجھ رہی تھی ۔
*********
” میرا کچھ کر کے جا بتا رہا ہوں تجھے “
فہد نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوۓ روہانسی صورت بنا کر سامنے بیٹھے میسم کی طرف دیکھا ۔میسم نے سر سے پاٶں تک اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا ۔ وہ آج پھر جان بوجھ کر رات دیر تک فہد کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اور فہد اسے گھر میں اسکی اور اریبہ کی بات چلانے کا کہہ رہا تھا ۔
” ہم نکٹھو کے پلے نہیں باندھتے اپنی لڑکیاں “
میسم نے نخوت سے ناک چڑھاٸ ۔ فہد نے بچوں کی طرح منہ پھلا کر خفگی سے دیکھا ۔
” آرام سے کوٸ نکٹھو نہیں ہوں اتنا بڑا ہوٹل ہے “
غصے سے ماتھے پر شکن ڈالے اور ہوا میں ہاتھ اٹھا کر شان بے نیازی سے مسیم نے سارے ہونٹ باہر نکال کر اس کی طرف دیکھا ۔
” اوہ بھول گیا تھا میں تو وہ کیا تیرا ہے؟ “
میسم نے اداکاری کی ۔ جس پر فہد نے بچارگی سے دیکھا ۔
” اچھا اب طنز اور بدلے لینے چھوڑ “
فہد نے میسم کے آگے ہاتھ جوڑے جس پر وہ قہقہ لگا گیا ۔
” ہممم ٹھیک ہے ویسے کل دعوت پر عقل استعمال کرتا نہ پھپھو کو بھی انواٸٹ کرتا “
میسم نے اس کے سر پر چپت لگاٸ ۔ وہ جھٹکا کھا گیا پھر گردن کھجاٸ۔
” ڈر بہت لگتا یار“
” نہیں کر انواٸٹ ان کو بھی اپنی امی کو بھیج صبح گھر اور وہ خاص طور پر پھپھو کا کہہ کر آٸیں کہ وہ بھی شریک ہوں دعوت پر “
میسم نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاٸ موباٸل پر وقت دیکھا ایک بج رہا تھا ۔ فہد اب سوچ میں پڑ گیا تھا پھر پر جوش انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔
” ہاں اور اریبہ کو بھی “
فہد نے پوری بتیسی باہر نکالی میسم نے غصے سے گھور کر دیکھا ۔
” پہلے ساس کے دل کی کدورتیں دور کر لے بیغیرت “
میسم نے دانت پیسے ۔ اور پھر سے اس کی گردن پر چپت لگاٸ ۔
” اچھا “
فہد نے خجل سا ہو کر گردن پر ہاتھ پھیرا جہاں میسم کے تھپڑ کی جلن ہو رہی تھی ۔
” چل پھر میں چلتا ہوں گھر “
میسم نے گہری سانس لی اور اٹھا ۔ امید تھی کہ ادینہ سو گٸ ہو گی ۔ اور ایسا ہی تھا وہ کمبل میں منہ دیے سوٸ ہوٸ تھی ۔
*************
ایک طرف لگے صوفے پر ایک عدد کیری اور بیگ پڑا تھا ۔ بیڈ پر دوپٹہ پڑا تھا اور ادینہ دوپٹے سے بے نیاز فون کان کو لگاۓ نیل پالش رگڑتی بات کر رہی تھی۔
” تم تو بات نہ کرو مجھ سے “
ادینہ نے خفگی بھری لہجے میں فون کے دوسری طرف موجود ماہ رخ سے کہا ۔ وہ شادی میں شریک نہیں ہو سکی تھی جس پر ادینہ اس سے خفا تھی ۔ وہ لوگ ہر سال اسلام آباد اپنے ننھال میں عید کرنے جاتے تھے اور جس دن ادینہ کی اسے کال گٸ شادی کی دعوت کے لیے وہ لوگ اسلام آباد کے لیے نکل چکے تھے ۔
” اچھا نہ سوری مجبوری سمجھا کرو میری “
ماہ رخ نے بچوں کی طرح لاڈ اٹھانے والے انداز میں کہا ۔ پر ادھر تو جیسے اور بھی بہت سے غم تھے ۔ رونے جیسی صورت بناۓ وہ بے دردی سے ناخن رگڑ رہی تھی انگلیاں گلابی ہو گٸ تھیں ۔
” کیا مجبوری اسلام آباد تھی نہ “
ادینہ نے اپنے مخصوص انداز میں لبوں کو باہر نکالتے ہوۓ اعتراض کیا ۔
” تمہیں پتا ہے ہر سال جاتے ہم عید پر اور جناب کی جس دن شادی طے پاٸ ہم لوگ ٹرین میں تھے جا رہے تھے “
ماہ رخ اپنی صفاٸیاں دے رہی تھی اور وہ اداسی سے سامنے اپنے بیگ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” اچھا سنو ہاسٹل میں ہی آ رہی ہوں ابھی تم منع مت کرنا “
اداس سے لہجےمیں کہا ۔ اور نیل پالش ایک طرف لگے میز پر رکھی۔
کیوں کیا ہوا؟“
ماہ رخ نے حیرت سے پوچھا کیونکہ ایک دن پہلے اس نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ میسم کے ساتھ رہے گی اب لاہور میں ۔
” ابھی جا رہے ہیں جناب باہر کہیں سیریز کھیلنے تو “
ادینہ نے گہری سانس لی ۔ کیونکہ آج صبح ہی میسم نے سب کے سامنے انکار کیا کہ ابھی وہ ادینہ کو ساتھ نہیں لےجاسکتا ہے ۔ واپسی پر آ کر وہ الگ رہاٸش کریں گے۔
” تو پاگل تم کیوں نہیں جا رہی ساتھ کھلاڑی کی بیوی کے یہی تو مزے ہوتے ہیں ملکوں ملکوں گھومتی ہیں “
ماہ رخ نے حیران ہوتے ہوۓ مشورہ دیا جس پر ادینہ کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری ۔
” جی جی جناب اپنے کمرے میں پتا نہیں کیسے برداشت کر رہے مجھے “
ادینہ نے ماتھے پر شکن ڈالے کل رات بھی جب آنکھ لگی تب ہی آیا تھا وہ اور آج تو دنوں کی واپسی تھی لاہور کے لیے ادینہ کی چھٹیاں ختم ہو گٸ تھیں اور میسم کو انگلینڈ جانا تھا ۔ چار راتیں کمرے میں اجنبی بن کر گزار چکے تھے دونوں۔
” حد ہے ویسے تم کہتی تھی بہت پیار ہے مجھ سے “
ماہ رخ نے خفا سے لہجے میں کہا۔ ادینہ کے آنکھوں کےکونے نم ہوۓ ۔
” پتا نہیں کیوں کہتی تھی“
ہلکی سی آواز میں کہا کمرے کا ہینڈل گھوما ۔ اور میسم نے دروازہ کھولا ۔
اچھا آ گۓ ہیں پھر بات کرتی ہوں “
ادینہ نے دروازہ کھلنے پر جلدی سے کہہ کر فون بند کیا ۔اور ایک طرف بیڈ پر اچھالا وہ جو کمرے میں داخل ہوا تو اُسے عجلت میں فون رکھتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ ادینہ نے نظریں جھکا کر کانوں کے پیچھے بال اڑاۓ ۔ میسم کچھ دیر کھڑا بغور اسے دیکھتا رہا ۔
دلجوٸ کر رہی ہوں گی محترمہ ڈاکٹر صاحب کی ۔ سینے میں عجیب سی جلن ہوٸ اب بیوی بن گٸ تھی تو جلن میں اضافہ ہو گیا تھا ۔
” تم نے پیکنگ نہیں کی دس بجے فلاٸیٹ ہے “
میسم نے الماری کی طرف جاتے ہوۓ بے زار سے لہجے میں کہا ذہن میں بار بار اس کا موباٸل ایک طرف رکھنے کا انداز آ رہا تھا ۔
” کر لی ہے میں نے “
ادینہ نے خفا سے لہجے میں کہا ۔ اور پاس پڑے میگزین کو اٹھایا ۔انداز اس سے پوری طرح لاپرواہی برتتا ہوا تھا ۔ صبح سے نکلے محترم اب تشریف لاۓ تھے اور حکم ایسے چلا رہا تھا جیسے ادینہ نے سانس اندر کھینچتے ہوۓ ضبط کیا ۔
” اور میری ؟“
کمر پر ہاتھ دھر کر غصے سےمڑا ۔ گھورتی غصے سے بھری آنکھیں ادینہ پر گڑی تھیں ۔
” تمھاری کیوں کروں “
ادینہ نے دیکھے بنا بے زار سے لہجے میں کہا غصہ تو دو راتوں کا تھا سارا دن ویسے بات نہیں کرتا تھا۔ اور رات کو جناب دو بجے آتے جب تک اس کی بس ہو چکی ہوتی اور وہ سو جاتی ۔
” اچھا کل والے حق حقوق سب بھول گٸ محترمہ بیگم صاحبہ “
ادینہ کے قریب آ کر طنز بھرے لہجے میں تیر برساۓ ۔
” مجھے ملتے ہیں کیا حق میرے سارے “
ادینہ نے ناک پھلا کر روہانسی آواز میں کہا ۔ جس پر میسم کے جبڑے باہر کو نکلے بمشکل جیسے غصہ ضبط کر رہا ہو ۔
” کتنے پیسے چاہیے بولو “
میسم نے نخوت سے کہہ کر ادینہ کے ہاتھ کو پکڑا ۔انداز ایسا تھا وہ جھٹکا ہی کھا گٸ ۔ عجیب سی نظروں سے میسم کی طرف دیکھا اسے ہوا کیا ہے ۔
” وہی میسم چاہیے جس نے پوری چھت پھولوں سے سجا دی تھی میرے لیے “
ادینہ نے میسم کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش ترک کرتے ہوۓ آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
” آں ہاں وہی میسم جس کو تم چھت پر بے عزت کر کے بھاگ گٸ تھی “
میسم نے طنز بھری مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ۔اور ہاتھ کو پھر سے جھٹکا دے کر اسے قریب کیا ۔
” میسم تب نہیں کرتی تھی محبت “
روہانسی صورت بنا کر مصومیت سے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو غصے سے بھری پڑی تھیں ۔ کتنی عجیب قربت تھی ۔ جس میں لمس میں کوٸ نرمی نہیں تھی ۔
” تو اب کیوں کرتی ہوں ؟“
ناک پھول رہا تھا ادینہ کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا ادینہ نے دھیرے سے آنکھیں بند کیں اور کھولیں ۔
” معلوم نہیں “
میسم کے چھونے سے آواز جیسے اندر ہی کہیں دم توڑ رہی تھی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: