Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 16

0
مقسوم از ہما وقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

ادینہ نے جھینپ کرنظریں جھکا دی تھیں ۔ میسم نے آگے ہوتے ہوۓ اپنا چہرہ اس کے کان کے بلکل پاس کیا ۔اگر میسم نے ہاتھ نہ تھام رکھا ہوتا تو شاٸد وہ اتنی قربت کے زیر اثر زمین پر گر چکی ہوتی ۔ گال تپنے لگے تھے اور دل کے دھڑکنے کی آواز اب زور سے سناٸ دے رہی تھی ۔
کتنا عجیب لمحہ تھا وہ اس کی ہو کر اس کے بلکل سامنے اس کی دسترس میں تھی پر وہ اس کی نہیں تھی ۔ دل میں وہ نہیں تھا ۔ سوچوں میں نہیں تھا ۔ میسم کو گھبراہٹ ہونے لگی ۔
” مجھے معلوم ہے “
کمر پر ہاتھ دھرے اور کڑوے سے لہجے میں ادینہ کے کان کی لو کے قریب سرگوشی کی ۔ وہ سمٹ سی گٸ تڑپ کر لہجے کی سختی کو محسوس کرتے ہوۓ میسم کی آنکھوں میں جھانکا ۔ اور مجسم ہوٸ ۔
” اس لیے تمہیں وہ میسم کبھی نہیں ملے گا “
زہر میں ڈوبا ہوا فقرہ آگ برساتا ہوا لہجہ ادینہ کے کان کے ساتھ ساتھ دل بھی جل اٹھا اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا ۔
اور اس کے بعد نہ سفر میں کوٸ بات کی ادینہ سارا رستہ ان گنت سوچوں میں الجھتی ہی رہی آخر کو ہوا کیا ہے میسم کو یوں اچانک اتنی سختی برتنے لگا ۔ اٸیر پورٹ سے اتر کر میسم نے اسے علیحدہ ٹیکسی کروا کر دی اس کا سامان اس میں رکھا اور اسے بیٹھنے کا کہہ کر خود دوسری طرف چل دیا ٹیکسی ہاسٹل کی طرف رواں دواں تھی ۔
*************
” ادینہ موباٸل بہت دیر سے بج رہا ہے “
ڈاکٹر سعدیہ نے ادینہ کے بیگ میں بجتے موباٸل کی طرف اشارہ کیا . وہ ابھی راٶنڈ سے واپس آٸ تھی اور جیسے ہی سٹاف روم میں داخل ہوٸ تو سعدیہ نے موباٸل کے کافی دیر سے بجنے کی اطلاع دی ۔
ادینہ نے بیگ سے فون نکالا تو میسم کا نام سکرین پر جگمگا رہا تھا ۔ ان کو لاہور آۓ آج تیسرا دن تھا ۔ اور اس دوران یہ میسم کی پہلی فون کال تھی جو اس کے فون پر آٸ تھی۔
” ہیلو “
آہستہ سی آواز میں سنجیدگی سے کہا ۔ دوسری طرف شاٸد فون نہ اٹھانے کا غصہ تھا ۔
” اتنی دیر سے فون کر رہا ہوں کوٸ ضروری بات ہو سکتی ہے کہاں تھیں تم “
بڑے رعب سے تنک کر پوچھا گیا ادینہ کا ماتھا تک تپ گیا ۔ میرے کیا فرشتوں کو علم ہو جاتا محترم فون کر رہے ہیں ادینہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوۓ پورے دو دن بعد اگر فون کیا بھی تو ڈانٹ رہے ہیں ۔
” میسم آرام سے کیا ہو گیا ہے میں ڈیوٹی پر تھی کیا ضروری بات تھی “
ادینہ نے بھی اسی سختی سے جواب دیا دوسری طرف خاموشی ہوٸ ۔پھر کچھ دیر بعد آواز آٸ ۔
ادینہ کے فون نا اٹھانے پر دل عجیب طرح سے پریشان ہوا تھا ۔ اور اس کے فون اٹھاتے ہی وہ پریشانی میں اسے جھاڑ گیا تھا پر اس کے جوابی حملے نے چپ کروا دیا ۔
” شام کو تیار رہنا میں آ رہا ہوں لینے تمہیں “
اب کی بار لہجہ تھوڑا نرم تھا ۔ ادینہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں۔ دل میں میٹھی سی چبھن ہوٸ غصہ اپنی جگہ پر میسم کی یاد ہر پل ساتھ رہی تھی ان دو دن میں ۔ رشتہ بدلنے کے ساتھ ساتھ سب دوگنا ہوا گیا تھا محبت جزبات سب
” کیوں ؟ “
دل پر اور لہجے کی خوشی پر قابو پاتے ہوۓ پوچھا ۔ اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگاٸ ۔ سامنے سے ماہ رخ مسکراتی ہوٸ سٹاف روم میں داخل ہوٸ ۔ جس کے شوخ سے سوالیہ انداز پر ادینہ نے صرف ہاتھ ہلایا کا اشارہ کیا وہ اب پرجوش انداز میں ادینہ کے ساتھ بیٹھ چکی تھی ۔
” وہ میرے سنٸیر کی واٸف نے دعوت رکھی ہے گھر پر تو “
میسم نے سنجیدہ سے لہجے میں اپنے فون کرنے کی وجہ بیان کی اسد نے اپنے گھر میں اس کی شادی کی خوشی میں دعوت رکھی تھی ۔ میسم کے بہت منع کرنے کے باوجود اسد نے بہت اسرار کیا اور پھر اسد کی بیوی نے خاص طور پر فون کے ذریعے میسم سے بات کی اور آنے کے لیے آمادہ کیا ۔
ادینہ نے گہری سانس لی تو اچھا اس لیے جناب کو میری یاد آٸ اور کوٸ وجہ نہیں تھی دل پھر سے اداس ہوا ۔
” ہممم “
ادینہ نے ہلکی سی آواز نکالی ۔ دوسری طرف خاموشی تھی۔ ادینہ نے خود کو نارمل کیا رابعہ ممانی کے باتوں نے ذہن میں بازگشت کی ۔
” کتنے بجے آٸیں گے “
نارمل لہجے میں سوال کیا ۔ دوسری طرف شاٸد اسی کے سوال کا انتظار ہو رہا تھا ۔
” رات سات بجے میں کیب لے کر آ جاٶں گا ہاسٹل کے سامنے کال کروں گا باہر آ جانا “
فوراً سپاٹ لہجے میں جواب آیا ۔ اور فون بند ہوا ۔ اچانک سے پتا نہیں کیوں اسی ڈاکٹر روشان کا چہرہ نظروں کے سامنے لہرا گیا تھا وہ بھی تو ساتھ ہو گا اس ہاسپٹل میں اور ضبط کے آخری مرحلے پر وہ فون کو بند کر چکا تھا ۔
ادینہ نے بند فون کو افسردگی سے دیکھا ۔ پاس بیٹھی ماہ رخ نے شرارت سے سوالیہ انداز میں بھنویں اوپر نیچے نچاٸیں۔
” دوست کی طرف دعوت ہے “
ادینہ نے کندھے اچکاۓ اور موباٸل واپس بیگ میں رکھا ۔ چہرے پر کوٸ خوشی کی رمق موجود نہیں تھی ۔
” واہ “
ماہ رخ نے شوخ سے انداز میں ہاتھ کو ہوا میں اٹھا کر سر کو لہرایا ۔ ادینہ نے خفگی بھری نظر ڈالی ۔
” اس میں واہ والی کیا بات ہے کہیں ڈیٹ پر نہیں لے کر جا رہے “
ادینہ نے چیزیں سمیٹی اور بیگ کو کندھے پر رکھا ۔ماہ رخ نے مسکراتے ہوۓ اس کے ہاتھ پر تسلی کے انداز میں تھپکی دی ۔ دو راتیں وہ نہ خود سوٸ تھی نہ ماہ رخ کو سونے دیا تھا ۔ ساری رات بس میسم کے رویے کو لے کر دونوں بحث میں لگی رہیں ماہ رخ کا خیال رابعہ ممانی کے بلکل برعکس تھا اس نے ادینہ کو میسم کو برابر اکڑ دکھانے کے مشورے دیے ۔
” اچھا چلو میں نکلتی ہوں پھر تیاری کروں “
ادینہ نے کھڑے ہوتے ہوۓ ہاتھ مصاحفے کی غرض سے آگے بڑھایا جسے لب بھنچتے ہوۓ ماہ رخ نے زور سے ہلایا ۔
” اچھے سے تیار ہونا کہ بجلی ہی گر جاۓ شوہر نامدار پر “
ماہ رخ نے آنکھ دبا کر اس کی افسردگی ختم کرنے کے لیے اسے چھیڑا وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔ اور پھر پژمردگی سے آگے بڑھ گٸ ۔
***********
” میسم یہ کیا بات ہوٸ “
ثنا نے حیرت سے میسم کی طرف دیکھا ۔ وہ لوگ اسد کے گھر کھانا کھانے کے بعد اب لاونج میں چاۓ پی رہے تھے جب اسد کی بیوی ثنا اور ادینہ کچھ فاصلے ہر بیٹھی آپس میں گفتگو کر رہی تھیں ۔ اور میسم اسد کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھا ۔
” جی “
میسم مسکراتا ہوا متوجہ ہوا ۔ ایک نظر پھر سے ادینہ پر ڈالی جو تب سے بار بار بے ساختہ اس پر اٹھ رہی تھی ۔ وہ سبز رنگ کے جوڑے میں غضب ڈھاتی اس کی نظر کو بار بار اٹھنے پر مجبور کر رہی تھی ۔ بال بلکل سیدھے کھلے چھوڑ کر کندھے پر ڈال رکھے تھے اور کانوں میں باریک سے لمبے اٸیر رنگ پہن رکھے تھے ۔
” ادینہ کیوں نہیں جا رہی انگلینڈ “
ثنا نے گھور کر میسم کی طرف دیکھا وہ شاٸد اب انگلینڈ میں کھیلے جانے والی سریز کی بات کر رہی تھیں جس کے لیے انھیں تین دن بعد نکلنا تھا ۔ میسم نے چونک کر ادینہ کی طرف دیکھا جو اب ڈر کر سر جھکا گٸ تھی ۔ اور پھر نظر اٹھا کر معزرت طلب نظروں سےمیسم کی طرف دیکھا ۔
” وہ “
میسم نے نظروں ہی نظروں میں ادینہ سے شکوہ کیا کہ کیوں اس نے اس بات کا ذکر کیا ۔ ادینہ خود بھی مسز اسد کے اس انداز پر سٹپٹا گٸ تھی۔ کیونکہ وہ باتوں ہی باتوں میں اس سے بہت کچھ پوچھ چکی تھیں اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ یوں میسم کی کلاس لے لیں گی ۔
” وہ تو کہہ رہی ہے میسم ہی نہیں لے کر جا رہے ہیں “
ثنا نے خفگی سے میسم کی طرف دیکھا اور اب اسد بھی میسم کے چہرے کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھ رہا تھا کیونکہ تقریباً کھلاڑی اپنی فیملیز کو ساتھ لے کر جارہے تھے ۔ اور میسم کی تو نٸ نٸ شادی ہوٸ تھی ۔
” وہ ابھی مجھے خود اتنا اندازہ نہیں ہے تو اس کو کیسے وہاں ہینڈل کروں گا “
میسم نے شرمندہ سے لہجے میں کہتے ہوۓ کان کھجایا ۔ اور پھر خفا سی نظر ادینہ پر ڈالی ۔
” یہ کیا بات ہوٸ بھٸ خود اتنا اندازہ نہیں ہے ۔ “
اسد نے بھی ڈپٹنے کے انداز میں میسم کو گھورا ۔ اور ثنا بھی اب افسوس سے سر ہلا رہی تھی
” ہم سب بھی تو ساتھ ہوں گے میں بھی ہوں گی ادینہ ضرور جاۓ گی “
ثنا نے خفا سی نظر میسم پر ڈالی اور پھر مسکرا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ وہ تو پریشان حال نچلا لب کچلتی میسم کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ رہی تھی ۔
” ادینہ نے کوٸ تیاری بھٸ نہیں کی تو ایسے کیسے “
میسم نے اپنی طرف سے جواز پیش کرتے ہوۓ ادینہ کی طرف دیکھا کہ وہ تاٸید کرے ۔
” ہاں رہنے دیں مسز اسد پھر نیکسٹ ٹاٸم سہی ایکچولی ابھی تو گھر والوں کو بھی نہیں بتایا ہم نے “
ادینہ نے میسم کی بات پر زور زور سے تاٸید میں سر ہلایا ۔ اور گڑ بڑا کر ایک عدد اپنے سے جواز گڑھا ۔
” کیوں بھٸ نٸ نٸ شادی ہے ساتھ ہنی مون ٹوور جیسا ہو جاۓ گا تم دونوں کا “
ثنا نے نفی میں زور سے سر ہلایا اور دنوں کی بات کو رد کیا ۔
” اور تیاری کی فکر نہیں کرو ادینہ میرے ساتھ چلنا کل “
ثنا نے ادینہ کے گرد بازو حاٸل کرتے ہوۓ محبت سے کہا ادینہ نے چور سی نظر ضبط کرتے ہوۓ چہرے کے ساتھ بیٹھے میسم پر ڈالی ۔ جو اب پہلو بدل رہا تھا ۔
” بھابھی سب ٹھیک ہے پر اس کی ہاٶس جاب چل رہی ہے “
میسم نے اگلا جواز پیش کیا۔ جس کا ثنا کے ارادے پر کوٸ اثر نہیں پڑا تھا ۔ وہ ہنوز اسی انداز میں نفی میں سر ہلا گٸ ۔
” وہ کہہ رہی چھٹی مل جاۓ گی اسے دو ہفتوں کی تو بات ہی ہے “
ثنا نے تاٸید کے لیے ادینہ کی طرف دیکھا ادینہ جو ان کوپہلے ان کی باتوں میں الجھ کر بتا چکی تھی کہ ہاوٸس جاب میں مل جاتی ہے چھٹیاں اب اس کی تاٸید پر گڑ بڑا کر سر ہلا گٸ ۔
” جی “
میسم نے ضبط سے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ جبکہ جبڑوں کا باہر کو واضح ہونا اس کے ضبط کا پتا دے رہا تھا ۔ ادینہ نے لا حولہ ولا کا ورد شروع کر دیا ۔
**********
اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ کیب میں ادینہ کے ساتھ پیچھے بیٹھتے ہی وہ شروع ہو چکا تھا ۔ ادینہ جو اس کے اتنا قریب ہونے پر اس کے کلون کی مہک سے متاثر ہو رہی تھی اس کے حملے پر گہری سانس لی ۔
” تم نےمنع کیوں نہیں کیا انہیں “
میسم نے غصے سے گھورتے ہوۓ بمشکل آواز کو آہستہ رکھتے ہوۓ ادینہ سے جواب طلب کیا ۔ ادینہ نے تھوک نگل کر ڈر کو ختم کیا اورپھر خود کو نارمل کرتے ہوۓ گھور کر میسم کی طرف دیکھا ۔
” کیوں کرتی؟ “
آنکھوں کو سکوڑے اب وہ تن کر جواب دے رہی تھی جس کی وجہ سے میسم کے ماتھے پر شکن تعداد بڑھ گٸ تھی ۔ اب تو وہ بھی پوری طرح ساتھ جانے کے لیے تیار تھی ۔ ضد تھی یا پیار تھا اسے معلوم نہیں تھا ۔
” کیونکہ میں نہیں چاہتا تمہیں لے کر جانا “
دوٹوک انداز میں کہا جس پر تزلیل کے احساس سے ادینہ کے گال تپ گۓ ۔
” تو کہہ دیں ان کو یہ سب میرا سر کیوں کھا رہے ہیں مجھے بھی کوٸ خاص شوق نہیں جانے کا “
ادینہ نے دانت پیس کر سینے پر ہاتھ باندھے اور چہرے کا رخ خفگی سے کار کے شیشے کی طرف موڑا ۔ اور اب دوسرے ہی لمحے وہ جانے کا اردہ ترک کر چکی تھی ۔
” تم کوٸ بہانہ کر دیتی ہاسپٹل کا کچھ بھی “
میسم نے گھورتے ہوۓ کہا ۔ پر ادینہ چہرہ دوسری طرف کیے خاموش بیٹھی تھی ۔ میسم نے ہاتھ سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا ۔
” میسم میں کیوں کرتی کیوں جھوٹ بولتی “
ادینہ نے ماتھے پر شکن ڈال کر روہانسی آواز میں صفاٸ دی ۔ اب اس کو کیسے سمجھاتی کہ ثنا ایک پکی عمر کی عورت تھی اسے سمجھ بھی نہیں آٸ وہ کیسے کیسے باتوں میں الجھا کر اس سے سب کچھ اگلوا چکی تھی بعد میں وہ کیسگ منکر ہوتی اپنی کہی ہوٸ باتوں سے۔
” گریٹ پہلے تو جیسے کبھی بولا نہیں تم نے “
میسم نے طنز بھرے انداز میں ناک پھلایا ۔ ادینہ نے بھنویں اچکا کر حیرت سے اس کے اس انداز کو دیکھا دل جو آج اس کے بار بار دیکھنے پر تھوڑا سا خوش ہوا تھا پر اب پھر اس کے اس روکھے رویے پر افسردگی کا شکار ہو گیا تھا ۔
” مجھے عادت نہیں جھوٹ بولنا آپکا کام ہے “
ادینہ نے آنسوٶں کے اٹکے گولےکو نگلا اور ضبط سے میسم کی آنکھوں میں دیکھا ۔ گہری دل میں اترتی آنکھیں مڑی ہوٸ گھنی پلکیں ہلکی سی بڑھی ہوٸ شیو بھرے سے خوبصورت ہونٹ وہ اتنا خوبرو تھا یہ اس کے دل کی دنیا کا بادشاہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی داسی بن چکی تھی ۔
” میں نے کیا جھوٹ بولا ؟“
بھنویں اوپر چڑھا کر سوال کیا ۔ ادینہ کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری غور سے میسم کی چہرے کی طرف دیکھا ۔
” کہ اب مجھ سے محبت نہیں رہی آپکو “
مدھم سے لہجے میں کہا ۔ جس پر وہ پل بھر کے لیے بس ادینہ کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔
سچ ہی تو کہہ رہی تھی کیسے کہہ جاتا ہوں میں سامنے بیٹھی اس لڑکی سے جو میرے وجود میں میرا دل بن کر دھڑکتی ہے کہ مجھے اس سے اب محبت نہیں رہی ۔ یا کیا جانے میں کہاں کہاں جزبات پر قابو نہیں پا رہا ۔ بس میں ہارنا نہیں چاہتا اس دوغلی حسینہ کے آگے ۔
” ہاں تو نہیں رہی “
گھٹی سی آواز میں کہا اور چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔
” جھوٹ ہے یہ “
ادینہ نے گہری سانس لی کار اب ہاسٹل کے گیٹ کے آگے رکی تھی ۔ جب بھی وہ قریب آیا اس کے دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کا احساس ادینہ کو ہوا تو وہ کیسے مان لے
ادینہ خاموشی سے اتری اور بنا میسم کی طرف دیکھے گیٹ کے اندر گم ہو گٸ جبکہ اب وہ نظر موڑے اس کے اندر جانے کا انتظار کر رہا تھا جیسے ہی ادینہ اندر گٸ میسم نے ٹیکسی والے کو اشارہ کیا جانے کا ۔ ۔
” مبارک ہو شادی کی برو “
وہ جم کٹ کی زپ بند کر رہا تھا جب کسی نے پیٹھ تھپکی میسم نےرخ موڑا تو فواد بلکل پیچھے کھڑا تھا ہنٹوں پر طنز بھری مسکراہٹ سجاۓ ۔
” شکریہ فواد بھاٸ “
میسم نے ضبط سے نرم سی مسکراہٹ لبوں پرسجاٸ سن گلاسز آنکھوں پر ٹکاۓ اور جم کٹ کو کندھے پر لٹکایا ۔ چند قدم آگے بڑھاۓ جب پیچھے سے پھر آواز آٸ ۔
” مجھے اوپنگ شپ سے ہٹانے کا مشورہ تم نے دیا ہے کیا کپتان کو “
طنز سے بھرا کڑوا سا لہجہ تھا میسم کے قدم وہیں تھم گۓ ۔ دوسری طرف خاموشی تھی میسم جبڑے ایک دوسرے میں پیوست کیے ضبط کے عالم میں پیچھے مڑا ۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان توقیر عامر نے میسم کے ساتھ اوپنر کھلاڑی ابراہیم کو کر دیا تھا ۔ توقیر میسم کو آسٹریلیا کی سیریز جیتنے کے بعد سے بہت اہمیت دینے لگا تھا اور وکٹ کیپر اسد سے شازل اور فواد کی پہلے سے ہی اتنی نہیں بنتی تھی اور وہ آجکل میسم کے بہت قریب تھا اس لیے فواد کو اس سب میں میسم کا ہاتھ لگتا تھا ۔اور کچھ شازل اس کا دماغ خراب کر چکا تھا ۔
” نہیں کیوں میں ایسا کیوں کروں گا “
داٸیں ہاتھ سے سن گلاسز اتارے ایک آبرٶ نفرت آمیز انداز میں اوپر چڑھاۓ فواد کی طرف دیکھا جو اب ٹاول سے گردن صاف کرتا چند قدم چل کر میسم کے بلکل سامنے آ گیا تھا ۔ آج رات انہیں انگلینڈ کے لیے نکلنا تھا ۔ اس لیے وہ آج جم میں تھوڑا وقت لگا کر واپس جا رہا تھا ۔
” ہممم اسد سے کافی دوستی ہے نہ تو “
فواد نے کندھے اچکا کر طنز بھرے انداز میں لبوں کو باہر کی طرف ابھارا ۔ میسم کی رگیں تن گٸیں سپر لیگ کا سیمی فاٸنل پھر سے دماغ میں گھوم گیا ۔
” میں نے سب کی طرف ہی دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا کسی نے بڑھ کر تھام لیا تو کسی نے اپنی سازشوں کی نظر کیا ۔ “
میسم نے مسکرا کر طنز بھرے لہجے میں جواب دیا ۔ فواد نے چونک کر دیکھا میسم کی آنکھیں لہجے کی طرح ہی سرد تھیں اور لبوں پر کڑوی سی مسکراہٹ ۔
فواد کچھ بھی نہیں بول سکا ۔ میسم نے سن گلاسز پھر سے آنکھوں پر سجاۓ ۔
” مجھے جانا ہے ایکسکیوزمی“
سنجیدہ سے لہجے میں کہا اور شان سے رخ موڑے جم سے باہر نکل گیا جبکہ فواد وہیں ہونق بنا کھڑا تھا۔
**********
جنوب مشرقی انگلینڈ میں موجود دی اوٶل کرکٹ اسٹڈیم کے وسیع عریض میدان میں میسم مراد سبز رنگ کی کرکٹ وردی میں ملبوس وکٹوں کے آگے کھڑا دھواں دار بلے بازی میں مصروف تھا ۔ اور سامنے لگی ناظرین کی نشستوں میں وہ ثنا کی بغل میں بیٹھی آج اپنا سب سے ناپسندیدہ کھیل بہت زیادہ پسندیدگی اور دلچسپی سے دیکھنے میں مصروف تھی ۔ اور وجہ وکٹوں کے سامنے کھڑا وہ شخص جس کے آگے وہ اپنا سب کچھ ہاری تھی دل انا غرور سب ختم تھا ۔
وہ لوگ کل انگلینڈ پہنچے تھے جہاں تمام کھلاڑیوں کو ان کی فیملیز کے ساتھ ایک شاندار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔
میسم اور ادینہ کے لیے توقیر عامر نے ایک بہت خوبصورت ہنی مون سویٹ بک کروایا تھا۔
” واہ کیا شاندار کھیل رہا ہے “
ثنا نے مسکرا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ ادینہ نے جواب میں میٹھی سی مسکراہٹ کاتبادلہ کیا ۔ آج انگلینڈ کے ساتھ پاکستان کا پہلا ون ڈے میچ تھا ۔اور میسم ہمیشہ کی طرح سینچری کے بعد اب آخری اٶورز تک وکٹ کے آگے جما ہوا تھا پر انگلینڈ نے کافی مشکل وقت دیا تھا بلے بازی میں اس لیے پاکستان کی جیت اتنی یقینی نہیں تھی ۔ انہیں بہت بڑے حدف کا سامنا تھا
” فرسٹ ٹاٸم ان کو دیکھ رہی ہوں ایسے کھیلتے ہوۓ “
ادینہ نے ہوا سے اڑتے بالوں کو انگلی کی پوروں سے سمیٹتے ہوۓ کہا ۔ گال گلابی ہو رہے تھے اس سارے سکون کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میسم کھلاڑیوں کے سامنے ادینہ کے ساتھ بہت اچھا رویہ اپناۓ ہوۓ تھا ہر ہر چیز میں پرواہ کر رہا تھا کل سے اور ادینہ اس کی اتنی سی اہمیت دینے پر ہی ہواٶں میں پنکھ پھیلانے لگی تھی ۔
” اوہ واٶ پھر تو تمہیں اور بھی مزہ آ رہا ہو گا “
ثنا نے شریر سی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔ادینہ ہلکا سا قہقہ لگا گٸ ۔ میسم نے ایک سکور لیا تھا اور اب وکٹ کے سامنے دوسرا کھلاڑی آ گیا تھا ۔ عزیر ایک گیند باز تھا اس لیے سب کی جان پر بن آٸ تھی اس سے گیند کھیلنا مشکل ہو رہا تھا۔ اور وہ گیند پر گیند ضاٸع کر رہا تھا
” pakistan need 7 score on three balls to win ”
” پاکستان کو جیت کے لیے تین گیند پر سات سکور چاہیے “
کمینٹیٹر کی بازگشت گونجی اور ادینہ نے جلدی سے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دعا کی صورت میں گول کیا ۔ یہی حالت اب ساتھ بیٹھی ثنا کی تھی کیونکہ میسم اگر بلے بازی کی طرف ہوتا تو کوٸ فکر نہیں تھی ۔ مسیم اب عزیر کو کچھ سمجھا رہا تھا۔ شرٹ ساری پسینے سے بھیگی ہوٸ تھی ۔
” اور فرسٹ ٹاٸم ہی پاکستان کے جیتنے کے دعا کر رہی ہوں “
ادینہ نےایک نظر میسم کے پریشان سے چہرے پر ڈالی جو پتا نہیں بازو کو لمبا کیے عزیر کو کیا سمجھا رہا تھا اور پھر مدھم سی آواز میں ثنا کی طرف دیکھ کر روہانسی شکل بناٸ
” جیت جاۓ گا ہے نہ میسم “
ثنا نے محبت بھرے لہجے میں تسلی دی اور ادینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” ان شا اللہ “
ادینہ نے بچوں کی طرح آنکھیں بند کیے دعا کی ۔ عزیر نے ایک سکور لیا ۔ اب آخری گیند پر ایک چھکا چاہیے تھا سب لوگوں کی جان پر بنی تھی اور امیدیں جڑی تھیں میسم مراد سے ۔
” And this mess with Masum Murad hitting a six and winning Pakistan”
“ اور یہ میسم مراد کے ایک چھکے کی مار اور پاکستان میچ جیت جاۓ گا“
کمنٹیٹر ہنستے ہوۓ کہہ رہا تھا ۔ کیونکہ میسم کے ساتھ کے کھلاڑی نے بمشکل ایک سکور کیا تھا اور اب دوسری طرف وکٹ کےسامنے پھر سے میسم کھڑا تھا ۔ گراٶنڈ میں لگی سکرین پر اب ادینہ دعا مانگتی ہوٸ نظر آ رہی تھی ادینہ نے دعا کرتے ہوۓ اپنا آدھا چہرہ اپنی ہتھیلوں میں چھپا رکھا تھا ۔
“The camera is repeatedly focusing on Masum’s wife and she is praying and covering her face with hands ”
” کمیرہ باربار میسم کی بیوی کو فوکس کر رہا ہے جو چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ دعا مانگ رہی ہیں “
کمینٹیٹر نے قہقہ لگایا اب دونوں کمینٹیٹر قہقہ لگا رہے تھے اور تمام کیمرے بار بار ادینہ کی طرف مڑ رہے تھے ۔ سب لوگ ادینہ کی حالت سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ میسم نے نظر اٹھا کر سکرین کی طرف دیکھا ۔ دل کو عجیب سی خوشی ہوٸ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس کی خواہش ہر کھلاڑی کرتا ہے کہ وہ جس لڑکی کو دل سے چاہتا ہو وہ یوں اس کو کھیلتا دیکھے اور اس کی جیت کے لیے دعا گو ہو ۔
اور آج اس کے دل کی ملکہ اس کی زندگی کا سب سے اہم رکن بنے اس کے لیے دعاگو تھی ۔
” newly married couple aaaan”
ایک کمینٹیٹر نے قہقہ لگا کر دوسرے سے سوال کیا۔ جس پر دوسرے کا بھی جاندار قہقہ گونجا ۔ اب اس بات پر نشستوں پر بیٹھے تمام لوگ ہنس رہے تھے ۔ کیمرہ اب میسم کا چہرہ دکھا رہا تھا سکرین پر جو مسکراہٹ کو شرمانے کے سے انداز میں دبا رہا تھا ۔
“ yup beautiful couple congratulations masum murad ”
دوسرےنے تاٸید کی اور ساتھ ساتھ مبارک باد پیش کی شادی کی ۔ میسم نے بھرپور انداز میں مبارک باد پر سر ہلایا سب لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ میسم نے بلا ادینہ کی طرف کیا اور لبوں کو بھینچتے ہوۓ تھوڑا سا اونچا کیا سب لوگوں کا شور گونج گیا ادینہ بلش ہو رہی تھی بار بار سکرین پر اس کا چہرہ آ رہا تھا کمینٹیٹر اس کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔
میسم اب وکٹ کے آگے کھڑا تھا اور گیند باز بلکل سامنے تیار تھا ۔سب لوگ ادینہ سمیت دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھے تھے ۔
گیند باز نے گیند میسم کی طرف اچھالی اور میسم نے وکٹ سے کچھ قدم آگے بڑھ کر گیند کو بازو کھینچتے بلے سے ہٹ کرتے ہوۓ بلند کیا ۔
“Anddddddd Masum Murad Hit a big six on last ball in his style and Pakistan have won the first match of the ODI series from England.”
” اورررررر یہ میسم مراد نے اپنے انداز میں ایک شاندار چھکا لگایا اور پاکستان انگلینڈ کے ساتھ کھیلے جانی والی سیریز کا پہلا میچ جیت چکا ہے “
کمینٹری کی گونج کے ساتھ نشستوں پر براجمان پاکستانی شاٸقین اپنی اپنی جگہوں سے اچھلے تھے ۔ ادینہ نے پر جوش انداز میں ساتھ بیٹھی ثنا کو ساتھ لگایا اب وہ اور ثنا کھڑے ہو کر تالیاں پیٹ رہی تھیں ۔
**********
ونڈسر کیسل کی خوبصورت عمارت کے سحر میں جکڑی وہ میسم کے ساتھ قدم سے قدم ملاۓ چل رہی تھی ۔
یہ انگلینڈ میں دیکھے جانے والی ان کی آخری جگہ تھی وہ لوگ صرف قریبی جگہوں پر ہی گھوم پھر رہے تھے دو ون ڈے میچ جیتنے کے بعد وہ میسم کے رویے میں بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھ رہی تھی ۔ لیکن ابھی بھی کوٸ پھانس تھی جو اٹک جاتی تھی وہ جب بھی ادینہ کے قریب آتا تو کسی گہری سوچ میں پڑ جاتا ۔ دو دن تو وہ میچ کے بعد اتنا تھک چکا تھا کہ پین کلر لیتے ہی ڈھیر ہو جاتا تھا ۔ اور کل صبح اٹھتے ہی وہ لوگ باقی کھلاڑیوں کی فیملیز کے ساتھ کیسل دیکھنے آۓ تھے ۔ یہ تین روزہ ون ڈے سریز تھا جس میں دو دن کا گیپ رکھا گیا تھا اسی لیے وہ کل سے گھوم پھر رہے تھے اور آج انھیں واپس جانا تھا اور تیسرا اور آخری ون ڈے میچ کھیلنا تھا ۔
میسم کیمرہ ہاتھ میں پکڑے تصویریں لینے میں مصروف تھا جب عقب سے نسوانی پر جوش آواز ابھری ۔ میسم کے ساتھ ادینہ نے بھی رخ موڑا ۔
” میسم مراد “
ایک یہودی لڑکی جوش سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی ۔ ہاف ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس وہ لڑکی خوشگوار حیرت چہرے پر سجاۓ آگے آٸ ۔
” O my God i am so excited to see u i am ur huge fan ”
افف میرے خدا میں بہت پرجوش ہوں آپکو یوں اپنے سامنے دیکھ کر میں آپکی بہت بڑی پرستار ہوں “
لڑکی نے پاگلوں کی طرح گالوں پر ہاتھ رکھے میسم کے بلکل سامنے ہوتے ہوۓ والہانہ انداز میں اپنی بے قراری بیان کی ۔ میسم حیرت سے مسکرا دیا ۔ جبکہ ادینہ کا چہرہ ایک پل میں ہی سنجیدہ ہوا ۔ لڑکی کا لباس اور اس کا انداز ادینہ کو بری طرح کھَل گیا تھا ۔
پاکستان کی بہت سی لڑکیوں میں یہ والا جوش وہ خود کے لیے بہت دفعہ دیکھ چکا تھا اس تھوڑے سے عرصے میں پر یوں ایک غیر ملکی لڑکی کو خود کے لیے پرجوش ہوتے ہوۓ وہ پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا ۔ اور اس بات پر میسم کے لب بے اختیار مسکرا دیے کہ غیر ملکی بھی اسے اتنا پسند کرتے ہیں ۔
” i want to take a selfi with you pleass”
”مجھے ایک سیلفی لینی ہے آپ کے ساتھ پلیز “
وہ لڑکی بوکھلاہٹ میں اپنے بیگ سے اپنا فون نکال رہی تھی ۔میسم نے سارے بتیسی باہر نکالی ادینہ نے سینے ہر ہاتھ باندھ کر خفگی بھری نظر میسم پر ڈالی جس کا جناب پر کوٸ اثر نہیں تھا ۔ وہ لڑکی اس وقت اس کی پرستار تھی اور وہ صرف اُسی نظر سے اس سے پیش آ رہا تھا۔
”شیٸور “
میسم نے بڑے انداز میں سن گلاسز اتارے اور تھوڑا سا آگے ہوا لڑکی اب لپک کر میسم کے بلکل ساتھ آ کھڑی ہوٸ اور ہاتھ بڑھا کر کیمرہ اونچا کیا ایک عدد سیلفی لی ۔ ادینہ نے زبان کو منہ کے اندر گھوماتے ہوۓ ارد گرد بے زاری سے دیکھا ۔ دل چاہا میسم کا بازو تھامے اور کھینچتی ہوٸ ایک طرف لے جاۓ ۔
” ون مورررر پلیز “
اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کی پوروں کو جوڑے لڑکی نے التجاٸ انداز میں میسم کی طرف دیکھا جو مسکراتا ہوا سر کو اثبات میں ہلاتا پھر سے سیدھا ہو چکا تھا ۔ لڑکی نے لبوں کو باہر نکال کر بوسے کی شکل میں گول کیا۔ کچھ دور کھڑی ادینہ کا منہ حیرت سے کھلا کمینی کہیں کی دانت پیس کر خود سے سرگوشی کی اور آنکھیں سکوڑ کر میسم کو گھورا ۔ لڑکی کے اس انداز پر میسم نے ایک چور سی نظر ادینہ پر ڈالی جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور ناک پھول گیا تھا ۔
” آہ تھنکیو “
لڑکی جوش میں میسم کے گلے لگ گٸ ۔ ادینہ کا ضبط جواب دے چکا تھا میسم کو لڑکی کی اس بے باکی کا اندازہ نہیں تھا وہ سٹپٹا گیا لڑکی اب شکریہ ادا کرتی تصویر کو جوش سے دیکھتی ایک طرف جا چکی تھی ۔ میسم بھی مسکراتا ہوا واپس کچھ ہی فاصلے پر کھڑی ادینہ کے پاس آیا ۔ جس کے چہرے کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوۓ تھے ۔ منہ پھول کر کپا ہوا تھا تو آنکھیں اپنے حجم سے چھوٹی ہو رہی تھیں ۔
” کیا ہوا تمہیں “
میسم نے کان کھجاتے ہوۓ پوچھا ۔ جبکہ اس کا یہ انداز دل کو بھا گیا تھا ۔ ادینہ غصے سے دیکھ کر ایک طرف چل دی ۔ میسم جلدی سے اسے پکارتا ہوا اس کے پیچھے ہوا۔ وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔
” ادینہ مسز اسد دیکھ رہی ہیں “
میسم نے آگے بڑھ کر بازو سے پکڑ کر ادینہ کا رخ اپنی طرف کیا ۔ پر وہ تو بچوں کی طرح ضد پر اتری ہوٸ تھی ۔
” دیکھتی رہیں “
ادینہ نے خفگی سے کہا اور زور سے میسم کی گرفت سے بازو چھڑوایا ۔ میسم کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ ابھری ۔ اتنی جلن
” یہ سب تو برداشت کرنا پڑے گا “
میسم نے ایک آنکھ کا آبرو ذومعنی انداز میں اوپر چڑھایا اور ادینہ کے ساتھ قدم ملادۓ ۔ جو خفا سی بس سبز گھاس کے درمیان موجود راہداریوں میں چل رہی تھی ۔پھر ایک دم سے رکی اور رخ میسم کی طرف کیا ۔
” مطلب کوٸ بھی آۓ گی ایسے چپک جاۓ گی “
ادینہ نے روہانسی آواز میں کہا میسم نے بے ساختہ بلندوبانگ قہقہ لگایا ۔
” وہ چپکی تھی میں تو نہیں “
تھوڑا سا نیچے جھک کر ادینہ کی خفا سی آنکھوں میں جھانکا ۔ وہ اس وقت اسطرح حق جتاتی اس کی دل میں موجود دماغ کی حکومت کے خلاف محاز کھول چکی تھی ۔ دل نے اپنی فوج کو ہتھیار اٹھانے کا حکم دے کر دماغ کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا ۔ وہ جو غصے میں بھری کھڑی تھی میسم کے یوں دیکھنے پر حیران سی ہوٸ وہ کتنا بدلہ بدلہ لگ رہا تھا ۔
” اور اب اگر اجازت ہو تو چلیں میسم از واٸف شام کو میچ بھی ہے “
محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ ادینہ سے کہا جو پہلے ہی بے یقینی کے عالم میں کھڑی تھی ۔ اُسی طرح مجسم سی حیرت میں ڈوبی اس کی نظروں کے وار سے تڑپتے دل کو لے کر میسم کے ساتھ چل دی ۔
*********
” کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہو زیادہ سے زیادہ انکار ہی ہو جاۓ گا “
اریبہ نے چاۓ کا سپ لیا اور چھت پر رکھے جھولے کا رخ کیا۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور وہ فہد کے مسیج کرنے پر چھت پر آٸ تھی ۔ اور اب اس سے فون پر بات کر رہی تھی جو اسے رشتہ بھیجنے کی اطلاع دے رہا تھا کہ وہ گھر رشتہ بھیجنے والا ہے۔
” شکل اتنی پیاری ہے تو بات کیوں نہیں پیاری کرتی تم “
فہد نے دانت پیستے ہوۓ خفگی سے کہا ۔ جس پر وہ بھرپور طریقے سے مسکرا کر رہ گٸ ۔
” کیونکہ پوسیبل ہے یہ بھی امی تمہیں بلکل بھی پسند نہیں کرتی ہیں معلوم ہے یہ تمہیں “
ادینہ نے چاۓ کا سپ لیا اور شرارت سے کہا ۔ دوسری طرف تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گٸ ۔
” تم بات کرو آنٹی سے “
فہد نے مدھم سے لہجے میں ڈرتے ہوۓ کہا کیونکہ اریبہ اسے صاف صاف بتا چکی تھی کہ وہ گھر میں کوٸ بات نہیں کرے گا وہ رشتہ بھیجے گا اور گھر والے قبول کریں گے اس میں وہ میسم کی مدد لے سکتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اس کےعلاوہ وہ کسی سے بھی بات نہیں کرے گی ۔
” بلکل نہیں آپ رشتہ بھیجیں گے “
اریبہ نے دوٹوک انداز میں پھر سے منع کیا ۔ دوسری طرف فہد نے گہری سانس لی۔ بس ایک عزرا کا خوف تھا جو اسے بلکل پسند نہیں کرتی تھیں ۔ ابھی ایک دفعہ رشتہ بھیجنےکا مشورہ اسے میسم نے ہی دیا تھا ۔
مغرب کی آذان کی آواز پر فہد نے خاموشی کو توڑا ۔
” اچھا چلو نماز کا وقت ہو گیا ہے پھر بات کرتا ہوں “
فہد نے بے چارگی سے کہا اریبہ بے ساختہ مسکرا دی ۔ فون بند کیا اور دل ہی دل میں دعا کرتی نیچے کی طرف چل دی ۔
***********
” ادینہ “
ایک طرف سے جانی پہچانی آتی آواز پر وہ رکی اور گردن گھماٸ اور ساکن رہ گٸ ۔ روشان چہرے پر بھرپور مسکراہٹ سجاۓ کھڑا تھا ۔ ایک لمحے کے لیے تو جیسے سر چکرا سا گیا ۔ یہ کہاں سے آ گیا تھا ۔ پر پھر ذہن نے ہی ابھرتے سوال کا جواب دیا کہ وہ یہیں تو سپیشلایز یشن کے لیے آیا ہوا ہے اور کرکٹ کا تو وہ ویسے بھی شیداٸ تھا تو آج ضرور وہ فاٸنل دیکھنے آیا ہو گا ۔
ادینہ نے گھبرا کر ساتھ کھڑے میسم کی طرف دیکھا ۔ اور اس کے اندازے کے عین مطابق میسم کا چہرہ سنجیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔
وہ لوگ آج تین روز ون ڈے میچ کا فاٸنل جیتنے کے بعد سٹڈیم سے باہر نکل رہے تھے۔ جہاں ان کو کار میں بیٹھ کر ہوٹل کے لیے روانہ ہونا تھا ۔
روشان کا انداز بہت پر جوش تھا وہ مسکراتا ہو آگے بڑھا ۔وہ بہت مشکل سے میسم تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا ۔ اس کے والد کے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ یوں آج میسم کے سامنے کھڑا تھا ۔
” اے سر میسم مراد “
روشان نے پرجوش انداز میں میسم کی طرف مصاحفے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔ میسم نے ضبط کرتے چہرے کے ساتھ پر سوچ انداز میں سن گلاسز اتارے ۔ چہرہ تنا ہوا تھا ۔ ذہن زور زور سے دل پر لعنت ملامت کر رہا تھا جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ آج ڈاٸمنڈ رنگ خرید لایا تھا جو اسے آج رات ادینہ کو پہنانی تھی اور اپنی کی گٸ ساری زیاتیوں کی معافی مانگنی تھی ۔
” اٸ لو کرکٹ اینڈ بیگیسٹ فین آف یو سر “
روشان تو بچوں کی طرح پرجوش ہو رہا تھا۔ میسم نے لب بھینچتے ہوۓ روشان کے بڑھے ہاتھ کو تھاما ۔ گال تپ رہے تھے اور دل کر رہا تھا تحس نحس کر دے سب کچھ تو کیا اس سے اتنی سی دوری بھی برداشت نہیں ہوٸ کہ پیچھے انگلینڈ تک چلا آیا ۔
” ادینہ تعارف کرواٶ “
روشان نے دانت نکالتے ہوۓ ادینہ کی طرف دیکھا جو سفید لٹھے جیسا چہرہ لیے حیران سی کھڑی تھی۔ ایک دم سے روشان کی بات پر بوکھلا کر میسم کی طرف دیکھا ۔
” یہ یہ ۔۔۔“
گلے میں جیسے کچھ اٹک سا گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ فقرہ مکمل کرتی میسم کی کرخت سی آواز ابھری ۔
” روشان ڈاکٹر روشان کیسے بھول سکتا ہوں آپکو “
میسم کا چہرہ سپاٹ تھا ۔ جبڑے اور دماغ کی رگیں صاف تنی ہوٸ محسوس ہو رہی تھیں۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ روشان کا یہیں بازو گھما کر اسے زمین پر پٹخ ڈالے ۔
” جانتے ہیں مجھے واٶ “
روشان نے خوش ہو کر ایک نظر ادینہ کی طرف دیکھا اور پھر میسم کی طرف ۔ روشان کو ماہ رخ کے ذریعے ادینہ کی شادی کا پتہ چل چکا تھا ادینہ نے کبھی بھی اسے اپنی طرف سے کوٸ ایسی امید نہیں دلاٸ تھی کہ وہ اس کے عشق کا روگ لگا بیٹھتا ۔ ہاں وہ ایک سال کے اندر ادینہ سے بے پناہ محبت کرنے لگا تھا لیکن یہ محبت یک طرفہ تھی یہ وہ اچھی طرح جان چکا تھا ماہ رخ سے ۔
” جی بہت اچھی طرح “
میسم نے دانت پیسے اور آنکھوں کو خاص انداز میں سکیڑا ۔ ادینہ سے ایسے بے رخی برتی جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو ۔
” گڈ ادینہ نے بتایا ہو گا “
روشان نے مسکرا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔ جو ہونق بنی بس میسم کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ رہی تھی ۔ وہ میسم جو پانچ دن سے نظر آ رہا تھا ایک پل میں ہی کھو گیا تھا ۔ کتنی محنت اور محبت سے وہ میسم کی آنکھوں میں پھر سے وہ پیار لانے میں کامیاب ہوٸ تھی اور آج لگتا تھا سب ڈھیر ہو چکا تھا ۔
” ہاں تھوڑا بہت “
میسم نے طنزیہ انداز میں ہونٹ باہر نکال کر گردن کو داٸیں باٸیں جنبش دی۔ دھوکا دھوکا صرف دھوکا اس کو بھی بلوا لیا یہاں اور مجھ سے سچی محبت کے دعوی بھی دن رات کرتی ہے ۔ میسم کا دماغ چٹخنے لگا ۔
” واہ کیا کھیلتے ہیں آپ سر “
روشان نے جوش میں تعریفی کلمات کہے جس پر میسم کے لبوں پر کڑوی سی مسکراہٹ در آٸ کن اکھیوں سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” اور بھی بہت سے لوگ بہت اچھا کھیلتے ہیں “
گہری سانس لی اور کوٹ کو درست کیا۔ ادینہ کو لفظوں کی چبھن صاف محسوس ہوٸ دل میں گھٹن بڑھنے لگی ۔
” اف یو ڈونٹ ماٸینڈ اٸ ٹیک ون پک “
روشان نے جیب میں ہاتھ ڈالے التجاٸ انداز میں کہا ۔ میسم نے زہریلی سی مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ اور خونخوار نظر پریشان حال سی کھڑی ادینہ پر ڈالی۔
” اوہ ادینہ کے ساتھ شٸیور “
میسم نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ طنزیہ انداز اپنایا ۔ اور ایک طرف ہوا ۔
” نہ نہیں آپ کے ساتھ سر “
روشان اب موباٸل کو ہاتھ میں پکڑے میسم کے قریب آچکا تھا ۔ میسم نے گہری سانس لی ضبط سے رگیں ابھر رہی تھیں ۔
” ہممم “
سپاٹ سے چہرے کے ساتھ روشان کے ساتھ تصویر بنواٸ اور سن گلاسز پھر سے چڑھاۓ ۔
” تھنکیو سو مچھ “
روشان مشکور سا ہوتا ہوا ایک طرف ہوا اور مسکرا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” ادینہ تم ہو یہاں میں کار میں ویٹ کرتا ہوں “
میسم نے بے رخی سے کھردری آواز میں کہا اور قدم آگے بڑھاۓ ادینہ سٹپٹا گٸ ۔
” نہ نہیں نہیں میں ساتھ چلتی ہوں “
گھٹی سی کانپتی آواز میں کہتی وہ اب تیز تیز قدم میسم کے قدموں کے ساتھ ملا رہی تھی ۔
*************
پھولی بے ترتیب سانسوں کے ساتھ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اب میسم کے پیچھے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ میسم نے کارڈ سواٸپ کیا کمرہ کھولا اور سیدھا کمرے کے درمیان میں جا کر کھڑا ہوا دونوں ہاتھوں کمر پر دھرے وہ خاموش کھڑا تھا بس ادینہ دروازہ بند کرتی اب بلکل پیچھے آ کھڑی ہوٸ ۔
”میسم وہ یہاں انگلینڈ میں سپیشلاٸزایشن کے لیے آیا ہے “
ادینہ نے تھوک نگل کر آواز کو قدرے نارمل رکھتے ہوۓ کہا وہ آخر کو اتنا کیوں گھبرا رہی ہے وہ کوٸ چور تو نہیں کار میں ہوٹل تک کے سفر کے دوران وہ خود کو بہت کچھ سمجھا چکی تھی ۔ اور اب کچھ دیر میسم کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد وہ بول پڑی تھی ۔
میسم نے کوٹ اتارا اور زور سے بیڈ پر پٹخ ڈالا ادینہ نے خوف سے آنکھیں بند کیں اور پھر تیزی سے میسم کے بلکل سامنے آٸ ۔
” میسم لسن ٹو می “
میسم کے بازو کو پکڑا اور نرمی سے کہا ۔ میسم نے بکھرے سے انداز میں ادینہ کی طرف دیکھا ۔
” میں نے کچھ پوچھا تم سے “
گھٹی سی آواز تھی آنکھیں نم تھیں وہ شاٸد رو رہا تھا ۔ اففف ادینہ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ۔ تڑپ کر اور قریب ہوٸ ۔
” تمھاری یہی تو پرابلم ہے تم کچھ بھی نہیں پوچھتے مجھ سے بس خود سے سوچ لیتے ہو سب اور بس “
ادینہ نے پھر سے میسم کے بازو پکڑے اور جھنجوڑ کر کہا ۔ میسم نے دانت پیستے ہوۓ پلکیں اوپر اٹھاٸیں ۔ نرمی سے اس کے ہاتھ خود سے دور کیے
” اچھا میں جو بھی سوچتا ہوں وہ میری آنکھیں دیکھ چکی ہوتی ہیں “
میسم نے ناک پھلاتے ہوۓ تنی ہوٸ رگوں کے ساتھ ادینہ کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” تمھاری آنکھیں کیا دیکھتی ہیں ایسا کیا میسم “
ادینہ نے جھنجلا کر اس کے بازو چھوڑے وہ تھکی سی لگ رہی تھی ۔ اب برداشت ختم ہو رہی تھی ۔
” اس دن مجھے نہیں معلوم تھا وہ مجھے پرپوز کر رہا ہے اور ماہ رخ بھی تھی ساتھ وہ واش روم میں تھی اس وقت “
ہاتھ کو ہوا میں چلاتے ہوۓ روہانسی شکل بنا کر وضاحت دی ۔
” اچھا اس دن تمہیں نہیں پتا تھا “
میسم نے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سر کو ہوا میں مارا ۔
” نہیں مجھے کچھ بھی نہیں پتا تھا انفیکٹ مجھے تو ڈنر کا کہا تھا سب نے “
ادینہ نے جھنجلا کر چیخنے کے سے انداز میں کہا۔ دل چاہ رہا تھا یا تو خود کچھ سر میں دے مارے یا میسم کا سر پھوڑ دے ۔
” ہممم اچھا بیوقوف بنا رہی ہو مجھے بہت اچھا بس اب اور نہیں بننا مجھے “
میسم نے کمر پر ہاتھ دھرے اور رخ دوسری طرف موڑا ۔
” میسم تم سب سب غلط سمجھ رہے ہو اور میں اب تھک چکی ہوں تمہیں صفاٸ دیتے دیتے “
ادینہ تنک کر پھر سے اس کے آگے ہوٸ میسم اب گلے میں لگی ٹاٸ کو بے دردی سے داٸیں باٸیں گھما رہا تھا۔
” تو مت دو “
میسم نے کندھے اچکاۓ ۔ ٹاٸ ایک طرف اچھالی ۔
” کیوں نہ دوں پیار کرتی ہوں تم سے شوہر ہو تم میرے اور روشان کچھ بھی نہیں میرا میں نے کبھی سوچا تک نہیں اس کے بارے میں “
ادینہ کا گلا پھٹ رہا تھا ۔ کیوں سمجھ نہیں آتی اس شخص کو کوٸ بھی بات ۔
” بس کرو یار سوچا تک نہیں سوچا تک نہیں نکاح سے ایک دن پہلے یونیورسٹی میں وہ رو رہا تھا تمھارے لیے اور تم آنسو صاف کر رہی تھی اس کے “
میسم نے دانت ایک دوسرے میں پیوست کیے اس کی طرف دیکھا جس پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: